6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 6:114–117

اَفَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِیْ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ اِلَیْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 6:114 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو فیصلہ کرنے والا بنالوں ؟ جب کہ پوری تفصیل سے آسمانی کتاب اس نے تم لوگوں کی طرف نازل کی ہے۔ اور جن لوگوں کو ہم نے (آپ ﷺ سے پہلے) کتاب دی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ قرآن برحق ہے اور آپ ﷺ کے رب ہی کی طرف سے نازل کیا گیا ہے ۔ لہٰذا آپ ﷺ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں۔

وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًا١ؕ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:115 in the Quran reader

آپ ﷺ کے رب کا کلام سچائی اور انصاف کے لحاظ سے حرف آخر ہے۔ کوئی اس کے کلام میں ردو بدل کرنے والا نہیں ہے۔ وہی سب کچھ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔

وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:116 in the Quran reader

اور (اے نبی ﷺ ! ) اگر آپ نے ان بہت سارے لوگوں کی بات مان لی جو دنیا میں بستے ہیں تو وہ آپ ﷺ کو اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے۔ وہ اس طرف چلتے ہیں جدھر ان کا وہم و گمان اور اندازہ لے جائے اور وہ شک و قیاس میں ہاتھ پائوں ما رہے ہیں ۔

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:117 in the Quran reader

بیشک آپ ﷺ کا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بہک گیا ہے۔ اور وہ خوب جانتا ہے کون راہ ہدایت پر ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 114 تا 117 : ابتغی (میں تلاش کرتا ہوں) حکم (انصاف کرنے والا) ‘ تمت (پوری ہوئی) صدق (سچائی) عدل ( حق و انصاف) ان تطع ( اگر تو پیروی کرے گا) الظن ( گمان ۔ خیال) یخرصون ( اندازے کے تیر چلاتے ہیں۔ اٹکل کے تیر چلاتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 114 تا 117 : چند لفظوں میں قرآن کے برحق ہونے کے بہترین دلائل سے دریا کو کو زے میں بند کردیا ہے نصیحتیں بھی ہیں ‘ خوف سزا بھی اور وعدہ جزا بھی۔ پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کے منہ مانگے معجزات عطا کرنے سے انکار کردیا کہ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں خواہ کوئی بھی معجزہ انہیں دکھادیا جائے۔ اگر منہ مانگا معجزہ انہیں دکھا دیا جائے اور پھر بھی وہ ایمان نہ لائیں تو اللہ کا عذاب فوراً انہیں گھیر لے گا۔ اس لئے رحمتہ للعالمین ﷺ نے انہیں ان ہی معجزات میں غور فکر کی دعوت دی جو دکھائے جاچکے ہیں۔ ان میں ایک عظیم معجزہ یہ قرآن بھی ہے۔ یہاں قرآن پاک کے نہ صرف کتاب الٰہی بلکہ روشن معجزہ ہونے پر چھ دلائل ہیں اور ہر دلیل دل تک پہنچنے والی ہے بشرطیکہ دل صالح ہو۔ (1) یہ کتاب اللہ کی ہے۔ جس کا ثبوت وہ للکار ہے جو اس نے عرب و عجم کے تمام اہل فصاحت اور اہل بلاغت کو دے کر رہتی دنیا تک کے لئے چیلنج بنا دیا ہے کہ ہے کوئی جو اس کی چھوٹی سے چھوٹی سورت جیسا کلام پیش کرسکے۔ اور پھر یہ بھی للکار دیا کہ تم ایسا ہرگز نہیں سکو گے اور قیامت تک نہ کرسکو گے۔ اور ابھی تک کوئی اس للکار کا جواب نہ دے سکا۔ اور پھر یہ کتاب ایک امی محض کی زبان سے نکلی ہے جس نے نہ صرف یہ آیات دنیا کو سنائیں بلکہ انہیں اللہ کے حکم سے مختلف سورتوں میں تنظیم و ترتیب کی لڑی میں پرو دیا اور کتاب کی شکل میں پیش کیا تاکہ تلاوت ‘ تفہیم ‘ تحقیق اور تعمیل میں کام آئے۔ اور قیامت تک باقی رہے اور ترو تازہ رہے۔ (2) یہ کتاب مفصل ہے۔ یعنی تمام ضروری باتیں درج ہیں۔ کوئی تشنگی نہیں چھوڑی۔ یہ تعلیم و ہدایت ہے۔ نہ صرف موجودہ نسل اور موجودہ اہل عرب کے لئے بلکہ موجودہ اور آئندہ تمام مکان و زمان اور نسلوں کے لئے۔ اگر انسانی تصنیف ہوتی تو ایک یا دو ممالک ایک یا دو نسلوں کے مسائل سے آگے نہیں بڑھتی۔ اور وہ بھی تشنہ ہوتی۔ (3) حضرت دائود (علیہ السلام) ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر جو کتابیں سینکڑوں یا ہزاروں سال پہلے نازل کی گئی تھیں ان میں آنے والے قرآن اور آنے والے نبی ﷺ کی خبر ہے۔ نبی ﷺ اور قرآن لازم و ملزوم ہیں۔ چناچہ جتنے اہل کتاب ہیں وہ نبی ﷺ اور قرآن کے منتظر رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے پیشواؤں نے خود غرضی کے تحت توریت ‘ زبور اور انجیل کے وہ مضامین چھپا لئے ہیں جن میں آخری نبی ﷺ اور آخری کتاب کی پیشن گوئی موجود ہے۔ قرآ خود کسی آنے والے صاحب کتاب نبی کی پیشن گوئی نہیں کرتا بلکہ خود حضور ﷺ کو خاتم النبین قرار دیتا ہے۔ اس کے بعدوحی اور نبوت کا سلسلہ قیامت تک کے لئے بند کردیا گیا ہے۔ (4) یہ کتاب نہ صرف آخری ہے بلکہ کامل بھی ہے۔ فرمایا ” آپ ﷺ کے رب کا کلام سچائی اور انصاف کے لحاظ سے حرف آخر ہے “ قرآن کے کل مضامین دو قسم کے ہیں۔ ایک حصہ وہ جس میں تاریخ عالم کے عبرت آموز حالات وواقعات ‘ نیک اعمال پر جنت اور برے اعمال پر وعید جہنم درج ہیں۔ دوسرا حصہ وہ ہے جس میں انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے اور اوامرو نواہی ‘ قوانین اور اصل الاصول بیان کئے گئے ہیں۔ قرآن کے متعلق یہاں دو صفتیں بیان کی ہیں۔ صدقاً وعدلاً ۔ صدق کا تعلق پہلی قسم سے ہے یعنی جتنے حالات و واقعات ‘ وعدے اور وعید بیان کئے گئے ہیں وہ بلکل سچے ہیں اور کسی قسم کے شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ۔ عدل کا تعلق احکام سے بھ ی ہے دنیاوی عدل و انصاف سے بھی ہے ‘ حقوق العباد اور حقوق اللہ سے بھی ہے اور قیامت کے دن سے بھی ہے۔ عدل کے ایک معنی اور بھی ہیں یعنی اعتدال ‘ تناسب ‘ تو ازن۔ نفس انسانی کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کے متعلق جتنی چھوٹ اور آمادہ گی ملنی چاہیے اتنی ہی دی گئی ہے۔ اور جتنی پابندی عائد ہونئی چاہیے اتنی ہی پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس آیت سے یہ بھی ظاہر ہے کہ قرآن دونوں صفات صدق اور عدل میں بھی کامل ‘ اکمل اور حرف آخر ہے۔ اور جب یہ حرف آخر ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن رہتی نیا تک کے لئے آیا ہے۔ ہر قوم ‘ ہر ملک اور ہر نسل کے لئے۔ اور آیت 115 کا لفظ ” تمت “ اس پر مہر الٰہی ہے۔ اسی کی وضاحت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ کوئی اللہ کے کلام میں ردو بدل کرنے والا نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اللہ کے کلام میں کوئی بال برابر بھی غلطی بلکہ غلطی کا شائبہ نہیں ہے۔ تیسرے یہ کہ اللہ کا کلام بےمثل ہے۔ کوئی جوڑ پیوند ملاوٹ ‘ گھٹائو بڑھائو ایک لمحہ کے لئے برداشت نہیں کرسکتا۔ کسی مخلوق میں طاقت نہیں کہ اس کی ہمت بھی کرسکے۔ اس کی حفاظت کا ذمہ باری تعالیٰ نے خود لے رکھا ہے۔ چوتھے یہ کہ یہ کلام کامل بلکہ اکمل ہے۔ جس میں کسی کمی یا زیادتی کا امکان سرے سے ہے ہی نہیں۔
Ayahs 6:118–121

فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰیٰتِهٖ مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:118 in the Quran reader

اگر تم لوگ اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہو تو اس ذبیحہ میں سے کھائو جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَهْوَآئِهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 6:119 in the Quran reader

اور جس ذبیحہ پر اللہ کا نام لیا گیا ہے اس کے کھانے میں تمہیں کیا عذر ہے حالانکہ اللہ نے کھول کر بتادیا ہے کہ اس نے تم پر کیا کیا حرام کردیا ہے۔ سوائے اس کے کہ تم ان کے کھانے کے لئے مجبور ہو جائو۔ اور بہت سارے لوگ جو علم و عقل نہیں رکھتے محض نفسانی خواہشات کے پیچھے خود بھی بہک رہے ہیں اور تمہیں بھی فریب دے رہے ہیں۔ تمہارا رب ان حد سے بڑھنے والوں کو خوب جانتا ہے۔

وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:120 in the Quran reader

اس لئے ظاہری گناہ اور باطنی گناہ سے بچتے رہو۔ وہ لوگ جو گناہ گناہ سمیٹ رہے ہیں جلد ہی اپنے کرتوتوں کی سزاپائیں گے۔

وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ١ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْ١ۚ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:121 in the Quran reader

