3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 3:186–189

لَتُبْلَوُنَّ فِیْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١۫ وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِیْرًا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ Open ayah 3:186 in the Quran reader

یقیناً تم اپنی جان اور مال دونوں سے آزمائے جاؤ گے۔ اور تم سے پہلے جنہیں کتاب دی گئی اور مشرکین ان سے بہت سی تکلیف دینے والی باتیں سنو گے۔ اگر تم نے صبر کیا اور تقویٰ اختیار کیا تو یہ بڑے عزم و ہمت کا کام ہوگا۔

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَكْتُمُوْنَهٗ١٘ فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ وَ اشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوْنَ Open ayah 3:187 in the Quran reader

وہ وقت قابل ذکر ہے جب اللہ نے اہل کتاب سے عہد لیا تھا کہ تمہیں اللہ کی کتاب کو پوری طرح لوگوں پر ظاہر کردینا ہوگا اور اسے چھپا کر نہیں رکھنا ہوگا۔ مگر انہوں نے اس کتاب کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا اور گھٹیا قیمت پر بیچ ڈالا کیسی بری رقم ہے جس کے بدلہ وہ (اللہ کا کلام) فروخت کر رہے ہیں۔

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّ یُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:188 in the Quran reader

وہ لوگ جو اپنے کرتوتوں پر خوش ہیں اور ایسے کاموں کی تعریف کرانا بھی چاہتے ہیں جو انہوں نے نہیں کئے ۔ کیا ایسے لوگ اللہ کے عذاب سے چھوٹ جائیں گے۔ ایسا گمان بھی نہ کرنا ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 3:189 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے وہ اللہ ہی کے لئے ہے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 186 تا 189 لتبلون (البتہ ضرور تم آزمائے جاؤگے) لتسمعن (البتہ تم ضرور سنو گے) عزم الامور (البتہ تم اس کو ظاہر کرو گے) لا تکتمونه (تم اس کو نہ چھپاؤ گے) نبذوہ (انہوں نے اس کو پھینک دیا) لم یفعلو (انہوں نے نہیں کیا) ۔ تشریح : آیت نمبر 186 تا 189 آخرت کی کامیابی اور ناکامی اور دائمی جزا وسزا کا حال سنا کر مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ اے مسلمانو ! ابھی جان دونوں ہی سے تمہاری آزمائش کی جائے گی۔ اللہ کی راہ میں تمہاری جانیں اور مال دونوں ہی طلب کئے جائیں گے۔ تمہیں کفار اور یہودیوں کی ابھی بہت سی تکلیف دینے والی باتیں بھی سننا پڑیں گی لیکن اگر تم نے صبر وتقویٰ کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا تو یہ تمہاری بہت بڑی کامیابی اور عزم وہمت کے کاموں میں سے ہوگا۔ کیونکہ ان یہودیوں کا مزاج ہی یہ ہے کہ وہ حق و صداقت سے بھاگتے ہیں اور کسی عہد پر قائم نہیں رہتے۔ فرمایا جارہا ہے کہ اہل کتاب سے اس بات کا عہد لیا گیا جو احکامات اور بشارتیں ان کی کتابوں میں موجود ہیں انہیں صاف صاف لوگوں کے سامنے بیان کریں گے نہ کسی بات کو چھپائیں گے اور نہ اس میں ہیر پھیر کریں گے۔ مگر انہوں نے اس عہد کی ذرا بھی پرواہ نہ کی دنیا کے معمولی سے نفع کی خاطر انہوں نے تمام عہدو پیمان توڑ دیئے۔ احکامات الہٰی کو بدل ڈالا۔ نبی کریم ﷺ کے لئے جو خوشخبریاں تھیں انہوں نے اس کو بھی چھپا لیا۔ فرمایا جارہا ہے کہ وہ اپنی ان حرکتوں پر شرمندہ بھی نہیں ہوتے بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ جو کام انہوں نے نہیں کئے ہیں ان پر بھی ان کی تعریفیں کی جائیں۔ فرمایا ایسے لوگ اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوکر رہیں گے۔ ان کو اس سے چھٹکارا مل جائے گا اس کا تو گمان بھی نہ کرنا۔ بلاشبہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب کا سب اللہ ہی کا ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھنے والا ہے۔
Ayahs 3:190–195

