7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 7:130–136

وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:130 in the Quran reader

اور ہم نے قوم فرعون کو چند سال تک قحط اور ثمرات کی کمی سے آزمایا تاکہ وہ یاد رکھیں

فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ١ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:131 in the Quran reader

پھر جیسے ہی خوش حالی آئی کہنے لگے کہ یہ تو ہمارا حق تھا۔ اور جیسے ہی ان کو کوئی تکلیف پہنچتی تو وہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی نحوست بتانے لگتے حالانکہ ان کی نحوست کا علم تو اللہ کو ہے لیکن ان میں سے اکثر اس بات کو نہیں جانتے۔

وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:132 in the Quran reader

اور کہنے گلے کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! ہم پر تو کوئی بھی جادو کردے ہم تیرے اوپر ایمان نہیں لائیں گے۔

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 7:133 in the Quran reader

پھر ہم نے ان پر طوفان ، ٹڈی دل، چچڑیاں، مینڈک، خون اور بہت سی الگ الگ نشانیاں بھیجیں۔ پھر بھی وہ تکبر کرتے رہے اور وہ مجرم قوم بن کر وہ گئے

وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 7:134 in the Quran reader

اور جب بھی ان پر کوئی عذاب الہٰی آتا تو کہتے اے موسیٰ (علیہ السلام) ! تو ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کر جیسا کہ اس نے تجھے مقام عطا کیا ہے۔ اگر ہم سے یہ عذاب ٹل گیا تو ہم تجھ پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 7:135 in the Quran reader

پھر جب ہم ان سے ایک مدت کے لئے اس عذاب کو ٹال دیتے جو بہر حال ان کا مقدر تھا تو پھر وہ اپنے عہد کو توڑ دیتے تھے۔

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:136 in the Quran reader

پھر ہم نے ان سے انتقام لیا اور ہم نے ان کو سمندر میں غرق کردیا اس لئے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے اور وہ ان سے غفلت کرتے تھے۔

لغات القرآن آیت نمبر (130 تا 136 ) ۔ السنین (سنتہ) ۔ کئی سال۔ قحط سالی) ۔ یطیروا (طیر) ۔ بدشگونی۔ (پرندوں سے بد شگونی لیتے تھے) ۔ طئرھم (ان کی بد قسمتی۔ بد بختی) ۔ مھما (جب بھی۔ جو بھی) ۔ الجراد (ٹڈی) ۔ القمل (چچڑیاں (چھوٹے چھوٹے جانور) ۔ الصفادع (مینڈک ) ۔ الدم (خون ) ۔ ایت مفصلت (بہت سی مسلسل نشانیاں) ۔ الرجز (عذاب ) ۔ لنرسلن (البتہ ہم ضرور بھیجیں گے ) ۔ ینکثون (وہ عہد توڑ دیتے ہیں) ۔ الیم (دریا۔ سمندر ) ۔ تشریح : آیت نمبر (130 تا 136 ) ۔ ” قرآن کریم میں ایک جگہ ارشاد فرمایا گیا ہے : ” اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو نشانیاں عطا کیں “ گذشتہ چند آیات میں ان نونشانیوں (معجزات ) کا ذکر ہے۔ (1) عصا کا اژدھا بن جانا (2) ید بیضا (3) قوم فرعون پر قحط (4) طوفان (5) ٹڈیوں کی یلغار (6) گھن کا کیڑا (7) مینڈکوں کا عذاب (8) خون کا عذاب (9) طاعون۔ اس قوم پر کئی سال تک ایسا قحط پڑا کہ وہ لوگ دانے دانے کو محتاج ہوگئے بالآخر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا فرمائی اور یہ قحط ان سے دور ہوا۔ مگر وہ پھر کفر پر اڑگئے تب اللہ نے پانی کا عذاب مسلط کیا زمین سے بھی پانی نکلنے لگا اور آسمان سے بھی طوفانی بارشیں ہونے لگیں ان کے اٹھنے بیٹھنے کی جگہ نہ رہی ساری چیزیں بھیگ گئیں۔ اناج اور غلہ خراب ہوگیا کھانا پکنا مشکل ہوگیا طوفان کی یہ سب مصیبتیں قبطیوں (قوم فرعون) پر آئیں لیکن بنی اسرائیل کے گھر کھیتی باڑی باغ وغیرہ مخفوظ رہے۔ آخر انہوں نے بہت سے وعدے کر کے پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے دعا کرائی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے مصیبت تو ٹل گئی مگر انہوں نے کسی وعدے کو پورا نہیں کیا پھر اللہ نے ان قبطیوں پر سزا کے طور پر ٹڈیوں کے دل کے دل مسلط کئے ان کے سارے کھیت اور باغ تباہ و برباد ہو کر وہ گئے کھیتوں اور باغات کی تباہی نے انہیں بوکھلا کر رکھ دیا پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس دوڑے دوڑے ہوئے آئے روئے اور گڑ گڑائے پھر بہت سے وعدے کئے قسمیں کھائیں آخر پھر پیغمبر کی دعا سے یہ آفت دور ہوئی مگر نہ تو وہ اللہ پر ایمان لائے نہ بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیجا۔ پھر عہد شکنی اور سر کشی پر اڑگئے۔ قحط ، طوفان اور ٹڈیوں کا عذاب اتنا سخت تھا کہ ان کو سنبھل جانا چاہیئے تھا مگر اس قوم کا مزاج اتنا سخت بن چکا تھا کہ ہر مصیبت کے ٹلنے پر وہ پھ سے اپنی سرکشی اور نافرمانی میں لگ جاتے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذابوں کا سلسلہ قائم رہا چناچہ ایک دفع پھر ان پر گھن کے کیڑوں کا عذاب مسلط کیا گیا۔ جوں، مکھی، مچھر اور طرح طرح کے کیڑے پیدا کئے گئے جن سے کوئی چیز محفوظ نہ تھی۔ نہ وہ بیٹھ سکتے تھے، نہ کام کرسکتے تھے ہر جگہ کیڑے ہی کیڑے ہوگئے جسم میں ہر جگہ خارش سر میں جوئیں اور کھجلی پیدا ہوگئی یہ عذاب اتنا سخت تھا کہ پوری قوم بلبلا اٹھی۔ آخر ان کے حالات پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ترس آگیا۔ دعا کی اور یہ آفت ٹل گیں۔ لیکن عذاب ٹلنے کے بعد پھر وہ اسی تکبر غرور دنیا پرستی اور ہٹ دھرمی میں مبتلا ہوگئے۔۔۔۔ ۔ پھر مینڈک کا عذاب مسلط کردیا گیا ہر جگہ مینڈک، برتنوں میں بستروں پر بدن پر رات کو چھت میں سے مینڈک ٹپکتے اور یہ مینڈک بھی نہایت مکروہ شکل کے تھے جن کو دیکھ کر وحشت ہوتی تھی۔۔۔۔ ۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے دعا کی درخواست لے کر آگئے اور پھر سے جھوٹے وعدے، قسمیں اور ایمان لانے کی باتیں کرنے لگے مصیبت تو ایک دفع ٹل گئی مگر پھر وہی اکڑ ، وہی تکبروہی کفر و شرک نتیجہ یہ ہوا کہ جب قوم مطمئن ہوگئی تو اللہ نے ان کی نافرمانیوں کے سبب ان پر خون کا عذاب مسلط کردیا یہ بھی ہر برتن میں ہر بستر پر پانی کے برتنوں میں کپڑوں میں زمین پر خون نظر آتا۔ پوری قوم پھر گھبرا اٹھی۔ پھر نالہ و فریاد لے کر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہنچ گئی۔ دعا کی گئی عذاب ٹل گیا مگر وہ قوم اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئی۔ کہا جاتا ہے کہ ان مسلسل عذابوں نے ان کی زندگی اجیرن کر کے رکھ دی تھی مگر وہ اللہ کی طرف رجوع نہیں کرتے تھے کہا جاتا ہے کہ ایک آخری عذاب جو ان پر مسلط کیا گیا وہ طاعون کا تھا جس میں ستر ہزار قبطی ہلاک ہوگئے پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا ان کے کام آئی۔ یہ سارے عذاب آتے رہے یعنی ان کے درمیان سنبھلنے اور درست ہونے کا کافی موقعہ دیا گیا لیکن جس کو سنبھلنا نہیں ہوتا اس پر بڑی سے بڑی آفت بھی اثر نہیں کرتی اور اس کی ہٹ دھرمی اس کو ہر سعادت سے محروم رکھتی ہے۔
Ayah 7:137

وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوْا١ؕ وَ دَمَّرْنَا مَا كَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهٗ وَ مَا كَانُوْا یَعْرِشُوْنَ Open ayah 7:137 in the Quran reader