اور اس جانور سے مت کھائو جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ ایسا کرنا فسق (نافرمانی) ہے۔ بیشک شیاطین ( جن وانس) اپنے ہم ساز اور ہم راہ لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات ڈالتے رہے ہیں تاکہ وہ تم سے فضول بحثیں کرتے پھریں۔ اور اگر تم ان کے فریب میں آگئے تو تم بھی مشرک بن جائو گے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 118 تا 121 : الا تاکلوا ( یہ کہ تم کیوں نہیں کھاتے ؟ ) ذکراسم اللہ ( اللہ کا نام لیا گیا ہے) اضطررتم ( تم مجبور ہو جائو۔ مجبور کردیئے گئے) ‘ المعتدین (زیادتی کرنے والے) ذروا ( چھوڑ دو ) ظاھرالاثم ( ظاہری گناہ۔ کھلا ہوا گناہض سیجزون ( جلدہی بدلہ دیئے جائیں گے) فسق (گناہ) لیجادلو (تاکہ وہ جھگڑا کریں) تشریح : آیت نمبر 118 تا 121 : حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس ؓ کی روایت ہے کہ عرب کے جہلا کو اسلام کے خلاف بھڑکانے کے لئے علمائے یہود جس قسم کے سوالات سکھایا کرتے تھے ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ واہ واہ یہ کیا بات ہے جس جانور کو اللہ ماردے وہ تو حرام ہوجائے اور جس جانور کو انسان ذبح کر دے وہ حلال ہوجائے۔ بعض صحابہ کرام ؓ نے نبی کریم ﷺ کے سامنے یہ شبہ عرض کیا جس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سخت تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ان لوگوں کی باتوں کا نوٹس نہ لیجئے جو علم و عقل نہیں رکھتے ‘ محض نفسانی خواہشات کے پیچھے خود بھی بہک رہے ہیں اور اہل ایمان کو بھی بہکانے کی کوشش کررہے ہیں آپ کا رب ان حد سے بڑھنے والوں کو خوب جانتا ہے۔ یہ جو مومنوں سے فرمایا ہے کہ تم ظاہری گناہ اور باطنی گناہ دونوں سے بچنے کی کوشش کرو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس قسم کے ہتھکنڈوں میں آکر کیں تم خود ہی مرتد نہ ہوجانا یا خلوص قلب کو مجروح نہ کرلینا۔ فرمایا ہے کہ ان لوگوں کا ‘ ان شیاطین جن و انس کا ہتھکنڈا یی ہے کہ ان لوگوں کے دلوں میں جو مومن بن چکے ہیں یا مومن بننے والے ہیں وسوسے ڈالیں اور شکوک و شبہات پیدا کریں تاکہ وہ انہیں بحث میں الجھا کر ان کی راہ کھوٹی کردیں۔ سخت تنبیہ کے ساتھ فرمایا ہے کہ جو اہل ایمان ان مشرکوں کے دام فریب میں آگئے ان کا شمار مشرکوں ہی میں ہوگا۔ بات صاف صاف ہے۔ جو حکم قرآن و حدیث (وحی جلی یا وحی خفی) میں آگیا وہ اٹل ہے ‘ وہ واجب العمیل ہے ‘ اس کی اطاعت جنت ہے ‘ عدم اطاعت جہنم ہے۔ حلال و حرام گوشت کا حکم اس سے پہلے سورة مائدہ میں بھی آچکا ہے۔ حرام کے حلال ہونے پر حالت اضطرار میں جو چھوٹ دی گئی ہے اس کا ذکر بھی سورة مائدہ میں آچکا ہے۔ اس کے بعد کسی کو اس مسئلہ پر عقل کے گھوڑے دوڑانے کی اجازت نہیں ہے۔ ایمان یقین کامل کا نام ہے خواہ کسی کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ ہاں اگر یقین کامل کے ساتھ جستجوئے حق ہے ‘ تو ان کے اس سوال کی طرف توجہ کی جائے گی مگر یہ ضروری نہیں ہے۔ حرام میں وہ جانور شامل ہے جو ذبح کے بغیر قتل کیا گیا ہو یا جس کے ذبح پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو (یعنی مسنونہ کلمات نہ پڑھے گئے ہوں) ذبح کا تعلق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل کے واقعہ قربانی سے ہے۔ مسنونہ کلمات کے ذریعہ ذبح کرنے والا اللہ سے معاہدہ کرتا ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں اپنی اور اپنے اہل و عیال کی جان پیش کرنے سے بھی دریغ نہ کرے گا اور یہ جانور کی قربانی بطور نشانی ہے۔ مسنونہ کلمات کا جان بوجھ کر نہ پڑھنا گویا یہ معاہدہ نہ کرنا ہے۔ بغیر معاہدہ یہ گوشت حرام ہے امام ابوحنیفہ اور امام شافعی (رح) کے نزدیک اگر مسنونہ کلمات (بسم اللہ الرحمن الرحیم) یا اللہ اکبر سہواً چھوٹ جائیں تو ذبیحہ حلال ہے۔ اگر جان بوجھ کر چھوڑ دیا جائے تو حرام ہے۔ ( شرط یہ ہے کہ ذبح کرنے والا مسلمان ہو) اسلام ظاہر اور باطن دونوں پر زور دیتا ہے ۔ صرف ظاہر یا صرف باطن دونوں غلط البتہ جہاں انسانی آنکھیں باطن کو نہیں دیکھ سکتی ہیں تو ظاہر کافی ہے۔ باطن کا معاملہ اللہ جانتا ہے یہاں قربانی پر ظاہراً کلمات مسنونہ پڑھنا کافی ہے۔
Ayah 6:122

اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:122 in the Quran reader

بھلا وہ شخص جو مردہ تھا ‘ پھر ہم نے اسے زندگی عطا کی اور اسے وہ روشنی عطا کی جس کی بدولت وہ لوگوں کے درمیان (زندگی کی) راہیں طے کرتا ہے۔ کہیں وہ اس شخص کے برابر ہو سکتا ہے جو اندھیروں میں بھٹک رہا ہے اور کسی طرح وہاں سے نکل نہ سکتا ہو۔ اسی طرح کافروں کی نگاہ میں ان کے کام خوشنما بنادیئے گئے ہیں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 122 : احیینا (ہم نے زندہ کردیا) ‘ یمشی (چلتا ہے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 122 : قرآن کس چزٓ کو زندگی کہتا ہے ؟ انسان اور ہر چیز فلکیات ‘ فضائیات ‘ حیوانات ‘ نباتات ‘ جمادات ‘ آبیات ‘ بخارات ‘ متحرکات کی زندگی کا تعلق بس اسی دنیا سے ہے۔ ان کا مقصد زندگی جو کچھ ہے اسی دنیا میں ہے۔ انسان کی زندگی اور مقصد زندگی کا تعلق دنیا سے بھی ہے اور آخرت سے بھی ہے۔ اس کے پاس دوزندگیاں ہیں۔ فانی زندگی کھیتی ہے۔ لافانی زندگی اس کا پھل۔ انسان جب تک اپنا فریضہ زندگی ادا کر رہا ہے جس کا تعلق سراسر اس دنیا سے ہے وہ زندہ ہے ورنہ وہ مردہ۔ انسان جب تک اپنا فریضئہ زندگی ادا کررہا ہے (جس کا تعلق اس دنیا کے ذریعہ آخرت سے ہے) وہ زندہ ہے ورنہ مردہ۔ وہ لوگ جو صرف اسی دنیا کے لئے بھاگ دوڑ میں لگے ہوئے ہیں وہ اسلام کی نظر میں مردہ ہیں بلکہ ان سے بھی بد تر۔ مردہ تو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا لیکن یہ مردہ دل خود بھی بہکے ہوئے ہیں اور دوسروں کو بھی بہکار ہے ہیں۔ ارسطوں جو با بائے سائنس کہا جاتا ہے اس کی عقل کی انتہا کہاں تک ہے۔ کہتا ہے کہ انسان ذی عقل حیوان ہے۔ یعنی ہے تو وہ حیوان ہی لیکن اس کے پاس ایک عقل بھی ہے۔ اسلام اس ذی عقل حیوان کو اٹھاتا ہے اور بلند ترین خلیفۃ اللہ فی الارض کا درجہ عطا کرتا ہے اور اس کی موجودہ زندگی کا تعلق آئندہ زندگی سے جوڑ دیتا ہے کہ اگر وہ اپنا فرض منصبی انجام دیتا ہے تو جنت میں ورنہ جہنم میں جائے گا۔ یہ انسان اپنی عقل سے حیوانیت ہی کا کام لے گا اگر اس کے پاس وہ خاص روشنی نہ ہو جس کا نام ایمان ہے۔ اس آیت میں ایمان کو روشنی سے اور بےایمانی کو اندھیرے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ تمام انسان کسی نہ کسی طرح کی روشنی کے محتاج ہیں اور روشنی کے بغیر کوئی صحیح قدم نہیں اٹھا سکتے ‘ تو آخرت کے کام کے لئے بھی ہمیں ایک خاص روشنی کی ضرورت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے جس طرح سورج چاند بجلی اور آگ کا انتظام کردیا ہے اسی طرح وحی جلی اور وحی خفی کا بھی انتظام کردیا ہے۔ اور جس طرح وہ سورج چاند کا محافظ ہے اسی طرح وحی جلی اور وحی خفی کا بھی رہتی دنیا تک محافظ ہے۔ ” ایک وہ شخص جو پہلے مردہ یعنی کافر تھا ‘ اللہ نے اسے دونوں عالم کے لئے زندہ کردیا یعنی اسے حلقہء اسلام میں لے آیا اور اس نے اس کو نور ایمان عطا کردیا جسکی مدد سے وہ لوگوں کے درمیان زندگی کی راہیں طے کر رہا ہے۔ دوسرا شخص جو گھپ اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں ماررہا ہے اس کی حیوانیت اسے کفر سے باہر نکلنے نہیں دیتی اور اس کے اعمال کو خوش نما بنا کر پیش کررہی ہے۔ بھلا یہ دوطرح کے انسان کس طرح برابر ہو سکتے ہیں۔ بھلا بینا اور اندھا برابر ہو سکتے ہیں ؟ “ چراغ سے صرف چراغ والا ہی فائدہ نہیں اٹھاتا بلکہ جہاں تک اس کی روشنی جاتی ہے ہر شخص فائدہ اٹھاتا ہے اسی طرح مومن کے ایمان سے ہر شخص فائدہ اٹھاتا ہے۔ اب رہے وہ بد نصیب جو کفر کے اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں ما رہے ہیں اور اسی میں مست ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ شیطان ان کے اعمال انہیں خوش نما بنا کر دکھا رہا ہے اور وہ خود عقلمندی کے چکر میں مبتلا ہیں۔
Ayah 6:123

