6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 6:148–150

سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتّٰى ذَاقُوْا بَاْسَنَا١ؕ قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا١ؕ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:148 in the Quran reader

(جھوٹ موٹ بحث اور کٹھ حجتی کے لئے) یہ مشرکین ضرور کہیں گے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادا کبھی شرک نہ کرتے اور نہ ہم کسی حلال کو حرام ٹھہرالیتے۔ (فرمایا کہ) ان سے پہلی نسل نے بھی اسی رطح جھوٹے بہانے گھڑے تھے یہاں تک کہ انہوں نے ہمارا عذاب چکھا۔ (اے نبی ﷺ ! ) ذرا ان سے پوچھیئے کیا تمہارے پاس واقعی کوئی علم ہے جسے تم پیش کرسکو ؟ تم تو اٹکل پر چل ہے ہو۔ تم تو گمان و خیال پر بھاگ رہے ہو۔

قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ١ۚ فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 6:149 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ! ) کہہ دیجئے کہ نظر و عقل سے بھری منطق تو اللہ ہی نے پیش کردی ہے۔ بیشک اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو راہ ہدایت پر لے آتا۔

قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ الَّذِیْنَ یَشْهَدُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ هٰذَا١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ هُمْ بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 6:150 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ اپنے ان گواہوں کو لے آئو جو اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ نے ان چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے۔ لہٰذا اگر کچھ لوگ ایسی بات کہنے لگ جائیں تب بھی آپ ان کا اعتبار نہ کریں۔ اور نہ ان لوگوں کی خواہشات نفس کے پیچھے چلیں جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا۔ جو آخرت پر ایمان نہیں لائے۔ جنہوں نے پروردگار کے برابر اپنے معبود بنارکھے ہیں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 148 تا 150 : ذاقوا ( انہوں نے چکھ لیا) الحجۃ البالغۃ ( حد کو پہنچی ہوئی بات جس میں شک نہ ہو) ھلم (لائو) یعدلون ( وہ برابر کرتے ہیں (شرک کرتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 148 تا 150 : ہر طرف سے مجبور ہو کر ‘ اپنے حق میں ہر دلیل کی راہ بند پاکر ‘ پھر بھی ضد اور ہٹ دھرمی پر اکڑ کر ‘ یہ مشرکین بحث کا آخری حربہ استعمال کریں گے۔ کہ ہم اور ہمارے آبائو اجداد جو کچھ کر رہے ہیں یا کرچکے ہیں وہ جبر و تقدیر کے تحت ہے۔ یعنی اللہ کی مرضی یہی ہے۔ وہی اگر چاہتاتو ہم نہ شرک کرتے نہ حرام کھاتے۔ اس لئے الزام ہم پر نہیں کاتب تقدیر پر ہے۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے ان سے کہہ دیئے کہ اس کا جواب یہ ہے کہ کفر و ایمان ‘ ضلالت اور ہدایت کے درمیان کسی ایک راہ کا انتخاب کرنا تمہارے اختیار پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ جبر کا نہیں ‘ اختیار کا معاملہ ہے۔ تمہیں پوری آزادی دی گئی ہے کہ شرک و کفر کی طرف جائو یا اسلام و ایمان کی طرف۔ تم چور کو سزادیتے ہو۔ کیوں ؟ اگر وہ کہے کہ صاحب۔ میں مجبور تھا۔ چوری کرنا تو میری تقدیر میں لکھا تھا۔ میں چوری نہ کرتا تو اور کیا کرتا۔ کیا تم اسے چھوڑ دو گے ؟ نہیں۔ تم جانتے ہو کہ چوری کرنا سراسر اس کے اختیار میں ہے۔ فرمایا اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ وہ بہانہ ہے جو تم سے پہلے تمہارے مشرک باپ دادبھی کرتے رہے۔ لیکن ایسا بہانے سے ان کی گردن عذاب سے نہ بچ سکی۔ اور تمہاری گردن بھی اس بہانے عذاب سے نہ بچ سکے گی۔ کہہ دیجئے بیشک اگر اللہ چاہتا تو کوئی کافر منافق مشرک گناہ گارنہ ہوتا۔ سب فرشتوں کی طرح نسیان و عصیان سے دھلے دھلائے صاف و شفاف ہوتے۔ مگر اللہ کی یہ مشیت نہ تھی۔ بیشک جبر و تقدیر اپنی جگہ ہے مگر مصلحت الٰہی نے اس کی ایک حد مقرر کردی ہے۔ اس کے آگے ذاتی اختیار و فیصلہ کا مقام آتا ہے او تم سے اسی کا حساب ہوگا۔ جو تمہارے ذاتی اختیار اور فیصلہ کے اندر ہے۔ اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجئے کیا تمہارے پاس کوئی علم حقیقت ہے ؟ یا دلیل وحجت ہے ؟ یا کوئی گواہ ہے۔ آ پکی للکار کے جواب میں ان مشرکین سے بعید نہیں کہ چند جھوٹے گواہ محض بات بنانے کے لیئے کھڑے کردیں۔ اگر کوئی اتنا ڈھیٹ اور اڑیل نکل بھی آئے تو آپ ان کے رعب میں نہ آئیں۔ اس ڈھٹائی اور جھوٹ پر اصرار محض اس لئے ہوگا کہ وہ آ پکو اپنی طرف ڈھلکا لیں۔ یہ للکار اور یہ بحث اس لئے ہے کہ بات پوری ہوجائے اور شاید کوئی متلاشی حقیقت نکل آئے۔
Ayahs 6:151–153

قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَیْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْ١ۚ وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:151 in the Quran reader

( اے نبی ﷺ ! ) ان سے کہہ دیجئے آئو میں سنائوں کہ تمہارے رب نے تم پر کن چیزوں کو حرام ( یا حلال ) کیا ہے۔ (1) کسی چیز کو بھی اس کا شریک نہ بنائو۔ (2) والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ (3) مفلسی کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔ ہم تمہیں بھی رزق پہنچاتے ہیں۔ انہیں بھی پہنچائیں گے۔ (4) فواحش اور بےحیائی کے پاس بھی ناجائو۔ خواہ ظاہری ہوں یا پوشیدہ۔ (5) جس کا خون کرنا اللہ نے حرام قراردیا ہے اس کو قتل مت کرو ہاں مگر حق کے ساتھ۔ (6) اس کا تمہیں تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھو

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١ۚ وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ١ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۚ وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَۙ Open ayah 6:152 in the Quran reader

اور یتیم کے مال کے قریب بھی مت جائو۔ ہاں مگر ایسے طریقے سے جو نیک اور ایمان داری کا راستہ ہو۔ یہاں تک کہ وہ اپنے سن تمیز کو پہنچ جائے ( یعنی بالغ ہوجائے) ۔ (7) اور کانٹے اور ترازو (ماپ تول ) کو انصاف سے سیدھا رکھو۔ ہم کسی انسان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتے۔ (8) اور جب بات کہو تو انصاف کی کہو ‘ خواہ وہ شخص رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ (9) اور اللہ سے کئے ہوئے عہد کو پورا کرو۔ اللہ نے یہ تاکیدی احکامات تمہیں دیئے ہیں تاکہ تم دھیان دو ۔

وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 6:153 in the Quran reader

(10) یہ ہے ہمارا بتایا ہوا سیدھا راستہ اسی پر چلو او دوسرے راستوں پر نہ چلو کیونکہ وہ تمہیں اللہ کے راستے سے دور بھٹکا دیں گے۔ یہ ہیں وہ تاکیدی احکامات جو اللہ نے تمہیں دیئے ہیں تاکہ تم اللہ کا تقویٰ حاصل کرسکو۔

