7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 7:59–64

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:59 in the Quran reader

ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی اپنی قوم کی طرف بھیجا۔ اس نے سمجھایا کہ اے برادران قوم اللہ کی عبادت و بندگی کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ میں ڈرتا ہوں کہیں تم پر زبردست دن کا عذاب نہ آپڑے

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 7:60 in the Quran reader

اس قوم کے سرداروں نے کہا، ہم تمہیں ہی کھلی ہوئی گمراہی میں دیکھ رہے ہیں

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:61 in the Quran reader

نوح (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم کے لوگو ! میں ہرگز بہکا ہوا نہیں ہوں۔ میں تو تمام جہانوں کے مالک و مختار کی طرف سے بھیجا ہوا ہوں

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:62 in the Quran reader

میں اپنے پروردگار کے پیغامات تم سب تک پہنچا تا ہوں۔ میں تمہاری بھلائی چاہتا ہوں۔ اور میں اللہ کی طرف سے وہ علم رکھتا ہوں جو تم لوگ نہیں رکھتے۔

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:63 in the Quran reader

(برادران قوم) آخر تم اس بارے میں کیوحیران ہو کہ تمہارے رب کا پیغام تمہارے پاس ایک ایسے شخص کے زریعہ آگیا جو تم ہی میں سے ہے۔ یہ اس لئے ہے کہ وہ تمہیں بہتر سمجھا سکے اور تمہیں تقویٰ کی راہ پر لگا سکے تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ۠ Open ayah 7:64 in the Quran reader

مگر ان لوگوں نے نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا پھر ہم نے ایک کشتی کے ذریعہ اس کو اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات عطا کی اور ان سب کو غرق کردیا جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے۔ یقینا وہ قوم اندھی ہوچکی تھی۔

لغات القرآن آیت نمبر (59 تا 64 ) ۔ الملا (سردار ) ۔ لنرک (البتہ ہم تجھے دیکھتے ہیں ) ۔ ضللتہ (گمراہی) ۔ ابلغ (میں پہنچاتا ہوں) ۔ انصح (نصیحت کرتا ہوں) ۔ عجبتم (تم نے تعجب کیا) ۔ لینذر (تاکہ وہ ڈرائے) ۔ انجینا (ہم نے نجات دی) ۔ الفلک (کشتی۔ جہاز) ۔ اغرقنا (ہم نے غرق کردیا) ۔ عمین (اندھے (بن گئے) ۔ تشریح : آیت نمبر (59 تا 64 ) ۔ ” ہر پیغمبر اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا ہے اور جیسا کہ سورة ابراہیم میں ارشاد ہے کہ وہ ان ہی کی زبان میں کلام کرتا ہے تاکہ دل کی بات دل تک آسانی سے پہنچ سکے۔ وہ ان ہی کے درمیان پیدا ہوتا ہے۔ ان ہی کے درمیان بچپن، نوجوانی اور جوانی کی منزلیں طے کرتا ہے اور اس کی شخصیت صادق ، امین، قابل اعتماد اور نیک نام ہوتی ہے تاکہ وہ اپنے کردار کو دلیل کے طور پر پیش کرسکے۔۔۔۔ ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم صرف کافر نہ تھی بلکہ مشرک بھی تھی اور کسی قوم کا کفر کے ساتھ شرک میں مبتلا ہونا یہ بہت خطرناک ہے ۔ ۔۔ ۔ وہ کیا چیز ہے جو کسی قوم کو کافر اور مشرک بناتی ہے ؟ وہ ہے اس دنیا کا مادی مفاد، وقتی فائدہ، دنیا کی بےجا حرص اور لالچ۔۔۔۔ جب ہم اور ہمارا جسم مادی اور مادی ضروریات اور خواہشات کے پیچھے بھاگتا ہے لپکتا ہے جب ہم آخرت میں جسم کے ساتھ موجود ہوں گے۔ اور جہنم میں مادی عذاب بھی ہوگا ۔ جنت میں مدی نعتیں بھی ہوں گی تو مادی مفادات کی طلب بذات خود کوئی بری چیز نہیں ہے۔۔۔۔ مگر اس دنیا کے مفادات عارضی ہیں فانی ہیں مختصر ہیں اور ہزاروں چپقلشوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ کفار و مشرکین کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ان کی آنکھیں اس سے آگے نہیں دیکھتیں۔ چناچہ وہ اس کے حصول کے لئے ہر قسم کے سماجی ، سیاسی اور معاشی جرائم کرنے میں شرم اور لحاظ نہیں کرتے ۔ اس کے برخلاف ایک مسلم کی آنکھیں اس سے آگے ان لافانی ابدی اور عظیم مفادات کو دیکھتی ہیں جن کا نام جنت اور اس کی ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں۔ جن کی قیمت اخلاق ایمان ، اطاعت اور دیانت وامانت ہے۔۔۔۔ ۔۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو یہی سمجھاتے رہے کہ اے میری قوم اپنی روحانی آنکھوں اور بصیرت کو کھول کر دیکھو تو یہ دنیا کے فنا ہوجانے والے جن کی وجہ سے تم اپنے خالق ومالک سے بہت دور جا چکے ہو یہ بہت جلدختم ہوجائیں گے مگر کچھ لوگوں کے سوا کسی نے آپ کی اس پکار کو نہیں سنا۔ جنہوں نے اس کو سنا اور عمل کیا اللہ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ ان صاحبان ایمان لوگوں کو نجات عطا فرما دی۔ جس وقت یہ آیات نازل ہوئیں اس وقت خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بھی ان ہی جیسے حالات سے دوچار تھے۔ مکہ کے کفار اور مشرکین کی آنکھیں ، فوری اور لافانی فوائد سے آگے نہیں دیکھ رہی تھیں بلکہ ان کے مذہبی ٹھیکہ دار اور اجارہ دارعوام کی نگاہوں پر زبردستی کالی پٹیاں باندھے ہوئے تھے جن کالی پٹیوں کے خلاف نبی مکرم ﷺ جہاد فرما رہے تھے۔۔۔۔ ۔ ان آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ کی طرف اشارہ کر کے مکہ کے کفار و مشرکین اور قیامت تک آنے والے ایسے ہی غلط کار لوگوں کو بتایا جا رہا ہے کہ اللہ کی سنت اور طریقہ تبدیل نہیں ہوتا جس طرح نوح (علیہ السلام) کے ساتھ لوگوں نے معاملہ کیا اور ان لوگوں کا بھیانک انجام ہوا۔۔۔۔ ۔۔ فرمایا جارہا ہے کہ نبی مکرم ﷺ بھی تمہیں آج جو کچھ بتا اور سمجھا رہے ہیں اگر تم نے اس کو نہ سمجھا تو حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کی طرح تمہارا انجام بھی اس سے مختلف نہ ہوگا ۔ خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے صدقے آج ہم ان بہت سے عذابوں سے محفوظ ہیں جو ہم سے پہلے والی قوموں پر آئے۔۔۔۔ لیکن یادرکھنے کی بات یہ ہے کہ برائی کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوتا۔ یہی اصول فطرت ہے۔ اگر یہ سوال اٹھایا جائے کہ ظالم اقوام پر اس قسم کے فطری عذاب اب کیوں نہین آتے جو قوم نوح (علیہ السلام) قوم عاد قوم ثمود اور قوم لوط پر آئے تھے تو اس کا ایک جواب تو ابھی دیا گیا ہے کہ یہ نبی مکرم ﷺ کی رحمت و برکت ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اب فطری عذاب کی ضرورت نہیں ہے۔ اب امت مسلمہ کے ہاتھ میں تبلیغ، تنظیم اور جہاد و قتال کے ہتھیار ہیں۔ اگر ان کو صحیح استعمال کیا جائے تو یہ کافروں کے حق میں طوفان، آندھی اور زلزلوں سے بڑھ کر ہیں۔ جہاد جو قیامت تک جاری رہے گا۔ کیوں، کیسے، کہاں اور کب ہوگا۔ وہ خاص الخاص چیز ہے جس نے امت محمدیہ ﷺ کو تاریخ میں ایک اعلیٰ مقام عطا کیا ہے۔ جس نے شریعت محمدی کو سابق شریعتوں سے ممتاز کیا ہے جس نے ہمارے پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو دیگر تمام پیغمبروں پر ایک خاص عظمت بخشی ہے۔ قرآن کریم اور دیگر صحیفوں میں یہی وجہ امتیاز ہے کہ یہاں تبلیغ، تنظیم اور جہاد ہے اور یہاں ایک پیغمبر جہاد ہے جس کی عملی مثالیں رہتی دنیا تک قائم و دائم رہیں گی۔
Ayahs 7:65–70

