6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 6:37–41

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَةً وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:37 in the Quran reader

وہ منکر کہتے ہیں کہ اس پر ( نبی ﷺ پر) اس کے رب کی طرف سے کیوں کوئی معجزہ نازل نہیں ہوا۔ کہہ دیجئے اللہ کو معجزہ بھیجنے کی ہر طرح قدر ت ہے لیکن (فرمائش کرنے والوں میں) اکثریت نادانوں کی ہے۔

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ١ؕ مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:38 in the Quran reader

زمین پر چلنے والا جانور ہو یا دونوں بازوئوں سے ہوا میں اڑنے والا پرندہ ‘ سب تم انسانوں ہی کی طرح اللہ کی مخلوق ہیں۔ ہم نے کوئی بات لکھنے میں نہیں چھوڑی پھر یہ سب اپنے رب کی طرف سمے ٹی جائیں گے۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ١ؕ مَنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یُضْلِلْهُ١ؕ وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:39 in the Quran reader

وہ لوگ جو ہماری آیت کو جھٹلاتے ہیں وہ بہرے گونگے ہیں اور اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں ۔ اللہ جس کو چاہیے بھٹکنے دے اور جس کو چاہے سیدھی راہ پر لگا دے ۔

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ اَتَتْكُمُ السَّاعَةُ اَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 6:40 in the Quran reader

ذرا پوچھ کر دیکھئے کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب ٹوٹ پڑے یا اچانک قیامت ہی آجائے کیا اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے ؟ اگر تم سچے ہو۔

بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:41 in the Quran reader

(ہر مصیبت میں) تم اسی کو پکارتے ہو۔ پھر اگر وہ چاہتا ہے تو جس مصیبت کے سلسلے میں پکارتے ہو وہ اسے دور کردیتا ہے اس وقت تم ان سب (معبودوں ) کو بھول جاتے ہو جنہیں تم نے اللہ کا شریک ٹھہرارکھا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 37 تا 41 : نزل (نازل کیا گیا) دآ بۃ (زمین میں رینگ کر چلنے والے جاندار) طائر (پرندہ) جناحیہ (جناح) پر۔ اڑنے کے بازو) ‘ امم (امتیں۔ جماعتیں) امثالکم ( تم جیسے) من یشاء اللہ (جسے اللہ چاہتا ہے) ‘ تدعون ( تم پکارتے ہو) یکشف (وہ کھول دے گا۔ کھولتا ہے) ‘ تنسون ( تم بھول جاتے ہو) ۔ تشریح : آیت نمبر 37 تا 41 : ان آیات میں نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ یہ جو کفار اور مشرکین نئے نئے معجزات اور نشانیوں کی فرمائشیں کررہے ہیں ‘ یہ ایمان لانے کی خاطر نہیں بلکہ بات ٹالنے اور بہانے تراشنے کی خاطر ہے اگر ان کی فرمائش پوری کردی جائے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں اس کے بعد یہ میزد فرمائشیں کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کو معجزہ اور نشانی بھیجنے کی ہر طرح قدرت ہے جیسا کہ وہ اپنے معجزے بھیجتارہا ہے لیکن مزید معجزہ بھیجنا اس کی تکوینی مصلحت نہیں ہے۔ سورة مائدہ میں اللہ تعالیٰ نے صاف صاف فرمادیا ہے کہ جو لوگ مزید معجزہ کی فرمائش کررہے ہیں اگر وہ پوری کردی جائے اور پھر بھی وہ ایمان نہ لائیں تو ان کو شدید ترین سزادی جائیگی۔ یہاں یہ کہا جارہا ہے کہ یہ فرمائش کرنے والے اکثر و بیشتر نادا ان ‘ احمق ‘ اور جاہل ہیں۔ ان کے کہنے پر اللہ تعالیٰ اپنی بات بدلنے والا نہیں ہے۔ یہ ایمان لانا چاہیں تو بہت سارے معجزے موجود ہیں۔ قرآن ہے۔ خود نبی ﷺ کی سیرت پاک اور اعلی کردار ہے۔ صحابہ کرام کی سیرت و کردار ہے۔ قرآنی پیشن گوئیاں ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر ان کے چاروں طرف جو جاندار اور بےجان چیزیں ہیں یہ سب قدرت کے معجزات ہی تو ہیں۔ کس طرح وجود میں لائی گئی ہیں ؟ کس طرح زندہ رکھی جارہی ہیں ؟ کس قانون اور نظام کے تحت جکڑی ہوئی ہیں ؟ کون سا مقصدحیات پوراکررہی ہیں ؟ کون رزق دے رہا ہے ؟ کون اڑارہا ہے یا تیرا رہا ہے یا چلارہا ہے ؟ ان میں سے ایک ایک چیز پر اگر غور کیا جائے تو اللہ کی شان صاف نظر آجاتی ہے۔ سائنس اللہ کی قدرت پر تحقیق کرتی ہے۔ ہر ہ قدم پر اس کو ہزاروں معجزات نظر آتے ہیں لیکن کافر غور کرنے سے دور بھاگتا ہے کہ آخر انہیں اس طرح کس نے بنایا اور کیوں بنایا۔ اسی لئے بیشتر سائنس دان ایمان سے محروم رہتے ہیں الا ماشاء اللہ۔ وہ پہلا شخص جس نے چاند قر قد رکھا یعنی نیل آرم اسٹرانگ ‘ اپنے خلائی سفر سے واپسی کے بعد یہی سوچنے لگا کہ خلائیات اور طبیعات کے وہ اصول کس نے بنائے جن کی بنیاد پر یہ سفر کامیا ہوسکا اور کیوں بنائے ہیں ؟ اس سوچ نے اس کے دل کو ایمان سے لبریز کردیا اور وہ مسلمان ہوگیا۔ لیکن اس سفر میں اسے اور دوسرے خلابازوں کو بھیجنے والے ہزاروں سائنس داں ‘ انجینئر ‘ میکانک کافر کے کافر ہی رہ گئے چونکہ انہوں نے اس پہلو سے غور نہیں کیا۔ یہی حال مکہ کے ان کفار اور جاہلین کا تھا۔ وہ ” کون اور کیوں “ پر غور کرتے تو قدم قدم پر معجزات ہی معجزت پالیتے۔ انفس و آفاق ہی کی کیا خصوصیت ہے ‘ انسان خود اپنی جسمانی ‘ ذہنی ‘ عقلی ‘ مشینریوں پر غور کرے تو اللہ کو پاسکتا ہے۔ اوپر کی مثال وضاحت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نیل آرم اسٹرانگ کو ایمان کی توفیق بخشی ‘ بقیہ سب کو اندھیروں میں بھٹکتے ہوئے چھوڑ دیا۔ حضور ﷺ کے زمانے میں بہت سے لوگوں نے ان ہی فطرتی معجزات کو دیکھ کر ایمان قبول کیا۔ کچھ وہ بھی تھے جن پر کوئی آفت اور مصیبت ٹوٹی اور مدد کے لئے ان کے دلوں نے اللہ ہی کو پکارا۔ کتنے کٹر سے کٹر منافق اور کافر بیماری میں ‘ خصوصاً موت کی بیماری میں ‘ اللہ کے سوا کسی اور کو نہیں پکارتے۔ عکرمہ بن ابی جہل ایک جہاز پر تھے کہ شدید طوفان آگیا۔ سارے مسافروں نے اللہ ہی کو پکارا۔ جب جہاز سلامتی سے ساحل پر آگیا تو حضرت عکرمہ سیدھے رسول کریم ﷺ کے پاس پہنچے۔ اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگئے اور تمام زندگی جہاد کرتے رہے۔ ایسی مثالیں اس بات کی دلیل ہیں کہ ایمان کی چنگاری ہر دل میں موجود ہے لیکن دنیا کے مفادات اور اندھی تقلید سے بجھی سی رہتی ہے۔ صرف ذرا اسکو ہوا د ینے کی ضرورت ہے پھر وہی چنگاری شعلہ بن کر جایا کرتی ہے۔
Ayahs 6:42–45

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 6:42 in the Quran reader

اور ہم نے آپ سے پہلے ہبت سی قوموں کی طرف رسول بھیجے تھے۔ ان قوموں کو مصیبتوں اور تکالیف میں مبتلا کیا تاکہ وہ گڑ گڑاتے ہوئے ہمارے سامنے عاجزی کریں۔

فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:43 in the Quran reader

لیکن جب ہماری طرف سے ان پر آفتیں نازل ہوئیں تو کیوں نہ انہوں نے عاجزی اختیار کی ؟ لیکن ان کے دل تو اور سخت ہوگئے اور شیطان نے انہیں فریب دیا کہ جو کچھ تم کررہے ہو بہت اچھا کررہے ہو۔

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ Open ayah 6:44 in the Quran reader

جب انہوں نے ہماری نصیحتوں کو بھلادیا ‘ پھر ہم نے ہر طرح خوش حالیوں کے دروازے ان پر کھول دیئے۔ یہاں تک کہ ہماری عنایات میں گم ہو کر وہ خوب مست ہوگئے۔ اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اب ان کے سامنے نامیدی ہی ناامیدی تھی۔

فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ؕ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 6:45 in the Quran reader

