7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 7:31–34

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا١ۚ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۠ Open ayah 7:31 in the Quran reader

اے اولاد آدم (علیہ السلام) ! ہر نماز کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو ” کھائو ، پیو اور حد سے آگے نہ بڑھو بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ١ؕ قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 7:32 in the Quran reader

آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اللہ کی اس زیب وزینت اور پاکیزہ چیزوں کو کس نے حرام کردیا جسے اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کیا ہے۔ یہ سب نعمتیں اس نے دنیا کی زندگی میں اہل ایمان کے لئے بنائی ہیں اور آخرت میں خالص ان ہی کے واسطے بنائی گئی ہیں۔ اسی طرح ہم اپنی آیتوں کو ان لوگوں کے لئے کھول کھول کر بیان کرتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں۔

قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:33 in the Quran reader

آپ ﷺ کہہ دیجئے ! میرے رب نے تو کھلی ہوئی اور چھپی ہوئی ہر طرح کی بےحیائیوں کو حرام قرار دیا ہے۔ اسی طرح ہر گناہ کو، نحق بغاوت کو اور اللہ کے ساتھ ان چیزوں کے شریک کرنے کو جن کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے اور اللہ پر ایسی باتیں کہنے کو حرام قرار دیا ہے جس کو وہ جانتے نہیں۔

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 7:34 in the Quran reader

ہر قوم کے لئے ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو پھر وہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے۔

لغات القرآن آیت نمبر (31 تا 34 ) ۔ کلوا (کھائو) ۔ اشربوا (پیو ) ۔ لا تسرفوا (فضول خرچی نہ کرو) ۔ نفصل (ہم تفصیل سے بیان کرتے ہیں) ۔ الفواحش (بےحیائی و بےشرمی کے کام) ۔ ظھر منھا (جوان میں سے کھلی ہوئی ہیں ) ۔ بطن (جو چھپی ہوئی ہیں) ۔ الاثم (گناہ) ۔ البغی (زیادتی ) ۔ لم ینزل (نہیں اتارا) ۔ سلطان (دلیل۔ سند) ۔ اجل (مقرر وقت۔ موت) ۔ لا یستاخرون (پیچھے نہ ہٹ سکیں گے ) ۔ ساعتہ (ایک گھڑی) ۔ لایستقدمون (آگے نہ بڑھ سکیں گے) ۔ تشریح : آیت نمبر (31 تا 34 ) ۔ ” ان آیات میں چھ بنیادی باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ 1) عبادت اور زیب وزینت، عبادت اور اچھا کھانا پینا ۔۔۔۔ ان کا اجتماع۔۔۔۔ ۔ یہ دین اسلام کی تعلیمات کا فیض ہے ۔۔۔۔ بدھ، جین، ہندو، پارسی، اور کنفیوشس مذاہب میں رہبانیت ہی رہبانیت ہے۔ عیسائیت اور یہودیت میں عبادت کم اور کھانا، پینا شراب و کباب اور شباب و عیش و عشرت زیادہ ہے۔ جیسے کرسمس اور ایسٹر کی تقریبات سے اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ دین اسلام ہی ہے جو عام زندگی میں ننگے رہنے کو منع کرتا ہے، گرد آلود سر اور گندے جسم کا شدید مخالف ہے جو خواہ مخواہ فاقہ زدگی، بیمار شکل، کمزوری اور تلاش ہمدردی کو ذہنی تباہی سمجھتا ہے جو نہانے دھونے، صفائی ستھرائی، اور سلیقہ مندی ، خوشبو، صاف ٹوپی یا عمامہ، صاف جوتے، ناخن کٹے ہوئے، داڑھی کنگھی کی ہوئی، مونچھ صاف ورنہ با سلیقہ، ناک آنکھ، کان، اور ہاتھ پیرصاف بلکہ طاہر وپاکیزہ۔ ان چیزوں پر اتنا زور دیتا ہے کہ وہ بھی عبادت کا لازمی حصہ ہیں۔ یہ سڑکوں، پہاڑوں، جنگلوں اور ساحلوں اور مزاروں پر ننگ دھڑنگ میلے کچیلے بدبو دار، بدقماش بےکار، مجرد مفلس اور مست ملنگ فقیر درویش بےعلم بےعقل، کھوئے ہوئے بد حواس بےقیمت، بےقدرتیاگی اور جوگی ملتے ہیں۔ یہ ہرگز ہرگز اسلام کے نمائندے نہیں ہیں۔ اسلام کے نمائندے تو وہ لوگ ہیں جو حسن ظاہر اور حسن باطن کو لازم و ملزوم بنائے ہوئے ہیں۔ جنکی شخصیت میں اتنی کشش اور جاذبیت ہے کہ دورونزدیک سے لوگ گرویدہ ہو کر آتے ہیں اور ان کیا رد گرد جمع رہتے ہیں جن سے وہ تبلیغ دین کا کام لیتے ہیں۔ 2) عبادت۔۔۔۔ ۔ مسلم کی زندگی چوبیس گھنٹے اور بارہ ماہ عبادت ہی عبادت ہے، صرف پانچ وقت کی نمازوں ہی کو دیکھ لیا جائے تو معلوم ہوگا۔ کہ ایک مسلم کو خلوت سے نکل کر جلوت میں آنا ہے وہ نہ صرف ہر وقت پاک، طاہر اور خاص اوقات میں باوضو رہنے پر مجبور ہے بلکہ سلیقہ شعار، پسندیدہ اطوار، ملبوس اور مزین رہنے پر بھی مجبور ہے۔ وہ خوب سیرت ہی نہیں بلکہ خوب صورت بھی ہوتا ہے۔ خوش کلام بھی، خوش مزاج بھی ہوتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی زندگی کے رات اور دن کو دیکھا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ آپ رات کو سر کا تیل، کنگھا آئینہ ، خوشبو اور مسواک اپنے قریب رکھتے تھے۔۔۔۔ آپ ﷺ کے نواسے حضرت حسن ؓ جب اللہ سے ملنے کو (نماز کیلئے) جاتے تو اپنا بہتین لباس پہن کرجاتے تھے، وہ اسی آیت ” خدا وازینتکم عند کل مسجد “ کو اور اس مبارک حدیث ” ان اللہ جمیل ویحب الجمال “ کو پیش کیا کرتے تھے۔ مردوں کے لئے سر کی ٹوپی یا عمامہ اور عورتوں کے لئے ڈوپٹہ اور چادر (جس سے ان کا سارا جسم چھپ جائے) یہ بھء زیب وزینت ہے۔ یہ چیزیں انسان کو گردوغبار سے بچاتی ہیں، حسن اور وقار کو بڑھاتی ہیں۔ 3) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” کھائو، پیو، مگر حد سے آگے نہ بڑھو “ کیونکہ حد سے آگے بڑھنے ولاوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔۔۔۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام تو ازن اور تناسب کا دین ہے کمی یا زیادتی دونوں ناپسندیدہ ہیں۔۔۔۔ ۔ اگرچہ حد سے آگے نہ بڑھنے کا حکم کھانے پینے (پہننے، اوڑھنے، مکان بنانے، اور سامان پھیلانے) کے سلسلے میں آیا ہے۔ لیکن اس میں عبادت کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اس میں بھی اعتدال اور تو ازن کا خیال رکھا جائے نہ تو اتنی عبادت و ریاضت کی جائے کہ چہرہ اور جسم اپنی طاقت اور رونق ہی کھو بیٹھیں اور نہ کھانے پینے اور عیش و عشرت میں اس قدر مست ہوجائے کہ عبادتوں ہی سے غفلت اور سستی شروع ہوجائے۔ روح اور جسم دونوں کا خیال کر کے چلنا ہی اعتدال ہے۔ قرآن کریم نے جہاں کنجوسی کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے وہیں فضول خرچی اور اڑائو، لٹائو، کی بھی سخت مذمت کی ہے۔ قرآن کریم میں ایسے لوگوں کو اس شیطان کا بھائی قرار دیا گیا ہے جو اللہ کا نافرمان ہے۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے فرمایا ہے کہ زیادہ کھانے پینے سے بچو، اس سے جسم بھدا ہوجاتا ہے بیماریاں آتی ہیں۔ عمل میں سستی پیدا ہوجاتی ہے۔ اسراف اور فضول خرچی سرف کھانے پینے، اوڑھنے اور سامان عیش و عشرت ہی میں نہیں بلکہ زندگی کے ہر محاذ پر ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس بات کو بھی اسراف میں داخل کیا ہے کہ ” جب بھی کسی چیز کو جی جا ہے تو اس کو ہر حال میں پورا کیا جائے “۔ تفسیر روح المعانی اور تفسیر مظہری میں ایک واقعہ درج ہے کہ : خلیفہ ہارون رشید کے زمانہ میں بغداد میں ایک نصرانی حکیم رہتا تھا، اس نے ایک عالم علی بن حسین بن واقدی سے اعتراض کے طور پر کہا کہ تمہاری کتاب قرآن مجید میں طب سے متعلق کوئی بات نہیں آئی ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ قرآن کریم نے علاج سے زیادہ اہم احتیاط اور پرہیز کو قرار دیا ہے۔ تمام طب اور حکمت کو تین لفظون میں سمودیا ہے۔ ” کلو اواشربوا ولا تسرفوا “ کھائو پیو لیکن فضول خرچی نہ کرو نصرانی حکیم مان گیا۔ کہنے لگا کہ یہ تو ٹھیک ہے لیکن حدیث رسول ﷺ میں طب کے متعلق کچھ نہیں بتایا گیا۔۔۔۔ ۔ انہوں نے جواب کے طور پر نبی کریم ﷺ کے تین ارشادات نقل کئے جن کا خلاصہ یہ ہے۔ (1) معدہ بیماریوں کا گھر ہے (2) نقصان دینے والی چیزوں سے پرہیز کرو (3) ہر بدن کو وہ چیز دو جس کا وہ عدی ہو (بشرطیکہ حرام نہ ہو) نصرانی حکیم نے ان ارشادات کے سامنے اپنی گردن جھکا دی اور مان گیا۔ قرآن و حدیث نے جو حلال و حرام کی پابندیاں لگا دی ہیں ان کا خاص تعلق انسان کی صحت سے بھی ہے اور مزاج سے بھی۔۔۔۔ حرام چیزوں کی ایک طویل فہرست دے دی ہے بقیہ چیزوں کو حلال قرار دے دیا ہے۔ آگے چل کر فرمایا گیا کہ۔ ۔۔ ۔ اے نبی ﷺ ! آپ ان سے پوچھئے کہ زیب وزینت کی جن چیزوں کو اللہ نے حلال قرار دیا ہے ان کو کس نے حرام کردیا ہے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو اپنے بندوں ہی کے لئے بنایا ہے ۔۔۔۔ ۔ اور جب اللہ نے کسی چیز کو حلال قرار دے دیا ہے تو اب کسی کو اس بات کا حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان کو حرام قرار دے دے۔ مشرکین اور کفار کا یہ گھمنڈ کہ ہم اللہ کے محبوب بندے ہیں اسی لئے تو دنیا کی ساری چیزیں ہمارے قدموں کے نیچے ہیں اور مسلمان اس سے محروم ہیں۔ قرآن کریم کی اگلی آیت میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔ فرمایا کہ دنیا کی یہ نعمتیں جو تمام دنیا والوں کو بلا تفریق اور بلا حساب مل رہی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے اپنی رزاقیت اور رحمانیت سے یہی پالیسی طے کی ہوئی ہے لیکن قیامت میں فیصلہ ہونے کے بعد یہ چیزیں اہل دوزخ کو نہ لم سکیں گی۔ ان کی قسمت میں تو جہنم کی آگ اور شجر زقوم ہوگا۔ دنیا کی اور آخرت کی تمام نعمتیں صرف اور صرف اہل ایمان کے لئے مخصوص ہونگی۔ 5) اوپر حرام کاموں کی جو فہرست دی گئی ہے ان میں صرف ایک ہی لفظ ” اثم “ یعنی گناہ۔ ۔۔ ۔ اپنی لپیٹ میں ہر غلط اور گناہ کی چیز کو رکھتا ہے۔ اس میں بےحیائی بغاوت ، شرک تہمت سب شامل ہیں۔ ۔۔ ۔ حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ہر غلط کام خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا اس کا نقطہ آغاز یہی ” گناہ “ ہے۔ بڑے سے بڑا جرم ، بڑی سے بڑی شخص، گروہی یا قومی عادت و خصلت ، بڑے سے بڑا ضلم، فتنہ و فساد سب کی ابتداء میں ایک ناقابل التفات حقیر ترین نقطہ سیاہ ہے (گناہ) ۔۔۔۔ ۔ ایک بیج ہے جو تناور درخت بن جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اور یہ ابتدائی ” نقطہ سیاہ “ شعور سے زیادہ لا شعور میں جنم لیتا ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ یہ کفار و مشرکین کھانے پینے اور پہننے میں تارک ال دنیا بنے ہوئے ہیں اور اپنے جسم کو عذاب در عذاب کے مستحق بنا رہے ہیں۔ بڑے سے بڑا گناہ دل کھول کر کیا کرتے ہیں اور کسی حد پر نہیں ٹھرتے۔۔۔۔ ۔ ظاہر اور پوشیدہ دونوں طرح کی بےحیائی اور بدکاری انکی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے۔۔۔۔ ہر طرح کا چھوٹا بڑا گناہ ظلم، چوری، ڈکیتی، دھوکہ، غصب، خیانت، ماردھاڑ اور قتل سب ان کے خمیر میں داخل ہے بلکہ انتہا تو یہ ہے کہ اگر کہیں حق کا نظام قائم ہو رہا ہے یا ہوگیا ہے تو اس کے خلاف سازشوں کے جال پھیلانے اور بغاوت سے باز نہیں آتے۔ انہوں نے اس کو اپنا مذہت بنا رکھا ہے جس میں اللہ کا نام تو محض تکلف یا سجاوٹ کے لئے ہے اصل میں معبود تو خود ان کا اپنا نفس ہے۔ تجارت کے لئے یا الزام ڈالنے کے لئے چند خیالی یا اصلی پیکر تراش لئے ہیں۔۔۔۔ اور پھر مزے کی بات یہ ہے کہ ان فرضی معبودوں کے نام کچھ کہانیاں، کچھ اقوال اور کچھ کتابیں تصنیف کرادی ہیں اور سارا الزام اللہ پر لگاتے ہیں کہ یہ ساب کچھ ہمیں اللہ نے دیا ہے۔ 6) آخر میں اللہ تعالیٰ نے خبردار کیا ہے کہ اے اہل مکہ جس طاقت اور دولت کے بھروسے پر تم ناز کررہے ہو اور ڈھیٹ بن کر گناہ پر گناہ کیے جارہے ہو وہ دولت اور طاقت چند روزہ ہے۔ ایک خاص وقت معین تک کے لئے ہے، اور جب وہ معین وقت آجائے گا تو پھر ایک لمحہ کی بھی مزید مہلت نہیں ملے گی۔ یہ اصول ہر فرد کے ساتھ بھی ہے اور ہر قوم کے ساتھ بھی۔
Ayahs 7:35–39