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 7:65 in the Quran reader

اور قوم عاد کر طرف ہم نے ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو بھیجا۔ انہوں نے کہا ! اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی عبادت و بندگی کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ پھر کیا تم اسی سے خوف اور امید نہیں رکھو گے ؟

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 7:66 in the Quran reader

ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا کہ (اے ہود (علیہ السلام) ہم تجھے با سمجھ اور بےعقل دیکھ رہے ہیں اور بیشک ہم تجھے جھوٹے لوگوں میں سے سمجھتے ہیں

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:67 in the Quran reader

انہوں نے (حضرت ہود (علیہ السلام) نے) کہا اے میری قوم کے لوگو ! مجھ میں کوئی بےعقلی نہیں ہے بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ Open ayah 7:68 in the Quran reader

میرا کام اپنے رب کا پیغام پہنچانا ہے اور میں تم لوگوں کے حق میں امانت داری سے نصیحت کرنے والا ہوں۔

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ١ؕ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْۜطَةً١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:69 in the Quran reader

کیا تمہیں اس پر حیرت اور تعجب ہے کہ تمہارے پروردگار کی نصیحت تم ہی میں سے ایک انسان کے ذریعہ آئی ہے تاکہ وہ تمہیں (برے انجام سے) ڈرائے۔۔۔۔ ۔ اور یاد کرو جب کہ اس نے تمہیں قوم نوح (علیہ السلام) کے بعد ان کا جانشین بنایا اور اپنی مخلوقات میں سے تمہیں زیادہ نعمتوں سے نوازا ہے پس تم اللہ کی نعمتوں کی قدر کروتا کہ تم دونوں جہانوں کی بھلائی حاصل کرسکو۔

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَ نَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:70 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ کیا تو ہمارے پاس اس مقصد سے آیا ہے کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں اور جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کیا کرتے تھے ان کو چھوڑدیں۔۔۔۔ اگر تو سچے لوگوں میں سے ہے تو ہم پر اس عذاب کو لے آ جس سے تو ہمیں ڈراتا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر (65 تا 70 ) ۔ سفاھتہ (بےوقوفی۔ بےعقلی) ۔ نظن (ہم گمان کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں) ۔ امین (ایماندار) ۔ بصطتہ (پھیلاؤ) ۔ الاء (الی) ۔ نعمتیں) ۔ اجئتنا (کیا تو ہمارے پاس آیا ہے) ۔ لنعبد اللہ (تاکہ ہم اللہ کی عبادت و بندگی کریں) ۔ وحدہ (اس اکیلے کی۔ تنہا کی) ۔ ابائونا (ہمارے باپ دادا) ۔ فاتنا (پس تو لے آ) ۔ تعدنا (تو ہم سے وعدہ کرتا ہے) ۔ تشریح : آیت نمبر 65 تا 70 ) ۔ ” قوم عاد دنیا کی قدیم ترین قوموں میں سے ایک قوم ہے اللہ نے ان کو ہر طرح کی نعمتوں سے نوازا تھا مگر وہ قوم ان نعمتوں کو پا کر ایسی مد ہوش ہوگئی کہ پھر ان کو ہر نصیحت کرنے والا برا لگنے لگا تھا۔ اس قوم کی حکومت و شوکت اور زبردست طاقتوں کے سامنے ساری دنیا بےبس تھی مگر ان کے غرور، تکبر اور اللہ کی نافرمانیوں نے ان کو اس طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیا کہ آج ان کی بلند وبالا عمارتوں کے کھنڈرات بھی مٹ چکے ہیں۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کو اس قوم کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا تھا۔۔۔۔ ۔۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کی یہ قوم مشرک تھی جس نے شرک و بدعات کے ایسے طریقے ایجاد کر رکھے تھے جن سے وہ اللہ کی وحدانیت سے بہت دور جاچکے تھے حضرت ہود (علیہ السلام) نے اس مشرک قوم سے سب سے پہلے جو بات کی وہ یہ تھی کہ اللہ اور صرف اللہ ہی کی حاکمیت کو تسلیم کرو جس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس کی بندگی اور عبادت ہی سب سے بڑی نعمت ہے۔ بندگی اور عبادت کیا ہے ؟ تقویٰ ہے یعنی نہ صرف ظاہری رسوم پر ستش بلکہ تمام خوف اور تمام امیدوں کو اللہ سے وابستہ کرلینا۔۔۔۔ ۔۔ زبان پر صرف یہی ایک جذبہ ہو ” ایاک نعبد وایاک نستعین “ اے اللہ ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں یعنی ہم عبادت و بندگی بھی تیری ہی کرتے ہیں اور مدد بھی تجھ سے ہی مانگتے ہیں یہ نہیں کہ عبادت ہم تیری کرتے ہیں اور غیر اللہ کے دروں پر جا کر ان سے مرادیں مانگتے ہیں۔۔۔۔ ۔ یہ کیفیت شرک میں تو ہو سکتی ہے دین اسلام میں نہیں۔ کیونکہ وہاں بندہ آقا ہوتا ہے جس کی جا ہے جیسے پرستش کرے نہ کرے جس کو مانے نہ مانے جس سے دعا مانگے نہ مانگے۔ شرک ہمیشہ بہت معمولی انداز میں شروع ہوتا ہے پھر یہ ایک قومی بیماری بن جاتی ہے۔ جب شرک قومی سطح پر ابھر کر سامنے آجاتا ہے تو اس کے مجاور قوم کی دولت اور سیاسی اقتدار لوٹنے کے لئے مذہبی لبادہ سے بہتر اور آسان تر کوئی طریقہ نہیں پاتے۔ اگر مصنوعی معبودوں کی مارکیٹ ویلیو گھٹنے لگتی ہے تو ان کی اجارہ داری ڈولنے لگتی ہے اس لئے تحریک توحید کی سب سے پرزور مخالفت اس ہر اول دستے نے کی ہے اور عوام کی بھیڑ ان کے پیچھے پیچھے چل پڑتی ہے کیونکہ اس میں علم نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی چند تمناؤں کا نام دین بن کر وہ جاتا ہے اور یہ آسان ہے۔ اس ہر اول دستہ کے ہاتھ میں چند ہتھیار ہوتے ہیں (1) اپنی معلومات معقولات کا گھر وندا بچانے کے لئے وہ اصلاح کرنے والے شخص کے علم و عقل کے مرکز پر حملہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ’ تم جاہل، احمق اور جھوٹے ہو “ اگرچہ وہ ان باتوں کے لئے کوئی دلیل پیش نہیں کرتا مگر وہ اپنے گھمنڈ میں اس طرح کہتا چلا جاتا ہے کہ بس جو کچھ ہم نے کہہ دیا وہی حق ہے اس کے بر خلاف ہر بات غلط ہے۔ اور ان کے ماننے والے ان کی ہر بات پر گردن ہلاہلا کر مہر تصدیق ثبت کرتے چلے جاتے ہیں۔ حضرت ہود (علیہ السلام) سے بھی یہی کہا گیا کہ اے ہود (علیہ السلام) ہم تو یہ دیکھ رہے ہیں کہ یا تو تم نرے احمق اور نادان ہو اور یا جھوٹے ہو ) نعوذباللہ) پیغمبران کی احمقانہ باتوں کے جواب میں صرف یہ کہتے ہیں کہ لوگو ! یہ تمہارا خیال ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ میرے اندران عیبوں میں سے کوئی عیب نہیں ہے جس کو تم کہہ رہے ہو بلکہ میں تو رب العالمنا کا بھیجا ہوا ہوں اور میں اسی پیغام کو تم تک پہنچا رہا ہوں اور میں تمہارا خیر خواہ اور بھلا چاہنے والا ہوں یعنی میں تمہاری دنیا اور آخرت سدھار نے کی بات کر رہا ہوں جس میں میرا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے۔ (2) جیسے لوگوں کا دوسرا ہتھیار یہ ہوتا ہے کہ ” یہ کیسے ممکن ہے کہ جو شخص ہمارے اندر پیدا ہوا ہے۔ ہماری طرح شادی بیاہ کرتا ہے وہ کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے جو ہم جیسا ہے وہ اللہ کا پیغمبر کیسے ہو سکتا ہے آخر اس میں کیا خوبی ہے اور ہمارے اندر کیا خرابی ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ شخص ہماری سرداری اور اقتدار ہم سے چھین کر خود سردار بننا چاہتا ہے انبیاء کرام (علیہ السلام) کر طرح حضرت ہود (علیہ السلام) سے بھی یہی کہا گیا اس کے جواب میں حضرت ہود (علیہ السلام) نے یہی فرمایا کہ ” کیا تمہیں اس بات پر تعجب اور حیرت ہے کہ ایک شخص تم ہی میں سے تمہارے پاس اللہ کی وحی لے کر آگیا تاکہ وہ تمہیں تمہارے برے انجام سے ڈراسکے۔ (3) ان لوگوں کا تیسرا ہتھیار ہوتا ہے کہ اے نبی اگر تم یہ کہتے ہو کہ ہم باز نہ آئے تو اللہ کا عذاب آجائے گا تو ایسا کرو تم اس عذاب کو لے ہی آئو جس سے تم روز روز ڈراتے ہو ۔ یہ ہمارے معبود ہمیں بچالیں گے۔ ہم اتنے احمق نہیں ہیں کہ تمہارے کہنے سے ہم ان تمام معبودوں کو چھوڑ دیں گے جن کو ہمارے باپ دادا اپنا معبود سمجھتے تھے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کا سنجیدہ جواب یہی تھا کہ تم پر اللہ کی پھٹکار تو پڑچکی ہے اب عذاب آنے میں بھی کیا دیر ہے۔
Ayahs 7:71–72

قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ١ؕ اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 7:71 in the Quran reader

حضرت ہود (علیہ السلام) نے کہا کہ تمہارے پروردگار کا غصہ اور غضب تو تم پر مقدر ہوچکا ہے کیا تم مجھ سے ان ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے بغیر کسی دلیل کے رکھ لئے ہیں۔ تم (اللہ کے عذاب کا) انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والاہوں

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 7:72 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کو (ہود (علیہ السلام) کو ) اور جو اس کے ساتھ تھے اپنی رحمت سے نجات عطا فرمائی اور وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا اور وہ نہیں مانتے تھے ان کو جڑ کاٹ کر رکھدی۔

لغار القرآن آیت نمبر (71 تا 72 ) ۔ قدوقع (یقینا واقع ہوچکا ہے) ۔ رجس (گندگی۔ عذاب) ۔ اتجاد لوننی (کیا تم ہم سے جھگڑتے ہو) ۔ اسمآء (اسم) ۔ نام) ۔ سمیتموا (تم نے نام رکھ لئے ہیں) ۔ انتظروا (تم انتظار کرو) ۔ قطعنا (ہم نے کاٹ ڈالا) ۔ دابر (دبر) ۔ جڑ) ۔ تشریح : آیت نمبر (71 تا 72 ) ۔ ” وہ قوم جس کی طرف حضرت ہود (علیہ السلام) بھیجے گئے تھے ” عاداول “ کہلاتی ہے۔ یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی نسل سے تھی۔ ان کا اقتدار عمان سے لے کر حضر موت اور یمن تک وسیع تھا۔ ان کی زمینیں بڑی سر سبز و شاداب تھیں، وہ لوگ ہر طرح کی نعمتوں سے مالامال تھے جسمانی صحت اور طویل العمری میں بھی ان کا کوئی مقابل نہ تھا اسی لئے غرور تکبر اور کفر و شرک میں بھی بڑے شہ زور تھے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے مختلف طریقوں سے ان کو سمجھانے کی کوشش کی۔ فرمایا دیکھو یہ اللہ کی نعمتیں جو چاروں طرف سے تمہاری طرف آرہی ہیں یہ اس للہ کا کرم ہے جس نے تمہیں زندگی اور وجود بخشا ہے اسی ذات کا شکر ادا کرتے ہوئے ہر طرح کے کفر و شرک سے بچتے رہو۔ مگر وہ اپنی بد مستیوں میں ہر چیز کو بھول چکے تھے اور اسی غرور وتکبر اور سر کشی میں اللہ کے عذاب کو دعوت دے بیٹھے اور کہنے لگے کہ ہم تو اپنے باپ دادا کے معبودوں کو نہیں چھوڑ سکتے۔ اے ہود اگر تو اور تیرا پروردگار سچا ہے تو ہم پر اس عذاب کو لے آجس سے تو ہمیں ہر روز ڈراتا ہے۔ جب کوئی قوم سر کشی کی اس منزل تک آجاتی ہے تو اللہ اپنے عذاب کو بھیج کر رہتا ہے۔ چناچہ حضرت ہود (علیہ السلام) نے اعلان کردیا کہ اب تمہارے اوپر وہ عذاب آنے والا ہے جس کا تم مطالبہ کر رہے ہو تم اس کا انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں۔ چنانچہ شدید آندھی کا طوفان آیا۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور ان کے ماننے والے تو اللہ کی رحمت سے بچ گئے لیکن کفارو مشرکین سب اس طرح ختم ہوگئے کہ گویا ان کی جڑہی کٹ کر رہ گئی ہو۔ اس کے بعد ان کے وہ بڑے بڑے محلات بلڈنگیں ان کی شان و شوکت سر سبز و شاداب باغات اس طرح تباہ و برباد ہوگئے کہ آج دنیا میں ان کے کھنڈرات بھی باقی نہیں ہیں۔ وہ جھوٹے معبود جن کے انہوں نے اپنی حاجت روائی کے لئے مختلف نام رکھے ہوئے تھے ان کے کام نہ آسکے۔ جن کو وہ اپنا رازق، خالق اور مشکل کشا مانتے تھے ان کی کوئی مشکل کشائی نہ کرسکے۔
Ayahs 7:73–79