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِیْهَا لِیَمْكُرُوْا فِیْهَا١ؕ وَ مَا یَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:123 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں مجرموں کے کرتا دھرتا بنادیئے ہیں کہ وہاں مکرو فریب کا جال پھیلاتے رہیں۔ وہ اپنے مکرو فریب کے جال میں خود ہی پھنس رہے ہیں مگر ان کو ذرا خبر نہیں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 123 : قریۃ ( بستی۔ شہر) اکبر ( بڑے) مجرمی (مجرمین) ۔ جرم کرنیوالے) مایمکرون (وہ شرارت نہیں کرتے) ۔ تشریح : آیت نمبر 123 : یہ آیت ایک بہت بڑی حقیقت پیش کررہی ہے۔ ہر فرد جماعت اور تنظیم کا محتاج ہے اسی طرح ہر جماعت ایک رہنما کی محتاج ہے۔ عوام تو خواص کے پیچھے چلتے ہیں ہر بھیڑ بکر یا سی راستہ پر چلتی ہے جو اس کی قطار کی سب سے آگے والے نے مقرر کردی ہے۔ معاملہ خواہ نیکی پھیلانے کا ہو یا بدی پھیلانے کا ‘ اصول یہی ہے۔ اکیلا چنا بھاڑ نہیں پھوڑ سکتا۔ باطل منظم ہے۔ وہ اس گر کو پہچان گیا ہے۔ اب اگر حق منظم نہ ہو تو باطل کو شکست نہیں دے سکتا۔ اس نکتے کو اسلام کے وہ علم بردار خوب سمجھ لیں جو صرف انفرادی پہچان گیا ہے۔ اب اگر حق منظم نہ ہوت و باطل کو شکست نہیں دے سکتا۔ اس نکتے کو اسلام کے وہ علم بردار خوب سمجھ لیں جو صرف انفرادی نجی عبادتوں میں غرق ہیں لیکن اجتماعی عوامی عبادتوں ‘ تبلیغ حق ‘ تنظیم اور جہاد سے دور بھاگتے ہیں۔ جنت اللہ کے داموں نہیں ‘ اپنے داموں خرید نا چاہتے ہیں۔ یہ آیت کہہ رہی ہے کہ کفر ہر قریہ میں نہ صرف ایک تنظیم بلکہ ایک تحریک کی صورت اختیار کرچکی ہے ” اکبر مجرمیھا “ کے الفاظ تنظیم کی طرف اور ” لیمکروا فیھا “ کے الفاظ تحریک کی طرف روشن ترین اشارہ کررہے ہیں۔ رسول مقبول ﷺ نے کافروں کی تنظیم کا علاج مومنوں کی تنظیم سے اور کافروں کی تحریک کا علاج مومنوں کی تحریک سے کیا ہے۔ ہجرت نہیں ہوسکتی تھی۔ جنگ بدر اور احد نہیں ہوسکتی تھی۔ اگرچہ آپ اللہ کا پیغام پہنچانے میں صحابہ کرام ؓ یا کسی کے محتاج نہ تھے لیکن بظاہر یہ حقیقت سمجھ میں آتی ہے کہ مدینہ کی سلطنت نہیں چل سکتی تھی اگر آپ ﷺ کے پیچھے تنظیم و تحریک نہ ہوتی ‘ اگر ایک حکم دینے والا اور بقیہ حکم لینے والے نہ ہوتے۔ اور یہ سب نبی کریم ﷺ کے فیض صحبت کا نتیجہ تھا۔ ہر نبی کی مخالفت میں افراد نہیں اٹھے ہیں بلکہ جماعتیں اٹھی ہیں جو اپنے اپنے سرغنوں کے ماتحت کام کررہی تھیں۔ حضور ﷺ کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ اور ہر اس شخص کے ساتھ ہوگا جو اسلام کا کام کرنے کے لئے میدان عمل میں آئے گا۔
Ayah 6:124

وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ١ؔۘؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا كَانُوْا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 6:124 in the Quran reader

جب ان کے پاس ہماری کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ اس وقت تک نہ مانیں گے جب تک ہمیں بھی وہ چیز نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی گئی ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ اپنی پیغامبری کا کام کس سے لے اور کس طرح لے۔ وہ وقت دور نہیں ہے جب یہ مجرمین اپنے کرتوتوں کے باعث اللہ کے حضور سخت ذلت اور سخت عذاب سے دور چارہوں گے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 124 : حتی نئوتی ( جب تک ( ہمیں ) نہ دیا جائے) حیث یجعل ( جیسے وہ ڈالتا ہے۔ جیسے وہ بناتا ہے) ‘ رسلتہ (اپنا پیغام) صغار ( ذلت۔ رسوائی) ۔ تشریح : آیت نمبر 124 : حضرت قتادہ ؓ سے منقول ہے کہ بنو مخزوم کے سردار ابو جہل نے ایک بار کہا کہ بنو عبد مناف (یعنی نبی کریم ﷺ کے خاندان) سے ہم کسی محاذ میں پیچھے نہیں رہے۔ لیکن اب وہ یوں کہتے ہیں کہ تم اب شرافت و بزرگی میں ہمارا مقابلہ یوں نہیں کرسکتے کہ ہمارے خاندان میں ایک نبی آگیا ہے جس پر وحی الٰہی آتی ہے۔ اس نے کہا جب تک ہمارے پاس بھی وحی نہ آجاء اور ہم بھی نبوت میں برابر نہ ہوجائیں اس وقت تک ہم کسی بات کو نہ مانیں گے۔ ایک اور جگہ لکھا ہے ابو جہل نے کہا ہم اسے اللہ کا کلام نہیں مانیں گے جب تک فرشتہ ہمارے پاس نہ آئے اور تصدیق نہ کردے کہ یہ اللہ ہی کا کلام ہے۔ جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نبی کا انتخاب اللہ خود کرتا ہے۔ وہ اللہ علیم ہے اور حکیم ہے۔ یہ کوئی دنیاوی عہدہ نہیں ہے کہ درخواست دینے سے مل جائے یا مجاہدہ و ریاضت کرنے سے مل جائے۔ یہ کسی قوم یا قبیلہ کو عزت بخشنے کے لئے نہیں دیا جاتا۔ نہ اس انتخاب کے پیچھے کوئی سیاسی مصلحت ہوتی ہے۔ یہ عہدہ کسبی اور نسبی نہیں ہے۔ یہی حال حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ بھی تھا۔ دنیا میں تشریف آوری اور دنیا سے جانے کے درمیان تمام عمر آپ کی الگ شان رہی اگر چہ نبوت چالیس سال کی عمر میں ملی تھی۔
Ayahs 6:125–127

فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:125 in the Quran reader

پھر جس کو اللہ ہدایت بخشنا چاہتا ہے اس کے دل کو اسلام کے لئے کھول دیتا ہے۔ اور جسے گمراہ کرنا چاہتا ہے اس کے دل کو تنگ کردیتا ہے اور ایسا جکڑتا ہے گویا وہ آسمان کی طرف زبردستی کھینچا چلاجارہا ہے۔ اسی طرح اللہ گندگی کے عذاب میں ان سب کو ڈالتا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔

وَ هٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِیْمًا١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 6:126 in the Quran reader

آپ کے رب کی طرف سے یہ استقامت کا راستہ ہے۔ ہم نے اس کے نشانات راہ کو ان لوگوں کے لئے واضح کردیا ہے جو غور کرتے ہیں۔

لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ هُوَ وَلِیُّهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:127 in the Quran reader

