Ayah 24:301۔ ابن مردویہ نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں مدینہ کے راستوں میں سے ایک راستہ میں گزرا اس نے ایک عورت کی طرف دیکھا اور اس عورت نے اس کی طرف دیکھا۔ شیطان نے دونوں میں وسوسہ یعنی برے خیالات ڈال دئیے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے کی طرف اس لیے دیکھا کیونکہ وہ اسے چاھ لگا ہے اسی اثناء میں کہ وہ آدمی دیوار کی جانب چل رہا تھا اور اس کی طرف دیکھ رہا تھا اچانک وہ دیوار میں جا لگا اور اس کی ناک ٹوٹ گئی اس نے کہا اللہ کی قسم میں خون صاف نہی کروں گا یہاں تک کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آؤں گا اور ان کو اپنا معاملہ بتاؤں گا وہ آپ کی خدمت میں آیا اور ان کو اپنا ساراو اقعہ بتایا نبی ﷺ نے فرمایا یہ تیرے گناہ کی سزا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اتارا آیت قل للمومنین یغضوا من ابصارہم۔ الایۃ۔
2۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت قل للمومنین یغضوا من ابصاریہم سے مراد ہے کہ ان چیزوں سے اپنی آنکھ کو نیچا رکھیں کہ جن کو دیکھنا حلال نہیں ہے۔ قل للمومنین یغضوان من ابصارہم یعنی اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں جو ان کے لیے حلال نہیں ہیں
3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت قل للمومنین یغضوا من ابصارہم کے بارے میں فرمایا یعنی اپنی شہوات کو روکے روکھوان چیزوں سے جن کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتے ہیں۔
4۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ قل للمومنین یغجوں من ابصارہم یعنی اپنی آنکھوں کو نیچا رکھو یہاں من فعل کا کا صلہ ہے یعنی اپنی نظروں کو محفوظ رکھتے ہیں ان چیزوں سے جو ان کے لیے دیکھنا حلال نہیں ہیں اور انپی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں بدکاری سے آیت ذلک ازکی لہم۔ یعنی آنکھ کا نیچا کرنا اور شرمگاہوں کی حفاظت کرنا یہ طریقہ ان کے لیے بہت پاکیزہ ہے۔
5۔ عبد بن حمید وابن اجریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ ہر آیت جس میں شرم گاہ کی حفاظت کا ذکر ہے تو اس سے مراد بدکاری سے حفاظت ہے۔ سورة نور میں آیت ویحفظو فروجہم ویحفظن فروجہن سے مراد عورت کو دیکھنا ہے۔
6۔ احمد وعبدبن حمید والبخاری وابوداوٗد والترمذی والنسائی وابن اماجہ نے بہز بن حکیم (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ اللہ ہماری شرم گاہیں ہیں ان میں سے کس کے پاس آئیں اور کسی سے چوکنے رہیں (یعنی بچیں) فرمایا ! اپنی شرم گاہ کی حفاظت کر مگر اپنی بیوی سے یا اپنی باندیوں سے حفاظت نہ کرو میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی اگر قوم ایک دوسرے کے پاس ہو فرمایا اگر تو طاقت رکھے کہ تو نہ دیکھے کسی ایک کو تو اسے ہرگز نہ دیکھے میں نے کہا اگر ہم میں سے کوئی اکیلا ہو تو فرمایا اللہ تعالیٰ زیادہ حق دار ہیں لوگوں کی نسبت کہ اس سے شرم کی جائے۔
7۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے علاء بن زیادہ (رح) سے روایت کیا کہ کہ کہا جاتا تھا ہرگز پیچھے نہ لگاؤ اپنی نظر کو کسی عورت کی چادر کے کیونکہ نظر دل میں شہوت پیدا کردیتی ہے۔
8۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ شیطان آدمی کی تین جگہوں پر ہوتا ہے اس کی آنکھوں پر اس کے دل پر اور اس کے ذکر پر اور عورت کی بھی تین جگہوں پر ہوتا ہے۔ اس کی آنکھوں پر اس کے دل پر اور اس کی سرین پر۔
9 ابن ابی شیبہ ومسلم وابوداوٗد والترمذی والنسائی وابن مردویہ جریر بجلی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اچانک نظر کے بارے میں سوال کیا تو مجھ کو حکم فرمایا کہ میں اپنی نظر کو پھیر لوں۔
10۔ ابن ابی شیبہ وابوداوٗد والترمذی والبیہقی فی سننہ بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک نظر کے بعد کوئی نظر نہ لاؤ بلا شبہ تیرے لیے پہلی نظر ہے اور تیرے لی دوسری نظر نہیں نہیں ہے۔
11۔ ابن ابی شیبہ اور ابن مردویہ نے حضرت علی سے اسی طرح روایت کیا کہ اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا مجلس یعنی راستے میں نہ بیٹھو اگر ایسا کرنا ضروری ہو تو سلام کا جواب دونظروں کو نیچا رکھو اور راستے کا بتلاؤ کسی بھولے ہوئے کو اور بوجھ اٹھانے والے کی مدد کرو۔ راستہ میں بیٹھنا منع ہے
12۔ البخاری ومسلم نے ابوسعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا راستوں پر بیٹھنے سے بچو۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمارے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم جس سے باتیں کرتے ہیں فرمایا اگر تم اس حکم کا انکار کرتے ہو تو پھر راستے کو اس کا حق دو عرض کیا راستے کا حق کیا ہے فرمایا نگاہ کو نیچا رکھنا اور کسی تکلیف دینے والی چیز کا دور کرنا سلام کا جواب دینا اور نیک کام کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا۔
13۔ ابوالقاسم البغوی۔۔ والطبرانی نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا مجھ کو ضمانت دو چھ باتوں کی کی میں تم کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ جب کوئی تم میں سے بات کرے تو جھوٹ نہ بولے اور جب امانت رکھی جائے تو خیانت نہ کرے۔ جب وعدہ کرے تو خلاف نہ کرے اپنی نظروں کو نیچا رکھو اپنے ہاتھوں کو ظلم سے روکو۔ اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو۔
14۔ احمد والحکیم فی نوادر الاصول والطبرانی وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ کوئی مسلمان اپنی پہلی نظر سے کسی عورت کی طرف دیکھتا ہے تو اپنی آنکھوں کو نیچا کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی عبادت کو ایسا بنا دیتا ہے کہ اس کی مٹھاس کو اپنے دل میں پاتا ہے۔
15۔ احمد والبخاری ومسلم وابوداوئد نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول الہ ﷺ نے فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر اس کا حصہ زنا میں سے لکھ دیا ہے وہ اس کو ضرور حاصل کرے گا پس آنکھ کا زنادیکھنا ہے اور زبان کا زنا بولنا ہے اور کان کا زنا دیکھنا سننا ہے اور ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے پاؤں کا زنا چل کر جانا ہے نفس خواہش کرتا ہے اور شرم گاہ اس کو سچا کرتی ہے یا جھٹلاتی ہے۔
