Ayahs 7:94–99لغات القرآن آیت نمبر (94 تا 99) ۔
یضرعون (وہ عاجزی کرتے ہیں) ۔ حتی عفوا (یہاں تک کہ وہ آگے بڑھ گئے) ۔ مس (چھولیا) ۔ بغتتہ (اچانک ) ۔ لفتحنا (البتہ ہم نے کھول دیا) ۔ یکسبون (وہ کمائی کرتے ہیں) ۔ افامن (کیا پھر وہ بےخوف ہوگئے) ۔ نائمون (سونے والے ) ۔ ضحی (دن چڑھے ) ۔ یلعبون (وہ کھیل رہے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر (94 تا 99 ) ۔ ” گذشتہ آیات میں مسلسل پانچ قوموں کے عبرت انگیز واقعات بیان کر کے عرب کے کفار اور مشرکین کو نصیحت کی جارہی ہے کہ ذرا سوچو ! کیا یہی آزمائشیں تمہارے ساتھ پیش نہیں آرہی ہیں ؟ تم کس غفلت میں پڑے ہو ؟ کیا اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیریں ٹیکی اس وقت اچانک تمہیں آ کر پکڑ نہیں سکتیں جب کہ تم رات کو نیند میں یا دن کو دنیاوی معاملات اور ہنگاموں میں مد ہوش ہوں ؟
ان پانچ اقوام کے ساتھ جو کچھ ہوا بالکل وہی حالات حضور اکرم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بعثت کے زمانے میں اہل عرب کو پیش آ رہے تھے مگر جس طرح گذشتہ اقوام کا حشر ہوا اور انجام ہوا وہ ابھی ان کے ساتھ نہیں ہوا۔ مگر ایسے انجام میں دیر کتنی لگتی ہے۔ حدیث میں حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ دونوں کی متفقہ روایت ہے کہ جب حضور اکرم ﷺ نے دعوت و ارشاد کا آغاز کیا تو جواب میں اہل قریش نے ظلم و ستم کا سلوک دن بدن تیز کردیا ۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ نے دعا کی کہ اے اللہ ان پر اس طرح کا قحط نازل فرما جیسا کہ یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں نازل ہوا تھا اور مصر میں قحط پڑا تھا یہ دعا اس لئے کی گئی کہ ان کے اندر جو غرور، طاقت اور نشہ دولت ہے وہ ٹوٹ جائے ان کا دل نرم پڑجائے۔ انہیں معلوم تو ہو کہ ان کے اوپر کوئی طاقت ہے جس کے ہاتھ میں ان کے رزق اور قسمت کی باگیں ہیں اور جو انہیں کڑی سے کڑی اور بڑی سے بڑی سزا دے سکتی ہے۔
یہ دعا قبول ہوئی اور سات سال تک کے لئے قحط پڑگیا۔ یہاں تک کہ یہ لوگ گلی سڑی چیزیں، پتے اور مردار تک کھانے لگے۔ آخر اہل مکہ کا ایک وفد ابو سفیان کی سرکردگی میں مدینہ منورہ آیا اس وفد نے حضور اکرم ﷺ سے درخواست کی کہ آپ اللہ سے اہل مکہ کے لئے دعا کریں تاکہ اللہ یہ برا وقت ٹال دے نبی کریم ﷺ نے نہ صرف ان کی درخواست کو قبول کیا بلکہ تنگی اور مقروفاقہ کے باوجود جو کچھ بن پڑا وہ غلہ اور دوسرے ضروری اشیاء اہل مکہ کیلئے بھیجیں۔ سبحان اللہ یہ مکہ کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے تیرہ سال تک ناقابل تصور ظلم و ستم کئے اور ظلم و جبر کا کوئی حربہ ایسا نہیں تھا کہ جو انہوں نے آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کے خلاف استعمال نہ کرلیا ہو۔ لیکن جب یہی دشمن اللہ کے نبی کے پاس فریاد لے کر آئے تو آپ نے ان کو مایوس نہیں کیا بلکہ توقع سے زیادہ امداد فرمائی۔۔۔۔ ۔ جب یہ براوقت ٹل گیا اور از سر نوصحت و فراغت کا دور شروع ہوا تو ان کی گردنیں تکبر اور غرور سے تن گئیں کیونکہ ان کے سرداروں نے عوام کو یہ کہہ کر پھر سے بہکانا شروع کردیا کہ یہ اچھے برے حالات تو آتے جاتے رہتے ہیں۔ یہ تو فطرت اور وقت کا کھیل ہے ان معاملات میں اسلام اور پیغمبر اسلام کا کیا دخل ہو سکتا ہے ؟ لہٰذا ان کے جال میں پھنسنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بیماری اور شدید فقروفاقہ کا دور گذرنے کے بعد اہل عرب پر صحت اور فراوانی کا وقت آیا ہوا تھا جب سورة اعراف کی یہ آیات نازل ہوئیں جن میں اس غلط فہمی کو دور کیا گیا ہے کہ تنگی اور فراخی کے دو ادوار ہیں۔ ان کو لانے والی چیز فطرت اور تاریخ نہیں ہے ۔ ان کو لانے والی اللہ کی قدرت اور حکمت ہے اور ان کے لانے کا مقصد تمہاری آزمائش ہے۔
