Ayahs 24:12–141۔ ابن اسحاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ وابن عساکر نے بعض انصار سے روایت کیا کہ ابوایوب ؓ کی بیوی نے اس انصاری سے کہا جب تہمت لگانے والوں نے جو کہا کیا تو نے نہیں سنا جو لوگ عائشہ ؓ کے بارے میں کہتے ہیں ؟ اس نے کہا کیوں نہیں سنا اور وہ سب جھوٹ ہے کیا تو اے ام ایوب ایسا کرسکتی ہے۔ اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم ! انصاری نے کہا عائشہ ؓ اللہ کی قسم ! تجھ سے بہتر ہیں اور زیادہ پاکیزہ ہیں بلاشبہ یہ جھوٹ ہے۔ اور باطل بہتان ہے۔ جب قرآن نازل ہوا تو اللہ تعالیٰ نے بہتان لگانے والوں کا ذکر کیا اور جو انہوں نے کہا تھا اس کا ذکر کیا پھر فرمایا آیت ” لو لا اذ سمعتموہ ظن المومنون والمومنت بانفسہم خیرا وقالوا ہذا افک مبین “ یعنی جیسے کہا تھا ابو ایوب ؓ اور اس کی بیوی نے۔
2۔ الواحد وابن عساکر والحاکم نے ابو ایوب کے آزاد کردہ غلام افلح سے روایت کیا کہ ام ایوب ؓ نے کہا کیا تو نہیں سنا جو لوگ عائشہ ؓ کے بارے میں کہہ رہے ہیں ابوایوب نے کہا کیوں نہیں سنتا ہوں اور وہ سب جھوٹ ہے۔ اے ام ایوب کیا تو ایسا کام کرے گی۔ اس نے جواب دیا اللہ کی قسم ایسا نہیں، کہا اللہ کی قسم عائشہ تجھ سے بہتر ہیں جن قرآن نازل ہوا اور تہمت والوں کا ذکر کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ آیت ” لو لا اذ سمعتموہ ظن المومنون والمومنت “
Ayah 24:151۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن ابی جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت ” اذ تلقونہ بالسنتکم “ اور فرمایا بعض تمہارا روایت کرتا ہے بعض سے۔
2۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اذ تلقونہ بالسنتکم “ سے مراد ہے کہ بعض تمہارا روایت کرتا ہے بعض سے۔
3۔ البخاری وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے ابن ابی ملیکہ (رح) سے روایت کیا کہ عائشہ ؓ اس آیت کو پڑھتی آیت ” اذ تلقونہ بالسنتکم “ اور فرماتی تھیں کہ وہ ولق القول ہے یعنی یہ جھوٹی بات ہے اور ولق جھوٹ کو کہتے ہیں ابن ابی ملیکہ نے کہا کہ حضرت عائشہ ؓ ان آیات کے معنی دوسرے لوگوں سے زیادہ جاننے والی تھیں اس لیے کہ آیات حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔
زبان کی حفاظت نہ کرنا بڑا خطرناک ہے
4۔ البخاری ومسلم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ ایک آدمی اللہ کی ناراضگی میں سے ایسا کلمہ کہتا ہے جس کی وہ پرواہ نہیں کرتا مگر اس کے ذریعہ دوزخ میں گر جاتا ہے اتنی دور جتنا آسمان و زمین کے درمیان فاصلہ ہے۔
5۔ الطبرانی نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کسی پاکدامن عورت پر تہمت لگانا سو سوال کے عمل کو ضائع کردیتا ہے (یعنی سو سال کی نیکیوں کو ختم کردیتا ہے )
Ayah 24:161۔ ابن المردوایہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ابو ایوب انصاری ؓ کو جب ان کی بویوی نے اس تہمت کے بارے میں بتایا اور کہا اے ابو ایوب ! کیا تو نے نہیں سنا جو لوگ بیان کر رہے ہیں تو انہوں نے فرمایا ہم کو نہیں چاہیے کہ ہم اس بارے میں کوئی بات کریں اے اللہ تیری ذات پاک ہے یہ بڑا بہتان ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے بھی اسی طرح نازل فرمایا آیت ” ولو لا اذسمعتموہ قلتم ما یکون لنا ان نتکلم بہذا، سبحنک ہذا بہتان عظیم۔
2۔ سنید فی تفسیرہ سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ سعد بن معاذ ؓ نے جب یہ سنا جو کچھ کہا گیا عائشہ ؓ کے بارے میں تو فرمایا آیت ” سبحنک ہذا بہتان عظیم “۔
3۔ ابن ابی سمی فی فوائدہ سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سے دو آدمی تھے جب انہوں نے یہ بات سنی تو فورا کہا آیت ” سبحنک ہذا بہتان عظیم “ اور یہ اصحاب زید بن حارثہ اور ابوایوب ؓ تھے۔
Ayahs 24:17–181۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن امردویہ سے روایت کیا کہ آیت ” یعظکم اللہ ان تعودوا لمثلہ ابدا “ یعنی اللہ تعالیٰ تم پر عذاب نازل کردے گا (کہ ایسی باتوں کو پھر نہ دہراؤ) ۔
2۔ الفریابی والطبرانی نے مجاہد رحمۃ اللہ عیہ سے روایت کیا کہ آیت ” یعظکم اللہ “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ تم کو منع کرتے ہیں کہ ایسی باتوں کو پھر نہ دہراؤ۔
Ayahs 24:19–20برائی کی اشاعت کرنا بڑا گناہ ہے
1۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن امنذر والطبرانی نے مجاہد (رح) سے آیت ” ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ آیت ” تشیع “ کا مطلب ہے ظاہر ہونا اور عائشہ ؓ کے متعلق باتیں کرتا ہے
2۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) نے آیت ” ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ جو لوگ پسند کرتے ہیں بدکاری ظاہر ہوجائے۔
3۔ ابن ابی حاتم نے خالد بن معدان (رح) سے روایت کیا کہ جو شخص بیان کرتا ہے اس چیز کو جو اس کی آنکھوں نے دیکھا اور اس کے کانوں نے سنا تو وہ ان لوگوں میں سے ہے جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ ایمان والے لوگوں میں بدکاری کا ذکر ہوجائے۔
4۔ ابن ابی حاتم نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ جس نے بدکاری کے ذکر کو پھیلایا اس پر سزا ہے اگرچہ وہ اپنی بات میں سچا ہو۔
5۔ البخاری فی الادب والبیہقی فی الشعب نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ بدکاری کرنے والا اور اس کو پھیلانے والا دونوں گناہ میں برابر ہیں۔
6۔ البخاری فی الادب شبل بن عون (رح) سے روایت کیا جاتا تھا جس شخص نے بدکاری کا ذکر سنا اور اس کو پھیلایا پس وہ اس گناہ میں اس طرح ہے جیسے وہ اس کو پہلی دفہ خود کرنے والا ہے۔
7۔ احمد نے ثوبان ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ کے بندوں کو تکلیف نہ پہنچاؤ اور ان کو عار نہ دلاؤا ور ان کی پوشیدہ باتوں کو طلب نہ کرو کیونکہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی پوشیدہ باتوں کو طلب کرے گا۔ تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی پوشید باتوں کو طلب کریں گے یاں تک کہ اس کو اس کے گھر میں رسوا کردیں گے۔