16۔ الحاکم وصححہ واحذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نگاہ شیطان کے تیروں میں سے ایک تیرے زہریلا تیر ہے جس نے اس کو اللہ کے خوف سے چھوڑ دیا اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اسے ایا ایمان عطا فرماتا ہے جس کی مٹھاس کو وہ اپنے دل میں پاتا ہے۔
17۔ ابن ابی الدنیا والدیلمی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر آنکھ قیامت کے دن رونے والی ہوگی مگر وہ آنکھ جو اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں سے بند رہی اور وہ آنکھ جو اللہ کے راستے میں جاگتی رہی اور وہ آنکھ جس میں سے مکھی کے سر کے برابر آنسو نکلتے رہے اللہ کے خوف سے۔
Ayah 24:31نظر اور شرمگاہ کی حفاظت بہت ضروری ہے ؛
1۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ انصاری ؓ سے روایت کیا کہ اسماء بنت مرثد اپنے کھجور کے باغ میں رہتی تھیں جو بنو حارثہ میں تھا عورتوں نے وہاں تہہ بندوں کے بغیر داخل ہونا شروع کردیا ان کے پازیب ظاہر ہوتے اور ان کے سینے اور زلفیں بھی ننگی ہوتیں اسماء ؓ نے یہ دیکھ کر کہا یہ کتنی بری صورت ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں نازل فرمایا آیت ” وقل للمومنت یغضضن من ابصارہن “ الایۃ
2۔ عبدالرزق والفریابی و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والترمذی والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے آیت ولا یبدین زینتہن کے بارے میں روایت کیا کہ زینت مراد ہے کنگن بازو بند پازیب بالی اور ہار آیت الا ماظہر منہا یعنی کپڑے اور اوڑھنی۔
3۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ زینت سے مراد دو قسم کی زینتیں ہیں ظاہری زینت اور باطنی زینت اور باطنی زینت کو خاوند کے سوا کوئی نہیں دیکھتا اور ظاہری زینت سے مراد ہے کپڑے اور باطنی زینت سے مراد ہے سرمہ، کنگن انگوٹھی ابن جریر کے لفظ میں یوں ہے کہ اس میں سے ظاہری زینت کپڑے ہیں اور جو چیزیں چھپی ہوتی ہیں وہ پازیب ہیں اور دونوں بالیاں ہیں اور کنگن ہیں۔
عورت کے لیے عطر لگا کر گھر سے باہر نکلنا گناہ ہے
4۔ احمد والنسائی والحاکم ولابیہقی فی سننہ ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس عورت نے عطر لگایا اور باہر نکلی تو جن لوگوں پر وہ گزری اور نہوں نے اس کی خشبو کو پایا تو وہ زانیہ عورت ہے۔
5۔ ابن المنذر نے انس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولا یبدین زینتہن الا ماظہرمنہا سے مراد ہے سرمہ اور انگوٹھی۔
6۔ سعید بن منصور وابن جریر وعبد بن حمید وابن المنذر والبیہقی ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولا یبدین زینتہن الا ماظہر منہا سے مراد ہے سرمہ انگوٹھی بالی اور ہار۔
7۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ الا ما ظہرہ منہا سے مراد ہے ہتھیلی کا خضاب اور انگوٹھی۔
8۔ ابن ابی شیبہ وعبدبن حمید وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الا ماظہر منہا سے مراد ہے اس کا چہرہ اس کی ہتھیلیا اور انگوٹھی۔
9۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الا ماظہر منہا چہرہ کی رنگت اور ہتھیلی کا اندرونی حصہ۔
10۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر والبیہقی فی سننہ حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ظاہری زینت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کنگن انگوٹھے کا چھلہ اور اپنی آستین کی ایک طرف کو بند کر کے رکھو۔
11۔ ابن ابی شیبہ نہ عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت الا ما ظہر منہا سے مراد ہے چہرہ اور ہنسلی کی ہڈیوں کے درمیان کا گڑھا۔
12۔ ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت الا ماظہر منہا سے مراد ہے چہرہ اور ہتھیلی۔
13۔ ابن جریر نے عطا (رح) وسلم سے روایت کیا کہ آیت الا ما ظہر منہا سے مراد ہے ہتھلیاں اور چہرہ۔
14۔ عبدالرزاق وابن اجریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ولایبدین زینتہن الا ما ظہر منہا سے مراد ہے کنگن انگوٹھی اور سرمہ قتادہ (رح) نے فرمایا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کسی عورت کے لیے یہ حلال نہیں کہ جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ یہاں سے آگے تک ہاتھ نکالے اور آپ نے آدھے بازو کو بند کرلیا۔
15۔ عبدالرزاق وابن جریر نے سمور بن مخرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت الا ماظہر منہا سے مراد ہیں کنگن انگوٹھی اور سرمہ۔
16۔ سعید وابن جریر سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا آیت ولا یبدین زینتہن الا ماظہر منہا سے رماد ہے انگوٹھی اور کنگن ابن جریج نے کہا اور عائشہ ؓ نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے کنگن اور انگوٹھے کا چھلہ عائشہ ؓ نے فرمایا کہ میرے پاس میری بھتیجی آئی جو میری ماں کی طرف سے بھائی عبداللہ بن طفیل مزینہ کی بیٹی تھی اور میں نبی ﷺ کے پاس آئی رسول اللہ ﷺ نے اعراض فرمایا عائشہ ؓ نے عرض کیا کہ وہ میرے بھائی کی بیٹی اور بچی ہے۔ آپ نے فرمایا جب عورت بالغ ہوجائے تو اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ چہرہ کے سوا پنے جسم کے کو ظاہر کرے یا اس سے زائد حصہ ظاہر کرے اور اپنے بازو پر مٹھی رکھے اور اپنی مٹھی اور ہتھیلی کے درمیان ایک مٹھی کا حصہ چھوڑدے۔
17۔ ابو داوٗد والترمذی وصححہ والنسائی والبیہقی فی سننہ ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ وہ ا اور میمونہ نبی ﷺ کے پاس موجود تھیں اس درمیان کہ ہم آپ کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں اچانک ابن ابی مکتوم سامنے آگئے اور آپ کے پاس اندر آگئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس سے پردہ کرو ام سلمہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا وہ اندھا نہیں ہے کہ وہ ہم کو نہیں دیکھ رہا آپ نے فرمایا کیا تم اندھ ہو کیا تم اس کو نہیں دیکھ رہی ہو۔
18۔ ابو داوٗد وابن مردویہ والبیہقی نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ اسماء بنت ابی بکر ؓ کے پاس گائیں اور ان پر باریک کپڑے تھے۔ آپ نے اس سے اعراض فرمایا اور فرمایا اے اسماء کہ عورت بالغہ ہوجائے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ اس کے جسم کا کئی حصہ دکھائی دے۔ مگر یہ اور آپ نے اپنے چہرے اور ہتھیلی کی طرف اشارہ کیا۔
