37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayah 37:121

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:121 in the Quran reader

یقینا ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں محسنین کو۔

آیت 121{ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ } ”یقینا ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں محسنین کو۔“
Ayah 37:122

اِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:122 in the Quran reader

یقیناوہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں سے تھے

آیت 122{ اِنَّہُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ } ”یقیناوہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔“
Ayah 37:123

وَ اِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:123 in the Quran reader

اور یقینا الیاس ؑ بھی رسولوں میں سے تھا۔

آیت 123{ وَاِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ } ”اور یقینا الیاس علیہ السلام بھی رسولوں میں سے تھا۔“ حضرت الیاس علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل میں سے تھے۔ آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کے مشہور شہر ”بَعْلَبَک“ میں مبعوث ہوئے تھے۔ اس شہر میں سانڈھ کی شکل کا ایک بہت بڑا بت بنایا گیا تھا جس کا نام آگے آیت 125 میں ”بعل“ بتایا گیا ہے۔ اسی ُ بت کے نام پر اس شہر کا نام ”بعلبک“ بعل کا بک رکھا گیا تھا یعنی بعل کا شہر۔ پرانی عبرانی زبان میں شہر کو بک یا بکہ کہا جاتا تھا۔ چنانچہ مکہ کا پرانا نام بھی بَکّہ تھا ‘ جس کا حوالہ سورة آل عمران کی آیت 96 میں آیا ہے۔ بہر حال اس قوم کے لوگوں نے اس شہر کو اپنے معبود کے نام سے منسوب کر رکھا تھا۔
Ayah 37:124

اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 37:124 in the Quran reader

جب اس نے اپنی قوم سے کہا : کیا تم تقویٰ اختیار نہیں کرتے ؟

آیت 124{ اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اَلَا تَتَّقُوْنَ } ”جب اس نے اپنی قوم سے کہا : کیا تم تقویٰ اختیار نہیں کرتے ؟“
Ayah 37:125

اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّ تَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَۙ Open ayah 37:125 in the Quran reader

کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور بہترین خالق کو چھوڑتے ہو !

آیت 125{ اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّتَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَ } ”کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور بہترین خالق کو چھوڑتے ہو !“
Ayah 37:126

اللّٰهَ رَبَّكُمْ وَ رَبَّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 37:126 in the Quran reader

یعنی اللہ جو تمہارا رب ہے اور تمہارے پہلے آباء و اَجداد کا بھی رب ہے۔

آیت 126{ اللّٰہَ رَبَّکُمْ وَرَبَّ اٰبَآئِکُمُ الْاَوَّلِیْنَ } ”یعنی اللہ جو تمہارا رب ہے اور تمہارے پہلے آباء و اَجداد کا بھی رب ہے۔“
Ayah 37:127

فَكَذَّبُوْهُ فَاِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:127 in the Quran reader

تو انہوں نے اس کو جھٹلا دیا چناچہ وہ سب (قیامت کے دن) حاضرکر لیے جائیں گے۔

آیت 127{ فَکَذَّبُوْہُ فَاِنَّہُمْ لَمُحْضَرُوْنَ } ”تو انہوں نے اس کو جھٹلا دیا ‘ چناچہ وہ سب قیامت کے دن حاضرکر لیے جائیں گے۔“
Ayah 37:128

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:128 in the Quran reader

سوائے اللہ کے ان بندوں کے جنہیں خالص کرلیا گیا۔

آیت 128{ اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ } ”سوائے اللہ کے ان بندوں کے جنہیں خالص کرلیا گیا۔“
Ayah 37:129

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:129 in the Quran reader

اور اسی (کے طریقے) پر ہم نے باقی رکھا بعد میں آنے والوں میں سے بھی (کچھ لوگوں کو)۔

آیت 129{ وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْاٰخِرِیْنَ } ”اور اسی کے طریقے پر ہم نے باقی رکھا بعد میں آنے والوں میں سے بھی کچھ لوگوں کو۔“ یعنی یہ تمام انبیاء و رسل ایک ہی ملت کے افراد تھے اور اسی ملت اور اسی طریقے کا تسلسل ہے جو ہدایت کی صورت میں نسل انسانی میں چلا آ رہا ہے۔ چناچہ یہی بات سورة الانبیاء کی آیت 92 اور سورة المومنون کی آیت 52 میں اس طرح بیان ہوئی ہیـ: { وَاِنَّ ہٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً } ”اور یقینا یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے۔“
Ayah 37:130

