Ayah 37:121آیت 121{ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ } ”یقینا ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں محسنین کو۔“
Ayah 37:122آیت 122{ اِنَّہُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ } ”یقیناوہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔“
Ayah 37:123آیت 123{ وَاِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ } ”اور یقینا الیاس علیہ السلام بھی رسولوں میں سے تھا۔“
حضرت الیاس علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل میں سے تھے۔ آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کے مشہور شہر ”بَعْلَبَک“ میں مبعوث ہوئے تھے۔ اس شہر میں سانڈھ کی شکل کا ایک بہت بڑا بت بنایا گیا تھا جس کا نام آگے آیت 125 میں ”بعل“ بتایا گیا ہے۔ اسی ُ بت کے نام پر اس شہر کا نام ”بعلبک“ بعل کا بک رکھا گیا تھا یعنی بعل کا شہر۔ پرانی عبرانی زبان میں شہر کو بک یا بکہ کہا جاتا تھا۔ چنانچہ مکہ کا پرانا نام بھی بَکّہ تھا ‘ جس کا حوالہ سورة آل عمران کی آیت 96 میں آیا ہے۔ بہر حال اس قوم کے لوگوں نے اس شہر کو اپنے معبود کے نام سے منسوب کر رکھا تھا۔
Ayah 37:124آیت 124{ اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اَلَا تَتَّقُوْنَ } ”جب اس نے اپنی قوم سے کہا : کیا تم تقویٰ اختیار نہیں کرتے ؟“
Ayah 37:125آیت 125{ اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّتَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَ } ”کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور بہترین خالق کو چھوڑتے ہو !“
Ayah 37:126آیت 126{ اللّٰہَ رَبَّکُمْ وَرَبَّ اٰبَآئِکُمُ الْاَوَّلِیْنَ } ”یعنی اللہ جو تمہارا رب ہے اور تمہارے پہلے آباء و اَجداد کا بھی رب ہے۔“
Ayah 37:127آیت 127{ فَکَذَّبُوْہُ فَاِنَّہُمْ لَمُحْضَرُوْنَ } ”تو انہوں نے اس کو جھٹلا دیا ‘ چناچہ وہ سب قیامت کے دن حاضرکر لیے جائیں گے۔“
Ayah 37:128آیت 128{ اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ } ”سوائے اللہ کے ان بندوں کے جنہیں خالص کرلیا گیا۔“
Ayah 37:129آیت 129{ وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْاٰخِرِیْنَ } ”اور اسی کے طریقے پر ہم نے باقی رکھا بعد میں آنے والوں میں سے بھی کچھ لوگوں کو۔“
یعنی یہ تمام انبیاء و رسل ایک ہی ملت کے افراد تھے اور اسی ملت اور اسی طریقے کا تسلسل ہے جو ہدایت کی صورت میں نسل انسانی میں چلا آ رہا ہے۔ چناچہ یہی بات سورة الانبیاء کی آیت 92 اور سورة المومنون کی آیت 52 میں اس طرح بیان ہوئی ہیـ: { وَاِنَّ ہٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً } ”اور یقینا یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے۔“
Ayah 37:130آیت 130{ سَلٰمٌ عَلٰٓی اِلْ یَاسِیْنَ } ”سلام ہو الیاس علیہ السلام پر۔“
Ayah 37:131آیت 131{ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ } ”یقینا ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں محسنین کو۔“
Ayah 37:132آیت 132{ اِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ } ”یقینا وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔“
Ayah 37:133آیت 133{ وَاِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ } ”اور یقینا لوط علیہ السلام بھی رسولوں میں سے تھا۔
Ayah 37:134آیت 134{ اِذْ نَجَّیْنٰہُ وَاَہْلَہٗٓ اَجْمَعِیْنَ } ”جب ہم نے نجات دی اس کو اور اس کے گھر والوں کو ‘ سب کو۔“
اگرچہ تورات کے مطابق آپ علیہ السلام صرف اپنی دو بیٹیوں کو اپنے ساتھ لے کر نکلے تھے ‘ یعنی ان کے علاوہ اس قوم میں کوئی اور اہل ایمان نہیں تھے ‘ لیکنیہاں پراَہْلَہٗٓ اَجْمَعِیْنَ سب گھرو الوں کو کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ علیہ السلام کا گھرانہ خاصا بڑاہو گا ‘ جس میں سے آپ علیہ السلام کی صرف ایک بیوی پیچھے رہ گئی تھی۔ واللہ اعلم !