19۔ ابوداوٗد فی مراسیلہ قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا بچی جب بالغہ ہوجائے تو مناسب نہیں کہ اس کے جسم میں سے دیکھا جائے مگر اس کے چہرے کو اور اس کے ہاتھوں کے جوڑوں کو واللہ اعلم۔
20۔ البخاری وابوداوٗد والنسائی وابن جریر وابن ابی حاتم ابن مردویہ اور بیہقی نے اپنی سنن میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ پہلی ہجرت کرنے والی عورتوں پر رحم فرمائے جب اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا آیت ولیضربن بخمرہن علی جیوبہن تو عورتوں نے اپنی چادروں کو لیا اور ان کے کا نروں کی جانب سے پھاڑ کر اس سے اوڑھنیاں بنا لیں۔
21۔ ابن جریر وابن مردویہ وحاکم وصححہ و عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ولیضربن بخمرہن علی جیوبہن نازل ہوئی تو انہوں نے اپنی چادروں کے کناروں کو پھاڑ لیا اور اس سے اوڑھنیاں بنالیں۔
22۔ الحاکم وصححہ ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور وہ اوڑھنی پہنچے ہوئے تھیں آپ نے فرمایا ایک پیچ دو دو پیچ نہ دو (تاکہ مردون کی پگڑی کے مشابہ نہ ہوجائے)
23۔ ابو داوٗ دوابن ابی حاتم وابن مردویہ نے صفیہ بنت شیبہ (رح) سے روایت کیا کہ اس درمیان کہ ہم عائشہ ؓ کے پاس تھیں عورتوں نے قریش کی عورتوں اور ان کی فضیلت کا ذکر کیا۔ عائشہ ؓ نے فرمایا کہ بیشک قریش کو فضیلت حاصل ہے اور اللہ کی قسم ! میں نے انصار کی عورتوں پر فضیلت رکھنے والی کوئی عورت نہیں دیکھی جو اللہ کی کتاب کی تصدیق میں ان سے سے بڑھ کر ہوا ور جو قرآن مجید پر ایمان لانے میں ان سے بڑھ کر ہو۔ سورة نور کو نازل کیا گیا آیت ولیضربن بخمرہن علی جیوبہن “ تو ان کے سر نہ ان کی طرف پلٹے اللہ تعالیٰ نے جو حکم نازل کیا اور وہ مرد اسے اپنی عورت اپنی بیٹی اور بہنوں پر تلاوت کر رہا تھا اور اپنے رشتہتہ داروں پر پھر عورت اپنی چادر کی طرف کھڑی ہوتی اور اسے اپنے اوپر لپیٹ لیتی اس فرمان کی تصدیق اور اس پر ایمان لاتے ہوئے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اتارا اور صبح کی نماز میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے چادریں لپیٹے ہوئے تھیں گویا کہ ان کے سروں پر کوے بیٹھے ہوئے تھے۔
24۔ سعید بن منصور وابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک عورت ان کے پاس آئی اور اس پر ایک باریک اوڑھنی تھیں جس سے اس کی پیشانی نیچے سے نظر آرہی تھی عائشہ ؓ نے اس کی اوڑھنی کو پکڑ کر پھاڑ دیا پھر فرمایا کہ کیا تو نہیں جانتی کہ اللہ تعالیٰ نے سورة نور میں جو حکم نازل فرمایا پھر اس کے لیے ایک دوپٹہ منگوایا اور اس کو پہنایا۔
25۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولیضربن “ یعنی باندھ لیں آیت بخمرہن علی جیوبہن۔ یعنی اپنی اوڑھنی کو سینے کے بالائی حصہ پر اور سینے پر تاکہ اس میں سے کوئی چیز دکھائی نہ دے۔
26 ابو داوٗد فی الناسخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة نور میں ہے آیت ولا یبدین زینتہن الا ما ظہر منہا والیضربن بخمرہن علی جیوبہن، اور فرمایا آیت یدنین علیہن من جلا بیبہن۔ پھر اس میں سے استثنی کرتے ہوئے فرمایا آیت والقواعد من النسارء التی لایرجون نکاحا فلیس علیہن جناح ان یضعن ثیابہن۔ اور متبرجات وہ عورتیں ہیں جو اس حال میں نکلتی ہیں جبکہ ان کے سینے کے اوپر والا حصہ ننگا ہو۔
27۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی فی سننہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ولا یبدین زینتہن الا ماظہر منہا اور ظاہری زینت سے مراد ہے چہرہ اور آنکھوں کا سرمہ ہتھیلی کا خضاب اور انگوٹھی عورت اس پر اسے ظاہر کرسکتی ہے جو بھی اس کے گھر میں داخل ہو پھر فرمایا ولا یبدین زینتہن الا لبعولتہن او اٰباء ہن یعنی عورت اپنے خاوندوں اور اپنے آباء کے لیے زینتیں ظاہر کرسکتی ہے جیسے بالیاں ہار اور کنگن لیکن پازیب پاؤں میں ڈالے جانے والے زیور اور سینے کے بالائی حصہ اور بال تو نہیں ظاہر کرسکتی ہے مگر اپنے شوہر کے لیے۔
28۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولایبدین زینتہن سے مراد ہے کہ وہ بڑی چادر اتاریں بعض کے اوپر سے آیت الا لبعولتہن او اٰباۂن مگر اپنے خاوندوں اور آباء پر کیو کہ وہ محرم ہیں اسی طرح چچا اور خالو کا بھی یہی حکم ہے۔ آیت او اٰباۂن یعنی مومن عورتیں، آیت او ماملکت ایمانہن۔ یعنی عورت کا غلاب۔
29۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے شعبی و عکرمہ (رح) نے اس آیت کے بارے میں روایت کیا آیت ولا یبدین زینتہن الا البعولتہن یہاں تک کہ اس آیت سے فارغ ہوگئے اور فرمایا چچا اور خالو کذکر نہیں کیا کیونکہ یہ دونوں تعریف کرتے ہیں اپنے بیٹوں کے سامنے اس لیے وہ اوڑھنی چچا اور خالو کے سامنے نہ اتارے۔
30۔۔ عبد بن حمید وابن المنذر من طریق الکلبی ابو صالح سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت او اباۂن یعنی مسلمان عورتوں میں سے کہ ان کے سامنے زینت کو ظاہر کرلیتی ہے لیکن کسی یہودی اور نصرانی عورت کے لیے ظاہر نہ کرے اور زینت سے مراد ہے سینہ کا بالائی حصہ بالی ہار اور اس کے ارد گرد والا حصہ۔
31۔ سعید بن منصور وابن المنذر والبیہقی فی سننہ مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کوئی بھی مسلمان عورت اپنے دوپٹے کو نہ اتارے یہ مشرکہ عورت کے سامنے اور نہ اس کا بوسہ لے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت او نساۂن، کہ وہ مسلمان عورتوں میں سے نہیں ہیں۔
32۔ سعید بن منصور والبیہقی فی سننہ وابن المنذر نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ابو عبیدہ ؓ کو لکھا اما بعد مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ کچھ عورتیں مسلمان عورتوں میں سے حمامات میں مشرکہ عورتوں کے ساتھ داخل ہوتی ہیں کیونکہ کسی ایسی عورت کے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ شرم گاہ کی طرف دیکھے مگر اس کی ہم مذہب عورتیں دیکھ سکتی ہیں۔
33۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت او ماملکت ایمانہن سے مراد ہے عورت کا غلام ایک مسلمان عورت کے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ اپنے شوہر کے غلام کے سامنے اپنی اوڑھنی کو اتاردے۔
34۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ غلام اپنی مالکہ کے بالوں کو دیکھ لے۔
35۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ عورت اپنے غالم کے سامنے اپنی اوڑھنی کو اتار سکتی ہے۔
36۔ ابوداوٗد وابن مردویہ والبیہقی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ ایک غلام کو فاطمہ کے پاس لائے جو آپ نے اس کے لیے حصہ کردیا تھا اور فاطمہ پر ایک کپڑا تھا اگر وہ اس سے سر کو ڈھانپتی تھیں تو وہ ان کے پاؤں تک نہ پہنچتا تھا اور اگر اس سے اپنے پاؤں کو ڈھانپتی تو ان کے سر کو نہ پہنچتا تھا۔ جب نبی ﷺ نے ان کی اس مشقت کو دیکھا تو آپ نے فرمایا کہ آپ کچھ حرج نہیں کیونکہ یہ تیرا باپ ہے اور وہ تیرا غلام ہے۔
37۔ عبدالرزاق واحمد نے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا مکاتب ہو اور اس نے کچھ مال دیدیا تو اس عورت کو چاہیے کہ وہ اس مکاتب سے پردہ کرے۔
38۔ عبدالرزاق نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ غلام نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کے پاس حاضر ہوتے تھے۔
39۔ ابن المنذر نے ابن جریر (رح) نے آیت او ماملکت ایمانہن کے بارے میں روایت کیا کہ پہلی قراءت میں یوں ہے آیت والذین لم یبلغوا الحلم مما مملکت ایمانکم۔
40۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ مجاہد نے فرمایا کہ غلام اپنی مالکہ کے بالوں کو نہیں دیکھ سکتا اور دونوں نے کہا بعض قراءۃ میں یوں ہے آیت او ماملکت ایمانکم الذین لم یبلغوا الحلم۔
41۔ عبدالرزاق نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا غلام اپنی مالکہ کے سر اور اس کے قدموں کو دیکھ سکتا ہے فرمایا میں اس کو پسند نہیں کرتا مگر یہ کہ غلام ابھی بچہ ہو لیکن داڑھی والے غلام کے لیے جائز نہیں۔
42۔ ابن ابی شیبہ نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ تم کو یہ آیت آیت او ماملکت ایمانہن تم کو دھوکہ میں نہ ڈالے کیونکہ اس سے باندیاں مراد لی گئیں اور غلام مراد نہیں لیے گئے۔
43۔ ابن ابی شیبہ نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ عورت اپنے غلام سے پردہ کرے۔
44۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت او التبعین غیر اولی الاربۃ سے وہ آدمی مراد ہے کہ جس سے عورتیں شرم نہ کرتیں ل۔
45۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی فی سننہ ابن عباس ؓ آیت اوالتبعین غیر اولی الاربۃ کے بارے میں فرمایا کہ یہ وہ آدمی ہے کہ لوگوں کے پیچھے پیچھے رہتا ہے اور یہ کم عقل ہوتا ہے عورتوں کی پرواہ نہیں کرتا اور نہ عورتوں کی خواہش کرتا ہے۔
46۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا آیت او التبعین غیر اولی الاربۃ سے مراد وہ آدمی ہے کہ پہلے زمانہ میں ایک آدمی اس کے پیچھے لگتا تھا اور اس پر غیرت کا اظہار نہ کیا جاتا اور عورت نہیں ڈرتی ہے اس بات سے کہ اپنے دوپٹے کو نیچے رکھ دے اور وہ احمق ہے جس کو عورتوں میں کوئی حاجت نہیں۔
47۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ آیت غیر اولی الاربۃ سے مراد وہ احمق ہے کہ جس کو عورتوں میں کوئی دلچسپی اور ضرورت نہیں۔
48۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت غیر اولی الربۃ سے وہ بیوقوف مراد ہے جو عورتوں کے معاملات کو نہیں جانتا۔
49۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت غیر اولی الاربۃ سے وہ مخنث مراد ہے جس کا عضو تناسل کھڑا نہ ہوتا ہو۔
50۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت غیر اولی الاربۃ من الرجال سے بہت بوڑھا آدمی مراد ہے جو عورتوں کی طاقت نہ رکھتا ہو۔
51۔ عبد بن حمید (رح) سے روایت ہے کہ آیت غیر اولی الاربہ سے مراد ہے ذکر کٹا ہوا۔
52۔ ابن المنذر نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ آیت غریر اوالی الاربۃ سے مراد ہے خصی اور ذکر کٹا ہوا۔
53۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ وہ آدمی مراد ہے جس کا عضو تناسل کھڑا نہ ہوتا ہے۔
54۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ اس سے دیوانہ کم عقل مراد ہے۔
55۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ وہ شخص جسے خواہش نہ ہو کہ وہ عورتوں کی چھپی ہوئی چیزوں پر مطلع ہو۔
56۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید ومسلم وابوداوٗد والنسائی وابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے بیویوں کے پاس اندر آجاتا ہے جو مخنث تھا اور اسکو آیت ” غیر اولی الاربۃ “ میں سے شمار کرتے تھے۔ ایک دن نبی ﷺ تشریف لائے تو آپ کی بعض بیویوں کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور ایک عورت کی تعریف کر رہا تھا کہ وہ عورت خوب موٹی تازی ہے۔ جب سامنے آتی ہے تو اس کے جسم پر چار سلوٹ ہوتی ہیں اور جب وہ پیٹھ موڑ کر جاتی ہے تو اس کی پیٹ پر آٹھ سلوٹیں ہوتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نہیں جانتا تھا کہ یہ ان باتوں کو پہچانتا ہے یہ تم پر ہرگز داخل نہ ہو اور اس سے پردہ کرو۔
57۔ ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک خنثی نبی ﷺ کی بیویوں کے پاس اندر داخل ہوجاتا تھا اور ازواج مطہرات اس کو غیر اولی الاربہ میں سے شمار کرتی تھیں ایک دن رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور وہ ایک عورت کی تعریف کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ وہ خوب موٹی تازی ہے جب سامنے آتی ہے تو اس کے جسم پر چار سلوٹیں ہوتی ہیں جب وہ پیٹھ موڑ کر جاتی ہے تو اس کی پیٹھ پر آٹھ سلوٹیں ہوتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نہیں سنتا تھا کہ وہ ان باتوں کو جانتا ہے۔ تم پر ہرگز یہ داخل نہ ہو رسول اللہ ﷺ نے اس کو جلاوطن کردیا اور وہ مقام بیداء پر رہتا تھا ہر جمعہ کو کھانے پینے کی چیزیں لے کرجاتا تھا۔
58۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی فی سننہ مجاہد (رح) سے آیت او الطفل الذین لم یظہروا علی عورات النساءء “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد وہ ہیں جو نہیں جانتے کہ عورتیں کیا ہوتی ہیں اپنے بچپن کی وجہ سے بالغ ہونے سے پہلے۔
59۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے آیت او الطفل الذین لم یظہروا علی عورات النساء کے بارے میں فرمایا کہ اس سے وہ لڑکا مراد ہے جو ابھی بالغ نہیں ہوا۔
60۔ عبد بن حمید نے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ابن ابی شیبہ نے ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام (رح) سے روایت کیا کہ عورت کے جسم میں سے ہر حصہ چھپانے کے لائق ہے یہاں تک کہ اس کے ناخن بھی واللہ اعلم۔
61۔ ابن جریر (رح) نے حضرمی (رح) سے روایت کیا کہ ایک عورت نے چاندی کو دو پازیبیں بنوائیں اور ان میں گھنگرو لگوائے اور پھر لوگوں کے سامنے سے گزری اور پاؤں زمین پر مارا اس سے پازیب مہرے پر لگا تو آواز پیدا ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ولا یضربن بارجلہن لیعلم ما یخفین من زینتھن اتاری۔
62۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ولا یضربن بارجلہن کے بارے میں روایت کیا کہ وہ یہ ہے کہ وہ عورت ایک پازیب کو دوسرے کے ساتھ کھٹکھٹائے مردوں کے پاس یا اس کے پاؤں میں پازیب ہوں اور مردوں کے پاس ان کو حرکت دے تو اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا کیونکہ وہ شیطان کے کاموں میں سے ہے۔
63۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت ولا یضربن بارجلہن کے بارے میں روایت کیا کہ ایک عورت اپنے پاؤں کو زمین پر مارتی تھی تاکہ اس میں اس کے پازیب کی جھنکار سنائی دے تو اس سے منع کیا گیا۔
64۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا یضربن بارجلہن لیعلم ما یخفین من زینتہن سے مراد پا زیب ہیں اس بات سے منع کیا گیا کہ وہ اپناپاؤں زمین پر مارے تاکہ پازیب کی آواز سنی جائے۔
65۔ عبد بن حمید نے معاویہ بن قرہ سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں عورتیں بےآواز پازیب پہنتی تھیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ آیت ولا یضربن بارجلہن لیعلم ما یخفین من زینتہن۔
اجنبی مردوں کے سامنے اظہار زینت حرام ہے
66۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ ایک عورت کسی مجلس کے پاس سے گزرتی تو اپنا پاؤں مارتی تاکہ مجلس والے آواز سنیں) تو یہ آیت ولا یضربن بارجلہن نازل ہوئی (جس پر مارنے سے منع کردیا گیا)
67۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ ایک عورت کے پاؤں میں پازیب ہوتے تھے جس میں گھنگھرو بھی ہوتے تھے۔ جب اس کے پاس کوئی اجنبی گزرتا تو اپنے پاؤں کو حرکت دیتی جان بوجھ کر تاکہ پازیب کی آواز کو سن لے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ولا یضربن یعنی اپنے پاؤں کو حرکت مت دو آیت لیعلم مایخفین تاکہ اجنبی جب اس کے پاس آئے تو اس کو اپنی چھپی ہوئی زینت سے آگاہ کرے۔
68۔ ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت لیعلم مایخفین من زنتھن سے مراد ہے پا زیب۔
69۔ الترمذی نے میمونہ بنت سعد ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو عورت اپنے لوگوں کے علاوہ مثلا شوہر باپ، بھائی وغیرہ دوسرے لوگوں کے درمیان اپنے کپڑوں میں اترائے (ناز ونخرے سے پلو لٹکا کر چلے) اس کی مثال قیامت کے دن تاریکی ہے کہ اس کے لیے روشنی نہیں ہوگی۔
70۔ احمد والبخاری فی الادب ومسلم وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان اغر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اے الوگو ! سب اللہ کی طرف توبہ کرو بلاشبہ میں بھی اس کی طرف ہر دن سو مرتبن طوبہ کرتا ہوں۔
17۔ احمد نے روایت کیا کہ حزیفہ ؓ نے فرمایا کہ مجھ سے گھروالوں کے بارے میں لغزش ہوجاتی تھی مگر میں اس کو کسی غیر کے لیے ایسا نہیں کرتا ہوں۔ میں نے اس بات کا ذکر نبی ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا اے حذیفہ تو استغفار کیوں نہیں کرتا میں ہر دن سو مرتبہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔
72۔ ابن ابی الدنیا والبیہقی فی شعب الایمان ابو رافع ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ ایمان والوں کے لیے کتنے پردے ہیں ؟ فرمایا وہ گننے سے بھی زیادہ ہیں لیکن مومن جب کوئی براکام کرتا ہے تو ان میں سے ایک پردہ کو پھاڑ دیتا ہے جب وہ توبہ کرلیتا ہے تو وہی پردہ اس کی طرف واپس آجاتا ہے۔ اور تو نوپردے مزید آجاتے ہیں جب اس پر کوئی پردہ باقی نہیں رہتا تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں میں سے جس کو چاہتے ہیں فرماتے ہیں کہ کہ آدم کے بیٹے بےپردہ ہوتے ہیں وہ پردہ نہیں لیتے تم اس کو اپنے پروں سے ڈھانپ لو تو وہ اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں پھر وہ توبہ کرتا ہے تو تمہارے پردے لوٹ آتے ہیں اور اگر وہ توبہ نہیں کرتا تو فرشتے اس سے حجاب میں ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے فرماتے ہیں اس کو چھوڑ دو تو وہ اس کو چھوڑ دیتے ہیں یہاں تک کہ اس سے شرم گاہ بھی چھپی نہیں رہتی۔
73۔ ابن المنذر نے عبداللہ بن مغفل رضی الللہ عنہ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ندامت توبہ (یعنی گناہ پر ندامت کرنا توبہ)
74۔ الحکیم الترمذی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ندامت توبہ ہے۔
گناہ پر ندامت توبہ ہے
75۔ الحکیم الترمذی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ندامت توبہ ہے۔
76۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا اس مرد کے بارے میں جو ایک عورت سے زنا کرتا ہے پھر اس سے نکاح کرلیتا تو انہوں نے فرمایا پہلے تو بدکاری ہے اور آخر میں نکاح ہے۔ اور ان دونوں کی اکٹھے توبہ کرنا مجھے زیادہ محبوب ہے ان دونوں کی علیحدہ علیحدہ توبہ کرنے سے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ آتی ” وتوبوا الی اللہ جمیعا ایہا المومنون “ کہ اے ایمان والو تم سب کے سب اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کرو۔
Ayah 24:321۔ عبد بن حمید نے قتادہ نے آیت وانکحوا الایامی منکم “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو حکم دیا کہ جیسے کہ تم سن رہے ہو کہ ان کے نکاح کردو کیونکہ وہ جھکانے والا ہے ان کی آنکھوں کو اور ان کی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والا ہے۔
2۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ اپنے غلاموں اور اپنی باندیوں میں سے جو نیک ہوں ان کے نکاح کردیا کرو۔