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ١ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:35 in the Quran reader

( یہ بات شروع میں ہی بتا دی گئی تھی کہ) اے اولاد آدم ! جب ہمارے رسول جو تم میں ہی سے ہوں گے تمہارے پاس میری آیتیں لے کر آئیں گے اس کے بعد جس نے تقویٰ اختیار کیا اور اصلاح کرلی، ان پر نہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:36 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلائیں گے اور سر کشی کریں گے تو وہ دوزخ والے ہوں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَهُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 7:37 in the Quran reader

اس سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جس نے اللہ پر جھوٹ گھڑایا اس کی آیتوں کو جھٹلایا۔ ایسے لوگ (اپنی تقدیر کا ) لکھا ہوا پالیں گے۔ یہاں تک کہ جب ہمارے فرشتے ان کی جان نکالنے کے لئے آئیں گے تو ان سے کہیں گے کہ اللہ کو چھوڑ کر جن معبودوں کو تم پکارتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ ۔۔۔۔ ۔ وہ کہیں گے کہ وہ سب تو ہم سے گم ہوگئے ہیں اور اس طرح وہ اپنے کفر پر خود ہی گواہ بن جائیں گے۔

قَالَ ادْخُلُوْا فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِ١ؕ كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِیْهَا جَمِیْعًا١ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ١ؕ۬ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:38 in the Quran reader

(اللہ کی طرف سے انہیں) کہا جائے گا کہ تم بھی ان ہی جنوں اور انسانوں کی طرح جہنم میں داخل ہوگی تو وہ دوسرے جماعت پر لعنت بھیجے گی۔ جب سب جماعتیں جمع ہوجائیں گی تو بعد والی جماعت اپنے پہلوں کے متعلق کہے گی کہ اے ہمارے رب یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں بھٹکا دیا تھا۔ اے رب ان کو جہنم کا دوگنا عذاب دیجئے۔ ارشاد ہوگا کہ تم میں سے ہر ایک کے لئے دگنا عذاب ہے لیکن تم جانتے نہیں۔

وَ قَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 7:39 in the Quran reader

پہلی جماعت دوسری جماعت سے کہے گی کہ تمہیں ہمارے اوپر کون سی بڑائی حاصل ہے (جس پر تم فخر کر رہے ہو) تم اپنے کیے ہوئے اعمال کا عذاب چکھو جو تم کرتے تھے۔