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلْ یَاسِیْنَ Open ayah 37:130 in the Quran reader

سلام ہو الیاس ؑ پر۔

آیت 130{ سَلٰمٌ عَلٰٓی اِلْ یَاسِیْنَ } ”سلام ہو الیاس علیہ السلام پر۔“
Ayah 37:131

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:131 in the Quran reader

یقینا ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں محسنین کو

آیت 131{ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ } ”یقینا ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں محسنین کو۔“
Ayah 37:132

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:132 in the Quran reader

یقینا وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا

آیت 132{ اِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ } ”یقینا وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔“
Ayah 37:133

وَ اِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:133 in the Quran reader

اور یقینا لوط ؑ بھی رسولوں میں سے تھا

آیت 133{ وَاِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ } ”اور یقینا لوط علیہ السلام بھی رسولوں میں سے تھا۔
Ayah 37:134

اِذْ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 37:134 in the Quran reader

جب ہم نے نجات دی اس کو اور اس کے گھر والوں کو سب کو۔

آیت 134{ اِذْ نَجَّیْنٰہُ وَاَہْلَہٗٓ اَجْمَعِیْنَ } ”جب ہم نے نجات دی اس کو اور اس کے گھر والوں کو ‘ سب کو۔“ اگرچہ تورات کے مطابق آپ علیہ السلام صرف اپنی دو بیٹیوں کو اپنے ساتھ لے کر نکلے تھے ‘ یعنی ان کے علاوہ اس قوم میں کوئی اور اہل ایمان نہیں تھے ‘ لیکنیہاں پراَہْلَہٗٓ اَجْمَعِیْنَ سب گھرو الوں کو کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ علیہ السلام کا گھرانہ خاصا بڑاہو گا ‘ جس میں سے آپ علیہ السلام کی صرف ایک بیوی پیچھے رہ گئی تھی۔ واللہ اعلم !
Ayah 37:135

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 37:135 in the Quran reader

سوائے ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی

آیت 135{ اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْْغٰبِرِیْنَ } ”سوائے ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی۔“
Ayah 37:136

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:136 in the Quran reader

پھر ہم نے جڑ سے اکھاڑ کر پٹخ دیا باقیوں کو

آیت 136{ ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ } ”پھر ہم نے جڑ سے اکھاڑ کر پٹخ دیا باقیوں کو۔“
Ayah 37:137

وَ اِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْهِمْ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 37:137 in the Quran reader

اور تم لوگ گزرتے ہو ان (کے کھنڈرات) پر صبح کے وقت بھی

آیت 137 ‘ { وَاِنَّکُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْہِمْ مُّصْبِحِیْنَ اور تم لوگ گزرتے ہو ان کے کھنڈرات پر صبح کے وقت بھی
Ayah 37:138

وَ بِالَّیْلِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 37:138 in the Quran reader

اور رات کو بھی تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟

وَبِالَّـیْلِ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ } ”اور رات کو بھی ‘ تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟“ قومِ لوط علیہ السلام کی تباہ ہونے والی بستیوں میں سے سدوم اور عامورہ کے شہر معروف تھے۔ حال ہی میں برطانیہ سے تعلق رکھنے والے آرکیالوجی کے کچھ ماہرین کی تحقیق کے نتیجے میں ان شہروں کے کھنڈرات اور آثار بحر ِمردار ُ کے پانی کے نیچے دریافت ہوئے ہیں ‘ جس سے تورات اور قرآن میں مذکور تفصیلات کی تصدیق ہوگئی ہے۔ اسی طرح جب اللہ کو منظور ہوگا حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی بھی دنیا کی نگاہوں کے سامنے آجائے گی۔ سورة القمر ‘ آیت 15 میں اس حوالے سے اشارہ موجود ہے کہ کسی وقت یہ کشتی ایک بڑی نشانی کے طور پر ظاہر ہوگی۔ ہمارا ایمان ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قرآن کی بیان کردہ تاریخ کے ثبوت ایک ایک کر کے دنیا کے سامنے آتے چلے جائیں گے۔ ان شاء اللہ !
Ayah 37:139

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:139 in the Quran reader

اور یقینا یونس ؑ بھی رسولوں میں سے تھا۔

آیت 139{ وَاِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ } ”اور یقینا یونس علیہ السلام بھی رسولوں میں سے تھا۔“
Ayah 37:140

اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 37:140 in the Quran reader