Ayah 24:211۔۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ” مازکی منکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ مخلوقات میں سے کوئی بھی بھلائی کی طرف ہدایت نہ پاسکا۔
Ayah 24:221۔ ابن جریر ابن منذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ” ولا یأتل اولو الفضل “ کے بارے میں روایت کیا کہ تم یہ قسم نہ کھاؤ کہ تم کسی پر خرچ کروگے “۔
2۔ ابن المنذر نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ مسطح بن اثاثہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے ان پر تہمت لگانے والوں میں سے بڑا حصہ لیا اور یہ ابوبکر ؓ کے قریبی رشتہ دار تھے اور ان کے زیر کفالت تھے (براءت نازل ہونے کے بعد) ابوبکر نے قسم کھائی کہ وہ ان کو کبھی بھی کوئی چیز نہیں دیں گے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت ” ولا یأتل اولوا الفضل منکم والسعۃ “ اس کے بعد ابوبکر ؓ نے ان کو دوبارہ اپنی کفالت میں لے لیا اور فرمایا میں کوئی قسم نہیں اٹھاؤں گا اگر اس کے علاوہ میں خیر کو دیکھتا ہوں گا تو اس قسم کو توڑ دیت اہوں اور وہ کام کرتا ہوں جس میں خیر ہوتی ہے۔
3۔ عبد بن حمید وابن المنذر قتادہ (رح) سے آیت ” ولایأتل اولوالفضل منکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت قریش میں سے ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جس کو مسطح کہا جاتا تھا اس کے او ابوبکر ؓ کے درمیان رشتہ داری تھی اور مسطح ابوبکر صدیق کے یتیم کے طور پر پرورش پاتے رہے اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے عائشہ ؓ پر لگائے جانے والے بہتان کو خوب پھیلایا جب اللہ تعالیٰ نے ان کی براءت کو نازل فرمایا تو ابوبکر نے قسم اٹھائی کہ میں کبھی بھی ان کے ساتھ حسن سلوک نہیں کروں گا (یعنی ان کی مدد نہیں کروں گا) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہم کو ذکر کیا گیا کہ نبی ﷺ نے ابوبکر کو بلایا اور اس پر ان آیات کو پڑھا اور فرمایا کہ تم اس بات کو پسند نہیں کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تیری مغفرت فرمادے ابوبکر ؓ نے عرض کیا کیوں نہیں پھر فرمایا اس کو معاف کردو اور اس سے درگزر کردو ابوبکر ؓ نے عرض کیا میں ضرور اس کو معاف کردوں گا اللہ کی قسم میں اس سے پہلے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا کرتا تھا اس میں سے کوئی چیز نہ روکوں گا۔
صلہ رحمی نہ کرنے کی قسم توڑنا
4۔ ابن المنذر نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ ابوبکر کے رشتہ داروں میں سے وہ آدمی ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے عائشہ ؓ پر (تہمت لگانے میں) باتیں کی ابوبکر ؓ نے قسم اٹھائی کہ وہ کچھ بھی صلہ رحمی نہیں کریں گے اور اس سے پہلے وہ صلہ رحمی کیا کرتے تھے جب یہ آیت ” ولا یأتل الفضل منکم والسعۃ “ نازل ہوئی آیت کے آخرتک تو ابوبکر ؓ اس پر دگنا احسان کرنے لگے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد یعنی جو کچھ ان کو دیتے تھے اس میں اضافہ کردیا۔
5۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حیان سے روایت کیا کہ ابوبکر ؓ نے قسم کھائی کہ وہ مسطح بن اثاثہ کو نہ کبھی نفع پہنچائیں گے اور نہ صلہ رحمی کریں گے ان کے درمیان رشتہ داری نہ تھی عورتوں کے واسطے، مسطح ابوبکر کی طرف معذرت پیش کرنے کے لیے حاضر ہوئے اور کہا اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے۔ اے خالو اللہ کی قسم جس ذات نے محمد ﷺ پر قرآن اتارا میں نے عائشہ ؓ پر کوئی تہمت نہیں لگائی اور میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی جو باتیں ان کے متعلق کی گئیں۔ اور ابوبکر ان کے خالو تھے ابوبکر نے فرمایا لیکن تو ہنسا اور جو باتیں حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں کہی گئیں وہ تجھے اچھی لگیں۔ مسطح نے کہا ممکن ہے اس میں سے کوئی چیز ہوگئی ہو توا للہ تعالیٰ نے اس کے متعلق ہی یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت ” ولا یأتل اولوا الفضل “ (پوری آیت ) ۔
6۔ عبد بن حمید وابن مردویہ نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ ابوبکر ؓ نے دو یتیموں کے بارے میں قسم کھائی جو ان کی کفالت میں تھے اور وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے عائشہ ؓ پر تہمت لگائی تھی اس میں سے ایک مسطح بن اثاثہ تھے جو بدر میں حاضر ہونے والوں میں سے تھے ابوبکر ؓ نے قسم کھائی کہ ان کے ساتھ صلہ رحمی نہیں کریں گے اور اس کے ساتھ کوئی احسان نہیں کریں گے تو یہ آیت ” لا یأتل اولوا الفضل منکم والسعۃ “ نازل ہوئی۔
7۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت ” ولایأتل اولوا الفضل منکم والسعۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگائی اور ان کو پھیلایا اور اس میں باتیں بنائیں تو اس پر رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے بعض لوگوں نے قسمیں کھائیں کہ جن لوگوں نے یہ باتیں کی ہیں نہ ان کو کوئی مال دیں گے اور نہ ان کے ساتھ صلہ رحمی نہیں کریں گے اور ان کو اپنے مالوں میں سے نہیں دیں گے۔ جس طرح وہ پہلے کیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ وہ اپنی قسم توڑدیں اور دوبارہ صلہ رحمی کریں ان کو معاف کردیں اور ان سے درگزر کریں۔
صدقہ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا
8۔ ابن المنذر نے ابو سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا صدقہ کرنے سے کبھی مال کم نہیں ہوتا تم لوگ صدقہ کیا کرو اور کسی آدمی نے کسی آدمی کی زیادتی کو معاف نہیں کیا مگر اللہ تعالیٰ اس کی عزت میں اضافہ کردیتے ہیں تم سے لوگوں کو معاف کرو تاکہ اللہ تعالیٰ تمہاری عزت میں اضافہ کریں گے۔ اور کوئی آدمی اپنے لیے لوگوں سے سوال کرنے کا دروازہ کھول لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے فقر کا دروازہ کھول دیتے ہیں مگر یہ کہ لوگوں پر سوال نہ کرنے میں خیر ہے۔
