Ayahs 37:123–132لغات القرآن آیت نمبر 123 تا 132 :۔ بعل ( بت ( جس کی وہ عبادت کرتے تھے) تذرون (تم چھوڑتے ہو) احسن (بہترین) الخالقین ( پیدا کرنے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر 123 تا 132 :۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) جنہیں بائبل میں ایلیا کہا جاتا ہے وہ معتبر روایات کے مطابق نویں صدی قبل مسیح (علیہ السلام) میں ملک شام کے شہر بعلبک کے رہنے والوں کی اصلاح و تربیت کے لئے اللہ کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ جب انہوں نے اعلان نبوت فرمایا تو کچھ یہودیوں نے ان کی تحریک پر لبیک کہا لیکن اکثریت نے ان کی شدید مخالفت بھی کی ۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) نے قوم کو للکارا کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ سے ڈرنے کے بجائے اس ذات کو چھوڑ کر بعل بت کی عبادت و بندگی کر رہے ہو حالانکہ تمہارا اور ہمارا رب ایک ہی ہے جو تمام پیدا کرنے والوں میں سب سے بہتر پیدا کرنے والا ہے۔ حضرت الیاس کی دعوت پر سوائے اللہ کی اطاعت و بندگی کرنے والوں کے بقیہ سب نے ان کو جھٹلایا اور ان کی بات سننے سے انکار کردیا۔
حضرت الیاس (علیہ السلام) کی قوم جس بت بعل کی پرستش کرتی تھی اس کے معنی شوہر ، مالک ، سردار اور زبردست کے تھے ۔ بعل کی تاریخ بہت پرانی ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں بھی اس بعل کی پرستش کی جاتی تھی ۔ یہ ان کا مقبول ترین بت تھا جس سے وہ اپنی مرادیں مانگا کرتے تھے۔ شام کا شہر بعلبک جس کی اصلاح کے لئے ان کو بھیجا گیا تھا اسی بت کے نام پر رکھا گیا تھا۔ بعض مفسرین کا تو یہ خیال ہے کہ مکہ مکرمہ میں جو کفار و مشرکین کا سب سے بڑا بت ” ھبل “ تھا شاید وہ بھی بعل کی بگڑی ہوئی شکل تھی۔
اسرائیلی روایات یہ ہیں کہ حضرت الباس (علیہ السلام) زندہ ہیں اور ان کو آسمانوں کی طرف اٹھا لیا گیا ہے۔ اب وہ قیامت کے قریب دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔ لیکن اسلامی روایات کے مطابق اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور یہ بات قطعاً ثابت نہیں ہے کہ حضرت الباس زندہ آسمانوں میں موجود ہیں۔
بہر حال اللہ تعالیٰ نے حضرت الیاس (علیہ السلام) کے متعلق بھی وہی فرمایا جو آپ سے پہلے حضرت انبیاء کرام کے لئے فرمایا تھا کہ اللہ نے آنے والی نسلوں میں ان کے نام کو زندہ رکھا ہے۔ وہ اللہ کے نیک اور مومن بندے تھے اور اللہ تعالیٰ کی ہر طرف سے قوم بعلبک کی اصلاح کے لئے بھیجے گئے تھے۔
Ayahs 37:133–138لغات القرآن : آیت نمبر 133 تا 138 :۔ عجوز ( بوڑھی عورت ، بڑھیا) الغبرین ( پیچھے رہ جانے والی) تمرون ( تم گزرتے ہو) مصبحین ( صبح کرنے والے)
