3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 3:33–41

اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 3:33 in the Quran reader

بیشک اللہ آدم (علیہ السلام) ، نوح (علیہ السلام) ، اور ابراہیم (علیہ السلام) ، کے خاندان اور عمران کے خاندان کو تمام جہان والوں پر منتخب کیا تھا۔

ذُرِّیَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۚ Open ayah 3:34 in the Quran reader

ان میں سے بعض، بعض کی اولاد ہیں۔ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔

اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 3:35 in the Quran reader

جب عمران کی بیوی نے کہا اے میرے پروردگار میں اس بچے کو جو میرے پیٹ میں ہے آپ کی نذر کرتی ہوں (وہ آپ ہی کے کام کے لئے آزاد ہوگا) ۔ آپ اسے میری طرف سے قبول فرما لیجئے۔ بیشک آپ ہی (سب کی ) سننے والے اور جاننے والے ہیں ۔

فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰى١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ١ؕ وَ لَیْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى١ۚ وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 3:36 in the Quran reader

پھر جب وہ بچی (مریم) اس کے گھر میں پیدا ہوئی عمران کی بیوی نے کہا اے میرے پروردگار میرے ہاں تو لڑکی پیدا ہوئی ہے۔ حالانکہ جو کچھ اس کے ہاں پیدا ہوا اللہ کو اس کی خبر تھی اور لڑکا لڑکی جیسا نہ ہوتا۔ اور میں نے اس لڑکی کا نام مریم رکھا ہے، اور میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے آپ کی پناہ میں دیتی ہوں۔

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا١ۙ وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّا١ؕۚ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا١ۚ قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا١ؕ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:37 in the Quran reader

آخرکار اس کے پروردگار نے اس لڑکی کو بخوشی قبول کرلیا۔ اور اس کو اچھی طرح نشوونما دیا اور زکریا (علیہ السلام) کو اس کا سرپرست بنا دیا۔ جب بھی زکریا (علیہ السلام) اس کے پاس نماز پڑھنے کی جگہ جاتے تو اس کے پاس کچھ نہ کچھ کھانے پینے کی چیزوں کو پاتے۔ انہوں نے پوچھا اے مریم یہ تمہارے پاس کہاں سے آیا انہوں نے کہا یہ اللہ کے پاس سے آیا ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب رزق عطا فرماتا ہے۔

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗ١ۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً١ۚ اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 3:38 in the Quran reader

اسی جگہ زکریا (علیہ السلام) اپنے پروردگار سے دعا کرنے لگے۔ عرض کیا ! اے میرے پروردگار اپنی قدرت سے مجھے نیک اور صالح اولاد عطا فرما۔ بلاشبہ آپ ہی دعا کو سننے والے ہیں ۔

فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ١ۙ اَنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكَ بِیَحْیٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوْرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:39 in the Quran reader

فرشتوں نے ان کو اس وقت آواز دی جب کہ وہ حجرے میں نماز پڑھ رہے تھے۔ اور کہا۔ بیشک اللہ تمہیں یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے۔ وہ اللہ کی طرف سے کلمۃ اللہ کی تصدیق کرنے والے ہوں گے۔ ان میں سرداری و بزرگی کی شان ہوگی۔ بڑے ضبط کرنے والے اللہ کے نبی اور صالح لوگوں میں سے ہوں گے۔

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ قَدْ بَلَغَنِیَ الْكِبَرُ وَ امْرَاَتِیْ عَاقِرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ Open ayah 3:40 in the Quran reader

زکریا (علیہ السلام) نے کہا میرے پروردگار بھلا میرے ہاں لڑکا کہاں سے ہوگا ؟ میں تو بوڑھا ہوچکا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔ جواب ملا ایسا ہی ہوگا۔ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًا١ؕ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِیْرًا وَّ سَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ۠ Open ayah 3:41 in the Quran reader

کہا اے میرے پروردگار میرے لئے کوئی نشانی مقرر کر دیجئے۔ فرمایا نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے سوائے اشاروں کے کوئی بات چیت نہ کرسکو گے۔ اس دوران اپنے پروردگار کی رات دن خوب تسبیح کرتے رہنا۔

لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 41 اصطفی (اس نے چن لیا، منتخب کرلیا) انی نذرت (بےشک میں نے منت مان لی) بطنی (میرا پیٹ) محرر (آزاد) وصعت (اس نے جنم دیا (پیدا کیا) انثیٰ (عورت ، لڑکی) سمیت (میں نے نام رکھ دیا) مریم (پاک باز، نیک) اعیذ (میں نے پناہ میں دے دیا) بقول حسن (بہترین طریقے پر قبول کرنا) انب تھا (اس نے اس کو پروان چڑھایا) کفل (وہ ذمہ دار ہوا) المحراب (عبادت کی جگہ، نماز پڑھنے کی جگہ) انی لک ھٰذا (یہ تیرے پاس کہاں سے آیا) ھنالک (اسی جگہ، اسی موقع پر) دعا (پکارا، دعا کی) ھب لی (مجھے عطا فرمادیجئے) ذریة طیبة (بہترین اولاد) سمیع الدعاء (دعا کا سننے والا) نادت (آواز دی) یصلی (وہ نماز پڑھتا ہے) یبشرک (تجھے خوشخبری دیتا ہے) سید (سرادار) حصور (پاک باز) انی یکون (کیسے ہوگا، کہاں سے ہوگا) غلام (لڑکا) بلغنی (مجھے پہنچ گیا) الکبر (بڑھاپا) امراتی (میری بیوی) عاقر (بانجھ (جس عورت کے بچہ ہونا ممکن نہ ہو) الاتکم (یہ کہ تو کلام نہ کرے گا) ثلثٰة ایام (تین دن) رمز (اشارہ) العشی (شام ، رات) الابکار (صبح، صبح تڑکے) ۔ تشریح : آیت نمبر 33 تا 41 عیسائیوں کی گمراہی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کو اللہ کا بندہ اور رسول ماننے کے بجائے انہیں اللہ کا بیٹا اور اس کی الوہیت میں شریک سمجھتے تھے اس لئے نخران سے آئے ہوئے وفد کو سمجھانے کے لئے اس مضمون کو اس طرح شروع کیا گیا ہے کہ حضرت آدم ، حضرت نوح، آل ابراہیم اور آل عمران سب کے سب اللہ کے برگزیدہ اور نیک انسان تھے جن کو دنیا کی ہدایت کے لئے بھیجا گیا تھا۔ وہ ایک دوسرے کی نسل سے تھے اور یہ سلسلہ اسی طرح چلا آرہا ہے ان میں سے کوئی بھی اللہ کی الوہیت میں شریک نہ تھا بلکہ انسانوں کے گروہ میں سے عظیم انسان تھے۔ حضرت عیسیٰ کے تفصیلی حالات بیان کرنے سے پہلے اللہ نے آپ کی والدہ ماجدہ حضرت مریم کی پیدائش اور ان کے حالات بیان فرمائے کہ کس طرح اللہ نے ان پر اور آل عمران پر اپنی عنایات اور کرم نوازیاں کی ہیں۔ بعض وہ عیسائی جو حضرت عیسیٰ کے ساتھ حضرت مریم کو بھی الوہیت میں شامل سمجھتے تھے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا کہ مریم تو خود کتنی دعاؤں کے بعد پیدا ہوئیں اور کس طرح اور کن حالات میں ان کی پرورش میں کس طرح دوسروں کی محتاج رہیں۔ بھلا وہ جو اپنی پیدائش، پرورش اور نشوونما میں دوسروں کا محتاج ہو وہ معبود کس طرح ہوسکتا ہے۔ حضرت مریم کے والد کا نام عمران تھا۔ حضرت مریم کی والدہ نے دعا کی الہٰی اگر مجھے آپ اولاد عطا فرمادیں گے تو میں اس کو آپ کے دین کے لئے ازادرکھوں گی۔ اس زمانہ میں اس بات کو بہت بڑی نیکی سمجھا جاتا تھا کہ پیدا ہونے والی الاد کو اس طرح اللہ کے گھر اور اس کی عبادت کے لئے آزاد کردیا جائے کہ وہ زندگی کی تمام ذمہ داریوں سے الگ رہتے ہوئے صرف اسی کی بندگی میں لگا رہے۔ اس دعا میں حضرت مریم کی والدہ نے گویا اشارۃً بیٹے کی تمنا کی تھی۔ اللہ نے ان کی دعا کو قبول فرمایا اور ان کے گھر میں حضرت مریم پیدا ہوئیں۔ حضرت مریم کی پیدائش کے بعد ان کی والدہ سخت پریشان ہوئیں کہ لڑکی پیدا ہوئی ہے اس کو اللہ کے لئے میں کیسے آزاد کروں گی۔ اللہ نے ان کے دل میں اس بات کو القا فرمایا کہ اے مریم کی والدہ تمہیں معلوم نہیں ہے کہ یہ لڑکی کتنی باعظمت ہے۔ اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کا اظہار فرمائیں گے۔ حضرت مریم کچھ بڑی ہوئیں تو منت کے مطابق ان کو عبادت کے لئے مخصوص کردیا گیا اور حضرت زکریا (علیہ السلام) جو اس وقت عبادت خانہ (بیت المقدس) کے متولی بھی تھے اور حضرت مریم کے خالو بھی تھے ان کی کفالت و نگرانی میں دے دی گئیں۔ ایک علیحدہ کمرہ میں ان کو رکھا گیا۔ جب حضرت مریم جوان ہوگئیں تو حضرت زکریا (علیہ السلام) باہر سے تالا ڈال کر جایا کرتے تھے مگر جب واپس آتے تو دیکھتے کہ حضرت مریم اللہ کی عبادت میں مشغول ہیں اور ان کے پاس بےموسم کے طرح طرح کے پھل رکھے ہوئے ہیں۔ ایک دن حضرت زکریا (علیہ السلام) نے حضرت مریم سے پوچھا کہ اتنے اچھے اور تازہ بےموسم کے پھل کہاں سے آتے ہیں ؟ حضرت مریم کا جواب تھا یہ سب اللہ کی طرف سے ہے۔ حضرت زکریا نے اس جگہ ان انوارات کو محسوس کیا اور بےساختہ زبان پر یہ دعا آگئی۔ الہٰی اگر مریم کو بےموسم کے پھل دے سکتے ہیں تو میں اگرچہ بوڑھا ہوچکا ہوں اور اولاد پیدا ہونے کا ظاہری امکان بھی موجود نہیں ہے لیکن آپ کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے۔ آپ مجھے ایک صالح بیٹا عطا فرمادیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا کو قبول فرمایا۔ ایک دن وہ محراب میں نماز ادا فرما رہے تھے فرشتوں نے اللہ کی طرف سے ان کو بیٹے کی خوشخبری دی۔ حضرت زکریا نے حیرت اور تعجب اور کچھ یقین حاصل کرنے کے لئے بےساختہ عرض کیا الہٰی میری تمنا خواہش اور دعا تو اپنی جگہ ہے لیکن کیا میرے ہاں اولاد ہوگی جبکہ میں بوڑھا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے ؟ اللہ نے فرمایا کہ ہاں اے زکریا۔ ہم دنیا کے اسباب کے محتاج نہیں ہیں ہم تمہیں یحیٰ (علیہ السلام) جیسا بیٹا دیں گے جو اللہ کے ایک کلمہ یعنی حضرت عیسیٰ کی تصدیق کرنے والے ہوں گے۔ ان میں سرداری اور بزرگی کی تمام شانیں موجود ہوں گی وہ نبوت سے بھی سرفراز ہوں گے اور ان کا صالحین میں شمار ہوگا۔ حضرت زکریا نے عرض کیا الہٰی میرے لئے اس کی کوئی نشانی مقرر کردیجئے اللہ نے فرمایا اے زکریا جب یہ واقعہ ہوگا تو تم تین دن تک سوائے اشاروں کے لوگوں سے بات نہ کرسکو گے۔ چونکہ اللہ کی یہ نعمت ہے جو تمہیں عطا کی جارہی ہے لہٰذا اس دوران تم اپنے پروردگار کو بہت یاد کرنا اور صبح وشام اسکی تسبیح کرتے رہنا یہ اسکی نعمت کا شکر ادا کرنیکے مترادف ہوگا۔
Ayahs 3:42–44

وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:42 in the Quran reader

اور جس وقت فرشتوں نے مریم سے کہا اے مریم اللہ نے تجھے منتخب کرلیا اور تجھے پاکیزگی عطا کی ہے اور دنیا کی تمام عورتوں میں سے تجھے چن لیا ہے۔

یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّكِ وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ مَعَ الرّٰكِعِیْنَ Open ayah 3:43 in the Quran reader

اے مریم اپنے پروردگار کی اطاعت کر ۔ اس کے سامنے سجدہ کر اور اللہ کے حضور جو بندے اس کے سامنے جھکتے ہیں ان کے ساتھ جھک ۔

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ؕ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَیُّهُمْ یَكْفُلُ مَرْیَمَ١۪ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 3:44 in the Quran reader

اے نبی ﷺ یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپ کو وحی کے ذریعہ بتا رہے ہیں ورنہ آپ اس وقت وہاں موجود نہ تھے جب وہ اپنے قلموں کو قرعہ اندازی کے لئے ڈال رہے تھے کہ مریم کس کی پرورش میں رہیں گی اور نہ تم اس وقت موجود تھے جب وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے۔

لغات القرآن آیت نمبر 42 تا 44 اصطفٰک (اس نے (اے مریم) تجھے چن لیا) طھرک (تجھے پاک باز بنایا) نساء العالمین (جہان بھر کی عورتیں) اقنتی (تو اطاعت کر) انباء الغیب (غیب کی خبریں) نوحیه (ہم اس کو وحی کرتے ہیں) لدیھم (ان کے پاس) یلقون (وہ ڈالتے ہیں) اقدم (قلم) یکفل (کفالت کرے گا، ذمہ دار ہوگا) یختصمون (وہ جھگڑتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 42 تا 44 حضرت مریم پر باطل پرستوں نے جو الزامات لگائے تھے اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں اس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت مریم ایک انتہائی پاک باز، نیک سیرت اور دنیا کی عورتوں میں ایک عظیم خاتون ہیں، اللہ نے ان کو نہ صرف برگزیدہ بنایا تھا بلکہ اللہ کی عبادت و بندگی میں بھی ان کا اعلیٰ مقام ہے۔ یہ وہ امتیاز ہے جو دنیا میں بہت کم عورتوں کو نصیب ہوا ہے۔ لہٰذا ان جیسی بلند سیرت خانون پر کسی طرح کا اتھام اور الزام ایک بدترین بات ہے۔ حضرت مریم کی پرورش کے سلسلہ میں قرعہ اندازی کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ حضرت مریم کی والدہ ماجدہ نے ان کو اللہ کے لئے ہیکل کی نذر کردیا تھا، چونکہ وہ لڑکی تھیں اس لئے یہ مسئلہ اپنے اندر بڑی نزاکتیں رکھتا تھا کہ ہیکل کے عبادت گذاروں میں سے وہ کس کی زیر نگرانی رہیں۔ قرعہ اندازی کی گئی تو ہر مرتبہ حضرت مریم کے خالو حضرت زکریا (علیہ السلام) کا نام نکلا اور بالاخر وہ ان ہی زیر نگرانی پرورش پاتی رہیں۔ یہاں اس کو بھی واضح کردیا گیا ہے کہ حضرت مریم جن کی تربیت حضرت زکریانے کی وہ اپنے وقت کے عظیم پیغمبروں میں سے ہیں جو اس اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ حضرت مریم کی نیکی اور سچائی کو پیغمبری کے دامن میں پرورش پانے کا موقع ملا جو خود ان کی ایک بہت بڑی عظمت کی دلیل ہے۔
Ayahs 3:45–54

اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ١ۖۗ اسْمُهُ الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 3:45 in the Quran reader

اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم اللہ تجھے ایک ایسے کلمہ کی (فیصلے کی ) خوشخبری دیتا ہے جس کا نام مسیح ابن مریم ہوگا۔ دنیا اور آخرت میں بڑے رتبہ والا اور اللہ کے مقرب بندوں میں شمار ہوگا۔

وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:46 in the Quran reader

وہ لوگوں سے اس وقت بھی بات کرے گا جبکہ وہ گہوارے میں ہوگا اور بڑے ہو کر بھی وہ صالحین میں سے ہوگا۔

قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:47 in the Quran reader

مریم نے کہا پروردگار میرے ہاں بچہ کیسے پیدا ہوگا جب کہ مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ تک نہیں لگایا ہے۔ ارشاد ہوا ایسا ہی ہوگا۔ اللہ جو چاہتا ہے پیدا کردیتا ہے۔ جب وہ کسی کام کے کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ کہتا ہے ، ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے۔

وَ یُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۚ Open ayah 3:48 in the Quran reader

وہ اللہ اس کو کتاب و حکمت یعنی توراۃ و انجیل کا علم سکھائے گا

وَ رَسُوْلًا اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ۙ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَ١ۙ فِیْ بُیُوْتِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 3:49 in the Quran reader

اور وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجا جائے گا۔ اور جب وہ عیسیٰ (علیہ السلام) رسول حیثیت سے آئے تو انہوں نے کہا میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نشانیاں لے کر آیا ہوں۔ میں تمہارے سامنے گارے سے پرندے کی شکل بناتا ہوں۔ اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے۔ میں اللہ کے حکم سے پیدائشی اندھے اور کوڑھی کو اچھا کردیتا ہوں اور اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کردیتا ہوں۔ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ تم کیا کھا کر آئے ہو اور کیا اپنے گھروں میں جمع کر کے رکھتے ہو۔ اگر تم ایمان لانے والے ہو

وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ وَ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 3:50 in the Quran reader

تو اس میں تمہارے لئے نشانیاں موجود ہیں۔ اور میں تو ریت کی تصدیق کرنے والا ہوں اور اس لئے آیا ہوں کہ تمہارے لئے (اللہ کے حکم سے) بعض ان چیزوں کو حلال کر دوں جو تم پر حرام کردی گئی تھیں۔ میں تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانیاں لے کر آیا ہوں لہٰذا اللہ سے ڈرو اور میری پیروی کرو

اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 3:51 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی لہٰذا تم اسی کی بندگی کرو۔ یہی سیدھا سچا راستہ ہے۔

فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ١ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ١ۚ وَ اشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:52 in the Quran reader

جب عیسیٰ (علیہ السلام) نے محسوس کیا کہ بنی اسرائیل کفر و انکار کی طرف مائل ہیں تو انہوں نے کہا۔ اللہ کے لئے میرا مدد گار کون ہے ۔ حواریوں نے کہا ہم اللہ کے مددگار ہیں اللہ پر ایمان لائے اور گواہ رہیے کہ ہم اللہ کے آگے سر تسلیم خم کرنے والے ہیں۔

رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 3:53 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار آپ نے جو کچھ نازل کیا اسے ہم نے مان لیا اور رسول کی اطاعت قبو ل کرلی ہے۔ ہمارا نام ماننے والوں لکھ لیجئے۔

وَ مَكَرُوْا وَ مَكَرَ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ۠ Open ayah 3:54 in the Quran reader

پھر بنی اسرائیل حضرت مسیح کے خلاف خفیہ تدبیریں کرنے لگے تو اللہ نے بھی تدبیریں کیں اور اللہ سے بڑھ کر تدبیر کرنے والا ہے کون۔

لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 54 وجیه (باعزت، بلندمرتبہ) المقربین (قریب والے) یکلم (کلام کرے گا، بات کرے گا) المھد (گہوارہ) کھل (بڑی عمر) لم یمسسنی ( مجھے نہیں چھوا مجھے ہاتھ نہیں لگایا) بشر (انسان ، آدمی) قضی (فیصلہ کیا) الطین (مٹی) ھیة (شکل) انفخ (میں پھونکتا ہوں) طیر (پرندہ) ابری (میں اچھا کردیتا ہوں) الابرص (کوڑھی) الاکمه (پیدائشی اندھا) احیٖ (میں زندہ کرتا ہوں) انبئکم (میں تمہیں بتاتا ہوں) تدخرون (تم جمع کرتے ہو، ذخیری کرتے ہو ! ) بیوت (گھروں، (بیت، گھر) حرم (حرام کردیا گیا) احس (محسوس کیا) من انصاری (میرا مددگار کون ہے ؟ ) الحواریون (ہم مجلس (حضرت عیسیٰ کے صحابہ ) انصار اللہ (اللہ کے مدرگار) اشھد (تو گواہ رہنا) اتبعنا (ہم نے پیروی کی، پیچھے چلے) اکتبنا (گواہی دینے والے) مکروا (انہوں نے خفیہ تدبیر کی) مکراللہ (اللہ نے تدبیر کی) خیر الماکرین (بہترین تدبیر کرنے والا) ۔ تشریح : آیت نمبر 45 تا 54 جب حضرت مریم کو صنفی مواصلت کے بغیر ایک بچہ پیدا ہونے کی اطلاع دی گئی تو انہوں نے انتہائی تعجب سے کہا جب کہ مجھے کسی انسان نے ہاتھ تک نہیں لگایا پھر میرے ہاں ایک بچہ پیدا ہونے کی اطلاع خوشخبری کے انداز میں کیسے ہوسکتی ہے ؟ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ اے مریم اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ ہماری قدرت و طاقت سے یہ بات باہر نہیں ہے۔ جس طرح اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو بغیر ماں باپ کے پیدا کیا ہے اسی طرح وہ بغیر باپ کے حضرت عیسیٰ کو پیدا کرسکتا ہے۔ اس بات سے اللہ نے عیسائیوں کی اس غلط فہمی کو دور کیا ہے جو انہوں نے بغیر باپ کے پیدا ہونے پر حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا بنادیا تھا اور یہودیوں کے اس الزام کی تردید ہے کہ حضرت مریم (نعوذ باللہ) کسی گناہ کی مرتکب ہوئی ہیں۔ چونکہ قرآن کریم کا مقصد کوئی قصہ کہانی سنانا نہیں ہے بلکہ ان حقائق سے نقاب اٹھانا ہے جن پر عیسائیوں اور یہودیوں کی صدیوں کی جہالت نے گردوغبار کے پردے ڈال کر اللہ کے بندے کو اللہ کا حصہ بنا کر پیش کیا تھا۔ اس لئے حضرت مریم کی پوزیشن کو صاف کرتے ہوئے حضرت عیسیٰ کے خطبہ کی طرف اشارہ فرمادیا کہ جب حضرت عیسیٰ ابن مریم نے بنی اسرائیل کو اللہ کا پیغام پہنچاتے ہوئے فرمایا تھا کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور اپنے معجزات کے ذریعہ تمہیں اپنے رسول ہونے کا یقین دلانا چاہتا ہوں۔ مگر حضرت عیسیٰ کے اس خطبہ کا بنی اسرائیل پر کوئی اثر نہیں ہوا اور انہوں نے بڑی شدت سے مخالفت کرنا شروع کردی۔ جب حضرت عیسیٰ نے اس بات کا اندازہ کرلیا کہ بنی اسرائیل ان کی مخالفت پر کمر بستہ ہوچکے ہیں تو انہوں نے کہا تم میں سے اس سچائی کو قائم کرنے میں کون اللہ کے دین کے لئے میرا مددگار ہے۔ اس پر کچھ لوگوں (حواریوں) نے کہا کہ اللہ کے دین اور اس کو قائم کرنے میں ہم آپ کے مددرگار ہیں۔ یہی وہ حضرات تھے جنہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دامن سے وابستگی احیتار کی اور راہ نجات حاصل کرلی۔ ان مقدس ہستیوں کو حواریین فرمایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی دین کی راہوں میں چلنے اور اقامت دین کی ہر کوشش میں اسلام کا مدد گار بنا دے ۔ آمین۔
Ayahs 3:55–60