جب وہ بھاگ کر پہنچا اس کشتی کی طرف جو (پہلے سے ہی) بھری ہوئی تھی

آیت 140{ اِذْ اَبَقَ اِلَی الْفُلْکِ الْمَشْحُوْنِ } ”جب وہ بھاگ کر پہنچا اس کشتی کی طرف جو پہلے سے ہی بھری ہوئی تھی۔“ لفظ ”اَبَقَ“ کسی غلام کا اپنے آقا کے ہاں سے بھاگ جانے پر بولا جاتا ہے۔ اس واقعے کا ذکر سورة یونس اور سورة الانبیاء میں بھی آچکا ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے آپ علیہ السلام کو جھٹلا دیا اور ان کے مسلسل انکار اور کفر کے باعث اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو تباہ کرنے کا فیصلہ فرما لیا۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا قانون اور طریقہ یہی رہا ہے کہ کسی قوم پر عذاب سے قبل رسول کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا جاتا اور رسول کے ہجرت کر جانے کے بعد متعلقہ قوم کو نیست و نابود کردیا جاتا۔ حضرت یونس علیہ السلام سے اس ضمن میں یہ لغزش ہوگئی کہ آپ علیہ السلام حمیت ِحق کے جوش میں غضبناک ہو کر سورۃ الانبیاء کی آیت 87 میں اس حوالے سے { اِذْ ذَّھَبَ مُغَاضِبًا } کے الفاظ آئے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح اجازت ملنے سے قبل ہی اپنی قوم کو چھوڑ کر نکل آئے اور دجلہ یا فرات میں سے کسی دریا کو پار کرنے کے لیے کشتی پر سوار ہوگئے۔
Ayah 37:141

فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ Open ayah 37:141 in the Quran reader

تو انہوں نے قرعہ ڈالا تو وہ ہوگیا دھکیل دیے جانے والوں میں سے

آیت 141{ فَسَاہَمَ فَکَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَ } ”تو انہوں نے قرعہ ڈالا ‘ تو وہ ہوگیا دھکیل دیے جانے والوں میں سے۔“ پچھلی آیت میں مذکور ہے کہ وہ کشتی پہلے ہی گنجائش سے زیادہ بھری ہوئی تھی ‘ چناچہ جب بیچ دریا میں جا کر کشتی ڈولنے لگی اور اس کے ڈوب جانے کا خطرہ پیدا ہوگیا تو بوجھ کم کرنے کی غرض سے کسی ایک مسافر کو دریا میں پھینکنے کے لیے یہ قرعہ اندازی کی گئی ہوگی۔ اس حوالے سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ کشتی والوں نے یہ گمان کیا کہ کسی کا کوئی بھاگا ہوا غلام کشتی میں سوار ہے جس کی وجہ سے یہ ڈوبنے لگی ہے۔ چناچہ اس مفرور غلام کا پتا لگانے کے لیے قرعہ اندازی کی گئی۔ بہرحال قرعہ اندازی میں حضرت یونس علیہ السلام کا نام نکلا اور آپ علیہ السلام کو دریا میں پھینک دیا گیا۔
Ayah 37:142

فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ Open ayah 37:142 in the Quran reader

تو اس کو نگل لیا مچھلی نے اور وہ ملامت زدہ تھا

آیت 142{ فَالْتَقَمَہُ الْحُوْتُ وَہُوَ مُلِیْمٌ } ”تو اس کو نگل لیا مچھلی نے اور وہ ملامت زدہ تھا۔“ یہ کوئی بہت بڑی وہیل مچھلی ہوگی۔ آج تو ہم مچھلیوں کی بہت سی ایسی اقسام کو بخوبی جانتے ہیں جو بڑی آسانی سے ایک ہی لقمے میں انسان کو نگل سکتی ہیں۔ وَہُوَ مُلِیْمٌ کے الفاظ میں ناراضگی اور خفگی کا انداز پایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے اللہ کے ہاں ع ”جن کے رتبے ہیں سوا ‘ ان کی سوا مشکل ہے“ کے مصداق کسی بہت بڑی شخصیت کی چھوٹی سی غلطی پر بھی بہت سخت گرفت ہوتی ہے۔
Ayah 37:143

فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ Open ayah 37:143 in the Quran reader

تو اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا۔

آیت 143{ فَلَوْلَآ اَنَّہٗ کَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَ } ”تو اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا۔“ سورة الانبیاء کی آیت 87 میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مچھلی کے پیٹ میں نہ صرف زندہ رہے بلکہ ان الفاظ سے تسبیح بھی کرتے رہے کہ : { لَآ اِلٰــہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَکَق اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ } ”تیرے سوا کوئی معبود نہیں ‘ تو پاک ہے ‘ اور یقینا میں ہی ظالموں میں سے ہوں۔“
Ayah 37:144

لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ Open ayah 37:144 in the Quran reader

تو اس کے پیٹ ہی میں رہتا اس دن تک کہ جس میں لوگ اٹھائے جائیں گے

آیت 144{ لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِہٖٓ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ } ”تو اس کے پیٹ ہی میں رہتا اس دن تک کہ جس میں لوگ اٹھائے جائیں گے۔“ یعنی اگر آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی تسبیح آیت ِکریمہ کا ورد نہ کرتے تو قیامت تک اس مچھلی کے پیٹ ہی میں رہتے اُس کا پیٹ ہی آپ علیہ السلام کے لیے قبر بنا رہتا اور قیامت کے دن وہیں سے آپ علیہ السلام اٹھائے جاتے۔
Ayah 37:145

فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ Open ayah 37:145 in the Quran reader

تو ہم نے ڈال دیا اسے ایک چٹیل میدان میں اور وہ خستہ حالت میں تھا

آیت 145{ فَنَـبَذْنٰـہُ بِالْعَرَآئِ وَہُوَ سَقِیْمٌ} ”تو ہم نے ڈال دیا اسے ایک چٹیل میدان میں اور وہ خستہ حالت میں تھا۔“ اس تسبیح اور استغفار آیت کریمہ کے ورد کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو اس مصیبت سے نجات دی اور اللہ کے حکم سے مچھلی نے آپ علیہ السلام کو ساحل پر اگل دیا۔ لیکن مچھلی کے معدے میں رہنے اور اس کے معدے میں موجود انہضامی رطوبتوں digestive juices کے اثرات کے باعث آپ علیہ السلام کی حالت بہت خستہ سقیم ہوچکی تھی۔
Ayah 37:146

وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ Open ayah 37:146 in the Quran reader

تو ہم نے اس کے اوپر یقطین کا ایک پودا اگا دیا۔

آیت 146{ وَاَنْبَتْنَا عَلَیْہِ شَجَرَۃً مِّنْ یَّقْطِیْنٍ } ”تو ہم نے اس کے اوپر یقطین کا ایک پودا اگا دیا۔“ عربی میں ”یقطین“ ایسے پودے کو کہا جاتا ہے جو کسی تنے پر کھڑا نہیں ہوتا ‘ بلکہ بیل کی شکل میں پھیلتا ہے ‘ جیسے کدو ‘ تربوز ‘ ککڑی وغیرہ۔ ”یقطین“ کے بارے میں ہمارے ایک دوست جناب احمد الدین مارہروی مرحوم کی تحقیق ماہنامہ میثاق فروری 1980 ء میں شائع ہوئی تھی۔٭ موصوف کا تعلق کراچی سے تھا ‘ محکمہ تعلیم میں ملازم تھے اور اسی ملازمت کے دوران وہ مکران میں بھی رہے۔ میثاق کے مستقل قاری تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے ‘ بہت نیک انسان تھے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ مکران کا ساحل طبعی طور پر ساحل ِعراق سے مشابہ ہے۔ وہاں پر انہوں نے ایک بیل نما پودا دیکھا جسے مقامی زبان میں ”اَگین“ کہا جاتا ہے۔ اس پودے کے پتے بہت بڑے بڑے ہوتے ہیں۔ اس پر گول کدو ّکی شکل کا پھل لگتا ہے جو جسامت میں تربوز کے برابر اور مزے میں ککڑی جیسا ہوتا ہے۔ اس میں شیرینی بھی ہوتی ہے اور پانی کا جزو تو بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی بیل زمین پر دور دور تک پھیلی ہوتی ہے جس کے اندر بیک وقت دوچار آدمی اپنے آپ کو بخوبی چھپا سکتے ہیں۔ پتے نہایت چکنے اور ملائم ہوتے ہیں جو نیچے نرم و نازک گدوں اور اوپر اوڑھنے کے لیے ریشمی چادر کا کام دیتے ہیں۔ تری اور خنکی اتنی ہوتی ہے کہ آفتاب کی کرنیں اندر چھپے ہوئے انسان کو تکلیف نہیں دے سکتیں۔ اس کے پتوں میں قدرتی طور پر کوئی اینٹی بیکٹیریا مادہ بھی پایا جاتا ہے ‘ جس کی وجہ سے حشرات الارض حتیٰ کہ سانپ اور بچھو بھی اس سے دور رہتے ہیں۔ جناب احمد الدین مارہروی مرحوم کا خیال تھا کہ یہ وہی پودا ہے جس کا ذکر قرآن میں ”یقطین“ کے نام سے ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ اہل مکران کی زبان مسخ شدہ فارسی ہے ‘ لیکن اس میں دوسری زبانوں بالخصوص عربی کے الفاظ بھی ملتے ہیں۔ چناچہ لسانی اور صوتی اعتبار سے یہ بات قرین قیاس ہے کہ یقطین کی ”ق“ مقامی زبان کی ”گ“ سے بدل گئی ہو جیسے سعودی عرب میں بھی آج کل عوام ”قُمْ“ کو ”گُم“ ہی بولتے ہیں ‘ ”ی“ الف سے بدل گئی ہو اور ”ط“ کثرتِ استعمال سے حذف ہوگیا ہو۔ اس طرح ہوتے ہوتے اس لفظ نے ”اَگین“ کی صورت اختیار کرلی ہو۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے اس بیل کی صورت میں حضرت یونس علیہ السلام کے لیے anti septic ماحول ‘ سایہ ‘ غذائیت اور مٹھاس سے بھر پور پھل کی صورت میں تینوں بنیادی ضرورتیں پوری کردیں۔
Ayah 37:147

وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ Open ayah 37:147 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کو بھیج دیا ایک لاکھ یا اس سے زیادہ لوگوں کی طرف۔

آیت 147{ وَاَرْسَلْنٰـہُ اِلٰی مِائَۃِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَ } ”پھر ہم نے اس کو بھیج دیا ایک لاکھ یا اس سے زیادہ لوگوں کی طرف۔“ یعنی صحت یاب ہوجانے کے بعد آپ علیہ السلام کو دوبارہ رسالت کی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔ قرآن میں اس حوالے سے کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ دوبارہ آپ علیہ السلام کو اپنی ہی قوم کی طرف بھیجا گیا تھا یا کسی اور قوم کی طرف۔ لیکن گمان غالب یہی ہے کہ آپ علیہ السلام دوبارہ اپنی ہی قوم میں مبعوث ہوئے اور اس آیت میں آپ علیہ السلام ہی کی قوم کی تعداد کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ بہر حال سورة یونس میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ آپ علیہ السلام کی قوم کی توبہ قبول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ٹال دیا تھا۔ سورة یونس کی آیت 98 میں یہ وضاحت بھی ملتی ہے کہ یہ استثناء صرف قوم یونس ہی کو حاصل ہے۔ یعنی پوری انسانی تاریخ میں واحد مثال ہے کہ عذاب کے آثار ظاہر ہوجانے کے بعد آپ علیہ السلام کی قوم کی توبہ قبول کرلی گئی۔
Ayah 37:148

فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ Open ayah 37:148 in the Quran reader

تو وہ ایمان لے آئے اور ہم نے انہیں متاع دنیوی عطا کردی ایک خاص وقت تک۔

آیت 148{ فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰہُمْ اِلٰی حِیْنٍ } ”تو وہ ایمان لے آئے اور ہم نے انہیں متاع دنیوی عطا کردی ایک خاص وقت تک۔“ یعنی ان کی توبہ اور ایمان کے بعد انہیں بقا کی ایک نئی مہلت fresh lease of existance دے دی گئی۔
Ayah 37:149

فَاسْتَفْتِهِمْ اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَ لَهُمُ الْبَنُوْنَۙ Open ayah 37:149 in the Quran reader

تو (اے نبی ﷺ !) آپ ان سے پوچھیں کیا تمہارے ربّ کے لیے تو بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے !

آیت 149{ فَاسْتَفْتِہِمْ اَلِرَبِّکَ الْبَنَاتُ وَلَہُمُ الْبَنُوْنَ } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ ان سے پوچھیں ‘ کیا تمہارے ربّ کے لیے تو بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے !“ یہاں مشرکین ِمکہ ّکے اس عقیدے پر جرح کی جا رہی ہے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ یعنی یہ لوگ خود اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے ہیں اور بیٹیوں کو ناپسند کرتے ہیں لیکن جب یہ لوگ اللہ سے اولاد منسوب کرتے ہیں تو اس کے لیے بیٹیوں کا انتخاب کرتے ہیں۔
Ayah 37:150

اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓئِكَةَ اِنَاثًا وَّ هُمْ شٰهِدُوْنَ Open ayah 37:150 in the Quran reader

