3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 3:149–151

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَرُدُّوْكُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 3:149 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر تم ان لوگوں کا کہنا مانو گے جو کفر کا راستہ اختیار کئے ہوئے ہیں تو وہ تمہیں الٹا پھیر لے جائیں گے۔ اور تم نقصان میں رہو گے۔

بَلِ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ النّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:150 in the Quran reader

البتہ اللہ تمہارا کار ساز ہے۔ اور وہی بہترین مددگار ہے۔

سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَاۤ اَشْرَكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ بِئْسَ مَثْوَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:151 in the Quran reader

ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب ڈال دیں گے۔ کیونکہ انہوں نے اللہ کا شریک ایسی چیزوں کو ٹھہرا رکھا ہے جس کے لئے ان کے پاس کوئی ایسی دلیل نہیں ہے جو ان پر اتاری گئی ہو۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جو ظالموں کا بدترین ٹھکانا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 149 تا 151 یردوکم (وہ تمہیں لوٹا دیں گے) اعقابکم (تمہاری ایڑیاں) تنقلبوا (تم پلٹ جاؤ گے) مولٰکم (وہ تمہارا مالک ہے) سنلقی (عنقریب ہم ڈالیں گے) الرعب (ہیبت) لم ینزل (نہیں اتاری) سلطان (دلیل) ماوٰی (ٹھکانا) مثوٰی (ٹھکانا) ۔ تشریح : آیت نمبر 149 تا 151 اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے گذشتہ امتوں کے حق پرست مجاہدین کی فروشیوں کا ذکر فرما کر مسلمانوں کو جنگ اور جہاد میں بلند ہمت رہنے کی تلقین فرمائی تھی۔ اور بتایا تھا کہ فتح وشکست کوئی حیثیت نہیں رکھتے اصل بات یہ ہے کہ ایک مومن کا مقصود اصلی صرف اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی ہوتا ہے۔ غزوۂ احد کی عارضی شکست کے بعد ایک طرف تو مسلمانوں کے دل ٹوٹے ہوئے تھے انہیں اس بات کا شدید افسوس تھا کہ ان کی معمولی سی لغزش کی وجہ سے اتنی جانیں ضائع ہوئیں۔ فتح شکست میں بدل گئی اور رسول اللہ ﷺ کو ذہینی وجسمانی اذیت پہنچی ۔ دوسری طرف کفار اور منافقین نے موقع پاکر مسلمانوں کو طعنے بھی دینے شروع کئے اور طرح طرح کی باتیں بھی کرنا شروع کردیں۔ کوئی کہتا اگر تم سچے دین پر ہوتے تو اس طرح تم شکست نہ کھاتے ، منافقین نے خیر خواہی کا لبادہ اوڑھ کر یہ باتیں پھیلانا شروع کردیں کہ کفار کی طاقت بہت زیادہ ہے ان سے لڑنا اور مقابلہ کرنا خود موت کے منہ میں جانا ہے۔ انسان بڑا کمزور پیدا کیا گیا ہے ان باتوں اور طعنوں سے مخلص مسلمانوں کے دل اور چھلنی ہونے لگے تھے۔ اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ اے مسلمانوں اگر تم ان کفار اور منافقین کی باتوں میں آگئے تو یہ لوگ تمہیں اسلام اور اس کی سچائی سے بدگمان کردیں گے اس سے ان دوزخیوں کا تو کچھ نہ بگڑے گا لیکن تمہاری دنیا اور آخرت برباد ہوکررہ جائیگی۔ اسلئے تم اللہ ہی پر مکمل بھروسہ رکھو۔ اس کی امداد پر اعتماد کرو۔ کیونکہ تمہیں کامیاب کرنے والی اللہ ہی کی ذات ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ہم نے کفار کے دلوں میں تمہارا رعب ڈال دیا ہے چناچہ اللہ نے ایسے اسباب پیدا کئے کہ غزوۂ احد سے ناکام ہونے کے بعد ” روحا “ کے مقام پر پہنچے تو انہوں نے مدینہ کے خستہ حال مسلمانوں پر دوبارہ حملہ کا پروگرام بنایا مگر رسول اللہ ﷺ نے اس وقت جو تدبیر فرمائی کہ آپ صحابہ کو لیکر کفار کے تعاقب میں چلے۔ اس بات کا کفار پر ایسا رعب پڑا کہ پھر وہ تیزی سے مکہ واپس چلے گئے۔ اللہ اپنے بندوں کو اسی طرح کامیاب فرمایا کرتے ہیں۔
Ayahs 3:152–155

وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ عَصَیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِیَبْتَلِیَكُمْ١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:152 in the Quran reader

اور یقیناً اللہ نے تم سے جو وعدہ (نصرت) کیا تھا اس کو سچا کر دکھایا ۔ جب تم ان (کفار ) کو اس کے حکم سے قتل کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ جب تم ہی کمزور پڑگئے، اور آپس میں باہم جھگڑنے لگے اور حکم کے خلاکرنے لگے اس کے باوجود کہ اللہ تمہیں وہ چیز (فتح) دکھا چکا تھا جسے تم چاہتے تھے۔ تم میں سے بعض وہ تھے جو دنیا چاہتے تھے اور تم میں سے بعض وہ تھے جو آخرت کے طلب گار تھے۔ اس وقت تمہیں اللہ نے کافروں کے مقابلے میں پسپا کردیا تھا تا کہ وہ تمہاری آزمائش کرسکے۔ پھر بھی اللہ نے تمہیں معاف کردیا۔ اور اللہ ایمان والوں کے حق میں بڑے ہی فضل و کرم والا ہے۔

اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَ لَا تَلْوٗنَ عَلٰۤى اَحَدٍ وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ فِیْۤ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّكَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا مَاۤ اَصَابَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:153 in the Quran reader

یاد کرو جب تم چڑھے چلے جا رہے تھے اور مڑ کر دیکھتے بھی نہ تھے حالانکہ رسول تمہیں تمہارے پیچھے سے پکار رہے تھے۔ اس لئے اللہ نے تمہیں رنج و رنج دئیے تا کہ تم اس پر رنجیدہ نہ ہوں جو تمہارے ہاتھ سے نکل چکا تھا یا جو کچھ حالات پہنچ چکے تھے ۔ اور اللہ تمہارے تمام کاموں سے اچھی طرح واقف ہے۔

ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا یَّغْشٰى طَآئِفَةً مِّنْكُمْ١ۙ وَ طَآئِفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْهُمْ اَنْفُسُهُمْ یَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِیَّةِ١ؕ یَقُوْلُوْنَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ١ؕ یُخْفُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ مَّا لَا یُبْدُوْنَ لَكَ١ؕ یَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ مَّا قُتِلْنَا هٰهُنَا١ؕ قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِیْنَ كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمْ١ۚ وَ لِیَبْتَلِیَ اللّٰهُ مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ لِیُمَحِّصَ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:154 in the Quran reader

اس غم کے بعد اللہ نے تمہارے اوپر اطمینان کی سی (غنودگی) کیفیت طاری کردی تھی جس کا تم میں سے ایک جماعت پر غلبہ ہو رہا تھا ۔ ایک جماعت وہ تھی جسے اپنے جانوں کی پڑی ہوئی تھی۔ اللہ کے متعلق جاہلانہ گمان کرنے لگی تھی جو خلاف حقیقت بات تھی اور جاہلیت کے جیسے خیالات قائم کر رہی تھی۔ وہ یہ کہہ رہے تھے کہ اس کام میں ہمارا بھی کچھ اختیار ہے ؟ آپ کہہ دیجئے کہ اختیار تو سارا کا سارا اللہ ہی کا ہے۔ یہ لوگ دلوں میں ایسی بات چھپائے ہوئے ہیں جسے آپ پر ظاہر نہیں کرتے۔ کہتے ہیں اگر ہمارا کچھ بھی اختیار ہو تو اس جگہ ہم یوں نہ مارے جاتے۔ آپ کہہ دیجئے اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے تو وہ لوگ جن کے لئے قتل ہونا مقدر ہوچکا تھا اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل پڑتے۔ اور یہ سب اس لئے ہوا تا کہ اللہ تمہارے باطن کی آزمائش کرے اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے معاف کر دے۔ اللہ (سب کے ) دلوں کا حال جاننے والا ہے ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ۙ اِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 3:155 in the Quran reader