اور یہ بھی نصیحت کی گئی ہے کہ اوپر جو پانچ اقوام کے واقعات بیان کئے گئے ہیں ان میں اللہ کا عذاب اچانک۔ بغیر پیشگی اطلاع کے آیا ہے اور ٹھیک اسی وقت آیا ہے جب دولت، فراغت، نشہ اقتدار، اور نشہ پندار میں قوم بد مست ہوچکی تھی اور اسے بھول کر بھی یہ تصور نہ تھا کہ اللہ کی خفیہ تدبیر گھات میں تاک لگائے بیٹھی ہے ان آیات میں یہ بھی بتایا گیا کہ تم اتنی سی چیزوں پر مغرور اور بد مست ہوگئے ہو۔ اگر تم ایمان لاتے اور اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے اپنے آپ کو وقف کردیتے تو پھر دیکھتے کہ زمین و آسمان سے کیسی کیسی برکتیں نازل ہوتیں۔ اور اللہ کی رحمتیں نازل ہوتیں مگر ان باتوں کا یقین تو ان کو ہوتا ہے جب کو اللہ نے ایمان کی دولت سے سرفراز کیا ہے جن کی آنکھوں پر پردے پڑچکے ہیں ان کو یہ صداقت نظر نہیں آتی۔
Ayahs 7:100–102لغات القرآن آیت نمبر (100 تا 102 ) ۔
یرثون (وہ مالک ہوتے ہیں) ۔ اصبنھم (ہم نے ان کو پہنچایا۔ مصیبت میں ڈالا) ۔ نطبع (ہم مہر لگا دیتے ہیں) ۔ لا یسمعون (وہ نہیں سنتے ہیں) ۔ تلک القری (یہ بستیاں ) ۔ نقص (ہم بیان کرتے ہیں ) ۔ انباء (خبریں ) ۔
تشریح : آیت نمبر (100 تا 102) ۔ ” جیسا کہ گذشتہ آیات میں سمجھایا گیا ہے کہ قوموں کی تباہی ان کے گناہوں اور بد اعمالیوں کی سزا ہے جب وہ ضد اور ہٹ دھرمی میں بہت دور نکل جاتی ہیں۔ جب اصلاح کی تمام امیدیں ختم ہوجاتی ہیں، زلزلہ، طوفان، قحط، آتش زدگی، آتش فشانی، جنگ، وبا، وغیرہ یہ محض موسمی، جغرافیائی طبعیاتی، اتفاقی، حادثاتی یا جیسا کہ کارل مارکس وغیرہ نے سمجھایا ہے عمل اور ردعمل کی مسلسل زنجیر نہیں یا جیسا کہ سائنس نے سمجھایا ہے کہ ان کا تعلق جزا و سزا سے نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کا خاص تعلق کفر، ضد، ہٹ دھرمی اور ظلم سے ہے جیسا کہ اوپر پانچ اقوام کی مثالیں دی گئی ہیں۔
جس وقت یہ آیات نازل ہوئیں اہل عرب خصوصاً اہل قریش دولت اور اقتدار کی فروانی میں بہکے ہوئے تھے۔ حضور اکرم ﷺ کی تبلیغ سے ان کے ہوائی قلعے مسمار ہوتے نظر آرہے تھے یہی وجہ ہے کہ وہ ایک بات کو حق اور سچ سمجھنے کے باوجود ماننے کے لئے تیار نہ تھے۔ تمام منطق اور معقولیت کے باوجود ایمان نہ لانے کی ایک ہی وجہ ہے اور وہ ہے ان کا دنیاوی مفاد۔ ان کی آنکھیں اس دنیا سے آگے نہیں دیکھ رہی تھیں ان کے دماغ اس دنیا کی لذتوں سے آگے نہیں سوچ رہے تھے۔
اس آیت میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اللہ کا ایک تازیانہ اچانک آئے گا اور تم ذلیل و رسوا ہو کر اپنے کھیتوں، دوکانوں، مکانو اور عیش عشرت کی جگہوں سے رخصت ہو جائو گے۔ یہ قومیں جو تم سے زیادہ با اثر اور باثروت تھیں صرف ایک جھٹکے میں جہنم کے قریب پہنچ گئیں ۔ اسی طرح تم بھی پہنچ سکتے ہو۔
رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ :
جب کوئی انسان پہلی مرتبہ گناہ کرتا ہے تو اس کے قلب پر ایک سیاہ نقطہ سا لگ جاتا ہے وہ جتنے گناہ پر گناہ کرتا جاتا ہے اتنے ہی سیاہی کے نقطے لگتے جاتے ہیں یہاں تک کہ تمام دل سیاہ ہوجاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اس دل سے نیکی اور بدی کا امتیاز اٹھ جاتا ہے ضمیر مردہ ہوجاتا ہے اب اس کے لئے ہر معقو لیت اور نصیحت کی بات بیکار ہو کر وہ جاتی ہے (اگر وہ اللہ سے معافی مانگ لے تو اللہ اس دل کی سیاہی کو دور فرمادیتے ہیں) ۔ اس کو قرآن کریم نے دلوں پر مہر کردینے سے تعبیر فرمایا ہے۔ دل پر مہر لگ جانے کی ایک خاص پہچان ہے کہ اگر کہیں اس نے ایک مرتبہ ” نہیں “ کہہ دیا تو خواہ ہزار مرتبہ اس ” نہیں “ کو غلط ثابت کردیا جائے وہ اپنی جھوٹی ان اور وقار کی خاطر مان کردینے والا نہیں ہے اور اس کی ” نہیں “ ” ہاں “ سے بدلنا مشکل ہوجاتا ہے۔
وہ اپنے اس طرز عمل سے اپنے آپ کو اپنے اہل ضانہ اور دوست احباب کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ ” میں ایک عقل مند انسان ہوں اور اپنی کوئی رائے رکھتا ہوں “ اگر میں نے اپنے آپ تردید کردی تو اس کے عقلمندی کے دعوے میں سوراخ پڑجائیں گے۔ جب دلوں پر اس طرح کی مہر لگ جاتی ہے جس کو انسان اپنی عقل مندی کا نام دیتا ہے تو پھر کوئی حق و صداقت کی بات اس کے دل تک نہیں پہنچ سکتی۔