3۔ ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نیک مردوں نیک عورتوں کا نکاح کردیا کرو اور اس کے بعد جو کوئی ان کی تابعداری کرے گا تو وہ اچھا ہے۔
4۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ” وانکحوا الایامی منکم “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سبحانہ نے نکاح کا حکم فرمایا ہے اور اس میں ان کو رغبت دلائی ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے آزاد اور اپنے غلاموں کا نکاح کردیں اور اس میں مالداری کا وعدہ فرمایا ہے کہ آیت ” ان یکونوا فقراء یغنہم اللہ من فضلہ “ یعنی اگر وہ فقیر ہوں گے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو غنی کردے گا۔
5۔ ابن ابی حاتم نے روایت کیا ہے کہ ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو جو انہوں نے تم کو نکاح کا حکم فرمایا ہے اللہ تعالیٰ تمہارے لیے پورا کریں گے جو تم سے مالداری کا وعدہ فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ” ان یکونوا فقراء یغنہم اللہ من فضلہ “ (یعنی اگر تم فقیر ہوگے تو اللہ تعالیٰ تم کو اپنے فضل سے غنی کردیں گے ) ۔
6۔ عبدالرزاق نے المصنف میں وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو ذکر کیا گیا کہ عمر خطاب ؓ نے فرمایا میں نے کوئی آدمی ایسا نہیں دیکھا جس نے شادی کی صورت میں غناء نہ پایا ہو اور اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں وعدہ کیا ہے جو انہوں نے وعدہ کرتے ہوئے فرمایا آیت ” ان یکونو فقراء یغنہم اللہ من فضلہ۔
7۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ معافی المصنف عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا نکاح میں مالداری کو طلب کرو اور دوسرے لفظ میں یوں ہے۔ نکاح میں فضل کو تلاش کرو اور یہ آیت ” ان یکونوا فقراء یغنہم اللہ من فضلہ “
8۔ ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ مالداری کو نکاح میں تلاش کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ان یکونوا فقراء یغنہم اللہ من فضلہ۔
9۔ الدیلمی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ نکاح میں رزق کو تلاش کرو۔
10۔ البزار وابن المردویہ والدیلمی من طریق عروۃ عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عورتوں کا نکاح کرو کیونکہ وہ تمہارے پاس مال لاتی ہیں۔
11۔ عبدالرزاق واحمد والترمذی وصححہ النسائی وابن امجہ وابن حیان والحاکم وصححہ والبیہقی ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین آدمیوں کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے پاکدامنی کا ارادہ کرتے ہوئے نکاح کرنے والا وہ مکاتب غلام جو مال دینے کا ارادہ رکھتا ہے اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا۔
12۔ الخطیب فی تاریخہ جابر ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ سے فاقہ کی شکایت کی تو آپ نے اس سے نکاح کرنے کا حکم فرمایا۔
Ayah 24:331۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولیستعفف الذین لایجدون نکاحا “ سے مراد وہ آدمی ہے جو عورت کو دیکھتا ہے گویا اس میں خواہش پیدا ہوجاتی ہے اگر اس کی بیوی ہے تو اس کو چاہیے کہ اپنی بیوی کے پاس جائے اور اس سے اپنی خواہش پوری کرے اگر اس کی بیوی نہ ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ آسمان و زمین پیدائش میں غور وفکر کرے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کو غنی کردے۔
2۔ الخطیب نے اپنی تاریخ میں ابن عباس ؓ نے نے آیت ” ولیستعفف الذین لا یجدون نکاحا “ کے بارے میں فرمایا چاہیے کہ وہ نکاح کرے جو استطاعت نہیں پاتا اللہ تعالیٰ عنقریب مالدار کردیں گے۔
4۔ ابن السکن نے معرفۃ الصحابہ میں عبداللہ بن صبیح (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں حوطب بن عبد العزی کا غلام تھا میں نے اس سے کتابت کا سوال کیا اس نے انکار کردیا تو یہ آیت ” والذین یبتغون الکتب “ نازل ہوئی۔
5۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر سے روایت کیا کہ آیت والذین یبتغون الکتب “ سے مراد وہ لوگ ہیں جو غلاموں سے کتابت کو طلب کرتے ہیں۔
6۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت ہے کہ آیت ” فکاتبوہم “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ تعلیم ہے اور رخصت ہے ایسا کرنا لازم نہیں ہے۔
7۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے عامر شعبی (رح) سے روایت کیا کہ مجھ سے سیرین نے عقد مکاتبہ کرنے کا سوال کیا میں نے اس پر انکار کیا وہ عمر بن خطاب ؓ کے پاس آیا وہ مجھ پر درہ لے کر آگئے اور فرمایا اس کے ساتھ عقد مکاتبہ کرو اور یہ آیت ” فکاتبوہم ان علمتم فیہم خیرا “ تلاوت فرمائی تو میں نے اس سے عقد مکاتبہ کرلیا۔
9۔ ابو داوٗد نے مراسیل میں اور بیہقی نے اپنی سنن میں یحییٰ ابن کثیر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت ” فکاتبوہم ان علمتم فیہم خیرا “ کے بارے میں فرمایا اگر تم ان میں کوئی پیشہ دیکھتے ہو تو ان سے عقد مکاتبہ کرو تو ان لوگوں پر بوجھ بنا کر نہ چھوڑو۔
10۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن حاتم والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا آیت ” ان علمت فیہم خیرا “ سے مراد ہے مال۔
11۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے مجاہد سے اسی طرح روایت کیا بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ان علمت فیہم خیر “ سے مراد ہے امانت اور وفا۔
12۔ البیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فکابتوہم ان علمتم فیہم خیرا “ سے مراد ہے کہ اگر تم جانو کہ تیرا مکاتب تجھ کو بدل کتابت یعنی مال ادا کردے گا۔
13۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر والبیہقی نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عطاء سے کہا آپ اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ” فکاتبوہم ان علمتم فیہم خیرا “ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کیا ” خیرا “ سے مراد مال ہے یا اصلاح مراد ہے یا یہ سب مراد ہے۔ انہوں نے فرمایا میں اس کو نہیں جانتا مگر مال جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ہے آیت ” کتب علیکم اذا حضرت احدکم الموت ان ترک خیرا “ سے مراد ہے مال۔
14۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عبیدہ سلیمانی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ان علمتم فیم خیرا سے مراد ہے اگر تم اس میں امانت کو جان لو تو تم اس سے عقد مکاتبت کرو۔
15۔ عبد بن حمید نے قتادہ، ابراہیم اور ابو صالح سے اسی طرح نقل کیا ہے۔
16۔ عبدالرزاق وابن المنذر والبیہقی نے نافع (رح) سے روایت کیا کہ ابن عمر ؓ اپنے غلام کو مکاتب بنادینے کو ناپسند فرماتے تھے اگر وہ پیشہ نہ جانتا ہو ورنہ وہ مجھے لوگوں کی میل کچیل (یعنی زکوٰۃ کے مال) میں سے کھلائے گا۔
17۔ سعید بن منصور وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے مجاہد وطاؤس (رح) سے روایت کی کہ آیت ” ان علمتم فیہم خیر “ سے مراد ہے مال اور امانت
18۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی عبدالرزاق اور عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ آیت ” ان علمتم فیہم خیرا “ میں خیر سے مراد ہے اگر تم ان میں کوئی حیلہ پاتے ہو (یعنی وہ خود کسی کام کی تدبیر کرسکتا ہے تو اس کو مکاتب بنادو) اور ان کے بوجھ کو مسلمانوں پر نہ ڈالو اور فرمایا آیت ” واٰتوھم من مال اللہ الذی اٰتکم “ یعنی ان کو مال مکاتب میں سے کچھ کم کردو۔
19۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم والرویان یفی مسند اور الضیاء المقدسی فی المختارہ بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” واٰتوھم من مال اللہ “ یعنی لوگوں کو اس پر آمادہ کیا اپنے مال میں سے اس کو دیں۔
20۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا آیت ” واٰتوھم من مال اللہ “ یعنی کہ اس آیت میں آقا اور دوسرے لوگوں کو مال دینے پر آمادہ کیا گیا ہے۔
21۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر والبیہقی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مکاتب کے بدل کتابت میں سے کچھ چھوڑدیا جائے۔
عبد مکاتب کے ساتھ رعایت
22۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے آیت ” واٰتوھم من مال اللہ “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مومنین کو حکم فرمایا کہ گردنوں کے چھڑانے میں مدد کریں (یعنی غلام آزاد کرانے میں مدد کرو) علی بن ابی طالب ؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آقا کو حکم فرمایا کہ کہ وہ مکاتب کے لیے اس کی قیمت میں چوتھائی حصہ چھوڑ دے۔ اور یہ تعلیم ہے اللہ کی طرف سے یہ فرض نہیں ہے لیکن اس میں اجر ہے۔
23۔ عبدالرزاق و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ والبیہقی من طریق ابی عبدالرحمن السلمی نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ان علمتم فیہم خیرا “ سے مراد ہے مال آیت ” واٰتوھم من مال اللہ الذی اٰتکم “ سے مراد ہے کہ مکاتب کے مال کا چوتھائی حصہ چھوڑدے۔
25۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ مال مکاتب میں سے دسواں حصہ چھوڑدیا جائے۔
26۔ عبدالرزاق وابن ابی حاتم والبیہقی نے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے اپنے ایک غلام کو مکاتب بنایا جس کی کنیت ابوامیہ تھا وہ بدل کتابت میں سے اپنی قسط لے کر جب پہنچا تو عمر نے فرمایا اے ابوامیہ چلا جا اور اس کے ساتھ اپنے مال مکاتب میں غناء حاصل کر اس نے عرض کیا اے امیر المومنین اگر آپ چھوڑدیتے یہاں تک کہ وہ معافی والی آخری قسط ہوتی فرمایا میں ڈرتا ہوں کہ میں اس کو نہ پاؤں گا پھر یہ آیت پڑھی۔ آیت ” واٰتوھم من مال اللہ الذی اٰتکم “۔
27۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ابن عمر ؓ کا کوئی مکاتب ہوتا تو اس کی پہلی قسطوں میں سے ذرا بھی کمی نہیں کرتے تھے اس خوف سے کہ یہ عاجز آجائے اور اس کا صدقہ اس کی طرف لوٹے اور لیکن اگر عقد مکاتبہ کا آخری مرحلہ ہوتا تو اس سے کم کردیتے جو پسند فرماتے۔
28۔ ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واٰتوہم من مال اللہ “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ حکم ان پر ہے کہ ان کو زکوٰۃ میں سے جتنا مال چاہیے دے دیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آیت ” وفی الرقاب “۔
29۔ ابن ابی شیبہ ومسلم و سعید بن منصور والبزار والدارقطنی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ من طریق ابی سفیان جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ عبداللہ بن ابی اپنی لونڈیوں سے کہتا تھا چلی جاؤ اور ہمارے لیے کچھ کما کے لے آؤ یعنی زنا کے ذریعہ ہمارے لیے کچھ کمائی کرو۔ وہ یہ عمل ناپسند کرتی تھیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت ” ولا تکرھوا فتیتکم علی البغاء ان اردن تحصنا لتبتغوا عرض الحیوۃ الدنیا، ومن یکرہ ہن فان اللہ من بعد اکراہھن غفور رحیم “ اسی طرح وہ اس کو پڑھتے تھے۔
30۔ مسلم نے اس طریق سے جابر ؓ سے روایت کیا کہ عبداللہ بن ابی کو لونڈی جس کو مسیکہ کہا جاتا تھا اور دوسری کو امیمہ کہا جاتا تھا۔ وہ ان دونوں سے ارادہ کرتا تھا کہ یہ بدکاری کیا کریں ان دونوں نے نبی ﷺ سے شکایت کی تو اللہ تعایلٰ نے یہ آیت اتاری۔ آیت ” ولا تکرھو فتیتکم “ الایۃ۔
31۔ النسائی والحاکم وصححہ وابن جریر وابن مردویہ نے ابوالزبیر کے طریق سے جابر ؓ سے روایت کیا کہ مسیکہ ایک انصاری کی لونڈی تھی وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میرا آقا مجھے زنا کی کمائی کرنے پر مجبور کرتا ہے تو یہ آیت ” ولا تکرھوا فتیتکم علی البغاء “ نازل ہوئی۔
32۔ البزار وابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ عبداللہ بن ابی کی ایک باندی تھی جس کو معاذہ کہا جاتا تھا وہ اس کو زناء پر مجبور کرتا تھا جب اسلام آیا تو یہ آیت ” ولا ترھو فتیتم علی البغاء “ نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
33۔ ابن مردویہ نے علی بن ابی طالب ؓ نے آیت ” ولاتکرھو فتیتکم علی البغاء “ کے بارے میں روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ اپنی باندیوں سے بدکاری کراتے تھے تو اسلام میں اس سے منع کردیا گیا۔
34۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں وہ لوگ اپنی باندیوں کو زنا پر مجبور کرتے تھے اور ان سے اجرت لیتے تھے تو اس پر سے آیت نازل ہوئی۔
