37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 37:50–74

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:50 in the Quran reader

پھر وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر پوچھیں گے ( اور گفتگو کریں گے)

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ اِنِّیْ كَانَ لِیْ قَرِیْنٌۙ Open ayah 37:51 in the Quran reader

ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا کہ ( دنیا میں) میرا ایک ساتھی تھا

یَّقُوْلُ اَئِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ Open ayah 37:52 in the Quran reader

وہ کہتا تھا کیا تم ( قیامت کے دن کو) سچ ماننے والوں میں سے ہو ؟

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَدِیْنُوْنَ Open ayah 37:53 in the Quran reader

کیا جب ہم مر کھپ جائیں گے اور ہم مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گی تو کیا ہمیں بدلہ اور جزا دی جائے گی

قَالَ هَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ Open ayah 37:54 in the Quran reader

(فرمایا جائے گا) کیا تم جھانک کر اس شخص کو دیکھنا چاہتے ہو ؟

فَاطَّلَعَ فَرَاٰهُ فِیْ سَوَآءِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:55 in the Quran reader

وہ جھانک کر دیکھے گا تو وہ جہنم کے بیچ میں ( آگ سے جھلس رہا) ہوگا ۔

قَالَ تَاللّٰهِ اِنْ كِدْتَّ لَتُرْدِیْنِۙ Open ayah 37:56 in the Quran reader

وہ کہے گا کہ اللہ کی قسم تو نے مجھے برباد کردیا ہوتا ۔

وَ لَوْ لَا نِعْمَةُ رَبِّیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 37:57 in the Quran reader

اگر میرے پروردگار کا مجھ پر فضل و کرم نہ ہوتا تو میں ان ہی لوگوں میں سے ہوتا جو پکڑ کر لائے گئے ہیں ۔

اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَۙ Open ayah 37:58 in the Quran reader

تو کیا ہم اب دوبارہ نہیں مریں گے

اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 37:59 in the Quran reader

پہلی مرتبہ مرنے کے بعد ، اور نہ عذاب دیئے جائیں گے

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 37:60 in the Quran reader

بیشک یہ تو بہت بڑی کامیابی ہے

لِمِثْلِ هٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ Open ayah 37:61 in the Quran reader

ایسی کامیابی کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے

اَذٰلِكَ خَیْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ Open ayah 37:62 in the Quran reader

(اللہ تعالیٰ نے پوچھا ہے کہ بتا دو ) یہ مہمان نوازی بہتر ہے یا ” زقوم “ کا درخت

اِنَّا جَعَلْنٰهَا فِتْنَةً لِّلظّٰلِمِیْنَ Open ayah 37:63 in the Quran reader

جسے ہم نے ظالموں کے لئے ایک آزمائش بنایا ہے۔

اِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِیْۤ اَصْلِ الْجَحِیْمِۙ Open ayah 37:64 in the Quran reader

وہ (زقوم) ایک درخت ہے جو جہنم کی جڑ (تہہ) سے نکلتا ہے۔

طَلْعُهَا كَاَنَّهٗ رُءُوْسُ الشَّیٰطِیْنِ Open ayah 37:65 in the Quran reader

اس کے خوشے ایسے ہیں جیسے شیطان کے سر ۔

فَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَؕ Open ayah 37:66 in the Quran reader

پھر وہ اس کو کھائیں گے اور اسی سے اپنا پیٹ بھریں گے۔

ثُمَّ اِنَّ لَهُمْ عَلَیْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِیْمٍۚ Open ayah 37:67 in the Quran reader

پھر بیشک ان کو کھولتا ہوا گرم پانی ملے گا ۔

ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَاۡاِلَى الْجَحِیْمِ Open ayah 37:68 in the Quran reader

پھر ان کی واپسی اسی جہنم کی طرف ہوگی ۔

اِنَّهُمْ اَلْفَوْا اٰبَآءَهُمْ ضَآلِّیْنَۙ Open ayah 37:69 in the Quran reader

حالانکہ انہوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہی میں پایا تھا

فَهُمْ عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ یُهْرَعُوْنَ Open ayah 37:70 in the Quran reader