اس طرح ہم نے ظالموں کی جماعت کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ بیشک ہر تعریف اللہ ہی کے لئے ہے۔ جو کائنات کا پالنے والا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 42 تا 45 : الباسآء (باس) سختیاں ( یتضرعون) وہ عاجزی کرتے ہیں ‘ قست ( سخت ہوگئے) ‘ زین (خوبصورت ہوگئے) ‘ نسوا (وہ بھول گئے) فتحنا ( ہم نے کھول دیا) ‘ ابواب (دروازے) فرحوا ( وہ خوش ہوگئے) ‘ اوتوا (دیئے گئے) اخذنا ( ہم نے پکڑ لیا) مبلسون ( مایوس ہوجانے والے) قطع ( کاٹ دیا گیا) ‘ دابرالقوم (قوم کی جڑ) ۔ تشریح : آیت نمبر 42 تا 45 : اللہ کی طرف سے انسانی فرد یا جماعت کی آزمائش دو طرح سے ہوتی ہے۔ مصیبتوں کے ذریعہ یا عیش عشرت کے ذریعہ ‘ مصیبت کے وقت اس کے سامنے دوراستے کھلے ہوتے ہیں یا تو اللہ کے سامنے روئے ‘ عاجزی کرے ‘ گڑ گڑائے ‘ توبہ کرے ‘ معافی مانگے ‘ یہی وہ راستہ ہے جدھر اللہ کے رسول اور انبیاء بلاتے ہیں۔ دوسرا یہ راستہ ہے کہ ہٹ دھرمی دکھائے ‘ بغاوت کرے ‘ ضد اور سر کشی سے گردن اکڑائے۔ دل اور سخت کرلے۔ یہی وہ راستہ ہے جسے شیطان ان کی نگاہوں میں حسین اور دلکش بنا کر پیش کرتا ہے ہے کہ جو کچھ تم کررہے ہو وہی عاقلانہ ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ جب کسی کو بلاوجہ گھمنڈ ہوجائے کہ میں عقل مند ہوں ‘ سمجھ لینا چاہیے کہ شیطان اسے بیوقوف بنارہا ہے۔ دوسرا امتحان زیادہ خطرناک ہے امام احمد حنبل (رح) جب قید اور کوڑوں کی سزاؤں سے کامیاب گزر گئے تب ان پر شاہی عنایات کی بارش ہونے لگی۔ اس وقت انہوں نے یہی کہا کہ یہ تو زیادہ شدید امتحان ہے۔ یہ دوسرا امتحان یوں زیادہ خطرناک ہے کہ اللہ تعالیٰ اس فرد یا اس قوم کو غلط فہمی میں مبتلا رکھنے کے لئے اپنی بخششوں کا دروازہ اور زیادہ کھول دیتا ہے۔ وہ قوم عنایات میں گم ہو کر بد مست ہوجاتی ہے یہاں تک کہ ایک دن اللہ کا عذاب اچانک پکڑ لیتا تاریخ انسانی ایسے ہزاروں واقعات سے بھری پڑی ہے۔ جن اہم ترین سوالات کا جواب دینے سے سائنس آج تک کترارہی ہے اور نہ جانے کب تک کتراتی رہے گی۔ اسلام نے ان کا بہتر ینجواب چودہ سو سال پہلے ہی دیدیا ہے۔ یہ کائنات بیشمار لا تعداد چھوٹی بڑی ” کائناتوں “ پر مشتمل ہے۔ یہ ذیلی کائناتیں ایک دوسرے سے ربط ضبط ‘ سبب اور نتیجہ کے رشتوں میں بندھی ہوئی ہیں اور اس طرح ایک مکمل نظام ہیں۔ خواہ وہ رشتے ہمیں نظرآئیں یا نہ آئیں۔ یہ دنیائیں زمان و مکان کے ساتھ بد لتی رہتی ہیں۔ ہر تبدیلی اپنی جگہ ایک کائنات ہے اب چار سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ (1) کیا بنایا ؟ اپنے تمام اجسام ‘ تمام باہمی حرکات ‘ رابطے ضابطے ‘ اور تمام تبدیلیوں کے ساتھ ایک مکمل نظام بنا دیا۔ (2) کس نے بنایا ؟ اللہ نے (3) کیو بنایا ؟ ربوبیت کے لئے۔ اس نے دعوت غور و فکر کے ساتھ تمام سائنس کے پہلو آجاتے ہیں۔ (4) کیسا بنایا ؟ تعریف ہی تعریف ‘ دعوت مطالعہ و مشاہدہ کے ساتھ تمام آرٹس کے پہلو آجاتے ہیں۔ یہ چار لفظی آیت جواب دیتی ہے کیا ‘ کون ‘ کیوں اور کیسا۔ یہاں پر جو یہ آیت آئی ہے تو کہنا یہ ہے کہ یہ آزمائشیں کبھی سختیوں کے ذریعہ ‘ کبھی آسائشوں کے ذریعہ آتی ہیں اسی طرح پیغمبروں کی نصیحتیں ‘ یہ شیطان کا طلسم و فریب ‘ یہ انعامات اور یہ سزائیں دنیا میں اور آخرت میں۔ یہ سب اللہ کے نظام کا حصہ ہے۔ دنیا کا نظام اسی طرح چلایا جارہا ہے۔ اور اجمالی طور پر بہت خوب چلایا جارہا ہے۔ تمام تعریفیں صرف اللہ ہی کے لئے ہیں۔
Ayahs 6:46–47

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَ خَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِهٖ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ هُمْ یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:46 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ذرا پوچھ کر دیکھئے تو سہی کہ اگر اللہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر کردے تو اللہ کے سوا کوئی معبود ہے جو تمہیں یہ چیزیں واپس دلاسکے ؟ دیکھئے ہم کس طر ح دلائل لارہے ہیں۔ پھر بھی وہ کترا جاتے ہیں۔

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:47 in the Quran reader

ذرا پوچھ کر دیکھئے تو سہی اگر اچانک تم پر اللہ کا ظاہر یا پوشیدہ عذاب آجائے تو کیا ظالم لوگوں کے سوا کوئی اور ہلاک ہوگا ؟

لغات القرآن : آیت نمبر 46 تا 47 : سمعکم ( تمہارے سننے کی طاقت) ‘ ابصارکم (تمہارے دیکھنے کی طاقت) ‘ ختم ( اس نے مہر لگادی) ‘ من الہ ( کون معبود ہے ؟ ) ‘ یا تیکم بہ ( جو اسکو لے آئے گا) ‘ نصرف ( ہم بدل بدل کر لاتے ہیں) ‘ یصدقون ( وہ منہ پھیرتے ہیں ) ۔ تشریح : آیت نمبر 46 تا 47 : ظاہری معنی یہ ہیں۔ اگر اللہ تمہیں بہرایا اندھا یا دیوانہ بنادے۔ باطنی معنی یہ ہیں۔ جسمانی صحت کے باوجو اگر کان نصیحت نہ پکڑیں ‘ اگر آنکھیں عبرت نہ پکڑیں ‘ اگر دل اور دماغ ذہن و فکر سے محروم ہوجائیں ۔ پھر ؟ تمام میڈیکل سائنس کے باوجود یہ گارنٹی نہیں ہے کہ بہرے کی سماعت ‘ اندھے کی بصارت اور دیوانے کی عقل واپس آجائے۔ علاج ایک تدبیر ہے لیکن علاج میں اثر دینے والا تو اللہ ہی ہے۔ اور بلاعلاج شفا دینے والا بھی وہی ہے۔ قوم نوح ‘ قوم عاد ‘ قوم ثمود ‘ قوم فرعون وغیرہ کی تاریخ گواہ ہے کہ صرف گناہ گار ہی ہلاک ہوئے ہیں اور اہل ایمان بچا لئے گئے ہیں۔ اب اگر اللہ تمہیں چھوٹا عذاب دینا چاہیے تو دوسرا کون ہے کو اس سے انہیں بچا سکتا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ ایمان کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے جو انہیں اللہ کے عذاب سے بچا سکتا ہو۔
Ayahs 6:48–50

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 6:48 in the Quran reader

اور ہم پیغمبروں کو صرف اسی لئے بھیجتے ہیں کہ نیکوں کو خوشخبری سنائیں اور بروں کو عذاب سے ڈرائیں۔ اس لئے جو ایمان لے آیا اور اپنی اصلاح کرلی اس کے لئے نہ کوئی بات ڈر کی ہے نہ کوئی بات افسوس کی۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 6:49 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلائیں گے وہ اپنے گناہوں کے سبب سزا بھگت کر رہیں گے۔

قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّیْ مَلَكٌ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ؕ اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 6:50 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں یا عالم الغیب ہوں اور میں تم لوگوں سے یہ بھی نہیں کہتا کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف ان احکام کی پابندی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی کے ذریعہ بھیجے جاتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ کیا اندھا اور آنکھیں والا دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ کیا تم سوچ سمجھ سے کام نہیں لیتے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 48 تا 50 : مبشرین (خوش خبری دینے والے) منذرین (ڈرانے والے۔ آگاہ کرنے والے) ‘ یمسھم ( وہ ان کو چھوئے گی۔ پہنچے گی) لا اقول ( میں نہیں کہتا) اعلم الغیب ( میں غیبت جانتا ہوں) اتبع ( میں پیروی کرتا ہوں۔ پیچھے چلتا ہوں) یستوی (برابر ہے) ‘ الاعمی ( اندھا) البصیر ( دیکھنے والا) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 48 تا 50 : ان آیات میں منصب رسالت کو اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے۔ پیغمبر کا کام اسی قدر ہے کہ ایمان لانے والوں کو جنت کی بشارت دیں اور دوسروں کو عذاب الٰہی سے ڈرائیں۔ ایمان کی سرحد محض دعوے پر ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ آگے بڑ ھ کر وحی جلی اور وحی خفی کی تعمیل بھی ضروری ہے۔ اب جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور وحیالٰہی کی پابندی کرتے ہیں۔ موت کے بعد انہیں کسی قسم کا خوف اور خطرہ نہیں ہے۔ نہ انہیں کوئی حسرت وافسوس ہوگا۔ لیکن جو لوگ اللہ کی آیات کو جھٹلائیں گے وہ اپنا برا انجام اچھی طرح سوچ لیں۔ منصب رسالت کو واضح کرنے کے لئے کہا گیا ہے کہ نبی دولتوں اور خزانوں کا مالک نہیں ہوتا۔ وہ اللہ کی طرح ہرگز عالم الغیب نہیں ہوتا اگرچہ پیغام الٰہی میں کچھ پیشن گوئیاں شامل ہو سکتی ہیں۔ وہ فرشتہ نہیں ہوتا بلکہ سرتاپا انسان ہوتا ہے۔ ہاں اس پر اللہ کا پیغام نازل ہوتا ہے جس کی وہ خود بھی اطاعت کرتا ہے اور دوسروں کو بھی اطاعت کی دعوت دیتا ہے۔ یہ بات کچھ اسی زمانے میں نہ تھی بلکہ آج بھی ہے کہ نادان عوام الناس نیک اور پارسا بزرگوں کی طرف سے طرح طرح کے خوش عقیدے رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ بھلا وہ بھی کوئی نیک آدمی یا پیغمبر ہو سکتا ہے جو پریشان حال ہو۔ گھر والوں کو فاقے سے رکھے۔ اور ضرورت پڑنے پر دوسروں سے قرض بھی لے۔ بزرگ یا پیغمبر تو وہ ہونا چاہیے کہ جو مٹی کو چھوئے تو سونا بنادے جن کو حکم دے تو صحن میں نوٹوں کے پلندے لگ جائیں۔ بھلا وہ کیسا پیغمبر ہے جو یہ بھی نہیں جانتا کہ کل کیا ہونے والا ہے ‘ کس تجارت میں فائدہ ہوگا کس میں نقصان۔ اور کون کب مرے گا۔ ان کے گمان مے مطابق جب کہ معمولی سے معمولی ‘ بخومی ‘ فال گیر اور کاہن یہ سب کچھ فوراً سکتے ہیں۔ بھلا وہ بھی کوئی پیغمبر ہے جو انسانوں کی طرح گوشت پوست اور ضروریات زندگی رکھتا ہے ‘ کھاتا ہے ‘ سوتا ہے ‘ بیوی بچے رکھتا ہے اور سڑکوں پر چلتا پھرتا ہے۔ اسے تو فرشتہ یا کم ازکم جادو والا جن ہونا چاہیے تھا۔ یہ اور اسی طر ح کی ہزاروں باتیں وہ کیا کرتے تھے ۔ ان آیات میں حضور ﷺ کی زبانی کہلوا دیا گیا ہے کہ مجھ سے غلط امیدیں نہ باندھی جائیں۔ میرا کام اللہ کا پیغام وصول کرنا ہے اور پہنچادینا ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے ہر ایک کو اپنے انجام کی خبر ہونی چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر پر وحی نازل ہوتی ہے۔ وحی سے اسے ایک خاص علم ‘ ایک خاص عقل ایک خاص روشنی ملتی ہے ‘ وہی آنکھ والا ہوتا ہے ‘ وہی دانا و بینا ہے۔ بقیہ سب اس کے مقابلے میں ان جیسی بصارت نہیں رکھتے۔ اس لئے فرمایا کہ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کیا جس کو اللہ نے وحی کی روشنی اور علم عطا کیا ہے وہ اس کے برابر ہو سکتا ہے جو زندگی بھراندھیروں میں بھٹکتارہا ہو۔ ؟
Ayahs 6:51–55

وَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:51 in the Quran reader

اور اے نبی ﷺ ! آپ اس قرآن کے ذریعہ ان لوگوں کو ڈرائیے جو اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جب وہ اپنے رب کے سامنے اس حال میں پیش کئے جائیں گے کہ نہ ان کا کوئی مدد گار ہوگا نہ سفارشی۔ شاید کہ وہ اللہ سے زیادہ ڈرنے والے ہوں۔

وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ١ؕ مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:52 in the Quran reader

ان لوگوں کو جو اپنے رب کو صبح و شام پکارتے رہتے ہیں اور اس کی خوشنودی کے طلب گار ہیں۔ ان کو اپنے سے دور نہ کیجئے۔ وہ جو کچھ کریں گے اس کے حساب کا بوجھ آپ پر نہیں ہے۔ جو آپ کریں گے اس کے حساب کا بوجھ ان پر نہیں ہے۔ اس لئے اگر آپ انہیں دور کریں گے تو آپ کا شما ر بےانصافوں میں ہوجائے گا۔

وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَا١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:53 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے چند لوگوں کے ذریعہ چند لوگوں کو آزمایا ہے تاکہ وہ انہیں دیکھ کر کہیں ” کیا یہی وہ لوگ ہیں جنہیں ہم سب میں منتخب کر کے اللہ نے ان پر فضل و کرم کیا ہے “ ؟ ۔ ہاں کیا اللہ اپنے شکر گزار بندوں کو ان سے زیادہ نہیں جانتا ؟

وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:54 in the Quran reader

جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لاچکے ہیں تو آپ ان سے کہئے کہ تم پر سلامتی ہو آپ کے رب نے رحمت کرنا اپنے آپ پر لازم کرلیا ہے۔ تم میں سے جو کوئی نادانی میں آکر گناہ کر بیٹھے۔ پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور اپنی اصلاح کرلے تو اللہ مغفرت کرنے والا بھی ہے اور رحمت کرنے والا بھی ہے۔

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 6:55 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم اپنی آیات کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ مجرم کو ن لوگ ہیں اور کیا کرتے ہیں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 55 : انذر (توڈرادے) یخافون ( وہ خوف رکھتے ہیں) ‘ ان یحشروا ( یہ کہ وہ جمع کیے جائیں گے) ‘ شفیع (سفارشی) لاتطرد (تو نہ نکال) یدعون ( وہ پکارتے ہیں) ‘ الغدوۃ ( صبح کے وقت) ‘ العشی (شام کے وقت۔ رات کے وقت) ‘ وجہ ( ذات۔ چہرہ) ماعلیک ( تیرے اوپر ذمہ داری نہیں ہے ) ‘ فتنا ( ہم نے آزمایا) ‘ من اللہ ( اللہ نے احسان کیا) ‘ کتب (لکھ لیا گیا) سوء ا (برائی۔ گناہ) بجھالۃ (نادانی سے ۔ ناوقفیت میں) تستبین (ظاہر ہوجانا۔ کھل جانا) سبیل المجرمین ( مجرموں کا راستہ) ۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 55 : ان آیات میں تبلیغ کے پانچ بنیادی اصول بتائے گئے ہیں۔ (1) تبلغی تو ان لوگوں کو بھی کرنی ہے جو کٹر کافر ہیں اور کسی طرح بات مان کر نہیں دیتے۔ مگر مبلغ کو چاہیے کہ زیادہ وقت اور محنت ان لوگوں پر لگائے جو قیامت کے دن کا خوف رکھتے ہیں۔ جو شخص قیامت کا خوف رکھے گا وہ لازماً توحید پر ‘ رسالت پر ‘ فرشتوں پر ‘ کتب الٰہیہ پر ‘ سزا و جزا پر ایمان رکھے گا۔ تبلیغ صاحب ایمان کو صاحب تقویٰ بناتی ہے۔ تقوی کا راستہ جہاد اور ایسے مجاہدین پیدا کرنا ہے جو اسلام کی سچائیوں کو لے کر آگے بڑھتے ہیں۔ ان لوگوں کو اپنے آپ سے دور کرنا نہیں ہے جو ایمان لاچکے اور دن رات اپنے پروردگار کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ بلکہ ان کی دل جوئی کرنا ہے۔ (2) امیر لوگ کافروں کی وجہ سے غریب مومنوں کی دل شکنی نہ کریں۔ (3) اپنے حلقہ اثر میں السلام علیکم پھیلانا ‘ ملنا جلنا اور سماجی تعلقات رکھنا ‘ کیونکہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ تم سلام کو پھیلائو۔ (4) غلطیوں اور قصوروں کو معاف کرنا کہ اللہ بھی مغفرت والا اور رحمت والا ہے بشرطیکہ گناہ گار توبہ کرلے اور آئندہ کے لئے اپنی اصلاح کرلے ۔ (5) اسلام کے پیغام کو کھول کر بیان کرنا۔ معنی و مطلب کو ذہن نشین کرانا اور مجرموں پر منطق اور پیغام پہنچانے کے حق کو ادا کرنا۔ ان آیات کا شان نزول یہ ہے کہ کفار مکہ کے چند امیر کبیر سردار ابو طالب کے پاس پہنچے اور کہا ہم لوگ آپ کے بھتیجے کی محفل میں بیٹھنا اور باتیں سننا چاہتے ہیں مگر وہاں وہ لوگ بیٹھے رہتے ہیں جو غریب اور مفلس ہیں اور ان میں سے کچھ لوگ تو کبھی ہمارے غلام تھے۔ تم اپنیبھتیجے سے کہو کہ جب ہم لوگ آئیں تو ان مفلسوں کو اپنی محفل سے نکال دیا کریں۔ تاکہ ہم بیٹھ کر باتیں سن سکیں۔ جب یہ بات ابو طالب نے حضور ﷺ کو سنائی تو وہاں پر حضرت عمر بھی موجود تھے۔ انہوں نے رائے دی کہ آپ یہ بھی کر کے دیکھئے۔ یہ مومنین تو اپنے لوگ ہیں۔ برا نہیں مانیں گے۔ اور اس طرح ممکن ہے اللہ کا پیغام کسی کا فرسردار کے میں اثر کر جائے۔ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی جس میں سختی سے حضور ﷺ کو اس بات سے منع کردیا گیا۔ حضرت عمر فاروق ؓ اپنی رائے کی غلطی دیکھ کر سخت پریشان اور پشیمان ہوئے۔ ان کی تسلی کے لئے یہ آیات نازل ہوئیں کہ اللہ نے رحمت کرنا اپنے آپ پر لازم کرلیا ہے تم میں سے جو کوئی نادانی میں آکر گناہ کر بیٹھے۔ پھر اس کے بعد تو بہ کرلے اور اپنی اصلاح کرلے تو اللہ بھی مغفرت اور رحمت سے پیش آئے گا۔ ان آیات نے ایک بات کی خاص وضاحت کردی ہے۔ وہ یہ کہ دولت و ریاست اور ایمان وتقویٰ کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ جیسا ہر پیغمبر کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ ایمان لانے والے مخلصین اور مجاہدین میں اولین اور سابقین کا درجہ اکثر و بیشتر غریبوں کو حاصل رہا ہے۔ اور اکثر و بشترو دولت و دینار رحمت نہیں زحمت ثابت ہوئی ہے اس نے لوگوں کو اللہ سے غافل کردیا ہے۔ اس نے نخوت اور شان غرور پیدا کی ہے۔ اس نے اللہ کی راہ میں مال ‘ وقت اور جان کی قربانی سے روکا ہے۔ دولت مند کفار کی طرف سے اسی قسم کی خواہش حضرت نوح (علیہ السلام) کی خدمت میں بھی پیش کی گئی تھی کہ آپ ان ارذل لوگوں کو نکا ل دیجئے تو پھر ہم لوگ آکر بیٹھیں گے۔ اس کا جواب حضرت نوح (علیہ السلام) نے یہ دیا تھا کہ مجھے کیا معلوم کہ کون ارذل کون اشرف ہے اس کا تعلق ایمان سے ہے اور ایمان کا حال اللہ کو معلوم ہے۔ کچھ یہی جواب ان آیات میں حضور ﷺ کی زبانی بھی دلوایا گیا ہے کہ جو وہ کریں گے ان کے حساب کا بوجھ آپ پر نہیں ہے۔ اور جو آپ کریں گے اس کے حساب ا بوجھ ان پر نہیں ہے۔ ان آیات میں توبہ پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ ممکن ہے اس کا تعلق حضرت عمر کے واقعہ سے ہو لیکن اس کے لب و لہجہ کا عموم ہر زمان ومکان کو محیط ہے۔ اگر کوئی بھی شخص بغاوت میں آکر نہیں نادانی ‘ حماقت یا غفلت یا وقتی لغزش میں آکر کوئی گناہ صغیرہ کرے تو بعید ہیں کہ اللہ تعالیٰ معاف کردے کیونکہ رحمت کرنا اس نے اپنے اوپر لازم کرلیا ہے۔ ان آیات میں حضور نبی کریم ﷺ سے کہا جارہا ہے کہ کسی شخص سے مجلسی یا سماجی دوری نہ برتیں خواہ وہ وقتی ہو یا سیاسی ہو صرف اس بنیاد پر کہ وہ غریب ہے۔ بلکہ تمام امیر و غریب مو منین سے تعلقات کو شیریں اور شیریں تر بنائیں جس کا اولین مظاہرہ السلام علیکم ہے کہ ہم تم سے کوئی ضد نہیں رکھتے اور ہم تمہاری سلامتی کے لئے دعا گو ہیں یہاں بھی اور وہاں بھی۔
Ayahs 6:56–58