لغات الا قرآن آیت نمبر (35 تا 39 ) ۔ یاتینکم (تمہارے پاس آئیں) ۔ ینال (پہنچے گا۔ ملے گا) ۔ نصیب (حصہ) ۔ یتوفون (موت دیں گے۔ جان نکالیں گے) ۔ تدعون (تم پکارتے ہو) ۔ ضلواعنا (ہم سے غائب ہوگئے۔ گم ہوگئے) ۔ شیدوا (وہ گواہ بن گئے) ۔ امم (امتیں۔ جماعتیں) ۔ خلت (گزر گئی۔ (گزر گئیں) ۔ لعنت (لعنت کی۔ (لعنت کریں گے) ۔ اختھا (اپنے ساتھی کو) ۔ ادرکوا (مل جائیں گے) ۔ ضعف (دو گناہ ) ۔ فضل (بڑائی ) ۔ تکسبون (تم کماتے ہو ) ۔ تشریح ـ آیت نمبر (35 تا 39 ) ۔” کفار اور مشرکین کو آگاہ کرنے کے لئے ان آیات میں چار بڑی حقیقتوں کو پیش کیا جا رہا ہے ان حقیقتوں کا تعلق اس دنیا کی زندگی سے بھی ہے اور اس کے بعد آنے والی آخرت کی زندگی سے بھی ہے۔ 1) اس دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے تمام انسانی روحوں سے یہ وعدہ لے لیا تھا کہ تمہارا رب اللہ اور صرف اللہ ہے۔ وہی ذات ہے جو ہر طرح واجب الاطاعت ہے۔ تمام روحوں نے اللہ کی اسی ربوبیت کو تسلیم کرتے ہوئے عرض کیا تھا کہ ” جی ہاں آپ ہی ہمارے رب ہیں “ اس عہد اور وعدہ کو ” عہد الست “ کہا جاتا ہے۔ اسی وعدہ کی یاد دھانی کے لئے اللہ نے ہر دور اور ہر علاقے میں اپنے پاک بازبندوں کو نبی اور رسول بنا کر بھیجا تاکہ وہ انسانی روحوں کے اس وعدے کو یاد دلادیں۔ چناچہ جن لوگوں نے اپنی روحانی کیفیات کو اپنے اندر جھانک کر دیکھا انہوں نے نبیوں اور رسولوں کی تعلیم کو قبول کرلیا اور جو لوگ دنیا کی غفلت اور دنیا کی طلب میں دھنسے رہے انہوں نے انبیاء کی تعلیمات کو مذاق محسوس کیا اور صاف انکار کردیا۔۔۔۔ حضرت آدم (علیہ السلام) جب دنیا بھیجے گئے تو سب سے پہلے انہوں نے اس پیغام الہٰی اور شریعت الہٰی کو اپنی اولاد کے سامنے پیش کیا اور بتایا کہ عبادت کے لائق صرف اللہ ہی کی ذات ہے۔ اسی کا وعدہ تمہاری فطرت میں رکھ دیا گیا ہے اس کے بعد اللہ کے نبی اور رسول (علیہ السلام) تشرف لاتے رہے اور انہوں نے اپنی اپنی امتوں کو اس روحانی وعدے اور کفر و شرک سے توبہ کرنے کی طرف متوجہ فرمایا۔ یہاں تک کہ اللہ نے سارے نبیوں اور رسولوں کے آخر میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو اپنا آخری نبی اور رسول بنا کر ایک ایسی شریعت عطا فرمائی جو قیامت تک جاری وساری رہے گی۔ آپ کے بعد اب رسالت و نبوت کا دروازہ کچھ اس طرح بند کردیا گیا ہے کہ آپ کے بعد ہر وہ شخص جو نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ نہ صرف جھوٹا ہے بلکہ وہ اور اس کے ماننے والے بھی اللہ کی ابدی لعنت کے مستحق ہیں۔ اب نہ تو کوئی ظلی، بروزی نہیں ہوگا۔ ، نہ کوئی وحی کا سلسلہ ہوگا۔ اور آپ کی امت کے بعد نہ کوئی اور امت ہوگی یہی نبوت، کتاب اور یہی امت قیامت تک رہے گی۔ 2) جب کفار اور مشرکین کے مرنے کا وقت آئے گا تو اس وقت موت کے فرشتے ان سے پوچھیں گے بتائو وہ بت اور وہ ہستیاں آج کہاں ہیں جب پر تمہیں بڑا بھروسہ تھا اور تم نے انہیں اپنا معبود بنا رکھا تھا وہ اس وقت اللہ کے عذاب سے بچانے کے لئے کیوں نہیں آئے ؟ ۔ کفار اور مشرکین بڑی حسرت سے کہیں گے کہ وہ معبود تو آج موجود نہیں ہیں وہ ہم سے نجانے کہاں گم ہو کر وہ گئے ہیں۔ انہیں آج اس بات کا پوری طرح احساس ہوگا۔ کہ واقعی وہ شدید غلطی پر تھے اور وہ جن کو اپنا معبود ، کارساز اور مشکل کشامانتے رہے تھے وہ آج ان سے گم ہوچکے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے کفر پر خود ہی گواہ بن جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم دیا جائے گا کہ ان سب کو جہنم میں جھونک دیا جائے اور اس طرح یہ کفار اور مشرکین اپنے برے انجام کو پہنچ جائیں گے۔ 3) جب ایک نسل کے لوگ جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے تو وہ چیخ چیخ کر کہیں گے کہ ہم تو اپنے باپ دادا اور بزرگوں کے اندھے مقلد بنے رہے۔ ہم نے بت پرستی اور شرک کے کام ان سے سیکھے جو ہم سے پہلے تھے وہ اپنے گناہوں کا ذمہ دار اپنی پچھلی نسل اور اسکے بڑوں کو قرار دیں گے اور وہ اللہ سے درخواست کریں گے کہ اے اللہ بیشک ہم مجرم ہیں مگر ہمارے جرم اور گناہوں کا سبب یہ تھا کہ ہم سے پہلے جو لوگ تھے انہوں نے ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کے بجائے گمراہی کے راستے پر چلایا۔ بیشک ہم مجرم ہیں لیکن وہ ہم سے بڑے مجرم ہیں جو ہزاروں تجربات اور علم کے باوجود ہمیں گمراہی اور کفر و شرک سے نہ بچا سکے۔ ایسے لوگوں کو دو گنا عذاب دیا جائے۔ پہلے والی نسل کے لوگ جواب میں فریاد کریں گے کہ اگر ہم نے تمہیں غلط راستے پر لگایا تھا تو تم کیوں لگ گئے۔ تم نے اپنی عقل کو استعمال کیوں نہ کیا۔ تمہارے زمانہ میں جو نبی تھا یا اس کی تعلیمات تھیں تم نے اس سے راہ ہدایت کیوں حاصل نہ کی۔ تم ہمارے بہکانے سے کیوں بہک گئے۔ ہم نے اگر تمہین بہکایا تو تم نے بھی تو اپنے سے بعد آنے والی نسلوں کو بہکانے میں کوئی کسر نہ اٹھارکھی تھی۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں کے درمیان فیصلہ فرمائیں گے کہ تم دونوں ہی اس جرم میں برابر کے شریک ہو۔ ۔۔ ۔ تم دونوں کو یکساں عذاب دیا جائے گا۔ 4) اس سلسلہ میں نبی کریم ﷺ سے جو ارشادات نقل کئے گئے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا میں ہر وہ قتل جو ” قتل ناحق “ ہے اس کی جنتی سزا قاتل کیلئے ہے اس کا اتنا ہی گناہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے بیٹے قابیل کے نامہ اعمال میں بھی لکھ دیا جاتا ہے۔ جس نے قتل انسانی کی بنیاد رکھی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی نے کوئی ایسا کام کیا جس سے کوئی گمراہ ہوگیا یا کوئی نسل گمراہ ہوگئی تو اس شخص پر جس نے ابتدا کی ہے اس پر اس گناہ کی پوری ذمہ داری ہے بعد میں آنے والے جو لوگ بھی اس راستے پر چلیں گے وہ بھی گناہ گارہوں گے اور جس نے اس کی ابتدا کی ہے اس کے نامہ اعمال میں بھی وہ گناہ لکھ دیا جائے گا اس کے برخلاف اگر کسی نے کوئی نیکی کا کام کیا اور بعد میں آنے والے لوگ اس کے بہتر اور نیک راستے پر چلے تو جتنا ثواب کرنے والے کو ملے گا اتناہی ثواب اس کے ابتداء کرنے والے کے نامہ اعمال میں بھی لکھ دیا جائے گا جیسے کسی نے کوئی مسجد تعمیر کی یا کوئی ایسی عمارت بنائی جس سے لوگ فائدہ حاصل کریں تو یہ چیزیں صدقہ جاریہ ہوجائیں گی اس سے معلوم ہوا کہ انسان جو بھی کام کرتا ہے وہ اس بات پر ضرورغور کرلے کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ اس سے کوئی ایسی خطا سر زد ہو رہی ہو جس سے دوسروں کے صراط مستقیم سے بھٹکنے کا اندیشہ ہو۔ مثال کے طور پر رشوت کو لیجئے۔ رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں اس جرم میں برابر کے شریک ہیں ۔ کسی کا حق مارا گیا، ظلم ہور، بےانصافی ہوئی، بری راہ قائم ہوئی۔۔۔۔ ۔ یہ جرم یہیں تک نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات بہت دور تک پہنچتے ہیں مثلاً یہ گناہ افراد سے بڑھ کر معشرے میں، ملکی اقتصادیات اور انتظامات کے ڈھانچے کو تباہ کر کے رکھ دیتا ہے۔ لوگوں نے رشوت لینا دینا سیکھا۔ انصاف اور حق کا سوال ختم ہوا۔ اب بےایمانی فراث۔ غبن، ظلم، حرام خوری وغیرہ کے شخصی اور قومی دروازے کھلتے چلے جائیں گے۔ بد انتظامی شروع ہو جاے گی اور ان سب کے اثرات آنے والی نسلوں تک پہنچ کر رہیں گے۔ جس سے بد انتظامی پھیلتی چلی جائے گی اور آنے والی نسلوں کو یہ میراث کے طور پر ملے گی۔ اب فرض کیجئے ایک شخص نے رشوت کے اس دروازے کو کھولا تو اس کے اثرات ملک گیر بلکہ عالم گیر سطح تک پہنچ جائیں گے کیا سللہ کا انصاف اسکو چھوڑ دے گا۔ جس نسل نے تبلیغ و تنظیم اور جہاد سے منہ پھیرلیا اور حکومت کے انتظامات بےایمانوں، چوروں ، ڈاکوؤں اور راشیوں کے حوالے کر دئیے گئے کیا وہ نسل غلط باتوں کو اختیار کرنے کے جرم میں اللہ کے ہاں پکڑی نہ جائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا ہر اٹھا ہوا قدم اس کائنات میں اپنے اثرات مرتب کرتا چلا جاتا ہے۔
Ayahs 7:40–43

اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 7:40 in the Quran reader

بیشک جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان کے مقابلے میں تکبر کیا، ان کے لئے اس وقت تک نہ تو جنت کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنت میں داخل کئے جائیں گے۔ جب تک اونٹ سوئی کے ناکے سے نہ گذر جائے اور ہم مجرموں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔

لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:41 in the Quran reader

ان کے لئے جہنم (کی آگ) کا بچھونا ہوگا اور (وہی آگ ان کا ) اوڑھنا ہوگا اور ہم ظالموں کو اسی طرح کا بدلہ دیا کرتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ١٘ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:42 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو ایمان لے آئے اور انہوں نے عمل صالح کئے ” ہم کسی پر اس کی ہمت و طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے ایسے لوگ جنت والے ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدٰىنَا لِهٰذَا١۫ وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ١ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:43 in the Quran reader

اور جو کچھ ان کے دلوں میں غبار اور کدورت ہوگی اس کو نکال کر (ایسی جنتوں میں داخل کریں گے) جن کے نیچے سے نہریں جاری ہونگی۔ ۔۔ ۔ اور وہ کہیں گے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں راہ ہدایت عطا کی۔ اگر وہ ہمیں راہ ہدایت نہ کدھا تا تو ہم ہدایت نہ پاتے۔ واقعی ہمارے رب کے جو رسول آئے تھے وہ حق لے کر آئے تھے۔ اس وقت ندا آئے گی کہ یہ جنت جس کے تم وارث بنائے گئے ہو یہ تمہارے اعمال کے بدلے میں تمہیں دی گئی ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر (40 تا 43 ) ۔ لا تفتح (کھولے نہیں جائیں گے) ۔ ابواب السمآء (آسمان کے دروازے ) ۔ لا یدخلون ( داخل نہ ہوں گے ) ۔ حتی یلج (جب تک داخل نہ ہوجائے) ۔ الجمل (اونٹ ) ۔ فی سم الخیاط (سوئی کے ناکے میں ) ۔ مھاد (آرام کی جگہ۔ بچھونا ) ۔ غواش (اوڑھنے کی چیز) ۔ نزعنا ( ہم نے کھینچ لیا۔ ہم کھینچ لیں گے) ۔ غل (کینہ ۔ بغض ) ۔ نودوا (آواز دی (جائے گی) ۔ اور ثتمو ھا (جس کے تم مالک بنائے گئے) ۔ تشریح : آیت نمبر (40 تا 43 ) ۔ ” ان آیتوں میں اہل جنت اور اہل دوزخ کے متعلق ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اللہ کی آیتوں کو قول اور عمل سے جھٹلانا اور آیات کو پیش کرنے والے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے مقابلے میں اپنے نظریات، خیالات اور رسموں کو باعظمت سمجھتے ہوئے تکبر کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ ایسے لوگوں کو جنت کی ہوا تک نہ پہنچے گہ۔ فرمایا کہ جس طرح یہ ناممکن ہے کہ سوئی کے بہت باریک اور چھوٹے ناکے سے اونٹ جیسا بڑا جانور گذر جائے اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ کوئی شخص اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے، تکبر کرے اور وہ جنت میں داخل ہوجائے۔۔۔۔ فرمایا گیا کہ ایسے لوگ نہ تو جنت میں داخل ہون گے اور نہ ان کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے۔ اس سلسلے میں حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کی آیتوں سے گردن پھیرنے والے اور اپنی خود عقلی کا رعب بھگارنے والے ان کی دعائیں اور ان کے اعمال دونوں آسمان دنیا کے دروازے پر روک دیئے جائیں گے اور ان کو بارگاہ الہٰی تک پہنچنے نہیں دیا جائے گا۔ ابو دائود، نسائی ، ابن ماجہ اور مسند احمد میں نبی مکرم ﷺ کا ارشاد نقل کیا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ۔ ایک صالح مومن بندے کی موت کا جب وقت آتا ہے تو حضرت عزرائیل (علیہ السلام) (علیہ السلام) کے ساتھ حسین و جمیل فرشتے اس کے پاس آتے ہیں جنت کا کفن اور خوشبوان کے ساتھ ہوتا ہے حضرت عزرائیل (علیہ السلام) کہتے ہیں کہ اے نفس مطمئنہ باہر نکل۔ تو اللہ سے خوش رہا اور اللہ تجھ سے خوش رہا چل اللہ کی جنت کی طرف۔ وہ روح خوشی خوشی باہر نکل آتی ہے۔ فرشتے نہایت عزت و احترام سے اس روح کو آسمان کی طرف لے کر پرواز کر جاتے ہیں۔ اس کے اعزاز میں ساتوں آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ روح عرش الہٰی تک پہنچائی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ جائو اس کی روح اور اس کے اعمال کو علیین میں پہنچا دو ۔ پھر وہ روح عزت و تکریم کے ساتھ واپس اس کی قبر میں پہنچا دی جاتی ہے۔ اس کو جنت کا لباس پہنایا جاتا ہے جنت کی ایک کھڑکی اس کی قبر میں کھول دی جاتی ہے اس کے نک اعمال حسین صورت میں اس کی رفاقت کرتے ہیں۔ اس کے بر خلاف جب کافر و مشرک اور سر کش مرنے لگتا ہے تو بہت ہی خوفناک شکل کے فرشتے آتے ہیں پھر ملک الموت اس کی روح بہت تکلیف سے کھینچ کھینچ کر باہر نکالتے ہیں۔ اس میں اتنی سخت بد بو ہوتی ہے کہ ایک مردار جانور میں بھی اتنی بد بو نہیں ہوتی پھر فرشتے اس کی روح لے کر آسمانوں کی طرف چلتے ہیں۔ سب سے پہلے دروازے کو کھولنے کے لئے کہا جاتا ہے تو اس کے لئے دروازہ نہیں کھولا جاتا۔ حکم ہوتا ہے کہ اس کی روح اور اعمال کو ” سجین “ میں پہنچا دو ۔ پھر اس کی روح کو پٹک کر اس کے دفن ہونے کی جگہ پہنچا دیا جاتا ہے فرشتے اس سے سوالات کرتے ہ ہیں تو وہ حسرت و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہے گا کہ مجھے نہیں معلوم ۔ پھر اسکو جہنم کا لباس پہنا دیا جاتا ہے اس کے دفن ہونے کی جگہ جہنم کی کھڑکی کو کھول دیا جاتا ہے۔ قبر تنگ کردی جاتی ہے (اللہ ہم سب کو اس برے انجام سے محفوظ فرمائے آمین) اسی بات کو قرآن کریم میں مجرمین کی سزا قرار دیا گیا ہے یعنی جنت اور اس کی راحت سے محرومی آیت نمبر 41 میں ظالموں کی سزا کی طرف اشارہ ہے یعنی عذاب جہنم کی طرف۔ آیت نمبر 42 میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان اور اعمال صالحہ بجا لانے والے مومن مردوں اور مومن عورتوں کیلئے فرمایا کہ ایمان اور عمل صالح رکھنے والوں کو جنت کی ایسی راحتیں عطا کی جائیں گی جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اس آیت میں اور قرآن کریم کی دوسرے بہت سی آیات میں ایمان غیر مشروط ہے یعنی ایمان کبھی جزوی نہیں ہوتا ہمیشہ کلی ہوتا ہے۔ اس میں اللہ پر اور اس کی وحدانیت پر بھی ایمان شامل ہوتا ہے۔ رسول اور اس کی رسالت پر بھی۔ قرآن پر بھی، تمام رسولوں اور ان کی کتابوں پر بھی حیات بعد الموت پر بھی، حشر ونشر اور جنت و جہنم پر بھی۔ تقدیر پر بھی۔ ان تمام چیزوں پر کلی ایمان لانا ضروری ہے۔ یہ نہیں کہ اللہ کی اور رسول ﷺ کی چند باتیں مان لیں اور ان پر عمل کرلیا اور چند باتیں تسلیم نہ کیں اور اپنی مرضی سے کچھ اعمال سر انجام دے لئے۔ اعمال صالحہ :۔ در حقیقت کوئی عمل صالح اس وقت تک عمل صالح نہیں ہے جب تک اس کے پیچھے قرآن کریم اور سنت رسول اللہ ﷺ کی سند موجود نہ ہو۔ ہر وہ عمل ، عمل صالح ہے جو رسول اللہ ﷺ کے نقش قدم پر چل کر کیا جائے۔ اگر حضور ﷺ جا نقش قدم نہ ہو تو پھر صحابہ کرام ؓ کی پیروی میں پورے جذبے اور خلوص سے عمل کیا جائے تو وہ عمل صالح کہلائے گا۔ عمل صالح کسی ایک عمل یا مخصوص اعمال کرلینے کا نام نہیں ہے بلکہ ہر عمل میں اللہ اس کے رسول ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی زندگی کو بنیاد بنا کر سر انجام دینا عمل صالح ہے۔ فریاما کہ ” ہم کسی کو اس کی ہمت و طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہیں دیتے “ قرآن کریم میں اس کو کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ انسان جہاں ہمت و طاقت سے پہاڑوں کو بھی رائی بنا دیتا ہے۔ بحروبر پر حکمرانی کرتا ہے وہیں اس میں بشری کمزوریاں بھی ہیں فرمایا کہ ہمیں انسان کی ان کمزوریوں کا پوری طرح اندازہ ہے اسی لئے جو بھی احکامات دیئے گئے ہیں ان میں بشری کمزوریوں کا پورا پورا خیال رکھا گیا ہے۔ فرمایا کہ ” اہل جنت کے دل کی کدورتیں اور رنجشیں دور کردی جائیں گی “۔ مرادیہ ہے کہ نیک لوگوں کے دلوں میں کبھی کبھی اختلافات اور رنجشیں پیدا ہوجاتی ہیں لیکن جب وہ جنت میں داخل کئے جائیں گے تو ان کے دلوں سے کدورتوں، اختلافات اور رنجشوں کو دور کردیا جائے گا۔ صحیح بخاری شریف میں روایت ہے کہ مومنیں جب پل صراط سے گذر کر جنت کی طرف چلیں گے تو جنت میں داخلے سے پہلے انہیں ایک مقام پر روک لیا جائے گا تاکہ اگر کوئی ظلم و زیادتی یا حق تلفی کی گئی ہو یا کینہ و حسد وغیرہ کسی کے خلاف سر زد ہوا ہو تو وہ آپس میں اپنے دل صاف کرلیں۔ جنت میں پہنچ کر وہ اللہ کا احسان مانیں گے۔ اس کا شکرادا کریں گے اس کی حمدوثنا کریں گے۔ اس کے بعد اللہ کی طرف سے ایک ندا آئے گی کہ یہ جنت تمہیں عارضی اور وقتی طور پر نہیں دی گئی ہے۔ یہ جنت تمہارے نیک اعمال کے بدلے مین مستقل ٹھکانے کے طور پر دیدی گئی ہے اب تم ہمیشہ ہمیشہ اس جنت میں رہوگے۔
Ayahs 7:44–49