لغات القرآن : آیت نمبر 151 تا 153 : تعالوا ( آئو) اتل ( میں تلاوت کرتا ہوں۔ پڑھتا ہوں) الا تشرکوا ( یہ کہ تم شریک نہ کرو) احسان ( اچھا معاملہ۔ حسن سلوک) لاتقتلوا ( تم قتل نہ کرو) املاق (ملق) ۔ مفلسی کا خوف ‘ نرزق ہم رزق دیتے ہیں ‘ ایاھم ( ان کو بھی) لا تقربوا ( تم قریب نہ جائو) الفواحش ( فاحشۃ) بےحیائی کے کام) ظھر ( ظاہر ہے۔ ظاہر ہوا) بطن وہ جو چھپا ہوا ہے) وصکم ( وہ تمہیں وصیت کرتا ہے) احسن ( بہترین طریقہ) حتی یبلغ (جب تک نہ پہنچ جائے) اشدہ ( اپنی طاقت کو (بالغ نہ ہوجائے) اوفوا (پورا کرو) الکیل (ماپ) المیزان ( تول) بالقسط ( انصاف کے ساتھ) لانکلف ( ہم ذمہ داری نہیں ڈالتے) وسعھا ( جو اس کی طاقت ہو) ‘ اعدلوا ( عدل و انصاف کرو) ولو کان ( اگرچہ ہو) ذاقربی (رشتہ دار) السبل (سبیل) ۔ راستہ ( فتفرق) پھر وہ جدا کردے گا۔ تشریح : آیت نمبر 151 تا 153 : تین آیات میں دس احکامات بیان فرمائے گئے ہیں جو آئین اسلامی کی بنیاد ہیں۔ (1) حکم ہے کسی کو اس کا شریک نہ بنائو : ذات میں شرک یہ ہے کہ کسی کو اللہ کا بیٹا ‘ بیٹی یا بیوی سمجھ لیا جائے۔ صفات میں شرک یہ ہے کہ کسی کو عالم الغیب۔ انبیاء کے علاوہ کسی کو معصوم اور خطاؤں سے پاک سمجھنا یا کسی کو شارع ‘ سمیع الدعا ‘ قاسم ‘ مالک روز انصاف ‘ مالک حیات و موت ‘ شافی ‘ رزاق ‘ خالق ‘ فاطر ‘ رب العلمین ‘ رحمن رحیم ‘ حی القیوم وغیرہ وغیرہ سمجھنا۔ اللہ کے سوا کسی سے امیدیں وابستہ کرنا ‘ کسی سے خوف کھانا ‘ کسی کی پرستش بندگی ‘ تعظیم اور ایسی محبت پیش کرنا جس پر ساری محبتیں قربان ہوجائیں۔ کسی کو قاضی حاجات اور دافع مشکلات سمجھنا ‘ کسی کے حکم کو اللہ اور رسول ﷺ کے حکم پر ترجیح دینا۔ قرآن و حدیث کے سوا کسی اور کتاب کو معیار و میزان سمجھنا وغیرہ وغیرہ شرک جلی یہ ہے کہ جب عقیدہ بھی ہو اور عمل بھی۔ شرک خفی یہ ہے کہ عقیدہ ہو ‘ عمل نہ ہو یا عمل ہو ‘ عقیدہ نہ ہو۔ شرک خفی چونکہ نیم شعوری یا لاشعوری ہوتا ہے اس لئے اس میں زیادہ ہوشیاری کی ضرورت ہے۔ (2) والدین کے ساتھ احسان کا سلوک کرو : والدین یعنی ماں باپ ‘ سگے یا سوتیلے مومن یا کافر ہوں ضمنی طور پر باپ اور ماں کے تمام رشتہ دار والدین میں سسر اور ساس شامل ہیں۔ سگے یا سوتیلے ضمنی طور پر سسر اور ساس کے تمام رشتے داربیوی بھی سسر اور ساس کی رشتہ دار ہے۔ اور اس کے بچے بھی۔ خواہ پہلے شوہر سے ہوں۔ احسان یعنی حق سے زیادہ دینا۔ معیار میں اور مقدار میں۔ بخشش بخشائش بغیر واپسی کی امیدرکھے ہوئے۔ صحیحین میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت ہے۔ انہوں نے حضور ﷺ سے پوچھا سب سے افضل عمل کونسا ہے ۔ فرمایا نماز وقت پر پڑھنا۔ پھر پوچھا اس کے بعد کون ساعمل افضل ہے۔ فرمایا والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ پھر پوچھا اس کے بعد کون سا عمل افضل ہے۔ فرمایا جہاد فی سبیل اللہ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا کہ ذلیل ہوگیا۔ ذلیل ہوگیا۔ ذلیل ہوگیا۔ صحابہ کرام ؓ نے پوچھا کون ذلیل ہوگیا۔ فرمایا وہ شخص جس نے اپنے ماں باپ کو بڑھاپے میں پایا اور پھر ان کی خدمت کرکے جنت میں داخل نہ ہوا۔ حضور ﷺ نے تین قسم کے لوگوں پر لعنت کی ہے۔ وہ جس نے ماہ رمضان کو پایا اور بلاعذر شرعی روزے نہ رکھے۔ دوسرے وہ شخص جس نے ماں باپ کی خدمت نہ کی۔ تیسرے وہ جس نے آپ کا نام نامی سنایا پڑھا یا کہا اور درود شریف نہ پڑھا۔ (3) اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو۔ ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی دیں گے : سورة بنی اسرائیل میں اولاد کا ذکر مقدم فرمایا۔ ہم ان کو بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی “ ۔ معصوم اور کمزور بچوں کو رزق پہنچانا ضرور مقصود ہے۔ چونکہ یہ رزق بڑوں کی وساطت ہی سے پہنچے گا ‘ اس لئے بڑوں کو بھی رزق پہنچتا ہے۔ یہاں حقوق والدین کے بعد اولاد کے حقوق پر زور دیا گیا ہے۔ قتل اولاد کی دو قسمیں ہیں ‘ قتل جسمانی جیسا کہ جاہلیت میں عرب کیا کرتے تھے۔ قتل ذہنی یعنی غلط اور غیر اسلامی تعلیم و تربیت دینا یا آوارہ چھوڑ دینا جیسا کہ آج کل عام ہورہا ہے۔ قتل ذہنی میں خواہش کا خاص کر دار ہے۔ (4) بےحیائی اور بےشرمی کے قریب بھی نہ پھٹکو۔ خواہ ظاہر ہو یا پوشیدہ : اگر چہ خواہش سے خاص مراد جنسی بدکاری اور اس کے آلات ترغیب و تحریص ہیں لیکن اس لفظ میں وہ تمام گناہ شامل ہیں جن کے اثرات دور ونزدیک اور نسل در نسل پہنچتے ہیں ۔ گناہ کرنے سے دو ہی چیزیں روکتی ہیں اللہ کا خوف اور پھر لوگوں کا خوف۔ اللہ دیکھ رہا ہے مگر ہم اسے نہیں دیکھ رہے ہیں۔ رہے لوگ تو وہ ہمیں دیکھ رہے ہیں ہم انہیں دیکھ رہے ہیں۔ وہ جنہیں اللہ کا خوف نہیں روکتا ہے ‘ لوگوں کا خوف روک دیتا ہے۔ لوگوں کے خوف کو شریعت میں ’ حیا ‘ کہا گیا ہے۔ مشہور حدیث ہے کہ حیا نصف ایمان ہے۔ حیا عصمت کے قلعہ کی فصیل اور دیوار ہے۔ یہ ٹوٹی تو سب کچھ ٹوٹ گیا۔ مغرب نے روکاوٹ سمجھ کر حیا کی دیوار کو سب سے پہلے ڈھادیا ہے۔ چناچہ اب شراب و شباب کھلے عام ہے۔ بخاری و مسلم میں حضرت عمران ؓ بن حصین کی روایت ہے حضور ﷺ نے فرمایا کہ حیا کی صفت سے فائدہ ہی فائدہ ہے۔ یعنی حیا تمام صفتوں کا سرچشمہ ہے۔ جس میں حیا ہوگی وہ برائیوں کے قریب بھی نہ پھٹکے گا۔ یہاں بےحیائی کی ہر ترغیب و تحریص سے بھی پرہیزکا حکم دیا گیا ہے ‘ خواہ ظاہر ‘ خواہ پوشیدہ ‘ خواہ نزدیک خواہ دور۔ (5) اور ہر جان کو اللہ نے واجب الاحترام ٹھہرایا ہے کسی کو ہلاک یا ناحق قتل نہ کیا جائے۔ ہر انسانی جان قابل تعظیم و احترام ہے اس قدر کہ ایک شخص کا قتل کرنا گویا دینا کے تمام لوگوں کا قتل کرنا ہے۔ اس لئے قتل ناحق شدید ترین گناہوں میں سے ایک ہے۔ ” حق کے ساتھ قتل “ یعنی وہ قتل جس کی اجازت قرآن و سنت نے بطور سزادے دی ہے بلکہ حکم دے دیا ہے۔ قرآن کے مطابق جو شخص واجب القتل ہے وہ (1) قاتل ہے اور جس کو اسلامی عدالت نے تفتش و تحقیق اور انصاف کا ہر تقاضا پورا کرنے کے بعد بطور سزا ہلاک کرنے کا حکم دے دیا ہو۔ اور وہ متعین ذریعہ سے ہلاک کیا جائے۔ (2) دین حق کے قیام کی مخالفت میں ہتھیار اٹھا لے اور جس سے مہلک حملہ کا خطرہ یقینی ہو۔ (3) اسلامی نظام حکومت کو الٹنے کی کوشش کرے یا دارالاسلام کی حدود میں مسلح بدامنی پھیلائے۔ حدیث کے مطابق وہ شخص بھی واجب القتل ہے جو (4) شادی شادہ ہونے کے باوجود زنا کرے ( اس کو رجم کیا جائے گا) (5) مرتد ہوجائے اور جماعت مسلمین سے خروج کرے۔ ناحق قتل حرام ہے خواہ مسلم کا ہو خواہ ذی کا۔ ان پانچ نصیحتوں کے بعد قرآن نے فرمایا ہے ”(اللہ اور رسول ﷺ کی طرف سے) یہ تاکیدی احکامات ہیں تاکہ تم عقل و فہم سے کام لو۔ (6) یتیم کے مال کے قریب بھی مت جائو مگر بہترین طریقے سے۔ یہاں تک کہ وہ سن بلوغ کو پہنچ جائے : سورة نساء کی دوسری آیت میں ہے ” یتمیوں کے مال ان کو واپس کردو۔ اچھے مال کو برے مال سے نہ بدلو اور ان کے مال اپنے ما ل کے ساتھ ملا کر نہ کھا جائو۔ یہ بہت بڑا گناہ ہے “۔ اسی سورة کی چھٹی آیت میں ہے ( اے سر پر ستو ! ) خبر دار۔ حدانصاف سے بڑھ کر اس خوف سے ان کے مال جلدی جلدی نہ کھا جائو کہ وہ بڑے ہو کر حق کا مطالبہ کریں گے۔ ابن ماجہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” مسلمانوں کے گھروں میں سب سے بہتر گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا ہو۔ اور مسلمانوں کا بدترین گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہو۔ “ (7) اور ماپ تول میں پورا پورا انصاف کرو۔ ہم ہر شخص پر ذمہ داری کا اتنا ہی بوجھ رکھتے ہیں جتنا وہ اٹھا سکے۔ خریدو فروخت زندگی کا کاروبار ہے۔ کسی قسم کی بدنیتی اور بےایمانی دھوکا اور ظلم ممنوع ہے۔ حضرت شعیب ؓ کی قوم اسی میں جہنم واصل ہوئی۔ سورة رحمن میں مذکور ہے ” اسی نے آسمان کو ٹھیک ٹھیک اونچا کیا اور تو ازن قائم کیا۔ چناچہ تو ازن قائم کرنے میں کمی بیشی نہ کرو۔ اور ماپ تول میں دونوں پلڑے انصاف کے ساتھ برابر رکھو۔ اور ماپ تول کو خراب نہ کرو۔ “ یہ آسمان زمین اور سارا نظام کائنات قانون تو ازن و عدل پر قائم ہے۔ چناچہ کاروبار زندگی میں کوئی فریق اپنے حق سے زیادہ لینے کی ناجائز کوشش نہ کرے۔ ترازو ‘ پلڑے اور وزن ٹھیک ٹھیک رکھے۔ ڈنڈی نہ ماری جائے۔ صرف تجارت میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر معاملے ‘ مقدمے میں یہی حکم ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ایک موقع پر ایک بیچنے والے کو کہا ” تو لو اور جھکتا ہوا تولو “۔ جب کسی کا حق آپ کے ذمہ ہوتا تو آپ حق سے زیادہ ادا کرنا پسند فرماتے تھے۔ حضرت جابر ؓ کی روایت ہے حضور ﷺ نے فرمایا۔ ” اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحمت کرے جو بیچنے کے وقت بھی نرم ہو کہ حق سے زیادہ دے اور خریدنے کے وقت بھی نرم ہو کہ حق سے زیادہ نہ لے۔ بلکہ کچھ معمولی کمی بھی ہو تو راضی ہوجائے۔ “ (8) اور جب بات کہو تو انصاف کی کہو خواہ اس کی زد تمہارے قرابت دار پر کیوں نہ پڑتی ہو۔ گواہی میں ‘ مقدمہ میں ‘ سیاست میں ‘ عام گفتگو میں ‘ معاملہ کرتے وقت ‘ رشتہ کرتے وقت ‘ بیچتے اور خریدتے ہوئے ‘ سربراہ خاندان یا سربراہ سلطنت کے فرائض ادا کرتے ہوئے ‘ دوستی میں ‘ دشمنی میں ‘ صلح و جنگ میں ‘ دفتر میں ‘ دکان میں ‘ سڑک پر ‘ محفل میں ‘ پڑوسی کے ساتھ ‘ اجنبی کے ساتھ ‘ وہی بات زبان سے نکالی جائے جس سے کسی کی عزت کا ‘ دولت کا ‘ خوشی کا یا پروگرام کا ناحق نقصان نہ ہوتا ہو۔ حق کے ساتھ بشرط ضرورت نقصان ہوجائے ۔ خواہ تمہارا اپنا ہی نقصان ہوجائے۔ جھوٹ نہ بولو ‘ غیبت نہ کرو ‘ سازش نہ کرو یہ اصول نجی سطح پر جتنا ضروری ہے ‘ اس سے بہت زیادہ ضروری اجتماعی ‘ سماجی ‘ اور سیاسی سطح پر ہے ‘ سورة مائدہ میں آیت 2 میں فرمایا ہے۔ ” دیکھو ایک گروہ نے جو تمہارے لئے مسجد حرام کا راستہ بند کردیا ہے تو اس پر تمہارا غصہ تمہیں اتنا گرم نہ کردے کہ تم بھی ان کے مقابلہ میں ناروا زیادتیاں کرنے لگو۔ ابو دائود اور ابن ماجہ میں حضور ﷺ کا قول نقل ہے۔ ” جھوٹی گواہی شرک کے برابر ہے “ (9) اور جو عہد اللہ سے باندھا ہے اسے پوراکرو۔ تم نے ” الست بربکم “ کے جواب میں ” بلی “ کہا ہے۔ تم نے ” اشہد ان لا الہ الا اللہ “ کہا ہے یعنی میں صرف اللہ ہی کا حکم مانوں گا خواہ اس راستہ میں میری جان بھی چلی جائے۔ تم نے ” اشہدان محمد رسول اللہ “ کہا ہے۔ یعنی میں رسالت محمدی پر ایمان رکھتا ہوں اور اللہ کے احکام و فر امین کو اسی طرح بجالاؤں گا۔ جس طرح حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے بتایا ہے۔ تم نے ” ایاک نعبد وایاک نستعین “ کہا ہے۔ یعنی میں اپنی تمام خدمات ‘ تمام امیدیں اور تمام خوف اللہ اور صرف اللہ سے وابستہ رکھوں گا۔ تم نے میدان حج میں کہا ہے ” اللہم لبیک “ یعنی اے اللہ ! میں تمام دوسرے علائق سے کٹ کر تیری خدمت میں حاضر ہوگیا ہوں۔ اب جو حکم سرکار ہو۔ تم صبحو شام اللہ سے عہد کرتے رہتے ہو۔ اذان میں ‘ نماز میں ‘ روزہ میں ‘ زکوۃ میں ‘ حج میں ‘ قربانی میں ‘ شادی بیاہ میں ‘ جینے مرنے میں۔ یہ جو تم اللہ کے بندوں سے عہد کرتے ہو ‘ یہ بھی اللہ ہی سے عہد ہے کیوں کہ وہی تو نگہبان ہے۔ سورة بقرہ آیت 27 میں فرمایا ہے ” فاسق وہ ہے جو اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کیبعدتوڑ دیتے ہیں۔ اللہ نے جسے جوڑنے کا حکم دیا ہے اس کو کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد و برپا کرتے پھرتے ہیں۔ “ حقیقت میں یہ لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں “۔ اللہ کے عہد سے مراد اس کا وہ مستقل فرمان ہے جس کی رو سے تمام نوع انسانی صرف اسی کی بندگی ‘ اطاعت اور پرستش کرنے پر مامور ہے۔ یہ نواں حکم تمام احکام کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ یہاں اس نویں حکم کے بعد فرمایا ہے۔ یہ سارے احکام تاکیدی ہیں تاکہ تم یاد رکھو۔ (10) یہ دین محمدی ﷺ میرا سیدھا راستہ ہے ‘ اس راہ پر چلو ‘ دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے دور بھٹکا دیں گی۔ یہ دسواں حکم قرآن وحدیث کا خلاصہ ہے جو اپنے اندر سب کچھ سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ سورة فاتحہ کے آخری نصف کا اعادہ ہے۔ اس کے بعد فرمایا۔ یہ تاکیدی احکام تمہیں اللہ نے دیئے ہیں تاکہ تم اس کی قربت اور محبت حاصل کرسکو۔ ان دس احکامات کے بیان کرنے میں تینوں جگہ لفظ و صیت فرمایا ہے جو تاکیدی حکم کے معنی رکھتا ہے۔
Ayahs 6:154–158

ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِیْۤ اَحْسَنَ وَ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:154 in the Quran reader

پھر ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وہ کتاب عطا کی جو اچھے لوگوں کے لئے تکمیل نعمت تھی جس میں ہر ضروری بات کی تفصیل تھی ‘ جو ان لوگوں کے لئے ہدایت اور رحمت تھی جنہیں اپنے رب سے رو برو ہونے کا یقین تھا۔

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۙ Open ayah 6:155 in the Quran reader

اسی طرح ہم نے موجودہ خیر و برکت والی کتاب نازل کی ہے لہٰذا اس پر عمل کرو۔ پرہیز گار بنو تاکہ تم پر رحمت کی جائے۔

اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآئِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا١۪ وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِیْنَۙ Open ayah 6:156 in the Quran reader

اب تم نہیں کہہ سکتے کہ کتاب تو ہم سے پہلے کے دو فرقوں کے لئے اتاری گئی تھی اور ہمیں کچھ خبر نہ تھی کہ وہ کیا پڑھتے پڑھاتے تھے۔

اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ١ۚ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَا١ؕ سَنَجْزِی الَّذِیْنَ یَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰیٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:157 in the Quran reader

یا یہ کہنے لگ جائو کہ اگر ہم پر کتاب اترتی تو ہم ان سے زیادہ تعمیل حکم کرتے۔ لو اب تمہارے پاس تمہارے رب کی طرح سے یہ کتاب دلیل روشن ‘ ہدایت اور رحمت بن کر آگئی ہے۔ اب اس سے زیادہ (اپنے حق میں) ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور ان سے کترائے ہم ان کو سزادیں گے جو ہماری آیات سے کتراتے ہیں۔ اس سے منہ موڑنے اور کترانے کے سبب بہت بڑا عذاب آکر رہے گا۔

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّكَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِیْۤ اِیْمَانِهَا خَیْرًا١ؕ قُلِ انْتَظِرُوْۤا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 6:158 in the Quran reader

