37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 37:11–49

فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ Open ayah 37:11 in the Quran reader

( اے نبی ﷺ آپ ان سے پوچھئے کیا ان کو پیدا کرنا مشکل ہے یا وہ تمام چیزیں جو ہم نے پیدا کی ہیں ۔ بیشک ہم نے انہیں ( لوگوں کو) چپکتی ہوئی مٹی ( گارے) سے پیدا کیا ہے ۔

بَلْ عَجِبْتَ وَ یَسْخَرُوْنَ۪ Open ayah 37:12 in the Quran reader

بلکہ آپ تو ان ( کے آخرت کے انکار پر) تعجب کرتے ہوئے اور وہ مذاق اڑاتے ہیں ۔

وَ اِذَا ذُكِّرُوْا لَا یَذْكُرُوْنَ۪ Open ayah 37:13 in the Quran reader

اور جب ان کو نصیحت کی جاتی ہیں تو وہ نصیحت کو قبول نہیں کرتے ۔

وَ اِذَا رَاَوْا اٰیَةً یَّسْتَسْخِرُوْنَ۪ Open ayah 37:14 in the Quran reader

اور جب وہ کوئی نشانی ( معجزہ) دیکھتے ہیں تو مذاق اڑاتے ہیں

وَ قَالُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 37:15 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ یہ کھلا ہوا جادو ہے۔

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 37:16 in the Quran reader

کہتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے کیا ہم پھر سے اٹھائے ( پیدا کئے ) جائیں گے ؟

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَؕ Open ayah 37:17 in the Quran reader

اور کیا ہمارے باپ دادا بھی ؟

قُلْ نَعَمْ وَ اَنْتُمْ دَاخِرُوْنَۚ Open ayah 37:18 in the Quran reader

( اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ ہاں ( تم دوبارہ پیدا کئے جائو گے) اور تم ذلیل و خوار کئے جائو گے۔

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ فَاِذَا هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 37:19 in the Quran reader

وہ ایک (تیز آواز) جھڑکی ہوگی اور پھر وہ اچانک دیکھنے لگیں گے۔

وَ قَالُوْا یٰوَیْلَنَا هٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ Open ayah 37:20 in the Quran reader

اور کہیں گے کہ ہائے ہماری بد نصیبی کہ یہ تو بدلہ کا دن ہے

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ۠ Open ayah 37:21 in the Quran reader

(اللہ فرمائیں گے کہ ہاں) یہ وہی فیصلے کا دن ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔

اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 37:22 in the Quran reader

ان ظالموں کو ، ان کے ساتھیوں کو ان معبودوں کو جن کی وہ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کیا کرتے تھے

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:23 in the Quran reader

ان سے کہا جائے گا کہ فیصلے والے دن جمع کر کے ان کو جہنم کا راستہ دکھائو ۔

وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْئُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:24 in the Quran reader

ابھی انہیں روکے رکھو ان سے کچھ پوچھا جائے گا ۔

مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ Open ayah 37:25 in the Quran reader

پوچھا جائے گا کہ تمہیں کیا ہوا کہ تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے

بَلْ هُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ Open ayah 37:26 in the Quran reader

بلکہ وہ آج تو اپنے آپ کو (سر جھکا کر) سپرد کر رہے ہیں ۔

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:27 in the Quran reader

ان میں سے ایک دوسرے کی طرف متوجہ کر کے سوال کریں گے

قَالُوْۤا اِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ Open ayah 37:28 in the Quran reader

اور کہیں گے کہ بیشک تم ہمارے اوپر دائیں طرف سے ( قوت و طاقت کے ساتھ) آیا کرتے تھے

قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 37:29 in the Quran reader

(کفار کے سردار) کہیں گے کہ نہیں ۔ تم ہی ایمان لانے والے نہ تھے

وَ مَا كَانَ لَنَا عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ١ۚ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ Open ayah 37:30 in the Quran reader

ہمارا تمہارے اوپر کوئی زور زبردستی نہ تھا بلکہ تم ہی نافرمان (سر کش) قوم تھے

فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَاۤ١ۖۗ اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ Open ayah 37:31 in the Quran reader

