3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 3:110–112

كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اٰمَنَ اَهْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَكْثَرُهُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 3:110 in the Quran reader

تم بہترین امت ہو جسے تمام انسانوں کی ہدایت کے لئے میدان عمل میں لایا گیا ہے ، تم نیکی کا حکم دیتے ہو، برائیوں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ اگر یہ اہل کتاب بھی ایمان لے آتے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا۔ اگرچہ ان میں کچھ لوگ تو وہ ہیں جو ایمان والے ہیں لیکن ان میں اکثر فاسق و فاجر ہیں۔

لَنْ یَّضُرُّوْكُمْ اِلَّاۤ اَذًى١ؕ وَ اِنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ یُوَلُّوْكُمُ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 3:111 in the Quran reader

یہ لوگ تمہارا کچھ بگاڑ تو نہیں سکتے البتہ وہ تمہیں ستا سکتے ہیں۔ اگر یہ تم سے قتال کریں گے تو پیٹھ دکھا کر بھاگ جائیں گے ۔ پھر وہ کسی طرف سے مدد نہیں کئے جائیں گے۔

ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْۤا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الْمَسْكَنَةُ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَۗ Open ayah 3:112 in the Quran reader

یہ جہاں بھی پائے جائیں گے۔ ان پر ذلت ورسوائی چھائی رہے گی۔ کہیں اللہ کے ذمے یا انسانوں کے سہارے پناہ مل گئی تو یہ اور بات ہے۔ یہ اللہ کے عذاب میں گھر چکے ہیں۔ ان پر محتاجی مسلط کردی گئی ہے۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے اور پیغمبروں کو ناحق قتل کیا کرتے تھے۔ اور نافرمانیاں کرتے اور حد سے بڑھ جاتے تھے۔

لغات القرآن آیت نمبر 110 تا 112 خیرامة (بہترین جماعت) اخرجت (نکالی گئی ہے) لن یضروا (وہ ہرگز نقصان نہ پہنچائیں گے، وہ ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکیں گے) اذی (تکلیف، اذیت (زبانی تکلیفیں پہنچائیں گے) یولوا (وہ پلٹ جائیں) الادبار (دبر کی جمع) پیٹھ) لاینصرون (مدد نہ کیے جائیں گے) ضربت (ماردی گئی، مسلط کردیگئ) الذلة (ذلت ، رسوائی) ثقفوا (وہ پائے گئے) المسکنة (محتاجی) کانویعتدون (وہ حد سے بڑھتے تھے) ۔ تشریح : آیت نمبر 110 تا 112 گذشتہ آیات میں مومنوں کو دین اسلام پر ثابت قدم رہنے ، تقوی اور پرہیز گاری کی زندی اختیار کرنے، اچھائیاں پھیلانے اور برائیوں کو روکنے کا حکم دیا گیا تھ۔ ان آیات میں اللہ تعالیی نے نبی کریم ﷺ کی امت کی بڑائی اور عظمت کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے کہ اے مومنو ! تم یقیناً ایک بہترین امت ہو، تمام کائنات کے انسانوں کی فلاح و بہبود کے لئے تمہیں میدان عمل میں لایا گیا ہے۔ تمہاری زندگی کا ایک ایک لمحہ اس بات کا گواہ ہونا چاہئے کہ تم نیکیوں کا حکم دیتے ہو، برائیوں سے روکتے ہو اور اللہ کی ذات وصفات پر کامل یقین رکھتے ہو۔ یہ تمہاری ایک ایسی خصوصیت ہے جو تمہیں اور امتوں سے ممتاز کردیتی ہے اور یہ سب عظمتیں تمہیں نبی مکرم ﷺ کی وجہ سے حاصل ہوئی ہیں۔ جس طرح نبی کریم ﷺ تمام انبیاء کرام اور تمام مخلوق کے سردار ہیں اسی طرح آپ کی امت بھی تمام قوموں اور امتوں سے افضل و برتر ہے لیکن اس امت کی خصوصیات اور عظمت اس وجہ سے بھی ہے کہ وہ اپنے معاشرہ میں اچھائیوں کو قائم کرنے اور برائیوں کو روکنے اور ایمان باللہ کی عظمتوں کو قائم کرنے کے لئے اپنی تمام صلاحیتوں کو لگاتے ہیں۔ اگر وہ اس عظمت کے معیار کو کھودیں گے تو یقیناً وہ اپنی ایک بہت اہم خصوصیت سے محروم رہ جائیں گے۔ جس سے ان کا معاشرہ بکھر جائے گا۔ فرمایا گیا کہ اگر یہ اہل کتاب بھی اسی طرح ایمان لے آتے تو ان کے حق میں بہت بہتر ہوتا مسلمانوں کو تسلی بھی دی گئی ہے کہ وہ اپنے فرائض کو پوری طرح ادا کریں یہودی ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے کیونکہ ان کے کردار میں وہ عظمتیں نہیں ہیں کہ وہ سچائی کا مقابلہ کرسکیں ان کے لئے ذلت و خواری ایک طے شدہ بات ہے۔ اور یہ سب کچھ ان کا اپنے ہاتھوں کا کیا ہوا ہے۔
Ayahs 3:113–117