(اب ایمان لانے کی راہ میں کون سی رکاوٹ ہے ؟ ) کیا یہ لوگ راہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کے سامنے فرشتے آکھڑے ہوں یا خود تمہارا رب آجائے یا پھر تمہارے رب کی چند کھلی ہوئی نشانیاں نمودار ہوجائیں۔ یاد رکھو ( جس دن فرشتہ نظر آجائے گا یا غیب کی نشانیاں سامنے آجائیں گی) پھر جو پہلے سے ایمان نہ لایا تھا یا جس نے ایمان کے دعوے کی تصدیق اعمال خیر سے نہیں کی تھی۔ اس کا پلٹنا کسی کام نہ آئے گا۔ (اے نبی ﷺ ! ) صاف کہہ دیجئے کہ تم لوگ بھی وقت کا انتظار کرو۔ ہم بھی انتظار کر رہے ہیں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 154 : 158 : تماما ( مکمل) طائفتین (طائفۃ) ۔ دو جماعتیں۔ دوفرقے) صدف ( اس نے انکار کیا) انتظروا (تم انتظار کرو) ۔ تشریح : آیت نمبر 154 تا 158 : فرمان الٰہی کا رخ اہل عرب کفار و مشرکین کی طرف ہے۔ فرمایا کہ تمہیں جو بہانہ ڈھونڈنے ‘ بھاگنے کا چور دروازہ تلاش کرنے اور کسی نہ کسی طرح چھوٹ نکلنے کی عادت ہے۔ تو ممکن تھا تم یہ بہانہ کرتے۔ کہ توریت اور انجلش تو یہودیوں اور عیسائیوں کے لئے نازل کی گئی تھیں۔ ہمیں کیا خبر وہ کیا پڑھتے پڑھاتے تھے۔ ہم تو کلام الٰہی سے بےبہرہ رہے۔ اس لئے ہم بےقصور ہیں۔ تمہیں جو بڑھ بڑھ کے جھوٹے دعوے کرنے کی عادت ہے ‘ بعید نہ تھا تم یہ کہتے ۔ اگر ہم لوگوں کے لئے کلام الٰہی اترتا تو ہم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیروکاروں سے بھی بڑھ کر تعمیل حکم کرتے۔ لواب یہ کلام الٰہی (قرآن پاک) تم ہی لوگوں کے درمیان نازل ہو رہا ہے۔ تمہاری ہی زبان میں ‘ تم ہی میں سے ایک شخص کے اوپر۔ اب تو تمام ممکن بہانوں کے رخنے بند ہوگئے۔ اب تمہارے پاس کوئی حجت نہیں رہی جسے تم قیامت کے دن پیش کرسکو ‘ یہ قرآن برکتوں والی کتاب ہے۔ اس کی دلیلیں روشن ہیں۔ ( اتمام حجت میں ‘ اتمام نعمت میں) اس کی پیروی کرو اور تقویٰ کی راہ پر چل نکلو۔ جس طرح بنی اسرائیل کو کتاب مقدس دی گئی تھی تاکہ لوگ اپنے رب کے سامنے پیشی پر ایمان لائیں۔ اسی طرح یہ کتاب مقدس تم کو دی جارہی ہے۔ کہ رب کے سامنے اپنی پیشی پر ایمان لائو۔ یقین کا مل کرلو کہ قیامت آئے گی ‘ تمہیں اپنے رب کے سامنے حساب و کتاب کے لئے حاضر ہونا ہی ہے اور جزا و سزا پانا ہی ہے۔ اے انکار کرنے والو اور راہ حق سے کترانے والو ! تمہارے سامنے اب دونوں راہیں کھلی ہوئی ہیں۔ مطالعہ کی بھی کہ خود قرآن پڑھ کے سمجھو۔ اور مشاہدہ کی بھی۔ کہ ان کی زندگیوں کو دیکھو جو ایمان لا کر بالکل پلٹ گئے ہیں۔ کیا تم یہ اصرار کررہے ہو کہ غیب کی نشانیاں تمہارے سامنے آجائیں ‘ یا کوئی فرشتہ یا خود حق تعالیٰ تمہاری نظروں کے سامنے آموجود ہوں تو سن لو جب موت آئے گی غیب کی نشانیاں بھی سامنے آجائیں گی فرشتہ بھی آموجود ہوگا۔ اور تم قیامت کے دن حق تعالیٰ کو بھی دیکھ لو گے۔ مگر جب موت کا فرشتہ نظر آجائے گا تو ہزار چیخوپکار و دہائی دو کہ ہم ایمان لائے۔ ایمان لائے مگر سب بےکار۔ اس وقت کوئی شنوائی نہ ہوگی۔ اب بھی وقت ہے۔ جب تک سانس تب تک آس ۔ اب بھی ایمان لے آئو۔ اب بھی اپنے دعویٰ ایمان کی تصدیق اعمال خیر سے کرلو۔ نہیں کرتے ؟ تو وقت کا انتظار کرو۔ وقت خود ہی اس کا فیصلہ کر دے گا۔
Ayahs 6:159–160

اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 6:159 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ! ) جن لوگوں نے اپنے دین کو فرقے فرقے کر ڈالا اور گروہ در گروہ بن گئے آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ وہی بتادے گا۔ ان کو جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 6:160 in the Quran reader

جو اللہ کے حضور ایک نیکی لے کر آئیگا تو دس گنا اجر پائے گا۔ اور جو ایک برائی لے کر آئے گا وہ اس کی سزا برابر ہی پائے گا۔ اور کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔

لغات القرآن : آیت نمبر 159 تا 160 : فرقوا (جنہوں نے فرقے بنادیئے) امرھم ( ان کا معاملہ) عشرامثال (دس کے برابر) تشریح : آیت نمبر 159 تا 160 : ” دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردینا “ تفرقہ اس کا نام ہے۔ تفرقہ اور اختلاف میں فرق ہے۔ تفرقہ بنیادی ایمانی عقیدوں اور اصولوں میں الگ راستہ نکال دینا اور اختلاف کے معنی ہیں علمی اور فقہی تفصیلات اور جزئیات میں اجتہاد کرنا۔ اجتہاد میں غلطی ہو سکتی ہے ۔ اگر غلطی اور اختلاف کا دروازہ بند کردیا جائے تو عقل کی ترقی کا راستہ بھی بند ہوجاتا ہے۔ مگر اجتہاد وہی کرسکتا ہے جس کے پاس قرآن و سنت کے ساتھ ساتھ خلوص ہو ‘ علم ہو ‘ عقل ہو ‘ بصیرت ہو اور اعمال صالحہ ہوں۔ جس تفرقہ کی یہاں مذمت کی گئی ہے وہ عدم خلوص اور عدم علم و بصیرت کی بنا پر کوئی شخص اپنی مذہبی یا سیاسی لیڈر شپ کے لئے نئی اختراع کردے۔ عقیدت میں کمی کرے۔ کسی نبی یا صحابی کی شان میں بےادبی کرے۔ جیسا کہ یہودیوں نے کیا۔ یا عقیدت میں مبالغہ کرے۔ کسی کو اللہ کا بیٹا یا اوتار بنا ڈالے جیسا کہ عیسائیوں یا ہندؤں نے کیا۔ کسی غیر نبی کا درجہ نبی سے بڑھا دے یا شرک توحید یا شرک نبوت کرے۔ عقائد میں اوہام و قیاسات اور لادینی فلسفہ ملا کر بدعت طرازی کرے۔ خود ساختہ قوانین و آئین بنائے۔ اہم کو غیر اہم کردے اور غیر اہم کو اہم۔ اس طرح جدت بگھارے۔ برصغیر پاک وہند میں خصوصاً 1857 ء کے بعد اس قسم کے چند غلط فرقے ابھرے ہیں یا انگریزوں کی طرف سے ابھارے گئے ہیں جن میں سب کی کوشش بلیغ یہی رہی ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی شان نبوت کو گھٹایا جائے ملاوٹ ‘ بدعت یا جدت کے ذریعہ اور انگریزوں کی خاطر دین اسلام میں سے جہاد کی اہمیت کو پیچھے ہٹا کر کسی اور چیز کی اہمیت بڑھادی جائے۔ مسلمانوں کو جہاد سے دور رکھ کر کسی اور چیز میں ساری عمر پھنسا دیا جائے۔ ” شیخ بھی خوش رہے انگریز بھی بیزار نہ ہو “۔ یہاں پر نبی ﷺ سے خطاب کر کے فرمایا ہے کہ تمہیں ان لوگوں سے کوئی واسطہ نہیں رکھنا ہے جنہوں نے اپنے دین کو توڑپھوڑ کر فرقے فرقے کر ڈالا۔ ان الفاظ میں پہچان بتائی گئی ہے کہ کون سا فرقہ صحیح ہے اور کون سا غلط۔ جن فرقوں سے رسول ﷺ کو واسطہ نہیں رکھا یہ وہ فرقے ہیں جنہوں نے رسول ﷺ سے واسطہ نہیں رکھا۔ ان کی شان کو گھٹا کر یا بڑھا کر مسلمانوں کی توجہ کسی اور طرف موڑدی۔ حدیث اور جہاد کی قیمت گھٹادی۔ جسے حضرت محمد ﷺ لائے تھے۔ وہ تلوار کند کردی جس کی زد دشمنان اسلام پر پڑتی تھی۔ رسول مقبول ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا۔ ” میری امت کو بھی وہی حالات پیش آئیں گے جو بنی اسرائیل کو پیش آئے۔ میری امت کے لوگ بھی ان ہی بد اعمالیوں میں مبتلا ہوں گے جن بداعمالیوں میں وہ مبتلا ہوگئے۔ جس طرح ان کے بہتر فرقے بن گئے ‘ اسی طرح میری امت میں بھی تہتر فرقے بن جائیں گے۔ جن میں سے ایک فرقے کے علاوہ سب دوزخ میں جائیں گے “۔ صحابہ کرام ؓ نے پوچھا کہ وہ نجات پانے والا فرقہ کون سا ہے۔ فرمایا ” ما انا علیہ و اصحابی “۔ یعنی وہ جماعت جو میرے طریقہ پر اور میرے صحابہ ؓ کے طریقے پر چلے گی وہ نجات پائے گی۔ (ترمذی۔ ابودائود ابن عمر ؓ یہی مضمون حضرت ابوہریرہ ؓ سے بھی منقول ہے۔ امام احمد ‘ ابو دائود ‘ ترمذی وغیرہ نے بروایت عرباض بن ساریہ نقل کیا ہے۔ کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ تم میں سے جو لوگ میرے بعد زندہ رہیں گے وہ بہت اختلافات دیکھیں گے۔ اس لئے تم میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے پکڑو اور اسی کے مطابق ہر کام میں عمل کرو۔ نئے نئے طریقوں سے بچتے رہو کیوں کہ دین میں پیدا کی ہوئی ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے “۔ ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھر جدا ہوگیا اس نے اسلام کا قلا وہ اپنی گردن سے نکال پھینکا۔ (رواہ ابو دائود۔ احمد) اس لئے مسلمانوں پر فرض ہے کہ ہر کام میں قرآن و حدیث اور اس کے بعد اجماع صحابہ ؓ اور اس کے بعد اجماع امت پر چلے۔ جدت اور بدعت والوں سے بچے۔ آگے چل کر قرآن نے فرمایا ’ جو اللہ کے حضور ایک نیکی لے کر آئے گا تو دس گنا اجر پائے گا۔ اور جو ایک برائی لے کر آئے گا وہ اس کی سزا برابر پائے گا اور کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔ ایک حدیث قدسی میں بروایت حضرت ابو ذر ؓ ارشاد ہے۔ ” جو شخص ایک نیکی کرتا ہے اس کو دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے اور ( ممکن ہے) اس سے بھی زیادہ۔ اور جو شخص ایک گناہ کرتا ہے تو اس کو سزا صرف ایک ہی گناہ کے برابر ملے گی یا میں اس کو بھی معاف کردوں گا۔ اور جو شخص اتنے گناہ کر کے میرے پاس آئے کہ ساری زمین بھر جائے اور مغفرت کا طالب ہو تو میں اتنی ہی مغفرت سے اس کے ساتھ معاملہ کروں گا۔ اور جو شخص میری طرف ایک بالشت قریب ہوتا ہے میں ایک ہاتھ اس کی طرف بڑھتا ہوں۔ اور جو شخص ایک ہاتھ میری طرف آتا ہے میں اس کی طرف دونوں ہاتھوں کے پھیلائو تک بڑھاتا ہوں اور جو شخص میری طرف چل کر آتا ہے میں اسکی طرف دوڑ کر پہنچتا ہوں “۔ دوسری احادیث سے معلوم ہوا کہ نیکی کی جزا سات سو گنا تک ہے۔ یہاں یہ الفاظ قابل غور ہیں ” جو شخص اللہ کے حضور ایک نیکی لے کر آئے گا۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔ ۔” تفسیر بحر محیط میں ہے کہ نیکی کرنے کے عبد اس نیکی کو موت تک باقی رکھنا بھی ضروری ہے۔ نیکی کو بدی باطل کرسکتی ہے۔ قرآن میں ہے ” تم اپنے صدقات کو احسان جتا کر یا ایذا پہنچا کر ضائع نہ کرو “۔ بہت سے اعمال نیکیاں بط یعنی ضائع ہوجاتی ہیں۔ مثلاً ظلم ‘ غیبت وغیرہ۔ کفر اور شرک تو معاذ اللہ تمام زندگی کی کمائی کو باطل اور بےاثر کردیتے ہیں۔ اسی طرح توبہ ۔ صدقہ۔ جہاد۔ مبارک راتوں کی عبادت وغیرہ سے گناہ صغیرہ دھل جاتے ہیں اور نامہ اعمال کی سلیٹ صاف ہوجاتی ہے۔ یہ کہہ کر کہ کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا ‘ اللہ تعالیٰ نے یقین دہانی کی ہے کہ گناہ گار کو صرف اس کی کمائی کا معاوضہ ملے گا۔ ہرگز اس سے زیادہ نہیں۔
Ayahs 6:161–164