اس جگہ جس عہد کا ذکر ہے اس کے متعلق حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ اس سے مراد ” عہد الست “ ہے یعنی وہ عہد جو روز اول تمام مخلوق نے اللہ سے وعدہ کیا تھا وہی عہد مراد ہے۔
حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ نے فرمایا ہے کہ یہاں عہد سے مراد ” عہد ایمان “ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا وہ دشمن جو کٹر دشمن ہے اس پر بھی جب کوئی آفت آتی ہے تو وہ عہد وفا کرلیتا ہے لیکن حالات سدھر تے ہی وہ بدل جاتا ہے۔ جس طرح قریش مکہ نے قحط کے زمانہ میں اللہ سے عہد کیا مگر پھر ہی دنوں میں اس کو بھلا کر پھر سے اپنے کفر و شرک میں مبتلا ہوگئے۔
Ayahs 7:103–106لغات القرآن آیت نمبر (103 تا 106 ) ۔
بعثنا (ہم نے بھیجا) ۔ ظلموا (انہوں نے ظلم کیا) ۔ حقیق (سچی بات یہ ہے) ۔ لا اقول (میں نہیں کہتا) ۔ ارسل (بھیج دے ) ۔ معی (میرے ساتھ ) ۔ فات بھا (پھر تو لے آ ) ۔
تشریح : آیت نمبر (103 تا 06ٍ 1 ) ۔ ” حضرات انبیاء کرام حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) ، حضرت لوط (علیہ السلام) اور حضرت شعیب علیھم السلام اور ان کی قوموں کے واقعات کی طرف اشاروں کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے متعلق ارشاد فرمایا جا رہا ہے۔ فرعون ایک زبردست ڈکٹیٹر اور آمر مطلق تھا جو جاہ و جلال، دولت کی کثرت کے غرور میں اپنے آپ کو رب اعلیٰ کہلواتا تھا اور لوگوں کو حکم دیتا تھا کہ اس کو رب مان کر اس کے سامنے اپنی گردن کو جھکا کرر کھیں۔ فرعون اور اس کے سرداروں نے پیغمبر وقت کا انکار کیا اور بالآخر گناہوں کے سمندر میں اس طرح غرق ہوگئے کہ آج ان کی زندگیاں عبرت کا نمونہ بنی ہوئی ہیں۔
فرعون کسی شخص کا نام نہیں بلکہ مصر کے بادشاہوں کا لقب ہے فراعین مصر کے انیس خاندان گذرے ہیں اور انہوں نے مصر پر تقریباً تین ہزار سال تک حکومت کی ہے ان دنوں ان کی تجارت پوری دنیا سے جاری تھی۔ ایک طرف ایشیا اور افریقہ سے تھی دوسری طرف یورپ اور دیگر ممالک تک ان کی تجارت پھیلی ہوئی تھی۔ ہزاروں سال سے بین الاقوامی تجارت نے فراعنہ مصر کو انتہائی دولت من بنا دیا تھا۔ دوسری طرف وہ عوام کا خون چوسنے سے بھی باز نہیں آتے تھے ایک ہی خاندان کی حکوت نے تمام اقتداران کے ہاتھ میں مرکوز کردیا تھا۔ اور وہ ظلم و ستم اور گرور وتکبر میں انتہا سے زیادہ آگے بڑھ گئے تھے یہاں تک کہ فرعون ” رب اعلیٰ “ کا دعویٰ کر بیٹھا۔
فرعون کے معنی ہیں ” رع “ کی اولاد اور رغ کے معنی ہیں سورج۔ جس چیز سے انسان سب سے زیادہ خوف زدہ متحیر اور متاثر رہا ہے وہ ہے سورج۔ چناچہ قدیم ترین زمانے سے دنیا کے تمام حصوں میں ” سورج دیوتا “ کی پرستش اور عبادت و بندگی ہوتی چلی آرہی ہے عقلمند بادشاہوں بیوقوف رعایا کو احمق بنانے کے لئے اپنے آپ کو ” سورج بنسی “ یعنی سورج کی اولاد کہلوانا شروع کردیا۔ اور اس طرح حکومت اور تقدس ایک جگہ جمع ہوگئے اور دنیا کے تمام اختیارات کے ساتھ ساتھ روحانی طاقتیں بھی بادشاہوں کے ہاتھوں میں جمع ہوگئیں۔ اور یہ حال صرف مصر ہی میں نہ تھا بلکہ ایران، ہندوستان چین اور تقریباً ساری دنیا مین یہی حال تھا۔
مصر میں جب ظلم و ستم اور کفر وشرک کی زیادتی بہت بڑھ گئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت، معجزات اورد یگردلائل نبوت دے کر اس قوم میں مبعوث فرمایا۔ انہیں فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا کیونکہ ہر ملک میں فتنوں اور فسادات کی جڑ وہ خواص ہوا کرتے ہیں جو اقتدار کی کرسیوں پر قبضہ جما کر بیٹھتے ہیں۔ تمام پیغمبران ہی خواص سے معاملہ کرتے اور غریبوں اور بےکسوں کی اصلاح کرتے ہیں چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سیدھے فرعون کے پاس آئے۔ یہ وہی فرعون ہے جس کے (یا جس کے باپ کے) پاس انہوں نے پرورش پائی تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بالکل صاف سیدھے اور سچے لہجے میں یہ فرمایا کہ ” میں رب العالمین “ کی طرف سے نبی بن کر آیا ہوں اور میرے پاس اس کے واضح ثبوت موجود ہیں۔ رب العالمین کے لفظ سے فرعون چونک اٹھا کیونکہ وہ تو ” رب اعلیٰ “ کا گھمنڈ اپنی ذات کے لئے رکھتا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے کہا کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ بالکل حق اور سچ ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں، میں تجھ سے یہی کہوں گا کہ بنی اسرائیل کو میرے ہمراہ مصر سے لے جانے کی اجازت دیدے۔ یہ اعلان درحقیقت فرعون کے اقتدار پر بھر پور حملہ تھا کیونکہ اس کا سارا اقتدار اور حکومت کا ڈھانچہ تو بنی اسرائیل پر ہی قائم تھا۔ اس کی حکومت نے ” تقسیم کرو اور حکومت کرو “ کے اصول پر مصر کے تمام باشندوں کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا ” قبطی اور یہودی “ ان میں بنی اسرائیل (یہودی) مظلوم اور محکوم تھے جن کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا تھا یہ ان کے غلام تھے جو فرعونیوں کی خفمت کرتے تھے ان سے بہت ادنیٰ اور گھٹیا کام لئے جاتے تھے۔ ان کے بچے ذبح کئے جاتے اور ان کی لڑکیاں اور عورتیں چھین لی جاتی تھیں ہر محنت و مشقت کا کام ان سے لیا جاتا تھا۔ فرعونیوں کی سوچ یہ تھی کہ اگر بنی اسرائیل چلے گئے تو مزروروں کے کام کون کرے گا۔
اس لئے اس نے کہا کہ اگر تم سچے ہو تو اپنی نبوت کے دلائل اور معجزات پیش کرو۔
Ayahs 7:107–112لغات القرآن آیت نمبر (107 تا 112 ) ۔
القی (اس نے ڈالا) ۔ عصا (لاٹھی) ۔ ثعبان ( اژدھا۔ بڑا سا سانپ) ۔ نزع (کھینچا۔ نکالا) ۔ بیضاء (سفید۔ چکمدار ) ۔ ناظرین (دیکھنے والے) ۔ سحر علیم (اچھی طرح جادو جاننے والا۔ ماہر جادو گر) ۔ ان یخرجکم (یہ کہ وہ تمہیں نکال دے) ۔ من ارضکم (تمہاری زمین سے) ۔ فما ذاتامرون (پھر تم کیا مشورہ دیتے ہو ؟ ) ۔ ارجہ (ڈھیل دے اس کو) ۔ اخاہ (اس کے بھائی کو ) ۔ المدائن (شہر۔ بستیاں ) ۔ حشرین (جمع کرنے والے ) ۔ یا توک (آجائیں گے تیرے پاس ) ۔
تشریح : آیات نمبر (107 تا 112 ) ۔ ” اسزمانہ میں ملک مصر میں جادو کا بڑا زور تھا یعنی عام فطرت سے ہٹ کر کوئی نئی حیرت انگیز چیز پیش کردینا، ان چیزوں کو پیش کر کے لوگوں کو رعب میں رکھنا اور اپنے آپ کو حصوصی طاقت و قوت کا مالک دکھانا۔ چونکہ وہاں جادو کا کاروبار بہت پھیلاہوا تھا اور اسی شعبدہ بازی پر حکومت کا رعب اور دبدبہ قائم تھا اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایسے معجزات عطا ہوئے جن سے وہ جادو کا توڑکرکے دکھائیں۔
چنانچہ جب فرعون نے مصر اور آس پاس کے شہروں سے تمام بڑے بڑے جادوگروں کو دربار میں طلب کرلیا تو ہر ایک نے بادشاہ وقت کے قریب ہونے اور دنیاوی انعامات حاصل کرنے کے لئے پنے تمام تر کمالات پیش کرنے شروع کردیئے۔ انہوں نے ڈنڈے رسیاں اور مختلف چیزیں سامنے ڈال کر ان کو جادو کے زور سے سانپوں کی شکل میں ڈھال دیا حالانکہ وہ سب چیزیں لوگوں کو سانپ دکھائی دے رہی تھیں حقیقت میں محض نظر بندی تھی۔ جب تمام جادوگر اپنے کمالات دکھا چکے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی کی اور فرمایا کہ تم محض اپنا ” عصا، زمین پر پھینک دو پھر ہماری قدرت کا تماشا دیکھنا چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جیسے ہی اپنے ” عصا “ (لاٹھی) کو زمین پر پھینکا وہ سچ مچ کا زژدھا بن گیا اور اس نے جادوگروں کے نقلی سانپوں کو نگلنا شروع کردیا۔ جادوگروں نے جب یہ دیکھا تو یقین ہوگیا کہ یہ جادو نہیں ہے یا محض نظر بندی کا شعبدہ نہیں ہے بلکہ واقعی معجزہ ہے اور وہ سب جادوگر ایمان لے آئے۔
تفسیر کبیر میں حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اژدھے نے فرعون کی طرف منہ پھیلا یا تو وہ ڈر کے مارے تخت شاہی سے کود کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پناہ میں آگیا۔ بہت سے درباری دہشت سے مر گئے اور تمام جادوگر لرز اٹھے۔ یہ معجزہ تھا۔ اگر یہ محض نظر بندی ہوتی تو اس طرف کون توجہ کرتا اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دوسرا معجزہ ” ید بیضا “ کا عطا کیا تھا یعنی جب وہ اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈال کر نکالتے تو ہو چاند کی طرح چمکنے لگتا تھا۔۔۔۔ آپ کے ہاتھ کا چمک دار بلکہ روشن ہوجانا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نبوت صرف طاقت اور بڑی طاقت کا مظہر ہی نہیں ہے بلکہ روشنی کا مینارہ بھی ہے اور یہ ہدایت کا نور بھی ہے۔
