Ayah 37:81آیت 81{ اِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ } ”یقینا وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔“
Ayah 37:82آیت 82{ ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ } ”پھر ہم نے غرق کردیا باقی سب کو۔“
Ayah 37:83آیت 83{ وَاِنَّ مِنْ شِیْعَتِہٖ لَاِبْرٰہِیْمَ } ”اور اسی کی جماعت میں سے ابراہیم علیہ السلام بھی تھا۔“
یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام اسی دین حق اور نظریہ توحید کے پیروکار تھے جس پر حضرت نوح علیہ السلام کاربند تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تعلق حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے حضرت سام کی نسل سے تھا۔ اسی طرح قوم عاد اور قوم ثمود بھی سامی النسل تھیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش شہر اُر میں ہوئی جو موجودہ عراق کے جنوبی علاقے میں اپنے وقت کا مشہور شہر تھا۔ اس شہر کے کھنڈرات دریافت ہوچکے ہیں۔
Ayah 37:84آیت 84{ اِذْ جَآئَ رَبَّہٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ } ”جب وہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوا قلب ِسلیم کے ساتھ۔“
توحید کی معرفت کے حوالے سے انسان کی فطر تِ سلیمہ اور عقل سلیم کا ذکر قرآن حکیم کے اس مطالعے کے دوران اس سے پہلے بھی متعدد بار ہوچکا ہے۔ فطرت کا تعلق چونکہ روح سے ہے اور روح کا مسکن قلب انسانی ہے اس لیے یوں سمجھ لیں کہ فطرتِ سلیمہ اور قلب سلیم انسان کی ایک ہی کیفیت کا نام ہے۔ یعنی انسانی دل کی وہ کیفیت جس میں اس کی روح اور فطرت اپنی اصلی حالت میں ہو ‘ اس کے اصل خدوخال صحیح سلامت ہوں ‘ اس پر غفلت اور مادیت کے پردے نہ پڑچکے ہوں اور وہ مسخ perverted نہ ہوچکی ہو۔ انسانی فطرت کی اس کیفیت کے لیے صوفیاء ”سیر الی اللہ“ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔
ایک انسان ایسے قلب سلیم کے ساتھ جب اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے تو عقل سلیم کی روشنی میں اسے توحید کی معرفت حاصل ہوجاتی ہے۔ پھر وہ اس سے آگے بڑھ کر ”معاد“ یعنی آخرت کے فلسفے کی تہہ تک بھی پہنچ جاتا ہے۔ اس حوالے سے میں قبل ازیں متعدد بار سورة الفاتحہ کا حوالہ بھی دے چکا ہوں کہ سورة الفاتحہ ایک ایسے ہی انسان کی فطرت کی پکار ہے جو اللہ اور توحید کی معرفت بھی حاصل کرچکا ہے ‘ آخرت کی اہمیت و ضرورت کا بھی قائل ہوچکا ہے اور اس نتیجے پر بھی پہنچ چکا ہے کہ ”اللہ کی بندگی“ ہی اصل طریقہ زندگی ہے ‘ مگر اسے یہ نہیں معلوم کہ اللہ کی بندگی کیسے کی جائے۔ حضور ﷺ کی بعثت سے پہلے بہت سے ایسے ”موحدین“ مکہ میں موجود تھے۔ مثلاً حضرت عمر کے بہنوئی حضرت سعید رض کے والد زید ایک ایسے ہی موحد تھے جو کعبے کے پردوں سے لپٹ کر دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں صرف تیری بندگی کرنا چاہتا ہوں ‘ مگر میں نہیں جانتا کہ تیری بندگی کیسے کروں۔