مگر پھر بھی وہ ان ہی کے نقش قدم پر دوڑتے چلے گئے

وَ لَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 37:71 in the Quran reader

حالانکہ اس سے پہلے بہت سے لوگ گمراہی میں مبتلا ہوچکے تھے

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 37:72 in the Quran reader

اور ہم نے ان میں سے ( برے عمل کے برے انجام سے ڈرانے والے) رسول بھیجے تھے

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَۙ Open ayah 37:73 in the Quran reader

تو پھر دیکھو جن کو ڈرایا گیا تھا اور وہ نہیں مانے تو ان کا انجام کیسا ہوا

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ۠ Open ayah 37:74 in the Quran reader

سوائے اللہ کے ان خاص مخالص بندوں کے جنہیں چن لیا گیا تھا

لغات القرآن ( آیت نمبر 50 تا 74) قرین ( دوست ، ساتھی ، ملاقاتی) یدینون ( جزا یا سزا دیئے جائیں گے) مطلعون ( جھانکنے والے) ان کدت ( اگرچہ قریب تھا) لتردین ( تردی) البتہ تو مجھے ہلاک کردیتا) اصل ( جڑ ، بنیاد) طلع ( پھل ، گابھا) تشریح : آیت نمبر 50 تا 74 :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنتیوں اور جہنمیوں پر گزرنے والے حالات اور کیفیات کو بیان کر کے ہر شخص کو غور و فکر کی دعوت دی ہے کہ ان میں سے کون سی حالت بہتر ہے۔ جب اہل جنت اللہ کی بیشمار نعمتوں کا لطف اٹھا رہے ہوں گے تو اس وقت دنیا کے متعلق بھی کچھ باتیں شروع ہوجائیں گی ۔ ان میں سے ایک شخص کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک دوست تھا جو میرے آخرت پر یقین رکھنے کی وجہ سے بحث کیا کرتا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ بھلا بتائو جب ہم مر کھپ جائیں گے ، ہمارا بدن گل سڑ جائے گا ، ہماری ہڈیوں کے ذرات بکھر کر اپناوجود کھو دیں گے اور زمین میں رل مل جائیں گے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ میں زندہ کر کے اٹھایا جائے گا اور ہمارے باپ دادا جن کی قبروں تک کا پتہ نہیں ہے وہ کیسے زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے ؟ لیکن آج ساری سچائی ہمارے سامنے ہے۔ نجانے وہ آخرت کی زندگی اور دوبارہ پیدا کئے جانے کا منکر کس حال میں ہوگا ؟ یقینا وہ اپنے عقیدے کی وجہ سے جہنم میں پہنچ چکا ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے یا اس کے دل میں آئے گا کہ اس شخص کو جہنم میں جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو ؟ چناچہ جب وہ اس شخص کو دیکھے گا کہ جہنم کے بیچ میں سخت عذاب میں گرفتار ہے تو وہ شخص اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہے گا الٰہی ! آپ کا شکر ہے کہ میں اس کے فریب سے بچ گیا ورنہ آج میرا بھی یہی انجام ہوتا ۔ یہ تو اللہ نے مجھ پر خاص رحم و کرم فرمایا کہ اس عذاب جہنم سے بچ گیا ۔ میرا عقیدہ اور ذہن و فکر صحیح رہا ورنہ جس طرح آج مجرموں اور گناہ گاروں کو پکڑ پکڑ کر جہنم میں جھونکا جا رہا ہے میں بھی ان ہی لوگوں میں سے ہوتا ۔ پھر وہ جنتی شخص اپنی خوشی اور مسرت سے بےقرار ہو کر کہے گا کہ موت جو ہمیں آ چکی ہے اب دوبارہ نہیں آئے گی اور ہم اس جنت میں عیش و آرام اور سکون سے ہمیشہ رہیں گے اور یہاں سے نکالے نہ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ جنت میں جو بھی لذتیں ، راحتیں اور امن و سکون ہے وہ اہل جنت کی زبردست اور بہت بڑی کامیابی ہے۔ در حقیقت دنیا کے کامیاب ترین لوگ وہی ہیں جنہوں نے اللہ و رسول پر ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کی ۔ اسی جنت کے لئے ہر شخص کی کوشش اور جدوجہد کرنا چاہیے۔ ایک طرف تو یہ خوش نصیب جنت والے ہوں گے جو حقیقی کامیابیوں سے ہم کنار ہوچکے ہوں گے لیکن دوسری طرف اہل جہنم ہوں گے جن کو آگ میں جھونک دیا جائے گا اور جب وہ بھوک سے بےقرار ہوجائیں گے تو ان کو کھانے کے لئے ’ ’ زقوم “ کا درخت یا پودا دیا جائے گا جو نہایت کڑوا ، کسیلا اور بد ذائقہ ہوگا جو جہنم کی آگ سے پیدا کیا گیا ہوگا ۔ یہ اتنا سخت اور کڑوا ہوگا کہ اس کو حلق سے نیچے اتارنا اور نگلنا مشکل ہوگا ۔ جب پیاس کی طلب ہوگی تو ان کو کھولتا ہوا گرم پانی دیا جائے گا ۔ جب وہ اس کو پئیں گے تو ان کے چہروں کی کھالیں تک جھلس کر رہ جائیں گی ۔ ان کی زندگی موت سے بد تر نظر آئے گی ۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے گمراہ باپ داد کے راستے کو اپنا کر ان کی طرح زندگی گزارنے کی کوشش کی ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لئے اپنے پیغمبربھیجے تھے جو ان کے اپنوں میں سے تھے لیکن انہوں نے کسی پیغمبر کی بات پر توجہ نہ کی تھی جس کے نتیجے میں وہ گمراہ ہوگئے تھے اور اسی راستے پر ان کی اولادیں بھی چلیں اور ان سب نے جہنم کا راستہ اختیار کرلیا تھا ۔ ہاں البتہ ان ہی گمراہیوں میں ایسے مخلص بندے بھی تھے جن کو توبہ کی توفیق نصیب ہوئی اور وہ جہنم کی آگ سے بچ گئے۔ ان ہی آیات سے متعلق چند باتیں۔ ٭گزشتہ آیات میں فرمایا گیا تھا کہ اہل جنت کو ” رزق معلوم “ دیا جائے گا جو بہترین اور راحت و آرام کا ذریعہ ہوگا لیکن اس کے بر خلاف اہل جہنم کو جہنم کی تہہ میں آگ سے پیدا ہونے والا درخت ” زقوم “ کھانے کے لئے دیا جائے گا جو اتنا کڑوا اور بد ذائقہ ہوگا کہ اس کو حلق سے نیچے اتارنا مشکل ہوگا اور ان کو پینے کے لئے گرم کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا جو ان کو جھلسا کر رکھ دے گا ۔ جب قرآن کریم میں ” زقوم “ کا ذکر آیا اور نبی کریم ﷺ نے بتایا کہ وہ کیسا زہریلا اور کڑوا ہوگا جو جہنم کی تہہ میں سے پیدا ہوگا تو کفار نے مذاق اڑانا شروع کیا ۔ ابو جہل نے اپنے ساتھیوں کو جمع کر کے کہا کہ یہ شخص کہتا ہے کہ آگ میں بھی درخت اگائے جائیں گے حالانکہ آگ تو درخت کو بھی کھا جاتی ہے یہ کیسی عقل سے بعید بات کہی گئی ہے۔ اس نے کہا کہ ہم نے یہ جانتے ہیں کہ زقوم کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں ۔ اس نے کھجوریں اور مکھن منگوا کر سب سے کہا کہ آئو کھائو ہمارا زقوم تو یہی ہے۔ ٭اس درخت کے خوشے شیطانوں کے سرجی سے ہوں گے ۔ انسان نے تو شیطان کو نہیں دیکھا اس لئے یہ ماننا پڑے گا کہ یہ ایک تشبیہ یہ ہے کہ اس کے پتے اور خوشے بھی بہت بڑے بڑے ہوں گے۔ ٭اللہ نے ہر زمانہ میں گمراہ لوگوں کی اصلاح کے لئے اپنے پیغمبر بھیجے تا کہ زندگی کی راہوں میں بھٹکے ہوئے لوگوں کو سیدھا راستہ دکھا دیا جاسکتے۔ جن لوگوں نے ان کی بات مانی وہی کامیاب و بامراد ہوئے اور جنہوں نے ان کی تعلیمات سے منہ موڑا وہی ناکام و نامراد ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک ہزاروں پیغمبر بھیجے اور آخر میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو آخری نبی اور آخری رسول بنا کر بھیجا جن کی نبوت و رسالت قیامت تک جاری رہے گی اور آپ کے بعد اگر کوئی شخص نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ دنیا کا سب سے بڑا جھوٹا اور فریبی ہے جو خود اور اس کے ماننے والے جہنم کا ایندھن بنیں گے ۔ اگر کچھ لوگ ایسے جھوٹے شخص کے دھوکے میں آگئے ہوں تو ان کی موت کے فرشتے نظر آنے سے پہلے تو بہ کرلینی چاہیے ورنہ ان کا انجام ان لوگوں سے مختلف نہ ہوگا جنہوں نے کفر و شرک کو اپنی زندگی بنا رکھا ہے۔
Ayahs 37:75–82

