Ayahs 7:159–160تشریح : آیت نمبر 159 تا 160
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب تمام بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر صحرائے سینا سے گذر رہے تھے تاکہ بنی اسرائیل کو فلسطین میں آباد کردیں ۔ اس موقع پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کی گنتی کرانے کے بعد ان کو بارہ قبیلوں میں تقسیم کردیا۔ جیسا کہ آپ نے اس سے پہلے پڑھ لیا ہے کہ جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) فلسطین سے مصر آئے ہیں اس وقت حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کے گھر والوں کی تعداد ایک سو سے بھی کم تھی۔ روایات کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دور سلطنت کے چھ سال کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور انہوں نے بی اسرائیل کی اصلاح و تربیت فرمائی اور فرعون کی طاقت سے ٹ کرلی اس وقت بنی اسرائیل کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی تھی فرعون کے غرق ہونے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قوم بنی اسرائیل کو مصر سے فلسطین کی طرف لے کر جارہے تھے اور صحرائے سینا کے اس علاقے سے گذر رہے تھے جہاں دور دور تک آبادی کا نام نشان تک نہ تھا، کھلا آسمان تھا، کھانے اور پینے کا کوئی انتظام نہ تھا، چونکہ بنی اسرائیل کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی تھی اس لئے انتظامی لحاظ سے ان کو بارہ خاندانوں میں تقسیم کر کے ان پر ایک ایک نگران مقرر کردیا گیا تاکہ ان کے دنیاوی امور کے ساتھ ان کی اخلاقی اصلاح بھی ہوتی جائے۔ جہاں ان میں وہ لوگ تھے جن کا کام ہی شرارتیں کرنا اور ہر برے راستے کو اختیار کرنا ان کا مزاج بن چکا تھا ان ہی میں ایک جماعت ایسے نیک لوگوں کی بھی تھی جو حق و صداقت کے علم بردار اور زندگی کا اعتدال رکھنے والے تھے ایسے لوگوں پر اللہ کا خاص کرم تھا لیکن مزاج کے اعتبار سے جو لوگ نافرمانی کا راستہ اختیار کرنے والے تھے انہوں نے اللہ کے احکامات ماننے سے انکار کردیا اور اس طرح ان پر چالیس سال تک کے لئے شہری زندگی اور اس کی راحتوں کو حرام کردیا گیا۔
صحرائے سینا کا وہ مقام جہاں ان کو چالیس سال تک کے لئے مارے مارے پھرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا تھا اس کو میدان تیہ کہتے ہیں ۔ یہ دن بھر اس صحرائی زندگی سے نکلنے کے لئے راستے تلاش کرتے، تھک کر سوجاتے اور یہ سمجھتے کہ ہم اس راستے کے قریب پہنچ چکے ہیں جہاں سے اس میدان نکلنا آسان ہوگا لیکن جب وہ سو کر اٹھتے تو ہر صبح وہ ہیں ہوتے تھے جہاں سے چلے تھے اپنے نبی کے بغیر ان کو وہ راستہ تو نہ مل جسے وہ برسوں سے تلاش کر رہے تھے مگر جب بھی وہ اپنے نبی حضرت موسیٰ سے کسی نعمت کی فرمائش کرتے اللہ تعالیٰ اس کو پورا کردیتا تھا۔ ارشادہوا کہ موسیٰ اپنے عصا کو پتھر پر مار یئے موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک مخصوص پتھر پر ماراتو اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، کانے کو مانگا تو اللہ نے ان کو اسی صحرا میں من سلویٰ عطا فرمایا۔ کہنے لگے کہ ہم صحرا کی دھوپ سے جھلسنے لگے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی تو ان پر بادل کا سایہ ہوگیا، جہاں وہ جاتے بال ساتھ ساتھ سایہ کئے ہوئے ہوتا ۔ اگر غور کیا جائے تو انسان کی بنیادی ضروریات میں تین ہی چیزیں اہم ہیں کھانا ، پانی اور چھت اور تینوں چیزیں اللہ نے اسی صحرا میں عطا فرمانے کے بعد اس اصول کو بتا دیا کہ اللہ وسائل کا محتاج نہیں ہے وہ جب چاہے جہاں جیسے چاہے ہر چیز اپنے بندوں تک پہنچا دینے کی طاقت اور قدرت رکھتا ہے ۔ اگر بنی اسرائیل کھانے پینے اور سایہ کے علاوہ اللہ سے ہدایت بھی مانگتے تو ان کو مل سکتی تھی لیکن انہوں نے جب بھی مانگا دنیا ہی کو مانگا اگر وہ آخرت کی کامیابی مانگل لیتے تو ارحم الرحمین ان کو دنیا و آخرت سب ہی کچھ دیدیتا۔ یہ انسان کی سب سے بڑی بھول ہے کہ وہ ہر وقت دنیا ہی مانگتا رہتا ہے۔ اگر وہ آخرت بھی مانگے تو اس کو آخرت اور اس کی ابدی راحتیں بھی نصیب ہوسکتی ہیں ۔ اسی لئے اہل ایمان کو یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ اے ہمارے رب ہماری دنیا بھی اچھی کر دے اور ہماری آخرت بھی اچھی کردے اور ہمیں جہنم کی آگ سے بچالیجئے گا “
آج ہماری دعائیں بھی دنیا مانگنے تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں اور ہر شخص کی دعا دنیا کی فلاح و بہود تک محدود ہو کر رہ گئی ہے لیکن اہل ایمان جب بھی اللہ سے مانگتے ہیں تو وہ سب سے پہلے آخرت کی کامیابی اور پھر دنیا کی الجھنوں سے نجات کی درخواست کرتے ہیں۔ اللہ ایسے لوگوں کو دنیا و آخرت کی کامیابیاں عطا کرتا ہے ۔ بنی اسرائیل کی یہ بہت بڑی بد قسمتی تھی کہ وہ اپنے پیغمبر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے دنیا کی چیزیں مانگتے تھے اور ان کو آخرت کی کوئی فکر نہ تھی نتیجہ یہ ہوا کہ چالیس سال تک اس سزا کو بھگتنے کے بعد جب وہ شہری زندگی سے قریب ہوئے تو وہاں بھی اپنے مزاج کی خرابی کا اظہار کرنے لگے عاجزی کے بجائے تکبر اور توبہ کے بجائے دنیا طلبی کرنے ل کے۔ قرآن کریم قوموں کی زندگی کو آئینہ بنا کر پیش کرتا ہے اور اہل ایمان کو یہ سمجھاتا ہے کہ تم بھی اس آئینہ کو دیکھ لو اگر تمہیں ان جیسی شکل و صورت نظر آٗئے تو پھر تو بہ کرکے نبی مکرم ﷺ کا دامن تھام لو تاکہ تم بھی ان ہی مصیبتوں میں گرفتار نہ ہو جائو جس میں پچھلی قومیں مبتلا ہو کر اپنی دنیا و آخرت کو برباد کر بیٹھی تھیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم لوگوں پر ظلم اور زیادتی نہیں کرتے بلکہ لوگ اپنے نفسوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ اللہ تو اپنے بندوں پر بہت مہر بان ہے ۔
Ayahs 7:161–162تشریح : آیت نمبر ا 16 تا 162