سورة الفاتحہ کے نظم پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ انسانی فطرتِ سلیمہ ہی کی پکار ہے جس کو قرآن نے { اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ } کے الفاظ عطا کیے ہیں۔ یعنی فطرتِ سلیمہ کا حامل ایک انسان اپنی عقل سلیم کی مدد سے { اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ } تک پہنچ گیا۔ یعنی اس نے اللہ کو پہچان لیا ہے اور اس کے لیے شکر و ثنا کے جذبات کی کو نپلیں بھی اس کے دل میں پھوٹ پڑی ہیں۔ اس نے اپنے اللہ اور اپنے رب کو ایک { الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ } ذات کے طور پر بھی پہچان لیا ہے ‘ اسے { مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ } کا عرفان بھی حاصل ہوگیا ہے۔ گویا اس کی فطرتِ سلیمہ نے نہ صرف اسے آخرت کے احتساب کی ضرورت اور منطق بھی سمجھا دی ہے ‘ بلکہ یہ لطیف نکتہ بھی اس کے دل میں بٹھا دیا ہے کہ وہی اللہ جو ربّ العالمین ہے ‘ جس کی رحمت اور مہربانی سے اس کائنات کی ایک ایک چیز قائم ہے ‘ وہی اللہ احتساب اور بدلے کے دن کا مالک بھی ہے۔ اس مقام پر پہنچ کر گویا اس کی زبان بےاختیار { اِیَّاکَ نَعْبُدُ َواِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ } کا اقرار کرتی ہے ‘ مگر اس سے آگے اسے کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ اس لیے کہ اس کی فطرتِ سلیمہ اس راستے پر اسے صرف اسی مقام تک راہنمائی فراہم کرسکتی تھی اور اس کی عقل سلیم کی پرواز بس یہیں تک تھی۔ اس سے آگے نور وحی کی راہنمائی درکار ہے۔ چناچہ اس کے منہ میں یہ دعائیہ الفاظ ڈال دیے گئے : { اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ } کہ اے اللہ ! اے ربّ العالمین ! اب تو خودہماری دستگیری فرما ! ہمیں اپنی بندگی کی ہدایت بھی دے اور اس رستے پر چلنے کے لیے مدد اور توفیق بھی مرحمت فرما ‘ تاکہ ہم تیری بندگی کا حق ادا کرسکیں۔ اس دعا کے جواب میں پھر قرآن کی صورت میں اسے یہ راہنمائی مہیاکر دی گئی۔
Ayah 37:85آیت 85{ اِذْ قَالَ لِاَبِیْہِ وَقَوْمِہٖ مَاذَا تَعْبُدُوْنَ } ”جب کہ اس نے اپنے والد اور اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ کن چیزوں کو پوجتے ہو !“
Ayah 37:86آیت 86{ اَئِفْکًا اٰلِہَۃً دُوْنَ اللّٰہِ تُرِیْدُوْنَ } ”کیا تم لوگ اللہ کے سوا خود ساختہ معبودوں کو چاہتے ہو !“
”اِفک“ کے معنی ہیں گھڑی ہوئی چیز ‘ جس کی حقیقت کچھ نہ ہو۔ تُرِیْدُوْنکے الفاظ میں ان من گھڑت معبودوں کے لیے ان لوگوں کی چاہت اور محبت کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی تم لوگ ان کے طالب ہو اور وہ تمہارے محبوب و مطلوب ہیں۔ سورة الحج میں ایسے طالب و مطلوب کی حیثیت اور اوقات کی حقیقت ان الفاظ میں بیان فرمائی گئی ہے : { ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ۔ ”کس قدر کمزور ہے طالب بھی اور مطلوب بھی !“
Ayah 37:87آیت 87{ فَمَا ظَنُّکُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ } ”تو تمہارا کیا گمان ہے ربّ العالمین کے بارے میں ؟“
اس ہستی کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار اور مالک ہے ؟“
Ayah 37:88آیت 88{ فَنَظَرَ نَظْرَۃً فِی النُّجُوْمِ } ”پس اس نے ایک نظر ستاروں پر ڈالی۔“