اور ہم نے مشرق و مغرب کی اس سر زمین کا ان کو وارث بنا دیا جو کمزور کردیئے گئے تھے وہ جس میں ہم نے برکت رکھ دی ہے۔ اور اس طرح (اے نبی ﷺ آپ کے پروردگار کا وعدہ جو اس نے بنی اسرائیل سے کیا تھا ان کے صبر کی وجہ سے پورا کردیا اور جو کچھ فرعون اور اس کی قوم نے اونچے اونچے محل بنا لئے تھے ان کو تہس نہس کر کے رکھدیا۔

لغات القرآن آیت نمبر (137 ) ۔ الحسنی (نیکی) ۔ دمرنا (ہم نے برباد کردیا ) ۔ یعرشون (وہ اونچا چڑھاتے ہیں ) ۔ تشریح : آیت نمبر (137 ) ۔ ” یہاں کسی سر زمین کا نام نہیں لیا گیا ہے مگر مشارق اور مغارب کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ وہ تمام علاقہ جس پر اہل فرعون قابض تھے یعنی مصر سے لے کر شام و فلسطین تک اور ” بر کبا فیھا “ سے اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ اس خطہ کے دامن میں عظیم الشان برکتیں موجود ہیں۔ سب سے پہلی برکت تو یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک تقریباً تمام پیغمبروں کے میدان عمل کی سر زمین یہی رہی ہے یہیں سے ان کی تاریخیں وابستہ رہی ہیں اور یہیں ان کے مزارات ہیں دوسرے یہ کہ یہ علاقہ زرعی لحاظ سے بہت زرخیز ہے زیتون کھجور اور بہت سے خشک اور ترمیووں کی سر زمین ہے۔ یہاں مع دنیات پہاڑوں دریاؤں میدانوں اور سمندروں نے اسے بڑا حسن بخشا ہے۔ تیسرے یہ کہ جغرافیائی لحاظ سے یہ علاقہ بین الاقوامی کلیدی علاقہ ہے جو زمین اور سمندروں دونوں راستوں کو کنٹرول کرتا ہے جو ایشیا، افریقہ اور یورپ کا سنگم ہے اس لحاظ سے اس کی سیاسی اور جنگی اہمیت بہت واضح ہے موجودہ زمانہ میں نہر سوئز کھل جانے کی بدولت اس کی تجارتی اور جنگی اہمیت میں بر پناہ اضافہ ہوگیا ہے۔ اس آیت میں ایک لفظ آیا ہے ” یستضعفون “ جو قوم کمزور سمجھی جاتی تھی یا کمزور کردی گئی تھی “ ان الفاظ سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ دنیا میں کوئی نہ تو طاقت ور ہے اور نہ کمزور ہے جو کچھ سمجھا جا رہا ہے وہ ظاہر ری نگاہوں کا دھوکا ہے۔ اصلی طاقت وقوت امداد الہٰی کی قوت ہے جو پردہ غیب میں ہے جس کی تصدیق ان الفاظ سے ہوتی ہے ” ہم نے جانشین بنادیا۔ اگر اللہ کی قدرت و طاقت نہ ہوتی تو طاقتوروں کی جگہ کمزور جانشین نہ بنتے لیکن اللہ کا یہ قانون ہے کہ جب بھی کوئی قوم اقتدار اور قوت کے نشے میں دیوانگی کی حد تک پہنچ جاتی ہے تو اللہ ان کے نیچے سے زمین کھینچ لیتا ہے اور وہی لوگ جو بظاہر کمزور اور بےبس نظر آتے ہیں ساری قوتوں کے مالک بن جاتے ہیں ۔ ہمارے اس دور میں جس کو انیسویں صدی کہا جاتا تھا اس صدی کے نصف آخر میں دنیا کی دوعظیم طاقت ور سلطنتیں روس۔ برطانیہ جس کی وسعت کا یہ عالم تھا کہ ان کی سلطنت میں سورج نہیں ڈوبتا تھا لیکن آج وہ سمٹتے سمٹتے انگلینڈ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ کبھی جن کی سلطنت میں سورج نہیں ڈوبتا تھا آج انکی سلطنت میں سورج ہی نہیں نکلا اب یہ قوم ساری دنیا میں سازشیں کرنے کا کام کرتی ہے اس کے سوا ان کا اور کوئی کام نہیں رہا۔ دوسری روسی سلطنت ہے جو اس درجہ آگے بڑھ چکی تھی کہ انہوں نے اللہ کی ذات اور اس کی قدرت ہی کا انکار کردیا تھا لیکن صرف ایک ملک افغانستان پر قبضہ کرلینے اور گرم پانی کے چشموں تک پہنچنے کی خواہش نے اس کی اقتصادی کمر توڑ کر رکھ دی اور چند مہینوں میں ایسا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی کہ اس کو اپنا وجودبر قرار رکھنے کیلئے امریکہ جو ہمیشہ اس کا مقابل دشمن رہا ہے اس سے بھیک مانگنے پر مجبور ہوگیا ۔ عجیط بات یہ ہے کہ اتنی مضبوط سلطنتیں صرف پچاس سال کے عرصہ میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی ہیں اور اب نجانے موجودہ ان ظالم قوموں کا کیا حشر ہونے والا ہے جو تکبر اور غرور میں آج ساری دنیا میں جہاں چاہتے ہیں تباہیاں مچادیتے ہیں اور قدرت کے انتقام سے بالکل بیخبر ہیں ۔ میری نگاہیں تو یہ دیکھ رہی ہیں کہ بیسویں صدی میں کافر قوموں کی دیواریں بڑی تیزی سے گرتی چلی جارہی ہیں اور تاریخ کا دھارا بہت تیزی سے بدلنے والا ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ اس کے لئے اہل ایمان تیاری نہیں کر رہے ہیں ۔ اگر اہل ایمان علم و عمل میں آگے بڑھ جائیں تو پھر بیسویں صدی ان کی ہے ورنہ اقتدار اور قوت امریکہ اور یورپ وغیرہ سے نکل کر پھر ایشائی کافروں کے ہاتھوں میں چلا جائے گا اور ہم صدیوں تک پھر غلامی کی زنجیروں میں جکڑے رہ جائیں گے۔ بہر حال عرض کررہا تھا کہ قرآن کریم نے اس اصول کی طرف اشارہ کر کے واضح کردیا کہ جس کو دنیا والے کمزور اور بےبس قوم سمجھتے ہیں اگر وہ اپنے آپ کو اہل ثابت کردیں تو اللہ ہی کمزوروں کو طاقت ور بنا دیا کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” بنی اسرائیل کے حق میں آپ کے رب کی طرف سے بھلائیون کا وعدہ پورا ہوگیا “ ایک تو وعدہ ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبانی کرایا گیا ہے۔ ” وہ وقت قریب ہے جب تمہارا دشمن کو ہلاک کر دے گا اور تمہیں زمین کی خلافت عطا فرمادے گا پھر وہ دیکھے گا کہ تم اس ذمہ داری کو کس طرح پورا کرتے ہو۔ (اعراف آیت نمبر 29 تا ، سپارہ نمبر 9) قرآن کریم میں دوسری جگہ ارشاد ہے : ہم چاہتے ہیں کہ اس قوم پر احسان کریں جس کو ملک میں کمزور اور ذلیل سمجھ لیا گیا ہے اور ہم انہیں حاکم بنا دین اور ان کو اسی زمین کا وارث بنا دیں ، فرعون ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ انقلاب دکھا یا جس کے ڈر سے وہ موسیٰ کے خلاف طرح طرح کی چالیں چل رہے ہیں۔ (القصص) اللہ نے بنی اسرائیل سے یہ وعدہ کیوں کیا ہے فرمایا ” بما صبروا “ چونکہ وہ صبر کرتے تھے پچھلی آیات سے ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے نصرت الہٰی کا وعدہ کرتے ہوئے تاکید کی تھی کہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ صبر در حقیقت ایک بہت وسیع و عریض لفظ ہے جس کے معنی ہیں ڈت جانا اور یہ بات سب سے نمایاں ہے کہ حق و صداقت کے لئے ڈٹ جانا۔۔۔۔ ۔ جو قوم حق و صداقت کے لئے ڈٹ جاتی ہے اور جم کر حالات کا مقابلہ کرتی ہے اس کو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ دنیا میں صرف وہ قومیں مٹ جا یا کرتی ہیں جن کے سامنے زندگی کا نہ کوئی عظیم مقصد ہوتا ہے اور نہ وہ قومیں صبر سے کام لیتی ہیں لیکن جس قوم نے اپنی ذندگی کا رخ اللہ کی طرف کرلیا اس کو مقصد زندگی بنالیا اور حق و صداقت کے لئے کسی کی پرواہ نہ کی اور حالات سے مقابلہ کے لئے ڈٹ گئی۔ ساری کامیابیاں ان ہی لوگون کے لئے ہوا کرتی ہیں یہاں بھی اللہ نے بنی اسرائیل کو یہی بتایا ہے کہ قوم فرعون نے تمہیں تباہی کے کنارے تک پہنچادیا تھا، تمہیں دیوار سے لگا دیا گیا تھا لیکن جب تم نے اللہ کے رسول کا دامن تھاما اور دین کے لئے ڈٹ گئے ، تم نے صبر کیا تو انعام کے طور پر تمہیں اس نعمت سے نوازا گیا۔ ۔۔ ۔ ان آیات میں جہاں بنی اسرائیل سے خطاب وہیں امت محمد ﷺ کو بھی بتا یا جارہا ہے کہ اے اہل ایمان آج تمہیں بھی اللہ نے ایک موقع دیا ہے ۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ تمہارے درمیان موجود ہیں ابگر تم ان کی اطاعت کا حق ادا کرتے ہوئے ان کے لائے ہوئے دین کی سچائیوں کے لئے ڈٹ گئے تم نے صبر کیا تو پھر آج کی تمہاری کمزور طاقت سے اس طرح بدل جائے گی کہ ساری دنیا میں مسلمانوں اور دین اسلام ہی کا بو ل بالا ہوگا اور ان کو ہر طرح کی عظمتیں حاصل ہوگی۔ تاریخ گواہ ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے بےمثال صبرو تحمل کا مظاہرہ کیا وہ اپنی جان و مال کی قربانیوں سے دین کی راہوں میں ڈٹ گئے اور پوری دنیا پر چھا گئے ۔ چونکہ نبی کریم ﷺ کی نبوت و رسالت قیامت تک ہے اس لئے یہ راستہ آج بھی اسی طرح ہے مسلمان جب بھی حق و صداقت اور دین کی سر بلندی کے لئے صبر کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے تو پھر سمندری بھی ان کو راستہ دینے پر مجبور ہوگا جنگل کے جانور بھی ان کے لئے جنگل خالی کریں گے جب مسلمان اپنی کشتیاں جلادیں گے تو اللہ غیب سے وہ مدد فرمائیے گا جس کا تصور بھی ممکن نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صبر و استقامت اور دامن مصطفیٰ ﷺ کی وابستگی سے کامیابی عطا فرمائے۔ ” آمین “
Ayahs 7:138–141