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا١ؕ قَالُوْا نَعَمْ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 7:44 in the Quran reader

جنت والے جہنم والوں کو پکار کر کہیں گے کہ ہم سے ہمارے رب نے جو وعدہ کیا تھا وہ ہم نے حاصل کرلیا۔ کی تم نے بھی وہ سب کچھ بر حق پالیا جس کا تمہارے رب نے تم سے وعدہ کیا تھا ؟ وہ (حسرت زدہ ہو کر) کہیں گے ” ہاں “۔۔۔۔ پھر اس کے بعد ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا کہ آج ان ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَۘ Open ayah 7:45 in the Quran reader

جنہوں نے لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا تھا اور جن کا کام اس (دین) میں ٹیڑھ تلاش کرنا اور آخرت کا انکا کرنا تھا۔

وَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌ١ۚ وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١۫ لَمْ یَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ یَطْمَعُوْنَ Open ayah 7:46 in the Quran reader

اس کے بعد ان دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہوجائے گا بلندی پر کچھ لوگ ہوں گے وہ ہر ایک کو اس کی نشانی سے پہچان لیں گے اور جنت والوں سے پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو یہ بلندیوں والے جنت میں تو ابھی داخل نہیں ہوئے ہوں گے مگر اس کی خواہش رکھتے ہوں گے۔

وَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۙ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:47 in the Quran reader

اور جب ان کی نگاہیں جہنم والوں کی طرف پھریں گی تو کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہمیں ظالم قوم کے ساتھ شامل نہ کیجئے گا

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا یَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ قَالُوْا مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 7:48 in the Quran reader

اور اعراف والے کچھ لوگوں کو ان کی نشانیوں سے پہچان کر کہیں گے کہ آج کے دن تمہیں تمہاری جماعت اور وہ تمہارا تکبر جو تم کیا کرتے تھے کچھ بھی کام نہ آیا۔

اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ١ؕ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:49 in the Quran reader

اور کیا جنت والے وہی لوگ نہیں ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ تو اپنی رحمت میں سے (ان لوگوں کو) کچھ بھی نہ دے گا (آج ان کے لئے کہا گیا ہے کہ) تم جنت میں داخل ہو جائو۔ جہاں تم پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ تم رنجیدہ ہو گے۔

لغات القرآن آیت نمبر (44 تا 49 ) ۔ وجدنا (ہم نے پا لیا ) ۔ وعدنا (ہم سے وعدہ کیا تھا) ۔ حق (سچ ۔ سچا ) ۔ وجدتم (تم نے پایا ) ۔ نعم (جی ہاں) ۔ موذن (پکارنے والا۔ اعلان کرنے والا ) ۔ یصدون (وہ روکتے ہیں ) ۔ یبغون (وہ تلاش کرتے ہیں ) ۔ عوج (ٹیڑ ھا پن۔ کجی ) ۔ حجاب (پردہ ) ۔ الاعراف (ٹیلے۔ پردے) ۔ یطمعون (وہ امید رکھتے ہیں) ۔ صرفت (پھیر دی گئی۔ (پھیر دی جائیں گی) ۔ لا تجعلنا (تونہ بنا ہمیں) ۔ یعرفون (وہ پہچان لیں گے ) ۔ سیما (پیشانیاں۔ نشانیاں ) ۔ تشریح : آیت نمبر (44 تا 49 ) ۔ ” ان آیات میں تین جماعتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے (1) اہل جنت (2) اہل جہنم (3) جنت اور جہنم کے درمیان کسی اونچے مقام پر جنت میں جانے کی تمنا لئے ہوئے۔ جنت اور جہنم کتنی بڑی ہوں گی اور ان کے درمیان طویل ترین فاصلے کتنے ہوں گے ان کو تصور اس دنیا میں ممکن ہی نہیں ہے۔ لیکن وہاں کے طبعی قوانین یہاں کے طبعی قوانین سے بہت مختلف ہوں گے۔ بصارت اور سماعت دونوں بہت تیز ہوں گی یہاں تک کہ یہ تینوں گروہ ایک دوسرے کو دیکھ بھی سکیں گے اور آپس میں باتیں اور تبصرے بھی کریں گے۔ یہ باتیں شاید آج سے ایک سو سال پہلے والے لوگوں کے لئے تعجب کی بات ہوگی لیکن آج موجودہ سائنس نے ہمیں آنکھوں سے دکھا دیا ہے۔ ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ ٹیلی ویژن پر کئی کئی ملکوں میں بیٹھے ہوئے لوگ آپس میں گفتگو اور تبصرے کرتے ہیں۔ اور اس کو کروڑوں انسان سنتے ہیں۔ آج یہ حال ہے نجانے آج سے پچاس سال بعدیہ ترقیات کہاں تک پہنچ جائیں گی اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ بہر حال جنتی، جہنمی اور اعراف والے ایک دوسرے سے باتیں کریں گے۔ ان آیات میں مکہ کے کفار اور مشرکین کے دلوں میں زیادہ اثر ڈالنے کے لئے قیامت کے دن جو کچھ ہوگا۔ اس کے ایک حصہ کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ دیکھنا سننے سے زیادہ تاثیر رکھتا ہے خواہ تصور کی آنکھ سے ہو۔ اہل جنت خوشی سے بےقرار ہو کر پکار اٹھیں گے کہ ہم لوگوں سے اللہ اور اسکے رسول ﷺ نے جو وعدے کئے تھے وہ اس نے پورے کر دکھائے۔ ۔۔ ۔ جہنم والوں سے پوچھیں گے کہ اللہ نے تمہیں بھی جہنم کے برے انجام سے آگاہ کرکے وعدہ کی تھا۔ ۔۔ ۔ کیا وہ سب کچھ تمہارے ساتھ ہو کر رہا ؟ وہ حسرت و افسوس کے ساتھ کہیں گے کہ بیشک وہی ہوا جیسا کہا گیا تھا۔۔۔۔ پھر اعلان کیا جائے گا کہ یہی وہ لوگ ہیں جو دوسروں کو صراط مستقیم سے روکا کرتے تھے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو دین اسلام پر اعتراض کی گنجائش تلاش کیا کرتے تھے تاکہ خود کو بھی فریب دے کر بہکتے رہیں اور دوسروں کو بھی بہکائیں۔ یہی وہ لوگ تھے جو حیات بعد الموت کے منکر تھے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ آج ایسے لوگوں کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے۔ چناچہ ایسا ہی کیا جائے گا اور جنت اور جہنم والوں کے درمیان ایک پردہ ڈال دیا جائے گا۔ کچھ لوگ وہ بھی ہوں گے جو جنت اور جہنم کے درمیان اونچے ٹیلوں پر جمع ہوں گے اور جنت کے امیدوار ہوں گے ان ہی لوگوں کو اصحاب الاعراف کہا جاتا ہے۔ یہ اصحاب الاعراف وہ ہوں گے جن کی نیکیاں اور برئیاں برابر ہوں گی وہ اہل جنت کو پہچان کر ان کو سلام کریں گے اور ان پر سلامتی بھیجیں گے دوسری طرف وہ اہل جہنم کو دیکھ کر چلا اٹھیں گے اور رب العالمین سے فریاد کریں گے کہ اے ہمارے رب ہمیں ان ظالموں میں شامل نہ فرمایئے گا۔ دوزخ میں چند بڑے بڑے لوگوں، حکمرانوں اور دولت مندوں کو دیکھ کر وہ کہیں گے کہ آج تم اللہ کے سامنے خالی ہاتھ کھڑے ہو وہ تمہاری فوجیں ، تمہارے خزانے ، تمہاری توپیں، بندوقیں، تمہارے درباری اور خوشامدی لوگ کہاں ہیں جن پر تم ناز کرتے اور تکبر کیا کرتے تھے اس کے برخلاف وہ لوگ جن کو تم احمق، بادان اور حقیر و ذلیل سمجھتے تھے وہ جنت کے کتنے بلند مقام تک پہنچ چکے ہیں اور تم ؟ دوزخ میں جل جل کر مرنے اور مرمر کر جلنے کو جہنم کا ایندھن بنا دیئے گئے ہو۔ آخرت میں جنتی اور دوزخی ایک دوسرے کو دیکھیں گے اور دونوں گروہ آپس میں کلام بھی کرسکیں گے اس کے لئے قرآن کریم میں بہت سی آیات نازل کی گئی ہیں جو اس سچائی پر شاہد و گواہ ہیں ۔ ۔۔ ۔ اس جگہ تین باتوں کی مزید وضاحت پیش خدمت ہے۔ 1) سورة صافات میں دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا ہے جو دنیا کی زندگی میں ایک دوسرے کے دوست تھے لیکن ان میں سے ایک نیک اعمال کی بدولت جنت کا اور دوسرا برے اعمال کی وجہ سے جہنم کا مستحق بن جائے گا۔ وہ آخرت میں ایک دوسرے کو دیکھیں گے اور باتیں کریں گے۔ 2) قرآن کریم کی بعض آیات سے ظاہر ہے کہ آخرت کا سلام ” سلام علیکم “ ہے جب کہ دنیا کا ” السلام علیکم “ ہے۔۔۔۔ السلام کے معنی ہیں دنیا اور آخرت کی سلامتی اس لئے دنیا میں ” السلام علیکم “ کہ اجئے گا لیکن آخرت میں جانے کے بعد دنیا کی سلامتی کا سوال ختم ہوجائے گا اس لئے ہوا ” سلام علیکم “ کہا جائے گا۔ فرشتے جب اہل جنت کا استقبال کریں گے تو ” سلام علیکم “ کہیں گے۔ 3) حضرت حذیفہ ابن مسعود ؓ کی روایت ہے کہ جب حضور اکر م ﷺ سے پوچھا گیا کہ اہل اعراف کون لوگ ہیں تو آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جن کی برئیاں اور نیکیاں برابر ہوں گی سب کا فیصلہ ہوجانے کے بعد ان کو فیصلہ ہوگا۔ ۔۔۔۔ بالآخر ان کی مغفرت کردی جائے گی اور وہ جنت میں داخل کردیئے جائیں گے۔
Ayahs 7:50–53