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ستاروں پر نگاہ ڈال کر گویا یہ تاثر دیا کہ وہ ستارہ شناسی کی مدد سے کچھ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
Ayah 37:89آیت 89{ فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ } ”پھر کہا کہ میں تو بیمار ہوں۔“
میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے ‘ یا یہ کہ میں بیمار ہونے والا ہوں۔ مجھے خدشہ ہے کہ مجھ پر بیماری آنے والی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم میں بت پرستی بھی عام تھی اور ستارہ پرستی بھی۔ ان کے ہاں ہندوئوں کے جنم اشٹمی کے میلے کی طرز پر سالانہ ایک جشن منایا جاتا تھا۔ اس موقع پر شہر کے تمام لوگ باہر کھلے میدان میں جا کر کسی ستارے کی پرستش کیا کرتے تھے۔ چناچہ جب جشن کا دن آیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ میری تو طبیعت خراب ہے ‘ میں آپ لوگوں کے ساتھ نہیں جاسکتا۔ اس طرح آپ علیہ السلام پیچھے رہ گئے۔
Ayah 37:90آیت 90{ فَتَوَلَّوْا عَنْہُ مُدْبِرِیْنَ } ”تو وہ اس سے ِپھرگئے پیٹھ پھیرتے ہوئے۔“
یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو چھوڑ کر وہ لوگ اپنی پوجا پاٹ کے لیے چلے گئے۔
Ayah 37:91آیت 91{ فَرَاغَ اِلٰٓی اٰلِہَتِہِمْ فَقَالَ اَلَا تَاْکُلُوْنَ } ”پھر وہ چپکے سے ان کے معبودوں میں جا گھسا اور کہنے لگا کہ تم کھاتے کیوں نہیں ؟“
لوگوں کے چلے جانے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کے مندر میں گھس گئے۔ جشن کے مخصوص موقع کے حوالے سے نذرانوں کے طور پر ُ بتوں کے سامنے لازماً انواع و اقسام کے کھانے سجائے گئے ہوں گے۔ چناچہ یہ منظر دیکھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے سوال کیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ مزے مزے کے کھانے تمہارے سامنے پڑے ہیں مگر آپ لوگ تناول نہیں فرما رہے ؟
Ayah 37:92آیت 92{ مَا لَکُمْ لَا تَنْطِقُوْنَ } ”تمہیں کیا ہوگیا ہے ‘ تم بولتے بھی نہیں ہو !“
Ayah 37:93آیت 93{ فَرَاغَ عَلَیْہِمْ ضَرْبًام بِالْیَمِیْنِ } ”پھر وہ پل پڑا ان پر ضرب لگاتا ہوا داہنے ہاتھ سے۔“
یعنی پھر آپ علیہ السلام نے پوری قوت سے ان پر تیشے وغیرہ کے وار کرنے شروع کردیے۔
Ayah 37:94آیت 94{ فَاَقْبَلُوْٓا اِلَیْہِ یَزِفُّوْنَ } ”تو وہ اس کی طرف آئے ‘ دوڑتے ہوئے۔“
اس واقعہ کے بارے میں کچھ تفصیل سورة الانبیاء کے پانچویں رکوع میں بھی ہم پڑھ چکے ہیں۔ یہاں پر باقی تفصیل چھوڑ دی گئی ہے کہ آپ علیہ السلام نے تمام بتوں کو توڑ پھوڑ کر چورا کردیا ‘ سوائے ایک بڑے بت کے۔ صورتِ حال انتہائی نازک اور تشویشناک تھی اور اس غیر معمولی واقعہ کے بعد شہر میں تو گویا قیامت برپا ہوگئی ہوگی۔ لیکن جب قوم کے بہت سے لوگ غیظ و غضب اور اشتعال کی کیفیت میں بھاگم بھاگ آپ علیہ السلام تک پہنچے تو آپ علیہ السلام نے نہ صرف بلا خوف ان کا سامنا کیا بلکہ ان کے ساتھ مدلل مناظرہ بھی کیا :
Ayah 37:95آیت 95{ قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ } ”اس نے کہا : کیا تم انہیں پوجتے ہو جنہیں تم خود تراشتے ہو !“