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰى قَوْمٍ یَّعْكُفُوْنَ عَلٰۤى اَصْنَامٍ لَّهُمْ١ۚ قَالُوْا یٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 7:138 in the Quran reader

اور جب ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر کے پار پہنچادیا اور وہ ایک ایسی قوم کے پاس سے گذرے جو اپنے بتوں کو پوج رہے تھے تو بنی اسرائیل کہنے لگے کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے لئے بھی ایک ایسا ہی معبود بنا دے جیسا کہ ان کیلئے معبود ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تم تو بہت جاہل لوگ ہو

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِیْهِ وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:139 in the Quran reader

بیشک یہ لوگ جن بر کاموں میں لگے ہوئے ہیں ان کو تباہ کیا جائے گا اور ان کے یہ کام بےبنیاد ہیں۔

قَالَ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْكُمْ اِلٰهًا وَّ هُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:140 in the Quran reader

اس نے کہا کہ کیا میں تمہارے لئے اللہ کے سوا کوئی اور معبود تلاش کرکے لائوں ؟ جس نے تمہیں دنیا والوں پر عزت و عظمت نصیب فرمادی ہے۔

وَ اِذْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ۚ یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 7:141 in the Quran reader

اور یاد کرو جب ہم تمہیں قوم فرعون سے نجات دی تھی جو تمہیں سخت ترین تکلیفیں پہنچاتی تھی۔ تمہارے بیٹوں کو ذبح اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتی تھی جس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔

تشریح آیات نمبر 138 تا 141 وہ کونسا پانی تھا جسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل نے پا کیا تھا اور جس میں فرعون اور اس کا پور لشکر غرق ہوگیا تھا۔ اس کا صحیح اندازہ تو نہیں کیا جاسکتا البتہ تاریخ اور جغرافیہ سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ بحیرہ احمر تھا۔ جزیرہ نما سینا کے مغرب میں جہاں اس کا پھیلائو اور پاٹ تنگ ہوجاتا ہے اور جہاں سے اب نہر سوئز شروع ہوتی ہے۔ سمندر کا یہ حصہ خاص مصر کو اور جزیرہ نمائے سینا کو الگ کرتا ہے اس خیال کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ یہ لوگ سمندرپار کرکے جزیرہ نمائے سینا میں داخل ہوئے جہاں سامی قوم کے بڑے چھوٹے بت خانے تھے قرینہ ہے کہ ان ہی بت خانوں کو دیکھ کر بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ایک ایسے بت کی فرمائش کی تھی جس کی عبادت کی جاسکے۔ یہ سوال بھی ابھی تک قیاس آرائیوں کا مرکز ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں فرعون مصر کا نام کیا تھا ؟ بعض مفسرین یہ کہتے ہیں کہ بات بیٹا دو فراعین تھے باپ وہ جس نے اپنے محل میں آپ کی پرورش کی تھی بیٹا وہ جس پر آپ نے تبلیغ کی اور وہ غرق ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ لندن انگلینڈ کے برٹش میوزیم میں جس فرعون کی مومیائی لاش رکھی ہے وہ ادھیڑ عمر کا آدمی ہے ۔ ابھی اس کے سارے بال نہیں پکے تھے۔ اگر ایک فرعون ہوتا تو وہ اس وقت کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جوان ہوچکے تھے تو اس کو بالکل بوڑھا ہوجانا چاہیے تھا۔ قرآن کریم اس بحث نہیں کرتا چونکہ قرآن کریم کے نزول کا مقصد تاریخ کا بیان کرنا نہیں ہے بلکہ تاریخ کے ان پلوؤں کو اجاگر کرنا ہے جن کا تعلق عبرت و نصیحت سے ہے۔ تاریخ جو ہم اپنے انداز سے بیان کرتے ہیں ممکن ہے کل کی تحقیق میں وہ نہ ہو جس کو ہم آج بیان کررہے ہیں لیکن جس شخصیت کے متعلق یہاں کہا جارہ ہے اس کی زندگی کے عبرت کے پہلو ہمیشہ اسی جیسے رہیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کسی بھی واقعہ کو مسلسل بیان نہیں کرتا بلکہ وہ واقعات جن سے عرب کا بچہ بچہ واوقف تھا ان کی طرف اشارہ کرتا چلا جاتا ہے یا کہ کہ وہ واقعات جن کا لوگوں نے حلیہ بگاڑ دیا ہے ان کی اصلاح فر ماتا ہے۔ جب بنی اسرائیل نے سمندر کو پار کرلیا تو وہ ایک ایسی قوم کے پاس گذرے جو بتوں کی پوجا کر کررہے تھے۔ بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگ جو نئے مسلمان تھے اور ان کا ذہن و فکر نہ بن سکا تھا انہوں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) کیا یہ ممکن ہے کہ آپ ہمارے لئے بھی اللہ کی کوئی ایسی ہی صورت و شکل بنادیں جس کو سامنے رکھ کر ہم اس کی عبادت و بندگی کرسکیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم نے یہ کیا جہالت کی باتین شروع کردیں۔ کیا میں ایک اللہ کی بندگی کو چھوڑ کر تمہارے لئے کوئی اور معبود تلاش کرکے لاؤں ۔ جس اللہ نے تمہیں فرعون کے ظلم و ستم سے نجات دی ہے۔ بےعزتی سے نکا ل کر عزت کی زندگی نصیب عطا فرما دی ہے ۔ فرعون جو تمہارے بیٹوں کو قتل کرتا تھا طرح طرح کی اذیتیں اور تکلیفیں پہنچاتا تھا تمہاری پھر اسی آمائش کی طرف پلٹنا چاہتے ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ کہ کر ان کو اللہ کی عبادت و بندگی کی طرف آمادہ فرمایا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس طرف ایک لطیف اشارہ کردیا ہے کہ انسان میں بھول جانے کی بہت بری عادت ہے وہ یہ نہیں سوچتا کہ جن اسباب کی وجہ سے اس پر ساری مصیبتیں آئی تھی پھر وہ غیر محسوس طریقے سے اسی طرف لوٹ رہا ہے۔ ایسے وقت میں وہ لوگ جن کو اللہ نے یہ منصب عطا کیا ہے کہ وہ لوگون کو اصل بات سمجھا سکیں تو ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کو سچائی کا راستہ دکھائیں ورنہ عوام کے گمراہی میں مبتلا ہونے میں دیر نہیں لگتی۔
Ayahs 7:142–144

وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِیْنَ لَیْلَةً وَّ اَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً١ۚ وَ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَ اَصْلِحْ وَ لَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:142 in the Quran reader