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 7:73 in the Quran reader

اور قوم ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو بھیجا۔ اس نے کہا اے میری قوم ! اس اللہ کی اطاعت و بندگی کرو جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے کھلی نشانی آچکی ہے۔ یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لئے ایک نشانی ہے تم اس کو چھوڑ دوتا کہ وہ اللہ کی زمین سے کھائے اور اس کو بری نیت سے ہاتھ نہ لگانا (اگر تم نے ایسا کیا تو) اللہ کا عذاب تمہیں پہنچ جائے گا۔

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَكُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:74 in the Quran reader

اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جب اس نے تمہیں قوم عاد کا قائم مقام (جانشین) بنایا تھا اس نے تمہیں زمین میں ٹھکانا عطا کیا۔ نرم زمین میں تم محل بناتے ہو۔ پہاڑوں کو تراش کر ان میں گھر بناتے ہو۔ تم اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھو اور زمین میں فساد نہ مچاتے پھرو۔

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:75 in the Quran reader

ان کی قوم کے تکبر کرنے والے سرداروں نے ان غریب اور کمزور لوگوں سے جو ایمان لا چکے تھے کہا کہ کیا تمہیں یقینی علم ہے کہ ” صالح اپنے پروردگار کی طرف سے بھیجا گیا ہے ؟ “ انہوں نے کہا کہ ہمیں تو اس پر یقین ہے جس کے ساتھ وہ بھیجا گیا ہے۔

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِیْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 7:76 in the Quran reader

ان تکبر کرنے والوں نے کہا کہ جس پر تمہیں یقین ہے ہم اس کو نہیں مانتے بلکہ انکار کرتے ہیں۔

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 7:77 in the Quran reader

پھر انہوں نے اونٹنی کو مار ڈالا اور اپنے پروردگار کے حکم کی نافرمانی کی اور کہنے لگے کہ اے صالح (علیہ السلام) اگر تو رسولوں میں سے ہے تو اس عذاب کو لے آ جس سے تو ہمیں ڈراتا ہے

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ Open ayah 7:78 in the Quran reader

پھر ان کو ایک زلذلہ نے آگھیرا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 7:79 in the Quran reader