آپ نے اس سے پہلے کی آیات میں یہ پڑھ لیا ہے کہ بنی اسرائیل جنہیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دور میں بہت عروج حاصل ہوا اور مصر کے اہم مقام پر بنی اسرائیل آباد ہوگئے تھے۔ لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) کے انتقال کے بعد آل فرعون نے مصر کی سلطنت پر قبضہ کرلیا اور بنی اسرائیل کو ذلیل و خوار کرنے میں انہوں نے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی ۔ اس قوم کی ذلت و خواری جب انتہا کو پہنچ گئی تو اللہ نے قوم بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا جنہوں نے اس قوم کو یہ بات اچھی طرح سمجھادی کہ قومیں جب اپنی ذندگی کا مقصد کھو بیٹھتی ہے تو پھر ان کی کوئی قدرو قیمت نہیں رہتی ۔ اور قوموں کی زندگی کا مقصد کیا ہوتا ہے ؟ فرمایا کہ یہ مقصد اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری اختیار کرکے اس کے دین کی سربلندی کے لئے مر مٹنے کا جذبہ پیدا کرنا ہے ۔ قوم بنی اسرائیل اس بات کو سمجھ گئی اور اس نے فرعون جیسی طاقت سے ٹکرا نے کا عزم کرلیا اور پھر یہ ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ یہ قوم جن کی تعداد لاکھوں تک پہنچتی ہے راتوں رات مصر سے نکل گئی۔ جب کوئی قوم اللہ نے بنی اسرائیل کو سمندر کے دوسرے کنارے پر اس طرح پہنچادیا کہ سمندر بھی راستہ دینے پر مجبور ہوگیا لیکن جب فرعون ان سمندری راستوں میں داخل ہوا تو وہی پانی اس طرح آپس میں مل گیا کہ فرعون اور اس کا لشکر اسی سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوگیا۔ اس طرح بنی اسرائیل کی ایک بہت بڑے دشمن سے چھوٹ گئی۔ صحرائے سینا سے گذرتے ہوئے اللہ نے ان لاکھوں بنی اسرائیل کو ایک ایسا انتظام عطا فرمایا کہ ان کی بارہ جماعتیں بناکر اس پر ایک ایک نگراں بنادیا گیا تا کہ اپنے معاملات زندگی میں ہر تکلیف سے محفوظ رہیں ۔ ان کو زندگی گذارنے کے لئے توریت جیسی کتاب دی گئی جس میں وہ تمام آئین و قوانین دیئے گئے تھے جن کی روشنی میں وہ زندگی کے تاریک راستوں میں آسانی سے چل سکتے تھے۔ مگر وہ اللہ کے دین کو اپنانے کے بجائے پھر ایک دفعہ اللہ کی نافرمانی کے راستے پر چل پڑے ۔ جب ان سے کہا گیا کہ وہ ملک شام کو جہاد کرکے فتح کریں تو اس قوم کی قوت و طاقت سے اتنے مرعوب ہوگئے کہ انہوں نے نہ صرف جہاد سے انکار کردیا بلکہ گستاخی کی انتہا کرتے ہوئے یہاں تک کہہ اٹھے کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) اگر تمہیں جہاد کرنے کا اس یا شوق ہے تو تم اور تمہارا معبود اس قوم سے جا کر جہاد کرلو (ہم تو یہاں بیٹھے ہیں جب فتح حاصل ہوجائے تو ہمیں بتا دینا آکر اس پر قبضہ کرلیں) ۔ ۔۔ ۔ یہ اتنی بڑی نافرمانی تھی جس کی سزا ضروری تھی جنانچہ ان کو اس کستاخی کی سزا یہ دی گئی کہ وہی ملک جو ادنیٰ سی جدو جہد کے بعد حاصل ہوسکتا تھا وہ ان سے چالیس سال کے لئے دور کردیا گیا اور صحرائے سینا میں ان کو اس طرح بھٹکا دیا گیا کہ وہ ہر روز صبح سے شام تک نکلنے کا راستہ تلاش کرتے مگر جب اگلے دن سو کر اٹھتے تو یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے کہ گذشتہ صبح کو وہ جہاں سے چلے تھے وہ پھر وہین پر ہیں۔ اسی طرح چالیس سال تک وہ سی میدان تیہ میں سر گرداں رہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) ان کو سمجھاتے رہے لیکن یہ بات ان کی سمجھ میں نہ آتی تھی کہ جب نبی موجود ہیں تو ان کے بغیر زندگی کی منزل کیسے مل سکتی ہے لیکن وہ اپنے زعم اور گھمنڈو میں یہی سمجھتے رہے کہ ہم خود ہی راستہ تلاش کرلیں گے۔ اسی دوران حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعاؤں سے اللہ نے ان کو اس بیا بان صحرا میں پینے کے لئے پانی کھانے کیلئے من وسلویٰ اور سائے کے لئے بادل کا سایہ عطا فرمایا۔ لیکن وہ ان نعمتوں پر شکرادا کرنے کے بجائے اس کو اپنا حق سمجھنے لگے ان کی نافرمانی کا مزاج اس قدر پختہ ہوچکا تھا کہ جب چالیس سال کے بعد قوم بنی اسرائیل سے اس صحرا نوردی کے عذاب کو ہٹا دیا گیا اور یہ کہا گیا کہ جائو سامنے وہ شہر ہے جہاں سے تمہیں وہ سب کچھ ملے گا جس سے تم چالیس سال تک محروم رہے لیکن ایک شرط ہے کہ جب تم اس شہر میں داخل ہو تو عام فاتحین کی طرح شور مچاتے اور بدمستی سے داخل ہونا اور زبان پر یہ کلمہ رکھنا کہ الہی شکر ہے ہم توبہ کرتے ہیں ۔ اگر تم نے ادب و احترام اور شکر کا طریقہ اختیار کیا تو اس سے بھی زیادہ نعمتیں عطا کی جائیں گی ۔ چالیس سال کی سزا بھگتنے کے بعد جب یہ قوم اس بستی میں داخل ہوئی تو اس نے تمام وعدوں اور اللہ کے احکامات کو بھلادیا اور تکبر اور غرور کے ساتھ داخل ہوئے اور زبان پر توبہ کے کلمات کے بجائے دنیا طلبی کے کلمات جاری ہوگئے۔ انہوں نے اس شہری زندگی کی تمام بد مستیوں کو اختیار کرنا شروع کردیا اور جب نافرمانی کی انتہا کردی تو پھر اللہ نے ان پر ” طاعون “ جیسی بیماری کا عذاب مسلط کردیا جس لاتعداد اسرائیل مر کھپ گئے۔ یہ کون سی بستی تھی۔ اس کے متعلق صرف اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ مفسرین کے بقول اس بستی کا نام ” اریحا “ تھا۔ ممکن ہے اس بستی کا کوئی اور بھی نام ہو۔ یہاں بحث اس شہر کے نام سے نہیں ہے بلکہ بنی اسرائیل کی اس نافرمانی اور ان پر عذاب سے ہے جو ان کو دیا گیا تھا۔
بنی اسرائیل کی زندگی سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگر وہ اپنے نبی کا کہا مانتے۔ اطاعت کرتے تو جس اللہ نے صحرا میں کھانا۔ ۔ پانی اور سایہ عطا کیا تھا جس نے بغیر کیس جنگ کے ایک ملک عطا کردیا تھا اگر وہ اللہ کی شکر گذاری کا طریقہ اختیار کرتے تو اللہ ان کو اس سے بھی زیادہ نعمتوں سے نواز تا لیکن بد قسمتیوں میں اپنے انجام کو بھول گئے۔ دوسری بات یہ ہے کہ بنی اسرائیل چالیس سال تک صحرا سے نکلنے کا راستہ تلاش کرتے رہے مگر وہ صبح کو جہاں سے چل کر شام کو پہنچتے تھے اگلے دن معلوم ہوتا کہ وہ تو وہیں ہیں جہاں سے چلے تھے اگر وہ اپنی مرضی کے بجائے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بات مانت لیتے تو اور شکر کا راستہ اختیار کرلیتے تو ایک دن میں ان کو شہری زندگی کی راحتیں نصیب ہوجاتیں اور اس در بدری سے نجات پالیتے اگر غور کیا جائے تو آج ہماری زندگیاں بھی اس کو بیل کی طرح ہو کر رہ گئی ہیں کہ ہم برسوں محنت کے بعد جب اپنی زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دین و دنیا کے اعتبار سے جہاں سے چلے تھے وہیں پر آج بھی موجود ہیں۔
