Ayah 37:161آیت 161{ فَاِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ } ”پس تم اور جن کو تم پوجتے ہو۔“
Ayah 37:162آیت 162{ مَآ اَنْتُمْ عَلَیْہِ بِفٰتِنِیْنَ } ”تم اللہ کے خلاف کسی کو بہکا نہیں سکتے ہو۔“
Ayah 37:163آیت 163{ اِلَّا مَنْ ہُوَ صَالِ الْجَحِیْمِ } ”سوائے اس کے جو خود جہنم میں گرنے والا ہو۔“
یہاں سے آگے چند آیات میں فرشتوں کی گفتگو کا ذکر ہے۔ اس لحاظ سے ان آیات کا ربط سورت کی ابتدائی آیات سے ملتا ہے۔ ابتدائی آیات میں فرشتوں کا ذکر اس طرح ہوا تھا : { وَالصّٰٓفّٰتِ صَفًّا فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًا فَالتّٰلِیٰتِ ذِکْرًا } ”قسم ہے ان فرشتوں کی جو قطار در قطار صفیں باندھے حاضر رہتے ہیں۔ پھر قسم ہے ان کی جو ڈانٹنے والے ہیں۔ پھر قسم ہے ان کی جو تلاوت کرنے والے ہیں ذکر کی“۔ اب ان ہی فرشتوں کی باہمی گفتگو نقل کی جا رہی ہے :
Ayah 37:164آیت 164{ وَمَا مِنَّآ اِلَّا لَہٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ} ”اور ہم میں سے کوئی نہیں مگر اس کے لیے ایک مقام مقرر ہے۔“
اس کو یوں سمجھیں کہ جس طرح بادشاہوں کے درباروں میں تمام مقربین و مصاحبین میں سے ہر ایک کا کوئی خاص عہدہ ‘ مقام اور مرتبہ مقرر ہوتا تھا۔ ان میں کوئی پنج ہزاری ہوتا تھا تو کوئی دس ہزاری اور کوئی تیس ہزاری۔ اسی طرح اللہ کے حضور فرشتوں کے بھی الگ الگ مراتب ہیں ‘ جیسے ملائکہ مقربین ‘ ملااعلیٰ ‘ ملائکہ دنیا ‘ ملائکہ اسفل وغیرہ۔ یہاں فرشتوں کا قول نقل ہوا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کا ایک معین ّمقام ہے ‘ اور ہم میں سے جس کا جو درجہ اور مرتبہ مقرر ہے ہم اس سے ذرہ برابر بھی تجاوز کرنے کی مجال نہیں رکھتے۔
Ayah 37:165آیت 165{ وَاِنَّا لَنَحْنُ الصَّآفُّوْنَ ”اور ہم تو سب کے سب صفیں باندھے کھڑے رہتے ہیں۔“
ہم اللہ تعالیٰ کے حضور صف بستہ مستعد کھڑے رہتے ہیں۔
Ayah 37:166آیت 166{ وَاِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ۔ ”اور ہم تو سب کے سب اپنے ربّ کی تسبیح کرنے والے ہیں۔“
Ayah 37:167آیت 167{ وَاِنْ کَانُوْا لَیَقُوْلُوْنَ } ”اور یہ لوگ تو کہا کرتے تھے“
Ayah 37:168آیت 168{ لَوْ اَنَّ عِنْدَنَا ذِکْرًا مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ } ”کہ اگر ہمارے پاس بھی پہلوں کی کوئی نصیحت ہوتی“
یعنی جس طرح پہلی قوموں کے پاس ”ذکر“ آیا تھا ‘ اگر ہمارے پاس بھی آیا ہوتا ‘ ہم پر بھی کوئی کتاب نازل ہوئی ہوتی :
Ayah 37:169آیت 169{ لَکُنَّا عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ } ”تو ضرور ہم اللہ کے برگزیدہ بندے ہوتے۔“
Ayah 37:170آیت 170{ فَکَفَرُوْا بِہٖ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْن } ”مگر اب وہ ذکر آگیا ہے تو انہوں نے اس کا انکار کردیا ‘ تو عنقریب یہ جان جائیں گے۔“
قرآن کے انکار اور کفر کی پاداش میں ان کے ساتھ جو کچھ ہونے والا ہے وہ عنقریب اسے خود دیکھ لیں گے۔