پھر وہ (صالح (علیہ السلام) یہ کہتے ہوئے چلے کہ اے میرے قوم میں نے اپنے رب کا پیغام تم تک پہنچا دیا ہے اور خیر خواہی کا حق ادا کردیا ہے۔ لیکن تمہیں تو وہ لوگ پسند نہیں ہیں جو تمہاری خیر خواہی کرتے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر (73 تا 79) ۔ نقتہ اللہ (اللہ کی اونٹنی) ۔ ذروھا۔ (اس کو چھوڑے رکھنا) ۔ تاکل (کھائے گی) ۔ لاتمسو (تم نہ چھونا) ۔ بسوء (برائی سے۔ بری نیت سے) ۔ بوا (اس نے ٹھکانا دیا) ۔ سھول (نرم جگہیں) ۔ قصور (قصر) ۔ محلات) ۔ تنحتون (تم تراشتے ہو) ۔ الجبال (الجبل) ۔ پہاڑ) ۔ بیوت (گھر) ۔ لا تعثوا (تم نہ پھرو) ۔ استکبروا (جنہوں نے بڑائی کی۔ تکبر کیا) ۔ استضعفوا (جو کمزور بنادیئے گئے تھے) ۔ عقروا (انہوں نے کاٹ ڈالا) ۔ عتوا (نافرمانی کی) ۔ اخذت (پکڑ لیا۔ آلیا) ۔ الرجفتہ (زلزلہ۔ بھونچال) ۔ جٰثمین (اوندھے پڑے ہوئے) ۔ نصحت (میں نے نصیحت کردی تھی) ۔ لا تحبون (تم پسند نہیں کرتے) ۔ الناصحین (نصیحت کرنے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر (73 تا 79) ۔ ” قوم عاد کے بعد قوم ثمود دوسرے بڑی قوم ہے جو بہت زیادہ مشہور ہے اس کو عاد ثانی بھی کہتے ہیں۔ ان کا سلسلہ نسب بھی حضرت نوح (علیہ السلام) تک پہنچتا ہے۔ تاریخی اعتبار سے قوم عاد کی بربادی کے بعد جس قوم کو سب سے زیادہ عروج حاصل ہوا وہ قوم ثمود تھی، ان پر نعمتوں کی بہتات تھی ان کا علاقہ مغربی عرب کا وہ مقام ہے جو آج بھی ” الحجر “ کے نام سے مشہور ہے جو مدینہ منورہ اور تبوک کے درمیان واقع ہے یہاں چھوٹے چھوٹھ پہاڑ ہیں جنہیں تراش کر انہوں نے شہر بسالئے تھے جن میں خوبصورت مکان، بلند وبالا بلڈنگیں، چوڑی سڑکیں، بہترین پانی کے کنویں غرضیکہ یہ قوم ہر طرح کی مال و دولت سے مالا مال تھی۔ سورة الفجر میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے شہر ارم جیسا دوسرا کوئی عالی شان شہر آج تک دنیا میں نہیں بن سکا۔ ان کے وسیع و عریض کھنڈرات آج بھی تازیانہ عبرت کی واضح مثال بنے ہوئے ہیں مدینہ منورہ سے بہت زیادہ فاصلہ پر نہیں ہیں حجاز کے تجارتی قافلے اس راستے سے گذرا کرتے تھے غزوہ تبوک کے موقع پر جب آپ ﷺ اس علاقے میں پہنچے تو آپ ﷺ نے اس کنویں اور جہاں اس قوم پر عذاب آیا تھا صحابہ کرام ؓ کو بتایا اور یہ فرمایا کہ یہ وہ علاقہ ہے جہاں اللہ نے قوم ثمود پر عذاب نازل کیا تھا۔ آپ ﷺ نے اس موقع پر صحابہ کرام ؓ کو جمع کر کے ایک خطبہ بھی ارشاد فرمایا جس میں انہیں اس قوم کی نافرمانی اور اس کے نتیجے میں اللہ کے عذاب سے متعلق باتیں بتا کر عبرت دلائی۔ ان ہی قوم کے فرد حضرت صالح (علیہ السلام) کو ان کی ہدایت و رہنمائی کے لئے ان کی طرف بھیجا آپ ْ ﷺ نے جب ان لوگوں کو بتایا کہ وہ اللہ کی طرف سے ان کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے ہیں اور انہوں نے اس قوم کو شرک و بدعات سے روکنے کی کوشش کی تو اس قوم نے ماننے کے بجائے یہ کہا کہ اے صالح (علیہ السلام) ہم اس بات کا کیسے یقین کرلیں کہ تمہیں ہماری طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہے جب تک ہم اپنی آنکھوں سے کوئی معجزہ نہ دیکھ لیں تمہارے اوپر ایمان نہ لائیں گے۔ ہمیں اپنی نشانی کے طور پر کوئی معجزہ دکھایئے۔ مطالبہ یہ تھا کہ ایک بہت ہی اونچی اور بہت موٹی تازی اونٹنی سامنے والی پہاڑی سے پیدا کر کے دکھا دو اس کے جسم پر خاص نشانات ہوں پھر وہ انٹنی فوراً ایک نر بچہ جنے وہ بھی ضوب اونچا اور فربہ ہو۔ اس کے جسم پر بھی خاص نشانات ہوں۔ اے صالح (علیہ السلام) اگر تم ایسی اونٹنی اور بچہ کا معجزہ دکھا دو گے تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ آپ نے اللہ سے دعا کی۔ اللہ کے حکم سے سامنے والی پہاڑی سے ایسی اونٹنی بھی پیدا ہوگئی اور اس کا بچہ بھی۔ مگر چند خاص لوگوں کے سوا کوئی بھی ایمان نہیں لایا۔ ان آیات میں حضرت صالح (علیہ السلام) نے جو ربانی تبلیغ فرمائی ہے وہ اونٹنی اور اس کے بچے کی پیدائش کے بعد ہے جس میں انہوں نے فرمایا ہے کہ : تمہارے رب کی نشانی تم تک پہنچ چکی ہے اب تم حسب وعدہ ایمان لاؤ۔ مگر انہوں نے اس کھلی ہوئی نشانی کو دیکھ کر بھی ایمان لانے سے انکار کردیا۔ اونٹنی اور اس کا بچہ قدو قامت میں جتنے لمبے چوڑے بلند اور فربہ تھے کھانے پینے کی ان کو اتنی ہی ضرورت تھی وہ آزادانہ کھیتوں اور ندیوں میں دندناتے پھرتے اور جو کچھ چاہتے کھاپی جاتے اس سے ثمودیوں میں سخت غم و غصہ اور خلفشار پیدا ہوگیا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ جب تم نے اللہ سے اتنے بڑے بڑے جانوروں کی فرمائش کی تھی تو یہ بھی سوچا تھا کہ آخر انہیں کھلاؤ پلاؤ گے کہاں سے ؟ اب اپنی حماقت کا نتیجہ بھگتو۔ یہ انٹنی اللہ کی قدرت کی نشانی ہے اسے کھانے پینے کے لئے آزاد چھوڑ دو ۔ مجھے اندازہ ہے کہ تم بہت دیر تک برداشت نہ کرسکو گے لیکن یاد رکھو اگر تم نے ان کو ذرا بھی تکلیف پہنچائی تو اللہ کا درد ناک عذاب تم پر ٹوٹ پڑے گا۔ ایسا ہی ہوا اس قوم کے ایک فرد جس کا نام ” قیدار “ آتا ہے اس نے ایک عورت کے عشق میں مبتلا ہو کر اس کے بہکانے پر اس اونٹنی اور اس کے بچے کو ذبح کردیا چونکہ اس ایک شخص کے پیچھے پوری قوم کی حمایت شامل تھی اس لئے عذاب نے پوری قوم کو لپیٹ میں لے لیا۔ اس جگہ اور قرآن کریم کی دوسری آیات و احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی گناہ کسی قوم کے اندر ہوتا ہے اور قوم اس کو جاننے کے باوجود اس پر راضی ہے تو پوری قوم کا مقدر وہ عذاب ہوا کرتا ہے جس کی لپیٹ میں برے لوگوں کے ساتھ نیک اور صالح لوگ بھی آجایا کرتے ہیں۔ غرضیکہ حضرت صالح نے اس قوم کو ہر طرح سمجھایا مگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئی۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان پر واضح کردیا تھا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر کیسے کیسے گراں قدر انعامات کئے ہیں اس لئے اس کا احسان مانو شکر کرو ظلم فساد شرک و بدعات اور گناہوں کے کاموں سے توبہ کرکے ویمان لائو اور شریعت پر چلو لیکن ہوا وہی جو عام طور پر ہوا کرتا ہے۔ کفر و شرک اور صحت اور فراغت جب ایک جگہ جمع ہوجاتے ہیں تو عام طور پر بصیرت رخصت ہوجاتی ہے فرد ہو یا جماعت لوگ اللہ سے غافل ہو کر ابلیس کے جال میں کود پڑتے ہیں۔۔۔۔ قوم ثمود کے سامنے قوم عاد اور قوم نوح کے واقعات زندہ و تابندہ تھے لیکن انہوں نے کوئی نصیحت اور عبرت نہیں پکڑی وہ اپنے کفرو شرک اور بدعات سے چمٹے رہے۔ ان کے بد مست اور بد کردار سردار جو اپنے اقتدار اور دولت میں مست تھے طنز کے طور پر اہل ایمان سے پوچھنے لگے کہ : ” کیا واقعی صالح (علیہ السلام) کو اس کے (ہمارے نہیں) رب نے رسول بنا کر بھیجا ہے “ ؟ انہوں نے جواب میں شخصیت سے بحث نہیں کی بلکہ حضرت صالح کے لائے ہوئے پیغام کو ثبوت میں پیش کیا۔ اور کہا کہ ہم تو سو فیصد اس پیغام کو صحیح اور درست مانتے ہیں اور یہی ثبوت ان کی نبوت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ سرداروں نے پورے تکبر اور غرور سے کہا کہ تم نادان ہو تم مان لو۔۔۔۔ ۔۔ ۔ لیکن ہم اس پیغام کو صحیح نہیں مانتے۔
Ayahs 7:80–84

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:80 in the Quran reader

اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو بھیجا۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کیا تم ایسی بےحیائی کرتے ہو کہ دنیا میں پہلے کسی نے نہیں کی تھی

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 7:81 in the Quran reader

تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے خواہش پوری کرتے ہو تم تو حد سے گذر جانے والی قوم ہو

وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 7:82 in the Quran reader

ان کی قوم کا جواب صرف یہی تھا کہ انہیں اپنی بستیوں سے نکالو یہ لوگ بہت پاک باز بنتے ہیں۔

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١ۖ٘ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 7:83 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کی بیوی کے سوا اس کو اور سب اہل خانہ کو نجات عطا فرمائی کیونکہ اس کی بیوی پیچھے وہ جانے والوں میں سے تھی