قُلْ اِنَّنِیْ هَدٰىنِیْ رَبِّیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ١ۚ۬ دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ۚ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:161 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ! ) صاف کہہ دیجئے کہ (مشرکو ! ) بیشک میرے رب نے صراط مستقیم کی طرف میری رہنمائی کردی ہے۔ (یہی وہ مستحکم نسخہ حیات ہے ملت بنانے والا نظام ہے) جسے ابراہیم (علیہ السلام) نے پورے خلوص سے مضبوط پکڑ لیا تھا۔ اور وہ ہر گز مشرکوں میں سے نہ تھے۔

قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:162 in the Quran reader

(ان کی اتباع میں ) صاف صاف کہہ دیجئے کہ میر یتمام بندگی اور تمام قربانی ‘ میرا جینا اور میرا مرنا خالص اللہ کیلئے ہے جو رب العالمین ہے۔

لَا شَرِیْكَ لَهٗ١ۚ وَ بِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 6:163 in the Quran reader

اس کا کوئی سا جھی نہیں۔ مجھے یہی حکم ملا ہے اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں۔

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْ رَبًّا وَّ هُوَ رَبُّ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ وَ لَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَیْهَا١ۚ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ۚ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 6:164 in the Quran reader

(پوچھئے اے مشرکو ! ) جب کہ اللہ ہی تمام چیزوں کا خالق ومالک ہے ‘ کیا میں کسی غیر اللہ کو اپنا رب بنالوں ؟ کوئی جزا یا سزا نہیں پائے گا مگر جیسے اعمال کما کرلے جائے گا کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (کچھ دنوں بعد) تمہاری واپسی تمہارے رب کی طرف ہے۔ اس وقت وہ تمہیں بتادے گا جس بات میں تم جھگڑتے تھے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 161 تا 164 : دینا قیما ( مضبوط و مستحکم دین) نس کی (میری قربانی) محیای ( میری زندگی) مماتی ( میری موت) امرت ( مجھے حکم دیا گیا) وازرۃ ( بوجھ) ‘ وزراخری ( دوسرے کا بوجھ) ۔ تشریح : آیت نمبر 161 تا 164 : رد شرک پر بحث کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ چند ٹھوس حقیقتوں پر سورة الانعام کو موثر ترین پیرایہ میں ختم فرما رہے ہیں۔ آیت 158 میں کہا ہے (اے نبی ﷺ صاف صاف پکار دیجئے کہ تم لوگ بھی وقت (موت ) کا انتظار کرو۔ ہم بھی انتظار کررہے ہیں۔ یہاں شرک کے خلاف چند دلائل قائم کئے ہیں اور یہ حجت تمام ہے۔ یہ دلیلیں رسول ﷺ کی زبانی ہیں۔ دعویٰ ہیں ‘ حجت ہیں۔ پہلی دلیل : صراط مستقیم کی طرف رہنمائی مجھے میرے رب کی طرف سے ( بذریعہ وحی) ملی ہے۔ قیات و گمان ‘ وہم اور ذہنی پریشانی ‘ آبائو اجداد کی اندھی تقلید ‘ خواہشات نفس ‘ مادی یا سیاسی مفاد ‘ رسم دنیا ‘ وغیرہ وغیرہ کے تحت میں نے یہ راستہ اختیار نہیں کیا ہے۔ دوسری دلیل : یہ وحی مجھے میرے رب نے بھیجی ہے جو تمام کائنات کا مالک اور منتظم ہے ‘ جو غیب و حضور تمام حقیقتوں اور تمام مصلحتوں کا آقا ہے۔ لفظ ” رب “ سے اشارہ ہے کہ وہ ہستی میری مربی ہے ‘ سر پرست ہے ‘ رفیق و شفیق ہے۔ جو کچھ کیا ہے اپنے لئے نہیں بلکہ سراسر میری بہتری کے لئے کیا ہے۔ تیسری دلیل : یہ صراط مستقیم ہے۔ دین قیم ہے۔ ملت ابراہیم (علیہ السلام) ہے۔ اس کے مقابلہ میں اے مشرکو ! تمہاری پسندیدہ چیز کیا ہے ؟ چوتھی دلیل : اس دین اسلام کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پسندیدگی کی مہر حاصل ہے۔ انہوں نے خوب سوچ سمجھ کر اسے اختیار کیا تھا اور پھر تن من دھن سے ہر چہار طرف سے کٹ کر اور ہٹ کر اسی کے ہورہے تھے ویسے تو ہر پیغمبر کا دین صرف دین اسلام تھا لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا نام خاص طور پر اس لئے لیا گیا ہے کہ اللہ نے انہیں تمام دنیا پر امامت کا تاج عطا کیا تھا۔ یہودو نصاریٰ مسلمان ‘ مشرکین عرب ‘ بھارت کے ہندو سب انہیں مقتدا اور محترم تسلیم کرتے ہیں۔ ہندوؤں کے سب سے بڑے دیوتا کا نام برہما ہے۔ یہ لفظ ابراہیم کا بگاڑ ہے یا سنسکرت ہے یا جغرافیائی لحاظ سے تلفظ کا فرق ہے) ۔ پانچویں دلیل : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہرگز مشرک نہ تھے بلکہ وہ خالص مسلم اور مجاہد تھے۔ ان کے زمانے میں بہت سے غیر اللہ کی پرستش ہوتی تھی۔ مثلاً بادشاہ ‘ آگ ‘ باپ ‘ بیٹا ‘ سورج ‘ چاند ‘ ساترے ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بادشاہ اور باپ سے اختلاف کیا ‘ آگ میں کودے ‘ بیٹے کی قربانی پیش کی ‘ سورج چاند ستاروں کی نفی کی اور اس طرح شرک کی ہر جڑ پر عظیم کلہاڑی سے وار کیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا نام اس لئے بھی لیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے ساتھ خانہ کعبہ کی دو بارہ تعمیر کی جس کا حج آج تک ہورہا ہے۔ وہ حج جس میں قربانی اللہ کے نام پر آج تک پیش ہورہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مشرکین مکہ یہودیوں اور نصاریٰ کے تعاون سے خانہ کعبہ اور حج اور مناسک حج کے نگراں بنے ہوئے تھے۔ ان سے کہا جارہا ہے کہ تم کس حق سے نگراں ہو جب کہ کعبہ کا بنانے والا اور حج قائم کرنے والا ہرگز مشرک نہ تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا نام اس لئے بھی لیا گیا ہے کہ ان کے بعد جتنے پیغمبر آئے ہیں وہ ان ہی کی نسل سے آئے ہیں۔ اس لئے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کے ماننے والوں سے کہا گیا ہے کہ تم کس طرح ان کے جدامجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) (جو خود بھی پیغمبر اعظم تھے) کے خلاف شرک اختیار کرسکتے ہو۔ وہ شرک جس کے خلاف تمام زندگی انہوں نے جہاد کیا۔ اگرچہ دین اسلام کا تعارف ان آیات میں پہلے ہوچکا ہے (صراط مستقیم۔ دین قیم۔ ملت ابراہیم (علیہ السلام) ) لیکن اب آگے مزید تشریح و تفسیر پیش کی جارہی ہے۔ اسلام اپنے مسلم سے کیا مطالبہ کرتا ہے۔ قل۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔ اپنے مسلمان ہونے کا اعلان چار دانگ عالم میں ڈنکے کی چوٹ کر دیجئے۔ یہ کوئی سازش نہیں ہے۔ یہ کوئی زیر زمین مسلح تحریک نہیں ہے۔ یہ کوئی راتوں رات انقلاب نہیں ہے۔ ان۔۔۔۔ ۔۔۔۔ معاملہ مشکوک نہیں ہے۔ صدفی صد ٹھوس یقینوں پر قائم و دائم ہے۔ صلاتی۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔ میری نماز۔ میری تمام ذاتی اور اجتماعی عبادتیں۔ اس راہ استقامت میں ہیں۔ نس کی۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔ میری تمام جانی ‘ مالی اور دوسری قربانیاں اللہ کے لئے ہیں۔ نسک سے مراد حج کا ہر فعل بھی ہے۔ مناسک حج۔ مشہور الفاظ ہے۔ ومحیای ومماتی۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ دنیا اور آخرت۔ ہوش سنبھالنے سے موت تک میرا ایک ایک فعل اک اک ارادہ۔ للہ رب العلمین۔۔۔۔ ۔ سرتاپا خاص اللہ کے لئے ہے جو رب العالمین ہے۔ مسلم کا قلب ہو ‘ دماغ ہو ‘ جسم ہو کسی کو اللہ کی مرضی کے خلاف حرکت کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ وبذالک امرت۔۔۔۔ ۔۔۔۔ مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے۔ میں آزاد نہیں ہوں۔ حکم کا پابندہوں۔ وانا اول المسلمین۔۔۔۔ ۔۔۔۔ سب سے پہلا مسلم ‘ سب سے پہلا مومن نبی ہوتا ہے۔ وہ مثال قائم کرتا ہے۔ وہ اپنی تبلیغ کا چلتا پھر تاز ندہ ثبوت ہوتا ہے۔ وہ طوفانوں کے بیچ میں چٹان ہوتا ہے۔ اسلام کا مطالبہ صرف یہ نہیں ہے کہ بس ایمان کا اقرار کرلیا جائے اور ایک خفیہ شریک بن جائوگے۔ بلکہ یہ ہے کہ تحریک کے آگے آگے چلو۔ قیادت کرو۔ ہر خطرے میں پیش پیش رہو۔ اپنی صلاحیتوں کو اعلیٰ ترین سطح پر لائو اور نظام اسلامی کو آگے بڑھائو۔ نبی ﷺ سے سبق سیکھو۔ اگر حضور ﷺ ” اول المسلمین “ نہ بنتے تو آج یہ تحریک ہم تک اور آپ تک نہ پہنچتی۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے کہا ہے میرا دل چاہتا ہے ہر مسلمان اس آیت کو بار بار پڑھا کرے اور اس کو وظیفہ زندگی بنالے۔ آگے یہ جو فرمایا ہے ” کوئی جزا یا سزا نہیں پائے گا مگر جیسے اعمال کما کرلے جائے گا۔ کوئی بوجھ نہیں اٹھائے گا مگر اپے ہی نیک و بد اعمال کا “ تو یہ جواب ہے ولید بن معلوم ( جو اپنے آپ کو ولید بن مغیرہ کہا کرتا تھا) اور دوسرے کفار کا جو حضور ﷺ کو یہ پیش کش کیا کرتے تھے کہ آپ اسلام چھوڑ کر ہماری قوم میں واپس آجائیں۔ ہم آپ کے گناہ اپنے اعمال نامے میں لکھوالیں گے۔ آگے چل کر یہ پیش کش کردی ہ کہ اگر اعمال نامے میں ردو بدل نہیں ہوسکتا تو نہ سہی۔ آپ کی سزا ( نعوذ باللہ) ہم بھگت لیں گے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے کہا ہے کہ زندوں کے اعمال کی سزا مردوں کو نہیں ملے گی۔ تمام انسانوں خصوصاً کافروں کی طرف فرمان کا رخ ہے کہ بہت جلد تم سب کو قبر میں جانا ہے اور وہاں سے روز حساب کچھ دور نہیں۔ یہ تمہاری زبان درازی اور کج بحثی نہیں چلے گی۔ اسلام لائو یا مت لائو ۔ اللہ بےپرواہ ہے۔ ہاں تم اپنا اپنا حشر دیکھ لوگے۔
Ayah 6:165