9۔ عبدالرزاق وابن ابی حاتم وابن ابی الدنیا فی ذم الغضب والخرائطی فی مکارم الاخلاق وحاکم والطبرانی وابن مردویہ والبیہقی فی سننہ ابو وائل (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عبداللہ ؓ کو دیکھا کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا جو ایسے آدمی کو ساتھ لایا جو شراب میں مست تھا۔ تو عبداللہ نے اس پر حد کو جاری کردیا پھر دوسرے آدمی سے فرمایا جو ان کو لایا تھا کہ تو اس آدمی کا کیا لگتا ہے اس نے کہا کہ میں اس کا چچا ہوں تو انہوں نے فرمایا تو نے اس کو اچھا ادب نہیں سکھایا اور اس کی پردہ پوشی نہیں کی اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ” ولیعفوا ولیصفحوا۔ الا تحبون ان یغفر اللہ لکم۔ پھر عبداللہ نے کہا بلاشبہ میں جانتا ہوں ان پہلے آدمی کو کہ نبی ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا تھا ایک آدمی کو جب رسول اللہ ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کا رنگ خاکستر جیسا ہوگیا کہا گیا یارسول اللہ یہ حکم آپ پر بھاری گزرا تو فرمایا تم کو نہیں چاہیے کہ تم شیطان کے لیے اپنے بھائی پر مدد کرنے والے بن جاؤ اس لیے حاکم کو نہیں چاہیے جب اس کی طرف حد کی بات پہنچ جائے تو اس پر حد قائم نہ کرے کہ اللہ بہت معاف کرنے والے ہیں اور معافی کو پسند فرماتے ہیں پھر یہ آیت پڑھی آیت ” ولیعفوا والیصفحوا۔ الا تحبون ان یغفر اللہ لکم “۔
Ayah 24:231۔ ابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ان الذین یرمون المحصنت الغفلت المومنت “ خاص طور پر عائشہ ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والطبرانی نے خصیف (رح) سے روایت کیا کہ میں نے سعید بن جبیر رحمۃ الہع لیہ سے پوچھا کہ ان میں سے کون سی چیز زیادہ سخت ہے زنایا تہمت لگانا فرمایا زنا (زیادہ سخت گناہ ہے) میں نے کہا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت ” ان الذین یرمون المحصنت الغلفت “ فرمایا یہ آیت عائشہ ؓ کے متعلق نازل ہوئی۔
3۔ الطبرانی نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت خاص طور پر حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ یعنی آیت ” ان الذین یرمون المحصنت الغفلت المومنت “
4۔ عبد بن حمید وابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ان الذین یرمون المحصنت الغلفلت المومنات “ خاص طور پر نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کے بارے میں نازل ہوئی۔
5۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابو الجوزاء (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ان الذین یرمون المحصنت الغفلت المومنت “ خاص طور پر امہات المومنین کے لیے نازل ہوئی۔
6۔ ابن ابی حاتم نے سلمہ بنت نبی ط (رح) سیر وایت کیا کہ آیت ” ان الذین یرمون المحصنت الغفلت المومنت “ سے نبی ﷺ کی ازواج مطہرات مراد ہیں۔
تہمت سے توبہ کی تفصیل
7۔ سعید بن منصور وابن جریر والطبرانی وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے سورة النور پڑھی اور اس کی تفسیر فرمائی جب اس آیت ” ان الذین یرمون المحصنت الغفلت المومنات “ پر پہنچے تو فرمایا کہ یہ عائشہ ؓ اور نبی ﷺ کی ازواج کے بارے میں ہے اور جس نے یہ کام کیا اس کے لیے توبہ نہیں یعنی توبہ کرنے کا حکم نہیں فرمایا۔ اور جس نے نبی ﷺ کی ازواج کے علاوہ دوسری مومن عورتوں میں کسی عورت پر بدکاری کی تہمت لگائی تو اس کے لیے توبہ ہے۔ (یعنی توبہ کا حکم فرمایا) پھر یہ آیت ” ولذین یرمون المحصنت ثم لم یأتو باربعۃ شہداء “ سے لے کر آیت ” الا الذین تابو “ تک پڑھی اور جس نے نبی ﷺ کی ازواج مطہرات پر بدکاری کی تہمت لگائی اس کے لیے توبہ نہیں پھر یہ آیت ” لعنوا فی الدنیاوالاٰخرۃ ولہم عذاب عظیم “ تلاوت فرمائی بعض لوگوں نے اردہ کیا کہ وہ ابن عباس کے پاس جائیں اور ان کے سر کا بوسہ لیں اس آیت کی اچھی تفسیر کرنے پر ل۔
8۔ ابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ مجھ پر تہمت لگائی گئی جبکہ میں بیخبر تھی بعد میں یہ بات مجھ کو پہنچی اس درمیان کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے اچانک آپ کی طرف وحی کی گئی پھر آپ اٹھے اور اپنے چہرہ مبارک کو پونچھا اور فرمایا اے عائشہ تجھے خوشخبری ہو میں نے عرض کیا کہ میں اللہ تعالیٰ کی اس بات پر تعریف کروں گی آپ کی نہیں پھر یہ آیت ” ان الذین یرمون المحصنت الغفلت المومنت “ پڑھی یہاں تک کہ آیت ” اولئک مبرء ون مما یقولون “ تک پہنچے۔
Ayah 24:241۔ ابو یعلی وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا کافر اپنے عملوں کو پہچان لے گا مگر انکار کردے گا اور جھگڑا کرے گا تو اس سے کہا جائے گا یہ لوگ تیرے پڑوسی ہیں وہ تیرے خلاف گواہی دے رہے ہیں تو وہ کہے گا انہوں نے جھوٹ بولا پھر اس سے کہا جائے گا یہ تیرے اہل و عیال اور تیرا کنبہ ہے جو تیرے خلاف گواہی دے رہے ہیں وہ کہے گا انہوں نے جھوٹ بولا پھر ان سے کہا جائے گا تم قسمیں اٹھاؤ تو وہ قسمیں اٹھائیں گے پھر اللہ تعالیٰ ان کو خاموش کردیں گے اور ان پر ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ گواہی دیں گے پھر ان کو دوزخ میں داخل کردیا جائے گا۔
2۔ ابن مردویہ نے ابوایوب انصاری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے پہلے قیامت کے دن ایک مرد اور ایک عورت جھگڑا کریں گے اس عورت کی اور اس مرد کی زبان نہیں بولے گی لیکن ہاتھ اور ان کے پاؤں گواہ دیں گے جو اس نے مرد کے ساتھ خیانت کی یا اسے عطا کیا یا کوئی گفتگو کی اسی طرح اس مرد کے پاؤں اس پر گواہی دیں گے جو مرد اس عورت کو دیتا ہے پھر مرد اور اس کے غلام کو بلایا جائے گا تو معاملہ ان کے درمیان اسی طرح ہوگا۔
3۔ احمد وابن مردویہ نے بہز بن حکیم سے روایت کیا کہ وہ اپنے باپ داد سے روایت کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں اس حال میں بلایا جائے گا کہ تمہارے منہ بندھے ہوں گے سرپوشوں سے اور سب سے پہلے جو تم میں سے کوئی بیان کرے گا وہ اس کی شرم گاہ اور اس کی ہتھیلی ہوگی۔
4۔ ابن مردویہ نے ابوامامہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے بنی آدم میں سے اس کی زبان بولے گی۔
قیامت کے روز اعضاء کی گواہی
5۔ ابن مردویہ نے ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے پہلے انسان کے اعضاء سے ایسے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا جو اس کو ذلیل رسوا کرنے والے ہوں گے تو وہ بندہ کہے گا آپ کی عزت کی قسم اے میرے رب کہ بلاشبہ میرے پاس بہت بڑی پوشیدہ باتیں ہیں۔
