6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 6:75–79

وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ Open ayah 6:75 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات دکھانے لگے تاکہ وہ کامل یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے۔

فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ الَّیْلُ رَاٰ كَوْكَبًا١ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ Open ayah 6:76 in the Quran reader

پھر جب اس پر رات کا اندھیرا چھا گیا ‘ اس نے ایک ستارہ دیکھا۔ اس نے کہا یہ میرا رب ہے ؟ ۔ مگر جب وہ ڈوب گیا تو کہنے لگا میں ڈوبنے والوں کو دل نہیں دیتا۔

فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ یَهْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَكُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 6:77 in the Quran reader

پھر جب اس نے چمکتا ہوا چاند دیکھا تو کہا یہ میرا رب ہے ؟ ۔ مگر جب وہ بھی نگاہوں سے غائب ہوگیا تو کہنے لگے اگر میرا رب مجھ کو ر اہ ہدایت نہ دکھاتا تو میں گمراہوں میں شامل ہوجاتا۔

فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّیْ هٰذَاۤ اَكْبَرُ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:78 in the Quran reader

پھر جب سورج کو چمکتا دمکتا دیکھا تو کہا یہ ہے میرا رب ؟ ۔ یہ تو سب میں بڑا ہے۔ پھر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو اس نے کہا اے میری قوم ! میرا کوئی واسطہ بندگی ان چیزوں سے نہیں جنہیں تم معبودیت میں شریک سمجھ رہے ہو۔

اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 6:79 in the Quran reader

میں نے تو اپنا رخ اس ایک ہستی کی طرف مخصوص کرلیا جس نے آسمانوں اور زمین کا نظام بنایا۔ اور میں ہر گز مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 75 تا 79 : نری (ہم دکھائیں گے) ملکوت ( نظام کائنات) الموقنین ( یقین کرنے والے) ‘ جن (چھا گیا) را ( اس نے دیکھا) ‘ کوکبا (ستارہ) ‘ وجھت ( میں نے چہرہ کرلیا۔ میں نے رخ کرلیا) ‘ فطر (اس نے بنایا۔ اس نے پیدا کیا) حنیفا (سب سے الگ۔ صرف اللہ کی عبادت کرنے والا) تشریح : آیت نمبر 75 تا 79 : ستارے ‘ چاند اور سورج۔ ان کے باری باری آنے اور غروب ہونے کا انداز کوئی انوکھا یا نیا نہیں ہے۔ ہر شخص ہر شب و روز دیکھا تا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی ہزاروں بار دیکھا ہوگا۔ مگر ایک خاص وقت پر ہی یہ کھٹک کیوں ؟ اس کا ایک جواب تو شروع آیت ہی میں دیدیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں آسمانوں اور زمین کے عجائبات دکھائے تاکہ ان کے یقین و ایمان میں اضافہ دراضافہ ہوجائے۔ یہ تو فطرت کا روز مرہ کا معمول ہے لیکن ایک بار وہ عجائبات بن کر آئے یعنی انہوں نے دیکھنے والے کے دل میں ایک خاص کھٹک پیدا کی اور اسے غور فکر کی دعوت دی۔ یہ عین ممکن ہے کہ ایک بات جو ہر روز لگاتار پیدا ہورہی ہے اچانک کسی موقع پر خاص کھٹک پیدا کردے۔ یہی کھٹک ہنری فورڈ کے دل میں پیٹرول اور پانی کو ملتے دیکھ ملتے دیکھ کر پیدا ہوئی۔ دوسرا اہم جواب یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ سب دیکھ رہے تھے اور علی الا علان بول رہے تھے۔ اپنے لئے نہیں بلکہ شرک والوں کو منطقی دلائل سے قائل کرنے کے لئے۔ ایک اور تکنیک جو ظاہر ہوتی ہے وہ یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حکم اور ڈانت کے لب و لہجہ میں نہیں کہا کہ تم لوگ شرک چھوڑو توحید میں آجائو۔ بلکہ عقل و تدبر کے ساتھ صرف اپنی مثال پیش کی کہ جہاں تک میرا تعلق ہے میں نے اپنا رخ یکسو ہو کر اس اللہ واحد کی طرف کرلیا ہے جو تمام مظاہر فطرت کا خالق اور مالک ہے جس کے حک پر ستارے چاند سورج نکلتے اور ڈوبتے ہیں۔
Ayahs 6:80–83

وَ حَآجَّهٗ قَوْمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنِ١ؕ وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْئًا١ؕ وَسِعَ رَبِّیْ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 6:80 in the Quran reader

اس کی قوم اس سے جھگڑنے لگی۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کیا تم لوگ مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو۔ حالانکہ اس نے مجھے راہ ہدایت کی توفیق بخشی ہے۔ میں تمہارے بنائے ہوئے معبودوں سے نہیں ڈرتا۔ مگر ہاں میرا پروردگار ہی کچھ چاہے تو اور بات ہے۔ جو کچ بھی ہونا ہے وہ پہلے ہی میرے رب کے علم ( اور ارادے) میں ہے۔ پھر کیا تم سوچتے نہیں ہو ؟

وَ كَیْفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَكْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا١ؕ فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۘ Open ayah 6:81 in the Quran reader

آخر میں تمہارے خود سے گھڑے ہوئے معبودوں سے کیوں ڈروں ؟ جب کہ تم اللہ کی شان میں شرک کرنے سے نہیں ڈرتے۔ جس کی کوئی سند اس نے نہیں اتاری ہے بتائو دونوں فریقوں میں سے کس کو اطمینان قلب کا حق پہنچتا ہے ؟ اگر تم سمجھ بوجھ رکھتے ہو ؟

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠ Open ayah 6:82 in the Quran reader

اطمینان قلب ! وہ تو ان ہی لوگوں کے لئے ہے جو راہ حق پر چل رہے ہیں جنہوں نے ایمان پا لیا اور جنہوں نے اپنے ایمان میں شرک کی ملاوٹ نہیں کی۔

وَ تِلْكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیْنٰهَاۤ اِبْرٰهِیْمَ عَلٰى قَوْمِهٖ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:83 in the Quran reader

تو یہتھی ہماری مضبوط دلیل جو ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی قوم کے مقابلے میں سکھائی تھی ہم جس کے چاہتے ہیں درجات کو بلند کردیتے ہیں۔ کوئی شک نہیں کہ تمہارا رب ہی علم رکھتا ہے اور حکمت بھی۔

لغات القرآن : آیت نمبر 80 تا 83 : حاج (جھگڑا کیا) اتحآ جونی (کیا تم مجھ سے جھگڑتے ہو) ھدن (اس نے مجھے ہدایت دی۔ (یہاں ” ی “ گر گئی) کیف اخاف (میں کیوں ڈروں) ‘ لم ینزل (نازل نہیں کی گئی) سلطان ( دلیل۔ وجہ ۔ سبب) ای الفریقین (دونوں جماعتوں میں سے کونسی ؟ ) احق ( زیادہ حق دار ہے) ‘ لم یلبسوا ( انہوں نے نہیں ملایا) نرفع ( ہم بلند کرتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 80 تا 83 : ہر نظام کسی عقیدے پر قائم ہوتا ہے۔ اگر وہ عقیدہ ہی ہل جائے تو ویں سمجھ لیا جائے کہ کسی عمارت کے نیچے سے بنیادی پتھر کھینچ لیا گیا۔ نمرودی نظام میں بہت سے مصنوعی معبود تھے جن میں سب سے زیادہ اہمیت خود باشاہ وقت نمرود کی تھی۔ (یہ بادشاہ کا نام نہیں ہے بلکہ فرعون کی طرح کا لقب ہے) معبودیت کا عقیدہ اگر مسمار ہوجائے تو اس کے اقتدارکا محل مٹی کے گھر وندے کی طرح زمین پر آرہتا ہے۔ نمرود کو معبود کے مقام پر رکھنے سے ہزاوں ہزاروزیروں ‘ افسروں ‘ پنڈتوں ‘ پروہتوں اور دوسرے عقیدہ فروشوں کا مالی اور مادی مفاد وابستہ تھا۔ پھر ان کے پیچھے جاہل ‘ احمق روایت پر ست عوام جوق درجوق تھے جو لگی بندھی لکیر کے فقیر نسلاً بعد نسل چلے آرہے تھے۔ وہ سب کے سب کس طرح ٹھنڈے پیٹوں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عقیدہ توحید کو برداشت کرلیتے۔ اسلام زندگی کے ہر موڑ پر اپنے اوامر ونواہی لے کر آتا ہے جو وقت کے نمرودوں کے اوامرونواہی سے ٹکراتا ہے ۔ اگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کوئی ایسا فکر و عقیدہ لے کر آتے جس میں صرف پوجاپاٹ کی رسومات ہوتیں لیکن اوامر ونواہی نہ ہوتے ‘ جس کی ساری دلچسپی اندرون کلیساو بت خانہ سے ہوتی ‘ قومی اور بین الاقوامی ‘ سیاسی ‘ جنگی ‘ مالی ‘ تجارتی مسائل سے نہ ہوتی تو اہل نمرود کوئی ہنگامہ کھڑا نہ کرتے۔ لیکن وہ تو ایسا دین لے آئے تھے جس میں ساری زندگی کو اللہ کے لئے وقف کردینے کی بات تھی جس میں مصلحتوں پر سمجھوتے نہیں ہوتے۔ اس لئے اگر نمرود والے اٹھ کھڑے نہ ہوتے تو کیا کرتے۔ اسلام کی تبلیغ اور وہ بھی ایک پیغمبر کی قیادت میں مختلف تحر کی منزلوں سے گذرتی ہے۔ آیت نمبر 80 میں پہلی منزل کا ذکر ہے۔ یہ منزل افہام و تفہیم ‘ دلائل و مباحث ‘ مناظرہ اور مکالہ کی منزل تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو انداز ہ تھا کہ حکومت اور سوسائٹی اپنے مفاد کے لئے میری تحریک کے خلاف شمشیر وسنان لے کر اٹھ کھڑی ہوگی۔ (جو آتش نمرود کے معاملے میں صحیح ثابت ہوا) ۔ اسی لئے آپ نے فرمایا ” جائو۔ میں تمہارے بنائے ہوئے معبودوں سے نہیں ڈرتا۔ جھ پر کوئی تکلیف نہیں آسکتی البتہ اگر میرا رب چاہے تو اور بات ہے۔ جو کچھ بھی ہونا ہے وہ پہلے ہی سے میرے رب کے علم اور ارادے میں ہے “۔ آپ نے اللہ پر مکمل اعتماد کیا چناچہ اپنے سکون قلبی کا اظہار جس طرح کیا اس میں دعوت اور منطق پوری شان سے جلوہ گر ہے ۔ فرمایا۔ ” آخر میں تمہارے من گھڑت معبودوں سے کیوں ڈروں ؟ ۔ جب کہ تم اللہ کی شان میں شرک کرنے سے نہیں ڈرتے جس کی تمہارے پاس کوئی سند اور دلیل نہیں ہے۔ ایمان جس کی آخری منزل تقویٰ ہے صرف اللہ ہی سے تمام امیدیں وابستہ کرلینے اور صرف اللہ ہی سے خوف کھانے کا نام ہے۔ جنت کی امید اور جہنم کا خوف۔ جیسے جیسے ایمان ترقی کرتا جائے گا ‘ سکون قلبی بھی ترقی کرتا جائے گا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سکون قلبی کا دائمی نسخہ بتادیا ہے ” اطمینان قلب ! وہ تو ان ہی کے لئے ہے جو راہ حق پر ہیں ‘ جنہوں نے ایمان پا لیا اور جنہوں نے اپنے ایمان میں شرک کی ملاوٹ نہیں کی۔ ۔ آپ نے فریق مخالف کو للکار ا ابھی۔ ” بتائو ہم دونوں فریقوں میں کس کو اطمینان قلب کا زیادہ حق پہنچتا ہے۔ تمہارے دل اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ صرف اہل ایمان ہی ہیں۔ آیت نمبر 82 میں لفظ ظلم آیا ہے ‘ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام کے پوچھنے پر ارشاد فرمایا کہ یہاں پر ‘ ظلم ‘ سے مراد شرک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے متعلق فرمایا کہ ” یہ تھی ہماری مضبوط دلیل جو ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی قوم کے مقابلے میں سکھائی تھی۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کردیتے ہیں۔ رہتی دنیا تک اس طریقہ تبلیغ کو ‘ اس سنت ابراہیمی کو ‘ ہر مبلغ کے لئے قرآن کریم نے اپنے صفحات میں درج کردیا ہے۔ وہ کون سا مبلغ جو اطمینان قلب سے مسلح ہے۔ جو بادشاہ وقت کے خلاف اللہ کا پیغام لے کر اٹھتا ہے ‘ جو آنے والے خطرات کا صحیح اندازہ کرتا ہے اور پھر بھی ڈنکے کی چوٹ کہتا ہے کہ ” جائو میں تمہارے بنائے ہوئے معبودوں سے نہیں ڈرتا۔ جب تک میرا پروردگار نہ چاہے اس وقت تک مجھ پر کوئی تکلیف نہیں آسکتی۔ جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ پہلے ہی سے میرے رب کے حکم و ارادہ میں ہے “۔ یقینا وہ مبلغ نہیں ہے جو پیغام حق سے زیادہ اپنی ناک کو عزیز رکھتا ہے۔ جو صرف بےضرر اور بےخطر باتیں پیش کرتا ہے کہ شیخ بھی خوش رہے شیطان بھی بیزار نہ ہو ‘ جس کی راہ میں نمرود ‘ ابوجہل اور ابو لہب نہیں آتے ‘ جو قرآن پڑھتا ہے اور مثالوں سے کوئی عملی سبق نہیں لیتا۔ اگر تبلیغ حق اور جہاد سے بچ کر جنت کا کوئی اور راستہ ہوتا تو تمام پیغمبر اور ان کے ماننے والے وہی راستہ اختیار کرتے ۔ اپنی جان جو کھوں میں ڈالنا کیا ضروری تھا۔ مگر پھر اللہ کے ہاں رتبے کیسے بلندہوتے۔ آگے کی آیات ان ہی باتوں کی وضاحت کرتی ہیں۔
Ayahs 6:84–88