وَ لَقَدْ نَادٰىنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ٘ۖ Open ayah 37:75 in the Quran reader

اور جب ہمیں نوح (علیہ السلام) نے پکارا تو ہم بہترین ( دعائوں کو) قبول کرنے والے ہیں

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِ٘ۖ Open ayah 37:76 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو (نوح (علیہ السلام) کو) اور ان کے گھر والوں ( ان کے تمام ماننے والوں) کو بڑی مصیبت سے نجات عطاء کی ۔

وَ جَعَلْنَا ذُرِّیَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:77 in the Quran reader

اور ہم نے ان کی اولاد کو ( ان کی جگہ) باقی رہنے دیا ۔

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:78 in the Quran reader

اور ہم نے بعد میں آنے والے میں ان کے ذکر ( خیر) کو چھوڑا

سَلٰمٌ عَلٰى نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:79 in the Quran reader

کہ سارے جہانوں میں نوح (علیہ السلام) پر سلامتی ہو

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:80 in the Quran reader

بیشک ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:81 in the Quran reader

بیشک وہ ہمارے ایمان والے بندوں میں سے تھے

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:82 in the Quran reader

اور پھر ہم نے دوسروں کو ( کفار و مشرکین کو) غرق کر دیا

لغات القرآن (آیت نمبر 75 تا 82) نادی (اس نے پکارا) نعم ( بہترین) مجیبون (قبول کرنے والے) کرب (مصیبت، مشکل) المحسینین (نیک کام کرنے والے) اغرقنا (ہم نے ڈبو دیا ، غرق کردیا) تشریح : آیت نمبر 75 تا 82 :۔ ان آیات سے پہلے فرمایا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر زمانہ اور ہر قوم کی ہدایت و رہنمائی اور برے اعمال کے برے نتائج سے آگاہ کرنے اور ڈرانے والے پیغمبروں کو بھیجا تھا ۔ جن لوگوں نے ان کے بتائے ہوئے راستے کو اپنایا اور اس پر پورے خلوص سے چلے تو اللہ نے ان کی دنیا اور آخرت دونوں کو ان کی نجات کا ذریعہ بنا دیا لیکن جن بد نصیبوں نے ان کی اطاعت و فرماں برداری نہیں کی ان کی نہ صرف دنیا اجاڑدی گئی بلکہ وہ آخرت میں بھی سخت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوں گے۔ اسی بات کو ذہن نشین کرانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے کچھ پیغمبروں کا ذکر خیر فرمایا ہے۔ سب سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ماننے والوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) جو اپنی قوم اور کئی نسلوں کو ساڑھے نو سو سال تک یہ سمجھاتے رہے کہ وہ اپنے غلط رسم و رواج اور بےحقیقت اور جھوٹے معبودوں کی عبادت چھوڑ کر ایک اللہ کی عبادت و بندگی کریں لیکن ان کی قوم میں سے کچھ لوگوں کے سوا کسی نے ان کی باتوں پر دھیان نہیں دیا اور مسلسل نا فرمانیوں میں لگے رہے آخر کار حضرت نوح (علیہ السلام) نے ایک دن اللہ کی بارگاہ میں یہ درخواست پیش کی کردی کہ الٰہی ! میں نے ان کو ہر طرح سمجھایا ، دن رات