6۔ الحکیم الترمذی فی نوادر الاصول وابن مردویہ نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا بلاشبہ میں خوب جانتا ہوں اپنی امت میں سے اس آخری آدمی کو جو پل صراط پار کرے گا۔ وہ آدمی جو پیچ تاب کھائے پال صراط پر اس لڑکے کی طرح جب اس کو اس کا باپ مارتا ہے کبھی اس کا ہاتھ پھسلے گا تو اس کو آگ پہنچ جائے گی اور اس کا پاؤں پھسلے گا تو اس کو آگ پہنچ جائے گی تو اس کو فرشتے کہیں گے تو بتا اگر اللہ تعالیٰ تجھ کو تیری اس جگہ سے اٹھادیں اور تو سیدھ ہو کر چلنے لگے کیا تو ہم کو اپنے عمل کے بارے میں بتادے گا جو تو نے عمل کیے تھے تو وہ کہے گا اس کی عزت کی قسم ! میں تم سے اپنے اعمال میں سے ذرا بھی نہیں چھپاؤں گا تو وہ رشتے اس سے کہیں گے کھڑا ہوجا اور سیدھا ہو کر چل۔ تو وہ کھڑا ہو کر چلنے لگے گا یہاں تک کہ پل صراط پار کر جائے گا وہ فرشتہ اس سے کہیں گے ہم کو اپنے اعمال کے بارے میں بتا جو تو نے عمل کیے وہ اپنے دل میں کہے گا اگر میں نے ان کو بتادیے جو میں نے عمل یے تو یہ مجھے اپنی جگہ پر دوبارہ لوٹادیں گے جہاں میں پہلے تھا۔ تو وہ کہے گا میں نہیں بتاتا اس کی عزت کی قسم میں نے کبھی گناہ نہیں کیا تو وہ فرشتے کہیں گے تیرے اوپر ہمارے پاس گواہ ہیں وہ دائیں بائیں دیکھے گا کیا کوئی آدمیوں میں سے نظر آرہا ہے ان لوگوں میں سے جو دنیا میں گواہی دیتے تھے۔ تو وہ ان کو نہیں دیکھے گا اور کہے گا اپنے گواہ لے آؤ۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے منہ پر مہر لگادیں گے تو اس کے ہاتھ اس کے پاؤں اور اس کی جلد اس کے اعمال کے بارے میں آگاہ کریں گے۔ یہ سن کر وہ کہے گا اور تیری عزت کی قسم۔ میں نے یہ سب اعمال کیے تھے اور میرے پاس بڑے بڑے خفیہ اعمال بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے چلا جا میں نے ان کو تیرے لیے معاف کردیا ہے۔
7۔ ابن مردویہ وابن جریر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کے منہ پر مہر لگانے کے بعد پہلی ہڈی انسان میں سے جو بات کریں گی وہ اس کی ران ہوگی اس کی بائیں جانب سے۔
Ayah 24:251۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” یومئذ یوفیہم اللہ دینہم الحق “ سے مراد ہے ان کا حساب اور قرآن میں جہاں بھی دین کا لفظ ہے اس سے حساب مراد ہے۔
2۔ عبد بن حمید والطبرانی نے قتادہ (رح) سے آیت ” یومئذ یوفیہم اللہ دینہم الحق “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کو حق اعمال پر ان کے حق پر ہونے کی وجہ سے ان کو پورا پورا اجر دے گا اور باطل پرستوں کو ان کے باطل اعمال پر ان کے باطل ہونے کی وجہ سے پورا پورا اجر دے گا۔
3۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا ” الحق “ کو رفع کے ساتھ۔
4۔ الطبرانی وابن مردویہ نے بہز بن حکیم (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اس کو یوں پڑھا آیت ” یومئذ یوفیہم اللہ دینہم الحق “۔
Ayah 24:261۔ ابن جریر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” الخبیثت “ سے مراد ہے گندی باتیں آیت ” للخبیثین “ یعنی گندے مرد ” والخبیثون “ گندے مرد “ ” للخبیثت “ گندی باتیں ” والطیبت “ اچھی باتیں ” للطیبین “ اچھے مرد ” والطیبون “ اچھے لوگ ” للطیبت “ اچھی باتیں (یہ آیت) نازل ہوئی ان لوگوں کے بارے میں جنہوں نے حضرت عائشہ ؓ پر بہتان باندھا۔
خبیث مرد خبیث عورتوں کے لائق ہیں
2۔ عبدالرزاق والفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ الخبیثت یعنی گندی باتیں للخبیثین، گندے لوگ والخبیثون گندے مرد۔ للخبیثت گندی باتیں والطیبت اچھی باتیں اور عمل للطیبین اچھے لوگ، والطبیون اچھے لوگ، للطیبت اچھی بات اور عمل آتی ” اء لئک مبرء ون مما یقولون۔ جو اچھے لوگ ہیں وہ ہر گندی بات سے پاک ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیں گے اور جو گندا آدمی ہے وہ ہر اچھی بات سے بری ہوتا ہے اللہ تعالیٰ سے اس کو اچھی بات کی اس کی طرف لوٹا دیتا ہے۔ اور اس کو قبول نہیں فرماتے۔
3۔ عبد بن حمید وابن جریر والطبرانی نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ، الخبیثت سے مراد ہے گندی بات اور گندہ کام، للخبیثین گندے لوگ، والخبیثون گندے لوگ، للخبیثت، گندی بات اور گندے کام، والطیبت اچھی بات اور اچھے کام۔ لطیبین اچھے لوگ والطیبون، اچھے لوگ، للطیبت، اچھی بات اور اچھے کام۔ آیت ” لہم مغفرۃ “ ان کے گناہوں کی مغفرت ہے ورزق کریم اور وہ جنت ہے۔
4۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ۔ الخبیثت سے مراد ہے گندی باتیں، للخبیثین، گندے لوگوں سے، والخبیثون، گندے لوگوں میں سے، للخبیثت، گندی باتوں سے، والطیبت، اچھی باتوں سے، للطیبین، اچھے لوگ سے، والطیبون اچھے لوگوں سے، للطیبات، اچھی باتوں سے اور یہ لوگ، مبرء ونین بری ہوتے ہیں جو ان کے لیے بری باتوں میں سے کہا جاتا ہے یعنی حضرت عائشہ ؓ ان بری باتوں سے بری ہیں۔
5۔ عبد بن حمید نے سعی دبن جبیر سے اور وہ ضحاک اور ابراہیم سے اسی طرح روایت کیا عبد بن حمید نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ، الخبیثت، یعنی گندی بات، للخبیثین، گندے لوگوں سے، ولخبیثون، گندے لوگوں سے، للخبیثت، یعنی گندی باتوں سے، والطیبت، اچھی باتیں، للطیبین، اچھے لوگ، والطیبون، اچھے لوگ، للطیبت، اچھی باتوں کے لیے کیا تو نے نہیں دیکھا جب تو بری بات سنتا ہے نیک آدمی سے تو تو کہتا ہے اللہ تعالیٰ فلاں آدمی کی مغفرت فرمائے اس کے اخلاق میں سے یہ نہیں ہے اور نہ اس کے مزاج میں سے ہے۔ نہ ان باتوں میں سے ہے جیسے وہ عام طور سے کہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ” اولئک مبرء ون مم ایقولون “ یعنی وہ بری ہیں ان باتوں سے جو وہ کہتے ہیں نہ یہ ان کے مزاج میں سے اور نہ ان کے اخلاق میں سے ہے لیکن لغزش تو ہو ہی جاتی ہے۔