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ كُلًّا هَدَیْنَا١ۚ وَ نُوْحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 6:84 in the Quran reader

پھر ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) جیسی اولاد عطا کی اور ان میں سے ہر ایک کو راہ ہدایت دکھائی۔ وہی راہ ہدایت جو ہم نے ان سے پہلے نوح (علیہ السلام) کو دکھائی تھی اور پھر اس کی نسل میں سے دائود (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) اور ایوب (علیہ السلام) اور یوسف (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو بھی ہدایت عطا کی۔ اسی طرح ہم بڑھ چڑھ کر کام کرنے والوں کو انعام دیا کرتے ہیں

وَ زَكَرِیَّا وَ یَحْیٰى وَ عِیْسٰى وَ اِلْیَاسَ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 6:85 in the Quran reader

اور زکریا (علیہ السلام) اور یحییٰ (علیہ السلام) اور الیاس (علیہ السلام) کو بھی راہ ہدایت دکھائی۔ یہ سب کے سب ( اللہ کے) پسندیدہ بندوں میں تھے۔

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًا١ؕ وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:86 in the Quran reader

اور راہ ہدایت اسماعیل (علیہ السلام) اور یسع (علیہ السلام) اور یونس (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کو بھی دکھائی اور ان سب کو ہم نے تمام جہان والوں پر فضیلت بخشی۔

وَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْ١ۚ وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:87 in the Quran reader

اور (اتنا ہی نہیں) ہم نے ان کے باپ دادا ‘ ان کی اولادوں اور ان کے بھائیوں میں سے بہت سوں کو نوازا اور انہیں اپنی خدمت کے لئے چن لیا اور سیدھی راہ کی طرف ان کی رہنمائی کی ۔

ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:88 in the Quran reader

یہ اللہ کا فضل و کرم ہے کہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے ہدایت کے راستہ پر چلاتا ہے اگر کہیں ان لوگوں نے بھی شرک کیا ہوتا تو ان کے سارے اعمال برباد ہو کر رہ جاتے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 84 تا 88 : وھبنا (ہم نے عطا کیا) نجری (ہم بدلہ دیتے ہیں) فضلنا ( ہم نے بڑائی دی) اجتبیان ( ہم نے منتخب کرلیا۔ چن لیا) حبط ( ضائع ہوگیا) تشریح : آیت نمبر 84 تا 88 : حضرت ابراہیم ؐ نے اللہ کے بھروسے دل کے اطمینان سے مسلح ہو کر شرک کی طاقتوں کے خلاف توحید کا پرچم لے کر جس محنت ‘ قربانی اور بےخوفی کا مظاہرہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے دوسرے انعامات کے علاوہ انہیں پیغمبروں کا جدا مجد بنادیا۔ یہاں پر جن سترہ پیغمبروں کے نا لئے گئے ہیں ان میں ایک حضرت نوح (علیہ السلام) خود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جد امجد تھے۔ پیغمبر ہونا ‘ پیغمبر کا باپ دادا وغیرہ ہونا ‘ پیغمبر کا بیٹا (بیٹی) پوتا (پوتی) نواسا ( نواسی) ‘ بھانجا ( بھانجی) بھتیجا (بھتیجی) بھائی (بہن) وغیرہ ہونا بڑی نعمت ہے بشر طی کہ وہ خودراہ ہدایت پر ہوں۔ اسی لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اتنی تعظیم اور تکریم ہر قوم میں پائی جاتی ہے خواہ وہ یہودی ہوں ‘ عیسائی ہوں یا مسلمان ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے صاف صاف فرمادیا کہ عام انسان تو الگ رہے گار کہیں پیغمبروں میں سے (نعوذ باللہ) کسی نے ذرہ برابر بھی شرک کیا ہوتا تو ان کے نیک کاموں کا اجر ملیا میٹ ہوجاتا۔ اس سے ظاہر ہوا کہ مشرک ہزار نیک کام بھی کرے اسے اجر نہیں ملے گا ہاں مشرک کے برے کاموں کی سزا اس کو ضرور مل کر رہے گی۔
Ayahs 6:89–90

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ١ۚ فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَ كَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ Open ayah 6:89 in the Quran reader

یہ لوگ تھے جنہیں ہم نے آسمانی کتاب ‘ حکم اور نبوت عطا کی تھی۔ لہٰذا (اے نبی ﷺ ! ) اگر یہ لوگ اس پیغام حق کو ماننے سے انکار کررہے ہیں تو ہم نے بہت سے ایسے لوگ مقرر کردیئے ہیں جو اس کا اقرار کرنے والے ہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 6:90 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ جن انبیاء کا نام لیا گیا ہے وہی اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے۔ تو آپ بھی ان کی روش پر چلئے آپ کہہ دیجئے میں تم سے پیغام پہنچانے کا کوئی صلہ نہیں مانگتا۔ یہ تو دنیا جہان والوں کے لئے عام نصیحت ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 89 تا 90 : وکلنا (ہم نے سپرد کردیا) ‘ اقتدہ ( تو اس کی پیروی کر) لا اسئل ( میں سوال نہیں کرتا۔ میں نہیں مانگتا) ‘ اجر ( اجرت بدلہ۔ معاوضہ) ۔ تشریح : آیت نمبر 89 تا 90 : یہاں انبیاء (علیہ السلام) کو جو نعمتیں عطا کی گئی تھیں ان میں کتاب ‘ حکم اور نبوت کا نام ‘ خاص طور پر لیا گیا ہے۔ کتاب یعنی اللہ تعالیٰ کا ہدایت نامہ ‘ لکھا لکھایا ‘ تاکہ نسلاً بعد نسل تلاوت اور تعمیل ہوتی رہے۔ دوسرے حکم یعنی اس ہدایت نامہ کا صحیح فہم اور اس صحیح فہم کو انفرادی سطح سے لے کر بین الاقوامی سطح پر عمل درآمد کرنے اور کرانے کی صلاحیت تفصیلات میں قوت فیصلہ ‘ تیسرے نبوت یعنی اللہ کی طرف سے منصب قیادت تحریک۔ فرمایا گیا کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو بھی کتاب ‘ حکم اور نبوت سے سر فراز کیا گیا ہے۔ آپ بھی ان ہی کے طریقے پر چلئے۔ جنہیں ہم نے تمام جہان والوں پر فضیلت بخشی تھی۔ اگر یہ کفارو مشرکین قیغام حق کو نہیں مانتے تو صاف صاف کہہ دیجئے کہ میں تم سے کوئی حق خدمت نہیں مانگتا نہ میں تمہیں راہ راست پر زبردستی لانے کا ذمہ دار بنایا گیا ہوں۔ میں تو قرآن مجید پیش کررہا ہوں۔ جو کھلی ہوئی کتاب ہے جسے ہر شخص پڑھ سکتا ہے اب جس کا جی چاہے مانے اور جس کا جی نہ چاہے وہ نہ مانے۔ آیت 90 آجانے کے بعد حضور نبی کریم ﷺ ان معاملات میں جس پر وحی نہیں آئی تھی۔ گذشتہ پیغمبروں ہی کے نقش قدم کی پیروی کرتے تھے۔ یہ بات واضح رہے کہ شریعت میں عقائد اور بنیادی احکامات میں کوئی فرق نہیں۔ ہاں مسائل حیات کی بابت جزئیات میں کہیں کہیں اپنے اپنے زمان و مکان کے مطابق فرق ضرور ہے مگر اس سے نفس پیغام پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
Ayahs 6:91–92