تشریح : آیت نمبر 133 تا 138 :۔ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کے بھیجتے تھے۔ اللہ نے آپ آپ کو سدوم اور عامورہ کی ان بستیوں کے لوگوں کی اصلاح کے لئے نبی بنا کر بھیجا تھا جنہوں نے بےحیائی اور بےغیرتی کے وہ کام کر رکھے تھے جو ان سے پہلے کسی قوم نے نہیں کئے تھے وہ پوری قوم خلاف فطرت فعل کرتی اور اس پر کسی شرمندگی کے بجائے جب حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو اس فعل بد سے روکنا چاہا تو ان پر طعن وطنز کے تیر چلانے کے ساتھ ساتھ یہ دھمکیاں بھی دی جانے لگیں کہ اے لوط ! اگر تم نے اپنے وعظ و نصیحت کا سلسلہ بند نہیں کیا تو ہم تمہیں نہ صرف اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے بلکہ تمہیں اور تمہارے ساتھ ایمان لانے والوں کو پتھر مار مار کر ہلاک کردیں گے۔
آخر کار اللہ کا فیصلہ آگیا ، اللہ نے اپنے فرشتے خوبصورت لڑکوں کی شکل میں بھیجے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی جو ان بدکاروں کی سرپستی کرتی تھی اس نے قوم کے لوگوں کو بتا دیا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس خوبصورت لڑکے مہمان بن کر آئے ہیں ۔ یہ پوری بدکار قوم حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچی اور مطالبہ کیا کہ ان لڑکوں کو ہمارے حوالے کر دو ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) سخت پریشان ہوگئے۔ فرشتوں نے کہا کہ اے لوط (علیہ السلام) آپ پریشان نہ ہوں در حقیقت ہم اللہ کے فرشتے ہیں جو اس قوم پر عذاب لانے کے لئے بھیجے گئے ہیں آپ اپنی بیوی کے سوا سارے گھر والوں اور اہل ایمان کو صبح ہی صبح لے کر اپنے گھر سے اس طرح نکل جائیے کہ پیچھے مڑ کر نہ دیکھئے ، چناچہ حضرت لوط (علیہ السلام) صبح اہل ایمان کے ساتھ روانہ ہوگئے۔ سب سے پہلے ایک زبردست آواز اور چیخ سنائی دی پھر ان کی بستیوں کو الٹ دیا گیا اور ان پر پتھروں کی زبردست بارش کردی گئی ۔ اس کے بعد ان آباد بستیوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیا گیا اور سمندر کا پانی اس طرح چڑھ کر آگیا کہ وہی آباد بستیاں پانی کے نیچے چلی گئیں اور وہ بحیرہ مردار بن گئیں۔
اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ سے فرمایا ہے کہ ان تباہ کی ہوئی بستیوں سے کبھی صبح اور کبھی رات کے اندھیروں میں تمہارے قافلے ان کے پاس سے گزرتے ہیں کبھی تم نے یہ نہیں سوچا کہ یہ آباد بستیاں کیوں تباہ کر کے سمندر میں غرق کردی گئیں ۔ اگر تم غور و فکر کرو گے تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ اس قوم نے نہ صرف یہ کہ بدکاروں میں انتہاء کردی تھی بلکہ اللہ کے پیغمبر کی توہین بھی کی تھی اور ان کو جھٹلا دیا تھا ۔ فرمایا کہ تمہارے اندر اللہ کے آخری نبی و رسول حضرت محمد رسول اللہ ﷺ موجود ہیں اگر تم نے ان کی اطاعت نہ کی اور اپنے کفر و شرک میں مبتلا رہے تو تمہارا انجام بھی گزری ہوئی قوموں سے مختلف نہ ہوگا۔
Ayahs 37:139–148لغات القرآن آیت نمبر 139 تا 148 :۔ ابق (وہ بھاگا ، دوڑا) المحشون ( بھری ہوئی) ساھم (قرعہ ڈالا گیا) المدحضین ( دھکیلے گئے ، الزام لگائے گئے) التقم ( نگل لیا) الحوت ( مچھلی) العرائ (چٹیل میدان ، صاف میدان) سقیم ( بیمار) یقطین ( بیل دار پودا) مائۃ الف (ایک لاکھ) متعنا ( ہم نے فائدہ پہنچایا) حین (زمانہ ، مدت)