لَیْسُوْا سَوَآءً١ؕ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَآئِمَةٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰهِ اٰنَآءَ الَّیْلِ وَ هُمْ یَسْجُدُوْنَ Open ayah 3:113 in the Quran reader

اہل کتاب میں سے سب ہی ایک جیسے نہیں ہیں۔ کچھ لوگ تو وہ ہیں جو سیدھی راہ اختیار کئے ہوئے ہیں، راتوں کو اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں۔ اس کے سامنے سجدے کرتے ہیں۔

یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:114 in the Quran reader

اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔ بھلائیوں کا حکم دیتے اور برائیوں سے روکتے ہیں۔ اور بھلی باتوں کی طرف دوڑتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو نیکوکاروں میں سے ہیں۔

وَ مَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ یُّكْفَرُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:115 in the Quran reader

وہ جو بھی نیک کام کریں گے اس سے ہرگز محروم نہ کئے جائیں گے۔ اللہ پرہیز گاروں کو خوب جانتا ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 3:116 in the Quran reader

وہ لوگ جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا ہے تو ان کے مال اور اولاد اللہ کے مقابلے میں ان کے کچھ بھی کام نہ آسکیں گے۔ یہی لوگ جہنمی ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

مَثَلُ مَا یُنْفِقُوْنَ فِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْهَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَاَهْلَكَتْهُ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 3:117 in the Quran reader

یہ لوگ جو کچھ اس دنیا کی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال تو اس ہوا جیسی ہے جس میں سخت سردی ہو اور وہ ایسے لوگوں کی کھیتی کو پہنچ جائے جنہوں نے ظلم کا راستہ اختیار کر رکھا ہے ۔ اور وہ ہوا اس کو برباد کر کے رکھ دے۔ اللہ نے ان پر ظلم اور زیادتی نہیں کی بلکہ وہ خود اپنے آپ پر ظلم و زیادتی کرنے والے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 113 تا 117 لیسوا (نہیں ہیں (لیس واحد) امة قائمة (سیدھی راہ پر قائم) اناء اللیل (رات کے اوقات) یسارعون (وہ دوڑتے ہیں) الخیرات (نیک اور بھلے کام) لن یکفروہ (ہرگزوہ محروم نہ کیئے جائیں گے) صر (پالا، سخت ٹھنڈی یا تیز آواز) تشریح : آیت نمبر 113 تا 117 اہل کتاب میں بیشک وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے احکامات کی نافرمانیوں میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی یہی وجہ ہے کہ ان پر ہمیشہ اللہ کا غضب ہی نازل ہوتا رہا لیکن ان میں کچھ لوگ جیسے عبداللہ ابن سلام، ان کے بھائی ، عیسائیوں میں حبشہ کا بادشاہ بجاشی ، اس کے ارکان دولت ، نجران کے بعض عیسائی اور حبش وروم کے بعض عیسائی اب بھی ہیں جنہوں نے آنحضرت ﷺ کی نبوت ورسولت کی تصدیق کی۔ آپ کے لائے احکامات کو دل کی گہرائیوں سے قبول کیا۔ یقیناً اللہ کے ہاں ان کا ایک بڑا عظیم اجر وثواب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بیشک میں اہل کتاب میں اکثریت برے لوگوں کی ہے مگر ان ہی میں وہ سعادت مند لوگ بھی ہیں جو حق وصداقت کو قبول کرکے راہ مستقیم پر قائم ہوگئے۔ وہ دین اسلام کے ذوق وشوق میں اور اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے میٹھی نیند اور آرام دہ بستر چھوڑ کر اللہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں ۔ عاجزی سے سجدے کرتے اور جبین نیاز کو اپنے مالک حقیقی کے سامنے جھکاتے ہیں۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اللہ ، یوم آخرت اور اللہ کی ذات پر بھرپور یقین رکھتے ہی۔ وہ دوسروں کو بھلائی سکھانے اور برائیوں کو روکنے میں اپنی طاقتیں خرچ کرتے ہیں۔ ان کو جب کسی نیک کام کی طرف بلایا جاتا ہے تو دوڑ کر دوسروں سے آگے نکل جانا چاہتے ہیں یہ کامیاب وبامراد ہیں۔ اس کے برخلاف کفر کا راستہ اختیار کرنے والے اپنے لئے جہنم کی آگ جمع کررہے ہیں۔ فرمایا گیا کہ ایسے لوگ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں اللہ ان پر ظلم اور زیادتی نہیں کرتا۔
Ayahs 3:118–120

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا یَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا١ؕ وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ١ۚ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ۖۚ وَ مَا تُخْفِیْ صُدُوْرُهُمْ اَكْبَرُ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 3:118 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اپنوں کے سوا دوسروں کو اپنا گہرا جگری دوست نہ بناؤ۔ وہ تمہاری بد خواہی کے کسی موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے۔ جس چیز سے تمہیں اذیت اور نقصان پہنچے وہ بات ان کے نزدیک انتہائی پسندیدہ ہے۔ ان کا بغض وعناد ان کے منہ سے ظاہر ہے۔ اور جو کچھ وہ اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں وہ تو اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ ہم نے تمہارے لئے صاف صاف نشانیاں کھول کر بیان کردی ہیں اگر تم عقل و فکر سے کام لینے والے ہو۔