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَ تُخْفُوْنَ كَثِیْرًا١ۚ وَ عُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنْتُمْ وَ لَاۤ اٰبَآؤُكُمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 6:91 in the Quran reader

اور منکرین نے اللہ کی وہ قدر نہ پہچانی جو اس کی قدر پہچاننے کا حق تھا جب انہوں نے یہ کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز نازل نہیں کی۔ آپ ان سے پوچھئے وہ کتاب جو موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے تھے وہ کس نے نازل کی تھی۔ جس میں لوگوں کے لئے نور بھی تھا اور ہدایت بھی۔ جسے تم نے متفرق اوراق میں رکھ چھوڑا ہے۔ کچھ تو لوگوں کو دکھاتے ہو اور بہت کچھ چھپالیتے ہو۔ وہ کتاب جس نے تمہیں وہ علم دیا تھا جو نہ تم جانتے تھے نہ تمہارے آباوا جداد جانتے تھے۔ آپ فرمادیجئے کہ یہ کتاب اللہ نے نازل کی ہے۔ بس آپ ان کو چھوڑ دیجئے تاکہ وہ اپنی ہٹ دھرمیوں سے شوق کرتے رہیں۔

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ Open ayah 6:92 in the Quran reader

یہ قرآن بھی ایک کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے جو بڑی برکت والی ہے اور ان کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے۔ جو اس سے پہلے نازل کی گئی ہیں تاکہ آپ ان اہل مکہ اور ان بستی والوں کو جو اس کے اطراف کے رہنے والے ہیں ڈرادیں اور جو لوگ آخرت پر یقین کامل رکھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی یقین کامل رکھتے ہیں۔ یہی لوگ نمازوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 91 : 92 : ماقدرو (انہوں نے قدر نہ کی) حق قدرہ (جیسا کہ اس کی قدر کرنے حق تھا) بشر (انسان) قراطیس (قرطاس) ۔ پرزے پرزے۔ (علمتم (تمہیں سکھایا گیا) خوض (بےہودہ مشغلہ) یلعبون (وہ کھیلتے ہیں) ام القری (بستیوں کی ماں (شہر مکہ مکرمہ) حول (اردگرد۔ آس پاس) یحافظون (وہ حفاظت کرتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 91 تا 92 : جیسا کہ آج کل بھی بہت سے مستشرقین ‘ خودساختہ محققین اور عاقلین یہ کہتے ہوئے نہیں جھجکتے کہ قرآن خود نبی ﷺ کی تصنیف ہے (نعوذ باللہ) اسی طرح ان دنوں بھی کسی یہودی نے اٹھ کر پکار دیا کہ اللہ کسی بشر پر اپنا کلام نازل نہیں کرتا۔ دوسرے الفاظ میں یہ قرآن خود نبی ﷺ کی تصنیف ہے۔ جسے وہ اللہ کے نام سے مشہور کررہے ہیں۔ (ثم نعوذ باللہ) ۔ اس کا جواب آیت 91 میں دیا گیا ہے۔ جس نے یہ کہا اس نے نہیں پہچانا کہ یہ کائنات اپنے تمام سازو سامان کے ساتھ ‘ اس میں یہ زمین اور اس زمین پر یہ اشرف المخلوقات یعنی انسان۔ یہ سب چیزیں کس لئے پیدا کی گئی ہیں۔ اس نے نہیں پہچانا کہ اس دنیا میں انسان کی ذمہ داریاں کیا ہیں ؟ ان ذمہ داریوں کو انجام دینے کے لئے اسے ایک ہدایت نامہ اور ایک تفسیر و تشریح کرنے والے یعنی صاحب قرآن اور نبی ﷺ کی ضرورت پڑے گی۔ اس نے نہیں جانا کہ جس الہل نے اتنی بڑی خلقت بنائی اور چلائی ‘ جس نے انسان کو خلافت الہیہ کا عظیم ترین فریضہ سپرد کیا ‘ وہ لازماً ہدایت نامہ اور ہدایت کار بھیج کر رہے گا اور انہیں گمراہی میں حیران و سرگرداں بھٹکنے کے لئے نہیں چھوڑ دے گا۔ اس ہدایت کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے وحی بردار فرشتہ اور وحی بردار نبی کی ضرورت ہوگی۔ جس اللہ نے تمام مادی ضروریات اک اک کر کے فراہم کردی ہیں ‘ آخرکیوں وہ ذہنی ‘ دماغی اور روحانی ضروریات فراہم نہ کرے گا۔ جس شخ صنے اتنا بڑا جھوٹ بکا اس نے نہ صرف ہمارے رسول کی توہین کی بلکہ خود خالق کائنات کی بھی توہین کی۔ اس نے اللہ کی قدرت کو نہیں مانا کہ وہ بشر پر اپنا کلام نازل کرسکتا ہے ‘ اس نے فرشتے کو نہیں مانا کہ وہ وحی الٰہی پہنچا سکتا ہے۔ اس نے نبی ﷺ کو نہیں مانا کہ وہ وحی الٰہی وصول کرسکتا ہے ‘ اس نے کار نبوت کو نہیں مانا کہ وہ اس کی تبلیغ کرسکتا ہے۔ اس نے اللہ پر الزام لگایا کہ اس نے جھوٹے نبی کو بھجا اور حضور پر نور ﷺ پر یہ الزام لگایا کہ وہ اپنی تصنیف کو اللہ کی تصنیف بتا کر پیش کررہے ہیں (ثم نعوذ باللہ) ۔ وہ اللہ کا بھی منکر ہے ‘ قرآن کا بھی منکر ہے اور نبی ﷺ کا بھی منکر ہے اور فرشتے کا بھی منکر ہے۔ اس آیت میں اس بات کو واضح طور سے فرمادیا گیا کہ یہودی ہو کر یہ تو مانتے ہیں کہ ان کے نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایک کتاب توریت نازل ہوئی تھی جو دل کے لئے روشنی تھی اور ہاتھ پاؤں کے لئے رہنمائی۔ فرمایا جارہا ہے کہ آج بھی یہودیوں کے پیشواؤں کے پاس توریت موجود ہے جس کے اوراق انہوں نے الگ الگ کر رکھے ہیں تاکہ عوام کو صرف وہ اوراق دکھا سکیں جن سے ان کی پیشوائی کا کاروبار مجروح نہ ہوتا ہو ‘ اور وہ سارے اوراق چھپالیں جو ان کے مفاد کی پرورش نہیں کرتے۔ یہ تمہارے پیشوا نسلاً بعد نسل توریت کو سنبھال کر کیوں رکھے ہوئے ہیں کو جن کہ یہ کتاب وہ علم دیتی ہے جو کسی اور ذریعہ سے انہیں حاصل نہیں ہو سکتا تھا اور جس کی بدولت وہ عالم اور فاضل بنے ہوئے ہیں۔ حضور ﷺ کو ہدایت کی گئی ہے کہ ان بنی اسرائیل سے پوچھئے کہ تمہارے نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر توریت اتری تھی یا نہیں۔ وہ ضرور کہیں گے کہ ہاں۔ پوچھئے کہ وہ کار نبوت انجام دیتے تھے یا نہیں ؟ وہ ضرور کہیں گے کہ ہاں۔ پھر کہیئے کہ اسی طرح قرآن ہے جو مجھ پر نازل ہوا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نبی بھی تھے اور بشر بھی۔ اسی طرح میں نبی بھی ہوں اور بشر بھی۔ حضور ﷺ کو ہدایت کی گئی ہے کہ یہ جواب دے کر آپ بحث میں مت الجھئے۔ ظاہر ہے کہ جو ضدی اور ہٹ دھرم ہیں وہ اپنی انا کی خاطر کچھ نہ کچھ دماغ تراشی ضرور دکھائیں گے۔ فرمایا جارہا ہے کہ آپ انہیں اپنا شوق پورا کرنے دیجئے۔ یہ بات کچھ ان ہی دنوں محدود نہ تھی۔ آج بھی چین ‘ روس ‘ امریکہ ‘ کے سائنسدان اور مفکرین انکار نبوت پر بلکہ انکار الہٰیت پر اپنا ذہنی شوق پورا کر رہے ہیں۔ مغربی سائنس انکار کا ہم معنی بن کر رہ گئی ہے۔ گذشتہ دنوں پاکستان کے ایک چوٹی کے سائنسدان کا مضمون اخبار میں چھپا تھا کہ فرشتہ کوئی چیز ہیں ہے۔ میں فرشتہ کو نہیں مانتا جب اس سے پوچھا گیا کہ تمہارے آں جہانی بات کی روح کو ن لے گیا تو وہ چوٹی کا سائنسدان اس کا جواب نہ دے سکا۔ حضور ﷺ کو ہدایت کی گئی ہے کہ بنی اسرائیل کے لئے زبور ‘ توریت اور انجیل تھیں۔ اب آپ اس قرآن کو تمام دنیا میں پھیلایئے مگر شروع کیجئے مکہ مکرمہ سے ۔ یہ قرآن اگلے آسمانی صحفیوں کی بھی تصدیق کرتا ہے چناچہ کسی کو اجازت نہیں دی جاسکتی کہ جس کتاب کو چاہا مانا اور جس کو چاہا نہ مانا۔ جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔ اور ایمان کا ثبوت یہ ہے کہ وہ نماز کے پابند ہیں۔ اس بات کے ثبوت میں کہ بشر کو نبی بنا کر اس پر کلام الٰہی نازل ہوا ہے ‘ چار شہادتیں پیش کی گئی ہیں۔ پہلی توریت کی مثال جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی جنہیں تمام بنی اسرائیل والے مانتے ہیں۔ دوسرے توریت اور قرآن ایک ہی سلسلے کی دوکڑیاں ہیں۔ اصل الاصول اور مبادیات میں کوئی فرق نہیں پھر کیا وجہ ہے کہ توریت کو مانا جائے اور قرآن کو نہ مانا جائے۔ تیسرے یہ کہ یہ کتاب بڑی خیرو برکت والی ہے یہ اہل تقویٰ کے لئے سراسر ہدایت ہے۔ چوتھے اس کتاب کا مقصد بھی وہی ہے جو دوسری آسمانی کتابوں کا رہا ہے۔ یعنی لوگوں کو آخرت سمجھانا ‘ چونکانا اور ہوشیار کرنا۔
Ayah 6:93