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِۚۙ Open ayah 3:190 in the Quran reader

بلاشہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے آنے جانے میں عقل و فکر رکھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا١ۚ سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 3:191 in the Quran reader

اہل عقل و فکروہ ہیں جو کھڑے بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے ہوئے ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہوئے کہہ اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار آپ نے کائنات کا یہ نظام بےفائدہ نہیں بنایا ہے۔ آپ کی ذات اس سے پاک ہے آپ ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لیجئے گا۔

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیْتَهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 3:192 in the Quran reader

اے پروردگار ، بلاشبہ آپ نے جسے جہنم میں داخل کردیا تو اس کو رسوا کردیا۔ اور ان ظالموں کا کوئی بھی مدد گار نہیں ہے ۔

رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّا١ۖۗ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ كَفِّرْ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِۚ Open ayah 3:193 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار بیشک ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف بلاتا تھا اور کہتا تھا کہ تم اپنے پروردگار کو مانو۔ تو ہم ایمان لے آئے ۔ اے ہمارے پروردگار ہمارے گناہوں کو معاف فرما اور ہم سے ہماری خطاؤں کو دور کر دیجئے۔ اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ فرما دیجئے۔

رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَ لَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ Open ayah 3:194 in the Quran reader

ہمارے پروردگار ہمیں وہ عطا کیجئے جو آپ نے ہم سے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ وعدہ کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوانہ کیجئے گا۔ بیشک آپ اپنے وعدے کے خلاف کرنے والے نہیں ہیں۔

فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ اَنِّیْ لَاۤ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى١ۚ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَالَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ قٰتَلُوْا وَ قُتِلُوْا لَاُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاُدْخِلَنَّهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الثَّوَابِ Open ayah 3:195 in the Quran reader

تو ان کے پروردگار نے ان کی دعاء قبول کرلی اور کہا کہ میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ہوں۔ عورت ہو کہ مرد تو سب آپس میں ایک دوسرے کی جنس سے ہو۔ پھر جن لوگوں نے میری وجہ سے ہجرت کی وہ گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں تکلیفیں پہنچائے گئے۔ وہ لڑے اور مارے گئے تو میں ان کی خطائیں ضرور معاف کر دوں گا۔ اور میں انہیں ایسے باغوں میں ضرور داخل کروں گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ اللہ کے پاس سے ان کو ثواب ملے گا۔ اور اللہ ہی کے پاس بہترین ثواب ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 190 تا 195 قیام (کھڑے ہوئے) کفر (اتاردے، دور کردے) قعود (بیٹھے ہوئے) مع الابرار (نیک لوگوں کے ساتھ) جنوب ( پہلوؤں (جنب کی جمع) لاتخزتا (ہمیں رسوا نہ کر) یتفکرون (وہ غوروفکر کرتے ہیں ) استجاب (قبول کیا) ماخلقت (تو نے پیدا نہیں کیا) لا اضیع (میں ضائع نہ کروں گا) ھٰذا باطل (اس کو بےفائدہ) عامل (کام کرنے والا) سبحٰنک (آپ کی ذات پاک ہے) اوذوا (ستائے گئے) اخزیت (تونے رسوا کردیا ) حسن التواب (بہترین ثواب) منادی (آواز دینے والا) ۔ تشریح : آیت نمبر 190 تا 195 اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کائنات کی پیدائش میں غور فکر کرنے اور کھڑے ، بیٹھے اور پہلوؤں پر لیٹے اللہ کا ذکر کرنے والے اہل عقل و دانش ہیں اور جب وہ اس کائنات پر غور کرتے ہیں تو بےساختہ ان کی زبانوں پر یہ آجاتا ہے کہ اے پروردگار ہم کسی چیز کی مصلحت اور حقیقت کو سمجھیں یا نہ سمجھیں آپ نے کسی چیز کو بےکار پیدا نہیں کیا۔ اس کائنات میں ساری طاقت وقدرت اے پروردگار آپ ہی کی ہے۔ ہمیں اس دنیا کی بھلائی کے ساتھ آخرت کی کامیابیاں عطا فرمائیے اور ہمیں دوزخ کی آگ سے بچالیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ ہمارے نبی کی تعلیم پر عمل کرنے والے ہیں ہم ان کو بہترین ثواب عطا فرماتے ہوئے ان کو دوزخ کی آگ سے محفوظ کردیں گے۔
Ayahs 3:196–200