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَهْوَآءَكُمْ١ۙ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:56 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ! ) صاف صاف کہہ دیجئے کہ ان چیزوں کی عبادت و بندگی سے مجھے منع کردیا گیا ہے جنہیں تم لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہو۔ یہ بھی کہہ دیجئے کہ میں تمہاری خواہشات پر نہیں چل سکتا۔ اگر میں نے ایسا کیا تو مگر اہ ہو جائوں گا۔ اور ہدایت پانے والوں میں شامل نہ رہوں گا۔

قُلْ اِنِّیْ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ كَذَّبْتُمْ بِهٖ١ؕ مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ یَقُصُّ الْحَقَّ وَ هُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ Open ayah 6:57 in the Quran reader

کہہ دیجئے میرے رب کی طرف سے میرے پاس روشن دلیل پہنچ چکی ہے جس پر میں قائم ہوں۔ جسے تم نے جھٹلادیا ہے۔ جس چیز کی تم جلدی مچا رہے ہو میرے پاس وہ نہیں ہے۔ اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں چلتا۔ اس نے وہ بات جتادی جو حق تھی۔ اور وہ سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا ہے۔

قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:58 in the Quran reader

کہہ دیجئے اگر میرے اختیار میں وہ چیزہوتی جس کے آنے کی تم جلدی مچا رہے ہو تو میرے اور تمہارے درمیان کبھی کا قصہ طے ہوچکا ہوتا۔ اور تمام ظالموں کو اللہ خوب جانتا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 56 تا 58 : نیھت (میں روکا گیا ہوں) ان اعبد (یہ کہ میں عبادت و بندگی کروں) لا اتبع ( میں پیروی نہ کروں گا) ‘ قد ضللت ( یقیناً میں بہک جاؤں گا) عندی (میرے پاس) تستعجلون (تم جلدی مچاتے ہو۔ جلدی کرتے ہو) الحکم (حکم ۔ فیصلہ) یقص ( وہ بیان کرتا ہے) ‘ الفصلین (فیصلہ کرنے والے۔ جدا کرنے والے) ‘ لو ان عندی ( اگر بیشک میرے پاس ہوتا) لقضی الامر (البتہ معاملے کا فیصلہ کردیا جاتا) ۔ تشریح : 56 تا 58 : آیت 56 میں بتایا گیا ہے کہ شرک کیا ہے ؟ (1) اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی اور پرستش کرنا۔ (2) شیطانی ہوا و ہوس کے پیچھے بھاگنا۔ (3) ہدایت کی راہ چھوڑ کر گمراہی کے گڑھے میں گر پڑنا۔ آیت 57 میں بتایا گیا ہے کہ اسلام کیا ہے ؟ (1) اللہ کی طرف سے روشن دلیل یعنی وحی جل اور وحی خفی (2) اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں چلتا۔ (3) حق یعنی سچی بات ‘ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی پابندی (4) قیامت کے دن صرف اللہ ہی فیصلہ فرمائیں گے۔ آیت نمبر 58 میں کفر اور نبوت کے مقامات کا فرق واضح کیا گیا ہے کفر کہتا ہے اگر تم سچے ہو تو ابھی فوراً عذاب لے آئو۔ نبوت کا جواب ہے ” عذاب لے آنا ابھی ایا کبھی میرے اختیار میں نہیں ہے مگر ایک دن عذاب آئے گا۔ اللہ ایک ایک گنہ گار کو پہچانتا ہے۔ توحید اور شرک کے درمیان کوئی مفاہمت کوئی سمجھوتہ نہیں ہے۔ گرو نانک کے سکھ مذہب نے سمجھوتہ کی بڑی کوشش کی ہے۔ گرنتھ صاحب اور ان کی دوسری کتابوں میں معبود کہیں ایک ہے اور کہیں ایک سے زیادہ اور کہیں ایک سے بہت زیادہ۔ یہ تو ذات کا معاملہ ہوا۔ رہیں صافت ‘ تو ان میں اس سے بھی زیادہ پیچیدگی اور معمہ ہے۔ اللہ کی شان ہے کہ دین بددین اور لادین سب کے ماننے والے موجود ہیں۔
Ayah 6:59

وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:59 in the Quran reader

اور اسی کے پاس غیب کے خزانے ہیں وہ غیب جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جو کچھ خشکی میں ہے اور جو کچھ تری میں ہے وہ ہر چیز سے واقف ہے اور کوئی پتہ زمین پر نہیں گرتا مگر اسے معلوم ہوتا ہے۔ اور کوئی دانہ بھی جو زمین کی گہرائیوں میں ‘ اور خشکی پر موجود ہے۔ وہ روشن کتاب میں درج ہوتا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 59 : مفاتح الغیب (غیب کی کنجیاں۔ غیب کے خزانے) ماتسقط ( نہیں گرتی۔ نہیں گرتا) ورقۃ ( پتہ) حبۃ ( دانہ) رطب ( تر) یا بس (خشک) ۔ تشریح : آیت نمبر 59 : مفتح یعنی میم پر زبر ڈال کر اور مفتح یعنی میم پر زیر ڈال کر مفتح کے معنی خزانہ اور مفتح کے معنی چابی ‘ لفظ مفاتیح جمع مفتح کی بھی اور مفتح کی بھی اور دونوں کا مطلب ایک ہے۔ لفظ غیب کے دو معنی ہیں۔ اول وہ چیزیں جو ابھی وجود میں نہیں آئیں لیکن اپنے وقت پر آئیں گی۔ دوسرے وہ چیزیں جو وجود میں آچکی ہیں لیکن اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ وہ چیزیں جو وجود میں آچکی ہیں یا جو اپنے وقت پر اپنی کسی مخلوق کو دے گا اور وہ بھی اتنی ہی جتنی اس کی مصلحت اجازت دے دوسرے وہ چیزیں جو وجود میں آچکی ہیں یا جو اپنے وقت پر اپنی کسی مخلوق کو دے گا اور وہ بھی اتنی ہی جتنی اس کی مصلحت اجازت دے دوسرے وہ چیزیں جو وجود میں آچکی ہیں یا جو اپنے وقت پر وجود میں آئیں گی جن کی معلومات اللہ کسی مخلوق کو نہیں دے گا۔ وحی کے ذریعہ نبی کو غیب کی چند معلومات دی جاتی ہیں۔ بزرگان دین کو کشف و کرامات کے ذریعہ چند معلومات دی جاتی ہیں ۔ سائنس دان ‘ اہل ایجاد ‘ شعراء ‘ حکماء وغیرہ کو یہ معلومات مشاہدہ کے ذریعہ دی جاتی ہیں۔ اور عام انسانوں کو یہ معلومات حواس خمسہ کے ذریعہ دی جاتی ہیں۔ غیر نبی کے لئے جب وحی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے تو اس کے معنی الہام کے ہیں۔ قرآن میں کہا گیا ہے کہ ہم نے انسان پر فجور اور تقویٰ دونوں راہیں الہام کردی ہیں۔ یہ کہہ کر کہ ” اسی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں “۔ کسی بند اور محفوظ خزانہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے چابی والا جب چاہتا ہے اور جتنا چاہتا ہے اندر سے باہر اور باہر سے اندر چیز کو لے آتا ہے۔ اس کی مثال و ہ بشارتیں ‘ وہ پیش گوئیاں اور وہ معلومات ہیں جو صرف پیغمبر اسلام ﷺ کو بذریعہ وحی جلی یا وحی خفی دی گئیں اور دوسرے انسانوں کو بذریعہ قرآن و حدیث دی گئیں۔ ان میں قبر و قیامت کی معلومات بھی شامل ہیں۔ یہ کہہ کر اسی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں شرک کی جڑیں کاٹ دی گئی ہیں اللہ کے سوا کوئی علام الغیوب نہیں ہے بلکہ نبی کے پاس بھی وہی معلومات ہیں اور اتنی ہی معلومات ہیں جو اسے وقتاً فوقتاً عطا کی گئی ہیں اور بس۔ اب اگر کوئی نجومی ‘ فال گیریا مست ملنگ غیب بتانے کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ جھوٹا ہے۔ رہیں وہ پیشن گوئیاں جو قیافہ ‘ قرینہ ‘ سائنس یا خصوصی آلات کے بل پر کی جاتی ہیں تو ان کا تعلق غیب سے نہیں ہے بلکہ حواس ‘ مطالعہ اور مشاہدہ سے ہے۔ مگر وہ بھی کبھی صحیح اور کبھی غلط نکلتی ہیں۔ اس لئے وہ یقینی نہیں ہیں اور جب بات عقل و دانس یا سائنسی آلات پر آگئی تو وہ غیب نہ رہی۔ اس آیت نے غیب کی تعریف انتہائی جامع و مانع طور پر کردی ہے ” وہ راز جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا “ اور جب کوئی راز یا اس کا ایک حصہ کسی غیر کی طرف منتقل کردیا جائے تو وہ غیب نہیں رہتا۔ وہ وحی یا الہام یا عام مشاہدہ بن جاتا ہے۔ غیب بیشمار بےاندازہ بےقیاس ہے اس کے مقابلے میں مشاہدہ ایک مختصر ‘ پتلی ‘ تنگ ‘ کمزور اور بےحقیقت جھلی ہے۔ غیب وسیع بھی ہے اور گہرا بھی۔ مشاہد زمان و مکان میں محدود ہے اور ہر شخص کا اپنا اپنا مشاہدہ اپنے اپنے طرز کے مطابق ہے۔ اسی بات کو اس آیت میں اس طرح ادا کیا گیا ہے کہ ” اور وہ جانتا ہے جو کچھ خشکیوں میں ہے او جو کچھ پانیوں میں ہے “ کیا اس سے زیادہ وسیع و عریض اور عمیق و دبینر تصور ممکن ہے ؟ اس سے یہ بات بھی ظاہر ہوئی کہ ہماری یہ دنیا اور نہ جانے کتنی دوسری دنیائیں خشکیوں اور پانیوں سے بنی ہیں اور ہماری اس دنیا کی ہر چیز کا تعلق خشکی سے ہے یا پانی سے۔ انسانی جسم نوے فی صد سیال ہے یعنی بہنے والے مادہ پر مشتمل ہے۔ ہر چیز مختلف حالتوں اور منزلوں سے گزرتی ہے۔ اللہ کا علیم غیب نہ صرہر چیز پر محیط ہے بلکہ اس کی ہر حالت اور ہر منزل پر بھی۔ یہ آیت آگے چل کر رہنمائی کرتی ” کوئی پتہ نہیں گرتا مگر اسے معلوم ہوتا ہے۔ اور نہیں ہے کوئی دانہ زمین کی گہرائیوں میں۔ اور نہیں ہے کوئی خشک اور نہیں ہے کوئی تر جو ایک روشن کتاب میں درج نہ ہو “۔ کون سا پتہ کس درخت میں ہے۔ کہاں ہے ‘ کب نکلا ‘ کس حال میں ہے ‘ کب گرے گا ‘ پھر گر کر کیا کیا بنے گا۔ کس غلہ کا کون سادانہ کس زمین میں ہے۔ کتنی گہرائی میں ہے ‘ کیا بنرہا ہے یا نہیں بن رہا ہے۔ کس منزل میں ہے ہر وہ چیز جس کا تعلق زمین سے ہے یا ہوا سے ہے یا پانی سے ہے کس منزل میں ہے۔ اس کا ماضی کیا تھا۔ حال کیا ہے ‘ مستقبل کیا ہوگا ‘ یہ سب اسے معلوم ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا علم صرف ظنی یا تخمینی نہیں بلہ یقینی ہے۔ اور ہر ایک شئے کی تقدیر لکھی ہوئی ہے۔
Ayah 6:60

وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُكُمْ فِیْهِ لِیُقْضٰۤى اَجَلٌ مُّسَمًّى١ۚ ثُمَّ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 6:60 in the Quran reader

اور وہ اللہ ہی تو ہے جو تمہیں رات کو سلا دیتا ہے اور جو کچھ تم نے دن بھر میں کیا ہے اسے وہ جانتا ہے پھر وہ تمہیں دن میں جگا دیتا ہے تاکہ تمہاری زندگی کی مقرر ہ مدت پوری ہوجائے ۔ پھر تمہیں اسی کی طرف واپس جانا ہے پھر وہ تمہیں بتا دیے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 60 : یتوفی ( وہ لے لیتا ہے۔ وہ وفات دیتا ہے) ‘ جرحتم ( تم نے عمل کیا) ‘ لیقضی (تاکہ فیصلہ کردیا جائے) ۔ تشریح : آیت نمبر 60 : جاگ اور نیند ‘ کام اور آرام ‘ دن اور رات ‘ زندگی اور موت کا ایک سلسلہ ہے جو ہر انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے تاکہ انسان ان تبدیلیوں اور انقلابات سے عبرت حاصل کرسکے۔ وہ لوگ جو آئندہ زندگی پر یقین نہیں کرتے وہ اس پر غور کریں کہ کس طرح نیند انہیں ہر روز آدبوچتی ہے۔ وہ نیند پر قابو نہیں پا سکتے۔ اسی طرح موت ان پر قابو پا لے گی۔ اور وہ موت پر قابو نہیں پا سکیں گے۔ کس طرح وہ ہر نیند کے بعد جاگ اٹھتے ہیں۔ اسی طرح وہ موت کی نیند کے بعد بھی جاگ اٹھیں گے اور حساب و کتاب کے لئے اللہ کے سامنے پیش کردیئے جائیں گے۔ اور قیامت کے دن جب دوسرا صور پھونکا جائے گا ‘ سارے مردے اپنی اپنی قبروں سے نکل پڑیں گے۔ پہلا جملہ جو وہ کہیں گے یہی ہوگا ” ہمیں کس نے نیند سے جگا دیا “۔
Ayahs 6:61–62

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ Open ayah 6:61 in the Quran reader

وہ اپنے بندوں پر تمام قدرتیں رکھتا ہے۔ اسی نے ان پر نگہبان فرشتے مقرر رکھے ہیں۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آپہنچتی ہے تو ہمارے فرشتے اس کی جان نکال لیتے ہیں۔ اور ( اس کام میں) وہ ذرا کوتاہی نہیں کرتے۔

ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ Open ayah 6:62 in the Quran reader

پھر سب اپنے حقیقی مالک یعنی اللہ کے پاس پہنچا دیئے جائیں گے۔ سن رکھو کہ فیصلہ اسی کا ہے۔ اور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 61 تا 62 : حفظۃ ( نگہبان۔ نگراں) ‘ لایفرطون ( وہ کمی نہیں کرتے ہیں) ردوا ( وہ لوٹائے گئے) ‘ اسرع ( وہ جلدی کرتا ہے) ۔ تشریح : آیت نمبر 61 تا 62 : کوئی اللہ کی گرفت سے چھوٹ کر بھاگ نہیں سکتا۔ نہ آج نہ کل۔ نہ موجودہ زندگی میں آئندہ زندگی میں۔ جب تک اللہ کا حکم ہے فرشتے انسانی جان کی حفاظت کرتے رہتے ہیں۔ اور جس جان کی وہ حفاظت کرتے رہے تھے دوسرا حکم الٰہی آتے ہی اسے نکا لنے میں ذرا دیر نہیں لگاتے۔ اور کام یہیں پر ختم نہیں ہوتا بلکہ یہی فرشتے قیامت کے دن اسے گھیر کر لائیں گے اور سزا و جزا کے لئے مالک حقیقی کے پاس حاضر کردیں گے۔ فرمایا ” مولھم الحق “۔ مولیٰ کا لفظ قدرت اور رحمت دونوں کو سمیٹتا ہے۔ اس کے انصاف میں قوت قاہر ہ بھی ہوگی۔ اور رحمت فاضلہ بھی اور اس کا انصاف بالکل حق پر مبنی ہوگا۔ دیکھا جائے گا کس نے حق کا راستہ اختیار کیا ‘ کس نے حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کیئے ؟ فرمایا گیا ” الا لہ لحکم “۔ اس کا مطلب یہ ہے ہوشیار ہو جائو۔ فیصلہ اور حکم اسی کا ہے اس سے اوپر کوئی اپیل نہیں۔ کوئی نظر ثانی نہیں۔ ارشاد ہے ” اسرع الحاسبین “۔ اس کے دو معنی ہیں۔ وقت تیز رفتار ہے۔ بہت جلد تم اس کے سامنے حساب و کتاب کے لئے پیش ہونے والے ہو۔ دوسرے قیامت کے دن لاتعداد بیشمار انسانوں کے حساب بہت جلد نمٹا دیئے جائیں گے اور ذرا دیر نہیں لگے گی اس کے ہاں لال فیتہ نہیں ہے بلکہ اس کی قدرت یہ ہے کہ وہ جب بھی کسی کام کو کرنا چاہتا ہے اسے کن کا اشارہ ہوتا ہے اور وہ کام ہوجاتا ہے ۔ اسی طرح حساب و کتاب میں بھی کوئی دیرنہ ہوگی بلکہ ہر انسان کا پورا پورا حساب کتاب بہت جلد لیا جائے گا۔
Ayahs 6:63–64

قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ۚ لَئِنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:63 in the Quran reader

ذرا پوچھئے وہ کون ہے جو تمہیں خشکی اور سمندر کی آفات سے بچا کر نکال لاتا ہے جب تم گڑ گڑا کر یا دل ہی دل میں اس سے دعائیں مانگتے ہو کہ اگر وہ ہمیں اس آفت سے بچا لے تو ہم ضرور احسان مانیں گے۔

قُلِ اللّٰهُ یُنَجِّیْكُمْ مِّنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:64 in the Quran reader

کہہ دیجئے وہ اللہ ہی ہے جو تمہیں اس سے اور ہر مصیبت سے بچا لیتا ہے ۔ پھر بھی تم شرک کرتے ہو۔

لغات القرآن : آیت نمبر 63 تا 64 : ینجیکم (تمہیں نجات دیتا ہے) ‘ خفیۃ ( آہستہ۔ چپکے چپکے) انجنا ( ہمیں بچا لیا) ‘ کرب (سختی) ۔ تشریح : آیت نمبر 63 تا 64 : سفر ہو یا حضر۔ جسمانی بیماری ہو یا ذہنی الجھن ‘ مال و منال کا نقصان ہو یا اہل و عیال کا ‘ انفرادی مصیبت ہو یا قومی۔ بہر حال یہ عام مشاہدہ ہے کہ آفت کے وقت جب ظاہری تدبیروں سے کام نہیں چلتا تو انسان کے ہاتھ اس مالک کائنات کے سامنے دعا کو اٹھ جاتے ہیں۔ خواہ وہ چلا چلا کر اور آنسو بہا کر سر پٹک کر مانگے یا دل ہی دل میں اندر ہی اندر۔ بڑے سے بڑا کافر اور بڑے سے بڑا مشرک خوب جانتا ہے کہ آفتوں سے نجات دینے والا وہی ایک اللہ ہے۔ وہ دعا مانگتا ہے یا منت مانتا ہے تو بس اسی سے۔ نہ کسی دیوتا سے ‘ نہ کسی فرعون سے ‘ نہ کیو اللہ کے کسی مقرب سے (بہت سے مذاہب میں چاند اور سورج معبود ہیں یا معبود کے بیٹے کہلاتے ہیں (نعوذ باللہ) ۔ مصیبت جتنی سخت ہو انسان اتنا ہی شین قاف باندھتا ہے ‘ اتنا ہی عاجزی سے ہاتھ لمبے کرتا ہے۔ اتنا ہی زور دار معاہدے کرتا ہے کہ اے اللہ۔ اگر تو ہمیں اس آفت سے بچا لے تو ہم ضرور تیرا احسان مانتیں گے اور تیرے شکر گزار بندے بن جائیں گے۔ جب اللہ اس کی مشکل کشائی کردیتا ہے تو وہ پھر واپس اپنے پرانے مذہب کی طرف لوٹ جاتا ہے کسی اور کو مشکل کشا بنا لیتا ہے۔ پھر بتوں کی پوجا شروع ہوجاتی ہے۔ پھر تثلیث کے عقیدے زور پکڑ لیتے ہیں۔ پھر باد شاہ کی عظمتوں کی بندگی شرو ع ہوجاتی ہے۔ مکہ کے مشرکین کا بھی یہی حال تھا بار بار وہ آفتوں میں پھنستے اپنے تمام بتوں کو چھوڑ کر خوب گڑ گڑا کر اللہ سے دعائیں کرتے اور وفاداری کی قسمیں کھاتے ‘ خوب روتے اور چلاتے لیکن جب آفت ٹل جاتی تو کیسی احسان مندی ‘ کیسی شکر گزاری ‘ پھر دین آباء کی طرف پلٹ جاتے اور شرک میں مبتلا ہوجاتے ۔
Ayahs 6:65–67