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَ لَمْ یُوْحَ اِلَیْهِ شَیْءٌ وَّ مَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَاسِطُوْۤا اَیْدِیْهِمْ١ۚ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 6:93 in the Quran reader

اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان گھڑ تا ہے یا دعویٰ کرتا ہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے جب کہ اس پر کوئی وحی نازل نہ کی گئی ہو یا وہ دعویٰ کرے کہ میں بھی نازل شدہ وحی کی طرح اپنی نازل شدہ چیز پیش کرسکوں گا۔ اے نبی ﷺ ! کاش اپنے آپ پر ظلم کرنے والے لوگوں کو آپ اس حالت میں دیکھ سکتے جبکہ وہ موت کی سختیوں میں پڑے ہاتھ پائوں ما رہے ہوں گے اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر انہیں ڈانٹ رہے ہوں گے کہ چلو ادھر نکالو اپنی جان۔ آج تمہیں اس ناحق بکواس کے عوض جو تم اللہ پر تمہمت دھرا کرتے تھے۔ اور اس کی آیات کے مقابلے میں بڑی رعونت دکھایا کرتے تھے ذلت کا عذاب دیاجائے گا۔

لغات القرآن : آیت نمبر 93 : اوحی (وحی کی گئی) سانزل (بہت جلد اتاروں گا) ‘ غمرات الموت ( غمرۃ ض موت کی سختیاں) باسطوا (کھولنے والے۔ پھیلانے والے) اخرجوا (نکالو) تجزون ( تم بدلہ دیئے جائو گے) الھون ( ذلت) تستکبرون (تم تکبر کرتے ہو) ۔ تشریح : آیت نمبر 93 : کفر جب شدید ہوجائے تو کتنی شکلیں اختیار کرسکتا ہے (1) یہ کہنا کہ اللہ اپنا کلام بشر پر نازل نہیں کرتا خواہ وہ نبی ہو (2) یہ دعویٰ کرنا کہ میں نبی ہوں جبکہ وہ نبی نہ ہو (3) یہ دعویٰ کرنا کہ میں بھی قرآن جیسی کتاب تصنیف کرسکتا ہوں۔ پہلی قسم پر تو بحث ہوچکی۔ رہی دوسری اور تیسری قم۔ تو قرآن کی یہ آیت خبردار کررہی ہے کہ ایسے شدید کفار بھی دور نہیں۔ حضور ﷺ کے وصال کے وقت جھوٹے مدعیان نبوت بڑے زور شور شے اٹھ کھڑے ہوئے۔ ہر جھوٹا بنی یہی دعویٰ کرتا تھا کہ قرآن جیسی کتاب میں بھی پیش کرسکتا ہوں۔ مسلیمہ ‘ نضر ‘ عبد اللہ وغیرہ اسی قسم کے کفار تھے۔ وہ عذاب جو انہیں موت کے بعد ملے گا وہ اپنی جگہ پر ہے۔ یہاں پر ذکر اس عذاب کا ہے جو انہیں سکرات موت کے وقت ہوگا موت کے فرشتے زور اور زبردستی سے ان کی روحیں قبض کریں گے ڈانٹ ڈانٹ کر کہیں گے کہ اب چلو اس عظیم عذاب کی طرف جو تمہارا انتظار کررہا ہے۔ تم نے جو اللہ کے مقابلے میں سرکشی اختیار کر رکھی تھی اس کی پوری پوری سزا دی جائیگی۔
Ayah 6:94

وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْ١ۚ وَ مَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِیْكُمْ شُرَكٰٓؤُا١ؕ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَكُمْ وَ ضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ۠ Open ayah 6:94 in the Quran reader

اور ہم کہیں گے کہ تم ہمارے پاس ویسے ہی اکیلے تن تنہا آگئے جیسا کہ ہم نے تمہیں پیلد مرتبہ پیدا کیا تھا۔ اور وہ سارا سازو سامن بھی پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے جو ہم نے تمہیں دیا تھا۔ اور (کیا بات ہے کہ ) ہم تمہارے ساتھ ان سفارش کرنے والوں کو نہیں دیکھتے جن کا تمہیں گھمنڈ تھا کہ تمہارے کام بنانے میں ( میرے ساتھ) ان کا بھی ساجھا ہے۔ اب نہ تم ان کے ساتھ نہ وہ تمہارے ساتھ۔ وہ بےیارو مدد گار چھوڑ گئے جن پر تم ناز کیا کرتے تھے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 94 : فردی (تنہا) ترکتم) تم نے چھوڑا ‘ خولنا (ہم نے دیا) ‘ ورآء ( پیچھے) ظھور ( ظھر) ۔ پیٹھ ‘ شفعآء (شفیع) سفارشی ‘ زعمتم (تم نے گھمنڈ کیا) ‘ تزعمون ( تم دعویٰ کرتے ہو) ۔ تشریح : آیت نمبر 94 : یہ قیامت کے مناظر میں سے ایک ہے جب مشرکین اللہ کے سامنے پیش ہوں گے اللہ فرمائے گا کہ آج تم اکیلے تن تنہا آئے ہو بالکل جس طرح ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا۔ نہ آج تمہارا زرق برق لباس ہے ۔ نہ وہ عمارتیں سواریاں حشم و خدم ‘ نہ وہ دولت نہ وہ شوکت جن کے بل بوتے پر تمہاری گردن اکڑی رہا کرتی تھی۔ اور تم ہماری آیات پر بحث و تکرار کا طوفان اٹھا دیا کرتے تھے۔ آج تم خالی ہاتھ ہو کچھ ساتھ نہ لاسکے۔ اور کہاں ہیں آج وہ جھوٹے معبود جنہیں تم اختیار ات میں ہمارا شریک سمجھتے تھے جن پر تمہیں گھمنڈ تھا کہ سفارش کر کے تمہیں میری سزا سے بچالیں گے۔ جنہیں تم پوجتے تھے گویا وہ بھی تمہیں پیدا کرنے میں زندہ رکھنے میں ‘ موت اور قبر و قیامت میں کچھ دخل رکھتے ہیں۔ لائو دکھائو کہاں ہیں وہ ؟ کل جن پر تم ناز کرتے تھے آج وہ کہاں گئے تمہیں بےیارو مدد گار چھوڑ کر۔ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا ہے ” ہر وہ شخص جس نے اللہ کے ساتھ دوسروں کی بندگی کو پسند کیا اس کا حشر اپنی بندگی کرنے والوں کے ساتھ ہی ہوگا “ اس سے مفسرین نے یہ معنی لئے ہیں کہ وہ ہستیاں جنہوں نے اپنی بندگی کرائی ‘ ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ لن کہ وہ ہستیاں جنہوں نے اپنی بندگی نہیں کرائی اور اس سلسلہ میں بےگناہ ہیں اگر چہ کچھ لوگ اپنی طرف سے بلا اجازت ان کی پرستش کرتے رہے۔ ( جیسے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) وہ بےقصور ٹھہرائے جائیں گے کیونکہ وہ اس شرک کے ذمہ دار نہیں ہیں۔
Ayahs 6:95–98

اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوٰى١ؕ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ مُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 6:95 in the Quran reader

بیشک اللہ وہ ہے جو دانے اور گٹھلی کو پھوڑ کر نکالتا ہے ‘ جو بےجان سے جاندار اور جاندار سے بےجان کو نکالتا ہے۔ یہ سارے کام کرنے والا تو اللہ ہے پھر تم کیوں بہکے جارہے ہو ؟

فَالِقُ الْاِصْبَاحِ١ۚ وَ جَعَلَ الَّیْلَ سَكَنًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ حُسْبَانًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 6:96 in the Quran reader

وہی (پردہ ظلمات سے) مسلسل صبح پر صبح نکالنے والا ہے۔ اسی نے تمہارے آرام کے لئے رات بنائی ہے۔ اسی نے سورج اور چاند کو ایک حساب سے مقرر کردیا ہے۔ اس نظام کا بنانے اور چلانے والا وہی ہے جو تمام طاقت اور تمام علم رکھتا ہے۔

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوْمَ لِتَهْتَدُوْا بِهَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:97 in the Quran reader

وہی ہے جس نے ستاروں کو چراغ راہ بنایا تاکہ تم زمین اور سمندر کی لق و دق پہنائیوں میں راستہ پاسکو۔ علم والوں کے لئے ہم نے وضاحت سے اپنی نشانیاں بیان کردی ہیں