Ayah 37:96آیت 96{ وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ } ”جبکہ اللہ نے پیدا کیا ہے تمہیں بھی اور جو کچھ تم بناتے ہو اس کو بھی۔“
یہ آیت حکمت اور فلسفہ قرآنی کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔ اس حوالے سے اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ انسان ”کا سب ِعمل“ تو ہے مگر ”خالق عمل“ نہیں ہے۔ مثلاً میں ارادہ کرتا ہوں کہ اپنے سامنے پڑا ہوا پیالہ اٹھائوں۔ اس میں ارادے کی حد تک تو مجھے اختیار ہے مگر اللہ کے اذن کے بغیر اس پیالے کو اٹھانا میرے بس کی بات نہیں ہے۔ اس میں بہت سے دوسرے عوامل بھی کارفرما ہوسکتے ہیں۔ میرے اٹھانے سے پہلے اس پیالے پر کوئی دوسری قوت بھی اثر انداز ہوسکتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کسی وجہ سے میرا دماغ میرے ارادے یا فیصلے کو میرے ہاتھوں تک پہنچا بھی نہ پائے۔ بہر حال انسان کا عمل دخل اس حوالے سے صرف ارادے تک محدود ہے اور اسی ارادے کے مطابق ہی وہ سزا یا جزا کا مستحق قرار پاتا ہے۔ مگر یہ بات طے ہے کہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی واقعہ یا کوئی عمل وقوع پذیر نہیں ہوسکتا۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ کے الفاظ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے ان لوگوں کو خاص طور پر بتایا گیا کہ تم نے ان بتوں کو اپنے ہاتھوں سے تراشا ہے نا ! لیکن تم لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جو کچھ تم اپنے ہاتھوں سے کرتے ہو ‘ اور تمہارے جو بھی اعمال و اَفعال ہیں ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے۔
Ayah 37:97آیت 97{ قَالُوا ابْنُوْا لَہٗ بُنْیَانًا فَاَلْقُوْہُ فِی الْْجَحِیْمِ } ”انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ایک عمارت بنائو ‘ پھر اس کو شعلے مارتی ہوئی آگ میں جھونک دو۔“
Ayah 37:98آیت 98{ فَاَرَادُوْا بِہٖ کَیْدًا فَجَعَلْنٰہُمُ الْاَسْفَلِیْنَ } ”تو اس طرح انہوں نے اس کے ساتھ ایک دائو آزمایا ‘ لیکن ہم نے ان کو ہی نیچا دکھادیا۔“
انہوں نے ابراہیم علیہ السلام کے خلاف کون سا دائو آزمایا تھا ‘ اس کی وضاحت قبل ازیں سورة الانبیاء کی آیت 70 کی تشریح کے ضمن میں ہوچکی ہے۔ دراصل وہ لوگ آپ علیہ السلام کو آگ میں جلانا نہیں چاہتے تھے بلکہ محض ڈرانا چاہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ جب آپ علیہ السلام دیکھیں گے کہ ان کے لیے آگ کا اتنا بڑا الائو دہکایا جا رہا ہے تو سارا نشہ ہرن ہوجائے گا ‘ اور پھر جب انہیں آگ کے دہانے پر لاکر کھڑا کیا جائے گا تو ہوش ٹھکانے آجائیں گے اور آپ علیہ السلام تائب ہو کر اپنے عقائد سے رجوع کرلیں گے۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح یہ ”فتنہ“ دب جائے گا۔ لیکن یہاں تو معاملہ بالکل ہی الٹ ہوگیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو الائو کے دہانے پر لایا گیا تو بقول اقبالؔ: ؎
بے خطر کود پڑا آتش ِنمرود میں عشق عقل ہے محو ِتماشائے لب ِبام ابھی !