ان ہی کے لئے اپنے رب کے پاس سلامتی کا گھر ہے۔ اور وہ ان کے اعمال میں ان کا مدد گا رہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 125 تا 127 : یرد اللہ ( اللہ چاہتا ہے) یشرح ( وہ کھولتا ہے) ‘ صدرہ ( اس کا سینہ۔ اسکا دل) ان یضلہ ( یہ کہ وہ اس کو گمراہ کر دے) ضیق ( تنگ) حرج (بھینچاہوا) کانما ( گویا کہ۔ جیسے کہ) یصعد (اونچائی پر) چڑھتا ہے) الرجس (گندگی۔ عذاب) دارالسلم ( سلامتی کا گھر) ۔ تشریح : آیت نمبر 125 تا 127 : اسلام کے لئے انشراح صدر ہوجانا یعنی سینہ کھل جانا سراسر توفیق الٰہی سے ہے۔ یہ بھی نہ نسبی ہے نہ کسبی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے لئے دعا فرمائی تھی۔ اے رب میرا سینہ کھول دے۔ حضور نبی کریم ﷺ کو بطور نعمت خاص کہا گیا۔ کیا ہم نے آپ کے سینے کو کھول نہیں دیا ہے۔ حضرت عبد اللہ ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام ؓ نے حضور ﷺ سے انشراح صدر کی تفسیر دریافت کی۔ آپ ﷺ نے جو کچھ فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ ایک روشنی ہے جسے اللہ تعالیٰ دل میں ڈال دیتا ہے ( یہ روشنی ایمان کی ہے) ۔ مومن کو خود بخود حق سے محبت بڑھتی جاتی ہے اور باطل سے نفرت۔ صحابہ کرام ؓ نے پوچھا اس کی پہچان کیا ہے ؟ فرمایا مومن فانی لذتوں تے گھبراتا ہے او و لافانی لذتوں کے لئے بیقرار رہتا ہے۔ وہ موت کی تیاری موت سے پہلے کرنے لگتا ہے۔ صراط مستقیم ‘ کا ترجمہ عام طور پر سیدھا راستہ کیا گیا ہے یعنی وہ راستہ جس میں کسی منزل میں یہ سوال نہ اٹھے کہ اب کدھر جاؤں۔ ایک طرف نور ایمانی یعنی شرح صدر رہے جو خود ہی راہی بھی ہے اور رہنما بھی۔ اور دوسری طرف نشانات راہ ہیں۔ گویا ہر منزل پر آگے کی منزل خود بخود واضح ہوتی جاتی ہے۔ حق پکارتا ہے۔ ادھر آئو۔ میں یہاں ہوں۔ لیکن ایک بہتر ترجمہ ہے۔ استقامت کا راستہ۔ اسلام کا راستہ بڑے خار زاروں اور آزمائشوں سے گذرتا ہے۔ یہاں قدم قدم پر حالات مختلف شکلیں دھارکرآتے ہیں کہیں رشوت ہے کہیں فریب ہے۔ کہیں خوف۔ یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا یہاں وہی پاؤں دھرے جو ہمت اور استقامت سے مسلح ہو۔ بہک نہ جائے ‘ پھسل نہ جائے ‘ گرنہ جائے ‘ ٹوٹ نہ جائے ‘ طاقت کے پہاڑ سے ٹکرائے۔ شیر کے منہ میں پنجہ ڈالے۔ آگ کے سمندر میں بےخطر کود پڑے اور موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا سلیقہ جانتا ہو۔ استقامت ‘ امضبوطی ارادہ ‘ ہمت ‘ شجاعت ‘ قیادت ‘ تدبیر ‘ محنت ‘ لگن ‘ اور مگن ‘ مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود اپنا پرچم لہراتے ہوئے ترقی ‘ پیش قدمی ‘ خوش رفتاری۔ ان کے بغیر یہ راہ طے نہیں ہوسکتی۔ اور پھر قدم قدم پر یہ تمنا یہ تڑپ کہ اے اللہ ہمیں وہ راستہ دکھا دیجئے جس میں آپ کی نصرت قدم چومتی ہے۔ وہ عقائد وہ ایمان وہ غیر متزلزل اعمال عطا فرمائیے جو اس دار لاخرت کی طرف لے جائیں جس پر آپ کی طرف سے سلامتی ہے۔ صراط مستقیم شکوک و شبہات کا راستہ نہیں ہے۔ شرح صدر کے قطعاً معنی یقین کامل کے ہیں۔ اور جب یہ کیفیت پیدا ہوگی تو راستہ بھی صاف نظر آئے گا اور دل بھی بےدھڑک آتش نمرود میں کود پڑے گا۔
Ayahs 6:128–132

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا١ۚ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ١ۚ وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیْۤ اَجَّلْتَ لَنَا١ؕ قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:128 in the Quran reader

اور وہ دن جب کہ اللہ تعالیٰ حشر میں ان سب کو جمع کرے گا ( اور جنوں سے فرمائے گا ” اے قوم جنات ! تم نے تو لوگوں میں سے بہت سوں کو اپنا تابع بنا لیا تھا۔ اور اس وقت انسانوں میں سے وہ جو ان کے ساتھ کام میں شریک رہے تھے پکاریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم دونوں قوموں نے ایک دوسرے کو خوب استعمال کیا ہے یہاں تک کہ ہم آج اس مقرر مدت پر پہنچ گئے ہیں جو آپ نے ہمارے لئے مقدر کردیا تھا۔ اللہ فرمائے گا ۔ تم سب کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اس میں تم سب ہمیشہ ہمیشہ رہو گے مگر ہا جسے اللہ بچانا چاہے بیشک آپکا پروردگار علم و حکمت دونوں پر حاوی ہے۔

وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 6:129 in the Quran reader

اور ہم اسی طرح ( جن وانس کے) ظالموں کو ایک ساتھ ملادیں گے چونکہ وہ اعمال میں مشترک تھے۔

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 6:130 in the Quran reader

فرمایا جائے گا کہ اے گروہ انس و جن کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے وہ پیغمبر نہیں آئے تھے جو تمہیں ہماری آیات سنایا کرتے تھے اور تمہیں اس دن سے ڈراتے تھے ‘ جو تم اب دیکھ ہی رہے ہو ؟ ” کہیں گے “ کہ ہاں ہم اپنے خلاف خود گواہی دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں دنیا کی زندگی نے دھو کے میں ڈال رکھا تھا۔ ” اور وہ خود ہی اقرار کرنے لگیں گے کہ وہ اہل کفر میں سے تھے۔

ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ یَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ Open ayah 6:131 in the Quran reader

اے نبی ﷺ یہ رسولوں کا بھیجنا اس لئے ہے کہ آ پکے پروردگار کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ وہ کسی بستی والوں کو ان کے ظلم کی وجہ سے تباہ و برباد کر دے اور ان ( قریہ والوں ) کو احکام الٰہی کی خبر ہی نہ ہو۔

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:132 in the Quran reader

اور اعمال کے لحاظ سے جسے وہ کرتے ہیں سب انسانوں کے لئے درجے مقرر ہیں اور آپ کا پروردگار ان کے کاموں سے بیخبر نہیں ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 128 سا 132 : یمعشر (اے جماعت۔ اے گروہ) استکثرتم ( تم نے بتہ کچھ حاصل کرلیا) استمتع ( نفع اٹھایا۔ فائدہ اٹھایا) بلغنا ( ہمیں پہنچا) اجلت ( تو نے مقرر کیا تھا) مثوی (ٹھکانا) نولی ( ہم دوست بناتے ہیں) الم یا تکم ( کیا تمہارے پاس نہیں آئے) یقصون ( بیان کرتے ہیں) ینذرون (وہ ڈراتے ہیں) لقاء ( ملاقات۔ ملنا) غرت (دھوکے میں ڈال دیا) لم یکن ( نہیں ہے) مھلک القری ( بستیوں کو ہلاک کرنے والا) اھلھا ( اس کے رہنے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 128 تا 132 : ان آیات میں اس وقت کی منظر کشی کی گئی ہے جب میدان حشر میں قوم جن اور قوم انس میں سے سارے گنہ گار ایک طرف جمع ہونگے۔ اللہ تعالیٰ قوم جن کے گناہ گاروں کو کہے گا کہ تم نے تو قوم انسان کی کثیر تعداد کو اپنے اشاروں پر نچایا تھا۔ اس لئے ان کے گناہوں کا وبال بھی تمہارے ہی سر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان طنزیہ انداز میں ابلیس کے لئے کہا گیا ہے جو قوم جن میں سے تھا اور جس نے انسانوں کے جم غفیر کو بھٹکانے اور بہکانے میں بڑا نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اس آیت سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ابلیس نے پہلا وار اپنے ہم قوم جنوں ہی پر کیا اور ان ہی میں سے سیاطین کی ایک زبردست کھیپ تیار کی۔ ان شیاطین جن کو اپنا ای جنت اور کار پر دازبنا کر انسانوں میں بھیجا۔ ان شیاطین جن کو یہ سہولت تھی کہ وہ بھیس بدل سکتے تھے بلکہ انسانوں کی نظروں سے پوشیدہ رہ کر اپنا کام کرسکتے تھے۔ اور اس طرح شیاطین انس کی کھیپ تیار کرتے تھے۔ ان دونوں اقسام کے خناسوں کا سب سے بڑا ہتھکنڈا یہ تھا کہ وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے تھے جیسا کہ قرآن کی آخری سورة میں ذکر ہے۔ یہ وسوسے بالاقساط ڈالے جاتے تھے۔ پہلے ہلکا اور مختصر۔ پھر رفتہ رفتہ زیادہ گہرا اور پائیدار۔ دوسرے شیاطین انس ہیں جیسا کہ سورة یٰسین میں مذکور ہے۔ اے بنی آدم ! کیا ہم نے تمہی نصیحت نہیں کردی تھی کہ شیطان کی پیروی نہ کرنا۔ بیشک وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ جواب میں وہ ان الفاظ میں اپنے قصوروں کا اعتراف کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم دونوں یعنی شیاطین جن اور شیاطین انس نے ایک دوسرے کو خوب استعمال کیا ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ بہکانے والے جنوں نے بہکنے والے انسانوں کو خوب گمراہ کیا۔ لیکن شیاطین انس نے کس طرح شیاطین جن کو استعمال کیا ؟ جواب یوں سمجھ میں آتا ہے کہ دنیا میں دوطرح کے عوامل اور اسباب ہوا کرتے ہیں ایک ظاہر۔ دوسرے پوشیدہ۔ ایک وہ جو نظر آتے ہیں ‘ جن کے بنانے بگاڑنے میں انسان کا دخل ہے۔ دوسرے وہ جو نظر نہیں آتے ‘ جن کے بنانے بگاڑنے میں انسانوں کا دخل نہیں ہوتا۔ ظاہر او پوشیدہ دونوں ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں اور مل جل کر کام کرتے ہیں۔ یہاں شیاطین جن سے پوشیدہ عوامل کی طرف اشارہ ہے۔ قیامت کے دن زمین وآسمان کی ہر چیز گواہی دینے لگ جائے گی جیسا کہ سورة زلزال میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اور جیسا کہ سورة یٰسین میں ذکر ہے اللہ ان کی زبانوں کو بند کر کے جسم کے تمام اعضاء کو بولنے کی قوت دے دے گا اور وہ سب شہادتیں دینے لگ جائیں گے ۔ تب جا کر کہیں یہ ڈھیٹ جھوٹے مکار مجرمین نرم پڑیں گے۔ مجرمین نہ صرف اقرار جرم کریں گے بلکہ اپنی گمراہی کی واحد اصلی اور بنیادی وجہ بھی بیان کریں گے کہ ہم دنیا کی عشرتوں اور زینتوں پر ریجھ گئے تھے۔ ہم نے انہیں اپناسب کچھ سمجھ رکھا تھا۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جنوں میں بھی رسول آئے ہیں ؟ علمائے تفسیر وحدیث میں سے ایک گروہ کا کہنا ہے کہ رسول ہمیشہ انسانوں میں سے آئے ہیں۔ ان میں سے بعض جنوں کے لئے بھی معبوث ہوئے ہیں۔ اور انہوں نے جنوں ہی میں سے افراد کو منتخب کیا ہے کہ اپنی قوم میں تبلیغ کریں۔ یا جیسا کہ سورة جن میں مذکور ہے ‘ خود نیک جنوں نے رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے اللہ کا کلام سنا اور اپنی قوم تک پہنچایا۔ یہ بات ثابت ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ انسانوں ‘ جنوں بلکہ تمام ذی عقل مخلوقات کے لئے مبعوث ہوئے ہیں۔ علماء کا دوسرا گروہ یہ کہتا ہے کہ دنیا میں انسانوں سے پہلے جنوں کی آبادی تھی۔ ان میں تبلیغ کے لئے جن رسول آیا کرتے تھے۔ لیکن حضرت آدم کے آنے کے ساتھ ہی جن رسولوں کا سلسلہ ختم کردیا گیا ‘ یہ دونوں اقوال متضاد نہیں ہیں۔ اس مضمون کی آخری آیت کا مقصد و منشا یہ ہے کہ اللہ نے اپنے رسول اس لئے بھیجے ہیں تاکہ کسی بھی بستی کے رہنے والے احکام الٰہی سے بیخبر رہ کر جہنم میں نہ پہنچ جائیں۔ اس آیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد بھی نبیوں اور رسولوں کا سلسلہ باقی رہے گا۔ کیونکہ خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطین ﷺ کے بعد اب کسی طرح کے رسول اور کسی طرح کے نبی آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ قادیانیوں نے اس آیت سے جو استدلال کیا ہے وہ کھلی ہوئی گمراہی اور جہالت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ختم نبوت پر پوری طرح ایمان رکھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین)
Ayahs 6:133–135

وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 6:133 in the Quran reader

اور آپ کا پروردگار بےنیاز بھی ہے اور رحم و کرم والا بھی۔ اگر وہ چاہے تو تم لوگوں کو ہٹادے اور تمہارے بعد جس کو چاہے تمہارا جانشین بنادے۔ جس طرح تمہاری موجودہ نسل کو پہلی نسل کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 6:134 in the Quran reader

تم سے جس (انصاف کے دنض کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کا آنا یقینی ہے ۔ اور تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے۔

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:135 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ! ) آپ کہہ دیجئے اے میری قوم ! تم اپنے طور پر کام کرتے رہو۔ میں بھی اپنے طور پر کام کرتارہوں گا۔ جلد ہی تمہیں پتہ لگ جائے گا کہ کس کو آخرت کا گھر ملتا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ ظالموں کو کبھی فلاح و کامیابی حاصل نہ ہوگی۔

لغات القرآن : آیت نمبر 133 تا 135 : الغنی (بےنیاز۔ بےپرواہ) یستخلف (وہ قائم مقام بنادیتا ہے) ذریۃ ( اولاد) توعدون ( وعدہ کئے گئے ہیں) مکانتکم ( اپنی جگہ) عاقبۃ ( انجام) ۔ تشریح آیت نمبر 133 تا 135 : اللہ رحمت والا ہے یعنی کسی کو سزا دینے میں اسے کوئی لطف نہیں آتا۔ اسے تو انعام و اکرام دینے میں لطف آتا ہے اس کی رحمت کا تقاضا یہی ہے۔ تمہاری خوشی سے خوش ہے۔ تمہاری تکلیف سے ناخوش ہے۔ کیا تم اس کے بنائے ہوئے نہیں ہو ؟ جس جسم و جان کو اتنی محبتوں سے عنایت کیا اور اتنی محبتوں اور سفقتوں سے عمر کی مختلف منزلوں سے گذارا ۔ کیا وہ اسے دوزخ میں ڈال کر خوش ہو سکتا ہے ؟ مگر سزا۔ وہ بھی رحمت کا ایک حصہ ہے کہ اس کے بغیر انصاف کہاں ممکن ہے۔ فرمایا جارہا ہے کہ اے لوگو ! یہ جو مال و دولت ‘ صحت و اقتدار اس نے دے رکھا ہے ‘ اس پر مت پھولو۔ فرد ہو یا جماعت ‘ بڑی سے بڑی ہستی اور بڑی سے بڑی قوم اس صفحہ دنیا سے ایسی ملیا میٹ ہوگئی کہ اس کا نام و نشان بھی نہیں ملتا۔ وہ جگہ خالی نہ رہی۔ دوسری ہستیوں نے اور دوسری قوموں نے ان کی جگہ لے لی۔ کیا تم پیدائش اور موت کے نظام کو نہیں دیکھتے کہ تمہارے آبائو اجداد آج کہاں ہیں۔ کل وہ تھے۔ آج تم ہو۔ اسی طرح کل کوئی اور ہوگا۔ فرمایا ” جان رکھو کہ ظالموں کو کبھی فلاح حاصل نہ ہوگی “۔ قرآن پاک کی اصطلاح میں ظالم صرف وہ نہیں جو کسی اور پر ظلم کرے۔ ظالم وہ بھی ہے جو اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے ‘ جو کفر و شرک اور فسق و فجور کر کے اپنے آ پکو دوزخ کا مستحق بنادے۔ جو کوئی اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے وہ لپیٹ میں بہت سارے دوسرے لوگوں کو بھی لے لیتا ہے۔ فلاح دنیاوی بھی ہے اور اخروی بھی۔ اخروی تو خیر ‘ ابھی پردہ غیب میں ہے۔ لنکک اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ ظالم اپنے کیفر وکردار کو اسی زندگی میں پہنچ جاتا ہے۔ عذاب الہیٰ کی ایک قسم دنیا میں یہ بھی ہے کہ دولت ونعمت ‘ صحت و اقدار کی زیادتی کردی اور وہ مزید گناہوں میں غرق وہ گیا یا زوال میں آگیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” ظالم کے لئے قیامت کے دن ظلم ‘ سخت اندھیرا بنے گا “ (متفق علیہ) اوس بن شرجیل ؓ کی روایت ہے حضور ﷺ نے فرمایا ” جو شخص کسی ظالم کا ساتھ دے کر اس کو قوت پہنچائے گا یہ سمجھ کر کہ وہ ظالم ہے تو وہ اسلام سے خارج ہوگیا “ آپ ﷺ ہی کی ایک طویل حدیث ہے جس کا مطلب ہے کہ ظالم کی نیکیاں مظلوموں میں بانٹ دی جائیں گی اگر اس کی نیکیوں کا ذخیرہ ختم ہوگیا تو مظلوموں کی برائیاں اس کے سرپر دھردی جائیں گی۔ پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت ہے حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی ظالم کے ظلم میں اسکی مدد کرتا ہے تو کبھی کبھی اللہ تعالیٰ اس مدد کرنیوالے کو ظالم کے اوپر مسلط کردیتا ہے تاکہ ظالم کو یہاں بھی سزا مل جائے۔ اور تاریخ بلکہ جدید تاریخ اس پر گواہ ہے۔
Ayah 6:136

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآئِنَا١ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ مَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ یَصِلُ اِلٰى شُرَكَآئِهِمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 6:136 in the Quran reader

اور یہ لوگ اللہ کے لئے ایک حصہ خود اسی کی پیدا کی ہوئی کیتیوں اور مویشیوں میں سے مقرر کرتے ہیں۔ پھر اپنے ذہن اور ظن سے کہتے ہیں کہ یہ اللہ کا حصہ ہے اور یہ ہمارے بنائے ہوئے معبودوں کا حصہ ہے۔ لطف یہ ہے کہ جو حصہ ان کے بنائے ہوئے شرکاء کا ہے وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا۔ اور جو حصہ اللہ کے لئے ہے وہ ان کے بنائے ہوئے شرکاء کو پہنچ جاتا ہے۔ وہ لوگ کیسا برا فیصلہ کرتے ہیں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 136 : ذرا (اس نے پھیلایا) الحرث ( کھیتی) الانعام ( مویشی) نصیب (حصہ) لایصل (نہیں پہنچتا ہے) یحکمون ( وہ فیصلہ کرتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 136 : مشرکین عرب کھیتی اور باغ کی پیدا وار اور مویشیوں میں سے ہر سال چند حصے الگ کرلیتے۔ ایک حصہ اپنے گھر یلو استعمال کے لئے۔ ایک حصہ بت خانہ کے پجاریوں اور نگہبانوں کے لئے۔ ایک حصہ اللہ کے لئے جو غربا اور مساکین پر خرچ کرتے۔ حصوں کی تقسیم کے بعد بھی وہ اللہ کے حصے میں سے تھوڑا تھوڑا وقتاً فوقتاً کاٹتے رہتے اور اپنے یا پجاریوں کے حصے میں ملا دیا کرتے تھے۔ نیز اگر کسی وقت اتفاق سے اللہ کے لئے مختص کئے ہوئے حصوں میں سے کوئی حصہ اپنے یا بتوں کے حصے میں مل جاتا تو اس کو اسی طرح ملارہنے دیتے اور اس کے لئے یہ جواز ڈھونڈتے کہ اللہ تعالیٰ تو بےنیاز ہے اس کے حصوں میں سے اگر کوئی حصہ کم ہوجائے گا تو کچھ فرق نہیں پڑے گا۔ فرمایا جارہا ہے کہ سارے کا سارا حق اللہ کا ہے۔ کوئی شریک نہیں۔ تقسیم کا حق اسی کو پہنچتا ہے۔ شارع وہی ہے۔ گھر ‘ دفتر ‘ دکان وغیرہ کے لئے جو وقت اور توجہ کا حصہ ہے۔ وہ اسی کی شریعت کے مطابق ہونا چاہیے۔ کسی کو خود ہی شارع بن جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اور لطف یہ کہ انہوں نے معبود ان باطل ٹھہرارکھے ہیں اور ان کے نام پر پجاریوں اور پروہتوں کو نذر و نیاز دے دیتے ہیں۔ اس کے بعد جو وہ نیم دلی سے تھوڑا بہت خیرات پر خرچ کرتے ہیں وہ کوئی نیکی نہیں ہے۔
Ayahs 6:137–140