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَهُوْنَ Open ayah 6:98 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تم سب کو ایک شخص واحد سے پیدا کیا۔ پھر تمہاری زندگی اور تمہاری موت کی جگہ طے کردی ہے۔ بیشک سوچنے سمجھنے والوں کے لئے ہم نے نشانیاں کھول کھول کر بیان کردی ہیں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 95 تا 98 : فالق (تنہا) الحب ( تم نے چھوڑا) النوی ( ہم نے دیا) ‘ الحی ( زندہ) المیت (مردہ) الاصباح ( صبح) سکن (سکون) ‘ تقدیر ( اندازہ) ‘ النجوم ( نجم) ۔ ستارہ) مستودع ( سپرد کرنے کی جگہ) ۔ تشریح : آیت نمبر 95 تا 98 : ان آیات میں اور ان کے بعد آنیوالی چند آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کو مٹانے کے لئے انسان کو بصارت اور بصیرت کی دعوت دی ہے۔ وہ معاملات فطرت جو دن رات مستقل طور پر ہوتے رہتے ہیں ‘ عموماً انسان انہیں نظر انداز کرجاتا ہے۔ اگر دیکھتا بھی ہے تو صرف ظاہر کو۔ اگر متاثر ہوتا ہے تو ان کی پرستش کرنے لگتا ہے۔ وہ نہیں دیکھتا کہ ان مظاہر فطرت کے پیچھے حقیقی خالق ومالک کون ہے۔ ؟ عام طور پر جو چیزیں پوجی جاتی ہیں وہ ہیں غذائی نباتات اور کائنات کی چھوٹی بڑی چیزیں یعنی غلہ اور پھل ‘ سورجذ چاند ستارے اور باپ ماں اولاد اور مردے۔ ہندوستان میں تلسی ‘ سورج مکھی ‘ کنول ‘ کٹھل ‘ برگدو غیرہ بھی عام طور پر پوجے جاتے ہیں کفر کا کون سا مذہب ہے جس میں چاند سروج اور ستاروں کو دیوتا او دیوی قرار نہ دیا گیا ہو یہاں تک کہ قدیم ایران ‘ ہندوستان ‘ چین ‘ قدیم مصر وغیرہ میں تو باشاہوں کو سورج کا بیٹا چاند کا بیٹا یا چاند کا باٹن تک کہا جاتا تھا اور ان کی پوجا ہوتی تھی۔ ہندوؤں میں تری مورتی کا تیسرا ممبر دیوتا و شنو ہے جو تناسل او پیدائش کا قلم دان رکھتا ہے۔ اس لئے والدین اور اولاد کی بھی پوجا ہوتی ہے۔ اگرچہ ہندوؤں میں ‘ یونانیوں میں ‘ آتش پرستوں وغیرہ میں موت کا دیوتا ہے لیکن مردہ پرستی کا جو ریکارڈ چین کے بد مذہب ‘ کنفیوشس مذہب اور ٹائو مذہب نے قائم کیا ہے وہ توحیرت ناک ہے شاید کوئی اس کا مقابلہ کرسکتا ۔ ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ زمین کی گہرائیوں میں حقیر دانہ تخم کو یہ صلاحیت عطا کرنا کہ زمین کو پھاڑ کر کونپل نکالے ‘ گھٹلیوں کو پھاڑ کر اندر سے سر نکالے اور پھر رفتہ رفتہ کھیت اور باغ بنادے۔ ابتدا سے لے کر انتہا تک ہر ہر منزل پر وہ دانہ اللہ تعالیٰ کے اشارے کا محتاج ہے۔ اس کے حکم سے وہ پیدا ہوتا ہے ‘ بڑھتا ہے ‘ پھلتا اور پھولتا ہے ان بےحقیقت چیزوں کو پوجنے والوں سے فرمایا گیا ہے کہ تم گھاس پھوس پتے ‘ پھل ‘ پھول ‘ اور درخت کی پوجا کررہے ہو۔ تمہیں تو اس طاقت کی عبادت کرنی چاہیے جو ان کے پیچھے ہے اور وہ اللہ کی ذات ہے۔ وہی اللہ ہے جو اپنی قدرت اور حکمت سے جاندار مرغی سے بےجان انڈا نکالتا ہے اور بےجان انڈے سے جاندار مرغی ‘ یہ جتنے انسان چرندے پرندے درندے جیتے ‘ جاگتے ‘ چلتے ‘ پھرتے نظر آرہے ہیں ابتدائی منزل میں بےجان نطفہ تھے اور آئندہ جتنے جاندار آئیں گے بےجان نطفوں سے آئیں گے زمین پر اور پانی میں یہی اصول کام کررہا ہے۔ کسی جاندار یا بےجان میں طاقت نہیں ہے کہ وہ اولاد پیداکرے۔ اس سلسلہ تناسل کے پیچھے صرف ایک اللہ ہی کی طاقت اور حکمت کار فرما ہے۔ جب سے دنیا قائم ہوئی ہے اور قائم رہے گی۔ روشنی ‘ اندھیرا ‘ دن رات ‘ سورج ‘ چاند اور ستاروں کا ایک خاص نظام الاوقات ہے اور ان کے راستوں میں وہ پابندی ہے جو زندگی کو ممکن بلکہ مزیددار بناتی ہے۔ اگر کبھی ذرا سا بال برابر فرق ہوجائے تو دنیا کا نظام بگڑ جائے۔ یہ ستارے کچھ روشنی تو زیادہ نہیں دیتے لیکن یہ سمندروں اور صحراؤں میں جب کہ انسان بھٹک جاتا ہے کہ کدھر جاؤں اور کدھر نہ جاؤں اس وقت یہ راستہ بتاتے ہیں۔ یہ سارا نظام فلک کون چلارہا ہے ؟ یہاں پر روشنی اور اندھیرے دن اور رات کا تذکرہ آیا ہے یہ اسیکم کس نے بنائی اور عمل کس نے کیا۔ جس طرح کام کے لئے دن ضروری ہے اسی طرح آرام کے لئے رات ضروری ہے۔ یہ ان کا باقاعدہ آنا اور جانا ‘ صحیح مدت کے لئے آنا اور صحیح مدت کے لئے جانا ‘ صحیح درجہ حرارت بڑھانا اور گھٹانا تاکہ نہ صرف زندگی چلے ‘ بلکہ کام بھی ہوتا رہے۔ اور ساتھ ساتھ آرام بھی ہوتا رہے۔ یہ کس کی قدرت ‘ حکمت اور رحمت ہے ؟ ۔ کیا یہ اللہ کی حکمت نہیں ہے کہ ایک ہی جوڑے آدم (علیہ السلام) وحوا سے اتنے اربوں اور کھربوں انسان بنادئے اور وہ بنتے ہی چلے جارہے ہیں۔ اور جس طرح پیدائش اس کے ہاتھ میں ہے اسی طرح موت بھی اس کے ہاتھ میں ہے۔ جس طرح اس نے اک اک شخص کی پیدائش کا وقت اور مقام مقرر کر رکھا ہے ‘ اسی طرح اس نے اک اک شخص کی روزی کا وقت اور مقام بھی اور پھر موت کا وقت اور مقام بھی مقررکر رکھا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو فوراً یہ حقیقت نکھر کر سامنے آجائیگی کہ ان سارے اور دوسرے کاموں میں اللہ کا کوئی شریک ہو ہی نہیں سکتا۔ لیکن ان سچائیوں کے باوجود بھی انسان بہک کر دوسرے جھوٹے معبودوں کی طرف لپکتا ہے۔
Ayahs 6:99–102

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا١ۚ وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ اُنْظُرُوْۤا اِلٰى ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ یَنْعِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:99 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا۔ پھر اس سے ہر قسم کے نباتات اگائے اور ہرے بھرے کھیت اور باغات پیدا کئے۔ پھر ان میں سے ( خوشے اور) پھل جو باہم اوپر تلے گتھے ہوئے ہوتے ہیں اور کھجور کے گا بھے پھلوں کے جھکے ہوئے گچھوں والے جو لٹکے ہوئے ہیں اور اسی سے انگوروں اور زیتون اور اناروں کے باغات پیدا کئے۔ جن کے پھل باہم ملتے جلتے بھی ہیں اور پھر باہم مختلف بھی۔ ان درختوں کے پھلوں کو پھر ان کے پھلنے پھولنے کی کیفیتوں کو غور کی نگاہوں سے دیکھو۔ ان میں ایمان والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَصِفُوْنَ۠ Open ayah 6:100 in the Quran reader

اور یہ لوگ جنوں کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں حالانکہ اللہ ہی نے انہیں پیدا کیا ہے۔ یہ لوگ مارے جہالت کے اس کے لئے بیٹوں اور بیٹیوں کا افسانہ گھڑتے ہیں۔ وہ تو اس سے پاک ہے اور ان کی تمام افسانہ تراشیوں سے بلند وبالا ہے۔

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَنّٰى یَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ١ؕ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 6:101 in the Quran reader

وہ تو تمام آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور جب اس کا جوڑا ہی نہیں پھر اس کی اولاد کیسے ہوسکتی ہے ؟ وہی تو ہے جس نے تمام چیزیں بنائی ہیں اور ہر چیز کا اسکو مکمل علم حاصل ہے۔

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْهُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 6:102 in the Quran reader

یہی اللہ تمہارا رب ہے۔ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی ہر چیز کا خالق ومالک ہے تم اسی کی عبادت کرو۔ اور وہ تمہاری ہر ضرورت کو پورا کرنے والا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 99 تا 102 : نبات (سرسبزی۔ نباتات) خضرا (سبز چیز) متراکب ( تہہ درتہہ۔ ایک پر ایک چڑھا ہوا) النخل (کھجور) طلع (گچھا۔ گابھا) قنوان (خوشے) دانیۃ ( نیچے جھکے ہوئے) اعناب (عنب) انگور۔ الرمان ( انار) مشتبہ ( ایک دوسرے سے ملتے جلتے) ثمر ( پھل۔ نتیجہ) ینعہ ( اس کا پکنا) ‘ خرقوا (انہوں نے گھڑ رکھے ہیں) بنین ( ابن) ۔ بیٹے ( بنت) (بنت) بیٹیاں ‘ سبحانہ ( اس کی ذات پاک ہے۔ وہ بےعیب ہے) یصفون ( وہ بیان کرتے ہیں) بدیع ( نیا نکالنے والا۔ پیدا کرنے والا) ولد (بیٹا) صاحبۃ (بیوی) ذلکم (یہی۔ ان ہی میں) خالق ( پیدا کرنے والا) ۔ تشریح : آیت نمبر 99 تا 102 : مختلف زاویوں سے ان آیات کے مطالب لئے جاسکتے ہیں مگر ایک بات واضح ہے۔ اس میں ان مذاہب کے اعتقاد کی تردید ہے جن میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں بتوں کی دیو مالا مرتب کردی گئی ہے۔ کوئی بارش کا دیونا ہے کوئی دریا کا ‘ کوئی دولت کا ‘ کوئی جنگ میں جیتنے کا ‘ کوئی اولاد و عطا کرنے کا ‘ کوئی ہوا کا ‘ کوئی روشنی کا ‘ کوئی پانی کا ‘ کوئی صحت وغیرہ کا۔ کہنا یہ ہے کہ اللہ ہی آسمان کا بھی خالق ہے ‘ بارش کا بھی ‘ نباتات کا بھی ‘ موسم بہار کا بھی اور ہر چیز کا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر علم و فہم رکھنے والے کو اس طرف دعوت دی ہے کہ صرف بارش برسانے میں کتنی چیزوں کی ضرورت ہے۔ بخارات اور بھاپ بنانے اور اٹھانے کے لئے سمندر کی ‘ سورج کی ‘ ہواؤں کی ‘ فضاؤں کی پھر بادل بنانے کی طاقتوں کی ‘ پانی کے قطرے پکڑے رکھنے کی طاقتوں کی ‘ پھر قطرے قطرے برسانے کی ‘ پھر نیچے مٹی کی ‘ دریاؤں کی کہ انہیں واپس سمندر میں پہنچادیا جائے۔ اور پھر یہ فیصلہ کہ کہاں بارش ہونی ہے ‘ کتنی ہونی ہے اور کیسی ہونی ہے۔ ایک پھل کو دیکھئے۔ بیج سے پھل بننے تک اسے کتنی منزلوں سے گزرناپڑتا ہے۔ ہر ہر منزل پر اس کی خبر گیری کس نے کی ہے۔ ایک ہی مٹی ‘ ایک ہی پانی ‘ ایک ہی گرمی ‘ ایک ہی سردی مگر پھل مختلف۔ کوئی انگور کوئی زیتون کوئی انار۔ اور پھر ایک ہی درخت کے اناروں کو دیکھئے تو رنگ مختلف ‘ مزہ مختلف ‘ وزن مختلف ‘ بظاہر سب یکساں۔ اتنے قسم قسم کے پھل ‘ اتنے مزے ‘ اتنے رنگ۔ اتنے طبی اور کیمیاوی فائدے۔ غضب تو یہ تھا کہ شرک کرنے والوں نے اپنے بنائے ہوئے اضام میں محکمہ جات بھی تقسیم کرنے پر ہی بس نہیں کیا بلکہ آگے بڑھ کر نئے نئے افسانے تراشے ۔ انہوں نے اللہ کی ذات میں بھی بیوی بچے لگادئیے۔ یہ جو عظیم الشان قدر تیں دیکھیں تو سمجھ لیا یہ سب جنوں کا کرتب ہے۔ چناچہ جنوں کو بھی اللہ کی ذات اور صفات اور الوہیت میں حصہ دے ڈالا۔ لیکن اللہ ان سب واہیات و خرافات سے پاک ہے۔ وہی رب العالمین ہے۔ وہی لاشریک لہ۔ وہی ہر ایک کی ضرورت پوری کرتا رہا ہے اور پوری کرتا رہے گا۔ چناچہ معبود ہونے کا حق صرف اسی کو ہے۔
Ayahs 6:103–104

لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ١٘ وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَ١ۚ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:103 in the Quran reader

نگاہیں اس کو پا نہیں سکتیں مگر وہ نگاہوں کو پالیتا ہے۔ وہ باریک سے باریک شئے کو دیکھتا ہے اور ذرہ ذرہ کی خبر رکھتا ہے۔

قَدْ جَآءَكُمْ بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ عَمِیَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 6:104 in the Quran reader

اے لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے دیکھنے اور بوجھنے کی نشانیاں آگئیں۔ تو جس نے ان نشانیوں کو دیکھا اور بوجھا تو اپنے ہی فائدے کے لئے۔ اور جو اندھا رہا تو ذمہ داری اسی پر ہے (اے نبی ﷺ ! کہہ دیجئے) کہ میں تم پر کوئی نگراں نہیں ہوں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 103 تا 104 : لاتدرک ( نہیں پاسکتی) الابصار (آنکھیں) یدرک ( وہ پالیتا ہے) ‘ بصائر ( بصیرۃ) نشانیاں ‘ عمی ( جو اندھا بن گیا) حفیظ ( نگراں۔ نگہبان۔ دیکھ بھال کرنے والا) ۔ تشریح : آیت نمبر 103 تا 104 : تمام مخلوق کی نگاہیں مل کر ‘ تمام خوردبین اور دور بین مل کر بھی اگر کوشش کریں تب بھی وہ نظر نہیں آسکتا۔ ” اے برترازگمان و قیاس و خیال و وہم “۔ تمام آنکھوں کی مجموعی طاقتوں سے بھی وہ اتنا عظیم ہے ‘ یا اتنا مخفی ہے ‘ یا اتنا غیر مرئی ہے ‘ یا اتنا غیر محسوس ہے ‘ یا اتنا نزدیک یا دور ہے ‘ یا اتنا بلند ہے یا اتنا عمیق ہے کہ اس کو آنکھیں پا نہیں سکتیں۔ آنکھیں صرف ٹھوس یا سیال یا ایک خاص کیفیت کی اشیاء کو پاسکتی ہیں اور وہ بھی ایک خاص فاصلہ پر۔ نہ بہت زیادہ قریب نہ بہت زیادہ دور اور وہ ان سب حد بندیوں سے ورے ہی ورے ہے۔ یہاں پر لفظ ” ادراک “ بھی آتا ہے۔ یعنی محض دیکھ لینا ہی شرط نہیں ہے بلکہ سمجھ لینا بھی شرط ہے کہ یہ کیا ہے کس حالت میں ہے اس کے نقشے کیا ہیں۔ وہ دیکھنا ہی کیا جس سے پر دئہ دماغ پر تصویر نہ بنے خواہ ہزار مبہم ہی سہی۔ نگاہیں ٹہر نہیں سکتیں ‘ فوکس ڈال نہیں سکتیں گرفت میں لا نہیں سکتیں چونکہ اس کا جسم نہیں ‘ وہ کسی ایک جگہ ٹھہرا ہوا یا چلتا ہوا نہیں ‘ وہ محدود نہیں۔ اور جب بصارت اس کے آگے ہار ہار جاتی ہے تو ادراک ‘ اس کو دیکھنا اور آنکھوں کی طاقت سے سمجھنا ناممکن ہے۔ بے شک قیامت کے دن اللہ نظر آئے گا مگر صرف اس کا ایک خفیف رخ۔ اس وقت بھی ساری مخلوقات کی نگاہیں مل کر اس کا سراپا نہیں دیکھ سکتیں۔ اس کے جمال و جلال کا احاطہ نہیں کرسکتیں۔ صرف ایک جلوہ نظر آئے گا۔ دنیا میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک ہی تجلی میں بیہوش ہو کر گرپڑے تھے۔ آخرت میں لوگ بےہوش نہ ہوں گے چونکہ انہیں اتنی طاقت عطا کی جائے گی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر دنیا جہان کے سار انسان اور جنات اور فرشتے اور شیطان جب سے پیدا ہوئے اور جب تک پیدا ہوتے رہیں گے ۔ وہ سب کے سب مل کر ایک صف میں کھڑے ہوجائیں تو سب مل کر بھی اس کی ذات کا احاطہ اپنی نگاہوں سے نہیں کرسکتے (روایت ابو سعید خدری ؓ خالق کی ذات وصفات لامحدود ہیں۔ مخلوقات کی بصارت ‘ بصیرت ‘ حواس اور قوت ادراک سب محدود ہیں۔ بھلا محدود میں لامحدود کیوں کر سما سکتا ہے۔ تمام عقلا ‘ علماء اور صوفیا کا متفقہ عقیدہ رہا ہے کہ اس فانی زندگی میں حق تعالیٰ کی ذات کا مشاہدہ و ادراک ناممکن ہے۔ جب حضرت موسیٰ کلیم اللہ کو جواب ملا کہ تو مجھے نہیں دیکھ سکتا تو پھر ہم جیسوں کی کیا مجال ہے۔ رسول کریم ﷺ کو معراج کے موقع پر جو زیارت نصیب ہوئی اس کا تعلق اس دنیا سے نہ تھا۔ اور ہمارا ذہن و فکر اس بات کا فیصلہ نہیں کرسکتا کہ آپ نے اللہ کے نور کا کس حد تک مشاہدہ فرمایا۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ” نگاہیں اس کو نہیں پاسکتیں “ اس کا تعلق صرف اسی دنیا سے ہے۔ کیونکہ خود قرآن ایک جگہ کہتا ہے “ قیامت کے دن بہت سے چہرے تروتازہ ہشاش بشاش ہوں گے اور اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہونگے “۔ یہ بشارت صرف اہل ایمان کے لئے ہے۔ کیونکہ قرآن ایک جگہ کہتا ہے ” کفار اس دن اپنے رب کی زیارت سے محروم ہوں گے “۔ مومنوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی زیارت عرصہ محشر میں بھی ہوگی اور جنت پہنچ کر وہاں بھی۔ اہل جنت کے لئے ساری نعمتوں سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی زیارت ہوگی۔ صحیح مسلم میں حضرت صہیب ؓ کی روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب اہل ایمان جنت میں داخل ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ جو نعمتیں تمہیں جنت میں مل چکی ہیں ان سے زائد اور کچھ چاہیے تو بتائو کہ ہم وہ بھی دیدیں۔ یہ لوگ عرض کریں گے یا اللہ آپ نے ہمیں دوزخ سے نجات دی ‘ جنت میں داخل فرمایا اس سے زیادہ ہم اور کیا چاہ سکتے ہیں۔ اس وقت حجاب درمیان سے اٹھا دیا جائے گا اور سب کو اللہ تعالیٰ کی زیارت نصیب ہوگی۔ اور یہ نعمت جنت کی تمام دوسری نعمتوں سے بڑھ کر ہوگی “۔ صحیح بخاری میں ایک حدیث ہے کہ حضور پر نور ﷺ ایک رات چاندنی میں اپنے صحابہ کرام ؓ کے ساتھ تشریف رکھتے تھے۔ آپ نے چاند کی طرف نظر کی اور فرمایا تم اپنے رب کو اسی طرح کھلی آنکھوں سے دیکھو گے جس طرح اس وقت اس چاند کو دیکھ رہے ہو “۔ حضرت ابن عمر ؓ کی ایک روایت ترمذی اور مسند احمد میں ہے کہ اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو جنت میں خاص درجہ عطا فرمائے گا ان کو ہر صبح و شام دیدار الٰہی نصیب ہوگا۔ مختصر یہ کہ اس دنیا میں اللہ کا نظارا ناممکن ہے۔ آخرت میں بھی اتناہی کچھ نظر آئے گا جتنی اجازت ہوگی۔ بصارت اور قوت ادراک دونوں اجازت کی حد سے ایک قدم آگے نہ بڑھ سکیں گی۔
Ayahs 6:105–107

وَ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وَ لِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَ لِنُبَیِّنَهٗ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:105 in the Quran reader

ہم اسی طرح دلائل کو مختلف پہلوئوں سے بیان کرتے ہیں۔ تاکہ جاہل و نادان لوگ کہنے لگیں کہ آپ نے یہ باتیں کس سے پڑھی ہیں ؟ اور دانش مند اس سے روشنی حاصل کریں۔

اِتَّبِعْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:106 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ! ) آپ اس کی اطاعت کرتے رہیں جو وحی آپ کے رب کی طرف سے آپ کی طرف آتی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور شرک کرنے والوں کی طرف دھیان نہ دیں۔

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكُوْا١ؕ وَ مَا جَعَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 6:107 in the Quran reader