جدوجہد اور کوشش کی مگر سوائے چند لوگوں کے سب نے نافرمانیوں پر کمر باندھ رکھی ہے ( اب یہ اس گلے سڑے عضو کی طرح ہوچکے ہیں جس کا آپریشن کرنا ضروری ہوتا ہے تا کہ پورا جسم بچ سکے) الٰہی ! اب آپ ان کے لئے فیصلہ فرما دیجئے اور روئے زمین پر ان کا کوئی ٹھکانہ باقی نہ رہنے دیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا کو قبول کرتے ہوئے ایک ایسی کشتی بنانے کا حکم دیا جس میں اللہ کے فرماں برداروں اور جانوروں میں سے ہر ایک کا ایک ایک جوڑا رکھا جاسکے۔ جب حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ کے ماننے والے کشتی بنا رہے تے تو کفار و مشرکین نے ان کا مذاق اڑایا ۔ ایک وقت مقررہ پر پانی کا طوفان شروع ہوا ۔ زمین نے اپنے سوتے اور آسمان نے اپنے دھانے کھول دیئے۔ اتنا شدیدطوفان آیا کہ پہاڑوں کی چوٹیوں سے بھی پانی بلند ہوگیا اور کشتی میں سوار اہل ایمان کے سوا روئے زمین پر کوئی نہ بچ سکا اور اس طرح اللہ کے نافرمانوں کو پانی کے طوفان میں غرق کردیا گیا اور اللہ نے حضرت نوح (علیہ السلام) ، ان کے مومن اہل خانہ اور ان کے ماننے والے صاحبان ایمان کو اس ” کرب عظیم “ سے نجات عطاء فرمائی اور پھر حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد سام حام اور یافث اور تمام باقی رہنے والے اہل ایمان کے ذریعہ نسل انسانی کو باقی رکھا اور انسانوں کی طرح اللہ نے جانوروں کی نسلوں کو بھی باقی رکھا ۔ وہ نافرمان لوگ جنہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی کسی بات پر کان نہیں دھرا تھا وہ تو دنیا سے اس طرح مٹ گئے کہ آج ان کا کوئی نام لیوا بھی نہیں ہے لیکن آج حضرت نوح (علیہ السلام) کا نام دنیا کی ہر قوم عزت و احترام سے لیتی ہے۔ وہ ساری دنیا کے لئے اس طرح لائق احترام ٹھہرے کہ قیامت تک حضرت نوح (علیہ السلام) کے لئے سلامتی کی دعائیں کی جاتی رہیں گی ۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی غالب مذہبی اکثریت مسلمان ، عیسائی ، یہودی اور بہت سی قومیں ان کا یکساں احترام کرتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے نا فرمانیوں کو مٹا کر حضرت نوح (علیہ السلام) کے ماننے والوں کو ان کا وارث بنا دیا ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ، ان کی اولاد اور محسنین یعنی حسن عمل کرنے والوں کا نام بھی باقی ہے اور ان کے نام لیوا بھی موجود ہیں اور قیامت تک رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کے ذریعہ کفار مکہ کو اس حقیقت کی طرف لانے کی کوشش کی ہے کہ وہ اس آئینہ میں جھانک کر دیکھ لیں کہ کہیں اس میں ان کو اپنی صورت تو نظر نہیں آرہی ہے ؟ اگر ایسا ہے تو وہ فوراً توبہ کر کے ایمان لے آئیں اور نبی مکرم ﷺ کا دامن رحمت تھام لیں ورنہ قوم نوح (علیہ السلام) کی طرح ان کو مٹنے میں بھی دیر نہ لگے گی ۔ اور جس طرح قوم نوح (علیہ السلام) کو پانی کے طوفان سے غرق کردیا گیا تھا کہیں ایسا نہ ہو کہ کفار مکہ بھی ایمان نہ لا کر اپنی شرارتوں اور نا فرمانیوں کے سمندر میں غرق کردیئے جائیں۔