دوسرے یہ کہ جب ہمیں تنگیوں اور پریشانیوں کے بعد راحت اور سکون ملتا ہے تو ہم ایسے بدمست ہوجاتے ہیں کہ ہمیں آخرت اور اس پر چلنے والے برے لگتے ہیں کیا ہم اس آئینہ میں دیکھ کر یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ اس آئینہ میں ہمیں اپنا عکس تو نظر نہیں آرہا ہے۔ اگر ہمیں بنی اسرائیل جیسا محسوس ہو تو اللہ سے توبہ کرنی چاہیے اور نبی مکرم ﷺ کے دامن اطاعت و محبت سے وابستگی اختیار کر کے اپنی دنیا اور آخرت کے معاملے کو درست کرلینا چاہیے۔ پھر ایسانہ ہو کہ زندگی میں فرصت عمل نہ رہے۔
Ayahs 7:163–166تشریح آیات نمبر 163 تا 166
بنی اسرائیل کی زندگی کے مختلف پہلوئو کا ذکر فرمایا جار ہا ہے اسی میں سے یہ ایک واقعہ ہے جو انہیں ایلہ کے مقام پر پیش آیا۔۔۔۔ واقعہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل کا قبیلہ جو ایلہ میں آباد تھا اور کا گذر بسر مچھلیوں پر تھا۔ اس قوم کو آزمانے کے لئے کہا گیا کہ تم ہر روز مچھلی کا شکار کرسکتے ہو۔ صرف ہفتہ کے دن تمہیں شکار کرنے کی اجازت نہیں ہے توریت کی بعض آیات سے بھی اس طرف اشارے ملتے ہیں کہ اسی وجہ سے یہودیوں نے ہفتہ کے دن ہر طرح کے کام کاج کو اپنے اوپر حرام کر رکھا تھا۔ ہفتہ کے دن شکار کی ممانعت ان کا محض امتحان تھا ان کو مزید آزمانے کے لیے اللہ نے یہ انتظام فرمایا کہ جب ہفتہ کا دن ہوتا جس دن شکار کرنا منع تھا تو تہہ کی مچھلیاں بھی پانی کے اوپر آجاتیں اور جب اتوار سے جمعہ تک شکار کرنے کی اجازت تھی تو اوپر کی مچھلیاں بھی پانی کی تہہ میں چلی جاتیں۔ بنی اسرائیل نے کچھ دن تو برداشت کیا ۔ پھر اس کے بعد انہوں نے حیلے بہانے کرنے شروع کردیئے۔ طریقہ یہ اختیار کیا کہ اس سمندر کے کنارے انہوں نے چھوٹے چھوٹے تالاب بنا کر انہیں چھوٹی چھوٹی نالیوں سے ملادیا جب ہفتہ کا دن آتا اور تہہ کی مچھلیاں اوپر آجاتیں تو وہ ان نالیوں کو کھول دیتے جن سے سمندر کا پانی مچھلیوں کے ساتھ ان تالابوں میں جمع ہوجاتا۔ اس طرح وہ بظاہر خود تو شکار نہیں کرتے تھے لیکن پانی کے ریلے کے ساتھ جو مچھلیاں ان کے تالابوں میں جمع ہوجاتیں ان کو اتوار کے دن خوب مزے لر لے کر کھاتے اور کہتے کہ ہم نے ہفتہ کے دن شکار نہیں کیا بلکہ یہ مچھلیاں تو پانی مین بہہ کر خود بخود ہمارے تالابوں میں آگئی ہیں۔ یہ بات ایسی تھی کہ وہ قوم اس امتحان میں فیل ہوگئی۔ ان کی چالا کی اللہ کو پسند نہیں آئی اور اللہ نے اس پوری نافرمان قوم کو شرف انسانیت سے محروم کر کے جانور یعنی بندروں کی شکل میں تبدیل کردیا جا چند روز زندہ رہ کر سب کے سب مر گئے۔ مفسرین کا خیال ہے کہ ان کو بندر نہیں بلکہ بندروں جیسی شکلیں دیدی گئی تھیں یعنی ان کے چہرے اس طرح پھول گئے تھے کہ جیسے بندروں کے پھولے ہوئے ہوتے ہیں بہر حال صحیح کیفیت کا علم تو اللہ کو ہے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ وہ قوم شرف انسانیت سے محروم کردی گئی تھی۔
جب ان کو ان کے نبی یہ بتاتے کہ دیکھو اگر تم اللہ کی نا فرنی نہ چھوڑی اور اسی طرح تاویلیں کر کرکے اللہ کو ناراض کرتے رہے تو تم پر عذاب آجائے گا اور تم اس سزا سے بچ نہ سکو گے۔ وہ کہتے کہ ہمیں ہمارے حال پر چھور دو ۔ جب تمہیں یقین ہے کہ ہم پر عذاب آجائے گا تو نصیحتیں کیوں کرتے ہو۔ ان کا جواب یہی ہوتا کہ ہم محض اس لئے کہہ رہے ہیں کہ کل اللہ کے ہاں جا کر اس کی معذرت تو کرلیں گے کہ اے اللہ ہم نے تو ان کو اچھی طرح سمجھایا تھا مگر یہ ماننے کے لئے تیار ہی نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ لوگ جو نصیحت کا حق ادا کرتے ہیں ان کو نجات ملتی ہے اور جو لوگ نافرمانی کرنے والے ہیں ان کو شدید ترین عذاب دیا جاتا ہے ۔
چنانچہ اللہ نے ہفتہ کے دن نافرمانی کرنے والوں کو عبرت ناک سزا دی اور جنہوں نے نصیحت کا حق ادا کردیا تھا اللہ نے ان کو نجات عطا فرمادی اور باقی ساری قوم کو بندر بنا کر ہلاک کردیا۔
ان آیات کا خلاصہ یہ ہے
2) جو لوگ گناہ کرتے ہوئے اس بات کا احساس رکھتے ہیں کہ ہم گناہ گار ہیں تو ان کو کبھی نہ کبھی توبہ کی توفیق مل جاتی ہے لیکن جو اپنے گناہوں کو کرنے میں مختلف تاویلیں کر کرے اپنے آپ کو مطمئن کرلیتے ہیں وہ اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکتے اور ان کو توبہ کی بھی توفیق نہیں ملتی ۔
3) وہ لوگ جن کو اللہ نے نصیحت کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے اگر وہ اس فریضہ کو ادا کرتے رہے اور نصیحت کرتے رہے اور سننے والوں نے نصیحت حاصل نہ کی تو کم از کم اللہ کے ہاں وہ لوگ اس بات پر معذرت تو کرسکتے ہیں کہ ہم نے سمجھایا مگر وہ نہ سمجھے۔
4) جب اللہ کی نافرمانی حد سے بڑھ جاتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ مختلف شکلوں میں اپنا عذاب مسلط کردیتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے فرمانوں کو شرف انسانیت سے محروم کر کرے جانوروں کی شکل اور مزاج میں ڈھال دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نافرمانی سے محفوظ فرمائے اور نیکیاں کرنے اور نیکیوں کو پھیلانے کی توفیق عطا فر مائے اور برے انجام سے محفوظ فرمائے۔ آمین
Ayahs 7:167–168تشریح :ـ آیت نمبر 167 تا 168
یہ ان دو عظیم سزاؤں کا ذکر ہے جو نبی اسرائیل کو اسی دنیا میں دی گئی ہیں یہ سزائیں ان کو اچانک نہیں دی گئیں بلکہ انبیاء کرام کے ذریعہ صدیوں پہلے ان کو مطلع کردیا گیا تھا۔
1) دوسری سزا یہ ہے کہ ان کا مستقل کوئی وطن نہ ہوگا۔ وہ ہمیشہ مختلف ملکوں میں منتشر رہیں گے یعنی ان کی کوئی اجتماعی طاقت نہ ہوگی۔ ہمیشہ دوسروں کے سہارے زندہ رہیں گے۔
تاریخ گواہ ہے کہ بخت نصر سے لے کر ہٹلر اور اسٹالن تک صدیوں سے یہودی مقہور ، محکوم اور مغضوب رہے ہیں۔
ہزاروں سال سے آج سے ان کی کوئی سیاسی طاقت نہ بن کسی اور جب بھی بنی ہے تو ان کے نیچے سے زمین کھینچ لی گئی ہے۔