وَ كَذٰلِكَ زَیَّنَ لِكَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِیُرْدُوْهُمْ وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْهِمْ دِیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:137 in the Quran reader

اور اسی طرح بہت سے مشرکین کے خیال میں ان کے معبودوں نے ان کی اولاد کے قتل کو ( ان کی نظروں میں) بہت خوبصورت بنا رکھا ہے تاکہ وہ ان کو برباد کردیں اور دین کو ان پر مشتبہ کردیں۔ اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے۔ اے نبی ﷺ آپ ان کو اور جو کچھ یہ غلط باتیں بنا رہے ہیں نظر انداز کر دیجئے۔

وَ قَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ١ۖۗ لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:138 in the Quran reader

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ مویشی اور یہ کھیتی ممنوع ہیں۔ ان کو کوئی نہ کھائے مگر جس کو ہم اپنی مرضی سے چاہیں۔ پھر کچھ جانوروں کی پیٹھ پر چڑھنے کو ممنوع قراردیتے ہیں او کچھ جانور ہیں جن پر ذبح کے وقت اللہ کے نام نہیں لیتے۔ یہ سب کچھ ڈھونگ ہے اور اللہ انہیں ان بہتان طرازیوں کی سزا دے گا جو وہ بہتان باندھتے ہیں۔

وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَكَآءُ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:139 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ ان ( مخصوص) جانوروں کے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ تو صرف ہمارے مردوں کے لئے مخصوص ہے لیکن اس کا کھانا ہماری عورتوں پر حرام ہے۔ مگر جو بچہ مردہ پیدا ہو تو اس کے کھانے میں مرد عورت شرکت کرسکتے ہیں۔ اللہ انہیں ان باتوں پر سزادے گا جو انہوں نے گھڑ رکھی ہیں۔ وہ صرف حکمت والا ہی نہیں ہے بلکہ سب کچھ جاننے بوجھنے والا بھی ہے۔

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ١ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ۠ Open ayah 6:140 in the Quran reader

بیشک وہ احمق اور نادان لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو قتل کیا اور اللہ پر بہتان باندھ کر اس کے دیئے ہوئے رزق کو (جس پر جی چاہا) حرام ٹھہرادیا۔ وہ سخت نقصان اٹھانے والے ہیں وہ گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ وہ ہر گز ہدایت پانے والوں میں سے نہ ہوں گے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 137 تا 140 : لیردو (تاکہ وہ برباد کریں) لیلبسوا ( تاکہ وہ ایک دوسرے میں گڈ مڈ کردیں) حجر ( ممنوع ہے) لایطعم ( نہیں کھاتا) حرمت (حرام کردی گئی) بطون ( بطن) پیٹ ‘ خالصۃ ( خالص۔ محض) لذکورنا (ہمارے مردوں کے لئے ہے) محرم ( حرام کردیا گیا) ازواجنا ( ہماری بیوں ( پر حرام ہے) ۔ میتۃ (مردار) وصفھم (ان کی باتیں بنانا) سفھا (بےوقوفی۔ نادانی) تشریح : آیت نمبر 137 تا 140 : انسانوں میں جو چالاک طبقہ ہے وہ بلامحنت امیر اور امیر تر بننے کے لئے پنڈت ‘ پروہت ‘ پادری ‘ مجاور ‘ آستانہ دار اور تکیہ دار بن جاتا ہے۔ وہ بتوں کو ‘ صلیبوں کو ‘ قبروں کو اور خلوتوں کو تقدس کا رنگ دے کر اپنی آمدنی کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔ اور یہ جاہل نادان عوام اس کا شکار بنتے ہیں۔ ان کو شکار بنانے کے لئے کھلم کھلا یا پوشیدہ معبود ان باطل گھڑے جاتے ہیں۔ ان کی طرف سے افسانے تراشے جاتے ہیں ان کے نام پر کتابیں لکھی جاتی ہیں یا تحریف کی جاتی ہیں ‘ ان کے نام پر قاعدے اور قوانین بنتے ہیں ‘ حلال و حرام طے کئے جاتے ہیں ‘ نذرنیاز ‘ چڑھاوا ‘ مستقل ٹیکس عائد ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ چنانچہ ان خود ساختہ معبودوں کے اجارہ داروں نے عرب کے جاہل احمق مشرکین کو جو اصول و آئین دیئے تھے ‘ ان میں سے چند یہ تھے : (1) جیسا کہ اس سے پہلی آیات میں گزر چکا ہے ‘ کھیت اور مویشی کی پیداوار میں سے اللہ کا اور بتوں کا حسب مرضی حصہ لگانا۔ آہستہ آہستہ مختلف بہانے سے اللہ کے حصہ میں سے کاٹ کاٹ کر بتوں یعنی پجاریوں کے حصہ میں اضافہ کرنا۔ (2) داماد بنانے کو بےعزتی سمجھنا اور اس لئے بیٹیوں کو شیر خوارگی میں ہی قتل کردینا۔ چھوٹی چھوٹی لڑکیوں کو اس خطرے کے پیش نظر قتل کردینا کہ بڑی ہو کر کہیں آوار گی کرنے نہ لگ جائیں۔ یا کوئی دشمن قبیلہ لڑائی میں انہیں چھین کر نہ لے جائے۔ (3) بیٹوں اور بیٹیوں کو بچپن ہی میں اس لئے قتل کردینا کہ بڑے ہونے تک کون پالے پوسے گا۔ کون اپنی روٹی میں ان کو شریک کرے گا۔ کون ان کا علاج ‘ کپڑے وغیرہ کے چکر میں پڑے گا ( آج کل مغرب میں یہ عام ذہن اور عام رواج ہے۔ چناچہ اولادیں قتل کردی جاتی ہیں ‘ یا سڑک پر پھینک دی جاتی ہیں ‘ یا یتیم خانہ ‘ گرجا ‘ فوج وغیرہ کے حوالے کردی جاتی ہیں۔ اور ان اولادوں کی کھیپ در کھیپ تیار ہوگئی ہے جن کو اپنے والدین اور گھر کا پتہ نہیں۔ آوار گی ‘ لاقانونیت اور جرائم میں ان ہی لاوارث جوانوں کا ہاتھ زیادہ ہے۔ اب تو نوکری کی درخواست میں یا ویسے بھی کسی سے ماں باپ کا نام و نشان پوچھنا خلاف تہذیب ہوگیا ہے۔ ضرورت پڑی تو باپ کا فرضی نام تصنیف کرلیا گیا جو ہر موسم میں بدلتا رہتا ہے) ۔ (4) کھیت کی پیداوار کو مخصوص کرنا۔ وہ کہتے تھے کہ اس کھیت کی پیداوار ہماری اجازت کے بغیر کوئی نہیں کھاسکتا۔ اس جانور کا گوشت صرف مرد کھا سکتے ہیں اور اس کا دودھ صرف مردپی سکتے ہیں۔ اگر ذبح کے وقت اس کے پیٹ سے زندہ بچہ نکلے تو اسے صرف مرد ہی کھا سکتے ہیں۔ اگر مردہ بچہ نکلے تو عورتیں بھی کھا سکتی ہیں۔ اس جانور پر اللہ کا نام نہیں لیا جائے گا۔ نہ دودھ نکالتے وقت ‘ نہ سوار ہوتے وقت ‘ نہ ذبح کرنے کے وقت۔ اس جانور پر کوئی چڑھ نہیں سکتا۔ بحیرئہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام چار قسم کے جانوروں کی تعظیم کو عبادت سمجھا جاتا تھا اور یہ جانور بت خانہ کی خدمت کے لئے وقف ہوتے تھے۔ (5) بچوں کو قتل کر کے معبودوں پر بھینسٹ چڑھانا۔ ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ اگر چہ قتل اولاد کو مشرکین عبادت اور نیک کام سمجھ رہے ہیں لیکن درحقیقت یہ خاندانی ‘ اخلاقی ‘ ذہنی ‘ قومی اور ہر طرح کی خود کشی ہے۔ اہل عرب تلوار سے قتل کرتے تھے لیکن جدید اہل مغرب برتھ کنٹرول سے قتل کرتے ہیں۔ گزشتہ جنگ عظیم کے دوران فرانس میں آبادی اتنی گھٹ گئی کہ فوج اور دوسرے شعبوں کے لئے مردان کار نہیں ملتے تھے ۔ مجبوراً حکومت نے انعام واکرام کے ذریعہ عورتوں کو اولاد پیدا کرنے اور پرورش کرنے کی ترغیب و تحریص دلائی اور اس سلسلہ کے سارے اخراجات حکومت نے اپنے ذمہ لے لئے۔ امریکہ کو ویت نام میں جو تلخ تجربہ ہوا اس کی وجہ یہی تھی کہ سفید فام سپاہیوں کا کال پڑگیا۔ اور جبری بھرتی کا قانون بھی اس کا ل کو دورنہ کرسکا۔ اس سے اندازہ ہوا کہ اصل چیز سپاہی اور اس کا ولولہ ہے ‘ بم اور راکٹ نہیں۔ ان آیات میں یہ بھی فرمایا ہے کہ ان پجاریوں ‘ راہبوں ‘ مجاوروں اور اجارہ داروں نے اپنے کھانے کمانے کے لئے جو اس قسم کے اصول و آئین اور رسم و رواج بنا دئیے ہیں ‘ تو یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ اصل دین کیا ہے اور شیطانی ملاوٹ کیا۔ ہر نسل تحریف در تحریف کرتی رہی ہے۔ شرک کے ان ٹھیکہ داروں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کے پیش کردہ دین کا وہ حلیہ بگاڑا ہے کہ اللہ کی پناہ۔ جب انہیں ضرورت ہوئی نئے عقیدے ‘ نئے اعمال ‘ نئے رسوم لے آئے۔ اس لئے ہر صاحب عقل پہچان لے تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔ تو وہ لوگ جو ان مذہبی ٹھیکہ داروں کے دام فریب میں آگئے ‘ جو اللہ کے دیئے ہوئے رزق میں سے اہل حق کا حق مارتے رہے۔ جو حلال کو حرام اور حرام کو حلال من مانی ٹھہراتے رہے ‘ جو اولاد کشی کے ذریعہ خود کشی کرتے رہے ‘ اوندھے منہ ضلالت کے گڑھے میں گر پڑے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے نفس کو اسقدر گرالیا ہے کہ راہ ہدایت کی کوئی تلقین ان کے کام نہیں آسکتی۔
Ayahs 6:141–142