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 7:50 in the Quran reader

اور دوزخ والے جنت والوں کو پکار کر التجا کریں گے کہ جو پانی اور رزق تمہیں اللہ نے دیا ہے اس میں سے کچھ ہمیں بھی دیدو۔ وہ جواب دیں گے کہ ان چیزوں کو اللہ نے کافروں پر حرام کردیا ہے۔

الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَهْوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِهِمْ هٰذَا١ۙ وَ مَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 7:51 in the Quran reader

وہ کافر جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا تھا اور جن کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا اللہ فرمائے گا کہ آج کے دن ہم نے انہیں اسی طرح بھلا دیا ہے جس طرح انہوں نے آج کے دن کو بھلا رکھا تھا اور ہماری آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے۔

وَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰى عِلْمٍ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:52 in the Quran reader

حالانکہ ہم نے ان کے پاس ایک ایسی کتاب بھیجی تھی جس میں تمام معلومات اور تفصیلات دی گئی تھیں جو ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہی رحمت ہے

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَهٗ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلُهٗ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ۚ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَیَشْفَعُوْا لَنَاۤ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ قَدْ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 7:53 in the Quran reader

(ان کافروں کو) اس کے آخری نتیجہ اور انجام کے سوا کسی چیز کا انتظار نہیں ہے جب وہ انجام سامنے آجائے گا جس کی خبر یہ کتاب دے رہی ہے تو وہ لوگ جو اس سے غافل بنے بیٹھے تھے وہ کہیں گے کہ ہمارے پاس ہمارے رب کے رسول سچ لے کر آئے تھے۔ کیا اب ہمیں سفارش کرنے والے ملیں گے جو ہماری سفارش کردیں یا کسی طرح ہمیں دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جائے تاکہ اب تک جو کچھ ہم نے کیا ہے اس کو چھوڑ کر ہم دوسرے طرح کے اعمال کردکھائیں جواب دیا جائے گا کہ نہیں (اب جو کچھ کرچکے سو کرچکے ) انہوں نے اپنے آپ کو تباہی میں ڈال لیا اور جو کچھ بہانے انہوں نے تراش رکھے تھے وہ ان سے گم ہوگئے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر (50 تا 53 ) ۔ افیضوا (بہائو ) ۔ الماء (پانی ) ۔ حرم (حرام کردیا۔ روک دیا ) ۔ غرت (دھوکے میں ڈال دیا) ۔ ننسی (ہم نے بھلا دیا ) ۔ یجحدون (وہ انکار کرتے ہیں ) ۔ فصلنا (ہم نے تفصیل بتا دی ) ۔ تاویل (انجام ۔ پھیرنا ) ۔ شفعاء (شفیع) ۔ سفارشی) ۔ نرد (ہم لوٹائے جائیں) ۔ نعمل (ہم کام کریں گے ) ۔ تشریح : آیت نمبر (50 تا 53 ) ۔” جس طرح جنت والوں نے جہنم والوں سے کلام کیا تھا۔ اسی طرح اب جہنم والے اہل جنت سے اپنی شدید پیاس اور تڑپادینے والی بھوک کا حوالہ دے کر رحم و کرم کی بھیک مانگیں گے۔ کفار مکہ جنت ، جہنم، قیامت کے دن اور اللہ کے انصاف کو اہمیت نہیں دیتے تھے وہ دنیا کے رزق اقتدار اور لالچ میں اس طرح الجھے ہوئے تھے کہ ان کے لئے دین اور اسکی سچائیاں کھیل کود سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی تھیں۔ اس سورة کی یہ آیات جنت ، جہنم قیامت اور کفار کی بےبسی کی ایک تصویر کے ایک حصے کو ہماری بصیرت اور بصارت کیلئے سامنے لا کھڑا کرتی ہیں۔ کچھ اس طرح کہ ہماری فکر میں انقلاب اور ہمارے دل و دماغ میں ارتعاش سا آجاتا ہے۔ ہم لڑکھڑا جاتے ہیں۔ اگر ہم عقل و فکر سے بالکل ہی عاری نہیں ہوگئے ہیں تو یہ سوال اپنی پوری قوت سے ہمارے ذہن و فکر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے کہ موت کے بعد ہمارا انجام کیا ہوگا۔ ؟ ہم جنت والے بنیں گے یا جہنم والے۔ جنت ہماری ملکیت ہوگی یا ہم جہنم کا ایندھن بنیں گے ؟ یہ فیصلہ آج ہمارے ہاتھ میں ہے۔ یا ہم دنیا کی نعمتوں میں مست ہو کر اللہ کے دین کو ہنسی مذاق بنا لیں یا ایمان لا کر اس صراط مستقیم کو اختیار کرلیں جو ہدایت اور رحمت ہی رحمت ہے۔ کفار عرب اور آج کفار عالم کے سامنے اللہ تعالیٰ کی تین تین نشانیاں اپنی پوری روشنی کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔ 1) اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب۔ (2) اللہ کے آخری نبی ﷺ کی قولی اور عملی زندگی۔ (3) پیغمبر اسلام کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ اور دیگر مومنین کی زندگیاں۔ دین اسلام نے نہ صرف ذہن و فکر میں طوفان برپا کیا بلکہ مادی اور سیاسی دنیا میں بھی تاریخی انقلابات برپا کئے ہیں۔ اس سے زیادہ بےعقل ناسمجھ اور بد نصیب کون ہوگا۔ جو اسے نہ پڑھے، نہ سمجھے اور نہ عمل کرے۔ دین اسلام میں علم کا مقام بنیادی ہے۔ قرآنی وحی کا پہلا لفظ ” اقراء باسم ربک “ کی شرط کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ سورة فاتحہ کے بعد قرآن مجید ” ذلک الکتب “ سے شروع ہوتا ہے ۔۔۔۔ پہلے انسان اور پہلے نبی حضرت آدم (علیہ السلام) جب دنیا میں تشریف لائے تو تمام اسماء کے علوم سے مسلح اور مزین ہو کر تشریف لائے۔ اسی علم کے سامنے تمام فرشتے ان کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوگئے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے ضروری علم کی تفصیل موجود ہے۔ یہ علم وہ ہے جو عمل کی راہیں آسان کرتا ہے۔ یہ صرف معلومات کا ایک ڈھیر نہیں ہے۔ اس علم کا ایک مقصد ہے ایک متعین سمت ہے۔ ایک خصوصی رہنمائی ہے۔ یہ نہ صرف ہدایت ہے بلکہ رحمت بھی ہے۔۔۔۔ جو اس ہدایت کی روشنی میں چلے گا وہ جنت میں جائے گا اور جو اس راستے کو چھوڑ کر جہالت کی اندھیریوں میں بھٹک جائے گا وہ جہنم کا ایندھن بن جائے گا۔ اس پر عمل تو بہت بڑی بات ہے اس قرآن کریم کی تلاوت بھی رحمت ہے۔۔۔۔ جلد اور اوراق میں تنگ نظروں کو یہ صرف ایک کتاب نظر آتی ہے لیکن جلد اور اوراق سے باہر یہ ایک انقلاب ہے۔ فرد ساز ہے، جماعت ساز ہے، تاریخ ساز ہے ، تمام علوم و فنون کا سر چشمہ ہے۔ تمام اصول و عقول کا بنیادی پتھر ہے۔ قرآن حکیم تقویٰ ، پرہیز گاری اور جنت کا راستہ ہے زندگی کے بعد موت کا اور موت کے بعد زندگی کی روشنی ہے۔ یہاں ہدایت اور رحمت، کے الفاظ سے ایک اور بات ظاہر ہوتی ہے درحقیقت ہدایت اور رحمت ایک تسلسل کا نام ہے جس طرح سورج کا نکلنا، چاند کا آنا، ہوا کا چلنا، بارش کا برسنا، رزق کا پیدا ہونا اور خرچ ہونا، مرنا اور جینا وغیرہ جس طرح یہ چیزیں ایک ساتھ اور ایک ہی قسط میں نہیں آتیں اسی طرح ہدایت اور رحمت بھی ایک ہی قسط میں نہیں آجاتیں ۔ ان کی مسلسل بارش کی ضرورت ہے۔ اسلئے ہمیں ” اھدنا الصراط المستقیم “ (ہمیں سیدھا راستہ دکھایئے) ” واعف عنا “ (ہمیں معاف کر دیجئے) ” واغفرلنا “ (ہماری مغفرت کر دیجئے) ” وارحمنا “ (ہم پر رحم کیجئے) جیسی دعاؤں کو مانگنے کا شب روز اور پانچ وقت کی نمازوں میں حکم دیا گیا ہے تاکہ اللہ کی رحمتیں مسلسل نازل ہوتی رہیں۔ کتاب الہٰی وہ کتاب نہیں ہے جس کو ایک بار یا دو بار پڑھ کر ساری باتیں سمٹ کر سمجھ میں آجائیں گی بلکہ اس کو مسلسل پڑھنا ہے۔ پڑھنا پڑھنا اور پڑھتے چلے جانا ہے ہر بار نیا لطف ۔ نئی ہدایت اور نئی رحمت نصیب ہوتی چلی جائے گی۔ آیت نمبر 53 کا خلاصہ یہ ہے کہ : جو شخص اللہ تعالیٰ کی کتاب سے، رسول اللہ ﷺ کی قولی اور عملی زندگی سے اور صحابہ کرام ؓ کی تاریخی زندگی سے روشنی حاصل نہ کرے وہ درحقیقت جہنم کی طرف بڑی تیزی سے دوڑرہا ہے۔ اس کی آنکھیں اس وقت کھلیں گی جب جہنم کا عذاب اس کے سامنے آکھڑا ہوگا۔ اس وقت وہ لوگ بچنے کے لئے طرح طرح سے ہاتھ پیر ماریں گے۔ سفارشیں ڈھونڈیں گے، دنیا میں واپس جانے کے جتن کریں گے، بہانے گھڑیں گے۔ وہ امید کی نظروں سے اپنے جھوٹے معبودوں کو تلاش کریں گے مگر ان کو ہر طرف سے مایوسی ہی مایوسی ہوگی۔۔۔۔ کیونکہ جو عمل کرنے کا وقت تھا وہ گذر گیا۔ ۔۔ ۔ اب ان کو اپنے برے انجام سے دو چار ہونا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں برے لوگوں کی راہوں پر چلنے سے محفوظ فرمائے ” آمین “
Ayahs 7:54–55

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١۫ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُهٗ حَثِیْثًا١ۙ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ١ؕ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ١ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:54 in the Quran reader

تمہارا رب تو وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر وہ تخت عرش پر جلوہ گر ہوا۔ وہ رات کو دن پر ڈھانپ دیتا ہے پھر وہ دن رات کے پیچھے چلا آتا ہے اور یہ چاند، سورج اور ستارے سب اسکے حکم کے تابع ہیں سنو ! کہ ہر چیز کو پیدا کرنا اور حاکم ہونا اسی کی شان ہے۔ وہ اللہ جو رب العالمین ہے بڑی برکتوں والا ہے

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ Open ayah 7:55 in the Quran reader

تم اپنے پروردگار کو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے پکارو بیشک وہ حد سے بڑھ جانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

لغات القرآن آیت نمبر (54 تا 55 ) ۔ ستتہ ایام (چھ دن ) ۔ استوی (برابر ہوا ) ۔ العرش (تخت ) ۔ یغشی (چھا جاتا ہے) ۔ یطلبہ (وہ اس کے پیچھے آتا ہے ) ۔ حثیث (دوڑتا ہوا ) ۔ النجوم (ستارے ) ۔ مسخرت (تابع ہیں ) ۔ بامرہ (اس کے حکم کے ) ۔ الخلق (پیدا کرنا ) ۔ الامر (حکم کرنا ) ۔ ادعوا (پکارو ) ۔ تضرعا (عاجزی (سے) ۔ خفیتہ (چپکے چپکے ) ۔ المعتدین (حد سے گزر جانے والے ) ۔ تشریح : آیت نمبر (54 تا 55 ) ۔ ” اگر غور سے مطالعہ کیا جائے تو اس کائنات میں ہر چیز میں ایک تدریج ہے یعنی ہر چیز آہستہ آہستہ اور اصولوں کے مطابق بنتی اور اپنے عروج و کمال کو پہنچتی ہے۔ حیوانات نباتات وغیرہ میں بھی یہی اصول کار فرما ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ زمین وآسمان، چاند، سورج، ستارے ہر چیز کا خالق اللہ ہے اور یہ سب چیزیں اسی کے حکم کے مطابق حرکت کرتی اور چلتی ہیں جس کے لئے اس نے ایک خاص نظام قائم فرما دیا ہے۔ یہ نظام اس قدر مرتب اور منظم ہے کہ اگر نگاہ بصیرت ہو تو ہر چیز میں ایک تدریج اور شان سامنے نظر آتی ہے۔ آج انسان نے ایسے سائنسی آلات ایجاد کر لئے ہیں جن سے وہ کائنات کے اس مرتب نظام کو دیکھ کر بہت کچھ پہلے سے بتا سکتا ہے جیسے محکمہ موسمیات ہے وہ اپنے آلات کے ذریعہ سے یہ تک بتا سکتا ہے کہ چند روز کے بعد بارش، یا طوفان آنے والا ہے۔ اگر یہ نظام کائنات مرتب اور منظم نہ ہوتا تو اس کی پہلے سے پیشین گوئی کیسے کی جاسکتی تھی۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ نے زمین و آسمان کو بتدریج چھ دن میں بنایا ہے۔ اب یہ چھ دن ہماری دنیا کے ہیں یا وہ دن ہیں جن کو سورة حج میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ وان یو ما عند تبک کالف منتہ مما تعدون اور بیشک آپ کے رب کے ہاں ایک دن ایک ہزار سال کے برابر ہے اس حساب سے جس کو تم اختیار کئے ہوئے ہو۔ بہر حال کوئی دن بھی ہو یہاں رب العالمین نے اس اصول کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ یہ نظام کائنات خود بخود یا اچانک وجود میں نہیں آیا بلکہ اس کے پھے نل اللہ کی قدرت کا ہاتھ ہے جس نے اس کو بنایا اور وہ اس کا دست قدرت اس پوری کائنات کے نظام کو چلا رہا ہے۔ اس آیت میں یہودیوں کے اس غلط تصور کی بھی تردید مقصود ہے جس میں انہوں نے یہ تصور قائم کرلیا ہے کہ اللہ نے چھ دن میں اس دنیا کو بنایا اور ساتویں دن اس نے آرام کیا اللہ نے فرمایا کہ اس نے اس نظام کائنات کو چھ دن میں بنایا۔ مگر اس کے بعد وہ اللہ تھک کر آرام کرنے نہیں چلا گیا بلکہ اس نے اپنی شان کے مطابق ساتویں دن عرش پر مستوی ہو کر نظام کائنات کا انتظام سنبھا لیا۔ اب اسی کی قدرت جاری وساری ہے۔ ان آیات میں پہلے تو زمین و آسمان کی تخلیق کا ذکر فرمایا ہے۔ پھر ارشاد ہے کہ وہی ذات ہے جس کے سامنے انسان کو جھک کر ہر آن اسی سے مانگنا چاہئے۔ دعا کا فلسفہ کیا ہے اس کو ملاحظہ فرمایئے۔ جیسا کہ آپ نے اس سے پہلی آیات میں بھی ملاحظہ کیا ہوگا کہ اسلام نے اللہ کے ” معبود “ ہونے کا یہ تصور نہیں دیا کہ وہ انسانی ہنگاموں سے الگ تھلگ بیٹھا ہوا کوئی دیوتا ہے یا اس نے ایک مرتبہ کائنات کی خود کار مشین میں چابی بھر کر اس کو چھوڑ دیا ہے اور اب وہ دور سے بیٹھا تماشا دیکھ رہا ہے بلکہ دین اسلام میں اللہ کا تصور یہ ہے کہ وہ ہر آن کائنات کے نظام میں تصرف کرتا ہے وہ ایک ایک مخلوق کے رزق اور ضروریات زندگی کو فراہم کرتا ہے وہ ان کی مصیبتوں میں ان کی پکار کو سنتا ہے وہ زندگی کے ایک ایک مرحلے پر قدم بقدم ان کے ساتھ رہتا ہے۔ وہ خود مطالبہ کرتا ہے کہ میرے بندو ! مجھے پکارو میں تمہاری پکار سنتا ہوں میں تم سے دور نہیں ہوں بلکہ تمہاری رگ جاں بھی اتنی قریب نہیں ہے جتنا کہ میں تمہارے قریب ہوں۔ یہاں بھی حکم ہے کہ ہر حال میں اسی سے دعائیں مانگی جائیں حاجت روائی کیلئے بھی اور اللہ کو یاد کرنے کے لئے بھی اور دعا مانگنے کے اللہ نے آداب اور طریقے بھی سکھا دئے یعنی عاجزی اور انکساری کرتے ہوئے گڑ گڑاتے ہوئے اپنے آپ کو حاجت مند ذلیل اور پست سمجھ کر اپنے آپ کو قصور وار نادم، پیشمان، محتاج اور گداجان کر۔۔۔۔ اس اللہ کے دربار میں عرض پیش کرے جو غنی ہے تمام تعریفوں کا مستحق ہے رازق ہے شافی ہے مشکل کشا ہے مغفرت کرنے والا ہے، بخشش اور بخشائش والا ہے، رحمن و رحیم ہے اور مالک یوم الدین ہے۔ یہ بھی سکھایا گیا کہ دعا میں ادب اور تہذیب و شائستگی کا خیال رکھا جائے نرم اور پست لب و لہجہ شور غل سے دور خموشی سے قریب کیونکہ وہ اللہ سب کچھ سن رہا ہے دیکھ رہا ہے ۔۔۔۔ پھر زور شور سے پکارنے کی ضرورت کیا ہے دعا میں مصنوعی گریہ وزاری سے پرہیز ہونا چاہئے اگر فطری ہو تو قابو کے اندرہو۔ کیونکہ اللہ کو دعا کرنے اور پکارنے میں بھی حد سے گذر جاناپسند نہیں ہے۔ اگر چہ دعا کے معنی میں یاد کرنا بیر شامل ہے لیکن عام طور پر حاجت روائی کے لئے دعائیں کی جاتی ہیں کون شخص ہوگا جو حاجت یا حاجات نہیں رکھتا۔۔۔۔ اس لئے فرمایا گیا کہ ہر آن اسی اللہ سے مانگا جائے اور دعائیں کی جائیں۔ دعا کے معنی ہیں اللہ کے حضور میں پکار، مناجات، فریاد، التجا، تمنا، گذارش، یاد۔ چونکہ اس کائنات میں وہی خالق ومالک ہے، وہی حاکم، کارساز، رازق، مصائب ڈالنے والا اور مصائب کو ٹالنے والا، صاحب تقدیر و تدبیر، صاحب موت وحیات ہے۔ اور بندہ کیا ہے ؟ مجبور، محتاج، مسکین، ہر وقت ناگہانی آفات کا شکار، بیماری ، غم، فکر، پریشانی، خوف، مفلسی قدم قدم پر موت کا خوف اور لمحہ بہ لمحہ نت نئی مشکلات۔۔۔۔ دوسری طرف خواہشات اور آرزوئیں اپنی تمام تر رنگین جلوہ آرائیوں کے ساتھ۔ ۔۔ ۔ غلطیوں، گناہوں کا پتلا، جذبات کا غلام، اگر بصارت نہیں تو بصیرت سے محروم۔ ۔۔ ۔ تاہم ان تمام کمزوریوں کے باوجود دعا سب سے بڑی طاقت ہے جو انسان اپنے اند پیدا کرسکتا ہے جیسا کہ اس آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ دعا مانگنے والے کے ہاتھ میں دو عظیم ہتھیار ہیں۔ ایک طرف خوف دوسری طرف امیدیں۔ ۔۔ ۔ سزا کا خوف، جزا کی امیدیں، ۔ اس دعا کے ذریعہ کمزور اور مجبور انسان تمام توانائیوں کے لا محدود سر چشمہ تک پہنچتا ہے۔ جب ہم دعا کرتے ہیں تو اس قدرت و حکمت سے منسلک ہوجاتے ہیں جو لافانی ہے اور کائنات کو گردش میں رکھتی ہے اسی لئے نبی مکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : دعا مغز عبادت ہے (ترمذی عن انس بن مالک ؓ دعا عین عبادت ہے (عن نعمان بن بشیر ؓ جو اللہ سے نہیں مانگتا اللہ اس سے ناراض ہوجاتا ہے (عن ابی ہریرہ ؓ ۔ ترمذی) دعا بہر حال فائدہ مند ہے ان بلاؤں کے معاملے میں بھی جا نازل ہوچکی ہیں اور ان کے لئے بھی جو ابھی نازل نہیں ہوئیں۔ اللہ کے بندو تم ضرور دعا مانگا کرو (ترمذی) اللہ سے اس امید کے ساتھ دعائیں مانگا کرو کہ وہ قبول کرے گا (ترمذی)
Ayahs 7:56–58