یہ جو آجکل عربوں کے سینے پر فلسطین میں بڑی طاقتوں کے تحت اسرائیلی ریاست بنادی گئی ہے اس کے پس پردہ روسی کمیونسٹوں اور امریکی عیسائیوں کا ہاتھ ہے ان ہی کی سازش سے وہ فلسطین کی بستیوں میں لاکر بسائے گئے ہیں ۔ ان ہی کی مالی اور غذائی امداد پر وہ زندہ ہیں ان ہی کے بخشے وہئے اسلحہ جات پر وہ ساری دنیا میں غنڈہ گردی کررہے ہیں ان ہی کی سیاسی بین الاقوامی پالیسیوں کے تحت وہ مہر ئہ شطرنج بنے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے لبنان اور دوسرے ملکوں میں جو کچھ کیا وہ امریکہ برطانیہ اور روس کے گٹھ جوڑ سے کیا ہے۔ جب مصر کے انوار السادات نے 1973 ء میں فلسطین پر حملہ کیا تو چند ہفتوں میں بنی اسرائیل کے چھے چوٹ گئے اور ان کو اپنا وجود خطرہ میں نظر انے لگا۔ یہاں تک کہ مجھے بچائو کا سرخ نعرہ لگا دیا گیاروس اور امریکہ دونوں امداد کو دوڑ پڑے اب جو چند لاکھ یہودیوں کا اجتماع فلسطین میں ہوا ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ اوپر سے تو وہ اپنے آپ کو بڑا پر سکون بنائے ہوئے ہیں لیکن انہیں ہر وقت یہ خطرہ لگا رہتا ہے کہ کب مسلمان میں کوئی اصلاح الدین ایوبی اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کے لئے وہ ہر اس شخص اور قوم و ملک کو جس میں ذرا بھی اصلاح الدین بن جانے کی صلاحیت ہے اس پر امریکہ روس اور برطانیہ اپنے جنگی جہاز بم اور راکٹ لے کر چڑھ دوڑتے ہیں ساری دنیا انسانیت کی باتیں کرنے والے انسانیت کے سب سے بڑے دشمن بنے ہوئے ہیں لیکن اللہ کا یہ عجیب قانون ہے کہ روش برطانیہ اور امریکہ جنہوں نے اسرائیل کو سہارا دے کر ایک قوت اور طاقت بنانے کی کوشش کی ہے وہ خود بڑی تیزی سے مٹتے چلے جارہے ہیں برطانیہ سمٹتے سمٹتے اپنے جزیرہ تک محدود ہو کر رہ گیا ہے اب دنیا پر اس کی محض ایک دھونس باقی ہے اس کے سوا کچھ نہیں ہے روس کے ٹکڑے اڑگئے ہیں اور مزید تباہی نظر آرہی ہے امریکہ آجکل سپر پاور ہے مگر ایسی بڑی بڑی سیاسی اور اخلاقی غلطیاں کرتا چلا جا رہا ہے کہ اللہ کے قانون کے مطابق اس کا حشر بھی کچھ مختلف نظر نہیں آرہا ہے ۔ اسرائیلی کے یہ سہارے بڑی تیزی کے ساتھ ٹوٹ رہے ہیں اور وہ مسلمان ملک جن کے درمیان یہ اسرائیلی ریاست دند نا رہی ہے ان ملکوں میں اسرائیل اور اس کے پشت پناہو کے خلاف نفرت کا ایسا لاوا پک رہا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ پڑے گا دوسری طرف احادیث میں قریب قیامت کے آثار میں یہ بات بھی شامل ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دمشق میں نازل ہوں گے وہ مسلمانوں کی جماعت لے کر یہودیوں کے خلاف جہاد با لسیف فرمائیں گے اور یہودیوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیں گے اب یہ اللہ کا قانون بھی نظر آرہا ہے کہ تمام یہودیوں کو ملک شام کے قریب ایک جگہ جمع کیا جار ہا ہے روس امریکہ اور برطانیہ چاہتے تو یہودی ریاست الاسکا سائبریا یا آسٹریلیا میں قائم کرسکتے تھے مگر ان کی آنکھوں پر پردہ پڑگیا ہے جو انہوں نے یہودیوں کو ان کے مقتل میں جمع کردیا ہے اور یہودی بھی خوب احمق بن رہے ہیں اللہ کا کیا نظام ہے ؟ شاید بہت جلد سامنے آجائے گا ار آئندہ یہودیوں کے لئے پھر وہ وقت آسکتا ہے کہ اگر وہ کسی پتھر کے نیچے بھی چھپنے کی کوشش کریں گے تو پتھر خود بتادے گا فلاں یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے۔
Ayahs 7:169–171تشریح : آیت نمبر 169 تا 171
یہاں دو لفظ استعمال کئے گئے خلف ۔ خلف ۔ خلف ۔ کے معنی ہیں قائم مقام۔ جانشین اور خلف کے معنی ہیں نالائق اور براجانشین۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان کے آبا و اجداد میں کچھ اچھے لوگ ضرور تھے لیکن ان کی جگہ پر بعد میں آنے والی نسل میں اچھی لوگوں کی تعدا گھٹتی گئی ان بعد میں آنے والی نسلوں کے لئے لازمی اور ضروری تھا کہ وہ خلافت کا حق اچھی طرح ادا کرتیں چونکہ وہ کتاب اللہ کی وارث تھیں۔ وہ اس کتاب اللہ کی پیروی سے دنیا کی امامت و رہنمائی کا فریضہ احسن طریقہ پر ادا کرسکتی تھیں مگر وہ اس کی اہل ثابت نہ ہوئیں ۔ ان کے احبار اور علماء نے مذہب فروشی شروع کردی۔ دنیا کے حقیر ، عارضی اور گھٹیا فوائد حاصل کرنے کے لئے نہ صرف کھلم کھلا نا فرمانیاں شروع کردیں بلکہ خوشامد اور ضمیر فروشی میں جس فریاد طبقہ سے کچھ مال و منصب ہونے کی امید ہوتی اس کی مرضی کے مطابق کتاب اللہ (توریت انجیل ) میں تحریف و تبدیلی کردیتے۔ الفاظ تو الفاظ جملے کے جملے بدل دیتے یا حذف کردیتے ۔ اگر پھر بھی کچھ بچ جاتا تو معنی کو توڑ موڑ کر بات کو کہیں سے کہیں تک پہنچا دیتے غرضیکہ اللہ کی کتاب ان کے ہاتھوں کا ایسا کھلونا بن کر رہ گئی تھی کہ جس بات کو جس طرح چاہتے گھما کر رکھدیتے۔
عرض ھذا الادنیٰ عرض کے معنی مال و دولت کے بھی ہیں اور اس چیز کے بھی جو مال دے کر خریدی جاتی ہے مگر عرف عام میں اسے جو ہر (اصل) کے مقابلے میں نقل ، کھوٹ اور جھاگ کے لئے بولتے ہیں۔ کہنا یہ ہے کہ اللہ کی آیات کے مقابلے میں دنیا کا مال متاع اتنا ہی حقیر بےحقیقت اور ناپائدار ہے جتنا کسی چیز کا جھاگ بےحقیقت ہوتا ہے۔ ۔۔ ۔ لفظ ادنیٰ کے مادے ہیں دنو اورر دنی کے معنی ہیں قریب اور نزدیک کے اور دنی کے معنی ہیں ذلیل و خوار سی سے لفظ دنیابنا ہے جس کے دونوں معنی آتے ہیں قریب اور نزدیک کے بیق اور حقیر و ذلیل کے بھی یعنی وہ لوگ آخرت کی ابدی راحتوں کے مقابلے میں جو چیزلے رہے ہیں وہ جھاگ کی طرح بےحقیقت چیز ہے۔ اور وہ اس ذلیل جگہ (دنیا ) کا جھاگ ہے۔
دنیا کے بھی دو معنی ہیں۔ اگر دنیا کو آخرت کے لئے اختیار کیا جائے تو پھر اس کے معنی ہوں گے آخرت سے قریب لیکن اگر دنیا اور اس کی چیزوں کو اللہ کی نافرمانی میں استعمال کیا جائے تو اس ذلیل و خوار چیز کوئی نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کی جس کتاب کے ذریعہ وہ دنات کی امامت و رہنمائی کا فریضہ ادا کرسکتے تھے انہوں نے اس کو چھوڑ کر دنیا کے وقتی مفادات اور فائدوں کے لینے کے لئے اللہ کی کتاب کو فروخت کرنا شروع کردیا۔ اور پھر اس پر وہ شرمندہ ہونے کے بجائے یہ کہتے تھی کہ ہم اللہ کے چہیتے اور پیارے ہیں وہ اللہ ہماری ساری خطاؤں کو معاف کردے گا ۔ اس ڈھٹائی غلط گمانی اور فریب خیال کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنے گناہوں اور معافی کی طرمائل ہونے کے بجائے ایمان و دین فروشی میں اس طرح مگن ہوگئے کہ انہوں نے اللہ کی کتاب کو کمائی کا ذریعہ بنالیا۔ جہاں ہڈی نظر آئی اسی طرف لپکنے لگے، بےایمانی اور ضمیر فروشی کا وہ کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ نہیں کہ انہوں نے اس کتاب کو نہیں پڑھا یا اس سے ناواقف تھے بلکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ اس مقدس کتاب میں یہ معاہدہ موجود ہے جو بنی اسرائیل سے لیا گیا تھا کہ وہ جھوٹ فریب اور تحریف کو اللہ کے نام پر پیش نہیں کریں گے ۔ اپنی بنائی ہوئی باتوں کو یہ کہہ کر کر پیش نہیں کریں گے یہی توریت ہے یہی کلام الہٰی ہے ۔