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖ٘ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 6:165 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تمہیں زمین پر اپنا خلیفہ بنایا ہے۔ اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلے میں بلند درجے دیئے تاکہ وہ تمہیں اس میں آزمائے جو اس نے تمہیں دیا ہے۔ بیشک تمہارا رب سزا میں دیر نہیں لگاتا اور بیشک وہ معاف کرنے والا بھی ہے اور رحمت کرنے والا بھی۔

لغات القرآن : آیت نمبر 165 : خلئف ( خلیفۃ) ۔ نائب۔ قائم مقام ‘ رحیم (بہت رحم کرنے والا) ۔ تشریح : آیت نمبر 165 : گذشتہ آیات میں بتایا گیا ہے کہ اسلام کی روح کیا ہے ؟ ۔ وہ اپنے مسلم میں کون کون سے ظاہری و باطنی صفات ڈھونڈتا ہے ۔ اور کیوں ؟ یہ آخری آیت اسی ” کیوں “ کی تشریح ہے۔ ان صفات کی ضرورت اس لئے ہے تاکہ تم خلیفۃ اللہ فی الارض کی ذمہ داری اٹھا سکو۔ تاکہ تم دنیا کی چیزیں امانت الٰہی سمجھ کر برت سکوتا کہ تم اس کی سزا سے بچ سکو اور اس کی طرف سے معافی اور رحمت حاصل کرسکو۔ جو حاصل زندگی ہے۔ شرک اور خلافت دونوں کا جمع ہونا محال ہے۔ سورة انعام جو سراسر تردید شرک کی سورة ہے اپنی تمام بحث کا خاتمہ اس سب سے بڑی دلیل پر کرتی ہے کہ اسلام کیا ہے ؟ اور خلافت کیا ہے ؟ مصنوعی الہ سے بچنا خواہ وہ بت ہو ‘ افسانہ ہو ‘ نفس ہو ‘ حرص مال یاحرص جاہ ہو ‘ قوم پرستی ‘ کنبہ پرستی یا وطن پرستی ہو۔ شرک میں پھنس کر تم خود نظر ‘ تنگ نظر ‘ خود فریب ہو جائو گے۔ تمہارے قلب و نگاہ میں وہ عالمگیریت نہیں پیدا ہوگی جو اس دنیا میں اللہ کی نمائندگی کی کلیدی شرط ہے۔ اس مختصر آیت میں چار حقیقتیں پیش فرمائی گئی ہیں۔ (1) تمام انسان زمین پر اللہ تعالیٰ کے خلیفہ ہیں۔ سورة بقرہ آیت 30 میں ہے ” میں زمین پر اپنا نائب مقرر کرچکا ہوں “۔ پہلے نائب حضرت آدم (علیہ السلام) تھے۔ ان کے بعد ان کی اولادودر اولاد ۔ چناچہ اس خلافت کو مسلم مانتا ہے۔ غیر مسلم نہیں مانتا۔ (2) اس خلافت کے فرائض انجام دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی اشیاء پر انسان کو استعمال کی آزادی بخشی ہے۔ مسلم امانت کو امانت سمجھتا ہے۔ غیر مسلم خیانت کرتا ہے۔ (3) ان خلفا میں مراتب کا فرق بھی اللہ ہی نے رکھا ہے۔ کوئی امیر ہے کوئی غریب ‘ کوئی حاکم ہے کوئی محکوم ‘ کوئی باپ ہے کوئی بیٹا۔ (4) اللہ نے اپنی چیزوں پر انسان کو اختیارات بخشے ہیں تو کس لئے ؟ امتحان کے لئے۔ حق و باطل کی کشمکش میں کون کتنے بھر پانی میں ہے۔ کون طوفاں کے طمانچوں کا مقابلہ کررہا ہے۔ اور کون چاردیواری میں چھپا ہوا ساحل سے رزم خیرو شر کا فقط تماشہ دیکھ رہا ہے کون طائوس و رباب میں وقت اور صلاحیت کی امانت ضائع کررہا ہے۔ اسی امتحان کی بنیاد پر آخرت میں نمبر دیئے جائیں گے۔ فرمایا ہے اس امتحان کے نتیجہ میں دیر نہیں ہے۔ مردے کی قیامت قبر ہی سے شروع ہوجاتی ہے۔ ویسے بھی قیامت خواہ ہزاروں یا لکھوں سال دور ہو لیکن جب مردے اپنی زندگی ثانی میں اٹھیں گے تو انہیں ایسا معلوم ہوگا جیسے وہ ابھی سوئے تھے اور کچھ دیر بعد بیدار ہوگئے ہیں۔ اور اس کے یہ بھی معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو حساب بےباق کرتے ہوئے دیر نہیں لگے گی۔ یہ حساب تین بنیادوں پر ہوگا۔ انصاف۔ معافی۔ رحمت ۔ سزا پانے والوں کے ساتھ انصاف سراسرانصاف۔ جزاپانے والوں کے ساتھ معافی اور بعد ازاں رحمت۔ درحقیقت معافی رحمت کی ابتداء ہے۔ ایک اہم نکتہ پیش نظر رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں دنیا میں خلیفہ بنا کر بھیجا ہے اپنی بیشمار امانتوں پر تصرفات دیئے ہیں۔ علم دیا ہے۔ عقل دی ہے۔ دنیاکا نظام حیات کچھ ایسا کردیا ہے کہ ہم ان تصرفات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس کے بعد وہ ہمیں موت دے گا۔ قبر دے گا۔ قیامت دے گا۔ یہ سب کچھ اس کی رحمانیت کا ظہور ہے۔ اس میں کافرو مسلم ‘ جن و حیوان ‘ جاندار اور بےجان سب یکساں شریک ہیں۔ اپنے اپنے بارامانت اور مقصد زندگی کی حد تک۔ لیکن جب قیامت میں کنتی اور دوزخی کا فیصلہ ہوجائے گا۔ تو اہل جنت کے ساتھ اللہ کی رحیمیت شامل ہوگی۔ رحمانیت کا تعلق پہلی اور فانی زندگی سے ہے۔ رحیمیت کا تعلق دوسری اور لافانی زندگی سے ہے۔ رحمانیت کا تعلق سب سے بلا فرق ہے۔ رحیمیت کا تعلق صرف اہل ایمان سے ہے جبکہ ان کا ایمان ثابت ہوجائے گا۔ رحمانیت کا فیصلہ قیامت سے پہلے ہے۔ رحیمیت کا فیصلہ قیامت کے بعد ہے اور یہ بھی صرف مومنوں کے ساتھ ہے۔ قرآن میں جہاں کہیں بھی ” رحمن “ کا لفظ آیا ہے وہ تمام مخلوقات پر یکساں حاوی ہے۔ اور جہاں کہیں ” رحیم “ کا لفظ آیا ہے وہ صرف جنت میں مومنوں کے لئے مخصوص ہے۔ یہاں بھی ظاہر ہے کہ جب مغفرت ہوگی تب رحیمیت ہوگی۔ یہ سب سے بڑا انعام ہے۔ اس لفظ پر سورة الانعام ختم کی گئی ہے۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین