Ayahs 37:83–98لغات القرآن آیت نمبر 83 تا 98 : شیعۃ (کسی کے طریقے پر چلنے والا) قلب سلیم ( پاک صاف دل ) اء فکا (کیا تم گھڑتے ہو) النجوم (نجم) ( ستارے) سقیم (بیمار ، طبیعت کا خراب ہونا) مد برین ( پیٹھ پھیرنے والے) راغ ( وہ گھس گیا) لا تنطقون ( تم بات نہیں کرتے ہو) یمین (داہنا ہاتھ ، طاقت و قوت) یزقون (وہ دوڑتے ہیں) تنحتون (تم تراشتے ہو) بنیان ( عمارت ، جگہ) القوا (ڈالو) اسفلین (نیچے ہونے والے)
تشریح : آیت نمبر 83 تا 98 :۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سال تک اپنی قوم کو کفر و شرک سے بچانے اور خالص توحید پر لانے کی دن رات جدوجہد کی ۔ ایک شہر سے دوسرے شہر تک ایک نسل سے دوسری نسل تک آپ نے اپنی قوم کو ہر طرح سمجھایا کہ وہ کفر و شرک اور خود اپنے ہاتھ سے گھڑے ہوئے معبودوں کی عبادت و بندگی نہ کریں ۔ لیکن سوائے کچھ لوگوں کے ساری قوم نے ان کا مذاق اڑایا ۔ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر جمے رہے۔ آخر کار حضرت نوح (علیہ السلام) کے منہ سے اس قوم کے لئے بد دعا نکل گئی اور اس پوری قوم کو پانی کے زبردست طوفان کے ذریعہ غرق کردیا گیا ۔ فرمایا کہ جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) نے پوری زندگی دین کی سچائیوں کو قائم کرنے کی جدوجہد کی اسی طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی ان ہی کے طریقے پر تھے جنہوں نے ایک خوش حال اور معاشرہ میں ایک باعزت گھرانے میں آنکھ کھولی لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ لوگ اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے معبودوں اور چاند ، سورج اور ستاروں کی عبادت و بندگی کر رہے ہیں تو ان کے قلب سلیم سے یہی ایک آواز بلند ہوئی کہ یہ سب کچھ جو یہ لوگ کر رہے ہیں وہ غلط ہے۔ ان سب چیزوں کو جس نے پیدا کیا ہے وہی معبود ہے اور وہی عبادت کے لائق ہے۔ جب یہی بات انہوں نے اپنے والد اور قوم کے لوگوں سے کہی تو انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو برا بھلا کہنا شروع کیا اور ان باتوں کو دیوانگی قرار دیا ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس بات کو اور بتوں کی بےحقیقی کو ظاہر کرنے کے لئے بےچین رہا کرتے تھے ۔ پوری قوم شہر سے باہر جا کر اپنا سالانہ جشن منایا کرتی تھی جب سب لوگ جانے لگے تو انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے بھی کہا کہ وہ ان کے ساتھ چلنے چلیں مگر آپ نے طبیعت کی نا سازی کا بہانہ بنا کر کہا کہ میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ جب پوری قوم کے لوگ اپنی بد مستیوں اور میلے کی رنگینوں میں کھوئے ہوئے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایک ہتھوڑا لے کر ان لوگوں کے بت خانے میں پہنچ گئے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دیکھا کہ ان کے بتوں کے سامنے طرح طرح کے کھانے رکھے ہوئے ہیں انہوں نے ان بتوں کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ تم کھاتے کیوں نہیں ؟ پھر ہتھوڑا لے کر بتوں کو توڑنا شروع کردیا اور کہنے لگے کہ تم بولتے کیوں نہیں ؟ اور اس طرح تمام چھوٹے بڑے بتوں کو مٹی میں ملا کر بڑے بت کے ہاتھ میں ہتھوڑا دے کر گھر آگئے۔ جب پوری قوم اپنے میلے اور جشن سے واپس آئی اور انہوں نے اپنے بتوں کا یہ حشر دیکھا تو وہ کانپ اٹھے اور کہنے لگے کہ یہ کس نے کیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ ان بتوں کی مخالفت کرنے والا تو ایک ہی شخص ہے اور وہ ہے آذر کا بیٹا ابراہیم ، چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بلا کر پوچھا گیا کہ اے ابراہیم (علیہ السلام) تم نے ہمارے بتوں کا یہ حال کیا ہے ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مذاق اڑاتے ہوئے فرمایا کہ یہ بڑا بت جس کے ہاتھ میں ہتھوڑا ہے اس سے پوچھو ان کا مقصد یہ تھا کہ شاید اس بڑے بت کو چھوٹے بتوں پر کسی بات پر غصہ آگیا ہوگا ۔ اور اس نے چھوٹے بتوں کی گت بنا کر رکھ دی ۔ سچ تو سچ ہی ہوتا ہے یہ سن کر ان بتوں سے خود پوچھ لو کہ ان کو کس نے توڑا ہے تو وہ شرمندہ ہوگئے اور انہوں نے ایک ہنگامہ برپا کردیا اور کہا کہ اس کو پکڑو ۔ لکڑیاں جمع کر کے آگ لگائو اور ابراہیم (علیہ السلام) کو اس میں جھونک دو تا کہ آئندہ کسی کو ہمارے بتوں کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرأت و ہمت نہ ہو ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس وقت فرمایا کہ تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا ہے کہ اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں سے تم اپنے ہاتھوں سے اپنے معبود بناتے ہو اور پھر ان کے سامنے جھک جاتے ہو اور اپنی مرادیں پوری ہونے کی توقع رکھتے ہو حالانکہ یہ ساری قدرت اللہ کی ہے وہی سب کو دینے والا ہے۔ پھر پوری قوم نے اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہوئے لکڑیوں کا ڈھیر لگا دیا اور ان کو آگ لگا دی جب آگ خوب دھک اٹھی تو کسی طرح انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اٹھا کر اس آگ کے درمیان میں پھینک دیا ۔ ادھر انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکا ادھر اللہ تعالیٰ نے آگ کو حکم دیا کہ ” اے آگ ابراہیم پر سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہوجا “ ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جب ان لوگوں نے مجھے آگ میں پھینکا تو وہ آگ میرے لئے ایک بہترین باغیچہ بن گئی اور مجھے ان سات دنوں میں جتنا آرام ، سکون اور دلی اطمینان نصیب ہوا اتنا زندگی میں کبھی حاصل نہ ہوسکا ۔ اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے سورة الانعام ، سورة العنکبوت اور سورة الشعراء میں بھی بیان فرمایا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) نے پوری زندگی ایثار و قربانی کر کے دن رات دین اسلام کی سچائیوں کی جدوجہد کی اسی طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی ہر طرح کی کاوشیں کیں ۔ آگ سے خیر و عافیت سے نکل کر آپ نے عراق کو چھوڑ کر فلسطین کی طرف ہجرت فرمائی اور پھر پوری زندگی اس قورے علاقے کے چپے چپے پر یہاں تک کہ حجاز مقدس تک آپ نے سفر کئے اور دنیا بھر کو توحید خالص کی تعلیم دی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور نبی کریم ﷺ اور تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کے نقش قدم پر چلنے اور ساری دنیا میں اسی توحید کے پرچم کو بلند کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بقیہ واقعہ اور قربانیوں کی تفصیلات اس کے بعد کی آیات میں بیان کی گئی ہیں ۔
Ayahs 37:99–113لغات القرآن : آیت نمبر 99 تا 113 :۔ ذاھب ( جانے والا) ھب (عطاء کر) غلام ( بیٹا ، لڑکا) حلیم ( برداشت کرنے والا ، حلیم الطبع) المنام ( نیند ، خواب) اسلما (دونوں نے گردن جھکادی) تلہ (اس کو لٹا دیا ، گرایا) جبین ( پیشانی) الرء یا ( خواب) ذبح عظیم (بڑا ذبیحہ (مینڈھا) محسن ( نیکیاں کرنے والا)