لَا یَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِی الْبِلَادِؕ Open ayah 3:196 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! اللہ کے منکروں کی شہروں میں یہ چلت پھرت اور بھاگ دوڑ آپ کو دھوکے میں نہ ڈال دے۔

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۫ ثُمَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:197 in the Quran reader

یہ چند دنوں کی بہار ہے پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو بدترین ٹھکانا ہے۔

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا نُزُلًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِ Open ayah 3:198 in the Quran reader

لیکن وہ لوگ جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے ایسی جنتیں ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ کی طرف سے ان کی مہمان داری ہوگی اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے حق میں کہیں بہتر ہے۔

وَ اِنَّ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰهِ١ۙ لَا یَشْتَرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:199 in the Quran reader

اور بیشک اہل کتاب میں وہ بھی ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ آپ کی طرف اور جو کچھ ان کی طرف نازل کیا گیا ہے اس پر وہ ایمان لاتے ہیں۔ یہی اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔ وہ اللہ کی آیتوں کا ادنیٰ قیمتوں پر سودا نہیں کرتے۔ ان لوگوں کے لئے اللہ کے پاس اجر ہے۔ بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا١۫ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 3:200 in the Quran reader

اے ایمان والو ! خود بھی صبر کرو اور ایک دوسرے کو صبر دلاتے رہو، اللہ سے ڈرتے رہو تا کہ فلاح و کامیابی حاصل کرسکو۔

لغات القرآن آیت نمبر 196 تا 200 لایغرنک (تجھے دھوکے میں نہ ڈال دے) سریع الحساب (جلد ھساب لینے والا) تقلب (آناجانا، چلت پھرت) اصبروا ( صبر کرو) البلاد (شہر (بلد کی جمع) صابروا (صبر دلاتے رہے) المھاد (ٹھکانا) رابطوا (لگے رہو) نزل (مہمان داری) تفلحون (تم کامیابی حاصل کرو گے) ۔ تشریح : آیت نمبر 196 تا 200 سورة آل عمران کو ان آیات پر ختم کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے جان نثاروں کو یہ بتایا ہے کہ کفار کی دنیاوی ترقی ملکوں میں چلت پھرت، بھاگ دوڑ اور نئی سج دھج کہیں کسی دھوکے میں نہ ڈال دے کیونکہ یہ ساری چیزیں وقتی بہاریں ہیں موسم بدلتے ہی ساری خوبصورتیاں اور یہ سج دھج ختم ہوکر رہ جائے گی اصل کا میابی آخرت کی کامیابی ہے جس کو وہاں کی کامیابی مل گئی وہی شخص کامیاب ہے لیکن اگر ایک شخص دنیا کی ساری دولت بھی سمیٹ لے اور آخرت کی اصل زندگی کے لئے وہ کچھ نہ کرے تو یہ چیزیں اس کی آخرت میں حسرت بن جائیں گی۔ آخر میں فرمایا کہ زندگی میں جو بھی حالات پیش آئیں ان کو نہایت صبر وشکر سے برداشت کیا جائے اور اپنے دوسرے بھائیوں کو بھی صبر دلایا جائے اور خوف الہی، تقویٰ اور پرہیز گاری کو زندگی کے تمام معاملات کی بنیاد بنالیا جائے تو دنیا اور آخرت میں ہر طرح کی کامیابیاں اور کامرانیاں عطا کی جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو فکر آخرت نصیب فرمائے اور آخرت کی تمام کامیابیاں نصیب فرمائے ، آمین ثم آمین۔ واخردعوانا ان الحمدللہ رب العالمین