اللہ نے ارشاد فرمایا کہ سب کچھ کرلینے کے بعد ان کا یہ فریب کہ اللہ ہمارے سارے گناہوں کو معاف کرکے ہمیں جنت کی ساری نعمتیں عطا فرمادے گا۔ ایسا نہیں ہوگا بلکہ اگر ان کے گناہوں پر گرفت کرلی گئی تو ان کا اللہ کے عذاب سے بچنا ممکن ہی نہ ہوگا ۔ البتہ اگر کبھی کبھار انجانے میں اچھے لوگوں سے غلطی ہوجاتی ہے اور اس پر وہ نادم و شرمندہ ہوتے ہیں اور توبہ کرلیتے ہیں تو ان کو معاکیا جاسکتا ہے ان کی پہچان یہ کہ وہ اپنی اصلاح کرتے ہیں اور دوسروں کی بھی بھلائی کا کام کرتے ہیں وہ کتاب اللہ پر خوب عمل کرتے ہیں ۔ جو ان کو حکم دیا گیا تھا اس پر وہ عمل کرتے ہیں اور جس سے منع کیا گیا ہے اس سے رکتے اور احکام الہٰی کی پابندی کرتے ہیں۔ وہ نماز نہ صرف خود پڑھتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی نمازوں کی پابندی کی طرف آمادہ کرتے ہیں۔ دوسروں کو تبلیغ و تلقین کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔
آیت نمبر 17 میں جس واقعہ کا ذکر ہے اس کا بیان سورة بقرہ میں بھی آچکا ہے جہاں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ہم نے کوہ طور اٹھا کر بلند کردیا تھا یہاں ارشاد ہے کہ ہم نے پہاڑ اٹھا کر ان کے سروں پر سائبان کی طرح مسلط کردیا تھا۔ جس کو وہ سمجھ رہے تھے کہ نہ جانے کب یہ پہاڑ ان کے اوپر گر پڑے گا۔
واقعہ یہ ہے کہ جب بنی اسرائیل کی عہد شکنی ایمان فروشی اور تحریف کی عادت حد سے زیادہ گذر گئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے سروں پر پہاڑ (طور) کو مسلط کردیا اور کہا گیا کہ اگر تم نے ان احکامات کی پابندی نہیں کی جن کا حکم دیا گیا تھا تو اس پہاڑ کو تمہارے اوپر گرادیا جائے گا۔ جنانچہ خوف کے مارے بنی اسرائیل نے تجدید عہد کیا اس کے بعد اس پہاڑ کے عذاب کو ان سے ہٹالیا گیا۔ جب پہاڑ کا عذاب ہٹ گیا تو پھر گناہوں پر دلیر ہوگئے۔
یہاں ایک مسئلہ کی وضاحت ضروری ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے سورة بقرہ میں فرمایا ہے کہ ” لا اکر اہ فی الدین “ یعنی دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے ۔ اسکے واضح معنی یہ ہیں کہ کسی غیر مسلم کو زبردستی ڈرا دھمکا کر مسلم بن جانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ لیکن جب وہ سوچ سمجھ کر خوشی سے اسلام قبول کرلے گا اور اسلام میں پوری طرح داخل ہوجائے گا تو اسے احکام الہی کا پابندی کرنی پڑے گی۔ ان احکامات کی پابندی کے لئے جبر واکراہ کیا جاسکتا ہے۔ اس آیت کے یہی معنی ہیں ۔
Ayahs 7:172–174تشریح آیت نمبر 172 تا 174
پچھلی آیات میں دو وعدوں کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے لئے ہیں۔ (ا) ایک کوہ طور کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کرنے سے پہلے اور دوسرا معلق کرنے کے بعد اسی طرح قرآن کریم میں بہت سے عہد، میثاق اور وعدوں کا ذکر ہے جو مختلف جماعتوں سے لئے گئے ہیں ان آیات میں ایک مقدس ترین عہد کا ذکر فرمایا گیا ہے جسے خود حق تعالیٰ شانہ نے براہ راست اپنے تمام بندوں سے لیا ہے اس عہد کا نام عہد الست ہے۔
اس عہد الست کے لئے بہت سی روایات موجود ہیں جن میں اس عہد کی وضاحت فرمائی گئی ہے کچھ حضرات نے حضرت عمر فاروق ؓ سے اس میثاق اور اور عہد کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کچھ صحابہ کرام ؓ نے یہ سوال رسول اللہ ﷺ سے کیا تو جواب آپ نے ارشاد فرمایا میں نے ستا وہ یہ تھا کہ :
اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا، پھر اپنا دست قد رت ان کی پشت پر پھیرا تو ان کی پشت سے جو نیک انسان پیدا ہونے والے تھے وہ نکل آئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے ان کو جنت کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ جنت ہی کے کام کریں گے پھر دوسری دفعہ ان کی پشت پر دست قدرت پھیرا تو جتنے گناہ گار بد کار انسان تھے ان کو نکال کر کھڑا کیا اور فرمیا کہ میں نے ان کو دوزخ کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ دوزخیوں والے ہی کام کریں گے۔ حضرت فاروق اعظم ؓ فرماتے ہیں کہ یہ سن کر صحابہ کرام ؓ میں سے کسی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ جب پہلے ہی جنتی اور جہنمی متعین کردیئے گئے تھے تو پھر عمل کس مقصد کے لئے کرایا جاتا ہے ؟ حضور اکرم ﷺ نے اسکے جواب میں ارشاد فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو جنت کے لئے پیدا کرتا ہے تو وہ اہل جنت ہی کے کام کرنے لگتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی کو جہنم کے لئے پیدا فرماتے ہیں تو وہ دوزخ ہی کے کام میں لگ جاتا ہے یہاں تک کہ اس کا خاتمہ کیس ایسے کا پر ہوتا ہے جو اہل جہنم کا کام ہے مطلب یہ ہے کہ جب انسان کو معلوم نہیں ہے کہ وہ کس طبقہ میں داخل ہے تو اس کو قوت اختیار ایسے کاموں میں خرچ کرنا چاہیے جو ہل جنت کے ہیں اور یہی امید رکھنا چاہئے کہ وہ ان ہی میں سے ہوگا اس حدیث کی وضاحت سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس عہد کو انسان کی فطرت میں رکھدیا ہے۔ ۔۔ ۔ نبی کریم ﷺ نے اس بات کو اس حدیث میں واضح فرمایا کہ :
کل مو لود یمجسا نہ (بخاری و مسلم)
ہر بچہ جو پیدا ہوتا ہے وہ فطرت یعنی اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اس کو (اپنے رنگ میں ڈھال کر ) یہودی ، عیسائی یا ستارہ پرست مشرک بنا لیتے ہیں ۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کوئی انسان بچہ جو اس دنیا میں قدم رکھتا ہے وہ پیدائشی گناہگار یا کافر نہیں ہوتا بلکہ اس کے اردگرد کا ماحول جو اسکے والدین بنالیتے ہیں اس بچے کو وہ اس رنگ میں ڈھا ل لیتے ہیں کسی کو یہودی کسی کو عیسائی اور کسی کو مشرک بنال یتے ہیں اس حدیث کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ ایک انسانی بچہ اگر کسی مشرک کافر اور بت پرست کے گھر میں پیدا ہوتا ہے تو وہ مشرک ، کافر اور بت پرست نہیں ہوتا بلکہ وہ فطرت اسلام لے کر پیدا ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اگر وہ بچہ بالغ ہونے سے پہلے مر جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو اسی فطرت کی وجہ سے جہنم میں نہیں بھیجیں گے بلکہ اس کو اہل جنت کا خادم بنا دیں گے۔