بہر حال جب ابراہیم علیہ السلام نے بھرپور استقامت کا مظاہرہ کیا تو پھر اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لیے آگ کو گل و گلزار بنا دیا۔ اس طرح وہ لوگ اپنے ارادوں اور منصوبوں سمیت خائب و خاسر ہوگئے۔
Ayah 37:99آیت 99{ وَقَالَ اِنِّیْ ذَاہِبٌ اِلٰی رَبِّیْ سَیَہْدِیْنِ } ”اور اب اس نے کہا کہ میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں ‘ وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا۔“
یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت کی طرف اشارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ جب کوئی قوم اپنے نبی یا رسول کے قتل پر آمادہ ہوجائے تو پھر وہ نبی یا رسول مزید اس قوم کے درمیان نہیں رہتے۔ آپ علیہ السلام کی قوم نے تو آپ علیہ السلام کے قتل کی صرف منصوبہ بندی ہی نہیں کی تھی بلکہ آپ علیہ السلام کو بالفعل آگ میں ڈال دیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ اللہ نے آپ علیہ السلام کو معجزانہ طور پر بچا لیا۔ اسی طرح یہودیوں نے بھی اپنے طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کو سولی پر چڑھا دیا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی تدبیر کو ناکام بنایا اور آپ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اسی طرح مشرکین مکہ نے بھی جب محمد رسول اللہ ﷺ کے قتل کا ارادہ کیا اور آپ ﷺ کو قتل کرنے کے لیے جمع ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے اپنے پیغمبر ﷺ کو مدینہ منورہ پہنچا دیا۔
چناچہ اللہ تعالیٰ کے اس قانون کے تحت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عراق سے ہجرت کا ارادہ فرمایا۔ اس وقت تک آپ علیہ السلام کو شاید ہجرت کی منزل کے بارے میں معلوم نہیں تھا ‘ اس لیے آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ میرا پروردگار خود میری راہنمائی فرمائے گا کہ مجھے کدھر جانا ہے۔ چناچہ آپ علیہ السلام نے عراق سے فلسطین کی طرف ہجرت کی ‘ جس کے لیے آپ علیہ السلام کو بہت لمبا راستہ اختیار کرنا پڑا۔ عراق ‘ شام اور فلسطین کے درمیان شرق اردن کا پورا علاقہ لق و دق صحرا پر مشتمل ہے ‘ جسے عبور کرنا بالکل ناممکن تھا۔ چناچہ آپ علیہ السلام دریائے فرات کے ساتھ ساتھ سفر کرتے ہوئے اوپر شام کے شمالی علاقے ”باران“ پہنچے اور وہاں سے نیچے فلسطین کے علاقے میں داخل ہوئے۔
Ayah 37:100آیت 100{ رَبِّ ہَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ } ”آپ علیہ السلام نے دعا کی : پروردگار ! مجھے ایک صالح بیٹا عطا فرما۔“
Ayah 37:101آیت 101{ فَـبَشَّرْنٰــہُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ } ”تو ہم نے اسے بشارت دی ایک حلیم الطبع لڑکے کی۔“
اس سے حضرت اسماعیل علیہ السلام مراد ہیں۔ -۔ ”حلیم“ اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے اور اس حوالے سے قرآن میں یہ لفظ بار بار آیا ہے۔ ویسے تو اللہ کی صفات کا کچھ نہ کچھ عکس انسانوں کے اندر بھی پایا جاتا ہے لیکن ”حلم“ اللہ کی وہ شان ہے جو انسانوں میں زیادہ عام نہیں ہے۔ لفظ ”حلیم“ غیر اللہ کے لیے قرآن میں صرف تین مرتبہ آیا ہے۔ دو مرتبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے التوبہ : 114 اور ہود : 75 اور ایک مرتبہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے آیت زیر مطالعہ میں۔ یہاں ایک قابل توجہ نکتہ یہ بھی ہے کہ اس آیت میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کو غُلٰمٍ حَلِیْمٍ جبکہ حضرت اسحاق علیہ السلام کو سورة الحجر کی آیت 53 میں غُلٰمٍ عَلِیْمٍ کے لقب سے نوازا گیا ہے۔ یعنی ایک بھائی علم میں زیادہ تھے اور ان ہی سے آگے بنی اسرائیل میں نبوت کا سلسلہ چلا اور دوسرے بھائی یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام ”حلم“ میں زیادہ تھے اور ان کی اولاد میں نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی بعثت ہوئی۔
Ayah 37:102آیت 102{ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعْیَ } ”پھر جب وہ پہنچا اس کے ساتھ بھاگ دوڑ کرنے کی عمر کو“
{ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْٓ اَرٰی فِی الْْمَنَامِ اَنِّیْٓ اَذْبَحُکَ } ”اس نے کہا : اے میرے بیٹے ! میں دیکھ رہا ہوں خواب میں کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں“
اَرٰی فعل مضارع ہے جس میں استمرار کے معنی بھی پائے جاتے ہیں ‘ یعنی میں بار بار خواب میں یہ منظر دیکھ رہا ہوں۔ بعض روایات میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مسلسل تین راتیں یہ خواب دیکھا تھا۔
{ فَانْظُرْ مَاذَا تَرٰی } ”تو دیکھو ! تمہاری کیا رائے ہے ؟“
{ قَالَ یٰٓاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ } ”اس نے کہا : ابا جان ! آپ کر گزرئیے جس کا آپ کو حکم ہو رہا ہے۔“
یہ جواب حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ”حلم“ کی عکاسی کرتا ہے اور آپ علیہ السلام کی اسی طبیعت کی وجہ سے آپ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ”حلیم“ کا خطاب ملا ہے۔ آپ علیہ السلام جانتے تھے کہ میرے والد نبی ہیں اور ان کا خواب کسی شیطانی وسوسے کا نتیجہ نہیں بلکہ وحی کا حصہ ہے۔ اس لیے آپ علیہ السلام نے یہ نہیں کہا کہ یہ تو خواب ہے اور خواب کا کیا ہے ‘ یا یہ کہ آپ علیہ السلام کوئی قدم اٹھانے سے پہلے اچھی طرح سوچ سمجھ لیجیے ‘ بلکہ آپ علیہ السلام نے بغیر کسی تردد اور حیل و حجت کے اس ”حکم“ کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہوئے اپنے والد محترم کو اس پر عمل کرنے کا مشورہ دیا ‘ اور آپ علیہ السلام کو یقین دلایا کہ :
{ سَتَجِدُنِیْٓ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ ”اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔“
یہاں پر ایک بات یہ بھی نوٹ کر لیجیے کہ یہودیوں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بجائے حضرت اسحاق علیہ السلام کو ”ذبیح اللہ“ ثابت کرنے کی بہت کوشش کی ہے۔ اس کے لیے انہوں نے تورات میں جا بجا تحریف بھی کی ہے اور مختلف جگہوں کے نام بھی بدل ڈالے ہیں۔ مثلاً ”مروہ“ کی قربان گاہ کے مقابلے میں انہوں نے فلسطین میں ایک جگہ کا نام ”موریاہ“ رکھ دیا اور وہیں پر ایک وادی کو ”وادیٔ مکا“ کے نام سے موسوم کردیا ‘ تاکہ کسی طرح یہ ثابت کیا جاسکے کہ ”قربانی“ کا یہ واقعہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ وادی مکہ میں پیش نہیں آیا تھا بلکہ فلسطین میں حضرت اسحاق علیہ السلام کے ساتھ پیش آیا تھا۔ ان کا یہ پروپیگنڈا اس قدرموثر ثابت ہوا کہ ہمارے ہاں کے کئی مفسرین بھی اس مغالطے میں مبتلا ہوگئے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نہیں بلکہ حضرت اسحاق علیہ السلام تھے۔ مثلاً ابن جریر طبری ایک بہت بڑے مفسر ہونے کے باوجود ان اسرائیلی روایات سے متاثر ہیں۔ چناچہ مولانا حمید الدین فراہی رح نے اس موضوع پر ”الرای الصحیح فی من ھو الذبیح“ کے عنوان سے ایک معرکۃ الآرا کتاب لکھی اور ّمدلل انداز میں ثابت کیا کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی تھے۔ مولانا فراہی رح کی اصل کتاب عربی میں ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے اس کا اردو ترجمہ کیا تھا ‘ جسے ”ذبیح کون ؟“ کے نام سے مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور کے تحت شائع کیا گیا ‘ مگر کتاب اس قدر دقیق ہے کہ ترجمے کے باوجود بھی اسے زیادہ پڑھنے والے دستیاب نہ ہو سکے۔
Ayah 37:103آیت 103{ فَلَمَّآ اَسْلَمَا وَتَلَّہٗ لِلْجَبِیْنِ } ”پھر جب دونوں نے فرمانبرداری کی روش اختیار کرلی اور ابراہیم نے اس کو پیشانی کے َبل لٹا دیا۔“
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے پیشانی کے بل لٹایا تاکہ چہرہ سامنے نہ ہو اور اسی حالت میں گدی ّپر چھری چلانے کی کوشش کی۔
Ayah 37:104آیت 104{ وَنَادَیْنٰہُ اَنْ یّٰٓاِبْرٰہِیْمُ } ”اور ہم نے اسے پکارا کہ اے ابراہیم علیہ السلام !“
Ayah 37:105آیت 105{ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّئْ یَاج اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ } ”تم نے خواب سچ کر دکھایا ‘ یقینا ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں محسنین کو۔“
Ayah 37:106آیت 106{ اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الْبَلٰٓؤُاالْمُبِیْنُ } ”یقینا یہ بہت بڑی آزمائش تھی۔“
گویا ممتحن خود کہہ رہا ہے کہ میں نے جو امتحان لیا وہ بہت سخت تھا۔ یہ تحسین اور شاباش کی انتہا ہے۔ میں نے اس موضوع پر ”حج اور عید الاضحی اور ان کی اصل روح : قرآن حکیم کے آئینے میں“ کے عنوان سے ایک تحریر لکھی تھی جو میرے کتابچے ”عید الاضحی اور فلسفہ قربانی“ میں شامل ہے۔
Ayah 37:107آیت 107{ وَفَدَیْنٰـہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ } ”اور ہم نے ایک ذبح عظیم اس کا فدیہ دیا۔“
اللہ کے حکم سے جنت سے ایک مینڈھا لایا گیا جو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ذبح ہوا۔ مسلمانوں کے ہاں عید الاضحی کے موقع پر ہر سال جانوروں کی قربانی پیش کر کے اسی قربانی کی یاد منائی جاتی ہے۔
Ayah 37:108آیت 108{ وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْاٰخِرِیْنَ } ”اور اسی کے طریقے پر ہم نے باقی رکھا بعد میں آنے والوں میں سے بھی کچھ لوگوں کو۔“
اس سے پوری ملت ابراہیم علیہ السلام بھی مراد ہوسکتی ہے۔ جیسے قبل ازیں آیت 78 میں حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں بھی فرمایا گیا کہ ان کی ملت پر بعد میں ہم نے کچھ لوگوں کو قائم رکھا ‘ جن میں خود ابراہیم علیہ السلام بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ آیت کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قربانی کی اس سنت کو اللہ تعالیٰ نے بعد میں آنے والے لوگوں میں زندہ اور قائم رکھا۔ اس کا ایک مفہوم یہ بھی لیا گیا ہے کہ ہم نے بعد میں آنے والوں میں اس کا ذکر ِخیر باقی رکھا۔