6۔ ابن ابی حاتم نے یحییٰ جزار (رح) سے روایت کیا کہ اسیر بن جابر عبداللہ (رح) کے پاس آئے اور کہا میں نے ولدی بن عقبہ سے ایسی بات سنی ہے انہوں نے ایسا کلام کیا جس نے مجھے تعجب میں ڈال دیا حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ مومن بندے کے منہ میں کبھی برا کلمہ وہتا ہے جو اس کے سینے میں کھٹکتا ہے وہ کلمہ ٹھہرتا نہیں ہے یاں تک کہ اس کو باہر پھینک دیتا ہے وہ آدمی جو اس کے پاس بیٹھا ہوا ہوتا ہے وہ اس کی مثل اس سے کم سنتا ہے اور اس سے اس کے ساتھ ملا دیتا ہے۔ اور کبھی بدکار آدمی کے دل میں اچھا کلمہ ہوتا ہے وہ اس کے سینے میں کھٹکتا ہے وہ نہیں ٹھہرتا ہے یہاں تک کہ اس کو باہر پھینک دیتا ہے۔ وہ آدمی جو اس کے پاس بیٹھا ہوتا ہے وہ اسے اس کی مثل سنتا ہے اور اسے اس کے ساتھ ملا دیتا ہے۔ پھر حضرت عبداللہ نے یہ آیت ” الخبیثت للخبیثین والخبیثون للخبیثات، والطیبت للطیبین والطیبون للطیبت “ پڑھی۔
7۔ ابن جریر وبن ابی حاتم والطبرانی نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” الخبیثت للخبیثین “ عائشہ ؓ کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی جب منافق نے ان پر بہتان اور جھوٹ باندھ اللہ تعالیٰ نے اس سے ان کو بری کردیا اور عبداللہ بن ابی خبیث تھا وہ اس بات کا مستحق تھا کہ اس کے لیے خبیثہ ہوتی اور وہ اس خبیثہ کے لیے ہوتا اور رسول اللہ ﷺ پاکیزہ تھے اور اس کے لائق تھے کہ آپ کے لیے پاکیزہ بیوی ہو عائشہ ؓ پکیزہ تھیں اور وہ اس لائق تھیں کہ ان کے لیے پاکیزہ مرد ہو اور اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی قول میں آیت ” اولئک مبرء ون مما یقولون “ میں عائشہ ؓ کی برائت کا اظہار کیا۔
8۔ ابن مردویہ نے عائشہ ؓ نے فرمایا میری پاکدامنی کا حکم آسمان سے نازل ہوا اور میں پاکیزہ پیدا کی گئی اور میں پاکیزہ کے پاس رہی اور میرے ساتھ مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کیا گیا۔
9۔ الطبرانی نے ذکوان حاجب عائشہ ؓ سے روایت کیا حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ عائشہ ؓ کے پاس آئے اور فرمایا آپ کو بشارت ہو کہ آپ کے اور حضرت محمد ﷺ اور آپ کے محبوب لوگوں کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں سوائے اس کے کہ آپ کی روح آپ کے جسم سے نکلے تو رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے رسول اللہ ﷺ کو زیادہ محبوب تھی اور رسول اللہ ﷺ پاکیزہ چیز ہی کو پسند فرماتے تھے اور آپ کا ہار گم گیا ابوا کی رات میں تو اللہ تعالیٰ نے یہ کم نازل فرمایا۔ آیت ” فتیمموا صعیدا طیبا “ (النساء آیت 43) اور یہ بھی آپ کے سبب سے ہوا اور آپ کے سبب سے ہی اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے رخصت کا حکم نازل فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی براءت کو اتارا ساتویں آسمان کے اوپر سے روح الامین یعنی جبرئیل (علیہ السلام) اس کو لے آئے اور کوئی مسجد نہیں ہے اللہ کی مسجدوں میں سے کہ اس میں اللہ کا ذکر کیا گیا ہو مگر وہ آیات رات اور دن کے اوقات میں پڑھی جاتی ہیں یہ سن کر عائشہ ؓ نے فرمایا اے ابن عباس رہنے دے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں اس بات کو دوست رکھتی ہوں کہ میں بھولی بسری جاؤں۔
ساری مخلوق کے سامنے رسوائی
10۔ الطبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب قیامت کا دن ہوگا اللہ تعالیٰ ساری مخلوق کے سامنے ان لوگوں پر اسی اسی کوڑوں کی حد لگائیں گے جنہوں نے عائشہ ؓ پر تہمت لگائی تھی میرا رب ان میں سے مہاجرین کو بطور ہبہ طلب فرمائیں گے اے عائشہ میں تجھ سے مشورہ کروں گا عائشہ ؓ نے کلام سنا جبکہ وہ گھر میں تھیں تو روپڑیں پھر کہا اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے آپ کی خوشی مجھے زیادہ محبوب ہے میری اپنی خوشی سے رسول اللہ ﷺ یہ سن کر ہنس پڑے اور فرمایا کہ یہ اپنے باپ کی بیٹی ہے۔
11۔ ابن ابی شیبہ واحمد والبخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجہ انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عائشہ ؓ کی فضیلت ساری عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید (کھانے) کی فضیلت سارے کھانوں پر ہے
12۔ الحاکم نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ سارے لوگوں کے علم کو جمع کیا جائے اور نبی ﷺ کی ساری بیویوں کا علم بھی جمع کیا جائے تو عائشہ ؓ کا علم ان سب سے بڑھ جائے گا۔
13۔ الحاکم نے عروہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عائشہ ؓ سے بڑھ کر کسی کو حلال حرام علم شعر اور طب میں زیادہ جاننے والا نہیں دیکھا۔
14۔ الحاکم نے موسیٰ بن طلحہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عائشہ ؓ سے بڑھ کر کسی کو فصیح زبان والا نہیں دیکھا۔
15۔ احمد نے الزہد میں والحاکم نے احنف (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابوبکر عمر عثمان اور علی ؓ اور اس کے بعددوسرے خطباء کے خطبات سنے مگر عائشہ ؓ سے بڑھ کر میں نے کسی مخلوق کے منہ سے ایسی عظیم المرتبہ اور اچھا کلام نہیں سنا۔
16۔ سعید بن منصور والحاکم نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ ان سے سوال کیا گیا عائشہ ؓ علم الفرائض کو اچھی طرح جانتی تھی ؟ انہوں نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں اکابر صحابہ کو دیکھا کہ وہ ان سے فرائض کے بارے میں پوچھتے تھے۔
17۔ الحاکم نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ عائشہ ؓ لوگوں میں سب سے زیادہ فقیہ تھیں اور لوگوں میں سب سے زیادہ عالم اور عام لوگوں کے بارے میں ان کے اعتبار سے سب سے اچھی رائے رکھنے والی تھیں۔
18۔ ابن ابی شیبہ نے مسلم البطین (رح) سے روایت کیا کہ عائشہ ؓ لوگوں میں سب سے زیادہ فقیہ تھیں اور لوگوں میں سب سے زیادہ عالم اور عام لوگوں کے بارے میں ان کے اعبار سے سب سے اچھی رائے رکھنے والی تھیں۔
18۔ ابن ابی شیبہ نے مسلم البطین (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عائشہ ؓ جنت میں میری بیوی ہوگی۔