تشریح : آیت نمبر 139 تا 148 :۔ سورة الصافات میں حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) ، حضرت الیاس (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کے واقعات کے بعد حضرت یونس (علیہ السلام) کا ذکر خیر فرمایا گیا ہے۔
حضرت یونس (علیہ السلام) جو بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے انبیاء میں سے ایک نبی ہیں ان کو بابل و نینوا کے نافرمانوں کی اصلاح و تربیت کے لئے بھیجا گیا تھا۔ بعض روایات کے مطابق حضرت یونس (علیہ السلام) نے نینوا کے لوگوں کو مسلسل سات سال تک تبلیغ دین فرمائی مگر وہ اپنی کافرانہ اور مشرکانہ حرکتوں سے باز نہیں آئے۔ ایک دن حضرت یونس (علیہ السلام) نے پوری صورت حال اللہ کی بارگاہ میں پیش کر کے عرض کیا اے اللہ یہ قوم اپنے گناہوں پر کسی شرمندگی کا اظہار نہیں کر رہی ہے اور کسی طرح میری بات سننے کے لیے تیار نہیں ہے لہٰذا اب آپ اس قوم کے لئے اپنا فیصلہ فرما دیجئے۔ یقینا اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس (علیہ السلام) کی دعا قبول کرلی تھی جس کا انہیں یقین تھا اور اللہ کے حکم کے بغیر ہی حضرت یونس (علیہ السلام) اپنی بیوی اور دو بچوں کو لے کر نینوا سے نکل گئے۔ راستے میں ان کے ایک بیٹے کو بھیڑیا لے گیا ۔ تلاش کرنے کے باوجود نہ مل سکا ۔ ادھر دوسرا بچہ پانی میں بہہ گیا ۔ آپ کی بیوی اپنے بچے کو بچانے کے لئے دوڑیں تو وہ بھی لا پتہ ہوگئیں ۔ حضرت یونس (علیہ السلام) تن تنہاء دریا کی طرف چلے ۔ لوگوں سے بھری ہوئی ایک کشتی میں سوار ہوگئے جب کشتی بیچ دریا میں پہنچی تو وہ بھنور میں پھنس گئی اور سب کے ڈوبنے کا اندیشہ پیدا ہوگیا ۔ ملاح نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ کوئی غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر بھاگا ہے اور وہ کشتی پر سوار ہے جب تک وہ اس کشتی سے نہیں اترے گا ہم سب کا زندہ بچنا مشکل ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کو احساس ہوا کہ میں بھی تو اللہ کا بندہ اور غلام ہوں اور اپنے آقا اللہ کی اجازت کے بغیر گھر سے روانہ ہوگیا ہوں ۔ انہوں سے سب سے کہا کہ وہ میں ہی ہوں ۔ سب نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے ؟ قرعہ اندازی کی جائے ۔ قرعہ اندازی کی گئی تو اس میں تین مرتبہ حضرت یونس (علیہ السلام) کا نام نکلا آخر کار حضرت یونس (علیہ السلام) نے خود ہی پانی میں چھلانک لگا دی ادھر اللہ نے ایک بہت بڑی مچھلی کو حکم دیا کہ وہ یونس (علیہ السلام) کو نگل کر اپنے پیٹ میں ان کی حفاظت کرے ، چناچہ حضرت یونس (علیہ السلام) نے جیسے ہی پانی میں چھلانگ لگائی تو وہ مچھلی جو منہ کھولے ہوئے تیار تھی اس نے حضرت یونس (علیہ السلام) کو نگل لیا ۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کو ان تمام حالات کا سخت افسوس تھا اور انہوں نے یہ تسبیح پڑھنا شروع کی ” لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظمین “ انہوں نے اس تسبیح کو اتنی کثرت سے پڑھا کہ اللہ کو ان پر پیار آگیا ۔ مچھلی نے اللہ کے حکم سے ایک طویل عرصہ تک پیٹ میں رکھنے کے بعد ان کو کسی چٹیل میدان میں اگل دیا۔ تقریباً چالیس دن تک مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے وہ بہت کمزور اور نا تو اں ہوگئے تھے اللہ نے ان پر سایہ کرنے کے لئے ایک کدو کی بیل کو اگا دیا اور بعض روایات کے مطابق ایک پہاڑی بکری روزانہ ان کے قریب آتی اور حضرت یونس (علیہ السلام) اس کا دودھ پی لیتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر یونس (علیہ السلام) مچھلی کے پیٹ میں اللہ کی تسبیح نہ کرتے یعنی اپنے کئے پر شرمندگی اور ندامی کا اظہار نہ کرتے تو قیامت تک وہ اسی مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔
ادھر جب نینوا کے لوگوں نے دیکھا کہ گہرے سیاہ بال بڑی تیزی سے ان کی طرف امنڈ امنڈ کر آ رہے ہیں اس میں دھواں اور زبردست گھن گرج ہے تو وہ سب کے سب سہم گئے اور سمجھ گئے کہ اب اللہ کا عذاب نازل ہونے والا ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کو تلاش کیا مگر وہ تو جا چکے تھے۔ پوری قوم نے فیصلہ کیا کہ سب بچے بڑے اپنے مویشی جانور لے کر میدان میں نکل جائیں اور اللہ سے دعا کریں اور معافی مانگیں چناچہ پوری قوم اپنی بیوی ، بوڑھے ، جوانوں اور تمام مویشوں کو لے کر کھلے میدان میں جمع ہوگئے اور عرض کیا الٰہی ہم سے بھول ہوگئی ہمیں معاف کر دیجئے۔ عذاب کا فیصلہ ہونے کے باوجود اللہ نے پوری قوم کے استغفار کی وجہ سے معافی کا حکم دے دیا اور اس قوم سے اللہ کا عذاب ٹل گیا ۔ حضرت یونس (علیہ السلام) صحت مند ہوتے گئے تو اللہ نے حکم دیا کہ اب وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ جائیں اور ان کی اصلاح کا کام کریں چناچہ جب حضرت یونس (علیہ السلام) اپنے شہر میں آئے تو پوری قوم نے اللہ کا شکر ادا کیا اور حضرت یونس (علیہ السلام) کی مکمل اطاعت و فرماں برداری کا وعدہ کر کے اپنی اصلاح شروع کردی ۔ ادھر حضرت یونس (علیہ السلام) کی بیوی اور دونوں بچوں کو لوگوں نے پانی میں ڈوبنے اور بھیڑیئے سے بچا لیا تھا وہ بھی واپس آگئے۔ اس طرح اللہ نے حضرت یونس (علیہ السلام) کو ہر طرح کی خوشیاں عطاء فرما دیں۔
اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو ایک مرتبہ پھر آگاہ کیا ہے کہ موت کے فرشتے اور کسی قوم پر عذاب کا فیصلہ ہونے کے بعد پھر دعا و استغفار کا موقع نہیں دیا جاتا ۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کی واحد ایسی قوم تھی جس پر عذاب کا فیصلہ ہونے کے باوجود ان کو معاف کردیا گیا تھا۔ فرمایا کہ اے مکہ والو ! تمہارے اندر تو وہ اللہ کے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ موجود ہیں کہ تمہارے حق میں ان کی دعا ہی کافی ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ ان کی مکمل اطاعت و فرماں برداری کی جائے ۔ اگر آپ پر ایمان نہ لائے اور نا فرمانیوں کا سلسلہ جاری رہا تو پھر اللہ کا وہ فیصلہ آنے میں دیر نہیں لگے گی جس سے قومیں تباہ و برباد ہو کر رہ جاتی ہیں۔