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّ غَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّ النَّخْلَ وَ الزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ١ۖ٘ وَ لَا تُسْرِفُوْا١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 6:141 in the Quran reader

(اللہ) وہی ہے جس نے طرح طرح کے باغ پیدا کئے۔ وہ بھی جو مچانوں پر چڑھائے جاتے ہیں اور وہ بھی جو مچانوں پر نہیں چڑھائے جاتے ۔ اور نخلستان اور کھیتیاں جن سے انواع و اقسام کی غذائیں حاصل ہوتی ہیں اور زیتون اور انار ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی اور پھر الگ الگ بھی۔ ان کے پھل کھائو جب وہ پھل دینے لگیں۔ اور ان کے (شرعی) حقوق ادا کرو جب انہیں کاٹو مگر فضول خرچی نہ کرو۔ بےجا خرچ کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔

وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّ فَرْشًا١ؕ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 6:142 in the Quran reader

اور اسی نے مویشی بنائے وہ بھی جو بوجھ اور سواری اٹھانے کے کام آتے ہیں ( اور وہ بھی جن کو گوشت کھانے میں اور کھال بچھانے میں استعمال کیا جاتا ہے) ۔ جو رزق اللہ نے تمہیں دیا ہے اس میں سے کھائو اور شیطان کے قدم بہ قدم نہ چلو بلاشبہ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر : 141 تا 142 : معروشت (اونچے چڑھائے ہوئے) النخل ( کھجور) الزرع ( کھیتی) اکل (پھل) الرمان (انار) متشابھا ( مشابہ۔ ایک دوسرے سے ملتے جلتے) اثمر (وہ پھل لے آیا) حقہ ( اس کا حق) حصاد ( پکی کیتی ۔ پکے پھل) لاتسرفوا ( حد سے نہ بڑھو۔ فضول خرچی نہ کرو) لا یحب ( وہ پسند نہیں کرتا) المسرفنو ( فضول خرچی کرنے والے) حمولۃ ( جس جانور پر بوجھ لاداجاتا ہے) فرش ( زمین سے لگے چھوٹے قد کے جانور) خطوات (خطوات) قدم۔ تشریح : آیت نمبر 141 تا 142 : اس سے پہلے ذکر تھا کہ کس طرح عرب کے کفار و مشرکین نے اناج ‘ پھل ‘ دودھ ‘ مویشی اور تمام غذائیات کے متعلق اپنے لئے حرام و حلال کے اصول بنارکھے تھے تاکہ مردوں اور بت خانے والوں کو زیادہ سے زیادہ حصہ ملے اور وہ اجارہ دار نبے بیٹھے رہیں جسے چاہیں جتنا دیں اور جسے چاہیں کم دیں یا بالکل نہ دیں۔ ان آیات میں زور اس بات پر ہے کہ ملک اللہ کا ‘ پیداوار اور پیدائش اسی کی ہے۔ اس لئے حکم بھی اسی کال چلے گا ‘ شریعت اسی کی نافذ ہوگی ‘ حلال و حرام کا قانون اسی کا ہے۔ اس کے علاوہ شکر و احسان کا تقاضا بھی یہی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے احسان شناسی ‘ فکر ‘ بصارت ‘ بصیرت ‘ نمک خواری ‘ حق بندگی کی طرف پکارا ہے کہ آو موازنہ کرو اور مقابلہ کرو۔ تمہارے جھوٹے معبودوں نے تمہاری کون سی خدمت کی ہے جن کے چوکیدار اور پہرہ دار تمہیں احمق بنابنا کے سب کچھ لوٹ رہے ہیں۔ آئو دیکھو ذرا سوچو کہ اللہ نے تمہارے لئے کیا کچھ نہیں کیا ہے۔ یہ کھیتی ‘ یہ اناج جس سے تمہاری جان بنتی ہے۔ اس کی کتنی قسمیں ہیں ‘ کتنے مزے ہیں۔ کتنی شکلیں ہیں ‘ کتنے خواص ہیں۔ یہ پھل جن سے تاکستان بھی بنتے ہیں اور نخلستان بھی ‘ یہ بیلیں ‘ یہ لٹیں جو مچانوں پر چڑھنے والے یا نہ چڑھانے والے ‘ یہ تمہارے باغ اور خانہ باغ کی یہ سبزیاں ‘ یہ ترکاریاں ‘ وہ پھل جو سائز میں یارنگ میں یا مزے میں یا خواص میں باہم مشابہ ہیں۔ اور وہ پھل جو اپنی الگ جنس ‘ قوم یا خاندان رکھتے ہیں۔ وہ زیتون جو لکڑی بھی ہے ‘ خوشبو بھی ‘ کچا پھل بھی ‘ پکا پھل بھی ‘ روغن بھی ‘ غذا بھی اور مزا بھی ‘ دوا بھی اور شفا بھی ‘ وہ انار جو کلی سے لے کر دانہ اور دانہ سے لے کر درخت تک حسن ورنگ ‘ لطف و صحت ہے۔ دیکھو کس طرح اندر پیکنگ کرکے پھر ڈبہ بند ہوا بند محفوظ کر کے اتنی بلندیوں پر لٹکادیا کہ جہاں تمہارا ہاتھ بھی سہولت سے پہنچ سکے۔ جو ہر روز تازہ تازہ ملتا ہے۔ اسی طرح اس نے کتنے قسم کے جانور بنائے۔ اونچے بھی اور نیچے بھی جنہیں تم بار برداری غذا لباس فرش اور نہ جانے کتنے دوسرے استعمال میں لاتے ہو۔ ہر ملک کی آب و ہوا اور ضروریات زندگی کے لئے خاص موزوں جانور۔ پالتو بھی اور وحشی بھی ۔ انتہا یہ کہ سانپ کے زہر اور گدھے کے دودھ سے کچھ بیماریوں کا علاج بھی ہوتا ہے۔ یہاں اس کے بیشمار ان گنت احسانات میں صرف غلے ‘ پھل ‘ سبزیاں ‘ گوشت اور دودھ یعنی غذاؤں کا ذکر ہے۔ جنہیں یہ کفار و مشرکین غلط تقسیم کرکے کسی کو بد ہضمی کی ڈکاریں بخش رہے ہیں اور کسی کو باسی روٹی کے لئے بھی بھوکوں ما رہے ہیں۔ مال اس کا ‘ احسان اس کا پھر تم وہ من مانی کیوں کررہے ہو۔ اس کا حکم ہے کہ کھائو اور کھلائو لیکن برباد نہ کرو۔ فرمایا کہ اہل کنبہ ‘ اہل قرابت ‘ اہل ضرورت کو کھلائو۔ کھانے اور کھلانے ہی کے لئے یہ چیزیں بنائی گئی ہیں۔ جس دن کیتی کاٹو ‘ جس دن پھل توڑو ‘ خیرات کرو ‘ زکوۃ ادا کرو اور حقدار کو اس کا حق دو ‘ پھر گھر لائو ‘ پکائو کھائو ‘ اہل کنبہ میں ‘ اہل قرابت میں ‘ اہل محلہ میں ‘ مرد عورت ‘ آقا غلام میں تفریق نہ کرو۔ کھائو یہ اللہ کی نعمتیں ہیں۔ شرک کفر اور شیطان والوں کے چکمہ میں مت آئو۔ یہاں ” واتو حقہ یوم حصادہ “ سے بہت سے مفسرین نے جن میں امام ابوحنیفہ (رح) اور امام احمد بن حنبل (رح) پیش پیش ہیں یہ معنی لئے ہیں کہ نہ صرف اہل حق اور اہل ضرورت کو دیا جائے زمین کی زکوۃ اور عشر بھی ادا کی جائے۔ زکوۃ اور عشر کتنا ہے ‘ اس معاملے میں یہ آیت خاموش ہے۔ یہ سورت مکی ہے اور مکہ میں تفصیلات طے کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ یہ تفصیلات مدنی زندگی میں طے کی گئی ہیں۔ بہر حال ذہنوں کو تیار کرنے کے لئے یہ اشارہ ابھی سے کردیا گیا ہے۔
Ayahs 6:143–144

ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ نَبِّئُوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَۙ Open ayah 6:143 in the Quran reader

اسی نے پیدا کئے آٹھ نرو مادہ ۔ بھیڑ میں سے دو نر اور مادہ اور بکری میں سے دو نر اور مادہ۔ (اے نبی ﷺ ! ) ان سے پوچھئے اللہ نے ان کے نرحرام کئے ہیں یا دونوں مادہ کو۔ یا وہ بچے جو بھیڑوں اور بکریوں کے پیٹ میں ہوں ؟ اگر تم سچے ہو تو ذرا سند لاکر بتادو۔ اور اسی نے پیدا کئے اونٹ میں سے دو اور گائے میں سے دو ۔ پوچھئے اللہ نے ان کے نروں کو حرام کئے ہیں یا دونوں مادہ کو۔ یا وہ بچے جو بھیڑوں اور بکریوں کے پیٹ میں ہوں ؟ اگر تم سچے ہو تو ذرا سند لا کر بتا دو ۔

وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 6:144 in the Quran reader

اور اسی نے پیدا کئے اونٹ میں سے دو اور گائے میں سے دو ۔ پوچھئے اللہ نے ان کے نروں کو حرام کیا ہے یا ان کے دونوں مادہ کو۔ یا وہ بچے جو اونٹنی اور گائے کے پیٹ میں ہوں ؟ کیا تم حاضر تھے جب اللہ نے یہ حکم دیا تھا ؟ پھر اس سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹی تہمت لگائے تاکہ بلا علم ( بلا عقل ‘ بلا تحقیق) لوگوں کو گمراہ کرتاپھرے۔ یقیناً اللہ ایسے ظالموں کو راہ راست نہیں دکھاتا۔

لغات القرآن : آیت نمبر 143 تا 144 : ثمنیۃ (آٹھ) ازواج ( جوڑے) الضان ( بھیڑ) اثنین ( دو ) المعز ( بکری) ء الذکرین ( کیا دونر) اشتملت (لپٹی ہے) ارحام ( رحم) بچہ دان ‘ نبئونی ( مجھے بتائو) الابل ( اونٹ) البقر (گائے) وصکم ( اس نے تمہیں وصیت کی۔ حکم دیا) ۔ تشریح : آیت نمبر 143 تا 144 : مشرکوں کی طرف بیان کا رخ ہے۔ فرمایا گیا کہ یہ جو تم نے اونچے جانوروں اور نیچے جانوروں کے بارے میں خود ساختہ اصول اور قانون بنائے ہیں کہ کسی نر حرام کردیا ہے کسی کا مادہ حرام کردیا ہے ‘ کسی کے پیٹ کے بچے کے متعلق طے کرلیا ہے کہ اگر زندہ نکلے تو مردوں کے لئے جائز اور عورتوں کے لئے منع۔ اگر مردہ نکلے تو مرد عورت دونوں کے لئے جائز۔ یہ سارے خرافات تم نے کہا سے گھڑ لئے ہیں۔ کیا تمہارے پاس اس کی سند ہے۔ اگر سند نہیں ہے تو تم یقیناً ان تمام باتوں میں جھوٹے ہو۔ کیا اللہ نے حکم دیا ہے ؟ کیا قرآن میں ہے ؟ حدیث میں ہے ؟ نہیں۔ تو پھر کیا تم وہاں پر موجود تھے۔ جب اللہ یہ حکم دے رہا تھا ؟ پھر یہ جھوٹی تہمت اللہ پر ؟ بلاعلم ؟ بلاثبوت ؟ اور جو اللہ پر جھوٹی تہمت لگائے گا وہ اپنے ہی حق میں ظلم کرے گا۔ اور وہ سیدھا جہنم میں جائے گا۔
Ayah 6:145

قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِیْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّكُوْنَ مَیْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:145 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! ان سے کہہ دیجئے کہ جو وحی مجھ پر نازل ہوئی ہے اس میں تو کسی کھانے والے پر کوئی چیز حرام نہیں کی گئی ہے مگر مردار۔ بہتا ہوا خون۔ سور کا گوشت کہ جو بالکل ناپاک ہے یا وہ جانور جو اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو کہ وہ فسق ہے۔ البتہ اگر کوئی سخت مجبوری کی حالت میں کھالے۔ نہ تو اس کا ارادہ نافرمانی کا ہو نہ وہ حد ضرورت سے بڑھنے کی کوشش کرتا ہو تو بیشک آپ کا پروردگار بڑا مغفرت کرنے والا رحمت کرنے والا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 145 : لا اجد ( میں نہیں پاتا) محرما ( حرام کیا گیا) طاعم ( کھانے والا) دما مسفوحا ( بہتا ہوا خون) اھل (پکارا گیا۔ لیا گیا) غیر باغ (نافرمانی کا ارادہ نہ ہو) لاعاد (زیادتی کا ارادہ نہ ہو) ۔ تشریح : آیت نمبر 145 : یہ اسلام کا احسان ہے جس نے حرام اشیاء کی فہرست دے دی اور بقیہ تمام نعمتوں کو ہر مردوزن کے لئے حلال کردیا۔ اور وہ فہرست بھی مختصر ترین ہے۔ اور یہ حرام کی قید بھی انسان کی ذہنی اور جسمانی حفاظت کے لئے ہے۔ (1) مردار (2) خون جو جسم سے باہر نکل گیا ہو یا نکلنے والا ہو۔ (3) سور کا گوشت ‘ ہڈی چربی اور اس کی ہر چیز کیونکہ وہ تمام ناپاک ہے اور نجس عین ہے۔ (4) اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا ہوا جانور۔ زکوۃ ‘ حج ‘ عقیقہ ‘ عدت وغیرہ کی طرح ذبح خالص اسلامی لفظ ہے اور اسلامی طریقہ ہے۔ غیر اسلام میں جانور مارے اور کاٹے جاتے ہیں لیکن ذبح نہیں کئے جاتے۔ دوسرے یہ کہ جانور کے حلق پر چھری چلاتے وقت غیر مسلم اللہ کا نام نہیں لیتے۔ اللہ کا نام یعنی کلمات مسنونہ پڑھنا ظاہری شہادت ہے کہ اس ذبح کے پیچھے وہ جذبہ قربانی ہے جو سنت ابراہیمی کا تقاضہ ہے۔ ذبح کرنے والا اگر مسلمان بھی ہو اور قصداً یہ کلمات نہ پڑھے گوشت حرام ہے۔ قرآن میں حلال حرام پر بحث تین اور مقامات میں آئی ہے۔ سورة بقرہ آیت نمبر 173 میں یہی مضمون وارد ہوا ہے۔ سورة مائدہ آیت 3 میں یہی مضمون ہے مگر ذرا وضاحت سے۔ سورة نحل آیت 115 میں بھی یہی بات دہرائی گئی ہے۔ وحی جلی سے یہی چار چیزیں حرام ہیں لیکن وحی خفی یعنی حدیث رسول ﷺ نے بعض دوسرے جانوروں کو بھی منع فرمایا ہے یا ان پر کراہیت ظاہر کی ہے۔ جن پر کراہیت ظاہر کی وہ حرام کے قریب ہیں۔ مختلف آئمہ مذاہب نے اس مسئلہ پر اپنی اجتہادی رائے دی ہے اور مسئلہ کی زیادہ سے زیادہ وضاحت کی پھر پور کوشش کی ہے۔
Ayahs 6:146–147

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ١ۚ وَ مِنَ الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ شُحُوْمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَاۤ اَوِ الْحَوَایَاۤ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِبَغْیِهِمْ١ۖ٘ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 6:146 in the Quran reader

اور اہل یہود پر ہم نے ناخن والے سارے جانور حرام کردیئے تھے۔ اور گائے اور بکرے کی چربی بھی سوائے اس چربی کے جو ان کی پیٹھ یا ان کی آنتوں سے یا ہڈی سے لگی رہ جائے۔ یہ سزا ہم نے ان کی بغاوت پر دی تھی۔ اور ہم بیشک سچ بولنے والے ہیں۔

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ١ۚ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 6:147 in the Quran reader

اب اگر وہ آپ ﷺ کو جھٹلائیں تو کہہ دیجئے تمہارے رب کی رحمت وسیع ہے۔ مگر اس کا عذاب گناہ گاروں سے ٹلنے والا نہیں ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 146 تا 147 : ذی ظفر ( ناخن والا جانور) شحوم ( چربیاں) حملت (اٹھائے ہے) الحوایا ( حویۃ) انتڑیاں ‘ اختلط (مل گیا) عظم ( ہڈی) جزینا ( ہم نے بدلہ دیا) ‘ ببغیھم ( ان کی نافرمانی کی وجہ سے) ذورحمۃ ( رحمت والا) واسعۃ (وسعت والا۔ گنجائس والا) لا یرد باسہ ( اس کا عذاب ٹالا نہیں جاسکتا) ۔ تشریح : آیت نمبر 146 تا 147 : جن کافروں اور مشرکوں نے وحی جلی یا وحی خفی کی سند کے بغیر چند غذائیں اپنے اوپر حرام کرلی تھیں ان کو نصیحت ہے کہ : یہ جو کچھ تم نے خود بخود کرلیا ( یعنی حلال کو حرام کربیٹھے یا اس کے برعکس) یہ بھی اللہ کا عذاب ہے۔ تم نے جو قرآن وحدیث سے بغاوت کی ہے اور آپ اپنے شارع بن گئے یہ اسی کی سزا ہے۔ اللہ کی سزا کی مختلف قسمیں ہیں۔ ایک یہ کہ تم سے اپنی کچھ نعمتیں چھین لے اور تم ہی اپنے آپ حلال کو حرام کر بیٹھو۔ سورة نساء آیت 160 میں آیا ہے بنی اسرائیل کے جرائم کی بنا پر ہم نے بہت سی وہ پاک چیزیں ان پر حرام کردیں جو پہلے ان کے لئے حلال تھیں۔ حرام کا حکم اگر قرآن یا حدیث کے ذریعے آئے رحمت ہے۔ لیکن اگر کسی اور ذریعے سے آئے اور لوگ خود بخود اپنے شوق سے کچھ نعمتوں کا دروازہ اپنے آپ پر بند کرلیں تو یہ در پردہ سزائے الٰہی ہے۔ یہاں بتایا جارہا ہے کہ یہود پر جو پابندیاں لگی تھیں وہ ان کی بغاوت کی سزا تھی۔ آگے فرمایا ہے کہ اے مجرمو ! اب بھی اگر تم باغیانہ روش سے باز آجائو تو اللہ کی رحمت وسیع و بسیط ہے۔ لیکن اگر ضد پر اکڑے رہے تو عذاب تمہارا مقدر ہے۔