19۔ ابن ابی شیبہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میرے اندر سات باتیں ایسی ہیں کہ وہ لوگوں میں سے کسی میں بھی نہیں ہیں مگر وہ جو اللہ تعالیٰ نے مریم بنت عمران کو عنایت فرمئیں اللہ کی قسم میں اس کو اس لیے نہیں کہتی تاکہ میں فخر کرنے لگ جاؤں اپنی ساتھی عورتوں پر۔ کہا گیا وہ کیا ہیں تو انہوں نے فرمایا میری صورت لے کر فرشتہ نازل ہوا۔ اور سات سال کی عمر میں رسول اللہ ﷺ نے میرے ساتھ شادی کی اور میں نو سال کی عمر میں ان کے حوالے کردی گئی اور آپ نے مجھ سے کنواری ہونے کی حالت میں شادی کی اور اس وصف میں کوئی بھی دوسری بیوی میرے ساتھ شریک نہیں ہوئی اور آپ کے پاس وحی اس حال میں آئی کہ میں اور آپ ﷺ ایک ہی بستر میں تھے اور میں آپ ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب تھی۔ ، اور میرے بارے میں قرآن کی آیات نازل ہوئی قریب تھا کہ امت ان میں ہلاک ہوجاتی اور میں نے جبرئیل کو دیکھا میرے علاوہ ازواج مطہرات میں سے کسی نے نہیں دیکھا اور آپ کی وفات اس حال میں ہوئی ہوئی کہ کوئی بھی وہاں موجود نہیں تھا سوائے میرے اور فرشتے کے۔
جبرائیل (علیہ السلام) کا حضرت عائشہ ؓ کو سلام کرنا
20۔ ابن ابی شیبہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے ان کے لیے فرمایا کہ جبرئیل (علیہ السلام) تجھ کو سلام کہتے ہیں عائشہ ؓ نے فرمایا (علیہ السلام) ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
21۔ ابن النجار (رح) نے تاریخ بغداد میں ابوبکر محمد بن عمر البغدادی الحنبلی سے روایت کیا اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم کو محمد بن الحسن الکارانی سے سے اور وہ ابراہیم الخرجی سے روایت کرتے ہیں کہ دنیا کے کاموں میں سے مجھ پر کوئی مشکل آپڑی تو میں نے ایسی دعائیں کیں جن کو کشادگی کی دعائیں کہا جاتا ہے۔ میں نے پوچھا وہ کیا ہے تو انہوں نے کہا مجھ کو بیان کیا ابو عبداللہ اھا 8 دبن محمد بن حنبل نے اور کہا کہ مجھ کو بیان کی اسفیان بن عیینہ نے اور کہا ہم کو بیان کی امحمد بن واصل انصاری نے جو اپنے باپ اور داد سے روایت کرتے ہیں اور وہ انس بن مالک ؓ سے کہ میں ام المومنین عائشہ ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا تاکہ میں ان کی آنکھوں کو براءت کے ساتھ ٹھنڈا کروں اور وہ رو رہی تھیں اور فرمایا اللہ کی قسم مجھ کو قریب اور دور والوں نے چھوردیا یہاں تک کہ مجھے بلی نے بھی چھوڑدیا اور مجھ کو نہ کھانا پیش کیا جات تھا اور نہ پینا میں جاگ رہی تھی اور میں بھوکی اور پیاسی تھی میں نے نیند میں ایک نوجوان کو دیکھا اس نے مجھ سے کہا تجھے کیا ہوا ؟ میں نے کہا لوگوں نے جو باتیں کی ہیں میں ان کی وجہ سے پریشان ہوں۔ اس نوجوان نے کہا یہ دعا کر تجھ سے غم جاتا رہے گا۔ میں نے پوچھ وہ دعا کیا ہے تو اس نے کہا یوں کہا۔
یا سابغ النعم وادافع النقم ویا فارج الغمم ویا کاشف الظلم یا اعدل من حکم یا حسیب من ظلم یا ولی من ظلم یا اول بلا بدیۃ ویا اخر بلا نہایۃ میا من لہ اس م بال اکنیۃ اللہم اجعل لی من امری فرجا ومخرجا۔
اے نعمتوں کی بارش برسانے والے اور ناراضگیاں دور کرنے والے اے غم کے دور کرنے والے اور اے ظلم کے ہٹانے والوحکم میں انآف کرنے والے اے حساب لینے والے اس سے جس نے ظلم کی اور اے مدد کرنے والے جس پر ظلم کیا گیا اور اے سب سے پہلے جس کی کوئی ابتداء نہیں اور اے سب سے آخر جس کی کوئی انتہاء نہیں۔ اے وہ ذات جس کا نام کنت کے بغیر ہے۔ اے اللہ میرے لیے میرے معاملے میں کشادگی اور نکلنے کا راستہ بنادے۔
پھر عائشہ ؓ نے فرمایا میں بیدار ہوئی تو میری پیاس بجھی ہوئی اور پیٹ بھرا ہوتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اس تنگی سے میرے نکلنے کا راستہ بنادیا ابن النجار ؓ نے کہا یہ خبر غریب ہے۔ ضعیف ہے۔
Ayahs 24:27–29بلا اجازت کسی کے گھر میں داخل ہونے کی ممانعت
1۔ الفریابی وابن جریر من طریق عدی بن ثابت انصار کے ایک آدمی سے روایت کیا کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا میں اپنے گھر میں بعض مرتبہ ایسے حال میں ہوتی ہوں کہ میں پسند نہیں کرتی کہ کوئی میرے پاس آئے نہ بیٹا اور نہ باپ میرے پاس ایک آنے والا آتا ہے اور میرے پاس اندر داخل ہوجاتا ہے اب میں کیا کروں ْ اور ابن جریر کا لفظ یوں ہے کہ میرے اہل میں کوئی مرد برابر میرے پاس آندر داخل ہوتا رہتا ہے اور میں اس حال میں ہوتی ہوں کہ میں کسی کا اندر آنا پسند نہیں کرتی ہوں تو یہ آیت یا ایہا الذین اٰمنو لاتدخلو ا بیوتا غیر بیوتکم نازل ہوئی۔
2۔ الفریابی و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن الانباری فی المصاحف والحاکم وصححہ والبیہقی فی شعب الیمان والضیاء فی المختارۃ ابن عباس ؓ سے آیت ” لاتدخلوا بیوتا غیر بیوتکم حتی تستأنسوا وتسلموا علی اہلہا “ کے بارے میں روایت کیا کہ کاتب نے غلطی کی اور وہ اس طرح ہے آیت ” حتی تستأنسوا “
3۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر والبیہقی فی شعب الایمان ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ ؓ کے مسحف میں آیت وتسلموا علی اہلہا وتستاذنو “ ہے۔
4۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ابی بن کعب ؓ کی قراء ۃ میں آیت ” وتسلموا علی اہلہا وتستزنوا “ ہے۔
5۔ ابن ابی حاتم وابن الانباری فی المصاحف ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ’ ’ حتی تستأنسوا “ سے مراد ہے حتی تسأذنوا۔
6۔ سعید بن منصور وابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حتی تستأنسو ا سے مراد ہے الاستئذان اجازت طلب کرنا۔
7۔ ابن ابی شیبہ والحکیم والترمذی وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے ابو ایوب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے کہا یا رسول اللہ اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ” حتی تستنسوا وتسلموا علی اہلہا “ کے بارے میں تبائیے کہ تسلیم کا معنہ تو ہم نے پہچان لیا اور ” استئن اس “ کیا ہے ؟ فرمایا کوئی آدمی سبحان اللہ، اللہ اکبر اور الحمد للہ کہے اور کھانسے تو اس طرح گھروالوں کی اطلاع کردے۔
8۔ الطبرانی نے ابوایوب انصاری ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ” الاستئن اس “ یہ ہے کہ تو خادم کو بلائے یہ ان تک کہ گھر والے آگاہ ہوجائیں جن کو وہ سلام کرے گا۔
9۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” حتی تستأنسوا “ سے مراد ہے کہ تم کھنکارو یعنی کھانسنے کی آواز نکالو) ۔
10۔ ابن ابی شیبہ واحمد والبخاری فی الادب وابو داوٗد والیہقی فی سننہ کے طریق سے بنو عامر کے ایک آدمی نے ہم کو بیان کیا کہ اس نے نبی ﷺ سے اندر داخل ہونے کی اجازت طلب کی اور آپ گھر میں تھے اس نے کہ کیا میں داخل ہوجاؤں نبی ﷺ نے اپنے خادم سے فرمایا اس آدمی کی طرف جاؤ اور اس کو اجازت طلب کرنے کا ریقہ سکھاؤ اس سے کہا گیا تو کہہ السلام علیکم کیا میں اندر داخل ہوجاؤں۔