اس ” ید بیضا “ سے ایک اور بات ظاہر ہوتی ہے وہ یہ کہ نبی میں اور جادو گر میں یعنی معجزہ اور جادو میں کیا فرق ہے ؟
جادوگر کا مقصد محض کمالات دکھا کر شخصی فائدہ اور اقتدار حاصل کرنا ہی ہوتا ہے وہ کوئی پیغام نہیں پہنچاتا۔ وہ کچھ ثابت نہیں کرتا۔ وہ کوئی اصلاح نہیں کرتا وہ تحریک نہیں چلاتا وہ خطرات مول نہیں لیتا وہ وقتی واہ واہ حاصل کرتا ہے اور اس کے بل پر کچھ دولت کچھ طاقت اور کچھ رعب جما دیتا ہے اور بس۔
لیکن اللہ کے نبی کا مقصد نور علم اور نور بصیرت پھیلانا ہے وہ کفروشرک ظلم و ستم۔ انسانوں کے دعوائے ربوبیت اور دعوائے حاکمیت کے بتوں کو توڑتا ہے وہ اس اندھیرے کے خلاف جہاد کرتا ہے روشنیوں کے چراغ جلاتا ہے اس کا کام بندہ اور مالک کے خاص رشتہ کو قائم کرنا ہوتا ہے وہ اپنی امت کے لئے راتوں کو روتا ہے وہ ہر آن ان کی آخرت کی فکر میں لگا رہتا ہے اس کے بر خلاف جادو گر کا جادو بھی عارضی ہوتا ہے اور اس کی ذات سے باہر نہیں آتا۔
ایک اور بات یہ ہے کہ نبی انسان کی انسانوں پر مطلق العنانی اور حکمرانی کو توڑتا ہے وہ ظلم و ستم اور مصنوعی تفریق کو مٹاتا ہے اس کی دعوت محض علمی اور فکری نہیں ہوتی بلکہ اس کا پیغام انقلابی جہادی اور عملی ہوتا ہے۔ اسی لئے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو للکارا تو وہ اور اس کے سردار گھبرا اٹھے وجہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ کا یہ کہنا کہ ” رب العالمین “ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں اور بنی اسرائیل کو میر ساتھ جانے دہ ” ان دو جملوں نے ان کی راتوں کی نیندیں حرام کردیں اس لئے ان کی زبانوں پر یہ آگیا کہ ” یہ شخص ہمیں ہماری زمین سے نکالنا چاہتا ہے۔
اس گھبراہٹ اور بد حواسی کا نتیجہ تھا کہ وہ سب سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور مشورہ کرنے لگے کہ اب کیا کیا جائے اس کو توڑ کیا ہے اور قول نبوت کے پیچھے جو للکار پوشیدہ تھی اس نے انہیں لرزا دیا ورنہ محض عصا کا اژدھا بن جانا یا ہاتھ کا روشن ہونا اور کچھ جادوگروں کا ایمان لے آنا حیرت انگیز تو ہو سکتا تھا لیکن انقلاب انگیز نہیں عصا کا اژدھا بن جانا ظاہر کرتا تھا کہ وہ باطل کے تمام جادو کو کھا جائے گا اور باطل کو اسی بات کی فرک کھائے جارہی تھی۔
یہاں یہ بات بھی ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور فرعونیوں کے لئے نئے نہ تھے انہوں نے محل میں وہ کر شاہی علوم و فنون سیکھ لئے ہوں گے انہوں نے صداقت امانت استقلال، ایمان، شجاعت، اور قیادت وغیرہ کالوہا منوالیا ہوگا ۔ شخصیت کا لوہا پیغمبر اور مبلغ و مصلح کے ہاتھ میں سب سے بڑا ہتھیار ہوا کرتا ہے ورنہ ایک آمر مطلق کا محض ایک جملہ نبوت سے دہل جانا آسان نہیں جس کی سلطنت شام سے لیبیا تک بحرروم کے ساحلوں سے حبش تک پھیلی ہوئی تھی۔
Ayahs 7:113–122لغات القرآن آیت نمبر (113 تا 122 ) ۔
اجر (انعام) ۔ المقربین (مقربین۔ (باعزت درباری) ۔ ان تلقی (یہ کہ تو ڈالے گا) ۔ القوا (انہوں نے ڈالا۔ انہوں نے پھینکا ) ۔ سحروا (باندھ دیا ) ۔ اعین الناس (لوگوں کی آنکھوں کو) ۔ استرھبوا (انہوں نے ڈرادیا ) ۔ بسحر عظیم (بڑے جادو سے ) ۔ اوحینا (ہم نے وحی کی ) ۔ الق (ڈال دے ) ۔ عصاک (اپنی لاٹھی کو ) ۔ تلقف (نگلنے لگا ) ۔ مایا فکون (جو کچھ کہ وہ بناتے ہیں ) ۔ وقع (واقع ہوگیا۔ کھل گیا) ۔ بطل (تبا ہوگیا ) ۔ غلبوا (وہ مغلوب کردیئے گئے) ۔ ھنالک (اس جگہ) ۔ انقلبوا (وہ پلٹ گئے) ۔ صغرین (ذلیل و سوا ہونے والے ) ۔ القی (ڈال دیئے گئے۔ (القاء) ۔ سجدین (سجدہ کرنے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر (113 تا 122 ) ۔” قدرت کو عجیب تماشا دکھانا منظور تھا اس لئے ملک کے تمام علاقوں شہروں اور قصبوں کے باکمال جادو گروں کو فرعون کے ہاتھوں ایک جگہ جمع کرادیا۔ نہ صرف ان کو جمع کردیا بلکہ ان کو پوری طرح اپنے کمالات پیش کرنے کا موقع دیا گیا اس طرح پورے ملک کے کونے کونے سے وہ لوگ سمٹ آئے جو اپنے فن میں کمال رکھتے تھے۔ انہوں نے کلی اعتماد کے ساتھ اپنے دائو پیچ پیش کئے۔ مگر ان کا اعتماد اس وقت بری طرح شکست کھا گیا جب فرعون جو اپنے آپ کو رب اعلیٰ کہلواتا تھا وہ اور اس کے ملک کے تمام سرداروں کی موجودگی میں فرعون اور فرعونیوں کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے ذلیل و رسوا ہونا پڑا اور وہ تمام لوگ جن پر اور جن کے کمال فن پر فرعون کو ناز تھا وہ سب کے سب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت پر ایمان لے آئے۔ رب العالمین کے سامنے سجدہ میں گر گئے اور انہوں نے اس بات کی وضاحت کردی کہ ہم اس رب العالمین پر ایمان لائے ہیں جس کو موسیٰ و ہارون (علیہ السلام) اپنا رب کہتے ہیں۔ کیونکہ فرعون تو خود اپنے آپ کو رب اعلی کہلواتا تھا۔
وہی لوگ جو کچھ دیر پہلے فرعون سے بہترین انعام کے امیدوار تھے جب سچائی ان کے سامنے آئی تو انہوں نے فرعون اور اس کی طاقت ، اس کو فوج اور سلطنت کی وسعت کو نظر انداز کر کے صرف اللہ کیو قوت و طاقت پر بھروسہ کرلیا۔ یہی ایمان کی سب سے بڑی قوت و طاقت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ۔
وہ لوگ جو تن تنہا بلا جھجک جابر ترین سلطان کے سامنے کلمہ حق کہہ کر اس پر ڈٹ جاتے ہیں۔ وہ لوگ جو صرف اور صرف زور ایمانی کے بل پر ان دنیاوی جباروں اور قہاروں سے ٹکر لیتے ہیں جب کے پاس فوج بھی ہے خزانہ بھی ہے اور جی حضوریوں تنخواہ برداروں کی جماعتیں بھی ہیں۔
وہ لوگ جو شہادت پیش کرنے کا دم خم رکھتے ہیں۔ بہارہو کر خزاں لا الہ الا اللہ کس طرح کامیاب ہوتے ہیں۔ کس طرح غیبی قوتیں ان کے قدموں کو چومتی ہیں۔ کس طرح باطل کے قلعوں پر حق کا جھنڈا لہراتے ہیں۔ تاریخ اس پر گواہ ہے کروڑوں عوامل ہیں جو واقعات کی شکل و صورت ترتیب دیتے ہیں۔ انسانی آنکھ دو چار کو دیکھ سکتی ہے۔ ظاہری عوامل کی طاقت انتہائی کم ہے۔ خفیہ اور پوشیدہ عوامل کی طاقت انتہائی زیادہ ہے طاہری عوامل کی اہمیت اپنی جگہ ہے لیکن وہ فرعون نمرود، ہامان اور قارون کس قدر بیوقوف ہیں جو ظاہری عوامل ہی کو سب کچھ مانتے ہیں اور غیب کی طاقتوں سے لاعلم اور لا پرواہ ہیں وہ شخص کس قدر مضبوط ہے جو اپنارشتہ لا الہ الا اللہ سے ملائے ہوئے ہے۔
ان آیات میں وحی اور القا ” کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) پر وحی نازل ہوتی ہے اور القا غیر پیغمبروں کے لئے ہے اس لا سل کی، اس وائرلیس، اس ٹیلی پیتھی سے بڑا ہتھیار اور کیا ہو سکتا ہے جو انسان کے دل کی دنیا کو بدل ڈالے اور اس طرح دنیا کا دل بدل ڈالے جیسا کہ اس واقعہ سے ظاہر ہے۔
وہ چیز جسے ہم توفیق الہٰی اور نور ایمانی کہتے ہیں جو ہمیں نیا دل اور نیا دماغ دیتی ہے وہ ہے قدرت کا اسلحہ خانہ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ وہ جادو گر جو نظربندی، مسمریزم اور طلسمات ہوش ربا کے استاد تھے جو اپنی طاقتیں پیغمبر وقت کے مقابلے میں لے آئے تھے جن پر فرعون اور اسکے سرداروں کو ناز اور گھمنڈ تھا۔ ایک ہی القا، ایک ہی توفیق الہٰی اور نور ایمان میں اللہ جانے کیا سے کیا ہوگئے اور کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔
Ayahs 7:123–126لغات القرآن آیت نمبر (123 تا 126 ) ۔
امنتم (تم ایمان لے آئے) ۔ اذن (اجازت دے دی) ۔ مکر تم وہ (تم نے تدبیر کی۔ سازش کی) ۔ لتخر جوا (تاکہ تم نکال لے جائو) ۔ لاقطعن (البتہ میں ضرور کاٹوں گا) ۔ اصلبن (میں ضرور پھانسی دوں گا ) ۔ ماتنقم (تو دشمنی نہیں کرتا ) ۔ افرغ (ڈال دے) ۔
تشریح : آیت نمبر (123 تا 126 ) ۔ ” اس واقعہ کے بعد جب کہ تمام جادو گروں نے ایک سچائی کو دیکھ کر ایمان قبول کرلیا اور ہر طرح کے خطرات سے بےنیاز ان اہل ایمان نے بھرے دربار میں صاف صاف کہہ دیا تو فرعون سمجھ گیا کہ اب پانسہ پلٹ چکا ہے اور تیرکمان سے نکل چکا ہے۔ اس کو خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں ان جادو گروں کے بعد ساری رعایا ہی موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان نہ لے آئے لوگوں کو بد ظن کرنے کے لئے فوراً یہ چال چلی کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور جادوگروں کے درمیان پہلے سے بنایا ہوا منصوبہ اور سازش قرار دے دیا۔ اور ان لوگوں کو بد ترین جسمانی تکلیفوں ، جیلوں اور پھانسی پر چڑھا دینے کی دھمکی دی۔