اور یاد کرو جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے تیس راتوں کا وعدہ کیا تھا پھر ہم نے مزید دس راتوں کا اضافہ کرکے اس کے رب کی طرف سے مقرر کی ہوئی مدت کو چالیس راتوں تک مکلمل کیا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) سے کہا کہ تم میرے بعد میری قوم میں جانشین بن کر ان کی اصلاح کرتے رہنا اور فساد کرنے والوں کی پیروی نہ کرنا۔

وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗ١ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْ١ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:143 in the Quran reader

اور جب وہ ہماری مقرر کی ہوئی مدت پر پہنچا تو اس کے رب نے اس سے کلام فرمایا۔ عرض کیا میرے پر دگار مجھے اپنا جلوہ دکھا دیجئے کہ میں آپ کو دیکھ سکوں ۔ فرمایا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) تو مجھے ہر گز نہیں دیکھ سکتا۔ البتہ پہاڑ کی طرف دیکھ اگر وہ اپنی جگہ ٹھیرا رہا تو بہت جلد تو مجھے دیکھ لے گا۔ پھر جب اس کے رب نے پہاڑ کی طرف تجلی فرمائی تو اس نے اس پہاڑکو ٹکرے ٹکرے کردیا اور موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش ہوکر گر پڑے ۔ پھر جب انہیں ہوش آیا تو عرض کیا اے اللہ آپ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے میں آپ سے توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلے یقین کرنے والا ہوں۔

قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِكَلَامِیْ١ۖ٘ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:144 in the Quran reader

فرمایا اے موسیٰ (علیہ السلام) ! میں اپنے پیغام اور کلام کے لئے لوگوں میں تجھے منتخب کرلیا ہے جو کچھ میں نے تجھے دیا ہے اس کو لے کر شکر گذاری کر۔

تشریح آیات نمبر 142 تا 144 فرعون اپنے تمام لاء لشکر کے ساتھ غرق ہوچکا تھا اللہ تعالیٰ نے اپنی ساری قوتیں بنی اسرائیل کو دے کر ان پر جانشینی اور خلافت کی ذمہ داریاں ڈال دی تھیں ۔ اگر ذمہ داریاں ڈال دی جائیں تو اور ذمہ داریوں کی وضاحت نہ کی جائے تو انسان کس طرح اپنی ذمہ داریون کو پورا کرسکتا ہے اس لئے اب بنی اسرائیل کے لئے ایک کتاب اور مستقل شریعت کی ضرورت تھی اسی لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تیس راتوں کے لئے کوہ طور پر بلوایا۔ کوہ طور ایک پہاڑ کا نام نہیں بلکہ یہ متعدد پہاڑ ہیں ۔ کوہ سینا کی چوٹی کا نام طور ہے یہی وہ جگہ ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تیس دن کے لئے بلوایا اور اس میں مزیددس دن کا اضافہ فرما کر اس کی مدت کو چالیس دن فرمادیا۔ یہی وہ طور ہے جس کی بلندی 259 فٹ ہے۔ کوہ سینا کے نیچے ایک وادی ہے جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی وقم کے لوگوں کو چھوڑا تھا اسے آجکل میدان الراحہ کہا جاتا ہے۔ یہی وہ طور ہے جس پر اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمایا۔ اور توریت جیسی عظیم کتاب عطا فرمائی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب کوہ طور پر تشریف لے گئے تو اپنی جگہ بڑے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو قائم مقام بنا کر گئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ منصب خالی چھوڑ کر نہ جانا چاہیے بلکہ اپنی جگہ کسی موزوں اور معتبر آدمی کو اپنی جگہ نمائندہ مقرر کرکے جانا چاہئے تاکہ قوم کی رہنمائی ہوتی رہے۔ نبی کریم ﷺ جب بھی مدینہ منورہ سے باہر تشریف لیجاتے تو اپنی جگہ کسی کو ذمہ دار بنا کر جاتے تھے۔ اسی سنت پر خلفاء راشدین بھی چل کر ہمیشہ اپنی جگہ کسی کو اپنا جانشین بناتے تھے۔ صحابہ کرام ؓ کا بھی اسی پر عمل رہا اور انہوں نے بھی ہمیشہ اسی سنت کو زندہ رکھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی جب تیس دن کے لئے کوہ طور پر تشریف لے گئے تو اپنی جگہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کو واضح ہدایات کے ساتھ اپنا جانشین بناکر گئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی سے فرمایا کہ میری جگہ میری قوم میں تم میرے جانشین ہو۔ ان کی اصلاح کا خیال رکھنا اور فسادیوں کے فساد کی پرواہ نہ کرنا بلکہ ان کی بھی اصلاح کرتے رہنا۔ ان ہدایات کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر پہنچ گئے اور اللہ نے ان سے کلام کیا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کی محبت اور تجلیات میں ایسے کھو گئے کہ ایک درخواست کر ڈالی کہ رب العالمین میں آپ کو دیکھنا چاہتا ہوں مجھے دیکھنے کی طاقت عطا فرمادیجئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) تم مجھے نہیں دیکھ سکتے یعنی تمہاری آنکھوں میں طاقت ہی نہیں ہے کہ تم مجھے دیکھ سکو۔ ہم اپنی تجلی کو پہاڑ پر ڈالتے ہیں چناچہ اللہ نے اپنی تجلی پہاڑ پر ڈالی تو پہاڑ سرمہ سرمہ ہوگیا اور موسیٰ (علیہ السلام) اس ہولناک آواز سے ہی بےہوش ہو کر گر پڑے۔ ہوش میں آئے تو عرض کیا رب العالمین میں اپنی درخواست سے توبہ کرتا ہوں اور میں اس پر پوری طرح یقین کرنے والا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) میں نے اپنی رسالت اور کلام کے لئے تمہیں منتخب کرلیا ہے اس بڑی سعادت تمہارے لئے اور کیا ہوگی۔ اب تم صبر شکر کے ساتھ میرا کلام سنو اور اپنی امت تک پہنچا دو ۔
Ayahs 7:145–147

وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ١ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا١ؕ سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:145 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو تختیوں پر ہر چیز اور ہر نصیحت کو تفصیل کے ساتھ لکھ دے دیا تھا اور کہا تھا کہ ان (نصیحتوں اور ان احکامات ) مضبوطی سے تھام کر اپنی قوم کو سکھائو تاکہ وہ اس کو احسن طریقہ پر عمل کریں ۔ اور میں بہت جلد تمہیں نافرمانوں کے ٹھکانے دکھائوں گا۔

سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:146 in the Quran reader

اور میں بہت جلد ان لوگوں کو جو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں ان کو اپنی نشانیوں سے دور ہی رکھوں گا (اور یہ تو حقیقت ہے کہ ) اگر وہ ان تمام نشانیوں کو دیکھ بھی لیں گے تب بھی وہ ایمان نہ لائیں گے اور اگر وہ نہایت سیدھا راستہ بھی دیکھ لیں تو اس کو وہ اختیار نہ رکریں گے ، ہاں البتہ اگر وہ کسی گمراہی کے راستے کو دیکھ لیں تو اس کو فوراً اختیار کرلیں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے اور وہ ان سے غفلت کرتے رہے ہیں ۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:147 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں اور آخرت کی ملاقات کی جھٹلایا ان کے سارے اعمال ضائع ہوں گے۔ ان کو وہی بدلہ دیا جائے جو وہ کرتے تھے۔