اور اگر اللہ چاہتا تو وہ شرک نہ کرتے۔ نہ تو ہم نے آ پکو ان پر نگراں بنایا ہے اور نہ آپ ان پر کار ساز (مختار) ہیں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 105 تا 107 : درست ( تو نے کسی سے) پڑھا ہے۔ تشریح : آیت نمبر 105 تا 107 : توحید و رسالت پر واضح دلائل پچھلی آیات میں پیش کئے گئے۔ ان میں بصارت اور بصیرت دونوں کو جھنجوڑا گیا جس کے نتیجے میں لوگوں کی دو واضح قسمیں سامنے آئیں۔ ایک وہ جو دین اسلام سے متاثر ہوئے اور کفر و شرک چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوگئے۔ لیکن وہ ضدی ہٹ دھرم بر خود غلط طبقہ جسے نہ ماننا تھا نہ مانا اور نہ ماننے کا جو بہانہ ڈھونڈا وہ بھی بھونڈا یعنی اے نبی ﷺ ! یہ قرآن جو آپ پیش کررہے ہیں۔ یہ وحی الٰہی نہیں ہے۔ یہ تو آپ ﷺ کسی سے سن کر اور سیکھ کر لائے ہیں ‘ اور ہم لوگوں پر رعب ڈال رہے ہیں۔ (نعوذ باللہ) مگر وہ یہ بتانے سے معذور رہے کہ وہ کون سنانے والا اور سکھانے والا ہے۔ اگر کوئی ایسا ہے تو پھر کس نے دوسرے لوگوں کو روکا ہے کہ وہ بھی جا کر سنیں اور سیکھیں۔ سنانے اور سکھانے کا شبہ ایک یا دو یہودیوں پر کیا گیا مگر وہ جلدہی مرگئے۔ پھر بھی حضور ﷺ کی زبان مبارک پر وحی کا سلسلہ قائم رہا اور اسی آن بان شان سے۔ اس کے بعد حضور ﷺ مدینہ تشریف لے گئے اور وہاں بھی وحی کا سلسلہ قائم رہا اور اسی اہتمام سے۔ اس طرح اس شبہ کی بنیاد ہی نہ رہی۔ مگر جنہیں ضد پر اٹل رہنا تھا وہ پھر بھی سیدھے نہ ہوئے۔ ان آنکھ والوں اور عقل والوں نے دیکھا نہ سمجھا کہ یہ وہ ہدایت کا سامان ہے ‘ یہ وہ غیب اور مشاہدہ کی باتیں ہیں جنہیں آج تک کوئی فلاسفر سقراط بقراط پیش نہ کرسکا۔ اور ایک امی محض کی زبان سے۔ وہ جس نے دعویٰ نبوت سے پہلے کبھی اس قسم کا کلام پیش نہ کیا تھا۔ ایسا فصیح وبلیغ کلام جس میں قیامت تک آنے والے جن و بشر کو بار بار چیلنج کیا گیا کہ قرآن کی چھوٹی سے چھوٹی سورت جیسا کلام لے آئیں۔ اور اس دوبارہ چیلنج کے ساتھ کہ تم ایسا ہرگز نہ کرسکو گے۔ اور واقعی وہ ایسا نہ کرسکے۔ مگر جو بد نصیب تھا وہ بد نصیب ازل رہا۔ قرآن کا خطاب اب نبی ﷺ کی طرف پلٹتا ہے کہ آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے ماننے والے اپنے طور پر وحی الٰہی کی پیروی کرتے رہیں۔ آپ ﷺ توحید کا پیغام سناتے ہیں۔ یہاں تکہ مومن ہونے والے مومن ہوجائیں گے اور کافر و مشرک رہنے والے کافر و مشرک ہی رہیں گے۔ آپ ﷺ تو محض ایک پیغامبر ہیں۔ آپ داروغہ بنا کر مسلط نہیں کردیئے گئے ہیں کہ زبردستی سب کو مومن بناتے پھریں۔ ان اعمال کا حساب آپ ﷺ سے نہیں لیا جائے گا۔ ان آیات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اے نبی ﷺ اگر اللہ چاہتا تو تکوینی طور پر سب کو مومن بنا دیتا۔ نہ رسول کی ضرورت ہوتی نہ قرآن کی۔ نہ قیامت کی نہ پل صراط کی۔ نہ جنت کی نہ جہنم کی۔ ایک مشینی میکا نیکی عمل ہوتا جس طرح جانوروں کے ساتھ ہوتا ہے۔ پھر قلب و ذہن کا امتحان کس طرح ہوتا اور ابلیس کی ضرورت کیا پڑتی۔ پھر کون رسالت پر ایمان لاتا یا نہ لاتا۔ پھر کون توحید کو پکڑتا اور کون گمراہی کو۔ اگر سب کو کن فیکون کے تحت پیدائشی مستحکم مومن بنادیا جاتا تو پھر اس سارے تکلیف و اہتمام کی تکلیف کیوں مول لی جاتی۔
Ayah 6:108

وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ كَذٰلِكَ زَیَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ١۪ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:108 in the Quran reader

اور ( اے ایمان والو ! ) ان کو گالی نہ دو جنہیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ مارے جہالت کے یہ لوگ جو اباً اللہ کی شان میں حد سے گذر کر بےادبی کرنے لگ جائیں۔ دیکھو اسی طرح ہم نے ہر فرقے کے اعمال کو ان کی نگاہوں میں خوش نما بنا دیا ہے۔ پھر ان سب کو اپنے رب کے پاس ہی واپس پہنچنا ہے۔ تب وہ ان کو بتادے گا جو کچھ وہ کرتے تھے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 10 تا 108 : لاتسبوا (تم گالیاں نہ دو ۔ کسی کو برا نہ کہو) عدو (بےادبی۔ دشمنی) زینا (ہم نے خوبصورت بنادیا) ۔ تشریح : آیت نمبر 108 : اس آیت کی شان نزول یہ ہے کہ مشرکین مکہ کے سرداروں کا ایک وفد ابو طالب کے پاس اس وقت پہنچا جب وہ بستر مرگ پر تھے۔ حضور ﷺ بھی تشریف لائے۔ وفد نے ابو طالب سے کہا یہ آپ کے بھتیجے ہمارے بتوں کو برا کہتے ہیں۔ انہیں سمجھائیے۔ ورنہ ہم ان کو اور اس ہستی کو بھی جس کا رسول یہ اپنے آپ کو بتاتے ہیں جواباً برا بھلا کہنے لگیں گے۔ ابوطالب نے سمجھایا کہ بھتیجے ! تم کیوں بتوں پر تنقید کرتے ہو۔ کیوں اس قوم کی دشمنی مول لیتے ہو ؟ یہ لوگ تمہیں دولت اور بادشاہت دینے کو تیار ہیں۔ آپ نے جو کچھ جواب میں فرمایا اس کا ماحصل یہ ہے کہ میرا کلمہ ہے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے ہاتھ پر چاند رکھ دیں تب بھی میں اس کلمہ سے باز نہیں آؤں گا۔ وفد بپھر گیا اور واپس چلا گیا۔ ایک تلخ فضا پیدا ہوگئی تھی اور ممکن تھا کہ مومنوں اور مشرکوں کے درمیان گالیوں کا تبادلہ شروع ہوجاتا ۔ اسی وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ حضور ﷺ کی بلندی تمیز و شرافت سے تو یہ امید نہیں ہے کہ زبان پر گالی لاتے۔ نبوت سے پہلے بھی آپ ﷺ نے کبھی گالی نہیں دی۔ ہاں یہ خطرہ عام مسلمانوں سے تھا۔ اس لئے آیت کا رخ نبی کی طرف نہیں ہے بلکہ عام مسلمانوں کی طرف ہے۔ اس آیت سے چند اصولی مسائل نکل آئے ہیں مثلاً (1) گالی اور تنقید میں کیا فرق ہے۔ گالی مبالغہ ہے ‘ جوش انتقام ‘ دشمنی ‘ نفرت وغیرہ کی بدولت ہے۔ ادب تمیز شرافت کی سرحد سے آگے ہے۔ اس کا مقصد دل کا بخار نکالنا ہے اور بس۔ لیکن تنقید حقیقت کو پیش کرتی ہے ( مگر تنقید کی بھی حدیں مقرر ہیں) ۔ اس کا مقصد تعمیری اور اصلاحی ہے۔ اس کے الفاظ نپے تلے ہوتے ہیں۔ تنقید شوق کے تحت نہیں بلکہ ضرورت کے تحت ہے۔ اعوذ با اللہ منا الشیطن الرجیم میں لفظ رجیم گالی نہیں ہے۔ تنقید ہے۔ حقیقت واقعہ ہے۔ (2) اگر کوئی کام اپنی ذات میں نہ صرف جائز بلکہ کسی درجہ میں محمود بھی ہے مگر اس کے کرنے سے فتنہ اٹھنے کا احتمال ہے تو دیکھنا یہ ہے کہ اس کام کے کرنے سے زیادہ بھلائی اور کم برائی ہے یا زیادہ برائی کم بھلائی۔ اگر زیادہ برائی اور کم بھلائی کا احتمال ہے تو اس کام کو چھوڑ دینا چاہیے یا اس وقت چھوڑ دینا چاہیے۔ شیخ سعدی (رح) نے کہا ہے ” دروغ مصلحت آمیز بہ ازراستی فتنہ انگیز “ یعنی مصلحت کے تحت سچ بات کو چھپا نا یا نرم کردینا بہتر ہے اس بےکھٹکے راست گفتاری سے جو فتنہ اٹھا دے۔ (3) لیکن اگر مسئلہ ہے شعائر اسلام کا یعنی ‘ اللہ ‘ رسول ‘ عبات ‘ قرآن ‘ حدیث فقہ ‘ تاریخ ‘ تعلیم اور تہذیب۔ تو فرائض بہر حال انجام دیئے جائیں گے اور اسلام کے لئے تبلیغ بھی ہوگی سیاست بھی ہوگی او حسب ضرورت جہاد فی سبیل اللہ بھی ہوگا۔ لیکن عقل و تدبر کا تقاضا ہے کہ فتنہ کم سے کم اٹھے۔ سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی سلامت رہے اور مخالف کو گالیاں دے کر دل کی بھڑاس نہ نکالی جائے۔ فتنہ کے ڈر سے صرف وہی کام چھوڑا جاسکتا ہے جو شعائر اسلام میں سے نہیں ہے یا جو ملی ضرورت نہیں ہے۔ شعائر اسلام کی عظمت کرے سے اگر فتنہ پیدا ہوجائے یا احتمال ہو تو اس کا علاج دوسرے ذریعہ سے کیا جائے گا۔ اور عمل میں کوتاہی نہیں کی جائے گی۔ بتوں پر تنقید جائز ہے بلکہ ضرورت ہے۔ لیکن گالی دینے کی اجازت نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی کو بھی گالی دینے کی اجازت نہیں ہے۔ بددعا کی اجازت ہے لیکن لعنت کی اجازت نہیں ہے۔ مظلوم ظالم پر لعنت نہیں بھیج سکتا البتہ وہ قرآن کی آیت پڑھ سکتا ہے۔ لعنت اللہ علی الظلمین۔ رسول کریم ﷺ نے ایک مرتبہ صحابہ کرام ؓ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی نہ دے۔ صحابہ ؓ نے پوچھا ایسا کون ہے جو اپنے ماں باپ کو گالی دے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کسی اور کے ماں باپ کو گالی دینا گویا اپنے ہی ماں بات کو گالی دینا ہے کیوں کہ وہ جواب میں تمہارے ماں باپ کو گالی دے گا۔ رسول کریم ﷺ نے ایک مرتبہ ارادہ کیا کہ بیت اللہ شریف کو ازسر نو اسی بنیاد اور نقشہ پر اٹھوائیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے چھوڑا تھا۔ لیکن آپ ﷺ نے یہ ارادہ ترک کردیا کہ فساد کا خطرہ تھا۔ ابو طالب کے واقعہ میں حضور نبی کریم ﷺ نے جو یہ فرمایا کہ اگر یہ لوگ آفتاب و ماہتاب بھی پیش کردیں تو میں کلمہ توحید و رسالت نہیں چھوڑوں گا ( یعنی حسب ضرورت بتوں پر تنقید کرتا رہوں گا) تو اس کا تعلق شعائر اسلام سے ہے۔ یہ آپ ﷺ کا فرض منصبی تھا۔ یہی مقام ہے بےخوفی کا ‘ استقلال کا اور توکل علی اللہ کا۔ بعض مذاہب اور فرقوں کو عادت پڑی ہوئی ہے کہ وہ پیغمبر اسلام ﷺ کو یا ان کے صحابہ کرام ؓ کو خواہ مخواہ برا کہتے ہیں۔ اگر ہم ان کو افہام و تفہیم سے بات سمجھا سکیں تو کیا کہنا۔ لیکن اگر نہ کرسکیں تو جواباً ان کے بزرگوں کو برا نہ کہیں۔ ان کے اعمال ان کے ساتھ۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ ہر جماعت کو اس کے اعمال حسین اور نفیس نظر آتے ہیں۔ ممکن ہے ان کو دشنام طرازی اچھی لگتی ہو۔ بہر حال سب کو اللہ کے پاس اپنے اپنے حساب و کتاب کے لئے واپس جانا ہے۔
Ayahs 6:109–113