تشریح : آیت نمبر 99 تا 113 :۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کی سب سے بڑی آزمائش یہی تھی کہ جب آپ نے پوری قوم کے سامنے ان کے بتوں کی بےبسی اور حقیقت کھول کر رکھ دی تب ان کو اس زبردست آگ میں پھینکا گیا جس کے شعلوں کی بلندی کا یہ حال تھا کہ اگر اس آگ پر سے کوئی پر نہ بھی گزر جاتا تو وہ جل بھن کر کباب ہوجاتا ۔ جب کسی طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس آگ میں پھینکا گیا تو اللہ کے حکم سے یہ آگ ان پر گل و گلزار ہوگئی ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی جرأت و ہمت اور مزاج کے استقلال کا یہ حال تھا کہ آپ نے آگ میں جل جانا گوارا کیا مگر اپنی طویل دعوتی جدوجہد کو ترک نہیں کیا ۔ اسی زبردست ایثار و قربانی کی وجہ سے اللہ نے ان کو ساری دنیا کو امام و پیشوا بنا دیا ۔ اللہ نے فرما دیا کہ جو بھی ان کے راستے پر چلے گا اس کو بھی اسی طرح عزت و عظمت سے نوازا جائے گا ۔
آگ سے صحیح سلامت نکلنے کے بعد آپ نے اللہ کے بھروسے پر وطن چھوڑنے اور ایک نامعلوم منزل کی طرف ہجرت کرنے کا فیصلہ فرما لیا اور کہا میں تو اللہ کی رضا و خوشنودی کی خاطر وطن سے نکلا ہوں جس ذات پر بھروسہ ہے وہی مجھے صحیح راستہ دکھائے گا ۔ وہ مجھے جہاں بھی پہنچائے گا میں وہیں پہنچ جاؤں گا ۔ چناچہ آپ اپنی بیوی حضرت سارہ اور اپنے بھیجتے حضرت لوط (علیہ السلام) جو ان پر ایمان لا چکے تھے عراق سے نکل کھڑے ہوئے۔ اللہ نے آپ کا رخ شام و فلسطین کی طرف کردیا ۔ حضرت سارہ نے جب یہ سمجھ لیا کہ ان کے بطن سے اولاد پیدا ہونے کے کوئی آثار نہیں ہیں تو انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ وہ حضرت ہاجرہ سے نکاح کرلیں شاید ان سے اولاد پیدا ہونے کے کوئی آثار نہیں ہیں تو انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ وہ حضرت ہاجرہ سے نکاح کرلیں شاید ان سے اولاد پیدا ہوجائے اور آپ جس مشن اور مقصد کو لے کر چل رہے ہیں وہ پروان چڑھے ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب پیدا کردیئے کہ آپ کا نکاح حضرت ہاجرہ سے ہوگیا ۔ اس وقت انہوں نے اللہ کی بارگاہ میں یہ عاجزانہ درخواست پیش کی الٰہی ! مجھے ایک صالح اور نیک بیٹا عطاء فرما ۔ مقصد یہ تھا کہ الٰہی میں جس عظیم مقصد کے لئے قربانیاں دے رہا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ ساری دنیا میں دین اسلام کا سچا پیغام پہنچ جائے اس کے لئے مجھے صالح بیٹا عطاء فرماتا کہ اس کے ذریعہ اس مقصد کی تکمیل ہوجائے ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو قبول کرتے ہوئے ایک ایسے بیٹے کی خوش خبری سنائی جو حلیم الطبع حلم و برداشت والا اور نبی بھی ہوگا ۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) جیسا حلیم الطبع بیٹا عطاء فرمایا ۔ قرآن کریم میں یہ تفصیل بیان کی گئی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت ہاجرہ اور اپنے شیر خوار بچے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو حجاز یعنی مکہ مکرمہ میں آباد کیا ۔ حضرت اسماعیل کی عمر مبارک تیرہ سال کی ہوگئی یعنی جو عمر ماں باپ کے ساتھ بھاگ دوڑ کی ہوتی ہے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے اس بیٹے کو جو بڑی دعاؤں اور ارمانوں سے ملا ہے اس کو ذبح کر رہے ہیں ۔ آپ نے یہ خواب مسلسل تین راتوں تک دیکھا چونکہ انبیاء کرام کے خواب بھی وحی کی ایک کیفیت کا نام ہے اس لئے آپ کو یقین ہوگیا کہ اللہ کی طرف سے انہیں حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے جگر کے ٹکڑے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو اللہ کے حکم پر قربانی کردیں ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس خواب کا ذکر اپنے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) سے کیا کہ میں نے یہ خواب دیکھا ہے اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) جانتے تھے کہ اللہ نے ان کے والد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو نبوت و رسالت کا اعلیٰ مقام عطاء فرمایا ہے۔ عرض کیا ابا جان جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے تو آپ اللہ کے حکم کی تعمیل کیجئے۔ انشاء اللہ مجھے آپ انتہائی برداشت کرنے والا اور صبر کرنے والا پائیں گے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے بیٹے کو مکہ مکرمہ سے ذرا فاصلے پر منیٰ کے مقام کی طرف لے گئے۔ راستہ میں تین جگہ شیطان نے مختلف روپ بدل کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) و اسماعیل (علیہ السلام) کو خیر خواہی کے انداز میں بہکانے کی کوشش کی ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یا حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے ہر مرتبہ سات سات کنکریاں اٹھا کر شیطان کو ماریں جس سے وہ ہر مرتبہ زمین میں دھنس جاتا تھا ۔ حجاج کرام جب حج کرتے ہیں تو وہ شیطان کو کنکریاں مارتے ہیں یہ اسی کی یادگار ہے اور شیطان سے نفرت کا اظہار ہے اور اس بات کا اعلان ہے کہ الٰہی ہمیں بھی شیطان کے فریب اور بہکائے سے محفوظ فرما جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) و اسماعیل (علیہ السلام) کو محفوظ فرمایا تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے اس طرح زمین پر لٹایا کہ پیشانی کا ایک کنارہ زمین کو چھونے لگا یعنی کروٹ پر لٹا دیا۔ شاید اس لئے کہ کہیں بیٹے کے معصوم چہرے پر نظر پڑجائے اور محبت کا ایسا غلبہ ہوجائے کہ ان سے حکم کی تعمیل میں کسی طرح کی کمی رہ جائے ۔ چھری تیز کر کے ان کے گلے پر چلانا شروع کی ۔ چونکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے خواب میں یہی دیکھا تھا کہ وہ ذبح کر رہے ہیں لیکن یہ نہیں تھا کہ انہوں نے ذبح کردیا ہے اور سر کو تن سے جدا کردیا ہے۔ اللہ کی طرف سے آواز آئی کہ اے ابراہیم (علیہ السلام) تمہارا بیٹا ذبح کرانا نہیں چاہتے تھے ہم تو صرف تمہاری محبت کا امتحان لے رہے تھے تم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا یہ تمہاری بہت بڑی آزمائش تھی جس پر تم پورے اترے ہو اور اللہ نے اپنے انعامات کی بارش کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم اپنے نیک اور پرہیز گار بندوں کو ان کا بہترین اجر اسی طرح دیا کرتے ہیں ۔ اللہ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی جگہ ایک مینڈھا عطاء فرمایا جس کو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بدلے ذبح کیا گیا ۔ اللہ نے اس کو ” ذبح عظیم “ اس لئے فرمایا کہ یہ مینڈھا جنت سے اللہ کے حکم سے لایا گیا تھا۔ اب اس سنت کو زندہ رکھنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے اور یہ قربانی کرنا منیٰ یا حجاج کے لئے مخصوص نہیں ہے بلکہ جہاں بھی اہل ایمان موجود ہیں وہ ہر سال جانور ذبح کر کے سنت ابراہیمی کو زندہ کرتے ہیں ، چناچہ نبی کریم ﷺ نے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں ہر سال جانوروں کی قربانی دی ہے اور صحابہ کرام (علیہ السلام) نے بھی اسی سنت کو زندہ کیا جس پر آج ساری امت اسی سنت کو زندہ کرنے کی سعادت حاصل کر رہی ہے اور قیامت تک کرتی رہے گی۔