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:56 in the Quran reader

اصلاح کے بعد زمین میں فساد نہ مچائو۔ اپنے اللہ کو اس سے ڈرتے ہوئے اور امید کے ساتھ پکارو۔ بیشک اللہ کی رحمت نیک کام کرنے والوں سے قریب ہے۔

وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:57 in the Quran reader

وہ اللہ جو اپنی رحمت کے آگے آگے خوش خبری ہوئی ہوائیں بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ ہوائیں بھاری بادلوں کو اٹھا کر لاتی ہیں تو پھر ہم ان بادلوں کو کسی خشک زمین کی طرف ہانک دیتے ہیں۔ پھر ہم اس پانی کو برساتے ہیں پھر ان سے طرح طرح کے ثمرات کو نکالتے ہیں اسی طرح ہم (قیامت کے دن ) مردوں کو نکالیں گے۔ شاید کہ تم سمجھو۔

وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ۚ وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا١ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:58 in the Quran reader

اچھی زمین اپنے رب کے حکم سے اچھا پھل دیتی ہے اور وہ زمین جو خراب ہے اس میں سے سوائے ناقص (گھاس پھوس کے) کچھ بھی نہیں نکلتا اس طرح ہم اپنی آیات کو طرح طرح سے بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو قدر کرنے والے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر (56 تا 58 ) ۔ لا تفسدوا (تم فساد نہ کرو) ۔ اصلاح (درست۔ درستگی) ۔ طمعا (امید) ۔ یرسل (وہ بھیجتا ہے) ۔ الریع (ریع) ۔ ہوائیں) ۔ اقلت (اٹھالائیں۔ (اقلال) ۔ سحاب (بادل) ۔ ثقال (بھاری) ۔ سقناہ (ہم اس کو ہانک دیتے ہیں) ۔ بلدمیث (مردہ شہر) ۔ کل الثمرات (ہر طرح کے پھل) ۔ نخرج (ہم نکالتے ہیں) ۔ تذکرون (تم دھیان دیتے ہو) ۔ البلد الطیب (پاکیزہ شہر۔ مبارک سر زمین) ۔ نبتہ ( اپنا سبزہ۔ اس کا سبزہ) ۔ خبت (خراب۔ گندہ) ۔ نکد (نامکمل چیز۔ ناقص چیز) ۔ یشکرون (وہ شکر کرتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر (56 تا 58 ) ۔ ” دو آیت پہلے اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے جن کا تعلق آسمان اور بلندی سے ہے یعنی دن رات کا بدلنا، سورج، چاند، ستارے۔۔۔۔ اب ان آیات میں ان نعمتوں کا ذکر ہے جن کا تعلق زمین سے ہے اور جن سے انسان کی غذا اور دیگر ضروریات پوری ہوتی ہیں یعنی اناج، پھل، پھول وغیرہ جو کچھ ان آیات میں فرمایا گیا ہے وہ یہ کہ : یہ تو ان آیات کا ظاہری پہلو ہے جس کے معنی روشن ہیں لیکن ان آیات میں ایک باطنی پہلو کی طرف بھی ارشاد کیا گیا ہے۔۔۔۔ ۔ ان آیات کے بعد پیغمبروں کے واقعات کو نصیحت و عبرت کے لئے پیش کیا جارہا ہے۔ اور نصیحت کی زمین ہموار کرنے کے لئے یہ مثال دی گئی ہے۔ کسی پیغمبر کا مبعوث ہونا ذہنی اور روحانی باران رحمت ہے۔ اس رحمت کی بارش سے پہلے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں یعنی اچھی اچھی نشانیاں ظاہر ہوتی ہیں۔۔۔۔ ۔ پیغمبر اللہ کا پیغام بلا فرق اور بلا تعصب ہر خاص و عام کو پہنچاتے ہیں۔۔۔۔ جس طرح بارش یہ نہیں دیکھتی کہ یہاں میدان ہے یا صحرا، جنگل ہے یا پہاڑ، کون سی قوم رہتی ہے، کالی یا گوری، وہ سب پر یکساں برستی ہے۔ اسی طرح اللہ کے پیغمبر بھی اللہ کا پیغام ہر شخص تک پہنچاتے ہیں مگر اچھی ہی زمین اچھا اناج اور پھل پھول اگاتی ہے۔ خراب اور بنجرزمین بےاثر رہتی ہے یا زیادہ سے زیادہ ناقص جھاڑیاں، کانٹے دار درخت اور زہریلے پھل پھول نکالتی ہے اس طرح دین کی تبلیغ کا اثر صرف ان ہی لوگوں پر پڑتا ہے جو سمجھنے بوجھنے کی عقل اور موزوں طبعیت رکھتے ہیں۔ دوسری قسم کے لوگ بنجر زمین کی طرح ہیں۔۔۔۔ ۔ ان سے کانٹے اور زہر کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ یہ آیات ” لقوم یشکرون “ پر ختم ہوتی ہیں۔۔۔۔ ۔ تبلیغ دین سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو اس بات کو سمجھتے ہیں کہ ” خلق اور امر “ کے مالک اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں پر کتنے بڑے بڑے احسانات ہیں جن کا ذکر گذشتہ آیات میں بھی کیا گیا ہے۔ جم کے دل و دماغ میں یہ جذبہ ہے کہ اللہ کے احسانات کو مانا جائے اور وہ ان کی قدر کرتے ہوئے اس کے سامنے جھکتے ہیں یہ ان کی قولی اور عملی شکر گذاری ہے۔۔۔۔ ۔ جب تک یہ جذبہ نہیں ہوگا۔ ایمان کا تخم جڑ نہیں پکڑے گا۔ آگے پیغمبروں کے واقعات آتے ہیں۔۔۔۔ پیش بندی کے طور پر یہ سمجھ لینا چاہئے کہ قرآن کریم نے ان پیغمبروں کی زندگی کے صرف ان پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے جن کا تعلق جہاد اور تبلیغ دین سے ہے۔ ان کے پرائیویٹ معاملات سے بحث نہیں کی ہے ہمیں کسی پیغمبر کے متعلق یہ نہیں معلوم کہ ان کی شکل و صورت کیسی تھی، بال بچوں سے کیا اور کیسے تعلقات تھے۔ کتنا کماتے تھے اور کتنی عبادتیں کرتے تھے۔۔۔۔ ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی اصل زندگی اس کا وہ مقصد حیات ہے جس کے لئے وہ اس دنیا میں بھیجا گیا ہے۔