Ayah 37:109آیت 109{ سَلٰمٌ عَلٰٓی اِبْرٰہِیْمَ } ”سلام ہو ابراہیم علیہ السلام پر۔“
Ayah 37:110آیت 110{ کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ } ”اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں محسنین کو۔“
Ayah 37:111آیت 111{ اِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ } ”یقینا وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔
Ayah 37:112آیت 112{ وَبَشَّرْنٰہُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ } ”اور ہم نے اسے بشارت دی اسحاق علیہ السلام کی ‘ ایک نبی صالحین میں سے۔“
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اکلوتے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا جو امتحان لیا ‘ اس میں کامیابی کے انعام کے طور پر آپ علیہ السلام کو دوسرے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کی ولادت کی خوشخبری دی گئی۔
Ayah 37:113آیت 113{ وَبٰرَکْنَا عَلَیْہِ وَعَلٰٓی اِسْحٰقَ } ”اور ہم نے برکت نازل کی اس پر بھی اور اسحاق علیہ السلام پر بھی۔“
{ وَمِنْ ذُرِّیَّتِہِمَا مُحْسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ مُبِیْنٌ} ”اور ان دونوں کی اولاد میں سے نیکوکار بھی تھے اور اپنی جانوں پر صریح ظلم کرنے والے بھی۔“
”ان دونوں“ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دونوں بیٹے حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق ﷺ مراد ہیں۔
حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل ﷺ کا یہ واقعہ قصص النبیین کے انداز میں بیان ہوا ہے۔ قصص النبییّن اور انباء الرسل کی اصطلاحات قرآن کے اس مطالعہ کے دوران قبل ازیں متعدد بار زیر بحث آچکی ہیں۔
Ayah 37:114آیت 114{ وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلٰی مُوْسٰی وَہٰرُوْنَ } ”اور ہم نے موسیٰ علیہ السلام ٰ اور ہارون علیہ السلام پر بھی احسان فرمایا۔“
Ayah 37:115آیت 115{ وَنَجَّیْنٰہُمَا وَقَوْمَہُمَا مِنَ الْکَرْبِ الْعَظِیْمِ } ”اور ہم نے نجات دی ان دونوں کو اور ان کی قوم کو ایک کرب عظیم سے۔“
Ayah 37:116آیت 116{ وَنَصَرْنٰہُمْ فَکَانُوْا ہُمُ الْغٰلِبِیْنَ ”اور ہم نے ان کی مدد کی ‘ پھر وہی غالب ہوئے۔“
اللہ کی مدد سے انہیں نجات ملی اور ان کا دشمن ان کے سامنے غرق ہوا۔
Ayah 37:117آیت 117{ وَاٰتَیْنٰہُمَا الْکِتٰبَ الْمُسْتَبِیْنَ } ”اور ہم نے ان دونوں کو ایک روشن کتاب دی۔“
یعنی تورات جس کی تعلیمات بہت واضح تھیں۔
Ayah 37:118آیت 118{ وَہَدَیْنٰہُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ } ”اور ہم نے ان دونوں کو صراط مستقیم کی ہدایت دی۔“
Ayah 37:119آیت 119{ وَتَرَکْنَا عَلَیْہِمَا فِی الْاٰخِرِیْنَ } ”اور ان دونوں کے طریقے پر ہم نے باقی رکھا بعد میں آنے والوں میں سے بھی کچھ لوگوں کو۔“
Ayah 37:120آیت 120{ سَلٰمٌ عَلٰی مُوْسٰی وَہٰرُوْنَ } ”سلام ہو موسیٰ علیہ السلام ٰ پر اور ہارون علیہ السلام پر۔“