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسٰۤى اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَیَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَیْنَكُمْ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 3:55 in the Quran reader

یاد کرو جب اللہ نے فرمایا اے عیسیٰ (علیہ السلام) میں تجھے واپس لے لوں گا اور تجھے اپنی طرف اٹھا لوں اور تجھے ماننے سے جنہوں نے انکار کیا ہے ۔ ان سے میں تجھے پاک کر دوں گا اور تیری پیروی کرنے والوں کو قیامت تک ان لوگوں پر غالب رکھو گا جنہوں نے تیرا انکار کیا ہے۔ پھر تم سب کی واپسی میری ہی طرف ہوگی۔ اس وقت میں ان باتوں کا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے فیصلہ کر دوں گا۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:56 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا ہے انہیں دنیا اور آخرت میں سخت سزا دوں گا اور ان کا کوئی مدد گار نہ ہوگا۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:57 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے انہیں ان کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ۔ اور اللہ ظالموں کو محبوب نہیں رکھتا۔

ذٰلِكَ نَتْلُوْهُ عَلَیْكَ مِنَ الْاٰیٰتِ وَ الذِّكْرِ الْحَكِیْمِ Open ayah 3:58 in the Quran reader

یہ آیات اور پر حکمت مضمون ہم ہی آپ کو سنا رہے ہیں۔

اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ١ؕ خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:59 in the Quran reader

اللہ کے نزدیک عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال آدم جیسی ہے۔ اللہ نے اسے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ پھر اس نے حکم دیا “ ہوجا، تو وہ ہو گیا ”۔