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ مَا یُشْعِرُكُمْ١ۙ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:109 in the Quran reader

یہ لوگ اللہ کی بڑی بڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اگر کوئی اور معجزہ ہمیں دکھایا جائے تو ہم ضرور ایمان لے آئیں گے۔ (اے نبی ﷺ ! ) آپ کہہ دیجئے کہ نشانی اور معجزات تو اللہ کے پاس ہیں۔ اور ( اے ایمان والو ! ) تمہیں کیا خبر ہے کہ جب وہ نشانی آجائے گی تب بھی یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔

وَ نُقَلِّبُ اَفْئِدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ نَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ۠ Open ayah 6:110 in the Quran reader

ہم اسی طرح ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیردیں گے جس طرح پہلی مرتبہ نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہیں لائے تھے۔ او ہم ان کو ان کی سرکشی میں بھٹکنے کے لئے چھوڑے رکھیں گے۔

وَ لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةَ وَ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَیْهِمْ كُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ یَجْهَلُوْنَ Open ayah 6:111 in the Quran reader

اگر ہم ان پر فرشتے اتار دیں اور مردے ان سے باتیں کرنے لگیں اور تمام مردوں کو بھی زندہ کر کے ان کے سامنے لاکھڑا کردیں تب بھی یہ ولوگ ہر گز ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ سوائے اس کے کہ اللہ ہی چاہے تو اور بات ہے۔ ان میں بڑی تعداد نادانوں کی ہے۔

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:112 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے شرارت پسند انسانوں اور سرکش جنوں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے جو وہ فریب دینے کے لئے ایک دوسرے کو بنائوٹی باتیں سکھاتے ہیں۔ اور اگر ( اے نبی ﷺ ! ) آپ کا پروردگار چاہتا تو یہ لوگ ایسا کام نہ کرتے۔ اس لئے آپ ان کو اور ان کی افتراء پر دازیوں کو کو ان کے حال پر چھوڑ دیجئے

وَ لِتَصْغٰۤى اِلَیْهِ اَفْئِدَةُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ لِیَرْضَوْهُ وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:113 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اس لئے چھوڑ رکھا ہے تاکہ وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ ان ہی فریب آمیز سازشوں میں لگے رہیں اور وہ ان ہی برے کاموں کے مشغلوں کو پسند کرتے رہیں جس میں وہ آج تک مبتلا رہے ہیں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 109 تا 113 : اقسموا ( انہوں نے قسم کھائی) جھد ایمان (زبردست قسمیں۔ مضبوط قسمیں) ‘ ماشعرکم (تم نہیں سمجھتے) نقلب ( ہم پلٹ دیں گے) افئدۃ (فواد) دل ‘ اول مرۃ ( پہلی مرتبہ) یعمھون ( وہ سرگرداں ہیں۔ وہ بہک رہے ہیں) کلم (باتیں کیں۔ کلام کیا) ۔ الانس (انسان) زخرف (ظاہر۔ چمکدار چیز۔ بناوٹی) غرور ( دھوکہ) لتصغی (تاکہ جھکیں) لیرضوہ ( تاکہ وہ اس کو پسند کرلیں) لیقترفوا (تاکہ وہ کرتے رہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 109 تا 113 : پچھلی آیات میں ذکر تھا کہ کفار و مشرکین ‘ نشانیوں ‘ معجزوں کے باوجود ایمان نہ لائے۔ اب ذکر ہے کہ انہوں نے اپنی سیاہ ضمیری میں ایک نیا روپ بدلا ہے یعنی حضور ﷺ سے نئے معجزات کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ اگر آپ ﷺ ” کوہ صفا “ کو سونے کا بنادیں تو ہم ضرور ایمان لے آئیں گے۔ اس پر انہوں نے بڑی تاکید کے ساتھ اللہ کی قسمیں کھائیں۔ جناب رسالت مآب ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی بھی خواہش تھی کہ یہ معجزہ رونما ہوجائے تاکہ گمراہ لوگوں کو نجات کا راستہ مل جائے۔ آپ ﷺ دعا کو ہاتھ اٹھانے والے تھے کہ حضرت جبرئیل یہ وحی لے کر نازل ہوئے۔ ان آیات نے حضور ﷺ پر اور تمام مسلمانوں پر یہ حقیقت حال کھول کر رکھ دی کہ ان کا یہ نیا مطالبہ ہر قسم کی سخت سے سخت قسم کے باوجود دھوکا اور فریب ہے۔ یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ کوہ صفا کو سونے کا بنا دینا تو کیا۔ اگر فرشتے ظاہر ہو کر ان سے کلام کرنے لگیں۔ اگر مردے قبر سے نکل کر اٹھ کھڑے ہوں بلکہ اگر سارے مردے زندہ ہو کر ان کے سامنے آکھڑے ہوں۔ تب بھی یہ اپنے مکر اور چال میں ویسے ہی لگے رہیں گے جیسے اب تک لگے رہے ہیں۔ اس لئے ان کو سمجھانے کے لئے یہ جواب دید یجئے کہ معجزہ دکھانا نبی کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ یہ اختیار سراسر اللہ کے پاس ہے۔ اس طرح ان کے پر فریب مطالبے کی اخلاقی اعتبار سے نفی کردی جائے بلکہ ان آیات کی تبلیغ کے ذریعہ ان کے ڈھول کا پول کھول دیا جائے۔ انہیں بھی معلوم ہوجائے کہ یہاں فریب اور سازش چل نہیں سکتی۔ اور اللہ تو دلوں کے اندر کا راز تک جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ ہم نے اسی طرح ہمیشہ شرارت پسند انسانوں اور سرکش جنوں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے۔ وہ آپس میں ایک دوسرے کو دھوکے اور فریب کی بنائوٹی باتیں سکھاتے ہیں۔ اور اگر آپ کا رب چاہتا تو یہ لوگ ایسا کام نہ کرتے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ (اے نبی ﷺ ! ) کار نبوت آسان نہیں ہے۔ بڑے جان جوکھوں کا کام ہے۔ اس میں سو فیصد ایمان ‘ لگن ‘ قربانی ‘ محنت ‘ خلوص ‘ تبلیغ ‘ عقل و تدبیر ‘ حکمت و قیادت ‘ صبر و استقامت ‘ جہاد و قتال کی ضرورت ہے۔ پیغام حق کو لے کر آگے بڑھنا ہے۔ جس کے نتیجہ میں دوست کم اور دشمان زیادہ ہوں گے اور دشمن بھی وہ جن کے ہاتھ میں ملک و مال ‘ حکومت ‘ فوج ‘ جیل اور پھانسی خانہ سب کچھ ہے آپ کی تحریک کا وارجن بادشاہوں ‘ امیروں ‘ وزیروں ‘ ساہوکاروں ‘ تاجروں ‘ خوشامدیوں ‘ نادانوں ‘ اندھی تقلید پرستوں اور دنیا پرستوں پر پڑے گا وہ سب کے سب ایک محاذ بن کر مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوں گے اور آپ ﷺ کی اس تحریک کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو شیاطین جن وانس کے اس عظیم محاذ سے ٹکرانا ہوگا۔ اگر اللہ چاہتا تو تکوینی طور پر ان تمام دشمنان اسلام کو پیدائشی صاحب ایمان بنادیتا یا آپ ﷺ کے لئے نرم چارہ بنادیتا کہ ادھر آپ ﷺ نے دو چار معجزے دکھلائے دو چار تبلیغیں کیں ‘ جنت اور جہنم کی زبانی تصویر کھینچہ اور وہ فوج درفوج آپ ﷺ کے ہاتھ پر ایمان لے آئیں گے۔ اور آپ ﷺ ہلدی لگے نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا آئے کامیابی کے قلعہ میں پرچم لہراتے ہوئے داخل ہوجائیں گے۔ مگر یہ اس کی مصلحت نہیں ہے۔ یہاں ہر ابراہیم (علیہ السلام) کو نمرود سے ‘ ہر موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون سے ‘ ہر عیسیٰ کو یہود سے دو دوہاتھ کرنے یہ پڑتے ہیں۔ آپ ﷺ کی مخالفت میں بھی بہت بھاری جتھا کھڑا ہو رہا ہے۔ اس کی مصلحت نہیں ہے کہ سراسر معجزہ پر معجزہ دکھا کر کافروں کو رام کردیا جائے۔ معجزوں کی اپنی اہمیت ہے لیکن ان کی بھی ایک حد ہے اور وہ حد گذرچ کی۔ اب پیغام حق کے دلائل کو دیکھ کر جو شخص حق و صادقت کی بات مانتا ہے وہ مانے ورنہ اپنے لئے جہنم میں ٹھکانا بنا لے۔