هٰۤاَنْتُمْ اُولَآءِ تُحِبُّوْنَهُمْ وَ لَا یُحِبُّوْنَكُمْ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِالْكِتٰبِ كُلِّهٖ١ۚ وَ اِذَا لَقُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۗۚ وَ اِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:119 in the Quran reader

سنو ! تم تو ان سے محبت رکھتے ہو مگر وہ تم سے محبت نہیں رکھتے، حالانکہ تم تمام آسمانی کتابوں پر ایمان رکھتے ہو۔ جب وہ تم سے ملتے ہیں کہتے ہیں ہم تو ایمان لے آئے ۔ اور جب وہ تنہائی میں ہوتے ہیں تو تمہارے خلاف غصہ سے اپنی انگلیاں چباتے ہیں۔ ان سے کہہ دیجئے کہ تم اپنے غیض وغضب کی آگ میں جل مرو۔ اللہ دلوں کی باتوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔

اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١٘ وَ اِنْ تُصِبْكُمْ سَیِّئَةٌ یَّفْرَحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا لَا یَضُرُّكُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۠ Open ayah 3:120 in the Quran reader

اگر تمہیں کوئی اچھی حالت پیش آتی ہے تو یہ ان کو سخت دکھ پہنچاتی ہے۔ اور اگر وہ تمہیں کسی بری حالت میں مبتلا دیکھتے ہیں تو اس سے خوش ہوتے ہیں اگر تم صبر وتقویٰ اختیار کئے رہے تو تمہیں ان کی چالیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکیں گی۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس پر غالب ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 118 تا 120 لاتتخذوا (تم نہ بناؤ) بطانة (رازدار) من دونکم (اپنوں کے علاوہ) لایالون (وہ کمی نہ کریں گے) خبال (برائی ، بربادی) ودوا (وہ پسند کرتے ہیں) عنتم (جو تمہیں بھاری ہے، جو کچھ تم پر سختی ہے) بدت (ظاہر ہوگیا، ظاہر ہو پڑتا ہے) البغضاء (منہ (فوہ، منہ) ماتخفی (جو کچھ چھپاتا ہے) اکبر (بہت زیادہ ہے) عضوا (انہوں نے کاٹا (وہ کاٹتے ہیں) الانامل (انگلیاں) الغیظ (غصہ) موتوا (تم مرجاؤ) ذات الصدور (دلوں والا (وہ دلوں کا حال جانتا ہے) ان تمسسکم (اگر تمہیں پہنچے) تسوء (برامعلوم ہوتا ہے برالگتا ہے) سیئة (وہ خوش ہوتے ہیں) لایضرکم (وہ تمہیں نقصان نہ پہنچائیں گے) کید (فریب) ۔ تشریح : آیت نمبر 118 تا 1120 اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان ہی کے ساتھ نہیں بلکہ ہر انسان کے ساتھ ہمدردی ، مروت ، عہد کی پابندی اور اچھے اخلاق کا معاملہ کرتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بتادیا گیا کہ مسلمانوں کی اپنی تنظیم اور ان کے محض شعائر کی حفاظت کے لئے ضروری ہے کہ دن اسلام کے منکروں اور باغیوں سے تعلقات ایک خاص حد تک رکھے جائیں کیونکہ اس سے فرد اور ملت دونوں کے لئے شدید تقصانات کا اندیشہ پیدا ہوجاتا ہے۔ اگر ایک مسلمان دوسرے کافر سے محض تعلقات کی بناء پر راز کی باتیں بتا دے گا تو کفار مسلمانوں کی بدخواہی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے۔ خواہ وہ یہودی ہوں یا نصاری یا منافق یہ سب کے سب مسلمانوں اور ان کے مفادات کے سخت دشمن ہیں۔ یہودیوں کے بارے میں یہ بات نقل کی گئی ہے کہ اسلام سے پہلے جن مسلمانوں کے یہودیوں سے ہمسائیگی وغیرہ کی بناء پر دوستانہ تعلقات تھے وہ اسلام لانے کے بعد بھی قائم تھے۔ ان یہودیوں کی دوستی پر اعتماد کرتے ہوئے مسلمان انہیں بعض راز دارانہ باتیں بھی بتا دیا کرتے تھے۔ منافقین کے بارے میں یہ دشواری تھی کہ وہ مسلمانوں میں ملے جلے رہتے تھے اور عام مسلمان ان کو مسلمان ہی سمجھتے تھے اس لئے ان سے احتیاط نہ برتتے ہوئے راز کی باتیں بتادیا کرتے تھے ان آیات میں ان ہی لوگوں سے ہوشیار رہنے کے لئے فرمایا گیا کہ اگر تم نے ان یہودیوں اور منافقین پر اعتماد کرکے ان کو راز دار بنالیا تو وہ تمہاری اور اسلام کی دشمنی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے۔ لہٰذا ان کو کسی طرح اپنا راز دار نہ بناؤ۔ وہ تمہارے بدخواہ ہیں وہ تمہیں کسی اچھی حالت میں دیکھنا گوارا نہیں کرسکتے اور اگر تم نے صبر وتقوی اختیار کیا تو ان کی چالیں بیکارہوکر رہ جائیں گی کیونکہ اللہ ان پر ہر طرح غالب ہے۔
Ayahs 3:121–129

وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 3:121 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! وہ وقت یاد کیجئے ، جب آپ صبح سویرے اپنے گھر سے نکل کر (میدان احد میں ) مسلمانوں کو مورچوں پر بٹھا رہے تھے۔ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔

اِذْ هَمَّتْ طَّآئِفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا١ۙ وَ اللّٰهُ وَلِیُّهُمَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:122 in the Quran reader

یاد کرو جب تم میں سے دو جماعتیں بزدلی دکھانے پر آمادہ تھیں، حالانکہ اللہ ان کی مدد پر موجود تھا۔ اور مومنوں کو ہر حال میں اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے

وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 3:123 in the Quran reader

جس نے بدر میں تمہاری مدد کی تھی حالانکہ اس وقت تم بہت کمزور تھے۔ اللہ سے ڈرتے رہو تا کہ تم شکر گزار بن جاؤ۔

اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّكْفِیَكُمْ اَنْ یُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُنْزَلِیْنَؕ Open ayah 3:124 in the Quran reader

وہ وقت یاد کیجئے جب آپ مومنوں سے کہہ رہے تھے کیا یہ تمہارے لئے کافی نہیں ہے کہ تمہارا پروردگار تین ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کرے ۔

بَلٰۤى١ۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا وَ یَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا یُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِیْنَ Open ayah 3:125 in the Quran reader

کیونکہ، بشرطیکہ تم نے صبرو تقویٰ کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا ۔ جس وقت وہ تم پر چڑھ دوڑیں گے تو اسی وقت تمہارا پروردگار (تین ہزار سے) پانچ ہزار فرشتوں کے ذریعہ جو نشان لگے ہوئے ہوں گے ان سے مدد کرے گا۔

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى لَكُمْ وَ لِتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 3:126 in the Quran reader

اور یہ اللہ نے اس لئے کیا تم خوش ہوجاؤ تا کہ تمہارے دل مطمئن ہوجائیں۔ ورنہ نصرت و مدد تو بس اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے جو زبردست حکمت والا ہے

لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْ یَكْبِتَهُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ Open ayah 3:127 in the Quran reader

(اور یہ نصرت ومدد اس لئے تھی) تا کہ اللہ تعالیٰ کفر کرنے والوں میں سے ایک جماعت کو یا تو ہلاک کر دے یا انہیں ذلیل و خوار کر دے تا کہ وہ ناکام ہو کر واپس لوٹ جائیں۔

لَیْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ اَوْ یُعَذِّبَهُمْ فَاِنَّهُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 3:128 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! آپ کا اس میں کوئی اختیار نہیں ہے۔ اللہ چاہے تو انہیں معاف کر دے یا سزا دے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 3:129 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب چیزوں کا مالک ہے جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے عذاب دے۔ وہ معاف کرنے والا مہربان ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 121 تا 129 غدوت (تو صبح کے وقت نکلا) اھلک (تیرے گھر والے) تبوئ (تو جگہ (مورچوں پر) بٹھارہا تھا) مقاعد للقتال (لڑائی کے ٹھکانے (مورچے) ھمت (ارادہ کیا) طائفتین (دونوں جماعتیں) تفشلا (وہ دونوں بزدلی دکھائیں) ولیھما (اللہ ان دونوں کا دوست ہے) فلیتوکل (پھر بھروسہ کرنا چاہیے) اذلة (کمزرر، خوار) الن یکفیکم (کیا تمہیں کافی نہیں ہوگا) ان یمدکم (یہ کہ تمہاری مدد کی جائے) ثلٰثة اٰلاف (تین ہزار) منزلین (اترنے والے) حمسة اٰلافٍ (پانچ ہزار) مسومین (نشان لگے ہوئے (پلے ہوئے) بشرٰی (خوش خبری) لتطمئن (تاکہ تمہیں اطمینان ہو) یقطع (تاکہ کٹ جائے) یکبت (ذلیل کردیتا ہے) ینقلبوا (وہ پلٹ جائیں) خائبین (ذلیل (ہوکر) من الامر (اختیار سے) ۔ تشریح : آیت نمبر 121 تا 129 گذشتہ آیات میں فرمایا گیا تھا کہ اگر تم صبر تقویٰ اختیار کرو گے تو کفار کی تمام فریب کاریاں اور چالاکیاں تمہیں نقصان نہ پہنچاسکیں گی۔ لیکن تم نے صبر وتقویٰ میں ذرا بھی کوتاہی کی یقیناً کفار کی چالیں تمہیں نقصان پہنچادیں گی۔ اس کے لئے بطور مثال فرمایا گیا کہ دیکھو کچھ زیادہ دور کی بات نہیں ہے غزوۂ احد اور غزوۂ بدر کے واقعات اس حقیقت پر گواہ ہیں۔ غزوۂ بدر جہاں کفار بڑی تعداد تھی اور مسلمان بےسروسامان تھے وہاں صبر کی وجہ سے مسلمانوں کو ایک ایسا غلبہ حاصل ہوا کہ کفر کے ایوانوں میں زلزلے آگئے لیکن غزوۂ احد میں ظاہری شکست کے اسباب یہ ہیں کہ وہاں چند لوگوں میں صبر وتقویٰ میں ذرا کمی آئی تو تمہیں دشمنان اسلام کے ہاتھوں کافی نقصان اٹھانا پڑا۔ اگر صبر سے کام لیا جاتا اور رسول اللہ ﷺ کے احکامات کی پوری طرح پابندی کی کا تی تو یقیناً غزوۂ احد میں اتنے زبردست نقصانات نہ اٹھانا پڑتے۔
Ayahs 3:130–138