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 3:60 in the Quran reader

یہ اصل حقیقت ہے جو آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ کو بتائی جا رہی ہے۔ آپ ان لوگوں میں شامل نہ ہوں جو شک کرنے والے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 55 تا 60 انی متوفیک (میں تجھے پوراپورا لے لوں گا لفظ متوفی کا مصدر توفی ہے اور مادہ فئ اس کے اصل معنی عربی لغت کے اعتبار سے پورا پورا لینے کے ہیں) رافعک (تجھے اٹھالوں گا) الی (اپنی طرف) مطھرک (تجھے پاک کردوں گا) اتبعوک (جنہوں نے تیری اتباع کی) فوق (اوپر) مرجعکم (تمہیں لوٹنا ہے) احکم میں فیصلہ کروں گا) مختلفون (اختلاف کرنے والے) اعذب (میں عذاب دوں گا) یوفی (پورا بدلہ دیا جائے گا) اجور (بدلے، (اجر کی جمع ہے) نتلو (ہم پڑھتے ہیں) الذکر الحکیم (حکمت والا ذکر) تراب (مٹی) ۔ تشریح : آیت نمبر 55 تا 60 سورة آل عمران کی آیت 55 تا 60 کا خلاصہ یہ ہے کہ ان تمام یہودیوں نے قوم بنی اسرائیل میں سے حضرت عیسیٰ کی نبوت کا انکار کرکے آپ کو نقصان پہنچانے اور مار ڈالنے کے لئے طرح طرح کی سازشیں کررہے تھے۔ ان پر طرح طرح کے الزمات لگا رہے تھے انہوں نے بادشاہ وقت کو اس بات پر تیار کرلیا کہ عیسیٰ ابن مریم کو گرفتار کرلیا جائے ۔ چناچہ بادشاہ نے حضرت عیسیٰ کو گرفتار کرنے کے لئے اپنے کارندے بھیجے تاکہ ان کو گرفتار کرکے پھانسی پر چڑھادیا جائے۔ یہ صورت حال انتہائی کربناک تھی اس وقت اللہ تعالیی نے آپ کی تسکین اور تسلی کے لئے فرمایا کہ آج جب کہ بادشاہ کے لوگ تمہیں گرفتار کرنے کے لئے پہنچنے والے ہیں تمہیں اس کا یقین ہوجانا چاہئے کہ جس کو اللہ تعالیٰ محفوظ رکھنا چاہے اس کو ساری دنیا مل کر بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ اللہ ورسول کے دشمن تمہیں پھانسی پر لٹکا دیں میں تمہیں آسمانوں کی طرف اٹھالیتا ہوں اور ان دشمنوں کے بجائے تمہیں وقت مقررہ پر یعنی قیامت کے قریب دوبارہ زمین پر بھیج کر طبعی موت دوں گا۔ چناچہ اللہ نے اپنے وعدے کو پورا کیا اور حضرت عیسیٰ کو آسمانوں پر اٹھا لیا گیا۔ نبی کریم ﷺ سے صحیح حدیثوں میں ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ آج بھی آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ قیامت کے قریب دمشق میں آسمان سے آنضرت ﷺ کے خلیفہ بن کر نزول فرمائیں گے۔ آنضرت ﷺ کی لائی ہوئی شریعت اور آپ کی نبوت پر ایمان لائیں گے۔ آپ کی پیروی اور اتباع کرتے ہوئے دجال اور خنزیر کو قتل فرمائیں گے۔ صلیب کو توڑ دیں گے۔ جزیہ کو منسوخ فرمائیں گے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ آپ نزول کے بعد تقریباً سات سال تک قیام فرمائیں گے۔ بعض روایتوں میں چالیس سال کے قیام کا بھی ذکر آیا ہے۔ پھر آپ کی طبعی وفات ہوگی اور آپ کا جنازہ پڑھایا جائے گا۔ پھر آنحضرت ﷺ کے پہلو میں روضہ مبارک میں دفن کیا جائے گا۔ قرآن کریم کی واضح آیات اور احادیث متواترہ سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے کہ حضرت عیسیٰ آج بھی آسمانوں پر زندہ موجود ہیں اور قرب قیامت دوبارہ تشریف لائیں گے۔ یہی عقیدہ ہم سب اہل سنت والجماعت کا ہے۔ یقیناً وہ لوگ جو اس بات کو ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کی وفات ہوچکی ہے وہ ایک ایسے غلط عقیدے پر چل رہے ہیں جس پر یہودی اور عیسائی چل کر گمراہ ہوچکے ہیں۔ بہرحال آج بھی حضرت عیسیٰ کو ماننے والے وہی کہلائیں گے جو تمام نبیوں کو بھی مانتے ہیں اور نبی مکرم ﷺ کی ختم نبوت میں کسی طرح کا کوئی شبہ نہیں کرتے۔
Ayahs 3:61–63

فَمَنْ حَآجَّكَ فِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَ اَبْنَآءَكُمْ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَكُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ١۫ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 3:61 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ اس علم کے آجانے کے بعد بھی جو کوئی جھگڑا کرتا ہے ۔ آپ اس سے کہہ دیجئے کہ آؤ تم اور ہم خود بھی آجائیں اور اپنی بیوی کو بھی لے آئیں۔ اور پھر ہم قسم کھائیں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجیں ۔

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ١ۚ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:62 in the Quran reader

یہ بالکل صحیح واقعات ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ اور بلا شبہ اللہ ہی غالب حکمت والا ہے۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 3:63 in the Quran reader

اگر وہ پھرجائیں تو بیشک اللہ فساد کرنے والوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 63 حاجک (آپ سے جھگڑتا ہے) تعالوا (آجاؤ) ندع (ہم بلاتے ہیں) ابناءنا (اپنے بیٹوں کو) نساءنا (اپنی عورتوں کو) انفسنا (ہماری اپنی ذاتیں) نبتھل (ہم قسم کھاتے ہیں) نجعل (ہم ڈالیں گے) الکٰذبین (جھوٹ بولنے والے) قصص (قصے، واقعات) الحق (بالکل درست، ٹھیک) المفسدین (فساد کرنے والے) تشریح : آیت نمبر 61 تا 63 سورة آل عمران کی آیات 61 تا 63 میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ یہ جتنے حقائق بیان کئے گئے ہیں اگرچہ نخران کے عیسائیوں کا وفد ماننے کے لئے تیار نہیں ہے تو آپ ان کو ” مباھلہ “ کی دعوت دیجئے یعنی اے نبی آپ اور یہ عیسائی خود اپنی جانوں کو اور اپنے بال بچوں کو لے ایک میدان میں آجائیں اور خوب گڑگڑا کر اللہ سے دعا کریں اور قسم کھائیں کہ ہم میں سے جو بھی جھوٹا ہو اس پر اللہ کی لعنت اور عذاب نازل ہوجائے۔ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ نے نخران کے عیسائیوں کو ” مباھلہ “ کی دعوت دے دی۔ یہ بات ان عیسائیوں کے نزدیک قطعاً غیر متوقع تھی۔ وہ یہ سن کر حیران رہ گئے چونکہ دل میں چور تھا اس لئے کہنے لگے اے محمد ﷺ آپ ہمیں مشورہ کرنے کی مہلت دیجئے۔ ہم آپس میں مشورہ کرکے کل صبح جواب دے دیں گے۔ جب وہ مشورہ کے لئے جمع ہوئے تو کسی نے بھی “ مباھلہ “ کے چیلنج کو قبول کرنے کے حق میں رائے نہیں دی۔ اور طے پایا کہ حضور اکرم ﷺ سے صلح کرلی جائے اور جزیہ دینا قبول کرلیا جائے۔ چناچہ بقول علامہ ابن کثیر اسی پر سب کا اتفاق ہوگیا اور نبی کریم ﷺ نے ان پر جزیہ مقرر کرکے صلح کرلی۔ اس آیت سے آنحضرت ﷺ کی حقانیت اور اسلام کی سچائی ثابت ہوگئی ورنہ اگر نخران کے نصاریٰ ذرا بھی اپنے اندر سچائی کی رمق پاتے تو اس چیلنج کو قبول کرلیتے۔
Ayah 3:64