Ayah 37:135آیت 135{ اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْْغٰبِرِیْنَ } ”سوائے ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی۔“
Ayah 37:136آیت 136{ ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ } ”پھر ہم نے جڑ سے اکھاڑ کر پٹخ دیا باقیوں کو۔“
Ayah 37:137آیت 137 ‘ { وَاِنَّکُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْہِمْ مُّصْبِحِیْنَ اور تم لوگ گزرتے ہو ان کے کھنڈرات پر صبح کے وقت بھی
Ayah 37:138وَبِالَّـیْلِ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ } ”اور رات کو بھی ‘ تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟“
قومِ لوط علیہ السلام کی تباہ ہونے والی بستیوں میں سے سدوم اور عامورہ کے شہر معروف تھے۔ حال ہی میں برطانیہ سے تعلق رکھنے والے آرکیالوجی کے کچھ ماہرین کی تحقیق کے نتیجے میں ان شہروں کے کھنڈرات اور آثار بحر ِمردار ُ کے پانی کے نیچے دریافت ہوئے ہیں ‘ جس سے تورات اور قرآن میں مذکور تفصیلات کی تصدیق ہوگئی ہے۔ اسی طرح جب اللہ کو منظور ہوگا حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی بھی دنیا کی نگاہوں کے سامنے آجائے گی۔ سورة القمر ‘ آیت 15 میں اس حوالے سے اشارہ موجود ہے کہ کسی وقت یہ کشتی ایک بڑی نشانی کے طور پر ظاہر ہوگی۔ ہمارا ایمان ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قرآن کی بیان کردہ تاریخ کے ثبوت ایک ایک کر کے دنیا کے سامنے آتے چلے جائیں گے۔ ان شاء اللہ !
Ayah 37:139آیت 139{ وَاِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ } ”اور یقینا یونس علیہ السلام بھی رسولوں میں سے تھا۔“
Ayah 37:140آیت 140{ اِذْ اَبَقَ اِلَی الْفُلْکِ الْمَشْحُوْنِ } ”جب وہ بھاگ کر پہنچا اس کشتی کی طرف جو پہلے سے ہی بھری ہوئی تھی۔“
لفظ ”اَبَقَ“ کسی غلام کا اپنے آقا کے ہاں سے بھاگ جانے پر بولا جاتا ہے۔ اس واقعے کا ذکر سورة یونس اور سورة الانبیاء میں بھی آچکا ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے آپ علیہ السلام کو جھٹلا دیا اور ان کے مسلسل انکار اور کفر کے باعث اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو تباہ کرنے کا فیصلہ فرما لیا۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا قانون اور طریقہ یہی رہا ہے کہ کسی قوم پر عذاب سے قبل رسول کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا جاتا اور رسول کے ہجرت کر جانے کے بعد متعلقہ قوم کو نیست و نابود کردیا جاتا۔ حضرت یونس علیہ السلام سے اس ضمن میں یہ لغزش ہوگئی کہ آپ علیہ السلام حمیت ِحق کے جوش میں غضبناک ہو کر سورۃ الانبیاء کی آیت 87 میں اس حوالے سے { اِذْ ذَّھَبَ مُغَاضِبًا } کے الفاظ آئے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح اجازت ملنے سے قبل ہی اپنی قوم کو چھوڑ کر نکل آئے اور دجلہ یا فرات میں سے کسی دریا کو پار کرنے کے لیے کشتی پر سوار ہوگئے۔
Ayah 37:141آیت 141{ فَسَاہَمَ فَکَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَ } ”تو انہوں نے قرعہ ڈالا ‘ تو وہ ہوگیا دھکیل دیے جانے والوں میں سے۔“