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 7:84 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر خوب (پتھروں کی) بارش برسائی۔ تم دیکھو کہ جرم کرنے والی قوم کا انجام کیا ہوتا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر (80 تا 84) ۔ اتاتون (کیا تم آتے ہو ؟ ) ۔ الفاحشتہ (بےحیائی کے کام) ۔ ماسبق (نہیں گزرا) ۔ من احد (کوئی ایک بھی) ۔ الرجال (الرجل) ۔ مرد) ۔ شھوۃ (خواہش۔ بری خواہش) ۔ دون النسآء (حد سے باہر نکل جانے والے) ۔ اخرجوا (نکالو) ۔ قریتکم (تمہاری اپنی بستی) ۔ اناس (لوگ) ۔ یتطھرون (صاف ستھرا رہتے ہیں) ۔ امراتہ (اس کی عورت۔ اس کی بیوی) ۔ الغبرین (پیچھے رہنے والیوں (میں سے) ۔ امطرنا (ہم نے برسایا) ۔ عاقبتہ المجرمین (مجرموں کا انجام) ۔ تشریح : آیت نمبر (80 تا 84 ) ۔ ” قوم لوط کا وہی علاقہ ہے جسے آج ہم بحرمیت یا بحیرہ مردار کہتے ہیں۔ یہ بحیرہ سمندر سے بھی زیادہ گہرائی میں ہے۔ چناچہ اس میں پانی باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے ۔ اس بحیرہ میں مچھلی، مینڈک، کیڑا غرضیکہ کوئی جاندار زندہ نہیں وہ سکتا۔ قوم لوط کا صدر مقام سدوم تھا۔ جو آجکل اسی بحیرہ میں غرق ہے۔ مگر کبھی یہ علاقہ بڑا سر سبز و شاداب تھا، غلوں اور پھلوں کی کثرت تھی یہاں کم ازکم پانچ خوبصورت بڑے شہر تھے جن کے مجموعہ کو قرآن کریم نے ” مؤتفکہ “ اور مؤتفکات، کے الفاظ سے بیان کا و ہے۔ نعمتوں کی فراوانی اور دولت کی ریل پیل نے یہاں کی قوم کو سرکش بنا دی تھا۔ اس قوم کی اصلاح کے لئے حضرت لوط (علیہ السلام) کو بھیجا گیا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے نبی اور حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ پہلی ہستی جس نے حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کی وساطت سے اسلام قبول کیا ان کی بیوی حضرت سارہ تھیں۔ دوسری حضرت ہاجرہ اور تیسرے آپ کے بھتیجے حضرت لوط (علیہ السلام) تھے۔ بعض روایات کے مطابق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب عراق سے ہجرت فرمائی تو حضرت لوط (علیہ السلام) بھی آپ کے ساتھ تھے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) فلسطین کے علاقہ کنعان میں جاب سے اور حضرت لوط (علیہ السلام) کو اللہ نے اہل سدوم کی طرف پیغمبر بجا کر بھیجا۔ سورۃ الفلق میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ کہ جب انسان یہ دیکھتا ہے کہ وہ کسی کا محتاج نہیں ہے تو وہ سر کشی کرنے لگتا ہے۔ یہی حال سدوم کے رہنے والوں کا ہوا۔ وہ عیش و عشرت میں اتنے مبتلا ہوئے کہ زنا کاری کی نئی نئی راہیں ایجاد کرلیں (جیسا کہ آج کل مغربی ممالک میں ہو رہا ہے) ان میں ایک نئی راہ مردوں کا اختلاط لڑکوں سے اس درجہ بڑھ گیا کہ عورتوں میں ان کی دلچسپی ختم ہو کر رہ گئی۔ یہ جنسی بےراہ روی اتنی زیادہ پھیل گئی کہ حضرت لوط (علیہ السلام) نے فرمای۔ تم لوگ بےحیائی میں دنیا کی ساری قوموں کو پیچھے چھوڑ گئے ہو تم عورتوں کو چھوڑ کر مردں سے خواہش کرتے ہو۔ یہ وہ ذلیل حرکت ہے جو تم سے پہلے دنیا میں کسی قوم نے بھی نہیں کی حقیقت یہ ہے کہ تم بالکل حد سے گزر گئے ہو، اس قوم کی بےغیرتی، ضد اور ہٹ دھرمی کی انتہا یہ تھی کہ کسی شریف گھرانے کو وہ برداشت کرنے کو تیار نہ تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کے ماننے والوں سے انہوں نے کہا۔ ہماری بستی سے ان لوگوں کو نکا لو یہ اپنے آپ کو بہت پاک باز سمجھتے ہیں اس قوم کی ان حرکتوں کی وجہ سے بالآخر اللہ کا قہر ٹوٹ پڑا۔ جس کا ذکر قرآن کریم میں متعدد جگہ فرمایا گیا ہے۔ سورة الحجر اور سورة ہود وغیرہ میں اس عذاب الہٰی کی تفصیلات کو بیان کیا گیا ہے۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان سے زبردست چنگھاڑ کی آواز آئی ۔ پھر اوپر سے پتھروں کی بارش ہوئی نیچے سے زمین کے پورے طبقہ کو الٹا دیا گیا۔ آج یہ قوم بحیرہ مردار کے نیچے غرق ہے۔ قرآن کریم میں دوسرے مقامات پر ’ فاحشہ، کا لفظ آیا ہے جس کا اطلاق مرد اور عورت دونوں پر ہوتا ہے۔ لیکن مرد۔ مرد کے جنسی تعلقات پر اپنی شدت غضب ظاہر کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے الف لام کے ساتھ لفظ ’ الفاحشہ، استعمال کیا ہے احادیث میں حضور اکرم ﷺ سے متعدد احکامات مذکور ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے۔ (1) اللہ تعالیٰ اس مرد کی طرف ہرگز نظر رحمت نہیں کرے گا جو عورت سے اس فعل کا ارتکاب کرتا ہے۔ (2) آپ نے فرمایا کہ جس نے حائضہ عورت سے صحبت کی یا عورت کے ساتھ عمل لوط کیا یا قسمت کا حال بیان کرنے والوں (کاہنوں) کے پاس گیا اور ان کی پیشین گوئیوں کی تصدیق کی اس نے (حضرت) محمد ﷺ پر نازل کی گئی تعلیم سے کفر کیا۔ ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کے ساتھ بھی اس فعل کو انتہائی گھناؤنا فرمایا ہے مردوں میں اس فعل کے متعلق ارشاد ہے۔ (3) فاعل اور مفعول (الفاظ زانی اور زانیہ کے استعمال نہیں کئے گئے) دونوں کو قتل کردیا جائے خواہ وہ کنوارے ہوں یا شادی شدہ۔ (4) آپ ﷺ نے فرمایا کہ اوپر والا اور نیچے والا دونوں سنگسار کئے جائیں۔ چونکہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اس لیئے اس فعل کی سزا کیا ہونی چاہئے اس سلسلے میں صحابہ کرام ؓ اور فقہا کی متعدد رائیں ہیں۔ 1) حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی رائے یہ ہے کہ مجرموں کو تلوار سے قتل کیا جائے اور ان کی لاش جلادی جائے۔ 2) حضرت عمر فاروق ؓ اور حضرت عثمان ؓ کی رائے یہ ہے کہ کسی بوسیدہ عمارت کے نیچے کھڑا کرکے وہ عمارت اس پر ڈھادی جائے۔ 3) حضرت علی مرتضی کی رائے یہ ہے کہ مجرم تلوار سے قتل کیا جائے اور دفن کرنے کے بجائے اس کی لاش کو کلا دیا جائے۔ 4) حضرت ابن عباس ؓ کی رائے یہ ہے کہ بستی کی سب سے اونچی بلڈنگ سے سر کے بل گرا کر اوپر سے پتھر برسائے جائیں۔ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں کسی ایک واقعہ کے بھی نہ ہونے اور خلفاء راشدین اور صحابہ کرام کی متعدد آرا کی موجودگی میں فقہا کرام کی بھی مختلف رائیں ہیں۔ امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک ایسے شخص کی سزا یہ ہے کہ اس کو کسی بلند مقام ، پہاڑ یا مینارہ وغیرہ سے گرادیا جائے اور اوپر سے پتھر برسائے جائیں یہاں تک کہ وہ مرجائے جیسا کہ قوم لوط کے ساتھ کیا گیا علماء احناف کے نزدیک لواطت کی سزا زنا سے زیادہ شدید ہے۔ امام شافعی (رح) کہتے ہیں فاعل و مفعول دونوں واجب القتل ہیں خواہ وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ غرضیکہ یہ ایک ایسا فعل ہے جس پر جتنی بھی شدیدسزا دی جائے وہ کم ہے۔ زنا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نظر میں بد ترین فعل ہے لنکا ہم جنس پرستی اتنا بھیانک جرم ہے کہ خواہ اپنی بیوی سے ہی کیا جائے ناقابل معافی جرم ہے۔ آج مغربی تہذیب میں اس بد ترین فعل کو جس طرح فیشن کا حصہ بنا دیا گیا ہے بلکہ قانون کا تحفظ بھی دے دیا گیا ہے اس کے اثرات یہ سامنے آ رہے ہیں کہ ہزاروں دواؤں کی ایجاد کے باوجود اس فعل کے کرنے والوں میں بھیانک بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں جن سے انسانیت کو شدید خطرات لا حق ہوچکے ہیں اور طرح طرح کی بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اس فعل سے قطعاً محفوظ رکھے۔ آمین۔
Ayahs 7:85–87