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ Open ayah 6:65 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ! ) آپ صاف صاف سمجھا دیجئے کہ تمہیں عذاب دینے کی قدرت و طاقت صرف اسی کے پاس ہے۔ وہ چاہے تو عذاب تمہارے اوپر سے لے آئے یا تمہارے پائوں کے نیچے سے لے آئے یا تمہیں فرقے فرقے کر کے یا آپس میں لڑائی کی تلخی چکھادے۔ دیکھو ہم اپنی آیتوں کو کس کس طرح مختلف پہلوئوں سے واضح کرتے ہیں تاکہ وہ سمجھ جائیں۔

وَ كَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَ هُوَ الْحَقُّ١ؕ قُلْ لَّسْتُ عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 6:66 in the Quran reader

اور آپ کی قوم نے اسے جھٹلادیا جو حق اور سچائی ہے۔ کہہ دیجئے کہ میں تم سے زبردستی منوانے نہیں آیا۔

لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ١٘ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:67 in the Quran reader

ہر خبر کے لئے ایک وقت مقرر ہے۔ عنقریب تمہیں معلوم ہوجائیگا۔

لغات القرآن : آیت نمبر 65 تا 67 : یلبس ( وہ پہناتا ہے۔ وہ گڈ مڈ کرتا ہے) ‘ شیع ( فرقے) ‘ یذیق ( وہ چکھا تا ہے) ‘ یفقھون ( وہ سمجھتے ہیں) ‘ لست ( میں نہیں ہوں) وکیل (کام بنانے والا) ‘ مستقر (ٹھکانا) ۔ تشریح : آیت نمبر 65 تا 67 : گذشتہ دو آیات میں ذکر تھا کہ خشکی اور سمندر کی آفتوں سے صرف اللہ ہی بچا سکتا ہے۔ اب آیات 65 اور 66 میں ذکر ہے کہ وہی ایک اللہ تمہارے اوپر آفت لاسکتا ہے۔ یعنی آفت سے بچانے والا بھی وہی ہے اور آفت لانے والا بھی وہی ہے۔ یہاں خاص طور سے تین طرح کے عذابوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ ایک وہ جو اوپر سے آئے دوسرے وہ جو نیچے سے آئے ۔ تیسرے باہمی فرقہ وار انہ فسادات کے ذریعہ سے پھوٹ ڈالو ادے۔ اوپر سے عذاب آنے کی مثالیں قوم عاد ‘ قوم لوط ‘ ابرہہ وغیرہ کی ہیں۔ بنی اسرائیل پر خون اور مینڈک برسائے گئے۔ قوم نوح پر اوپر سے بےتحاشا بارش اتاری گئی اور نیچے زمین سے پانی ابلنے لگا۔ آج کل اوپر اور نیچے سے بیک وقت عذاب کا خطرہ ایٹم بم ‘ ہائڈروجن بم ‘ نپ تھا لن بم وغیرہ ہے جو اوپر سے بیا آگ برسائیں گے اور نیچے بھی زلزلہ پیدا کریں گے۔ جاپان میں 1945 ء میں یہی ہوا۔ نیچے سے عذاب آنے کی مثالیں فرعون ‘ قارون ‘ عادثانی وغیرہ کی ہیں۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس مجاہد ؓ اور دوسرے ائمہ تفسیر نے کہا ہے کہ اوپر کا عذاب وہ بھی ہے جب حکمران ‘ ظالم ‘ خائن اور حرام خور ہوجائیں۔ اس طرح انتظام بگڑ جاتا ہے۔ خواہ نظام ملک کا ہو یا کسی ایک گھر یا خاندان کا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی تفسیر کی تائید چند احادیث سے بھی ہوتی ہے۔ مشکوۃ شریف میں بحوالہ شعب الایمان بیہقی میں رسول کریم ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا گیا ہے کہ تم پر اسی قسم کے حکام مسلط ہوں گے جس قسم کے تمہارے اعمال ہوں گے۔ اسی مفہوم کا ایک مشہور عربی مقولہ ہے۔ اعمالکم عمالکم۔ مشکوۃ شریف بحوالہ حلیہ ابی نعیم حضور ﷺ کا ارشاد ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں اللہ ہوں ‘ میرے سوا کوئی معبود نہیں ‘ میں تمام بادشاہوں کا مالک اور بادشاہ ہوں۔ تمام بادشاہوں کے دل میری مٹھی میں ہیں ۔ جب میرے بندے میری اطاعت کرتے ہیں تو میں ان کے بادشاہوں اور حکام کے قلوب میں ان کی شفقت و رحمت ڈال دیتا ہوں اور جب میرے بندے میری نافرمانی کرتے ہیں تو میں ان کے حکام کے دل ان پر سخت کردیتا ہوں۔ وہ ہر طرح برائی سے انکے ساتھ پیش آتے ہیں۔ اس لئے تم حکام اور امرا کو برا کہنے میں اپنا وقت ضائع نہ کرو بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو اور اپنے اعمال کی اصلاح میں لگ جائو تاکہ میں تمہارے کام درست کر دوں “۔ اسی طرح ابو دائود اور نسائی میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ جناب رسالت مآب ﷺ نے فرمایا۔ جب اللہ تعالیٰ کسی امیر اور حاکم کا بھلا چاہتا ہے تو اس کو اچھا وزیر اور اچھا کارکن دے دیتا ہے ۔ کہ اگر امیر سے کچھ بھول ہوجائے تو وہ اس کو یاد دلا دے۔ اور جب امیر صحیح کام کرے تو وہ اس کی مدد کرے۔ جب کسی حاکم یا امیر کے لئے برائی مقدر ہوتی ہے تو برے لوگوں کو اس کی وزارت اور امارت دے دی جاتی ہے۔ قرآن کریم (النساء۔ 59) میں فرمان الٰہی ہے ” اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور پھر ان لوگوں کی جو تم میں سے حاکم ہوں۔ ہاں اگر تمہارے درمیان (یعنی راعی اور رعایا کے درمیان) کسی معاملہ میں جھگڑا ہوجائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف پھیر دو “ حضور ﷺ کی مشہور حدیث ہے۔ بہترین جہاد سلطان جابر کے سامنے کلمہء حق کہنا ہے۔ آیت زیر تفسیر میں عذاب الٰہی کی تیسری قسم یوں مذکور ہے۔ ” اویلبسکم شیعا “۔ یعنی تم فرقہ فرقہ میں بٹ کر آپس میں لڑنے لگ جائو گے۔ اسی لئے جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اکرم ﷺ نے مسلمانوں کو خطاب کرکے فرمایا : ” تم میرے بعد پھر ان لوگوں جیسے نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔ حضرت عبد اللہ ابن عمر روایت کرتے ہیں حضور ﷺ نے دعا فرمائی کہ الٰہی میری امت پر کسی دشمن کو مسلط نہ فرما جو سب کو تباہ و برباد کردے۔ یہ دعا قبول ہوئی۔ لیکن جب آپ نے یہ دعا کرنی چاہی کہ میر ی امت کو فرقہ وارانہ فسادات سے بچا تو آپ کو اس دعا کرنے سے منع کردیا گیا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جارہے تھے ہمارا گزر مسجد بنی معاویہ پر ہوا تو حضور ﷺ مسجد میں تشریف لے گئے اور دو رکعت نماز پڑھی۔ ہم نے دو رکعت ادا کی۔ اس کے بعد آپ دعا میں مشغول ہوگئے۔ دعاؤں سے فارغ ہو کر فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے تین چیزوں کا سوال کیا۔ (1) میر ی امت کو غرق کر کے ہلاک نہ کیجئے گا۔ اللہ نے دعا قبول فرمائی۔ (2) عرض کیا الٰہی میری امت کو قحط اور بھوک کے ذریعہ ہلاک نہ کیجئے گا۔ یہ دعا بھی قبول ہوئی۔ (3) اور میں نے عرض کیا الٰہی میری امت باہمی جنگ سے تباہ نہ ہوجائے۔ مجھے اس دعا سے روک دیا گیا۔ (مظہری بحوالہ بغوی) ان روایات سے ظاہر ہے کہ اگر مسلمانوں پر اللہ کا عذاب آیات تو فرقہ وارانہ فسادات کی صورت میں آئے گا۔ یہ فرقے مذہبی بھی ہو سکتے ہیں اور سیاسی بھی۔ وہ قومیں جو مسلمانوں کی دشمن ہیں۔ مسلمانوں کو باہم لڑا کر اپنامقصد حاصل کرنا چاہتی ہیں اور کررہی ہیں ہمیں ان سے بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ یاد رہے اختلاف کی دو شکلیں ہیں۔ وہ اختلاف جو اسلام کے بینادی عقیدے میں ہے جو شرک و منافقت یا مادی لالچ اور ظلم کی بدولت ہے۔ وہ عذاب الٰہی ہے لیکن وہ اختلاف رائے جو اصول اجتہاد کے ماتحت تفصیلی مسائل میں ہے جیسا کہ صحابہ وتابعین سے اب تک ہوتا چلا آیا ہے۔ جس میں فریقین کی نیت درست اور ان کی حجت قرآن و سنت اجماع ہے وہ رحمت ہے۔ ممکن ہے کسی سے اجتہادی غلطی ہوگئی ہو لیکن اگر غلطی اور اختلاف کار استہ بند کردیا جائے تو اجتہاد اور فکر و فیصلہ کا دروازہ بند ہوجائے گا اور علم و عقل کی ترقی رک جائے گی۔ یہ اختلاف فطری ہے۔ جہاں دو اہل عقل و فکر ہوں گے وہاں اختلاف قدرتی بات ہے۔ مگر یہ اختلاف دیانت اور خلوص پر مبنی ہوگا۔ کوئی کسی کو زبان کی چاشنی کے لئے برا بھلا نہ کہے گا۔ ہاں تنقید حق ہے۔ وہ بھی حدود کے اندر۔ اسی ا ختلاف کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ میری امت کا اختلاف رحمت ہے۔ آیت نمبر 67 بہت واضح ہے نبی کا کام تبلیغ ہے۔ اور بس ۔ وہ زبردستی مومن نہیں بنا سکتا۔ یہ اللہ کا کام ہے کہ کسی کے دل میں ایمان اتاردے۔ وہ لوگ جو آج تبلیغ سے نہیں مان رہے ہیں۔ کل عذاب جہنم دیکھ کر مان جائیں گے مگر وقت گذرنے کے بعد ان کا مان جانا بےفائدہ ہوگا۔
Ayahs 6:68–70

وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖ١ؕ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:68 in the Quran reader

(اور اے نبی ﷺ جب آپ دیکھیں کہ لوگ ہماری آیات پر نکتہ چینی (عبش جوئی) کررہے ہیں تو ان سے اس وقت تک دور رہیے جب تک وہ کسی اور گفتگو میں نہ لگ جائیں۔ اور اگر کبھی شیطان بھلا دے تو یاد آجانے کے بعد فوراً ظالموں کی جماعت سے اٹھ جائیے۔

وَ مَا عَلَى الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:69 in the Quran reader

اور جو لوگ پرہیز گار ہیں ان پر ان نکتہ چینی کرنے والوں کے حساب کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ البتہ پرہیز گاروں کے ذمے نیک نصیحت کرنا ہے۔ شاید وہ بھی اللہ سے ڈرنے والے بن جائیں

وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ١ۖۗ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ١ۚ وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْا١ۚ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:70 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنائے بیٹھے ہیں انہیں ان کے حال پر رہنے دیجئے جنہیں دنیا کے مزے نے دھوکہ میں ڈال رکھا ہے مگر اس قرآن کے ذریعہ ان کو نصیحت کرتے رہیے تاکہ ان کرتوتوں کی وجہ سے جو وہ کرتے چلے آرہے ہیں اس میں پھنس نہ جائیں۔ وہ عذاب جس میں گرفتارہوجانے کے بعد مجرم کے لئے اللہ کے سوا نہ کوئی مدد گار ہوگا نہ سفارش کرنے والا اور نہ اس سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا خواہ وہ اپنا سب کچھ اس میں جھونک دے۔ یہ لوگ ہیں جو اپنی بری کمائی کے عذاب میں گرفتار کئے گئے ہیں۔ اب ان کے لئے پینے کو کھولتا ہوا پانی ہے۔ ان نافرمانیوں کی سزا دردناک عذاب ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 68 تا 70 : یخوضون (وہ مشغول ہوتے ہیں ۔ گھستے ہیں) ینسینک (وہ تجھے بھلادے) لاتقعد ( تو نہ بیٹھ) بعد الذکری ( یاد آنے کے بعد) ذکری (نصیحت۔ یاد دہانی) ذر (چھوڑ دے) غرت ( دھو کے میں ڈال دیا) ان تبسل (یہ کہ پکڑ ا جائے) کسبت (کمایا) ۔ تشریح : آیت نمبر 68 تا 70 : دوزخ کا راستہ اختیار کرنے والوں کی خاص پہچان یہ ہے کہ وہ دین اسلام پر ‘ قرآن پر ‘ حدیث پر ‘ سیر ت پر اس انداز سے تنقید کرتے ہیں گویا وہی بہتر سمجھتے ہیں ‘ علم و عقل کا جدید میزان و پیمان ان ہی کے پاس ہے اور نعوذ باللہ یہ بیچارے مسلمان بڑے احمق ہیں جو ایمان و اسلام کے چکر میں پھنس گئے ہیں۔ ؁ ان آیات کے مخاطب اول اگرچہ حضور ﷺ اور ان کے صحابہ کرام ہیں لیکن بلالحاظ زمان و مکان یہ خطاب عام ہے ان آیات کے ذریعہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ اے مسلمانو ! (1) کبھی ایسی محفل میں نہ بیٹھو جہاں بد تمیز بد عقل بد زبان کفار مشرکین یا منافقین بیٹھے دین اسلام پر زبان دراز یاں کر رہے ہوں۔ ہاں جب وہ کوئی اور گفتگو میں لگ جائیں تو شرکت میں مضائقہ نہیں۔ (2) اگر تم پہلے ہی سے بیٹھے ہوئے ہو اور اس قسم کی بےہودہ گفتگو چھڑ گئی ہو اور وکنے کے باوجود رک نہ رہی ہو تو فوراً وہاں سے اٹھ جائو۔ یہ بات مناسب نہیں ہے کہ بحث اور مناظرہ کر کے محفل کی فضا کو اور زیادہ گرم کردیا جائے۔ تمہاری ہر منطق اور ہر دلیل کے باوجود سننے والوں کو غلط انا پکڑ لے اور وہ ‘ میں نہ مانوں ‘ کی ضد میں آجائیں۔ اس میں شک نہیں کہ تبادلہ خیالات اچھی چیز ہے لیکن موزوں فضا کا ہونا بھی ضروری ہے۔ محفل سے اٹھ جانے کی اچھی شکل یہ بھی ہے کہ اگر بیٹھے رہنا ضروری ہے تو آدمی اس طرح بیٹھ جائے کہ گویا اسے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اگر شیطان کے بھلاوے میں آکر تم بھول چوک سے بیٹھے ہو تو جیسے ہی یاد آجائے ‘ فوراً رخصت ہو جائو۔ (3) ہوشیاری سے تبلیغ و نصیحت کا موقع نکال لینا چاہیے۔ گمراہوں کو ان کے حال پر چھوڑ دینا بھی تو کوئی عقل مندی نہیں ہے اس کے لئے اگر ان کی محفلوں میں جانا پڑے تو مضائقہ نہیں۔ انہیں قیامت اور اللہ کے عذاب سے ڈرائو۔ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے۔ ” میری امت سے خطاء اور نسیان ( بھول چوک) اور اس کام کا گناہ معاف کردیا گیا ہے جو کسی نے زبردستی اس سے کرایا ہو “۔ ان آیات سے ظاہر ہوا کہ دشمنان اسلام سے بالکل قطع تعلق غلط ہے۔ ان سے مناسب طریقہ پر میل ملاقات رکھنا چاہیے۔ بشرط ضرورت اور بغرض نصیحت۔ والدین اور استادوں کو چاہیے کہ اپنے لڑکوں لڑکیوں کو غلط صحبت میں نہ جانے دیں کہ غلط ماحول ان کو تباہ کرسکتا ہے۔
Ayahs 6:71–73

قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤى اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ هَدٰىنَا اللّٰهُ كَالَّذِی اسْتَهْوَتْهُ الشَّیٰطِیْنُ فِی الْاَرْضِ حَیْرَانَ١۪ لَهٗۤ اَصْحٰبٌ یَّدْعُوْنَهٗۤ اِلَى الْهُدَى ائْتِنَا١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ اُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:71 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر ان سے امیدیں باندھیں جو ہمیں نہ تو نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ کوئی نقصان۔ کیا ہم الٹے پائوں پھرجائیں جبکہ اللہ نے ہمیں راہ ہدایت پر ڈال دیا ہے۔ کیا ہم حیران و سرگرداں اس شخص کی طرح جنگل میں بھٹکتے پھریں جسے شیطان نے بائو لا کردیا ہو۔ حالانکہ اس کے ساتھی اس کو سیدھے راستے کی طرف پکار رہے ہوں کہ ہماری طرف آجاؤ۔ کہہ دیجئے کہ راستہ تو وہی ہے جو اللہ نے بتایا ہے اور ہمیں اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ ہم رب العالمین کے فرماں بردار رہیں۔

وَ اَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ وَ هُوَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:72 in the Quran reader

نماز قائم کریں اور اسی سے ڈرتے رہیں اور وہی ذات ہے جس کی طرف تم سمیٹے جائو گے۔

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ یَوْمَ یَقُوْلُ كُنْ فَیَكُوْنُ١ؕ۬ قَوْلُهُ الْحَقُّ١ؕ وَ لَهُ الْمُلْكُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ١ؕ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:73 in the Quran reader

وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے اور (جس وقت قیامت کو حکم دے گا کہ ) ہو جاتو وہ ہوجائے گی۔ اس کا کہنا حق ہے۔ جس وقت صور پھونکا جائیگا اس دن بھی صراسی کی سلطنت ہوگی وہی پوشیدہ اور ظاہر سب کا جاننے والا ہے وہ بڑی حکمت والا ہے۔ اور خبر رکھنے والا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 71 تا 73 : ندعوا ( ہم پکارتے ہیں) ‘ اعقاب (عقب) ایڑیاں) استھوت ( بہکا دیا) ‘ حرکان ( حیران و پریشان) ‘ ید عون ( وہ پکارتے ہیں) ‘ لنسلم ( تاکہ ہم مان لیں) ‘ ینفخ (وہ پھونکتا ہے) ‘ الصور (نرسنگا (قیامت میں نرسنگے کی آواز) ۔ تشریح : آیت نمبر 71 تا 73 : غیر اللہ وہ ہے جو کوئی نفع اور کوئی نقصان نہ پہنچاسکے۔ اتنی بات تو سب ہی جانتے ہیں۔ پھر غیر اللہ کی پوجا کیوں ہوتی ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ غیر اللہ کی بندگی صرف ظاہری اور رسمی ہوتی ہے کوئی ان کی قلبی عبادت نہیں کرتا۔ یہ ظاہری پر ستش بھی ایک ہی غرض سے ہے۔ ایک سیاسی سماج قائم کرنا اور قائم رکھنا۔ اگر بت کی پوجا نہ ہو تو ہندو دھرم بکھر جائیگا۔ اگر آگ کی پوجانہ ہو تو پارسی مذہب ختم ہوجائیگا۔ اگر صلیب کی پوجانہ ہو تو عیسائی مذہب۔ اگر نسل پرستی نہ ہو تو یہودی۔ اگر جھوٹے نبی کو نہ مانا جائے تو قادیانی ‘ اگر چاند اور سورج کی پوجانہ ہو تو چینی مذاہب ‘ اگر درختوں ‘ سانپوں ‘ جانوروں اور دریا و سمندر کی پوجا ہو تو بہت سے چھوٹے بڑے مذاہب ہوا میں اڑجائیں گے۔ مشرکین مکہ بھی سیاسی اور سماجی مقاصد ہی کے لئے بتوں کی رسمی پوجا کرتے تھے۔ اگر بتوں کا کاروبار نہ ہوتا تو مشرکین ایک جماعت نہ بنتے ‘ ان کی تجارت نہ ہوتی ‘ ان کی سرداری نہ رہتی ‘ ان کے تقدس کا ڈھونگ ختم ہوجاتا۔ سیاسی اور سماجی مقاصد کے علاوہ ‘ غیر اللہ کی پرستش درحقیقت نفس کی پرستش ہے۔ غیر اللہ کے پاس نہ نفع ہے نہ نقصان ‘ نہ کتاب ‘ نہ قانون ‘ نہ پیغمبر نہ حکم نہ منع۔ ہندو مت ‘ وغیرہ میں عام اجازت ہے کہ ہر ہندو جو چاہے کرے جو چاہے نہ کرے جو چاہے عقیدہ رکھے یا نہ رکھے صرف اپنے آپ کو ہندو مانے اور بس۔ اگر یہ عقیدے اور عمل کی آزادی کی کشش نہ ہوتی تو آج دنیا میں کوئی کافر نہ ہوتا اسلام میں عقیدے اور عمل کی آزادی کی سرحدیں متعین ہیں۔ غیر اسلام میں لامحدود ہیں۔ اسلام میں آخرت دنیا پر ‘ روح مادہ پر اور عقیدہ عمل پر حاوی ہے لن کی دوسرے مذہبوں میں اس کے برعکس ہے۔ کفر صاف صاف اللہ کو نہیں مانتا لیکن مشرک چالاک ہے۔ وہ اللہ کو صرف زبانی مانتا ہے عملی طور پر وہ ان معبودوں کے احکامات مانتا ہے جنہیں اس نے خود تصنیف کیا ہے ان کا معبود بندے کی تخلیق ہے۔ ان کے معبود کی کتاب بھی بندے کی تصنیف ہے ۔ اب کفرہو یا شرک ‘ اللہ سے بغاوت کی یہ دو شکلیں ہیں۔ رہے منافقین۔ تو ان کا الگ کوئی وجود نہیں ہے ۔ وہ صرف جی حضوری میں ‘ خواہ کفر کے کیمپ میں ‘ خواہ شرک کے کیمپ میں ‘ منافقین کا الگ کوئی مذہب نہیں ہے ‘ کوئی پارٹی نہیں ہے ‘ کوئی قیادت نہیں ہے۔ اب کافر ہو ‘ مشر ک ہو ‘ منافق ہو ‘ سب مفاد پرست ‘ مال پرست اور اقتدار پرست ہیں ‘ بالفاظ دیگر وہ دنیا پر ست ہیں۔ ان کے پاس چونکہ کوئی اللہ نہیں ‘ کوئی محفوظ دین نہیں ‘ کوئی اصول و عقیدہ نہیں ‘ اس لئے وہ خیالات کے جنگل میں بھٹک رہے ہیں۔ اس آیت میں مشرک کی طرف خاص اشارہ ہے۔ ذرا پوچھئے کہ ہم ان غیر اللہ سیامیدیں باندھیں جو ہمیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ اور ان غیر اللہ سے ڈریں جو ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اس آیت میں مرتد کی طرف بھی خاص اشارہ ہے۔ کیا ہم الٹے پاؤں پھرجائیں جب کہ اللہ ہمیں راہ ہدایت پر ڈال چکا اور اس حیران و سرگرداں گم گشتہ کی طرح بن جائیں جسے شیطان نے خبطی اور بائو لا بنادیا ہو۔ ان آیات نے پھر زور دیا ہے کہ ہدایت اور رہنمائی تو صرف اللہ کی ہے۔ مومن وہ ہے جو اس کی رہنمائی پر چلے۔ نماز قائم کرے اور اللہ سے زیادہ سے زیادہ محبت حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ ان آیات نے پھر قیامت پر زور دیا ہے۔ قیامت کا آنا اللہ کی عین حکمت اور دانائی ہے۔ جو کہا ہے ” وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے “ تو اس کے تین مطالب ہیں۔ (1) یہ کائنات محض شوق اور تماشے کے لئے نہیں بنائی گئی ہے کہ جب تک جی چاہا رکھا پھر جب جی چاہا توڑ کر پھینک دیا۔ اس کے بنانے اور چلانے میں بھی وہی مصلحت اور حکمت ہے جو قیامت لانے میں ہے۔ (2) یہ کائنات حق اور راستی کے ٹھوس اصولوں پر بنائی گئی ہے اور چلائی جارہی ہے یہاں باطل پنپ نہیں سکتا۔ فوری فائدہ فانی فائدہ ہے۔ (3) اللہ نے یہ کائنات بنائی ہے۔ اس لئے اسے ہی حق ہے کہ اپنا دین چلائے۔ اطاعت و بغاوت کے لئے جزا و سزا مقرر کرے۔
Ayah 6:74

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةً١ۚ اِنِّیْۤ اَرٰىكَ وَ قَوْمَكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:74 in the Quran reader

یاد کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر سے کہا تھا۔ کیا تو بتوں کو معبود کا درجہ دیتا ہے ؟ میں دیکھتا ہوں کہ تو اور تیری قوم کھلی گمراہی میں مبتلا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 74 : اصناما (صنم) بت ‘ ضلل (گمراہی) ۔ تشریح : آیت نمبر 74 : قرآن نے پچھلی آیات میں مشرکین مکہ کو ہر طرح سمجھایا۔ علم ‘ خبر ‘ عقل ‘ نصیحت ‘ بشارت ‘ تہدید سارے طریقے آزمادیکھے۔ اب ایک تاریخی مثال پیش کی جارہی ہے کہ مثال کبھی کبھی خوب کام کرجاتی ہے۔ چونکہ اہل عرب مناظرہ کے بہت دلدادہ تھے اس لئے وہ مناظر ہ پیش کیا جارہا ہے کہ گھر سے اور کنبہ کے سب سے بڑے بزرگ سے تبلیغ کا کام شروع کرنا عین سنت ابراہیمی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات کو تاریخ نے محفوظ نہیں رکھا۔ ہاں ادھر ادھر منتشر غیر یقینی واقعات مل جاتے ہیں۔ یہ تو قرآن ہی ہے جس نے انبیاء کرام سے متعلق تمام ضروری تفصیلات مہیا کی ہیں۔ قصہ کہانی کے لئے نہیں۔ بلکہ نصیحت اور سبق کے لئے۔ اور صرف ان ہی پہلوؤں کو لیا ہے جو نصیحت اور امثال کے لئے ضروری ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات کا انتخاب یوں ہے کہ وہ بہت سے پیغمبروں کے مورث اعلیٰ تھے۔ یہودی ‘ عیسائی اور مسلمان سب ان کو یکساں واجب الاحترام مانتے ہیں۔ مشرکین مکہ بھی ان کو واجب الاحترام مانتے تھے۔ شرک کے خلاف انہوں نے کس طرح جہاد کیا اور کیسی کیسی آزمائشوں سے گزرے اس کے لئے ان کی زندگی ایک مثال ہے۔ مندرجہ بالا آیت ظاہر کرتی ہے کہ نسل یا عہدہ یا قومیت کوئی چیز نہیں ورنہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) آزر سے اختلاف نہ کرتے جو ان کا باپ بھی تھا اور ملک کا معزز ترین آدمی بھی۔ اصل چیز ایمان ہے۔ یہ آیت اللہ کا دین دوسروں تک پہنچانے کے ایک طریقہ کی طرف رہنمائی بھی کرتی ہے۔ یعنی ابتدا ایسے سوال سے کرنا چاہیے جو ہلکا پھلکا ہو لیکن نفس معاملہ پر چوٹ کرجائے۔ اور بات کی تہہ تک پہنچنے میں ہیر پھیر اور فضول گفتگو سے پرہیزکرے۔ ملکی اور قومی معاملات کے اندر ہر شخص کا دل دھڑکتا ہے۔ جیسا کہ آئندہ آیات سے ظاہر ہے ‘ تبلیغ کے لئے حکمت ضروری ہے۔ ایک بڑی حکمت یہ ہے کہ ملکی قومی ٹھوس روز مرہ اور نازک احساسات کے معاملات کی طرف مشاہدے اور غور فکر کی دعوت دی جائے۔ اس طرح دعوت دی جائے کہ ہر چون و چرا کا جواب اسلام کے حق میں نکلے۔ ہدف کا دل خود پکارا ٹھے کہ لبیک۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر خاندان کا بڑابزرگ غلط راستے پر ہو تو اسے طریقے سے دین کی دعوت دینا ادب و احترام کے خلاف نہیں ہے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام کی نگاہ میں قومیت کا مقام کیا ہے ؟ اسلام عالمگیر ملت اور اخوت ہے قومیت چند مصلحتوں کی خاطر اپنی انفرادیت بر قرار رکھ سکتی ہے مگر عالمگیر ملت اور اخوت کے اندر ضم ہو کر۔ یہاں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا ہے ” میں دیکھتا ہوں تو اور تیری قوم کھلی گمراہی میں مبتلا ہے “۔ یہ کہہ کر انہوں نے اپنے آپ کو کافر انہ اور مشرکانہ قومیت سے الگ کرلیا حالانکہ نسلی طور پر اور وطنی طور پر وہ اسی قوم میں پیدا ہوئے تھے ۔ یہ کہہ کر انہوں نے دو قومی نظریہ پیش کردیا اور بتادیا کہ اسلام نسل اور وطن کو نہیں مانتا۔ صرف نظریہ کو مانتا ہے۔