تم میں سے جو لوگ اس مقابلہ کے دن پیٹھ پھیر گئے تھے جس دن دونوں جماعتیں باہم مقابلہ کر رہی تھیں تو یہ اس وجہ سے ہوا کہ بعض کمزوریوں کے سبب شیطان نے ان کے قدم ڈگمگادئیے تھے۔ بیشک اللہ انہیں معاف کرچکا ہے۔ یقیناً اللہ بہت مغفرت کرنے والا اور برداشت کرنے والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 152 تا 155 تحسونھم (تم ان کو کاٹ رہے تھے) فشلتم (تم نے بزدلی دکھائی) تنازعتم (تم باہم جھگڑپڑے) عصیتم (تم نے نافرمانی کی) ارٰکم (اس نے تمہیں دکھایا) صرف (پلٹ دیا) لیبتلی (تاکہ وہ آزمائے) تصعدون (تم چڑھے چلے جارہے تھے) لاتلون (تم پلٹ کر (نہ دیکھتے تھے) یدعوکم (تمہیں بلاتا ہے) اثاب (پلٹا) نعاس (اونگھ) ظن الجاھلیة (جاہلیت کے گمان) لبرز (البتہ وہ نکلتا) مضاجع (ٹھکانا) ۔ تشریح : آیت نمبر 152 تا 155 سورة آل عمران کی آیات 152 ست 155 میں غزوۂ احد کے ان اسباب کو بتایا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ جیتی ہوئی بازی مسلمان ہار گئے تھے۔ فرمایا گیا کہ بزدلی ، آپس کے جھگڑے اور رسول اللہ ﷺ کے حکم کی تعمیل نہ ہونے کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا۔ ان آیات میں فرمایا جارہا ہے کہ اگرچہ اللہ نے ان لغزشوں کو معاف کردیا لیکن آئندہ ان تمام باتوں کا لحاظ رکھا جائے تو کامیابی مسلمانوں کے قدم چومے گی۔ لغات القرآن آیت نمبر 156 تا 158 ضربوا (وہ چلے) غز (جہاد) ماماتو (نہ مارے جاتے) قتلتم (تم قتل کردیے گئے) متم (تم مارے گئے) یجمعون (وہ جمع کرتے ہیں) ۔
Ayahs 3:156–158

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِی الْاَرْضِ اَوْ كَانُوْا غُزًّى لَّوْ كَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَ مَا قُتِلُوْا١ۚ لِیَجْعَلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ حَسْرَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 3:156 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو کفر اختیار کئے ہوئے ہیں اور اپنے ان بھائیوں کے لئے جو جہاد یا سفر پر جاتے ہیں تو ان سے کہتے ہیں کہ اگر تم ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ قتل کئے جاتے۔ اور یہ بات (وہ اس لئے کہتے ہیں ) تا کہ اللہ اسے ان کے دلوں میں حسرت کا سبب بنا دے۔ حالانکہ اللہ ہی مارتا ہے اور وہی زندگی بخشتا ہے۔ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے خوب واقف ہے اور دیکھ رہا ہے۔

وَ لَئِنْ قُتِلْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَحْمَةٌ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 3:157 in the Quran reader

اور اگر تم اللہ کے راستے میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو اللہ کی رحمت و مغفرت اس سے کہیں بہتر ہے جسے تم لوگ جمع کر کے رکھتے ہو