مگر یہ چال خود فرعون کے خلاف الٹی پڑگئی۔۔۔۔ ۔ فرعون کے بھرے دربار میں ایمان لانے والے ان جادوگروں نے اعلان کردیا۔ کہا اے فرعون ہم تیری دھمکیوں کی وجہ سے اپنا ایمان تبدیل نہیں کریں گے۔ اب ہم اس ذات کے بندے بن چکے ہیں جس کے پاس ہمیں جانا ہے۔ ہم تیری بندگی اور تجھے ” رب اعلیٰ “ ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ انہوں نے فرعون کو چیلنج کردیا کہ آخر تیری دشمنی کیوں ہے ؟ ہمارا جرم کیا ہے یہی نا کہ ہم اللہ کی آیات اور نشانیوں پر ایمان لے آئے ہیں۔ اس سے پہلے ہم بیخبر تھے لیکن جب ہمیں سچائی کا علم ہوگیا تو ہم نے جھوٹ اور باطل کو چھوڑ دیا۔
اس پر مزید یہ کہ انہوں نے تمام مجمع کے سامنے اللہ سے دعا کی اے اللہ ہمیں اس راستے میں صبر کرنے اور ڈٹے رہنے کی توفیق عطا فرما۔ اور جب ہم اس دنیا سے جائیں تو اے اللہ ہم تیرے فرماں بردارہوں۔
فرعون نے اپنی شکست اور عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے یہ بہانہ گھڑا کہ تم لوگوں کی سازش اس لئے تھی تاکہ اس ملک کے رہنے والوں سے ان کا ملک چھین لو اور خود اس سر زمین پر قبضہ کر کے یہاں کے رہنے والوں کو نکال باہر کرو مگر یہ سیاست بھی بیکار گئی کیونکہ بعض روایات کے مطابق چھ لاکھ افراد نے وہیں اسلام قبول کرلیا اور فرعون کے مقابلے میں ایک بہت بڑی جماعت تیار ہوگئی جس سے فرعون اور اس کے حاشیہ بردار لوگ بوکھلا اٹھے۔۔۔۔ ۔۔ وہ ان اہل ایمان کو وہ سزائیں تو نہ دے سکے جس کا اعلان کیا گیا تھا البتہ فرعون کو اپنے ایوانوں اور اقتدار کی سلامتی کی فکر لا حق ہوگئی۔
Ayahs 7:127–129لغات القرآن آیت نمبر (127 تا 9 12 ) ۔
اتذر (کیا تو چھوڑتا ہے ؟ ) ۔ نستحی (ہم زندہ رکھیں گے) ۔ استعینوا (تم مدد مانگو ) ۔ یورت (مالک بناتا ہے ) ۔ اوذینا (ہمیں تکلیف دی گئی) ۔ یستخلف (نائب بنائے گا) ۔
تشریح : آیت نمبر ( 127 تا 129 ) ۔ ” اس پورے مضمون میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ فرعون نے جادو گر کو پھانسی پر لٹکا نے اور ہر طرح کی سزا دینے کی دھمکی دی لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بظاہر اس نے کوئی دھمکی نہیں دی۔ شاید فرعون پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا رعب اور ہیبت طاری ہوچکی تھی اسی وجہ سے فرعون کے درباریوں نے کہا کہ اے فرعون تو نے موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی قوم کو یوں ہی جھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ اگر ایسا ہوا تو وہ موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل اور اس کے ماننے والے تو تباہی مچا دیں گے اور تیری حکومت کا تختہ الٹ دیں گے۔
جھوٹا الزام لگانا ہمیشہ ظالموں کی فطرت رہی ہے ان کی زبان میں فساد کے معنی ہوں گے حکومت فرعون کے خلاف تبلیغ کرنا اور لوگوں کو راہ حق دکھانا۔۔۔۔ ۔ فرعون پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ایمان والوں کا اتنا رعب تھا کہ وہ ان کے خلاف براہ راست کوئی کاروائی کرنے پر راضی نہ ہوا۔ اس نے اتنا ہی کہا کہ میں اس کی قوم (نبی اسرائیل) میں پیدا ہونے والے ہر بچے کو ذبح کردوں گا مار ڈالوں گا اور ہر پیدا ہونے والی لڑکی کو زندہ رکھوں گا تاکہ یہ قوم آہستہ آہستہ خود بخود ختم ہوجائے۔۔۔۔ ۔۔ اس اعلان کے ساتھ ہی بنی اسرائیل میں کھلبلی مچ گیو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے شکوہ اور واویلا کرنے لگے کہ ہم تو کہیں کے نہ رہے۔