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 7:85 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ اے میری قوم تم اس اللہ کی عبادت و بندگی کرو جس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس کھلی نشانیاں آچکی ہیں۔ تم ماپ تول پوری کرو اور لوگوں کو چیزیں گھٹا کر نہ دو ۔ اور اصلاح ہوجانے کے بعد زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔ تمہارے لئے اسی میں بھلائی ہے اگر تم ایمان لانے والے ہو۔

وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ كُنْتُمْ قَلِیْلًا فَكَثَّرَكُمْ١۪ وَ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:86 in the Quran reader

اور تم ہر راستے پر (رہزن بن کر) نہ بیٹھو تاکہ تم لوگوں کو ڈراؤ۔ اور ہر اس شخص کو جو ایمان لے آیا ہے اسے اللہ کے راستے سے نہ روکو ! اور تم (اس راستہ میں) عیب تلاش نہ کرو۔ تم یاد کرو جب تم بہت تھوڑے سے تھے پھر اس نے تمہاری تعداد کو بڑھادیا ۔ اور فساد مچانے والوں کا کیا انجام ہوتا ہے اس پر غور کرو۔

وَ اِنْ كَانَ طَآئِفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ طَآئِفَةٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ بَیْنَنَا١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 7:87 in the Quran reader

اور وہ جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے اگر ایک جماعت ایمان لے آئی اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی تو صبر کرو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے گا اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر (85 تا 87 ) ۔ ارفوا (پورا کرو) ۔ الکیل (ماپ) ۔ المیزان (تول) ۔ لا تبخسوا (نہ گھٹاؤ) ۔ لا تقعدوا (تم نہ بیٹھو ) ۔ صراط (راستہ ) ۔ توعدون (تم ڈراتے ہو ) ۔ تصدون (تم روکتے ہو ) ۔ تبغون (تم تلاش کرتے ہو ) ۔ عوج (کجی۔ ٹیڑ ھاپن) ۔ کثر (اس نے بہت کردیا ) ۔ طائفتہ (جماعت۔ گروہ) ۔ ارسلت ( بھیجی گئی) ۔ حتی یحکم اللہ (یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کردے گا ) ۔ تشریح : آیت نمبر (85 تا 87) ۔ ” گاہک کو نقصان پہنچانے کے نہ جانے کتنے طریقے ان دنوں رائج تھے اور آج بھی رائج ہیں ڈندی مارنا، نمونہ کچھ مال کچھ بلیک ماکٹنگ، ذخیرہ اندوزی، لازمی اشیا کا بازار سے غائب کر ادینا۔ کارنر کرنا سینڈی کیٹ بنانا ملاوٹ کرنا جھوٹے اشتہارات دینا لازمی اشیاء کی اجارہ داری حرام مال بیچنا، سود کھانا، غلط وعدے کرنا خیانت کرنا اسمگلنگ چوری کا مال بیچنا دھمکی دھونس وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ ۔ شریعت اسلامیہ نے ترغیب اور احکام میں دونوں تجارتی بےایمانیوں اور بد اعمالیوں کی روک تھام کی ہے خواہ ان کا تعلق نجی اداروں سے ہو یا سرکاری سر پرستی میں چلنے والے اداروں سے ہو۔ تجارت معاشی خوش حالی کا واحد ذریعہ ہے پیداوار اور اشیاء کا تبادلہ براہ راست یا بذریعہ مال، اپنی زیادہ چیزیں دے کر اپنی کمی باہمی رضا مندی سے پوری کرنا یہ تجارت کے اصول ہیں۔ جس معاشرہ میں لین دین میں بد دیانتی کا رواج ہوجائے وہاں سے خیر و برکت اٹھا لی جاتی ہے اللہ کی رحمتیں رک جاتی ہیں اور وہ قوم روز بروز خسارہ اور نقصان کی طرف رواں دواں ہوجاتی ہے۔ قوم شعیب (علیہ السلام) بھی وہ قوم تھی جو تجارت میں اپنا جواب نہیں رکھتی تھی مگر انہوں نے بد دیانتی کے ہزاروں طریقوں کو رواج دے کر معاشرہ کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا تھا اس تجارتی بد دیانتی کے ساتھ کفر و شرک میں بھی وہ کسی قوم سے پیچھے نہ تھے۔ اس قوم کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کا بھیجا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) جس قوم کی طرف مبعوث کے گئے تھے اس کا نام قرآن کریم میں کہیں اصحاب مدین، آیا ہے کہیں اصحاب ایکہ۔۔۔۔ ۔۔ بعض مفسرین نے ان دونوں کو الگ الگ قومیں قرار دیا ہے۔ کیونکہ اصحاب مدین پر جو عذاب آیا ہے اس کو قرآن نے صیحہ اور رجفہ (چنگھاڑ۔ زلزلہ) کہا ہے۔ اور اصحاب ایکہ پر جو عذاب آیا ہے اس کو ظلہ (سائبان۔ یا آسمان سے بارش) کہا ہے لیکن بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ ایک ہی قوم کے دونام ہیں اور ان پر تینوں عذاب آئے۔ مدین آج بھی شرق اردن میں بندر گاہ عمان کے قریب ایک شہر کا نام ہے اور مدین ہی میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کا مزار مبارک بھی ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دعوت کا خلاصہ یہ تھا کہ لوگو ! صرف اللہ کو ایک مانو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اس کے احکام اور تعلیم پر چلو۔ آپ کی تعلیمات میں سب سے زیادہ زور تجارتی ایمانداری پر ہے اور ہر بےایمانی کے طریقوں پر آپ نے سخت گرفت کی ہے۔۔۔۔ ۔۔ ایمان اور ایمان داری وہ الفاظ ہیں جن کا ٹھیک ٹھیک متبادل آج تک کسی دوسری زبان میں نہیں ہے۔ ان کا تعلق براہ راست ذات الہٰی اور صفات الہٰی سے ہے، خوف الہٰی اور انعام الہٰی سے ہے۔ جو شخص ایمان نہیں رکھتا وہ صرف تجارت میں نہیں بلکہ ہر جگہ فریق ثانی کے حقوق غصب کرتا ہوا نکل جائے گا اور دوسرے کی گردن پر پاؤں رکھ کر گذرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرے گا۔۔۔۔ ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کو ہر طرح کی بد دیانتی اور ظلم و جبر پر ٹوکتے تھے مگر وہ اس حق و صداقت کی آواز کو برداشت نہیں کرتے تھے اس لئے وہ چھپ چھپ کر اہل ایمان کو بہکاتے تھے۔ انہیں اللہ کے راستے سے روکتے تھے اپنی طرف سے گھڑ گھڑ کر اسلام میں عیب بکالتے تھے۔ زمین میں ہر طرح کا فتنہ و فساد پھیلانا کفرو شرک کا مزاج اور پہچان ہے اور وہ اس سب سے آگے تھے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو لاکھ سمجھایا (عاد وثمود وغیرہ) کے تاریخی واقعات سے عبرت دلائی۔ اللہ تعالیٰ کے احسانات یاد دلائے کہ تم کیا تھے اور کیا بن گئے مگر انہیں ماننا نہیں تھا وہ نہ مانے۔ آخر حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اب تم عذاب الہٰی کا انتظار کرو جو تمہاری طرف بڑھا چلا آرہا ہے۔ اور وہ آکر رہا جس کا ذکر آگے کی آیات میں ہے۔
Ayahs 7:88–93