جب کسی مسلمان گھرانے میں کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے لئے سنت طریقہ یہ ہے کہ اس بچے کے داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی جائے اگر غور کیا جائے تو ایک ایسا بچہ جس نے ابھی دنیا میں قدم رکھا ہے اس کے کان میں اذان اور اقامت کہی جارہی ہے۔ اقامت کے کیا معنی ہیں ؟ کیا وہ اس کو سمجھ رہا ہے ؟ لیکن پھر بھی حکم ہے کہ اس کے کان میں اللہ اور اس کے رسول کا نام ڈال دیا جائے تاکہ وہ عہد جو اس نے اپنے رب سے روز اول کیا تھا وہ یاد دلا دیا جائے۔
وہ بچہ جو چند گھنٹہ کا ہوتا ہے کیا وہ یہ بات کو سمجھتا ہے ؟ موجودہ تحقیق یہ ہے کہ جو کچھ اس کے کان کے راستے پہنچ رہی ہے وہ اس کو سمجھتا ہے لیکن وہ اس کا اظہار نہیں کرسکتا بچہ اس ٹیپ ریکارڈ کی طرح ہے جو ہر بات کو اپنے اندر جذب کرتا رہتا ہے ہم یہ سمجھتے ہیں ۔ یہ ایک مشین ہے جو غیر محسوس طریقے سے چل رہی ہے لیکن در حقیقت وہ ہر اس بات کو نوٹ کرتی جارہ ہے جو اس کے سامنے کی جاتی ہے۔
یہی حال اس چند گھنٹے کے بچے کا بھی ہے کہ اس کر فطرت میں جو عہد و میثاق ہے جب اللہ اور اس کے رسول کا نام لیا جاتا ہے تو وہ سمجھتا ہے لیکن وہ اس کا اظہار نہیں کرسکتا۔
پھر انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لاتے ہیں اور وہ انسان کی فطرت کے اس عہد کی یاد دلاتے ہیں جو اس کی روح نے اپنے رب سے کیا تھا جو سعادت مند روحیں ہوتی ہیں وہ دین کی سچائیوں کو قبول کرتی ہیں اور بد بخت اور بد نصیب لوگ ہیں وہ ان سے روگردانی کرتی ہیں۔
انبیاء کرام (علیہ السلام) اسی عہد کو یاد کرانے تشریف لاتے رہے یہاں تک کہ سارے نبیوں کے بعد آخر میں خاتم الانبیاء حضت محمد مصطفیٰ ﷺ تشریف لائے جنہوں نے نہ صرف اسلام کی روشنی دلوں تک پہنچایا بلکہ آج ان کا ہر عمل اس طرح روشن وتا باں ہے کہ جو بھی عمل کرے گا اس کی فطرت اپنے پروردگار کے اس عہد کے لئے پکار اٹھے گی کہ اے میرے رب میں حاضر ہوں۔
ان تمام روشنیوں کی موجودگی میں اب انسان کے لئے یہ کہنے کی گنجائش نہیں ہے کہ اے میرے رب مجھے تو یہ معلوم ہی نہ تھا کہ میں نے آپ سے کیا اور کب عہد کیا تھا۔
Ayahs 7:175–177تشریح آیات نمبر 175 تا 177
یہ کوئی مخصوص شخص تھا یا بات عام کی جارہ ہے اس کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہے ۔ بہر حال مفسرین کا خیال اس طرف گیا ہے کہ اس سے مراد ایک مخصوص شخص ہے جس کا نام بلعم ابن باعورا تھا جو اپنے وقت کا بہت بڑاعالم ، عارف اور مشہور پیشوا تھا لیکن اپنے تمام تر علم وتقویٰ کے باوجود جب وہ دنیا کے لالچ میں اندھا ہوگیا تو اس کی ساری علمی عظمتوں کو اس سے چھین لیا گیا اگر وہ اپنے علم کا حق ادا کرتا اس کے احکامات کی پابندی کرتا تو یقینا اس کا مقام ہی کچھ اور ہوتا لیکن جب اس پر دنیا پر ستی کا غلبہ ہوگیا تو وہ اپنی بنیادی عظمتوں سے محروم ہوگیا۔
اگر اس آیت کا مفہوم کو عام رکھا جائے تو اس میں تما وہ لوگ آجاتے ہیں جن کو اللہ نے اپنے دین کا علم عطا فرمایا اس علم کا تقاضا تو یہ ہے کہ وہ خود بھی سگ دنیا سے بچتے اور دوسروں کو بھی بچاتے لیکن جب وہ سگ دنیابن گئے تو اوروں کی دنیا پرستی لالچ اور حرص سے کسیے روکیں گے۔
ترک دنیا جس کو رہبانیت کہتے ہیں اس کا سلام سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ لوگوں کا گھڑا ہوا وہ طریقہ زندگی ہے جس کو نہ تو اللہ نے پسند فرمایا ہے اور نہ اس کے رسول ﷺ نے لیکن دنیا کے لالچ میں دین کو بھی بیچ ڈالنا اور اپنے مفاد کے لئے اللہ اور اس کے رسول کی محبت کو چھوڑ بیٹھنا انتہائی بد قسمتی ہے۔ البتہ دین کی عظمتوں کو قاتم رکھتے ہوئے اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کیلئے جدوجہد کرنا ممنوع نہیں ہے بلکہ بہتر ہے۔ یہاں قرآن کریم جس چیز سے منع کررہا ہے وہ دنیاکا کتا بن جانے سے منع کر رہا ہے یعنی محض لذت اور شہوت کے پے چھ غرق رہنا۔ اللہ کے حقوق اور اس کے بندوں کے حقوق کو بھول جانا تمام تو جہات کا مرکز و محور اپنے نفس کو بنا لینا ۔ ایسے شخص کی مثال کتے سے دی گئی ہے جس کی ہر وقت لٹکی ہوئ زبان اور ٹپکتی ہوئی رال اسکے چوبیس گھنٹے حرص و ہوس کا پتہ دیتی ہے جس کا نعرہ ہے ” ہائے پیٹ ‘ ہائے جنس، آجکل تمام دنیا پرستوں کا نعرہ ایک ہی ہے جس میں جسم و جنس کی خواہشات ہی سب کچھ ہیں۔
یہ شیطان کے ہاتھ میں دو عظیم ہتھیار ہیں وہ ان ہتھیاروں سے بڑے بڑے خواص کو شکار کرتا ہے علم والے، کرسی والے، دولت والے ، طاقت والے سب اس کی لپیٹ میں ہیں۔
اس جگہ ایک ایسے شخص کی مثال دی گئی ہے جسے اللہ نے اپنی آیات کا فہم و تدبر نصیب کیا تھا۔ مگر وہ علم اور دین کی پابندیوں سے فرار ہو کر سگ دنیا بن کر رہ گیا۔ شیطان اس کو ایک ایسی پستی کی طرف دھکیلتا رہا یہاں تک کہ اس کو اسفل سافلین تک پہنچا دیا ۔
یہی ہر اس شخص کو بد قسمتی ہے جو حق و صداقت سے منہ موڑ کر اللہ کی آیات کو جھٹلاتا ہے۔
Ayahs 7:178–179تشریح : آیت نمبر 178 تا 179
انسان دو طرح کے ہیں ۔ ایک وہ جو اپنی فطری صلاحیتوں کا صرف اپنے اہل و عیال اور خوشی و مسرت اور عیش و آرام کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ ان کی ساری تگ و دود صرف دنیاوی مفادات حاصل کنے کیلئے ہوتی ہے۔
دوسرے وہ ہیں جو آخرت کو حاصل کرنے کے لئے دنیا کو ایک سیڑھی کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ آخر کمانے کے لئے صرف اتنی ہی دنیا کماتے ہیں جو ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کردے۔
ان دونوں میں سے ایک کا مقصد زندگی برائے زندگی ہے اور دوسرے کا مقصد زندگی برائے بندگی ہے۔