پچھلی آیت میں مذکور ہے کہ وہ کشتی پہلے ہی گنجائش سے زیادہ بھری ہوئی تھی ‘ چناچہ جب بیچ دریا میں جا کر کشتی ڈولنے لگی اور اس کے ڈوب جانے کا خطرہ پیدا ہوگیا تو بوجھ کم کرنے کی غرض سے کسی ایک مسافر کو دریا میں پھینکنے کے لیے یہ قرعہ اندازی کی گئی ہوگی۔ اس حوالے سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ کشتی والوں نے یہ گمان کیا کہ کسی کا کوئی بھاگا ہوا غلام کشتی میں سوار ہے جس کی وجہ سے یہ ڈوبنے لگی ہے۔ چناچہ اس مفرور غلام کا پتا لگانے کے لیے قرعہ اندازی کی گئی۔ بہرحال قرعہ اندازی میں حضرت یونس علیہ السلام کا نام نکلا اور آپ علیہ السلام کو دریا میں پھینک دیا گیا۔
Ayah 37:142آیت 142{ فَالْتَقَمَہُ الْحُوْتُ وَہُوَ مُلِیْمٌ } ”تو اس کو نگل لیا مچھلی نے اور وہ ملامت زدہ تھا۔“
یہ کوئی بہت بڑی وہیل مچھلی ہوگی۔ آج تو ہم مچھلیوں کی بہت سی ایسی اقسام کو بخوبی جانتے ہیں جو بڑی آسانی سے ایک ہی لقمے میں انسان کو نگل سکتی ہیں۔ وَہُوَ مُلِیْمٌ کے الفاظ میں ناراضگی اور خفگی کا انداز پایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے اللہ کے ہاں ع ”جن کے رتبے ہیں سوا ‘ ان کی سوا مشکل ہے“ کے مصداق کسی بہت بڑی شخصیت کی چھوٹی سی غلطی پر بھی بہت سخت گرفت ہوتی ہے۔
Ayah 37:143آیت 143{ فَلَوْلَآ اَنَّہٗ کَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَ } ”تو اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا۔“
سورة الانبیاء کی آیت 87 میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مچھلی کے پیٹ میں نہ صرف زندہ رہے بلکہ ان الفاظ سے تسبیح بھی کرتے رہے کہ : { لَآ اِلٰــہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَکَق اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ } ”تیرے سوا کوئی معبود نہیں ‘ تو پاک ہے ‘ اور یقینا میں ہی ظالموں میں سے ہوں۔“
Ayah 37:144آیت 144{ لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِہٖٓ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ } ”تو اس کے پیٹ ہی میں رہتا اس دن تک کہ جس میں لوگ اٹھائے جائیں گے۔“
یعنی اگر آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی تسبیح آیت ِکریمہ کا ورد نہ کرتے تو قیامت تک اس مچھلی کے پیٹ ہی میں رہتے اُس کا پیٹ ہی آپ علیہ السلام کے لیے قبر بنا رہتا اور قیامت کے دن وہیں سے آپ علیہ السلام اٹھائے جاتے۔
Ayah 37:145آیت 145{ فَنَـبَذْنٰـہُ بِالْعَرَآئِ وَہُوَ سَقِیْمٌ} ”تو ہم نے ڈال دیا اسے ایک چٹیل میدان میں اور وہ خستہ حالت میں تھا۔“
اس تسبیح اور استغفار آیت کریمہ کے ورد کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو اس مصیبت سے نجات دی اور اللہ کے حکم سے مچھلی نے آپ علیہ السلام کو ساحل پر اگل دیا۔ لیکن مچھلی کے معدے میں رہنے اور اس کے معدے میں موجود انہضامی رطوبتوں digestive juices کے اثرات کے باعث آپ علیہ السلام کی حالت بہت خستہ سقیم ہوچکی تھی۔
Ayah 37:146آیت 146{ وَاَنْبَتْنَا عَلَیْہِ شَجَرَۃً مِّنْ یَّقْطِیْنٍ } ”تو ہم نے اس کے اوپر یقطین کا ایک پودا اگا دیا۔“