تشریح :ـآیات نمبر ا 45 تا 147 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مختلف موقعوں پر پس پردہ براہ راست اللہ تعالیٰ سے کلام کیا ہے اگر چہ وہ اللہ کا دیدار تو حاصل نہ کرسکے لیکن ان کو اللہ سے کلام کرنے کا شرف حاصل ہے اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کلیم اللہ کہا جاتا ہے۔ پہلی گفتگو تو وہ ہے جو سورة الاعراف کی آیت نبمر 143 سے ظاہر ہے ۔ اللہ سے کلام کا سلسلہ جاری رہا اور چالیس دن کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پتھر کی سلوں پر لکھی ہوئی توریت عطا کی۔ اس میں جو ہدایات دی گئی تھیں ان کا خلاصہ یہ ہے۔ 1) حکم پر محض عمل کرنا کافی نہیں ہے اللہ کو جو چیز مطلوب ہے وہ ہے حسن عمل یعنی کسی کا حکم پر احسن طریقہ سے عمل کرنا جس میں علم ، عقل ، خلوص، محبت اور حسن و جمال جیسی خوبیاں بھی شامل ہوں۔ اللہ کو ہر عمل کی کثرت نہیں بلکہ عمل کی خوبی زیادہ پسند ہے۔ 2) عبرت اور ہر چیز کی تفصیل سے مراد وہ تاریخی کھنڈرات بھی ہیں جہاں سے بڑی بڑی طاقتیں اٹھیں لیکن کفر و شرک میں مبتلا وہنے کی وجہ سے عذاب الہٰی کی مستحق ہوگئیں۔ 3) تیسری بات یہ کہی گئی ہے کہ اللہ کی آیات روح تک اسی وقت پہنچ سکتی ہیں جب راہ میں تکبر اور غرور کی رکاوٹ نہ ہو ۔ جہاں ذہن میں یہ بات آئی کہ میں قوت واقتدار والا ہوں میں دولت والا ہوں ، میں علم و عقل والا ہوں، میں باقاعدہ قرآن و حدیث پڑھے بغیر چند باتیں سیکھ کر دین کی ہر بات کو خود سمجھ لیتا ہوں (جیسا کہ آج کل کچھ جدید تعلیم یافتہ طبقہ سوچتا ہے ) تو اللہ تعالیٰ کا نظام ہے کہ وہ دل و دماغ کو پھیر دیتا ہے اور وہ کہج فہم لوگ دوذخ کے راستے پر نکل پڑتے ہیں اور وہ لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ تکبر کے ساتھ ” بغیر حق “ کی شرط لگی ہے اس کے واضح معنی یہ ہیں کہ تکبر اور بڑائی کا حق صرف اللہ کو حاصل ہے کبریائی کی شان اسی کے پاس ہے اللہ ہی ” اکبر “ ہے بقیہ سب اصغر (بہت ہی چھوٹے) ہیں انسان خواہ مخواہ اپنے آپ کو برا سمجھتا اور غرور کرتا ہے یہ ابلیس کی نشانی ہے ۔ ہا تحدیث نعمت کے طور پر یا شکر گزاری کے طو پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ مجھے اللہ نے فلاں فلاں نعمتیں عطا فرامائی ہیں ۔ تقابلی موازنہ کی بھی کنجائش ہے ۔ مگر فخر و غرور کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ حق کے معنی سچائی کے بھی ہیں ۔ حقوق اور انصاف کے بھی ۔ اگر بشرط ضرورت تقابلی موازنہ کیا جائے تو جو کچھ کہا جائے وہ بالکل سچ ہو۔ اس میں مبالغہ خود آرائی گھٹائو بڑھائو نہ ہو۔ نہ کسی کا حق مارا جائے یعنی اگر کسی شخص میں کوئی خوبی ہے تو اس کے بےلاگ طریقہ پر تسلیم کیا جائے۔ لیکن اس کی اجازت نہیں ہے کہ جذبات میں بہہ کر انصاف کا دامن ہا تھ سے چھوڑا دیا جائے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بیایا جارہا ہے کہ ان کو قوم میں تکبر اور برائی کرنے والوں کی کثرت ہے ۔ ایسے لوگوں کی پہچان یہ ہے کہ وہ ساری نشانیاں اور معجزات دیکھنے کے باوجود ایمان نہیں لاتے۔ وہ اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں کبھی ان کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ لہو و لعب ان کی زندگی بن کر رہ گیا ہے۔ وہ اس طرف ذرا بھی توجہ نہیں کرتے کہ ایک دین انہیں اللہ کے سامنے حاضر ہو کر اپنے کئے کا پورا پورا حساب دینا ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمادیا ہے کہ کافروں میں جہاں برے لوگ ہیں وہیں کچھ اچھے لوگ بھی ہیں جو لوگوں کی بھلائی اور خیبر خواہی کے کام کرتے ہیں ۔ مگر قرآن کریم نے ہمارے سامنے اس اصول کو بھی واضح طریقہ پر رکھ دیا ہے کہ جو شخص کوئی بھی نیک کام کرے گا خواہ وہ اللہ کا دوست ہو یا دشمن اس کے نیک کاموں کا اس کو اجر دیا جائے گا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ نیک کام جو کوئی انسان ایمان کے بغیر کرتا ہے تو اس کی محنت کا صلہ اس کو اسی دنیا میں مل جاتا ہے لیکن وہی نیک کام اگر ایمان کے ساتھ کیا جائے گا تو اس کا اجر اور صلہ اس دنیا میں بھی ملے گا اور آخرت میں بھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا و آخرت میں اجر وثواب کا دارومدار ایمان پر ہے اور ایمان ہی اس عمل ع کے اجر میں وزن پیدا کرتا ہے۔ ایمان کے بغیر جو بھی عمل کیا جائے گا وہ بھاری نہیں ہلکا ہوگا اتنا ہل کہ کہ وہ آسمانوں کی طرف بلند نہیں ہو سکتا۔
Ayahs 7:148–149

وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ١ؕ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّهٗ لَا یُكَلِّمُهُمْ وَ لَا یَهْدِیْهِمْ سَبِیْلًا١ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:148 in the Quran reader

اور موسیٰ ٰ کی قوم نے ان کے ( کوہ طور پر ) جانے کے بعد اپنے زیورات سے ایک بچھڑا بنالیا جس سے بیل کی جیسی آواز نکلتی تھی۔ انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے کلام کرتا ہے اور نہ یہ دیکھا کہ وہ ان سے کلام کرتا ہے اور نہ وہ انہیں کوئی ہدایت دیتا ہے بہر حال انہوں نے اس کو معبود بنالیا اور وہ ظالم بن گئے ۔

وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا١ۙ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:149 in the Quran reader

جب ان پر بات کھلی تو وہ پچھتائے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ وہ بھٹک گئے ہیں ۔ کہنے لگے کہ اگر ہمارے پروردگار نے ہم پر رحم نہ کیا اور ہماری مغفرت نہ کی تو ہم تباہ ہوجائیں گے۔

تشریح آیت نمبر 148 تا 149 بنی اسرائیل سیکڑوں سال کئی نسلوں تک مصر میں بت پرست قوموں کے ساتھ رہے۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) آتے رہے ان کی اصلاح فرماتے رہے مگر جب بھی ان کی تعلیمات سے غفلت برتتے تو پھر سے بت پرستی کر طرف مائل ہوجاتے چناچہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تبلیغ اور ان کے معجزات ، جن میں سمندری میں راستے بن جانا فرعون اور اس کی قوم کا غرق ہونا بنی اسرائیل کا صاف بچ کر نکل آنا وغیرہ کچھ عرصہ کا اثر رہا اس کے بعد پھر ان کی طبیعت لہرائی خصوصاً جب کہ انہوں نے جزیرہ نمائے سینا میں سامیوں کے عظیم الشان بت خانے دیکھے ھالان کہ فرعونیوں کے ظلم و ستم سے رہائی پائے ہوئے انہیں بس دو تین مہینے ہی ہوئے تھے انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر جانے کے بعد سامری جادوگر کے کہنے پر اپنا تمام سونا چاندی اس کے حوالے کردیا ۔ اس نے اس سونے چاندی کو گلا کر ایک یسا بچھڑا بنادیا جس میں سے ایک آواز بھی نکلتی تھی اور اس نے یقین دلایا کہ در حقیقت یہی وہ تمہارا معبود ہے جس سے تم اپنی مرادیں مانگ سکتے ہو۔ اصل میں بتوں کو پوجنے کے لئے صرف یہی کافی ہے کہ اس کے پیچھے کچھ جھوٹی کہانیاں گھڑدی جائیں اور اس کے کمالات کو لوگوں میں مشہور کردیاجائے وہ چیز خواہ سانپ ہو درخت ہو، گائے کا گوبر ہو یا پیشاب ہو یا کوئی بت کی شکل میں انسانی تصویر۔ گمراہ انسان ان سب چیزوں کے آگے جھک جاتا ہے اور نا کو اپنا معبود تصور کرلیتا ہے۔ اس میں جاہل اور پڑھے لکھے سب برابر ہوتے ہیں آپ نے دیکھا بھی ہوگا کہ بعض لوگ انتہائی قابل لائق، سیاستدانوں پڑھے لکھے لوگے ہوتے ہیں جن کے عقلی فیصلوں پر لوگوں کو اعتماد ہوتا ہے لیکن وہ مذہب کے معاملے میں پتھروں اور گڑیوں کے سامنے جھک جاتے ہیں اور ان کو اپنا معبود سمجھتے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ ان کا یہ فعل بھی کوئی عقل اور علم سے تعلق رکھتا ہے بلکہ ان کی عقل ان چیزوں میں خوب فیصلے کرتی ہے جو سامنے ہوتی ہے لیکن جو چیز اور بات عقل میں اور تجربہ میں آہی نہیں سکتی اس پر وہ آنکھ بند کرکے یقین کرلیتے ہیں انکا ان چیزوں کو پوجنا اور ان کو اپنا حاجت روا ماننے کا ان کے علم اور عقل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
Ayahs 7:150–153

وَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ١ۚ وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْهِ یَجُرُّهٗۤ اِلَیْهِ١ؕ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَ كَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ١ۖ٘ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَ لَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:150 in the Quran reader