کیا واقعی ہم نے فرشتوں کو مونث بنایا تھا اور وہ اس کے گواہ ہیں ؟

آیت 150{ اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓئِکَۃَ اِنَاثًا وَّہُمْ شٰہِدُوْنَ } ”کیا واقعی ہم نے فرشتوں کو مونث بنایا تھا اور وہ اس کے گواہ ہیں ؟“ کیا یہ آنکھوں دیکھی بات کہہ رہے ہیں ؟
Ayah 37:151

اَلَاۤ اِنَّهُمْ مِّنْ اِفْكِهِمْ لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:151 in the Quran reader

خبردار ! یقینا یہ لوگ جھوٹ گھڑ کر کہتے ہیں

آیت 151 ‘ { اَلَآ اِنَّہُمْ مِّنْ اِفْکِہِمْ لَیَقُوْلُوْنَ ] ”خبردار ! یقینا یہ لوگ جھوٹ گھڑ کر کہتے ہیں
Ayah 37:152

وَلَدَ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 37:152 in the Quran reader

کہ اللہ کے اولاد ہوئی اور یقینا یہ جھوٹے ہیں

وَلَدَ اللّٰہُ وَاِنَّہُمْ لَکٰذِبُوْنَ } ‘ کہ اللہ کے اولاد ہوئی اور یقینا یہ جھوٹے ہیں۔“
Ayah 37:153

اَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِیْنَؕ Open ayah 37:153 in the Quran reader

کیا اس نے بیٹیاں پسند کرلیں بیٹوں کو چھوڑ کر !

آیت 153{ اَصْطَفَی الْبَنَاتِ عَلَی الْبَنِیْنَ } ”کیا اس نے بیٹیاں پسند کرلیں بیٹوں کو چھوڑ کر !“
Ayah 37:154

مَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 37:154 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوگیا ہے تم کیسا فیصلہ کرتے ہو ؟

آیت 154{ مَا لَکُمْقف کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ } ”تمہیں کیا ہوگیا ہے ‘ تم کیسا فیصلہ کرتے ہو ؟“
Ayah 37:155

اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 37:155 in the Quran reader

کیا تم ہوش سے کام نہیں لیتے ؟

آیت 155{ اَفَلَا تَذَکَّرُوْنَ } ”کیا تم ہوش سے کام نہیں لیتے ؟“
Ayah 37:156

اَمْ لَكُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 37:156 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس کوئی واضح سند موجود ہے ؟

آیت 156{ اَمْ لَکُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِیْنٌ} ”کیا تمہارے پاس کوئی واضح سند موجود ہے ؟“
Ayah 37:157

فَاْتُوْا بِكِتٰبِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 37:157 in the Quran reader

تو لائو تم اپنی کتاب اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو !

آیت 157{ فَاْتُوْا بِکِتٰبِکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ } ”تو لائو تم اپنی کتاب اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو !“
Ayah 37:158

وَ جَعَلُوْا بَیْنَهٗ وَ بَیْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:158 in the Quran reader

اور انہوں نے تو اللہ کے اور ِجنوں کے درمیان بھی نسبی رشتہ قائم کردیا ہے۔ حالانکہ جنوں کو خوب معلوم ہے کہ وہ تو گرفتارکرکے حاضر کیے جائیں گے۔

آیت 158{ وَجَعَلُوْا بَیْنَہٗ وَبَیْنَ الْجِنَّۃِ نَسَبًا } ”اور انہوں نے تو اللہ کے اور ِجنوں کے درمیان بھی نسبی رشتہ قائم کردیا ہے۔“ { وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّۃُ اِنَّہُمْ لَمُحْضَرُوْنَ } ”حالانکہ جنوں کو خوب معلوم ہے کہ وہ تو گرفتارکرکے حاضر کیے جائیں گے۔“
Ayah 37:159

سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 37:159 in the Quran reader

اللہ پاک ہے ان باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں

آیت 159{ سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یَصِفُوْنَ } ”اللہ پاک ہے ان باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔“
Ayah 37:160

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:160 in the Quran reader

سوائے اللہ کے ان بندوں کے جو خالص کرلیے گئے ہیں۔

آیت 160{ اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ } ”سوائے اللہ کے ان بندوں کے جو خالص کرلیے گئے ہیں۔“ اللہ کے وہ بندے جنہیں اللہ نے ُ چن لیا ہے ‘ چاہے وہ جنات میں سے ہوں یا انسانوں میں سے ‘ وہ قیامت کے دن کی پکڑ سے محفوظ و مامون رہیں گے۔