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 3:130 in the Quran reader

اے ایمان والو ! سود کو دگنا چوگنا کر کے نہ کھاؤ ۔ اللہ سے ڈرتے رہو تا کہ فلاح و کامیابی حاصل کرسکو۔

وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْۤ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَۚ Open ayah 3:131 in the Quran reader

اس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۚ Open ayah 3:132 in the Quran reader

اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔

وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ١ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 3:133 in the Quran reader

اپنے پروردگار کی رحمت و مغفرت اور اس جنت کی طرف دوڑو جس کا پھیلاؤ زمین و آسمانوں پر وسیع ہے۔ جو پرہیز گاروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔

الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 3:134 in the Quran reader

وہ لوگ جو تنگی اور خوش حالی میں خرچ کرتے ہیں، غصہ کو ضبط کر کے پی جانے والے اور لوگوں سے درگذر کرنے والے ہیں ایسے ہی لوگوں کو اللہ پسند کرتا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ١۪ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ١۪۫ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:135 in the Quran reader

جن کا یہ حال ہے کہ جب کوئی فحش کام ان سے سرزد ہوجاتا ہے یا اپنے ہی حق میں کوئی زیادتی کر بیٹھتے ہیں تو اللہ کو یاد کرلیتے ہیں اور اپنے گناہوں سے معافی طلب کرنے لگتے ہیں۔ اور اللہ کے سوا کون ہے جو گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔ اور دیکھتے بھالتے وہ اپنے گناہوں پر اصرار نہیں کرتے۔

اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَؕ Open ayah 3:136 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن کا بدلہ ان کے پروردگار کی طرف سے بخشش ہے اور ایسی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ نیک کام کرنے والوں کا کیا اچھا بدلہ ہے۔

قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ١ۙ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 3:137 in the Quran reader

تم سے پہلے بہت سے دور گزر چکے ہیں زمین میں چل پھر کر دیکھو، جنہوں نے اللہ کے احکامات کو جھٹلایا ان کا انجام کیا ہوا۔

هٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:138 in the Quran reader

یہ ایک اعلان ہے جو تم لوگوں کے لئے ہے اور تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لئے ہدایت و نصیحت ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 130 تا 138 اضعافاً (دوگنا) مضاعفة (دوگنے سے بھی زیادہ) سارعوا (تم دوڑو) عرضھا (اس کا پھیلاؤ) السرآء (خوشی، راحت) الضراء (تکالیف، پریشانیاں) الکاظمین (برداشت کرنے والے، پی جانے والے) العافین (معاف کردینے والے) فاحشة (بےحیائی) ظلموا انفسھم (اپنے نفسوں پر ظلم و زیادتی کی) لم یصروا (ضد نہیں کرتے) علیٰ مافعلوا (اس پر جو انہوں نے کیا) نعم (بہترین) اجرالعٰلمین (کام کرنے والوں کا بدلہ) سنن (طریقے) سیروا (تم چلوپھرو) عاقبة (انجام) بیان (وضاحت) ۔ تشریح : آیت نمبر 130 تا 138 گذشتہ آیات میں اللہ نے فرمایا کہ صبر وتقویٰ اختیار کرنے سے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے اور جب بھی صبر وتقویٰ کے دامن کو ہاتھ سے چھوڑ دیا جائے گا تو وہ اللہ کی رحمتوں سے دور ہوجائیں گے۔ ان آیات میں پہلی بات تو یہ فرمائی گئی ہے کہ صبر وتقویٰ کیا ہے اور صابرومتقی کون لوگ ہیں اور ان کے کیا کیا اوصاف ہیں۔ دوسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ وہ کون سے اسباب ہیں جو تقویٰ اور پرہیزگاری کے ماحول کو تباہ کردیتے ہیں۔ فرمایا کہ کسی معاشرہ کی تباہی کا سب سے پہلا بڑا سبب سودی کاروبار ہے۔ جب تک اس سے بجات حاصل نہیں کی جائے گی اس وقت تک تقویٰ اور پرہیز گاری کی فضا قائم ہونا مشکل ہے کیونکہ حلال روزی تقویٰ کی جڑ اور بنیاد ہے۔ جو شخص سود کھانے والا ہوگا اس میں صبر وتقویٰ کی کیفیت پیدا ہی نہیں ہوسکتی اس لئے فرمایا گیا کہ صبر وتقویٰ کے لئے بنیاد ترک سود ہے۔ اور سود بھی وہ جو کہ سارے معاشرے اور مجبورلوگوں کو عذاب میں مبتلا کرنے والا ہے۔ یوں تو سود کا کچھ بھی نال رکھ لیا جائے ، اس کی کوئی بھی شکل ہو چنددر چند ہو یا نہ ہو۔ مہاجن کا سود ہو یا بینک کا سود بہرحال مطلقاً حرام ہے۔ لیکن وہ سود جو چنددرچند ہو وہ تو انسانی نقطہ نظر سے بھی انتہائی ذلیل چیز ہے جس سے پچنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ فرمایا جارہا ہے کہ یہودیوں کی ذلیل اور گھٹیا ذہنیت کا ایک بنیادی سبب سود خوری بھی ہے لہٰذا اہل ایمان کو اس سے پچنے کی ہر ممکن تدبیر کرنا چاہیے ۔ ان آیات میں فرمایا گیا کہ ہر صاحب ایمان کو اللہ اور اس کے رسول کی مکمل پیروی کرنا چاہیے اسی میں آخرت کی وہ کامیابی ہے جو اس کے لئے جنت کی ابدی راحتوں کی شکل میں اسے عطا کی جائے گی۔ اصل دین یہ نہیں ہے کہ سود در سود کے چکر میں پھنسا رہے بلکہ اپنے سے کمزوروں پر رحم کرنے کے لئے دن رات اپنی دولت کو نچھاور کرتا رہے خواہ حالات کچھ بھی کیوں نہ ہوں۔ فرمایا گیا کہ غصہ کو پی جانے والے دوسروں کی خطائیں معاف کردینے والے کوئی خطا ہوجائے تو اس پر ندامت کا اظہار کرنے والے اللہ کو بہت پسند ہیں اور یہی کامیاب اور بامراد لوگ ہیں۔
Ayahs 3:139–143

وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:139 in the Quran reader

اگر تم مومن ہو تو نہ ہمت ہارو اور نہ غم کرو۔ تم ہی سر بلند رہو گے۔

اِنْ یَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِ١ۚ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 3:140 in the Quran reader

اس وقت اگر تمہیں کوئی زخم پہنچا ہے تو (رنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ) ان کو بھی (بدر میں ) ایسا ہی زخم پہنچ چکا ہے۔ اور لوگوں کے درمیان ہم تو دنوں کو اسی طرح گھماتے ہیں اور الٹتے پلٹتے رہتے ہیں۔ تمہارے اوپر یہ وقت اس لئے لایا گیا تا کہ تم میں سے پرکھ لیا جائے کہ ایمان میں (پختہ) کون ہے ؟ وہ اللہ چاہتا ہے کہ تم میں سے کچھ لوگوں کو شہادت کا مقام نصیب ہوجائے۔ اللہ ظالموں کو بہرحال پسند نہیں کرتا۔

وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَمْحَقَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:141 in the Quran reader

تا کہ اللہ ایمان والوں کا میل کچیل صاف کر دے اور کافروں کو مٹادے۔

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:142 in the Quran reader

شاید تم اس گمان میں ہو کہ جنت میں یونہی داخل کر دئیے جاؤ گے حالانکہ ابھی تو اللہ نے تمہارے مجاہدوں کا امتحان بھی نہیں لیا ہے اور نہ ہی صبر کرنے والوں کی جانچ کی ہے۔

وَ لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْهُ١۪ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْهُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۠ Open ayah 3:143 in the Quran reader

اور تم تو موت کی تمنائیں کیا کرتے تھے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب موت تمہارے سامنے نہ تھی۔ لو اب وہ تمہارے سامنے ہے۔ اور تم نے کھلی آنکھوں سے اس کو دیکھ لیا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 139 تا 143 لاتھنوا (تم سست نہ ہو) لاتحزنوا (تم رنجیدہ نہ ہو) الاعلون (بلند (رہوگے) ان یمسسکم ( اگر تمہیں پہنچا ہے) قرح (زخم) مس القوم (پہنچا ایک قوم کو) نداول (ہم گھماتے رہتے ہیں) لیمحص (تاکہ وہ نکھاردے) یمحق (وہ مٹاتا ہے) ام حسبتم (کیا تم سمجھ بیٹھے) ان تلقوہ (یہ کہ تم اس سے ملو) رایتموہ (تم نے اس کو دیکھ لیا) تشریح : آیت نمبر 139 تا 143 ان آیتوں میں مسلمانوں سے فرمایا جارہا ہے کہ انبیاء کی سنت اور ان کے ماننے والوں کا طریقہ ہی یہ ہے کہ جب ان پر مشکل حالات آتے ہیں تو وہ ہمت نہیں ہارتے بلکہ حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے سینہ سپرہوجاتے ہیں۔ فرمایا گیا کہ اے مسلمانو ! تم ہمت نہ ہارو اور نہ تم سستی کرو۔ آج اگر غزوۂ احد میں تمہیں ظاہری شکست ہوئی ہے تو غزوۂ بدر میں تم بھی تو کفار کو بڑے صدمے پہنچاچکے ہو۔ یہ تو زمانہ کا الٹ پھیر ہے۔ ایسا تو ہماری قدرت کا ایک انداز ہے۔ زمانہ کے حالات کو ہم اسی طرح الٹتے پلٹتے رہتے ہیں یہ اور اس طرح کے حالات تو تمہارے ایمان اور کردار کی بہترین جانچ اور پرکھ کا ذریعہ ہیں۔ اور اللہ یہی چاہتا ہے کہ حالات کے الٹ پھیر سے تمہارے ایمان کو پرکھتا رہے۔ تمہارے اندورنی میل کچیل کو دور کرتا رہے۔ آخر میں فرمایا کیا کہ تم اس گمان میں نہ رہنا کہ جنت اور اس کی راحتیں یونہی بیٹھے نٹھائے مل جائیں گی بلکہ اس کے لئے عظیم قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔ ان حالات میں جانچ کی جاتی ہے بہرحال اللہ پر نظر رکھو۔ موت سے آنکھیں ملانے کی اہلیت پیدا کرو۔ بالاخر کامیابی اور غلبہ تمہارا ہی ہے۔ اللہ ظالموں کے غلبہ کو مٹا کر ایک دن تمہیں ضرور کامیاب فرمائے گا۔
Ayahs 3:144–148

وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ اَفَاۡئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیَجْزِی اللّٰهُ الشّٰكِرِیْن Open ayah 3:144 in the Quran reader

اور محمد ﷺ تو اللہ کے ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ تو کیا اگر وہ وفات پاجائیں یا شہید کر دئیے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ؟ جو الٹے پاؤں پھرجائے گا اللہ کا وہ کچھ نقصان نہ کرے گا۔ اور اللہ عنقریب شکر گزاروں کو ان کا بدلہ عطا کرے گا۔

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ؕ وَ سَنَجْزِی الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 3:145 in the Quran reader

اور کوئی انسان اس کی اجازت کے بغیر مر نہیں سکتا۔ سب کے لئے ایک مدت مقرر ہے۔ اور جو دنیا کا فائدہ چاہتا ہے ہم اس کو دنیا کا حصہ دے دیتے ہیں اور جو آخرت کا نفع چاہتا ہے تو اسے ہم آخرت کا حصہ دیں گے۔ اور عنقریب ہم شکر گزاروں کو ان کا بدلہ دیں گے۔

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ١ۚ فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:146 in the Quran reader

اور کتنے ہی نبی گزر چکے ہیں ان کے ساتھ مل کر اللہ والے لڑے ہیں۔ جو کچھ انہیں اللہ کی راہ میں پیش آیا نہ انہوں نے ہمت ہاری اور نہ وہ کسی سے دب کر رہے۔ اللہ صبر کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔

وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:147 in the Quran reader

اور جن کی زبانوں پر یہی بات تھی کہ اے ہمارے پروردگار ہمارے گناہوں کو اور ہماری زیادتیوں کو معاف فرما دے۔ اور ہمیں ثابت قدم رکھ۔

فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَ حُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 3:148 in the Quran reader