ہم سب پر ہمارے رب کی ہی بات ثابت ہوچکی تھی کہ ہم سب کو عذاب کا مزہ چکھنا ہے

فَاَغْوَیْنٰكُمْ اِنَّا كُنَّا غٰوِیْنَ Open ayah 37:32 in the Quran reader

بیشک ہم نے تمہیں گم راہ کیا اور ہم خود بھی گمراہ تھے

فَاِنَّهُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 37:33 in the Quran reader

بیشک وہ سب اس دن عذاب میں مشترک ہوں گے

اِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 37:34 in the Quran reader

(اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ) بیشک ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کیا کرتے ہیں

اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ١ۙ یَسْتَكْبِرُوْنَۙ Open ayah 37:35 in the Quran reader

(ان کا یہ حال تھا کہ) جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو وہ تکبر کرتے ہوئے

وَ یَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا لَتَارِكُوْۤا اٰلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍؕ Open ayah 37:36 in the Quran reader

کہتے تھے کہ کیا ہم ایک شاعر اور دیوانے کے پیچھے لگ کر اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں

بَلْ جَآءَ بِالْحَقِّ وَ صَدَّقَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 37:37 in the Quran reader

حالانکہ یہ ایک سچائی تھی (جس کو یہ جھٹلا رہے ہیں) اور دوسرے پیغمبروں کی تصدیق کرتی ہے ۔

اِنَّكُمْ لَذَآئِقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِۚ Open ayah 37:38 in the Quran reader

بیشک تم سب درد ناک عذاب کا مزہ چکھو گے

وَ مَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 37:39 in the Quran reader

مگر تمہیں اس کے مطابق ہی بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے تھے

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:40 in the Quran reader

مگر اللہ کے مخلص بندے (اس عذاب سے) بچ جائیں گے۔

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌۙ Open ayah 37:41 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہوں گے جن کا رزق متعین و مقرر ہے۔

فَوَاكِهُ١ۚ وَ هُمْ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 37:42 in the Quran reader

(ان جنتوں میں) میوے اور ہر طرح کا اعزازو اکرام ہو گا

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 37:43 in the Quran reader

جنت نعمتوں سے بھر پور ہوں گے

عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 37:44 in the Quran reader

ایک دوسرے کے سامنے تخت (مسہریوں پر بیٹھے ہوئے ہوں گے

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِكَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۭۙ Open ayah 37:45 in the Quran reader

ان کے آگے بہتے ہوئے مشروب ہوں گے

بَیْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَۚۖ Open ayah 37:46 in the Quran reader

جن کی رنگت صاف و شفاف اور پینے والوں کو لذت دیں گے

لَا فِیْهَا غَوْلٌ وَّ لَا هُمْ عَنْهَا یُنْزَفُوْنَ Open ayah 37:47 in the Quran reader

نہ اس میں درد سر ہوگا اور نہ وہ بہکیں گے۔

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِیْنٌۙ Open ayah 37:48 in the Quran reader

اور ان کے پاس نیچی نگاہ والی اور بڑی بڑی آنکھوں والی (عورتیں ، حوریں) ہوں گی

كَاَنَّهُنَّ بَیْضٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 37:49 in the Quran reader

وہ حوریں خوبصورتی میں انڈے کے چھلکے کے نیچی چھپی ہوئی جھلی جیسی ہوں گی ( جیسے صاف و شفاف نرم و نازک) ۔

لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 26 : استفت ( تو پوچھ) لازب ( چپکنے والا) یستخرون ( وہ ہنسی میں اڑا دیتے ہیں) تراب ( مٹی) عظام (عظم) (ہڈیاں) داخرون (ذلیل و خوار ہونے والے) زجرۃ ( للکار ، زبردست آواز) یویلنا (اے ہماری بد نصیبی) احشروا ( تم جمع کرو) ازواج ( زوج) (جوڑے ، ساتھی) وقفوا (انہیں ٹھہرائو ، روکو) مسئولون ( پوچھے گئے) لا تنا ضرون (تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرو گے) مستسلمون (سر جھکانے والے ، سپرد کردینے والے) تشریح : آیت نمبر 11 تا 26 :۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا تھا کہ لوگ ! تم سب کا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے ان سب کا مالک ہے۔ اس نے اتنے زبردست نظام کو اپنے دست قدرت سے بنا کر کھڑا کردیا ہے۔ جب وہ چاہے گا اس نظام کائنات کو ختم کر کے ایک اور جہان تعمیر فرمادے گا جس میں ابتدائے کائنات سے لے کر قیامت تک پیدا ہونے والے تمام لوگوں کو ان کے مر جانے کے بعد دوبارہ پیدا کیا جائے گا اور میدان حشر میں ہر ایک سے اس کی زندگی کے ایک ایک لمحہ کا حساب کتاب کیا جائے گا ۔ جب نبی کریم ﷺ مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کئے جانے کا ذکر کرتے تو منکرین نہ صرف اس کا انکار کرتے بلکہ مذاق اڑاتے ہوئے کہتے کہ جب ہم مر جائیں گے اور ہمارے جسم کے تمام اجزا مٹی میں مل جائیں گے اور ہمارے اور ہمارے باپ دادا کے جسم کے ذرات کائنات میں بکھر جائیں گے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ان تمام انسانی اجزاء کو جمع کر کے پھر سے ایک جیتا جاگتا انسان بنا دیاجائے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ذران ان سے یہ پوچھئے کہ جس ذات نے آسمان ، زمین ، چاند ، سورج ، ستاروں اور خود تمہیں وجود بخشا ہے کیا اس کے لئے یہ مشکل ہے کہ وہ تم جیسی کمزور اور بہت چھوٹی سی مخلوق کو دوبارہ نہ پیدا کرسکے ؟ فرمایا کہ ہم نے انسان کو پہلی مرتبہ ایک چپکتی مٹی ( گارے) سے پیدا کیا ہے جس میں زمین کے تمام اجزاء شامل ہیں وہ اگر انسان کے مرنے کے بعد بکھر جائیں گے تو ان اجزاء کو جمع کر کے اور تربیت دے کر دوبارہ انسان کو پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔ نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ تو دین اسلام کی سچائیوں کو نہایت خلوص ، محبت ، لگن اور سادگی سے بیان کر کے اس تعجب میں ہیں کہ لوگ اتنی صاف اور آسان باتوں کو کیوں نہیں سمجھتے اور جب ان منکرین کو سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ سمجھنے کے بجائے اس کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ جب آپ سے کوئی معجزہ ظاہر ہوتا ہے تو وہ اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ فرمایا کہ ان سے کہہ دیجئے کہ وہ وقت دور نہیں ہے جب تم سب پر موت کو طاری کر کے دوبارہ پیدا کیا جائے گا اور بد عملوں کو میدان حشر میں ہر طرح کی ذلت و رسوائی سے واسطہ پڑے گا جس سے وہ بچ نہیں سکتے۔ فرمایا کہ جب صور پھونکا جائے گا تو وہ ایک ہیبت ناک آواز ہوگی جس کی وجہ سے وہ گرتے پڑتے بھاگتے نظر آئیں گے اور وہ کہہ اٹھیں گے کہ ہائے ہماری بد نصیبی یہ تو فیصلے کا دن آگیا ہے فرمایا جائے گا کہ ہاں یہ وہی فیصلے اور انصاف کا دن ہے جس سے ہم نے اپنے رسولوں کے ذریعہ تمہیں آگاہ اور خبردار کیا تھا ۔ مگر تم اس کا زندگی بھر انکار کرتے رہے اور جھٹلاتے رہے۔ فرمایا جائے گا کہ جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی بندگی میں لگے ہوئے تھے ان کو اور ان کے جھوٹے معبودوں کو آج جمع کر کے جہنم کی طرف دھکیل دو ۔ راستہ دکھا دو لیکن ذرا ٹھہرو پہلے ان سے یہ پوچھا جائے گا کہ آج تم ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کر رہے ہو۔ تم تو دنیا میں ہر وقت ایک دوسرے کا ساتھ دیا کرتے تھے آج کیا ہوگیا ہے کہ ایک دوسرے پر الزام رکھ رہے ہو ۔ فرمایا کہ وہ اس کا جواب تو کیا دیں گے شرمندگی کے مارے اپنے سر جھکائے کھڑے ہوں گے۔ آیات کے سلسلے میں چند وضاحتیں ٭انسان کو ایک چپکتی مٹی یعنی گارے سے پیدا کیا گیا ہے یہ اس طرف اشارہ ہے کہ انسانی وجود میں تمام وہ ذرات موجود ہیں جو زمین پر پائے جاتے ہیں ۔ ان ہی اجزاء سے انسان کا وجود قائم کیا گیا ہے اللہ کی یہ قدرت ہے کہ وہ ان کے بکھرے ہوئے اجزاء کو جمع کر کے پھر سے انسان کو وہی شکل و صورت دے گا جو اس کی شکل و صورت دنیا میں تھی ۔ ٭پہلے صور پھونکا جائے گا تو ساری دنیا ، اس میں بسنے والی مخلوق اور چیزیں سب کی سب ختم ہوجائیں گی لیکن جب دوسرا صور پھونکا جائے گا تو جو جہاں پر دب کر ختم ہوچکا ہوگا اور ان کی قبریں بن چکی ہوں گی وہ ان سے اٹھ کر پروردگار کی طرف دوڑتا چلا جائے گا ۔ ٭اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! جب آپ کے ذریعہ کوئی معجزہ ظاہر ہوتا ہے تو وہ کفار اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ لوگو ! یہ معجزہ نہیں ہے بلکہ کھلا ہوا جادو ہے۔ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ نبی کریم ﷺ کو معجزات عطاء کئے گئے تھے جس کی تفصیلات سے احادیث کی کتابیں بھری پڑی ہیں لیکن دوسری طرف قرآن کریم میں آتا ہے کہ جب بھی کفار نے کسی معجزے کا مطالبہ کیا ہے تو فرما دیا گیا کہ اگر معجزہ دکھا بھی دیا جائے تو کیا معجزہ کا مطالبہ کرنے والے ایمان لے آئیں گے ؟ ان آیات کو سامنے رکھ کر کچھ نادانوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کو سرے سے کوئی معجزہ دیا ہی نہیں گیا بلکہ قرآن کریم کو ایک معجزہ بنا کر عطاء کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ نبی کریم ﷺ کو سیکڑوں معجزات عطاء کئے گئے ہیں جن کو دیکھنے والے ایک دو نہیں ہزاروں صحابہ کرام ؓ ہیں جنہوں نے معجزات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور نقل کیا ہے بلا شبہ قرآن کریم سب سے بڑا معجزہ ہے جس کے سامنے ساری دنیا کو عجم یعنی گونگا کہنے والے خود ہی گونگے ہو کر رہ گئے تھے۔ فرق یہ ہے کہ اللہ کا ایک قانون ہے کہ اگر کوئی قوم کسی معجزہ کا مطالبہ کرتی ہے اور پھر اس معجزہ کو دیکھ کر اس پر ایمان نہ لائے تو اس قوم پر عذاب الٰہی نازل ہوتا ہے۔ بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ ایسی نافرمان قوموں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ۔ اللہ کو معلوم تھا کہ جس کو ایمان لانا ہے اس کو کسی معجزہ کی ضرورت نہیں اور جو معجزے کا مطالبہ کرتے ہیں وہ بہت کم ایمان لاتے ہیں چونکہ آپ کی امت آخری امت ہے اس لئے اللہ نے کفار کے مطالبہ پر کوئی معجزہ نہیں دکھایا کیونکہ اگر وہ اس معجزے کو دیکھتے اور اس پر ایمان نہ لاتے تو ان کو تباہ کردیا جاتا اور یہ اللہ کی مصلحت کے خلاف ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ سے سیکڑوں معجزات ظاہر ہوئے ہیں مگر کفار کے مطالبے پر کوئی معجزہ نہیں دکھایا گیا تا کہ یہ آخری امت محفوظ رہے۔ ٭انسان جن چیزوں کو اپنا معبود بنا لیتا ہے دنیا کی حد تک تو وہ اس غلط فہمی میں مبتلا رہتا ہے کہ اس کے سارے کام ان بےجان اور جھوٹے معبودوں کی وجہ سے ہو رہے ہیں اور ایسے ہم مزاج لوگ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھی اور مدد گار بھی بن جاتے ہیں ۔ لیکن جب یہ قیامت کے دن میدان حشر میں پہنچیں گے تب ساری حقیقت کھل جائے گی کہ وہ زندگی پھر جن سہاروں پر بھروسہ کرتے ہیں وہ غلط تھے اور اس طرح اپنے کئے پر وہ میدان حشر میں ذلت و رسوائی سے دو چار ہوں گے۔