Ayah 37:171آیت 171{ وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَ } ”اور ہماری یہ بات پہلے سے طے شدہ ہے اپنے ان بندوں کے لیے جن کو ہم رسول بنا کر بھیجتے رہے ہیں۔“
یہ آیات فلسفہ قرآنی اور اللہ تعالیٰ کے ایک خاص قانون کے اعتبار سے بہت اہم ہیں۔ اس قانون کے تحت مرسلین کے لیے یقینی مدد کا وعدہ ہے ‘ لیکن یہ وعدہ صرف رسولوں کے لیے ہے۔ اس ضمن میں نبیوں اور رسولوں کے مابین فرق ملحوظ رکھنا چاہیے۔ چناچہ ایک نبی علیہ السلام کے لیے لازم نہیں تھا کہ اس کے لیے اللہ کی مدد ضرور ہی آتی اور اسے ہر صورت میں غلبہ عطا کیا جاتا ‘ بلکہ نبیوں کو تو قتل بھی کیا جاتا رہا۔ جیسے حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کو قتل کردیا گیا تھا۔ لیکن رسولوں کے بارے میں یہ بات طے تھی کہ وہ نہ تو قتل ہوں گے اور نہ ہی مغلوب۔ چناچہ جیسے ہی کسی رسول ﷺ کے مخالفین اس پر غالب آنے کی کوشش کرتے اور رسول علیہ السلام کے مغلوب ہونے کا امکان پیدا ہوتا تو اللہ کی فیصلہ کن مدد آجاتی۔ اس کے بعد رسول علیہ السلام اور اس کے ساتھیوں کو بچالیا جاتا اور ان کے مخالفین کو نیست و نابود کردیا جاتا۔
Ayah 37:172آیت 172{ اِنَّہُمْ لَہُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ } ”کہ ان کی لازماً مدد کی جائے گی۔“
یعنی رسولوں کی ضرور مدد کی جائے گی اور وہ علیہ السلام لازمی طور پر غالب ہو کر رہیں گے۔ آیت کے ترجمے میں اگرچہ مستقبل کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے ‘ لیکن اصل میں تو اللہ تعالیٰ کے اس قاعدے اور قانون پر عمل ماضی میں ہوتا رہا ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ پر آکر یہ سلسلہ ختم ہوچکا ہے۔
Ayah 37:173آیت 173{ وَاِنَّ جُنْدَنَا لَہُمُ الْغٰلِبُوْنَ } ”اور یقینا ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔“
یہاں اللہ کے لشکر سے ”حزب اللہ“ رسول علیہ السلام اور اس کے ساتھی مراد ہیں۔ مثلاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے حواری اپنے دور کے حزب اللہ تھے اور محمد رسول اللہ اور آپ ﷺ کے صحابہ رض { مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ط وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ } الفتح : 29 اپنے دور کے حزب اللہ تھے۔
Ayah 37:174آیت 174{ فَتَوَلَّ عَنْہُمْ حَتّٰی حِیْنٍ } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ ان سے ذرا رخ پھیر لیجیے ایک وقت تک کے لیے۔“
آپ ﷺ ان کی مخالفت کی پروا نہ کریں اور ان کی استہزائیہ باتوں سے اعراض کریں۔
Ayah 37:175آیت 175{ وَّاَبْصِرْہُمْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ } ”اور آپ ﷺ انہیں دیکھتے رہیے ‘ پس عنقریب وہ بھی دیکھ لیں گے۔“
یعنی آپ ذرا انتظار کیجیے ‘ یہ لوگ اپنی شکست اور آپ کی فتح خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
Ayah 37:176آیت 176{ اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ } ”تو کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے بارے میں جلدی مچا رہے ہیں ؟“