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ یٰشُعَیْبُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ قَالَ اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِیْنَ۫ Open ayah 7:88 in the Quran reader

اس کی قوم کے تکبر کرنے والے سر داروں نے کہا کہ اے شعیب (علیہ السلام) ہم تجھے اور ان لوگوں کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے یا یہ کہ ہم تمہیں اپنی ملت میں لوٹا لیں گے۔۔۔۔ ( حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے) کہا کیا اگرچہ ہم (تم سے بیزار ہوں) تب بھی لوٹالوگے ؟

قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَا١ؕ وَ مَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا١ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ؕ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ Open ayah 7:89 in the Quran reader

جب کہ ہمیں اللہ نے نجات دیدی ہے اس کے بعد بھی اگر ہم تمہاری ملت کی طرف پلٹ جائیں تو ہم اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں میں سے ہوں گے اور ہماری یہ شان نہیں ہے کہ ہم اس ملت میں لوٹ جائیں سوائے اس کے کہ ہمارا رب ہی چاہے تو اور بات ہے۔ ہمارے پروردگار کا علم ہر چیز پر حاوی ہے۔ ہم نے اللہ پر بھروسہ کرلیا ہے۔ اے ہمارے پروردگار ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان صحیح صحیح فیصلہ فرمادیجئے۔ اور آپ ہی بہترین فیصلہ کرنے والے ہیں۔

وَ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:90 in the Quran reader

اس کی قوم کے کافروں نے کہا کہ اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو یقینا تم نقصان اٹھانے والے بن جائو گے۔

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۚۖۛ Open ayah 7:91 in the Quran reader

پھر ان پر شدید زلزلہ آگیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ۛۚ اَلَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:92 in the Quran reader

اور جنہوں نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا وہ ایسے ہوگئے جیسے کبھی آبادہی نہ تھے۔ جنہوں نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا وہی نقصان اٹھانے والے بن گئے

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ١ۚ فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 7:93 in the Quran reader

پھر وہ روانہ ہوا اور کہا اے میری قوم میں نے اپنے پروردگار کا پیغام پہنچا دیا اور میں نے تمہیں نصیحت کردی۔ پھر میں کافر قوم (کے برے انجام) پر افسوس کیوں کروں۔

لغات القرآن آیت نمبر (88 تا 93 ) ۔ لنخرجنک (البتہ ہم تجھے ضرور نکال دیں گے) ۔ من قریتنا (اپنی بستی سے) ۔ لتعو دن (البتہ تمہیں پلٹ کر آنا ہوگا۔ ) ۔ فی ملتنا (ہمارے دین میں) ۔ اولو کنا (کیا اور اگر ہم ہوں) ۔ کارھین (برا سمجھنے والے) ۔ ان عدنا (اگر ہم پلٹ گئے) ۔ تو کلنا (ہم نے بھروسہ کرلیا) ۔ افتح (کھول دے) ۔ تشریح : آیت نمبر (88 تا 93 ) ۔ ” یہ ہے دو نظریات کا ٹکراؤ ۔ یہ صورت حال صرف اہل مدین کے ساتھ نہیں۔ ہر دور اور ہر علاقہ اس آئینہ میں اپنی تصویر دیکھ سکتا ہے ورنہ اس کا اندراج قرآن کریم میں نہ ہوتا۔ اہل کفر وشرک بےایمانی کے وکیل بن کر کہہ رہے تھے کہ اس کے بغیر ہماری تجارت معاملات تہذیب و تمدن اور سیاسی مفادات ختم ہوجائیں گے ہم جو یہاں اتنی بڑی تجارتی شہہ رگ پر بیٹھے ہیں زمینی بھی اور سمندری بھی ۔۔۔۔ کیا ہم شعیب کی باتیں مان کر نیک بخت اور ایمان دار بن جائیں اور ان تمام عظیم فائدوں کو ہاتھ سے جانے دیں جو بےایمانی اور فریب سے ہمیں حاصل ہو رہے ہیں۔ لیکن اللہ کے پیغمبر نے اللہ کا پیغام دیتے ہوئے فرمایا کہ دنیا اور آخرت کا فائدہ ایمانداری اور دیانتداری میں ہے۔ تجارت اسی سے پھل پھول سکتی ہے لوگ اسی سے تم پر اعتماد کرسکیں گے دنیا اور آخرت کا فائدہ ان عقیدوں اور اصولوں میں پوشیدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا فرمائے ہیں۔ تجارتی بد دیانتی بظاہر خوب پھلتی پھولتی ہے اس کی رونق بھی خوب ہوتی ہے لیکن یہ پھلنا پھولنا اور رونق ایک عارضی سی چیز ہوتی ہے ڈھلتی چھاؤں ہے جب ڈھل گئی تو ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا پھیل جاتا ہے اسکے پیچھے عذاب جہنم ہے لیکن ایمان داری کا فائدہ ابدی فائدہ ہے مادی بھی اور روحانی بھی اور اس کے پیچھے جنت کی ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور اللہ کی رضا و خوشنودی ہے۔ نظریات کی یہ ٹکر صرف علمی اور عقلی ہی نہ تھی بلکہ سماجی معاشرتی اور سیاسی بھی تھی ایک طرف حکومت اور اقتدار کا زور تھا دوسرے طرف حق و صداقت پر استقامت اور اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ۔ کفروشرک کرنے والے اگرچہ دل ہی دل میں اسلام کی صحت اور معقولیت کو مان رہے تھے مگر دنیاوی لالچ اور وقتی مفادان کے لئے راستہ کی سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ اہل کفر و شرک نے ہر طرح کے لالچ اور دبائو اور دھمکیوں سے اہل ایمان کو مرعوب کرنا چاہا مگر اہل ایمان نے استقامت کا ثبوت دیا اور حالات کی نزاکتوں کے باوجود وہ اپنی جگہ جم کر کھڑے ہوگئے۔ نظریات کی جنگ میں ٹکرائو ضرور ہوتا ہے مگر ہمیشہ فتح اور کامیابی حق و صداقت کی ہوا کرتی ہے۔