یہاں ان لوگوں کو جانوروں سے تشبیہ دی گئی ہے جو صرف کھانے پینے اور عیش و آرام ہی کو زندگی کا مقصد بنا کر اس کے پیچھے دوڑ رہے ہیں انہیں آخرت کی کوئی فکر نہیں ہے ان کے پاس جو دل ہے وہ فکر آخرت سے محروم ہے۔ ان کے کان ہیں مگر وہ دین کی بات سننے کے لئے نہیں ان کی آنکھیں ہیں مگر حقیقت کو دیکھنے کے لئے نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جہنم میں جانے پر تلے ہوئے ہیں ۔
لیکن وہ لوگ جن کا مقصد آخرت اور اس کی ابدی راحتیں ہیں ان کے قلب و نظر اور فکر کا دائرہ آخرت تک وسیع ہے اور یقینا یہی وہ لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی کامیابیاں حاصل کرنے والے ہیں۔
Ayahs 7:180–183تشریح ؛ آیت نمبر 180 تا 183
ان آیات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں ۔ یہ نام تقریباً قرآن کریم میں آتے ہیں۔ اللہ اس کا ذاتی نام ہے باقی تمام اسمائے صفات ہیں اللہ نے حکم دیا ہے کہ اللہ کو ہمیشہ اس کے اچھے ناموں سے پکارو۔ لوگوں نے جو اللہ کے مشرکانہ نام رکھے ہوئے ہیں ان کو چھوڑ دو کیونکہ وہ نام گندے اور برے نام ہیں۔ اگر کوئی برے گندے اور مشرکانہ ناموں سے اسکو پکارے گا تو اس کی اس کی سزادی جائیگی۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے 99 ہیں اس کو ان ہی ناموں سے یاد کرو۔ جو شخص ان ناموں کا ورد کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اس حدیث سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ (1) کہ اللہ کے ننانوے نام ہیں اور (2) وہ بہت اچھے نام ہیں انسانوں کو بھو ل ہے کہ وہ اللہ کے ایسے بہترین نام چھوڑکر مشرکانہ نام رکھتے ہیں۔
جب نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا اس وقت بت پرستوں نے اپنے بتوں کے متعدد نام رکھے ہوئے تھے اور وہ ان سے ہی اپنی مرادیں مانگتے تھے جیسے لات، منات ، عزی ھبل وغٰیرہ۔ انہوں نے ہر بت کے ذمے کچھ ڈیوٹیاں لگا رکھی تھیں کوئی بت بارش برساتا تھا کوئی اولاد دیتا تھا اور کسی کے ذمہ رزق دینا تھا۔ یہ ساری باتیں انہوں نے خود سے گھڑ رکھی تھیں اور کہتے تھے کہ یہ اللہ کے صفاتی نام ہیں اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا کہ اللہ کی طرف ان ناموں کی نسبت بھی نہ کی جائے اس کے بہت بہترین نام ہیں ان کو ان ہی ناموں سے پکارا جائے۔ نہ اللہ کی ذات کو سمجھنے کے لئے اپنی طرف مثالیں گھڑی جائیں اور نہ اس کے طرح طرح کے نام رکھے جائیں ۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو وہ نام پسند ہیں جو اللہ کے ذاتی اور صفاتی نام ہیں۔ ہماری کوشش یہی ہونی چاہیے کہ اپنے بچوں کا نام اللہ کے ناموں سے منسوب کئے جائیں جیسے عبد اللہ ، عبدالرحمن وغیرہ مگر اس میں یہ احتیاط ملحوظ رکھنی چاہیئے کہ اگر کسی کا نام عبدالرحمن ہو تو اس کو عبدالرحمن نہ کہا جائے بلکہ عبدالرحمن کہا جائے۔ بد قسمتی سے جو لوگ عبدالرحمن ، عبد الرزاق نام رکھ لیتے ہیں وہ ان کو رحمن صاحب اور رزاق صاحب کہہ کر پکارتے ہیں یہ جائز نہیں ہے نام پورا لیاجائے۔
موجودہ دور میں بھی یہ فتنہ ایک نئی شکل کے ساتھ موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ اول تو ہم اپنے بچوں کے اسلامی نام رکھنا ہی چھوڑ دیئے ہیں۔ حالانکہ نام کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ وہ مسلم امت کی پہچان ہے۔ شکل صورت تو ہماری قوم نے ایسی بنالی ہے کہ مسلم اور غیر مسلم میں کوئی فرق ہی محسوس نہیں ہوتا۔ نامہی ایک پہچان کا ذریعہ تھا وہ پہچان بھی ختم کردی گئی۔ مغربی ملکوں میں تو سارے امتیازات ختم کرکے نئی نسل کی زبان کی پہچان بھی ختم کردی گئی اور ہمیں اس بات پر فخر ہوتا ہے کہ ہمارا بچہ ہماری زبان نہیں سمجھتا۔ حالانکہ یہ بات تو ڈوب مرنے کی ہے فخر کی بات نہیں ہے لیکن یہ بھی ایک فیشن بن گیا ہے جب دوسری قوموں کی شکل صورت بنالی گئی نام بھی مسلمان نہ رہا اور زبان بھی اپنی نہ رہی تو آنے والی نسلوں کا اللہ ہی مالک ہے۔ میں عرض کر رہا تھا کہ ناموں کے بارے میں ایک بےاعتدالی تو یہ ہے دوسری طرف وہ لوگ جو اللہ کی صفات کیساتھ نام رکھتے ہیں اس میں عبدیت کا لفظ ہی نکال دیا گیا ہے ۔ عبدالرحمن ، عبدالصمد، عبدالرزاق عبدالخالق کہنے کی بجائے رحمن صاحب ، صمد صاحب رزاق صاحب خالق صاحب نام کردیئے گئے ہیں۔ حالانکہ اس طرح ناموں کو لینا گناہ کبیرہ میں سے ہے لیکن ہم بڑی آسانی سے اس گناہ کبیرہ کو کرتے چلے جار ہے ہیں اور اس کا ذرا احساس نہیں کرتے کہ اس طرح کہنا کتنا بڑا گناہ ہے۔
نام رکھنا ایک فن ہے۔ سائنس کی جو ایجادات ہورہی ہیں یا نئے قوانین فطرت جو دریافت ہو رہے ہیں یا نئی تحقیقات اور معلومات حاصل ہو رہی ہیں ان کے نام رکھے جارہے ہیں ان ناموں کے پیچھے ایک سائنس ہے ایک فن ہے جس پر سب سے پہلے ارسطو نے بحث کی ہے اور اصول مقرر کئے ہیں ۔ ناموں سے چند چیزیں واضح ہوتی ہیں۔ نام کھنے والے کی عقل علم، نفرت، محبت یا عقیدت مسمی یعنی جس کا نام رکھا جائے اس کی تعریف خصوصیت ، خوبی ، خرابی عزت، ذلت وغیرہ کا اظہار ہوتا ہے۔
مثلا لفظ اسلام ہے اس لفظ سے دین اسلا م کی غرض و غائت ایک نگاہ میں معلوم ہوتی ہے یہ نام کسی شخص واحد کے نام پر نہیں بنا۔ مثلا یہودیت ، زرتشت، کنفیو شس بدھازم وغیرہ بےمعنی جغرافیائی لفظ ہیں مثلا ہندو ازم ٹائو ازم یا جین ازم وغیرہ اس کے بر خلاف دوسری طرف لفظ اللہ ہے یہ لفظ بھی خود اپنے اندر ایک بہت بڑی حقیقت لئے ہوئے ہیں۔
یہ لفظ صرف حق تعالیٰ شانہ کے لئے مخصوص ہے اس کا نہ مونث ہے نہ تثنیہ ہے نہ جمع ہے نہ سبب ہے نہ نتیجہ ہے ۔ یہ لفظ دین اسلام کی پہچان ہے۔ کوئی قوم اس کو استعمال نہیں کرتی دوسرے مذاہب نے جو اپنے دیوی دیوتا ، بتو اور معبودوں کے نام رکھ ہیں ان کے مقابلے میں یہ لفظ نہایت اعلیٰ وارفع اور اسلام کی واحدنیت کا ترجمان ہے اس ذات کو اسی نام یا اس کی بہترین صفات سے پکارا جائے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر یہ تصریح فرمادی ہے کہ دنیا میں جہاں بہت سے برے لوگ ہیں وہیں اچھے لوگ بھی ہیں ۔ ان کی پہچان یہ ہے کہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرتے ہیں اور انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ نبی کریم ﷺ نے جب اعلان نبوت فرمایا اس وقت جہاں وہ لوگ تھے اللہ کو برے ناموں سے یاد کرے اور من گھڑت عقائد میں پھنسے ہوئے تھے وہیں وہ اچھے لوگ بھی تھے جو کفار کی ان باتوں سے نفرت کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ لوگ جو برے راستوں پر چل پڑے ہیں ہم آہستہ آہستہ ان کے گرد اپنا گھیرا تنگ کررہے ہیں کیونکہ ہماری تدبیریں آہستہ ہوتی ہیں مگر پائیدار اور پختہ ہوتی ہیں۔