ہمیں کافروں پر غلبہ نصیب فرما۔ اللہ نے ان کو دنیا کا بدلہ بھی دیا اور اس سے بہتر آخرت میں عطا کرے گا۔ اور اللہ نیکیاں کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 144 تا 148 افان (پھر اگر) مات (مرگیا (مرجاتا) انقلبتم (کیا تم پلٹ جاتے) ینقلب (پلٹ جائے گا) سیجزی (عنقریب وہ بدلہ دے گا) کتابا مؤجلا (مدت لکھی ہوئی ہے (مدت مقرر کردی گئی ہے) نؤت (ہم دیتے ہیں) کاین (کتنے ہی) ربیون (اللہ والے) ماوھنوا (نہ وہ سست ہوئے) ما استکانوا (نہ وہ تھکے) اسرافنا (ہماری زیادتی) ثبت (ثابت رکھ) حسن (بہترین) ۔ تشریح : آیت نمبر 144 تا 148 یہ آیات غزوۂ احد کے فوراً بعد 3 ھ میں اس وقت نازل ہوئیں جب کچھ صحابہ ؓ کی اجتہادی غلطی کی وجہ سے وقتی طور پر فتح شکست میں بدل گئی اور رسول اللہ ﷺ کے دندان مبارک شہید ہوئے اور صحابہ کے دلوں میں طرح طرح کے وسوسے آنے لگے تھے۔ ان آیات میں سب پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے ایک رسول ہیں جن کا کام اللہ کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچانا اور لوگوں کو اللہ کا فرماں بردار بنانا ہے۔ آپ کوئی معبود نہیں ہیں کہ وفات سے دین ہی ختم ہوکر رہ جائے گا اور آپ رسول بھی نئے نہیں ہیں بلکہ آپ سے پہلے اللہ کے رسولوں کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ جن کی وفات کے بعد ان کے جانشیوں نے دین کے اہم کاموں کی ذمہ رادی قبول کی اور آنے والی نسلوں تک اللہ کے پیغام کو پہنچایا۔ لہٰذا آپ کا اس دنیا سے چلے جانا ایک انوکھی یا حیرت کی بات نہیں ہے ۔ اس وقت نہ سہی اگر وقت مقررہ پر آپ کی وفات ہوگئی یا آپ شہید کردیئے گئے تو کیا اے اہل ایمان تم دین کی خدمت ، نصرت ، اور حفاظت سے الٹے پاؤں پھر جاؤ گے اور اللہ کی راہ میں جہاد چھوڑ بیٹھو گے جس طرح غزوۂ احد میں کچھ مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کی خبر سن کر حوصلہ چھوڑدیا تھا۔ اللہ نے فرمایا یادرکھو اگر تم میں سے کوئی ایسا کرے گا تو وہ خود اپناہی نقصان کرے گا وہ اللہ کا کچھ بگاڑ نہ سکے کیونکہ وہ کسی کی مدد کا محتاج نہیں ہے۔ بلکہ ہر انسان اس کی امدادو اعانت کا محتاج ہے۔ ان آیات میں صحابہ کرام ؓ سے فرمایا جارہا ہے کہ اللہ کے رسول کا کام اس کا پیغام پہنچانا ہے اور پھر ان پر بھی موت کی کیفیات کو طاری کیا جاتا ہے اسی طرح رسول ﷺ کو بھی ایک نہ ایک دن اس دنیا سے رخصت ہونا ہے۔ اس لئے مسلمانوں کو دین پر ثابت قدم رہنے کا عزم کرنا چاہئے تاکہ وہ نبی آخر الزماں ﷺ کے پیغام کو قیامت تک ساری دنیا کے انسانوں تک پورے عزم اور ذوق وشوق سے پہنچا سکیں۔ کیونکہ ان نبیوں کا سلسلہ تو ختم ہوچکا ہے لہٰذا اب امت کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس دین کو ساری دنیا تک پہنچانے کی مخلصانہ کوشش کرتا رہے۔ دوسری آیت میں یہ ارشاد گیا کہ موت کا وقت ہر ایک کے لئے متعین ہے، جس کی جتنی عمر لکھ دی گئی ہے اس سے ایک لمحہ نہ کم ہوسکتی ہے اور نہ زیادہ لہٰذا اسباب موت جمع ہونے سے جہاد کے جذبہ میں کوئی کمزوری نہ آنی چاہئے۔ اور نہ کسی چھوٹے بڑے کی موت کی خبر سن کر مایوس اور بددل ہونا چاہیے کیونکہ کبھی کسی کی موت اللہ کے حکم کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ اس کائنات کا مالک حی وقیوم یعنی زندہ وتابندہ یہی وجہ ہے کہ ہر روز لاکھوں انسانوں کے جانے کے باوجود یہ کائنات اپنی ترقی کی منزلوں کی طرف گامزن ہے اس کی رونق اور ترقی میں کوئی واقع نہیں ہوتا۔ لہٰذا موت نہ اللہ کی اس کائنات کو شکست دے سکتی ہے اور نہ اس کے بنانے والے کو۔ ان ہی آیات میں تیسرا مضمون گذشتہ مضمون کی تائید میں ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ اے مومنو ! تم سے پہلے بہت سے نبی گذرے ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے اللہ والوں نے کفار سے جنگیں کی ہیں اور اللہ کی راہ میں بڑی بےجگری سے لڑے ہیں، شدید ہریشانیاں بھی آئیں مگر نہ تو ان کی ہمتوں نے جواب دیا نہ ان کے دل اور بدن کی طاقتوں میں کمی آئی۔ نہ وہ دشمن سے دب کررہے تو اللہ نے ان کو قدم قدم پر کامیابیاں عطا فرمائیں اور اللہ نے اپنی نعمتوں سے ایسے مستقل مزاج لوگوں کو نوازا۔ فرمایا، ان کا یہ حال تھا کہ شدید مصائب اور پریشانیوں میں بھی مخلوق کی طرف نہیں جھکے بلکہ اپنے خالق ومالک کی طرف جھک کر انہوں نے نہایت عاجزی سے یہی درخواست کی۔ اے اللہ ہمیں بخش دیجئے ہمارے گناہوں کو معاف کردیجئے ہمارے کاموں میں ہم سے جو زیادتی ہوگئی ہو اس کو معاف کردیجئے اور ہمیں کفار کے مقابلے میں ثابت قدم رکھئے گا اور ہمیں کفار پر غلبہ عطا فرمایئے گا۔ اللہ نے ان کی دعاؤں کو قبول کیا اور انہیں دنیا وآخرت کی تمام بھلائیاں عطافرمائیں۔ ان آیات میں مسلمانوں کو یہ تعلیم دی جارہی ہے کہ کفار سے جنگ کے وقت ثابت قدم رہیں۔ اللہ کے دین کے لئے مرمٹنے کا جذبہ رکھنا ہی اصل ایمان ہے۔ ایک مومن اللہ کا سپاہی ہوتا ہے۔ جو موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا سلیقہ جانتا ہے وہ موت کے خوف سے ڈرتا نہیں ہے۔ وہ زندہ رہتا ہے تو اللہ کے لئے اور اس کی موت آتی ہے تو اللہ کی راہ میں ۔