عربی میں ”یقطین“ ایسے پودے کو کہا جاتا ہے جو کسی تنے پر کھڑا نہیں ہوتا ‘ بلکہ بیل کی شکل میں پھیلتا ہے ‘ جیسے کدو ‘ تربوز ‘ ککڑی وغیرہ۔ ”یقطین“ کے بارے میں ہمارے ایک دوست جناب احمد الدین مارہروی مرحوم کی تحقیق ماہنامہ میثاق فروری 1980 ء میں شائع ہوئی تھی۔٭ موصوف کا تعلق کراچی سے تھا ‘ محکمہ تعلیم میں ملازم تھے اور اسی ملازمت کے دوران وہ مکران میں بھی رہے۔ میثاق کے مستقل قاری تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے ‘ بہت نیک انسان تھے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ مکران کا ساحل طبعی طور پر ساحل ِعراق سے مشابہ ہے۔ وہاں پر انہوں نے ایک بیل نما پودا دیکھا جسے مقامی زبان میں ”اَگین“ کہا جاتا ہے۔ اس پودے کے پتے بہت بڑے بڑے ہوتے ہیں۔ اس پر گول کدو ّکی شکل کا پھل لگتا ہے جو جسامت میں تربوز کے برابر اور مزے میں ککڑی جیسا ہوتا ہے۔ اس میں شیرینی بھی ہوتی ہے اور پانی کا جزو تو بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی بیل زمین پر دور دور تک پھیلی ہوتی ہے جس کے اندر بیک وقت دوچار آدمی اپنے آپ کو بخوبی چھپا سکتے ہیں۔ پتے نہایت چکنے اور ملائم ہوتے ہیں جو نیچے نرم و نازک گدوں اور اوپر اوڑھنے کے لیے ریشمی چادر کا کام دیتے ہیں۔ تری اور خنکی اتنی ہوتی ہے کہ آفتاب کی کرنیں اندر چھپے ہوئے انسان کو تکلیف نہیں دے سکتیں۔ اس کے پتوں میں قدرتی طور پر کوئی اینٹی بیکٹیریا مادہ بھی پایا جاتا ہے ‘ جس کی وجہ سے حشرات الارض حتیٰ کہ سانپ اور بچھو بھی اس سے دور رہتے ہیں۔ جناب احمد الدین مارہروی مرحوم کا خیال تھا کہ یہ وہی پودا ہے جس کا ذکر قرآن میں ”یقطین“ کے نام سے ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ اہل مکران کی زبان مسخ شدہ فارسی ہے ‘ لیکن اس میں دوسری زبانوں بالخصوص عربی کے الفاظ بھی ملتے ہیں۔ چناچہ لسانی اور صوتی اعتبار سے یہ بات قرین قیاس ہے کہ یقطین کی ”ق“ مقامی زبان کی ”گ“ سے بدل گئی ہو جیسے سعودی عرب میں بھی آج کل عوام ”قُمْ“ کو ”گُم“ ہی بولتے ہیں ‘ ”ی“ الف سے بدل گئی ہو اور ”ط“ کثرتِ استعمال سے حذف ہوگیا ہو۔ اس طرح ہوتے ہوتے اس لفظ نے ”اَگین“ کی صورت اختیار کرلی ہو۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے اس بیل کی صورت میں حضرت یونس علیہ السلام کے لیے anti septic ماحول ‘ سایہ ‘ غذائیت اور مٹھاس سے بھر پور پھل کی صورت میں تینوں بنیادی ضرورتیں پوری کردیں۔
Ayah 37:147آیت 147{ وَاَرْسَلْنٰـہُ اِلٰی مِائَۃِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَ } ”پھر ہم نے اس کو بھیج دیا ایک لاکھ یا اس سے زیادہ لوگوں کی طرف۔“
یعنی صحت یاب ہوجانے کے بعد آپ علیہ السلام کو دوبارہ رسالت کی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔ قرآن میں اس حوالے سے کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ دوبارہ آپ علیہ السلام کو اپنی ہی قوم کی طرف بھیجا گیا تھا یا کسی اور قوم کی طرف۔ لیکن گمان غالب یہی ہے کہ آپ علیہ السلام دوبارہ اپنی ہی قوم میں مبعوث ہوئے اور اس آیت میں آپ علیہ السلام ہی کی قوم کی تعداد کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ بہر حال سورة یونس میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ آپ علیہ السلام کی قوم کی توبہ قبول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ٹال دیا تھا۔ سورة یونس کی آیت 98 میں یہ وضاحت بھی ملتی ہے کہ یہ استثناء صرف قوم یونس ہی کو حاصل ہے۔ یعنی پوری انسانی تاریخ میں واحد مثال ہے کہ عذاب کے آثار ظاہر ہوجانے کے بعد آپ علیہ السلام کی قوم کی توبہ قبول کرلی گئی۔