Ayahs 7:184–186تشریح آیت نمبر 184 تا 186
وقت کے دھارے کے خلاف جب بھی کوئی تحریک اٹھتی ہے جو قائم شدہ نظام وقت سے ٹکراتی ہے اور ان لوگوں کے مفادات پر چوٹ پڑتی ہے جنہوں نے مذہب کے نام پر دوسروں کو بیوقوف بنایا ہوا ہوتا ہے تو وہ سب سے پہلے اس شخص کی ذات کو نشانہ بناتے ہیں جو اس دعوت کو لے اٹھتا ہے تاکہ لوگ اس کی باتوں کو دیوانے کی بڑ سمجھ کر نظرا نداز کردیں ۔ یہی صورت حال اس وقت پیش آئی جب خاتم الانبیاء احمد مجتبیٰ حضرت محمد ﷺ نے بتوں کو پوجنے والے اور رسموں کو مذہب کا نام دینے والوں کو للکارا۔
حضرت قتاوہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم ﷺ نے کوہ صفاہ پر چڑھ کر قریش کے تمام قبیلوں کو ایسے الفاظ سے پکارا جیسے دشمن کے خطرہ کے وقت بو لے جاتے تھے ۔ مکہ کے تمام لوگ اس تصور کے ساتھ پہاڑ پہر پہنچ گئے کہ شاید کسی دشمن نے مکہ پر حملہ کردیا ہے ۔ جب سب جمع ہوگئے تو آپ ﷺ نے ہر قبیلے کو نام بنام پکار کر ان کو عذاب الہٰی سے ڈرایا، موت ، قیامت اور زوال و فنا کا نقشہ کھینچ کر فکر آخرت کی طرف متوجہ فرمایا۔
یہ سن کر بعض منکرین اور کفار مکہ نے کہا (نعوذباللہ) ان کو جنون ہوگیا ہے یہ روایت اور بھی متعدد طریقوں سے قرآن کریم میں اور حدیث کی کتابوں میں موجود ہے۔
وہی لوگ جو آپ کے عقل و فہم کے قائل تھے صادق وا مین کہنے سے جن کے منہ سوکھتے تھے جیسے ہی ان کی رسموں اور بتوں اور چلتے دھارے کے خلاف بات کہی گئی تو انہوں نے اللہ کے پیارے نبی ﷺ پر جنون کا الزام لگا دیا۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اس بات پر غور و فکر نہیں کرتے کہ ان کے رفیق حضرت محمد ﷺ کسی جنون مین مبتلا نہیں ہیں بلکہ وہ تو تمہارے برے انجام سے ڈرانے والے ہیں ۔
نبی کریم ﷺ کا بچپن ، جوانی اور ادھیڑ عمری کا زمانہ اور ایک لمحہ ان کے سامنے تھا۔ چالیس سال تک آپ نے ان کے اندر اپنی زندگی کا وقت گذرا تھا۔ ہمیشہ آپ کو صادق و امین ، دانشمند اور سلیم الفطرت سمجھتے رہے اب جو انہوں نے حق و صداقت کی باتیں شروع کیں تو انہوں نے آپ ﷺ پر طرح طرح کی باتیں کرنا شروع کردیں یہاں تک کہ آپ کے خلاف جنونی ہونے کا دعویٰ کرنے لگے اللہ نے فرمایا ہے کہ جس ساری زندگی تمہارے درمیان گذری ہے ان پر اس طرح کا الزام کیسے لگایا جاسکتا ہے ۔ اس بات پر تو تمہارا دل بھی گواہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ پر جنون کا کوئی اثر نہیں ہے۔ یہ کیوں نہیں کہتے کہ ان کی عقل و حکمت کے سامنے تم اور سار دنیا کے عقلا اور حکما حیران و ششدر ہیں ۔
اللہ تعالیٰ ان کے اس احمقانہ انداز فکر پر فرمایا ہے کہ اگر تم کائنات کے حسن انتظام پر غور و فکر کرو تو یہ بات تمہاری سمجھ میں آجائے گی۔ اس پوری کائنات کا خالق ومالک اللہ ہی ہے۔ اس کی ہر چیز اس کے خالق ہونے پر گواہ ہے۔ یہ زندگی کا مختصر سا عرصہ ہے جس میں غور فکر کر کے اللہ پر ایمان لے آنے والے ہی کامیاب و با مراد ہوں گے۔ لیکن جنہوں نے اس وقت کو غفلت میں گذار دیا ان کو راہ ہدایت نصیب نہ ہوگی ۔
فرمایا کہ ہمارا نبی تمہارے سامنے اسی حقیقت کو رکھ رہا ہے ۔ اگر تم اس کے بعد بھی ایمان نہیں لائو گے تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ بھٹکنا ہی تمہارا مقدر بن چکا ہے۔ تم دوزخ میں جانے پر تلے بیٹھے ہو۔ رسول ﷺ کے سوا اور کون ہے جو تمہیں راہ ہدایت دکھا سکے۔ جس کو اللہ ہی بھٹکا دے اس کو راستہ ملنا مشکل ہے۔
Ayahs 7:187–188لغات القرآن۔
یسلئونک ۔ وہ آپ سے پوچھتے ہیں۔ ایان۔ کب۔ مرسی۔ (ارشاء) ۔ ٹھہرنا۔ قائم رہنا۔ لا یجلی۔ وہ ظاہر نہیں کرتا۔ ثقلت۔ بھاری ہے۔ حفی۔ کھوج لگانا۔ تلاش کرنے والا۔ لا املک ۔ میں مالک نہیں ہوں۔ لنفسی۔ اپنی جان کے لئے۔ لا اعلم الغیب۔ میں غیب کا جاننے والا نہیں ہوں۔ لا ستکثرت۔ البہت میں بہت کچھ سمیٹ لیتا۔ مامسنی۔ مجھے نہ پہنچتی۔ السوء۔ کوئی تکلیف۔ برائی۔
تشریح : قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اس بات کو وضاحت سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ کچھ چیزیں وہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے پردہ غیب میں رکھا ہے ان ہی میں سے قیامت بھی ہے۔ قیامت کب آئے گی کس طرح آئے گی اس کی بعض علامات تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمائی ہیں مگر اللہ نے اس کا علم کسی کو بھی نہیں دیا کہ قیامت کب واقع ہوگی۔ اس سلسلہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جنتی معلومات دینا چاہتا ہے اور مناسب سمجھتا یہ دے دیتا ہے اس سے زیادہ پردہ غیب میں رکھا گیا ہے۔
ان آیات میں دومرتبہ یہ فرمایا گیا ہے کہ قیامت کب آئے گی اس کا علم صرف اور صرف اللہ کو ہے اس نے اس کو بڑی مصلحتوں سے پوشیدہ اور مخفی رکھا ہے۔ یہاں اتنا بتا دیا گیا ہے کہ قیامت اتنا ہولناک واقع ہے کہ جب آئے گی تو سب کو معلوم ہوجائے گی وہ آہستہ آہستہ تدریجی منزلوں سے گزر کر نہیں آئے گی بلکہ وہ اچانک آئے گی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لوگ اپنے کاروبار میں (حسب معمول) مشغول ہوں گے ایک شخص کپڑا فروخت کر رہا ہوگا گا ہی سے قیمت طے کرنے کی نوبت نہیں آئے گی کہ قیامت آموجود ہوگی۔ ایک شخص دودھ دوہ رہا ہوگا۔ ایک شخص کھانے کا لقمہ اٹھائے گا ابھی وہ لقمہ منہ تک نہ پہنچے گا کہ قیامت برپا ہوجائے گی۔
قیامت کی تاریخ دن اور گھڑی کو اس طرح پوشیدہ رکھا گیا ہے جس طرح کسی کی موت کی گھڑی ۔ اللہ تعالیٰ نے بہت کچھ پردہ غیب میں چھپا رکھا ہے۔ کسی کو نہیں معلوم کہ کل اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔
یہاں حضور اکرم ﷺ کی زبانی یہ کہلوایا گی ہے کہ میں اپنی ذات کیلئے بھی نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتا ہی ہوت ا ہے جسے اللہ جہاں جیسے چاہیے کرتا ہے۔ اگر مجھے غیب اور آئندہ کے پیش آنے والے واقعات کا پہلے سے علم ہوتا تو میں بہت سے فائدے حاصل کرلیتا ہے اور بہت سے نقصانات سے بچ جاتا۔