اور جب موسیٰ اپنی قوم کی طرف پلت کر آئے تو افسوس اور شدید غصہ میں بھرے ہوئے تھے اور کہنے لگے کہ تم نے میرے بعد میری بہت بری جانشینی کی کیا تمہیں اپنے رب کے حکم کی بہت جلدی تھی۔ انہوں نے توریت کی تختیوں کو ایک طرف رکھا اور اپنے بھائی (ہارون (علیہ السلام) کے سر کے بال پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے۔ (حضرت ہارون (علیہ السلام) نے) کہا اے میری ماں کے بیٹے ! بیشک میری قوم نے مججے بےبس کردیا تھا اور مجھے قتل کرنے کے قریب تھے ۔ تو مجھ پر میرے دشمنوں کو ہنسنے کا موقع نہ دے اور مجھے ظالم قوم میں شمار مت کر۔

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِاَخِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَ١ۖ٘ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 7:151 in the Quran reader

(موسیٰ نے ) کہا اے میرے رب مجھے اور میرے بھائی کو معاف فرمادے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرمالے۔ آپ ہی تو سب رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم و کرم کرنے والے ہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ Open ayah 7:152 in the Quran reader

بیشک جنہوں نے بچھڑے کو اپنا معبود بنالیا ھتا بہت جلد ان کو ان کے پروردگار کا اعذاب پہنچے گا۔ اور دنیا کی زندگی میں ذلیل اور رسوا ہوں گے اور ہم جھوٹ گھڑنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِهَا وَ اٰمَنُوْۤا١٘ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:153 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے برے اعمال کئے پھر اس کے بعد انہوں نے توبہ کرلی اور ایمان لے آئے تو بیشک آپ کا پروردگار مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے،

تشرح آیات نمبر 150 تا 153 جب حضری موسیٰ (علیہ السلام) طور پر اعتکاف کی حالت میں تھے تو اسی وقت اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی کردی تھی کہ تمہارے پیچھے تمہاری قوم نے سونے چاندی کا بچھرا بنالیا ہے اور اسکی پوجا کرنے لگے ہیں ( یہ سارا کام ایک جادوگر سامری کی زیر ہدایت ہوا) ۔ یہ سن کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا دل پہلے ہی کھول رہا تھا جب واپس لوٹے اور خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ قوم نے ایک اللہ کو چھوڑکر بچھڑے کی پوجا کر رہی ہے تو اور بھی غصہ سے بپھر گئے۔ پہلے اپنی قوم والوں کو ملامت کی کہ تمہیں اللہ نے خلافت ارضی بخشی تھی کیا تمہاری کارکردگی کا یہی نمونہ ہے ؟ کہ ہمارے غائبانہ میں تم نے اللہ کو چھوڑ کر بچھڑے کی پوجا شروع کردی۔ میں تو تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کے احکامات لینے گیا تھا۔ تم کچھ انتظار کرلیتے۔ پھر وہ گرم جذبات میں بھرے ہوئے اپنی بھائی ہارون کی بڑھے جن کو انہوں نے اپنا جانشین بنای اتھا۔ اگرچہ حضرت ہارون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے چند سال بڑے تھے لیکن نبوت کے کام میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ماتحت تھے وجہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) رسول بھی ہیں اور نبی بھی جبکہ حضرت ہارون (علیہ السلام) صرف نبی ہیں رسول نہیں ہیں۔ بنی ہمیشہ رسول کے تابع ہوا کرتا ہے ۔ بہر حال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس واقعہ پر اتنا غم و غصہ تھا کہ انہوں نے ہاتھ خالی کرنے کے لئے توریت کی تختیوں کو ایک طرف رکھا اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے سرکے اور ڈاڑھی کے بال پکڑ کے کھینچتے ہوئے کہنے لگے کہ جب کہ میں تمہیں اپنا جانشین بنایا تھا تمہاری موجودگی میں ایسا کیوں ہوا ؟ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے اپنے دفاع میں کہا اے میرے بھائی میں زیادہ سے زیادہ منع ہی کرسکتا تھا یعنی ان کو اس برے فعل اور بت پرستی سے روک ہی سکتا تھا۔ تو میں نے ان کو ہر طرح سمجھایا لیکن سامری کے بہکائے میں آکر یہ لوگ بت پرستی کی طرف اس شدت سے لپکے کہ خود مجھے اپنی جان کی خیر منانی پڑی۔ اے میرے بھائی ہرگز گناہ گار نہیں ہوں اور آپ ایس بات نہ کیجئے جس لوگ ہمارا مذاق اڑائیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب حضرت ہارون (علیہ السلام) کی باتیں سنیں تو ان کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا اور انہوں نے اپنے لئے اور اپنے بھائی کے لئے مغفرت کی دعائیں کیں۔ اس جگہ ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کی زبان سے جو جملے نقل فرمائے ہیں وہ درحقیقت ان کی معصومیت اور نیک فطرت کی طرف اشارہ ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ موجودہ بائبل نے حضرت ہارون (علیہ السلام) پر بڑے بڑے الزامات لگائے ہیں اسے نے الزام لگایا ہے کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کوہ طو پر جانے کے بعد ایک قربان گاہ بنائی تمام بنی اسرائیل کو جمع کیا اور ان کے سامنے سنہرے بچھڑے پر چڑھاوے چڑھائے۔ دوسری جگہ بائبل میں ہے کہ یہ وہی تھے جنہوں نے سونے کا بچھڑا بنایا ہے جسے دیکھتے ہی بنی اسرائیل پکارا اٹھے کہ یہی وہ معبود ہے جو ہمیں فرعونیوں کے ظلم سے چھڑا ک لایا ہے۔ اصل میں یہ سارے الزامات ہیں جو حضرت ہارون (علیہ السلام) لگائے گئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کے الفاظ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعائے مغفرت کو اس لئے نقل کیا ہے تاکہ سب کو معلوم ہوجائے کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے یہ جرم نہیں کیا تھا بلکہ سامری نے لوگوں کو بہکا کر حضرت ہارون (علیہ السلام) کو بےبس کردیا تھا اور پوری قوم سامری کے بہکائے میں آگئی تھی حضرت ہارون (علیہ السلام) اس سے بری تھے۔
Ayahs 7:154–156

وَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ١ۖۚ وَ فِیْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ یَرْهَبُوْنَ Open ayah 7:154 in the Quran reader

جب موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس نے توریت کی تختیاں اٹھائیں جس میں ان لوگوں کے لئے ہدایت اور رحمت تھی جو اپنے پروردگار سے ڈرنے والے ہیں ۔

وَ اخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَا١ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِیَّایَ١ؕ اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا١ۚ اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ١ؕ اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ Open ayah 7:155 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم میں سے ستر لوگوں کو منتخب کیا تاکہ وہ ہماری مقررہ مدت پر پہنچیں پھر جب ان کو ایک سخت زلزلے نے آپکڑا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب اگر آپ چاہتے ہو تو اس سے پہلے بھی ان کو اور مجھے ہلاک کرسکتے تھے۔ کیا ہمیں اس وجہ سے ہلاک کرتے ہیں ہماری قوم میں سے کچھ لوگوں نے بےوقوفی کے کام کئے ہیں ۔ یہ سب آپ کی طرف ہماری آزمائش ہے۔ آپ جسے چاہیں بھٹکادیں اور جس کو چاہیں ہدایت دیدیں آپ ہی ہمارے تھامنے والے ہیں ۔ ہمیں معاف کردیجئے ہم پر رحم کیجئے اور آپ سب سے بڑھ کر معاف کرنے والے ہیں ۔

وَ اكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ١ۚ وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 7:156 in the Quran reader

اور ہمارے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دیجئے اور آخرت میں بھی۔ بیشک ہم آپ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ فرمایا کہ میں اپنا عذاب جس کو چاہتا ہوں پہنچاتا ہوں لیکن میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے اسے میں ان لوگوں کے نام تو ضرور رکھوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ لوگ جو ہماری آیتوں میں ایمان لاتے ہیں ۔