35۔ الطیالسی والبزار وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے صحیح سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عبداللہ بن ابی کی باندی زمانہ جاہلیت میں بدکاری کرتی تھی اور زنا سے اس کی اولاد بھی پیدا ہوئی جب اللہ تعالیٰ نے زنا کو حرام کردیا تو عبداللہ بن ابی نے اس سے کہا تجھے کیا ہوا تو زنا نہیں کراتی ؟ اس نے نہیں اللہ کی قسم ! میں کبھی زنا نہیں کروں گی تو اس نے اس کو مارا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا آیت ” ولاتکرھوا فتیتکم علی البغاء “
36۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ بن ابی کی دو باندیاں تھیں مسیکہ اور معاذہ وہ ان دونوں کو زنا کرانے پر مجبور کرتا تھا۔ ان میں سے ایک نے کہا اگر یہ کام اچھا ہے تو میں اس کو زیادہ کروں گی اور اگر یہ کام برا ہے تو اب اس کو چھوڑ دینا چاہیے۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت ” ولا تکرھوا فتیتکم علی البغاء “۔
37۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولا تکرھوا فتیتکم علی البغاء۔ عبداللہ بن ابی کے بارے میں نازل ہوئی اس کی ایک باندی تھی جو اس کے لیے زنا کی کمائی کر کے لاتی تھی وہ مسلمان ہوئی اور بہت اچھی مسلمان ہوئی عبداللہ نے اس باندی سے یہ ارادہ کیا کہ وہ پہلے کی طرح بدکاری کرے جیسے کرتی تھی اس نے انکار کردیا۔
38۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ بن ابی کی ایک باندی تھی جس کو معاذہ کہا جاتا تھا جب کوئی اس کا مہمان آتا تو وہ اس کو اس کے پاس بھیج دیتا تاکہ مہمان سے بدلہ اور کرامت پاؤں وہ باندی ابوبکر ؓ کے پاس آئی اور اس بات کی شکایت کی ابوبکر نے نبی ﷺ سے بات ذکر کی تو آپ نے لونڈی قبضہ میں لینے کا حکم فرمایا عبداللہ بن ابی نے شور مچایا کہ اس سے ہم کو کون انصاف دلائے گا جو ہمارے غلاموں پر قبضہ کر رہے ہیں تو یہ آیت نازل ہوئی۔
39۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ قریش میں سے ایک آدمی بدر کے دق قید ہوگیا اور اسے بطور قیدی عبداللہ بن ابی کے حوالے کردیا گیا اور عبداللہ بن ابی کی ایک باندی تھی جس کو معاذہ کہا جاتا تھا اور قریشی قیدی کی خواہش تھی کہ اسے اس باندی سے لطف اندوز ہونے کا موقع دیا جائے اور وہ باندی مسلمان ہوگئی تھی اور وہ اس زنا سے رکی ہوئی اپنے اسلام کی وجہ سے عبداللہ بن ابی اس کو اس کام پر مجبور کرتا تھا اور اس باندی کو مارتا تھا امید کرتے ہوئے کہ وہ قریشی سے حاملہ ہوجائے تو وہ اس قریشی سے بچے کا فدیہ طلب کرے گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ” ولاتکرھوا فتیتکم علی البغاء “ نازل فرمائی۔
40۔ الخطیب فی رواۃ مالک من طریق مالک ابن شہاب (رح) سے روایت کیا اور انہوں نے عمر بن ثابت سے جو بنو الحرث بن خزرج کے بھائی تھے انہوں نے روایت کیا کہ سورة نور میں یہ آیت ” ولا تکرھوا فتیتکم علی البغاء “ عبداللہ بن ابی بن سلول کی باندی معاذہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ اور یہ اس لیے کہ عباس بن عبدالمطلب ان کے پاس قید تھے عب اللہ بن ابی اس کو مارتا تھا کہ اہ اپنے آپ کو عباس کے حوالے کرے یہ امید رکھتے ہوئے کہ وہ اس سے حاملہ ہوجائے تو وہ اس سے اس بچے کا فدیہ لے گا وہ باندی ایسا کرنے سے انکار کرتی رہی۔ اور ابن ابی اس بات کی ہی خواہش رکھتا تھا۔
41۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وہ لوگ اپنی باندیوں کو زنا کی کمائی کا حکم دیتے تھے اور وہ ایسا کرتی تھیں اور اپنی کمائی کو لے آتی تھیں عبداللہ بن ابی کی ایک لونڈی تھی اس سے بدکاری کا مطالبہ کیا جاتا تھا وہ اس وہ اس کو ناپسند کرتی تھی اور اس نے قسم کھائی کہ وہ اس کام کو نہ کرے گی۔ مگر ابن ابی نے اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
42۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حیان ؓ سے روایت کیا کہ واللہ اعلم ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ یہ آیت دو آدمیون خے بارے میں نازل ہوئی دونوں اپنی باندیوں کو بدکاری پر مجبور کرتے تھے ان میں سے ایک کا نام مسیکہ تھا اور وہ ایک انصاری کی لونڈی تھی اور دوسری امیمہ جو مسیکہ کی ماں تھی۔ یہ عبداللہ بن ابی کی ملکیت ہے اور معاذہ کا بھی یہی حال تھا مسیکہ اور اس کی ماں نبی ﷺ کے پاس آئیں دونوں نے یہ بات ذکر کی تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی آیت ” ولا تکرھوا فتیتکم علی البغاء یعنی زنا پر مجبور نہ کرو۔
باندیوں کو زناکاری پر مجبور کرنا بڑا گناہ ہے۔
43۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم علی کے طریق سے ابن عباس ؓ نے آیت ” ولا تکرھوا فتیتکم علی البغاء “ کے بارے میں فرمایا کہ اپنی لونڈیوں کو زنا پر مجبور نہ کرو اگر تم نے ایسا کیا تو اللہ ان کے لیے بخشنے والے اور رحم کرنے ہیں اور اس کا گناہ اس پر ہے جس نے ان کو مجبور کیا۔
44۔ ابن ابی شیبہ نے رافع بن خدیج ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ حجام کی کمائی خبیث ہے بدکار عورت کی کمائی بھی خبیث ہے۔
45۔ ابن ابی شیبہ نے ابو جحیفہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بدکار ورت کے مہر یعنی خرچی سے منع فرمایا۔
46۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود کی قراءت میں یوں ہے آیت ” فان اللہ من بعد اکراھھن غفور رحیم “ یعنی اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے جن کو بدکاری پر مجبور کیا جاتا ہو۔
47۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ان اردن تحصنا “ سے تحصنا کے معنی ہے عفت اور اسلام۔
48۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فان اللہ من بعد اکراھھن غفور رحیم۔ یعنی مجبور کرنا زنا پر ان کے لیے اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔
50۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فان اللہ من بعد اکراھھن غفور رحیم “ یعنی اللہ تعالیٰ ان عورتوں کے لیے غفور رحیم ہے اور ان مردوں کے لیے نہیں ہے۔
51۔ ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) اس کو یوں پڑھتے تھے آیت ” فان اللہ من بعد اکراھھن غفور رحیم “۔
Ayah 24:341۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولقد انزلنا الیک آیت مبینات “ سے مراد ہے کہ جو کچھ ان پر قرض ہو اس صورت میں “۔