Ayah 37:148آیت 148{ فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰہُمْ اِلٰی حِیْنٍ } ”تو وہ ایمان لے آئے اور ہم نے انہیں متاع دنیوی عطا کردی ایک خاص وقت تک۔“
یعنی ان کی توبہ اور ایمان کے بعد انہیں بقا کی ایک نئی مہلت fresh lease of existance دے دی گئی۔
Ayah 37:149آیت 149{ فَاسْتَفْتِہِمْ اَلِرَبِّکَ الْبَنَاتُ وَلَہُمُ الْبَنُوْنَ } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ ان سے پوچھیں ‘ کیا تمہارے ربّ کے لیے تو بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے !“
یہاں مشرکین ِمکہ ّکے اس عقیدے پر جرح کی جا رہی ہے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ یعنی یہ لوگ خود اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے ہیں اور بیٹیوں کو ناپسند کرتے ہیں لیکن جب یہ لوگ اللہ سے اولاد منسوب کرتے ہیں تو اس کے لیے بیٹیوں کا انتخاب کرتے ہیں۔
Ayah 37:150آیت 150{ اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓئِکَۃَ اِنَاثًا وَّہُمْ شٰہِدُوْنَ } ”کیا واقعی ہم نے فرشتوں کو مونث بنایا تھا اور وہ اس کے گواہ ہیں ؟“
کیا یہ آنکھوں دیکھی بات کہہ رہے ہیں ؟
Ayah 37:151آیت 151 ‘ { اَلَآ اِنَّہُمْ مِّنْ اِفْکِہِمْ لَیَقُوْلُوْنَ ] ”خبردار ! یقینا یہ لوگ جھوٹ گھڑ کر کہتے ہیں
Ayah 37:152وَلَدَ اللّٰہُ وَاِنَّہُمْ لَکٰذِبُوْنَ } ‘ کہ اللہ کے اولاد ہوئی اور یقینا یہ جھوٹے ہیں۔“
Ayah 37:153آیت 153{ اَصْطَفَی الْبَنَاتِ عَلَی الْبَنِیْنَ } ”کیا اس نے بیٹیاں پسند کرلیں بیٹوں کو چھوڑ کر !“
Ayah 37:154آیت 154{ مَا لَکُمْقف کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ } ”تمہیں کیا ہوگیا ہے ‘ تم کیسا فیصلہ کرتے ہو ؟“
Ayah 37:155آیت 155{ اَفَلَا تَذَکَّرُوْنَ } ”کیا تم ہوش سے کام نہیں لیتے ؟“
Ayah 37:156آیت 156{ اَمْ لَکُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِیْنٌ} ”کیا تمہارے پاس کوئی واضح سند موجود ہے ؟“
Ayah 37:157آیت 157{ فَاْتُوْا بِکِتٰبِکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ } ”تو لائو تم اپنی کتاب اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو !“
Ayah 37:158آیت 158{ وَجَعَلُوْا بَیْنَہٗ وَبَیْنَ الْجِنَّۃِ نَسَبًا } ”اور انہوں نے تو اللہ کے اور ِجنوں کے درمیان بھی نسبی رشتہ قائم کردیا ہے۔“
{ وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّۃُ اِنَّہُمْ لَمُحْضَرُوْنَ } ”حالانکہ جنوں کو خوب معلوم ہے کہ وہ تو گرفتارکرکے حاضر کیے جائیں گے۔“
Ayah 37:159آیت 159{ سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یَصِفُوْنَ } ”اللہ پاک ہے ان باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔“
Ayah 37:160آیت 160{ اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ } ”سوائے اللہ کے ان بندوں کے جو خالص کرلیے گئے ہیں۔“
اللہ کے وہ بندے جنہیں اللہ نے ُ چن لیا ہے ‘ چاہے وہ جنات میں سے ہوں یا انسانوں میں سے ‘ وہ قیامت کے دن کی پکڑ سے محفوظ و مامون رہیں گے۔