اس موقع پر یہودیوں کی اس سازش کو بےنقاب کرنا ضروری ہے جس میں انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جس بیٹے کی قربانی منیٰ کے مقام پر پیش کی تھی وہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نہیں بلکہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) تھے یہ ایک ایسی غلط بات تھی کہ جس کو تردید خود توریت ہی میں کی گئی ہے۔ لیکن یہودی آج بھی اسی بات پر اڑے ہوئے ہیں کہ وہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) تھے حالانکہ حجاز میں تو حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو آباد کیا گیا تھا اور فلسطین میں حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اولادوں کو آباد کیا گیا تھا جن کو بنی اسرائیل کہا جاتا تھا۔ حضرت اسحاق (علیہ السلام) تو حجاز میں آئے ہی نہیں تھے جب کہ اعلان نبوت سے پہلے بھی تمام یہود و نصاریٰ اور مشرکین حج کرتے تھے اور منیٰ میں قربانیاں کرتے تھے۔ بعض صحابہ اور اکابرین نے جو اس سے اختلاف کیا ہے وہ اسرائیل روایات کی بنیاد پر کیا ہے کیونکہ حضرت کعب احبار ؓ جو نہایت مخلص مسلمان تھے انہوں نے یہودیت کو چھوڑ کر اسلام قبول کیا تھا اور وہ اسرائیلی روایات بیان کرتے تھے ۔ یہی اس کے راوی ہیں اس لئے بعض بزرگوں کی یہ رائے ہوگئی کہ ” ذبح عظیم “ حضرت اسحاق (علیہ السلام) تھے لیکن توریت کی شہادت اور حج کی روایات سے یہی کہنا صحیح ہے کہ وہ ذبح عظیم حضرت اسماعیل (علیہ السلام) تھے ۔ رہی بات یہودیوں کی رائے کی تو وہ صرف ایک تعصب اور جھوٹ کی بات ہے جس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
توریت کی روایت کے مطابق حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے چودہ ( یا اٹھارہ) سال بعد حضرت سارہ کے بطن سے حضرت اسحاق پیدا ہوئے اور اللہ نے ان کی پیدائش اور ان کے ذریعہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں برکت کی خوش خبری عطاء فرمائی ہے۔ اس آیت میں اللہ نے صاف اور واضح طریقے پر بتا دیا کہ بیشک حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں بہت سے نیک اور پرہیز گارہوں گے لیکن بعض وہ بھی ہوں گے جن کو یہ ناز اور گھمنڈ تو ہوگا کہ ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور ہمارے اعمال کیسے بھی ہوں آخر ہم انبیاء کی اولاد ہیں ۔ ان کی اولاد میں ہونا کافی ہے۔ فرمایا کہ نیک اور پرہیز گار لوگوں کے مقابلے میں ان کی کوئی حیثیت اور مقام نہیں ہے۔ اللہ کے ہاں اعمال کو دیکھا جاتا ہے نسب کو نہیں ۔ انسان کی نجات کا دارومدار اس کے سچے عقیدے ، حسن عمل اور احکام الٰہی پر پوری طرح سے عمل کرنے میں ہے۔
Ayahs 37:114–122لغات القرآن آیت نمبر 114 تا 122 :۔ مننا ( ہم نے احسان کیا ) المستبین (واضح اور صاف صاف) ھدینا (ہم نے ہدایت دی ، رہنمائی کی) ترکنا ( ہم نے چھوڑا) نجزی (ہم بدلہ دیتے ہیں، جزا دیتے ہیں)
تشریح : آیت نمبر 114 تا 122 :۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) کے واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں پر بڑے احسان اور کرم فرمائے انہیں اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو جو فرعونوں کے ظلم و ستم کی چکی میں پسے چلے جا رہے تھے نجات عطاء فرمائی اور اس طرح ان کی مدد کی کہ وہی جو انتہائی کمزور اور بےبس ہوچکے تھے ان کو فرعونوں اور قبطیوں کی چھوڑی ہوئی سلطنت اور گھر بار کا وارث ومالک بنا دیا ۔ فرمایا کہ ان کی ہدایت کے لئے اور صراط مستقیم پر قائم رہنے کے لئے ایک روشن اور واضح کتاب عطاء فرمائی تا کہ دنیا کی قوموں میں وہ سر بلند ہو کر جینے کا سلیقہ سیکھ لیں ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی دن رات کی جدوجہد اور کاوشیں آنے والی نسلوں کے لئے ایک بہترین مثال اور نمونہ ہیں ۔ اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) پر سلامتی بھیجتے ہوئے فرمایا کہ ہم نیکو کاروں اور اللہ کی راہ میں سر توڑ کوششیں کرنے والوں کو اسی طرح اجر عظیم عطاء کیا کرتے ہیں کیونکہ وہ موسیٰ و ہارون دونوں مومن اور ایمان دار بندے تھے اس لئے ان کی ہر کوشش اللہ کے ہاں ایک عظیم مقام رکھتی ہے۔