Ayah 37:177آیت 177{ فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِہِمْ فَسَآئَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِیْنَ } ”تو جب وہ نازل ہوگا ان کے میدان میں تو وہ بہت بری صبح ہوگی ان لوگوں کی جنہیں خبردار کردیا گیا تھا۔“
”سَاحَۃ“ خیموں کے درمیان کھلی جگہ یا گھروں کے درمیان کھلے میدان کو کہا جاتا ہے۔ جیسے ہمارے ہاں عام طور پر آبادی کے درمیان میں ایک بڑا پارک ہوتا ہے۔
Ayah 37:178آیت 178{ وَتَوَلَّ عَنْہُمْ حَتّٰی حِیْنٍ } ”اور آپ ﷺ رخ پھیر لیجیے ان کی طرف سے ایک وقت تک کے لیے۔“
یہاں حضور ﷺ کو دوبارہ ان سے اعراض کرنے کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ آپ علیہ السلام نہ تو ان کے کفر اور انکار سے رنجیدہ ہوں اور نہ ہی ان کے انجام کے بارے میں فکر مند ہوں۔ قرآن میں اس حوالے سے آپ ﷺ کو مخاطب کر کے بار بار فرمایا گیا : { وَلَا تَحْزَنْ عَلَیْہِمْ } کہ آپ ﷺ ان کے معاملے میں بالکل رنجیدہ نہ ہوں اور سورة الشعراء میں تو بہت ہی ُ پرزور انداز میں فرمایا گیا : { لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ } ”اے نبی ﷺ ! شاید آپ ہلاک کردیں گے اپنے آپ کو ‘ اس لیے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے۔“
Ayah 37:179آیت 179{ وَّاَبْصِرْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ } ”اور آپ دیکھتے رہیے ‘ عنقریب وہ بھی دیکھ لیں گے۔“
Ayah 37:180آیت 180{ سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ } ”پاک ہے آپ ﷺ کا ربّ ‘ عزت اور اقتدار کا مالک ‘ ان تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔“
یَصِفُوْنَ کا مادہ وصف ہے اور اسی مادہ سے لفظ ”صفت“ مشتق ہے۔ اس لفظی مادہ کے حوالے سے یہ بات نوٹ کر لیجیے کہ اس سے مشتق مختلف الفاظ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور خوبی بیان کرنے کے لیے احادیث میں تو آئے ہیں لیکن قرآن میں ایجابی اور مثبت طور پر اللہ تعالیٰ کے لیے اس مادہ سے کوئی لفظ استعمال نہیں ہوا۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کے بہت سے صفاتی نام آئے ہیں اور اس حوالے سے یہ بھی فرمایا گیا : { لَہُ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰیط } الحشر : 24 ‘ لیکن لفظ ”صفت“ یا وصف کے مادہ سے مشتق کسی لفظ کے استعمال سے صراحتاً اللہ تعالیٰ کی کوئی صفت قرآن میں بیان نہیں ہوئی۔ اس مادہ سے قرآن میں جو بھی الفاظ یصفون وغیرہ استعمال ہوئے ہیں وہ لوگوں کے حوالے سے ہیں کہ یہ لوگ اللہ کے جو اوصاف بیان کر رہے ہیں اور اللہ کے بارے میں جو باتیں بنا رہے ہیں اللہ اس سے پاک اور بلندو برتر ہے۔
Ayah 37:181آیت 181{ وَسَلٰـمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ } ”اور سلام ہو تمام رسولوں پر۔“
Ayah 37:182آیت 182{ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ } ”اور ُ کل حمد اور تمام شکر اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا ربّ ہے۔“
واضح رہے کہ لفظ ”ربّ“ میں مالک اور پروردگار دونوں معانی موجود ہیں۔