اجازت لینے کے لیے سلام
11۔ ابن جریر نے عمرو بن سعد ثقفی ؓ سے روایت کہ ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے اندر آنے کی اجازت طلب کی اور کہا کیا میں داخل ہوجاؤں ؟ نبی ﷺ نے اپنی باندی سے فرمایا جس کو روضہ کہا جاتا تھا اس کی طرف جا اور اس کو اجازت لینے کا طریقہ سکھا کہ اس نے اچھے طریقے سے اجازت طلب نہیں کی اس سے کہو کہ یوں کہے السلام علیکم کیا میں داخل ہوجاؤں۔
12۔ ابن سعد واحمد والبخاری فی الادب وابوداوٗ والترمذی وحسنہ والنسائی ولابیہقی فی شعب الایمان من طریق کلدۃ صفوان بن امیہ ؓ نے فتح مکہ میں نبی ﷺ کو دودھ ہرنی اور ککڑیاں تحفے کے طور پر بھیجے اور نبی ﷺ نے فرمایا لوٹ جاؤ اور کہو السلام علیکم کیا میں داخل ہوجاؤں۔
13۔ قاسم بن اصبغ وابن عبد البر فی التمہید ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عمر ؓ نے نبی ﷺ سے اجازت طلب کی اور یوں کلام کیا ” السلام علی رسول اللہ السلام علیکم ایدخل عمر “ کیا عمر داخل ہوجائے۔
14۔ ابن وہب نے کتاب المجالس میں وابن ابی شیبہ نے زید بن مسلم (رح) سے روایت کیا کہ میرے باپ نے مجھے ابن عمر ؓ کے پاس بھیجا میں ان کے پاس آیا اور کہا کیا میں داخل ہوجاؤں فرمایا داخل ہوجا۔ جب میں داخل ہوا تو فرمایا خوش آمدید اے میرے بھتیجے یہ کہا کرو کیا میں داخل ہوجاؤں لیکن کہو السلام علیکم جب وہ یہ جواب دیں وعلیمک تو پھر کہو کیا میں داخل ہوجاؤں اگ روہ کہیں داخل ہوجاؤ تو داخل ہوجاؤ۔
15۔ ابن ابی حاتم نے ام ایاس (رح) سے روایت کیا کہ م چار عورتیں تھیں ہم نے عائشہ ؓ سے اندر آنے کی اجازت لی ہم نے کہا کیا ہم داخل ہوجائیں فرمایا نہیں۔ پھر ایک عورت نے کہا السلام علیکم کیا میں داخل ہوجاأں۔ فرمایا داخل ہوجاؤ۔ پھر یہ آیت ” یا ایہالذین اٰمنو الاتدخلوا بیوتا غیر بیوتکم حتی تستأنسو وتتسلموا علی اہلہا۔
16۔ الترمذی نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بات سے پہلے سلام ہے۔
17۔ ابن ابی شیبہ والبکاری فی الادب ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ جو آدمی سلام سے پہلے اندر آنے کی اجازت طلب کرے تو فرمایا اس کو اجازت نہ دو یہاں تک کہ سلام کرے۔
18۔ البخاری فی الادب ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ جب کوئی آدمی سلام نہ کرے تو کہہ دو مت داخل ہو یہاں تک کہ وہ آئے یعنی چابی سلام کے ساتھ۔
19۔ ابن ابی حاتم نے ابوعبیدہ ؓ سے روایت کیا کہ عبداللہ جب گھر میں داخل ہوتے تو اندر آنے کا احساس دلاتے بات کرتے اور اپنی آواز کو اونچا کرتے۔
مخصوص کمرہ میں داخل ہونے کے لیے ماں بہن سے اجازت
20۔ ابن جریر والبیہقی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ تم پر لاز ہے کہ تم اجازت طلب کرو اپنی ماؤں اور اپنی بہنوں سے۔
21۔ البخاری فی الاداب وابوداوٗد نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب ایک آدمی کی نظر اندر داخل ہوگئی یعنی اندر جھانک لیا تو اس کے لیے کوئی اجازت نہیں۔
22۔ ابن مردویہ نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے گھروں میں داخل ہونے کی اجازت کے بارے میں سوال کی تو فرمایا جس کی نظر اندر داخل ہوگئی یعنی جھانک لیا اجازت طلب کرنے سے پہلے اور سلام سے پہلے تو اس نے اللہ کی نافرمانی کی اس کے لیے کوئی اجازت نہیں۔
23۔ الطبرانی نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول اہوں تو وہ کسی گھر میں داخل نہ ہو یہاں تک کہ گھر والوں کو احساس دلائے اور سلام کرے جب اس نے گھر کے اندر دیکھ لیا تو وہ گویا داخل ہوگیا۔
24۔ ابن ابی شیبہ وابوداوٗد والبیہقی فی شعب الایمان ہذیل (رح) سے روایت کیا کہ سعد آئے اور نبی ﷺ کے دروازہ پر رک گئے اجازت لینے کے یے اور دروازے پر کھڑے ہوگئے نبی ﷺ نے اس سے فرمایا تجھ سے ایسا طرز عمل ہی واقع ہونا چاہیے۔ بلاشبہ اجازت طلب کرنا دیکھنے کے لیے ہی ہوتا ہے۔
25۔ البخاری فی الادب وابوداوٗد عبد اللہ بن بشر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ قوم کے دروزے پر تشریف لاتے تو دروزے کے بالکل سامنے کھڑے نہ ہوتے تھے۔ لیکن اس کے داہنی یا بائیں طرف کھڑے ہوتے تھے اور فرماتے تھے السلام علیکم السلام علیکم اور یہ اس وجہ سے کہ ان دنوں دروازون پر پردے نہیں ہوتے تھے۔
26۔ احمد والبخاری ومسلم والترمذی والنسائی نے سہل بن سعد ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے حجرت میں جھانکا نبی ﷺ کے حجروں میں سے اور آپ کے پاس ایک کنگھی تھی جس سے اپنے سر کو کھجلا رہے تھے آپ نے فرمایا اگر میں جان لیتا کہ تو دیکھ رہا ہے تو میں اسے تیری آنکھ میں چبھو دیتا۔ دیکھنے ہی کی وجہ سے اجازت طلب کی جاتی ہے اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اجازت طلب کرنے کا حکم دیکھنے کی وجہ سے دیا ہے۔
27۔ الطبرانی نے سعد بن عبادہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ اپنے گھر میں تھے میں دروازہ کے سامنے کھڑا ہو اکر اجازت طلب کرنے لگا۔ آپ نے میری طرف اشارہ فرمایا کہ دور ہوجاؤ اور فرمایا اجازت تو وہ نظر کی وجہ سے ہے۔
28۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے والبیہقی فی شعب الایمان قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” حتی تستأنسوا “ سے مراد ہے اجازت طلب کرنا راوی نے فرمایا کہ یہ بھی کہا جاتا ہے اجازت تین دفعہ ہوتی ہے جس شخص کو بھی اجازت نہ ملے تو اس کو چاہیے کہ لوٹ جائے پہلی دفعہ پر زندہ کو سننا چاہیے۔ اور دوسری دفعہ پر گھروالوں کو محتاط ہوجانا چاہیے اور تیسری دفعہ پر اگر وہ چاہیں اجازت دیں اگر وہ چاہیں رد کریں۔
تین مرتبہ اجازت لینا چاہیے