تشریح : آیت نمبر 154 تا 156 صدیوں کی غلامی اور فرعون کے ظلم و ستم سے نجات کے بعد اللہ نے بنی اسرائیل کو خلافت ارضٰ سپرد کی تھی۔ اس خلافت کو چلانے کے لئے جس آئین اور قوانین کی ضرورت تھی وہ اللہ نے توریت کی شکل میں بنی اسرائیل کو عطا کردئیے تھے۔ اس کے ساتھ ہی ایک امیر مملکت بھی جو ، آئین و قوانین کی تفصیلات سمجھنے کے لئے خصوصی علم و دانش رکھتا ہو اور جس کا مسلسل رابط اللہ تعالیٰ سے ہو چناچہ اس خلافت ارضی کیلئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر بلایا گیا جہاں چالیس دن رات ان کی تعلیم و تربیت فرمائی گئی اس تعلیم و تربتی کے بعد توریت کی تختیاں سپرد ہوئیں جن پر دنیا وآخرت کی فلاح بہبود کے اصول لکھے ہوئے تھے۔ جب حضرت ہارون (علیہ السلام) کی معذرت پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا غم دور ہوا تو وہ اپنی نبوت کے کام میں لگ گئے۔ انہوں نے توریت کی تختیاں اٹھالیں اور ان کی تبلیغ شروع کردی ظاہر ہے کہ تبلیغ دین میں کوئی زبردستی تو ہوتی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت وہی مانیں گے اور اس کے رحمت کے مستحق وہی لوگ ہوں گے جو اللہ کا خوف رکھتے ہیں۔ اللہ کا خوف عام خوف سے مختلف ہے یہ صرف خوف ہی خوف نہیں رحمت و شفقت کی امیدیں بھی ساتھ ساتھ لگی ہوئی ہیں۔ ایک طرف دوزخ کا خوف ضرور ہے تاکہ انسان گناہ سے رک جائے لیکن دوسری طرف گناہ گار کے ہاتھ میں توبہ کا ہتھیار بھی دے دیا گیا تاکہ وہ جنت سے مایوس نہہو۔ کیونکہ مایوسی گناہ ہے دنیا میں باپ کا خوف اللہ کا خوف کا ایک ادنیٰ سا نمونہ اور مثال ہے اس میں باپ سے ایک ڈر بھی ہے کہ ڈر کے بغیر گھر کا انتظام چل نہیں سکتا مگر بچہ کو پوری امید بھی ہے کہ اگر وہ نیک راہوں پر چلے گا اور کسی خطا پر شرمندہ ہوگا تو باپ کی محبت غالب آجائے گی تقویٰ کا لفظ اسی ملی جلی کیفیت کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کے مقرر کئے ہوئے وقت اور مقام پر پہنچنے کے لئے بنی اسرائیل کے سترہ افراد کا انتخاب کیا گیا۔ بعض مفسرینکا خیال ہے کہ یہ ان لوگوں میں سے تھے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے انہیں کوہ طور پر لیجانے کا مقصد یہ تھا کہ وہ قوم کی طرف سے اللہ کی بارگاہ میں اس قصور کی معافی مانگیں گے جو بچھڑے کی پرستش کی صورت میں سر زد ہوا ہے۔ بیض مفسرین کا خیال ہے کہ وہ اللہ کے منکرین میں سے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ہم مان لیں گے کہ یہ توریت کی تختیاں اللہ کی طرف سے ہیں ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کی اجازت سے یہ کہا گیا کہ اس میں جس کو شک ہو وہ کوہ طور پر میرے ساتھ چلے اللہ مجھ سے ہمکلام ہوگا تم بھی سن لینا ان کو چلتے چلتے ایک شرارت سوجھی کہ ہم یہ کیسے مان لیں گے کہ یہ آواز جو تم سنتے ہو اللہ ہی کی آواز ہے ہاں اللہ خود ہمارے سامنے آکر بات کرے تو ہم یقین کرلیں گے۔ اس گستاخی پر اللہ کا قہر نازل ہوا اور شدید زلزلہ سا آگیا یا سورة بقرہ کے الفاظ میں صاعقہ یعنی بجلی کی ایک تیز کڑک تھی جس کو سن کر ستر کے ستر لوگ مرگئے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا۔ الہٰی اگر آپ چاہتے تو ان کو اس سے پہلے بھی ہلاک کرسکتے تھے۔ ان کو زندگی دیدیجئے۔ شاید حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذہن میں خیال ابھرا ہو کہ کہیں بنی اسرائیل ان پر یہ الزام نہ لگادیں کہ دھوکے سے بنی اسرائیل کے ستر سر داروں کو مرادیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے ان سب کو زندہ کردیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس موقع پر جو دعا کی اس کے دو جزو ہیں 1) اے اللہ ہمارے قصور معاف فرما دے اور ہم پر رحم و کرم فرما۔ 2) ہمیں اس دنیا میں اور آخرت میں اپنی نعمتوں کے لئے چن لے۔ پہلے حصے کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں پر عتاب و عذاب ہوا ہے ان کو معافی دیدی جائے۔ فرمایا کہ رہم ان کو زندہ تو کردیتے ہیں لیکن ان قصوروں کی معافی کیلئے تین شرطیں ہیں (1) تقویٰ یعنی خوف الہٰی (2) زکوٰۃ کی ادائیگی (3) آیات الہٰی پر ایمان دوسرے حصے کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اس دنیا اور آخرت میں ہر طرح کی کامیابیاں عطا فرما دیجئے اور اپنی تمام نعمتوں کے لئے ہمارا انتخاب کرلیجئے۔ اللہ نے فرمایا کہ میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ بندوں سے اللہ کا سلوک سرا سر رحم و کرم اور شفقت و محبت کی بنیاد پر قائم ہے سزا ان کو دی جاتی ہے جو گناہوں پر گناہ کرتے چلے جاتے ہیں اور اللہ کی طرف نہیں پلٹتے یعنی توبہ نہیں کرتے۔
Ayahs 7:157–158

اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ١٘ یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 7:157 in the Quran reader

وہ لوگ جو رسول اور نبی امی ﷺ کی تابع داری کرتے ہیں ۔ وہ نبی امی کہ جن کا ذکر ان کتابوں میں لکھا ہوا موجود ہے جو ان کے پاس توریت اور انجیل کی شکل میں پائی جاتی ہیں۔ وہ انہیں بھلائیوں کا حکم دیتے ہیں اور انہیں برائیوں سے روکتے ہیں پاک چیزوں کو حلال اور گندی چیزوں کو نا پاک بتا تے ہیں۔ ان سے ان کو بوجھ دور کرتے ہیں جن میں مبتلا تھے ان بندشوں کو کھلولتے ہیں جن میں جکڑے ہوئے تھے پھر وہ لوگ جو ان پر ایمان لائے اس کی حمایت کی انہوں نے ان کی مدد کی اور اس نور کی اتباع کے جو ان کے ساتھ اتار گیا ہے یہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں ۔

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَا اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 7:158 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ کہہ دیجئے اے لوگو ! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں زمین وآسمان کی سلطنت جس کی ملکیت ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی زندگی دیتا ہے و ہی موت دیتا ہے ۔ پس تم اللہ پر اور اس کے رسول پر جو نبی امی ہیں ایمان لے آئو اور جو اللہ اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتے ہیں ان کی اتباع کریں تا کہ وہ ہدایت حاصل کرسکیں۔