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَ لَا نُشْرِكَ بِهٖ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:64 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب ایک ایسی بات کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے۔ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں گے اور نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائیں گے۔ نہ ہم اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا پروردگار ٹھہرائیں گے۔ (اے نبی ﷺ پھر اگر وہ اس سے منہ پھیر لیں تو کہہ دیجئے کہ تم گواہ رہنا ہم اللہ کی بندگی و اطاعت کرنے والے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 64 کلمة (بات) سواء (یکساں، برابر) بیننا (ہمارے درمیان) الانعبد (یہ کہ ہم بندگی نہیں کریں گے) لانشرک (ہم شریک نہ کریں گے) شیء (کچھ بھی) لایتخذ (نہیں بنائے گا) اربابا (معبود (رب کی جمع ہے) اشھدوا (تم گواہ رہو) مسلمون (فرماں بردار) ۔ تشریح : آیت نمبر 64 یہود اور نصاریٰ دونوں توحید خالص پر چلنے کے مدعی تھے۔ وہ یہی کہتے تھے کہ ہم تو اللہ کو ایک ہی مانتے ہیں لیکن زبانی دعوے کے باوجود وہ طرح طرح کے شرک میں مبتلا تھے۔ یہود ونصاریٰ جن کو تمام دلیلوں سے دین کی سچائی بتادی گئی تھی اور ان کے باطل عقائد کو کھول کر بیان کردیا گیا تھا اب نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک سے کہلوایا جارہا ہے۔ کہ اے نبی آپ یہود ونصاریٰ سے فرمائے کہ آؤ ہم ایک ایسی حقیقت پر آجائیں جس کا تم بھی بظاہر انکار نہیں کرتے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ قرآن کریم، توریت، زبور اور انجیل میں یہ بالکل واضح ہے کہ اللہ کسی کی عبادت و بندگی جائز نہیں ہے۔ لہٰذا ہم اس بات کو اپنے باہمی اتحاد کی بنیاد بنالیتے ہیں دوسری بات یہ کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی اور کو اس کی ذات وصفات میں شریک نہ ٹھہرائیں گے۔ اس کی تعلیم بھی تمام آسمانی لتابوں میں ایک جیسی ہے۔ لہٰذا اللہ کی ذات میں حضرت عیسیٰ کو شامل کرکے ان کو الوہیت کا ایک حصہ قرار دینا کسی طرح جائز اور مناسب نہیں ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا اپنا رب نہ بنائے یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم سے اس کو نہ مانا جائے یا اللہ کے سوا کسی کی بندگی و اطاعت کا حکم دیا جائے تو اسے تسلیم نہ کیا جائے۔ لہٰذا تمہارے پادریوں اور راہبوں نے جو حکم بھی اطاعت الہٰی کے خلاف دیئے ہیں ان کو ہرگز قبول نہ کیا جائے۔ کیونکہ اگر کوئی شخص ان پادریوں اور راہبوں کے کہنے پر بلاچون وچرا تسلیم کرتا ہے تو یہ ان کو رب بنانے ہی کے مترادف ہے، لہٰذا ان کو رب نہ بنایاجائے۔ حضرت عدی ابن حاتم نے نقل کیا ہے کہ یہ آیت ولایتخذ بعضنا بعضا ارباباً من دون اللہ نازل ہوئی تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اسلام سے پہلے ہم ان کی عبادت تو نہیں کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ کیوں نہیں۔ انہوں نے لوگوں کے لئے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کیا اور لوگوں نے ان کی پیروی کی یہی تو ان کو رب اور معبود بنانے کے برابر ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غیر اللہ اور مخلوق کو رب بنانے کا مطلب یہ ہے کہ مخلوق کے کہنے سے اللہ کی حرام کی ہوئی چیز کو حلال اور حلال کی ہوئی چیز کو حرام مان لینا اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایسی تقلید اخیتار کرنا حرام اور کفر وشرک ہے۔ البتہ ایسی تقلید جائز ہے جس میں کسی عالم ، مجہتد، فقیہ نے کوئی ایسی شرح اور تفسیر کی ہو جس سے اصول دین کے مطابق حرام اور حلال واضح ہوجائیں، جیسے فقہاء کرام نے برسوں کی محنت اور تجربات کی روشنی میں قرآن وحدیث اور صحابہ کرام کے عمل کے مطابق کچھ اصولوں کو متعین کیا ہے۔ جس کو فقہ اسلامی کہتے ہیں اگر دین کے اہم مسائل خصوصاً حرام و حلال کے مسائل کو عام مسلمانوں کی رائے پر چھوڑدیا جائے گا تو اس سے نہ صرف ہزاروں فتنے پیدا ہوں گے بلکہ حرام اور حلال میں امتیاز کرنا مشکل ہوجائے گا۔ اب جو فتنہ ہمارے سامنے ہے وہ ہمارے بزرگوں نے صدیوں کی کاوشوں اور جدوجہد کے بعد تیار کیا ہے۔ درحقیقت ان کے مرتب کئے ہوئے فقہ کی اتباع اور پیروی وہ قرآن وسنت ہی کے ابدی اصولوں کی پیروی ہے۔ لہٰذا ایسی تقلید میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر آج بھی کوئی ایمان فروش حلال کو حرام اور حرام کو حلال اپنی مرضی سے قرار دیتا ہے۔ ایسے شخص کی بات سننا بھی گناہ عظیم ہے اور یہودیوں اور نصاریٰ کی وہ روش ہے جس پر چل کر وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور انہوں نے دوسروں کو بھی راہ راست سے بھٹکادیا۔ ضلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک سے یہ کہلوادیا ہے کہ اگر یہ واقعتاً اپنی نجات چاہتے ہیں تو ساری رسموں کو چھوڑ کر صرف ان اصولوں کی طرف آجائیں جو آسمانی کتابوں سے ثابت ہیں لیکن اگر ان کے نزدیک اپنی گھڑی ہوئی رسمیں اور باتیں ہی اصل ہیں تو پھر آپ صاف صاف کہہ دیجئے کہ ہم تو اللہ ہی کے فرماں بردار ہیں اور ان ہی کے حکم کو مانتے ہیں۔
Ayahs 3:65–71