اس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پوری قوم کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اے لوگو ! تم اللہ ہی سے مدد مانگو اور ڈٹے رہو۔ یہ ساری کی ساری زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس سر زمین کا وارث اور نگراں بنا دیتا ہے۔ اس اللہ نے اگر آج اپنی مصلحت سے تاج و تخت فرعون کو دے رکھا ہے۔ تو کل اس کے سر سے یہ تاج اتارنے میں دیر نہیں لگے گی۔۔۔۔ ۔۔۔۔ اب خواہ حاکم ہو یا محکوم جب تک اللہ سے ڈرتا رہے گا نتیجہ اس کے حق میں ہوگا ۔ دنیا کی مختصر زندگی میں کامیابی نہ ملی تو آخرت کی ہمیشہ کی زندگی کی کامیابیاں ضرور نصیب ہوں گی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو نصیحت فرمائی کہ تم اس عر صہ میں دو کام کر (1) اللہ سے مدد کی دعائیں مانگو (2) دوسرے یہ کہ صبر و تحمل اور استقامت کے ساتھ اللہ کے فیصلے کا انتظار کرو۔
استعانت اور استقامت یہ وہ عظیم جذبہ ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو دیا تھا۔ یہ نسخہ کیمیا آج بھی اتنا ہی کارگر اور مفید ہے۔ مظلوم کے ہاتھ میں یہ سب سے مضبوط ہتھیار ہے جس کے سامنے کوئی ظالم اور کسی حکومت کا ظلم و ستم بہت عرصہ تک نہیں ٹھرتا۔۔۔۔ ۔۔ اگر غور کیا جائے تو ” دعا “ خود بہت تیز تلوار ہے اور پھر اس پر اللہ سے مدد مانگنا۔۔۔۔ ۔۔ اور جس کے ہاتھ میں مدد الہٰی آگئی اس کا مقابلہ کان کرسکتا ہے اب رہا صبر یعنی استقلال، بےخوفی، مسلسل کوشش اور باطل کے مقابلہ میں ڈٹ جانا۔ اس کے لئے اللہ نے قرآن کریم میں متعدد جگہ پر ارشاد فرمایا ہے کہ ” میں صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوں “ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ” صبر ایسی نعمت ہے کہ اس سے وسیع تر نعمت کسی کو نہیں ملی (ابودائود) ۔۔۔۔ ۔۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں جہاں صبر و استقامت والے لوگ تھے وہیں کچھ لوگ وہ بھی تھے جنہوں نے بےصبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ :
” اے موسیٰ (علیہ السلام) ہم تو ہمیشہ ہی مصیبتوں میں گھرے رہے۔ آپ کے آنے سے پہلے بھی ہم ہر طرح کی مصیبتیں اٹھاتے رہے اور آپ کے آنے کے بعد بھی وہی مصیبتیں ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سمجھایا کہ اس میں گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہیں گے حالات بدلیں گے۔ یہ دور مظلومیت بہت جلد بدلنے والا ہے کیونکہ ظالم کو بہت عرصے تک فروغ حاصل نہیں ہوتا۔ فرعون کا زوال قریب ہے اس کے بعد اس کی سلطنت تمہارے حوالے کی جائے گی لیکن وہ وقت اس وقت سے بھی زیادہ نازک ہوگا۔ بڑی ذمہ داری کا وقت ہوگا۔ جب ملک کی سلطنت تمہارے ہاتھ میں آئے گی تو یہ دیکھاجائے گا کہ تم اپنے اقتدار و اختیار کو کس طرح استعمال کرتے ہو اگرچہ اس آیت کا خطاب بنی اسرائیل کی طرف ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک اصول ہے جو تمام ظالموں اور مظلوموں کے درمیان قیامت تک قائم رہے گا۔ اللہ جس کا چاہتا ہے حکومت دیتا ہے اور جب چاہتا ہے اس کو چھین لیتا ہے۔ سلطنت اور حکومت ایک سخت اور کڑا امتحان ہوتا ہے۔
ایک بات کی اور وضاحت ضروری ہے۔ قرآن کریم میں کئی مقامات پر اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا زمانہ تھا اس سقت فرعون کو بتایا گیا تھا کہ بنی اسرائیل سخت خطرہ ہیں، ان میں کوئی شخص پیدا ہوگا۔ جو تیری سلطنت کو تباہ کر کے رکھدے گا۔۔۔۔ اور ان آیات میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جوان ہوچکے اور تبلیغ دین کے لئے فرعون کے دربار سے کامیاب لوٹے ہیں اس کے بعد فرعون نے جہاں اور اقدامات کئے ان میں لڑکوں کو قتل کرنے اور لڑکیوں کو زندہ رکھنے کا بھی حکم دیا تھا۔۔۔۔ ۔ اور پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو صبر و تحمل کا درس دیا اور بتایا کہ بہت جلد فرعون اپنے انجام کو پہنچ جائے گا اور یہ سب کچھ بنی اسرائیل کو مل جائے گا۔ اس میں کوئی تضاد نہیں ہے ممکن ہے فرعون اور اس کی قوم کی مستقل پالیسی یہ رہی لو کہ لڑکوں کو قتل کیا جائے اور لڑکیوں کو زندہ رکھا جائے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت بھی ایسا ہوا ہو اور بعد میں پھر اس حکم کو زندہ کیا گیا ہو۔