تشریح : آیت نمبر 157 تا 158 پچھلی آیت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کے جواب میں اللہ نے ارشاد فرمایا تھا کہ میر رحمت شفقت اور کرم ہر چیز پر چھایا ہوا ہے میں اپنے رحم و کرم کے حصے میں ڈال دوں گا جو (1) تقویٰ رکھتے ہیں ۔ (2) زکوٰۃ دیتے ہیں ۔ (3) اور ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں ۔ آیت نمبر 157 میں اللہ تعالیٰ نے چوتھی صفت بھی ارشاد فرمادی ہے۔ (4) چوتھی شرط یہ ہے کہ اس نبی امی ﷺ کی مکمل اطاعت و فرما برداری کی جائے جن کا ذکر توریت اور انجیل میں موجود ہے۔ یعنی ہرچند کہ یہ نبی امی ﷺ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) و حضرت عیسٰی اور دیگر انبیا کے بعد آئے ہیں مگر ان کے آنے سے پہلے ہر نبی ان کے آنے کی اطلاع دیتے رہے ہیں۔ اور فرمایا کہ توریت اور انجیل میں آپ کی تمام نشانیاں موجود ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ موجودہ توریت اور انجیل میں بہت سی تحریفات اور تبدیلیان ہوچکی ہیں اور ہوتی رہیں گی حضور نبی کریم ﷺ کی شان نبوت کے متعلق جو آیات تھیں یا تو ان کو بالکل بدل دیا گیا ہے یا نکال دیا گیا ہے۔ مگر اللہ کی شان کہ توریت اور انجیل میں ابھی تک نبی امی ﷺ کے متعلق بہت سی آیات اور شناختیں مل جاتی ہیں ۔ اگر حضور اکرم ﷺ کے زمانے میں یہ آیات اور شناختیں توریت اور انجیل میں نہ پائی جاتیں تو یہود و نصاریٰ کے ہاتھ میں قرآن کریم کو بدنام کرنے اور جھٹلانے کا ایک بہت بڑا ہتھیار مل جاتا اور وہ صاف صاف کہہ دیتے کہ اس میں کوئی ذکر موجود نہیں ہے لیکن ہزار مخالفتوں کے باوجود کسی نے ایسی بات نہ کہی۔ حضور اکرم ﷺ کے اعلان نبوت کے بعد یہود نصاریٰ نے اسلام قبول کیا۔ ان میں سے چند سر برآ ردو لوگوں کی تصدیقیں سیرت و احادیث کی کتابوں میں درج ہیں۔ ان کی تصدیقات سے پتہ چلتا ہے کہ توریت و انجیل میں نہ صرف آپ کی صفات کی تفصیلی ذکر تھا بلکہ آپ کے پیغام کا بھی آپ کے وطن اور پیدائش کا بھی۔ آپ کے وطن ہجرت کا بھی اور سب سے بڑھ کر آپ کے حلیہ مبارکہ کا بھی ذکر موجود تھا ۔ سورۃ صف میں ذکر ہے کہ حضرت عیسیٰ نہ یہ بھی بتادیا تھا کہ آپ کا نام نامی ” احمدی “ ہوگا۔ توریت و انجیل میں کیا گیا شناختیں دی گئی تھیں ان کو قرآن کریم نے اس جگہ دھر ایا ہے ۔ سب سے بڑی شناخت اس رسول نبی امی ﷺ کی یہ ہوگی کہ وہ امی ہوگا۔ یعنی پڑھا لکھانہ ہوگا۔ یہاں پر لفظ امی کا استعمال بہت سے پہلو رکھتا ہے۔ ہم ان میں سے دو کو بیان کریں گے۔ 1) حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک جتنے نبی اور رسول آئے ہیں وہ سب کے سب بنی اسرائیل سے تھے۔ ان کے مراتب کمالات کے کیا کہنا۔ اس کی وجہ سے یہودیوں میں ایک خاص گھمنڈو اور غرور پیدا ہوگیا تھا وہ بنی اسماعیل سمیت تما غیر یہودیوں کو ” امیون “ (جاہل ۔ ان پڑھ) کہا کرتے تھے۔ وہ طنز کے طور پر نبی مکرم ﷺ کو امی یعنی جاہل اور ان پڑھ کہتے ہیں ۔ لیکن قرآن کریم نے حضور اکرم ﷺ کو ” نبی امی “ کہہ کر اس لفظ کو عظمت دیدی ہے جب خود نبی کریم ﷺ نے ” امی “ کا لقب فخریہ استعمال فرمایا ہے اور اس طرح اس طنز کے پہلو کو توڑ کر رکھ دیا ہے۔ 2) نبی کا امی ہونا اس کی نبوت کی پہچان بھی ہے۔ وہ یہ ہے کہ نبی دنیا والوں کے اعتبار سے ” امی “ ہوتا ہے کیونکہ دنیا میں اس کا استاد کوئی نہیں ہوتا بلکہ وہ اللہ سے علوم سیکھ کر ساری امت کا معلم ہوتا ہے۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ نبی اگر دنیا میں کسی کا شاگرد ہوگا تو وہ نبی نہیں ہوسکتا کیونکہ استاد کا مقام شاگرد سے ہمیشہ اونچا رہتا ہے جب کہ جس زمانہ میں بنی ہوتا ہے تو اس سے بڑھ کر کوئی عالم نہیں ہوتا ۔ وہ سب کا معلم ہوتا ہے اس کا سوائے اللہ کے کوئی معلم نہیں ہوتا۔ سارا قرآن کریم پڑھ جائیے آپ کو ہر جگہ یہی ملے گا ہر نبی کو اللہ نے خود تعلیم دی لہذا دنیا کے لحاظ نبی امی ہوتا ہے لیکن اللہ کی شا گردی کی وجہ سے وہ تمام علوم سیکھ کر ساری دنیا کا معلم ہے اسی بات کو نبی کریم ﷺ نے یوں بیان فرمایا ہے کہ :ـ انما بعثت معلما۔ ۔۔ ۔ میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں (1) ہمارے زمانہ کے بعض جاہلوں نے کہا کہ ایک نبی جو ساری دنیا کا معلم ہوتا ہے وہ خود جاہل کیسے ہوسکتا ہے۔ پھر اس تصور کو قائم کرکے انہوں نے طرح طرح کی تاویلیں کی ہیں ۔ ۔۔ میں سمجھتا ہوں اگر وہ اس تشریح کو پڑھ لیں جو میں نے عرض کی ہے تو انشاء اللہ کو ” امی “ کے لفظ سے نہ تو الجھے کی ضرورت ہوگی اور نہ بےجا تا ویلیں کرنے کی۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس نبی کی پہچان جس پر ایمان لانا ضروری ہے ایک تو یہ ہے کہ وہ ” نبی امی “ ہیں۔ (2) دوسری پہچان یہ ہے کہ صدیوں سے انکا ذکر مبارک ہر آسمانی کتاب میں موجود ہے۔ (3) تیسری پہچان یہ ہے کہ وہ نبی امی ﷺ ہر معروف کا حکم دیتے ہیں اور ہر منکر سے لوگوں کو بچاتے ہیں اور منع کرتے ہیں۔ معروف و منکر کے معنی بھی ملاحظہ فرمالیجئے : معروف و کام ہیں جن کے کرنے کا اللہ نے اور اس کے رسول نے حکم دیا ہو۔ جو عرف عام میں نیکی کے ساتھ جانا پہچانا جاتا ہو۔ اور منکر کے معنی ہیں ” اجنبی یعنی جو دین و شریعت کے مزاج سے مختلف ہو وہ کام جسے لوگ بھی برا سمجھتے ہوں۔ امر بالمعروف اور نہی المنکر یعنی ہر اچھی بات کا حکم دینا اور ہرگز گناہ و خطا کی بات سے روک دینا ہر پغمبر کی تعلیم و تبلیغ کا مرکزی نقطہ ہے۔ (4) چوتھی پہچان یہ ہے کہ وہ پاک چیزوں کو حلال اور نا پاک چیزوں کو حرام بتائیں گے طیبات یعنی وہ چیزیں حلال ہیں جنہیں اللہ نے پاک قرار دیا ہے ۔ اسی طرح وہ چیزیں جنہیں عقل سلیم اور ذوق سلیم قبول کرے جو صحت و تندرستی ، شرافت اور عزت کے منافی نہ وہوں ۔ خبائث۔ یعنی وہ چیزیں جنہیں اللہ نے نا پاک اور ناپسندیدہ قرار دیا ہے ضمنی طور پر تمام وہ چیزیں جنہیں ذوق سلیم اور ضمیر گوارا نہ کرے جو صحت شرافت اور عزت کے منافی ہیں ۔ طیبات اور خبائث میں ساری چیزیں شامل ہیں کھانا، پینا، لباس، رسمیں ، ذریعہ معاش ، طریقہ سیاست و حکومت ، گھریلو اور سماجی تعلقات طریقہ تجارت، طریقہ صلح و جنگ وغیرہ۔ (5) پانچویں پہچان یہ ہے کہ وہ نبی امی ﷺ ان کو گوں کو جو بختوں اور بےجا بندشوں میں جکڑے ہوئے ہیں وہ ان سے ان کو آزادی دلائیں گے۔ مثلاً رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت میں ساری چیزیں حلال کردی گئیں جو بنی اسرائیل پر بطور سزا حرام کردی گئی تھیں یا جن چیزوں کو انہوں نے خود اپنے اوپر حرام کرلیا تھا۔ ان آیات میں نبی امی ﷺ کی یہ پانچ پہنچانیں بتائی گئی ہیں۔ ان میں پہلی دو پہچانیں حضور اکرم ﷺ کی شخصیت کے متعلق ہیں اور بقیہ پہچانیں آپ کی شریعت کے متعلق ہیں ۔ ان پانچ علامتوں اور پہچانوں کے بعد جو بات آخر میں فرمائی گئی ہے۔ وہ ان تمام باتوں کا خلاصہ ہے۔ فرمایا گیا کہ : وہی لوگ فلاح و کامیابی حاصل کرنے والے ہیں جو ہمارے نبی امی کے راستے کو اختیار کریں گے۔ ان کے ساتھ مل کر کامیابی تک پہنچیں گے اور یہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہیں جو اس نور کی (وحی جلی اور حی خفی) کی تابعداری کریں گے جو ان کے اوپر نازل کیا گیا ہے ان کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ اور آخر میں نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک سے قیامت تک آنے والے سارے انسانوں کو بتایا گیا ہے کہ ہر نبی اور رسول جو تشریف لائے وہ کسی نہ کسی خاص زمان و مکان کے لئے اور علاقے کے لئے تھے لیکن آپ نے فرمایا کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور تم سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ اس اللہ کیطرف سے جو تمام آسمانوں اور زمین اور پوری کائنات کا خالق ومالک ہے۔ زندگی اور موت جس کے ہاتھ میں ہے۔ رب العالمین کی طرف سے فرمایا گیا کہ اے لوگو ! اللہ پر ایمان لائو اور اس رسول امی ﷺ پر ایمان لائو جو خود بھی اللہ اور اس کے تمام احکامات پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت حاصل کرسکو۔ اب آپ کی نبوت و رسالت قیامت تک کیلئے ہے۔ آپ کے بعد نہ کوئی نبی نہ آئے گا نہ رسول۔ آپ کے بعد نبوت کا جو بھی دعویٰ کرتا ہے وہ باطل ہے اور ایسا شخص آپ کی ذات اور عظمت کا منکر ہے۔