29۔ مالک و بخاری ومسلم وابوداوٗد نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ میں انصار کی مجلسوں میں سے ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا ابو موسیٰ گھبراتے ہوئے آئے ہم نے ان سے کہا کس چیز نے آپ کو گھبرادیا کہا مجھے عمر نے حکم دیا ہے کہ میں ان کے پاس آؤں میں انے کے پاس آیا اور تین مرتبہ اجازت لی۔ مجھے اجازت نہیں دی گئی میں لوٹ آیا عمر نے فرمایا کس چیز نے تجھے روک دیا کہ تو مییر پاس آئے میں نے کہا میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا میں نے تین مرتبہ اجازت لی مجھے اجازت نہیں دی گئی۔ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی تین مرتبہ اجازت طلب کرے اور اس کو اجازت نہ دی جائے تو اس کو چاہیے کہ لوٹ جائے عمر نے فرمایا اس حدیث پر گواہ لے آؤ۔ مجلس کے لوگوں نے کہا سب سے چھوٹا آدمی اٹھے ابو سعید کھڑے ہوئے اور ان کے حق میں گواہی دی۔ عمر نے ابو موسیٰ سے فرمایا کہ میں نے تم پر تہمت نہیں لگائی تھی لیکن رسول اللہ ﷺ کی طرف حدیث کی نسبت کرنا بہت سخت ہے۔
30۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت لاتدخلوا بیوتا غیر بیوتکم یعنی وہ گھر جو تمہارے نہیں ہیں (ایسے گھروں میں داخل نہ ہو) آیت ” ھتی تستأنسوا وتسلموا “ اس میں تقدیم ہے مطلب یہ ہے آیت حتی تستأنسوا وتسلموا یعنی پہلے تم سلام کرو پھر اجازت طلب کرو ذلکم یعنی یہ اجازت طلب کرنا اور سلام کرنا آیت ” خیر لکم “ یعنی بہتر ہے اس سے کہ تم بغیر اجازت کے اندر داخل ہوجاؤ تاکہ تم گنہگار نہ ہوجاؤ اور تاکہ گھر والے بھی محتاط ہوجائیں۔ آیت لعلکم تذکرون۔ تاکہ نصیحت حاصل کرو۔ آیت فان لم تجدوا فیہا احدا فلا تدخلوہا حتی یؤذن لکم۔ یعنی داخل ہو جب تک تم کو اجازت دی جائے۔ آیت وان قیل لکم ارجعوا فارجعو۔ یعنی پھر مت بیٹھو اور لوگوں کے دروازے پر مت کھڑے ہو۔ آیت ہو ازکی لکم۔ یعنی تمہارے لیے کھڑے ہونے اور بیٹھنے سے ان کے دروازوں پر آیت واللہ بما تعملون علیم۔ یعنی تم جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ جانتے ہیں۔ آیت لیس علیکم جناح۔ یعنی تم پر کوئی حرج نہیں۔ آیت ان تدخلوا بیوتا غیر مسکونۃ۔ یعنی ایسا گھر جس میں کوئی رہنے والا نہیں اور وہ مسافر خانے ہیں جو مسافر کے لیے لوگوں کے راستوں پر بنائے جاتے ہیں تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم بغیر اجازت ان میں داخل ہوجاؤ اور نہ وہاں سلام کرنا ہے۔ آیت فیہا متاع لکم۔ یعنی ان مسافر خانوں میں تو تمہارے لیے سردی اور گرمی سے بچاؤ کے منافع ہیں۔
31۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت فان لم تجدو فیہا احد کے بارے میں روایت کیا اگر اس میں تمہارا کوئی سامان نہیں تو اس میں مت داخل ہو مگر اجازت ہے۔ آیت لیس علیکم جناح۔ یعنی وہ لوگ شہر کے راستے پر اپنے کجاوے اور دیگر سامان ایسے گھروں میں رکھتے ہیں جس میں کوئی رہائش نہیں رکھتا تو ان کے لیے حلال ہے کہ وہ اس میں بغیر اجازت داخل ہوجائیں۔
32۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت بیوتا غیر مسکونۃ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے وہ گھر مراد ہیں جو سفر کی مختلف جگہوں پر بنائے جاتے ہیں اس میں کوئی نہیں رہتا۔
33۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے محمد بن حنفیہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت بیوتا غیر مسکونۃ وہ مسافر خانے مراد ہیں جو راستوں میں بنائے جاتے ہیں۔
34۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ آیت فیہا متاع لکم یعنی جن میں قضائے حاجت کرتے ہو۔
35۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت بیوتا غیر مسکونۃ سے قضائے حاجت کے لیے ویران جگہیں مراد ہیں
36۔ عبد بن حمید نے ابراہیم نخعی سے اسی طرح روایت کیا اور ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت فیہا متاع الکم سے وہ مسافر خانے مراد ہیں کہ بارش سردی اور گرمی کی حالت میں ان سے نفع حاصل کیا جاتا ہے۔
37۔ عبد بن حمید وابن جریر قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت بیوتا غیر مسکونۃ وہ گھر مراد ہیں جس میں لوگ اپنے سفر میں ٹھہرے ہیں اس میں کوئی نہیں رہتا آیت فیہا متاع لکم یعنی جس میں ضرورت اور نفع اٹھانے والی چیز ہوتی ہے۔
38۔ ابویعلی وابن جریر وابن مردویہ نے انس ؓ سے سے روایت کیا کہ مہاجرین میں سے ایک آدمی نے کہا کہ میں نے اپنی ساری عمر اس آیت پر عمل کرنے کی خواہش کی مگر میں اس کو نہ پاسکا وہ اس طرح کہ اگر میں بعض دوستوں کی خدمت میں حاضری کی اجازت چاہوں اور وہ مجھے کہہ دیں کہ واپس لوٹ جا تو میں لوٹ جاؤں گا اور میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان آیت وان قیل لکم ارجعوا فارجعوا ہو ازکی لکم پر عمل کر کے خوش ہوں۔
بوقت ملاقات سلام کرنا مسنون ہے
39۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حیان (رح) سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں جب کوئی آدمی اپنے ساتھی سے ملتا تھا تو اس کو سلام نہیں کرتا تھا بلکہ یوں کہتا تھا تیری صبح خیر کے ساتھ اور تیری شام خیر کے ساتھ اور قوم کا آپس میں یہی سلام تھا ان میں جب کوئی ساتھی کی طرف جاتا تھا تو وہ اس سے داخل ہونے کی اجازت نہیں لیتا تھا یہاں تک کہ وہ اس کے پاس اندر چلا جاتا اور کہتا تھا میں داخل ہوں یہ طریقہ آدمی پر بہت بھاری گزرتا تھا۔ اور ممکن ہے کہ وہ اپنے گھروالوں کے ساتھ موجود ہو تو اللہ تعالیٰ نے اس سارے طریقے کو پردہ پوشی اور پاکدامنی میں بدل دیا اور فرمایا آیت لا تدخلوا بیوتا غیر بیوتکم جب گھروں میں سلام کرنے اور اجازت لینے کی آیت نازل ہوئی تو ابوبکر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم اور قریش کے تاجروں کا کیا حکم ہے جو مکہ مدینہ شام اور بیت المقدس کے درمیان آتے جاتے رہتے ہیں۔ اور ان کے راستوں پر جانے پہچانے گھر ہیں تو کس طرح ہم ان سے اجازت لیں اور ان کو سلام کریں اور ان میں کوئی رہنے والا نہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس میں رخصت دیدی۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا آیت لیس علیکم جناح ان تدخلوا بیوتا غیر مسکونۃ کہ ان میں بغیر اجازت داخل ہوجاؤ۔
40۔ البخاری فی الادب وابوداوٗد فی الناسخ وابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لا تدخلو بیوتا غیر بیوتکم حتی تستاأنسو وتسلمو علی اہلہا کے حکم سے استثنی کرتے ہوئے فرمایا آیت ” لیس علیکم جناح ان تدخلوا بیوتا غیر مسکونۃ فیہا متاع لکم “۔ یعنی تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم داخل ہوجاؤ ایسے گھروں میں جس میں کوئی نہیں رہتا اور اس میں تمہارا سامان ہے۔