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مَاۤ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰىةُ وَ الْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 3:65 in the Quran reader

اے اہل کتاب ! تم ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں ہم سے کیوں جھگڑتے ہو۔ حالانکہ توریت اور انجیل تو ان کے بعد ہی نازل کی گئی ہیں۔ تم عقل سے کام کیوں نہیں لیتے۔

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:66 in the Quran reader

تم ان باتوں میں خوب جھگڑ چکے ہو جس کا کچھ نہ کچھ علم تمہارے پاس تھا۔ مگر ایسی باتوں میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں علم تک نہیں ہے۔ جسے صرف اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے ۔

مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 3:67 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم نہ یہودی تھے اور نہ عیسائی۔ بلکہ وہ تو راہ راست پر قائم “ مسلم ” تھے وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے۔

اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ وَ هٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:68 in the Quran reader

بلاشبہ ابراہیم (علیہ السلام) سے سب سے قریب تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کے طریقوں کو اپنا لیا ہے۔ اور یہ نبی ﷺ ہیں اور وہ لوگ ہیں جو ان پر ایمان لے آئے ہیں۔ اللہ اہل ایمان کا مددگار ہے۔

وَدَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یُضِلُّوْنَكُمْ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 3:69 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اہل کتاب میں سے ایک جماعت یہ چاہتی ہے کہ وہ کسی طرح تمہیں راہ حق سے بھٹکا دے۔ اور وہ اپنے ہی آپ کو گمراہ کرتے ہیں اور انہیں شعور نہیں

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 3:70 in the Quran reader

اے کتابیو ! اللہ کی آیتوں سے کیوں کفر کرتے ہو حالانکہ تم تو اس کے خود گواہ ہو۔

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 3:71 in the Quran reader

اے اہل کتاب تم حق کے ساتھ باطل کو کیوں ملاتے ہو۔ جس حق کو تم اچھی طرح جانتے ہو اسے (جان بوجھ کر ) کیوں چھپاتے ہو۔

لغات القرآن آیت نمبر 65 تا 71 لم تحاجون (تم کیوں جھگڑتے ہو ؟ ) ھآ انتم (تم نے سنا) ھٰؤلآء (یہ سب) حاججتم (تم جھگڑچکے) حنیف (صرف اللہ کی عبادت کرنے والا) اولی الناس (لوگوں میں زیادہ قریب) لویضلون (کاش وہ بھٹکاویں) لم تلبسون (تم کیوں ملاتے ہو ؟ ) ۔ تشریح : آیت نمبر 65 تا 71 یہود اور نصاریٰ جس طرح توحید کے دعویدار ہونے کے باوجود طرح طرح کے شرک میں مبتلا تھے اسی طرح ایک بات پر دونوں جماعتیں جھگڑتی رہتی تھیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہودی تھے یا عیسائی۔ دونوں کا یہ دعوی تھا کہ وہ ہمارے فرقے سے تعلق رکھتے تھے اور ہم دین ابراہمی اور ملت ابراہیمی کے پیروکار ہیں۔ ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے ان دونوں کی حماقت کو ظاہر کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا یہ لوگ عقل وفکر سے بالکل ہی کورے ہوچکے یا جان بوجھ کر آنکھوں میں دھول جھونکنا چاہتے ہیں۔ کیا یہ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ موسیٰ (علیہ السلام) جن پر توریت نازل ہوئی وہ ابراہیم (علیہ السلام) سے تقریباً نوسو سال کے بعد تشریف لائے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دوہزار سال بعد۔ فرمایا جارہا ہے کہ تمہیں ابراہیم (علیہ السلام) کے دین وملت سے کیا واسطہ ، تم سب غلط عقیدوں کی وجہ سے مشرک ہو جب کہ ابراہیم توحید پرست اور مسلم یعنی اللہ کے فرماں برادر تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) سے محبت کرنے والے اور ان کے طریقوں کو اپنانے والے تو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور ان کے جان نثار صحابہ کرام ہیں۔ آج بھی ہر ایک کی نجات کا ذریعہ صرف حضرت محمد ﷺ کا طریقہ آپ کی شان ختم نبوت اور لایا ہوا دین ہے۔ اور ان صحابہ کا طریقہ ہے جس پر چل کر وہ کامیاب ہوئے۔ اس راستے کے علاوہ ہر طریقہ گمراہی میں اضافہ کا سبب تو ہے کامیابی کا نہیں۔