وَ لَئِنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ لَاۡاِلَى اللّٰهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 3:158 in the Quran reader

اور اگر تم مرجاؤ یا قتل کر دئیے جاؤ بہرحال تمہیں اللہ کے حضور اکٹھے ہو کر پہنچنا ہے۔

تشریح : آیت نمبر 156 تا 158 سورۂ آل عمران کی آیات 156 ست 158 میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ وہ اپنی گفتار میں اور انداز میں منافقین اور کافروں کی مشابھت اختیار نہ کریں۔ بلکہ اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ زندگی اور موت سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اس نے جس کی جتنی زندگی لکھ دی ہے اس میں ایک لمحہ کا بھی فرق نہیں ہوسکتا۔ کفار اور منافقین کا یہ کہنا کہ اگر تم ہمارے پاس ہوتے تو ہماری حفاظت میں ہوتے اور تمہیں اس طرح موت نہ آتی۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے مارا جانا دنیا کی زندگی سے کہیں بہتر ہے کیونکہ انسان دنیا کی چند روز زندگی میں انتہائی محنت اور مشقت کے بعد کچھ مال و دولت جمع کرتا ہے۔ اس سے وہ کچھ دن فائدہ بھی اٹھا لیتا ہے لیکن موت کے ساتھ ہی اس کا رشتہ ان چیزوں سے منقطع ہوجاتا ہے۔ اس کے برخلاف انسان اس دنیا میں رہتے ہوئے جو پاکیزہ زندگی کا نمونہ پیش کرتا ہے اور آخرت کی فکر میں لگا رہتا ہے وہ اس دنیا سے کہیں بہتر ہے جو آدمی زندگی بھر کما کر اپنے بعد کے لوگوں کے لئے چھوڑ جاتا ہے۔ نیکیوں کے ساتھ زندگی گذارنے والا اس مال و دولت میں بھی اور آخرت میں بھی ابدی راحتوں سے ہم کنار ہوتا ہے۔ دنیا میں اس کو قلبی سکون اور آخرت میں ہمیشہ باقی رہنے والی نعمتوں سے نوازا جائے گا۔ اس لئے زندگی کی لذتوں سے مومن کے لئے اللہ کی راہ میں مارا جانا کہیں بہتر ہے۔ لغات القرآن آیت نمبر 159 تا 160 فبمارحمة (رحمت ہے) لنت (آپ نرم دل ہیں) فظ (بدمزاج) غلیظ القلب (سخت دل) انفضوا (وہ بھاگ گئے ہوتے) من حولک (آپ کے اردگرد سے) ش اور ھم (ان سے مشورہ کیجئے) عزمت (آپ نے ارادہ کرلیا) یخذل (وہ برباد کرتا ہے) ۔
Ayahs 3:159–160

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ١ۚ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ١۪ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ١ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِیْنَ Open ayah 3:159 in the Quran reader

اے نبی ﷺ یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ آپ ان لوگوں کے لئے بہت نرم مزاج ہیں۔ اگر آپ کہیں سخت مزاج اور پتھر دل ہوتے تو وہ ضرور آپ کے اردگرد سے بھاگ کھڑے ہوتے۔ آپ ان سے درگزر کیجئے۔ ان کے لئے استغفار کیجئے۔ اور کاموں میں ان سے مشورہ کیا کیجئے۔ لیکن جب آپ پکا ارادہ کرلیں تو اللہ پر بھروسہ کیجئے ۔

اِنْ یَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:160 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ ان سے محبت کرتا ہے جو اس پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اگر اللہ تمہاری مدد کرے گا تو کوئی تمہارے اوپر غالب نہ آسکے گا۔ اور اگر وہ تمہیں چھو ڑ دے گا تو پھر کون ہے جو اس کے بعد تمہارا ساتھ دے گا ؟ اور مومنوں کو تو صرف اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔

تشریح : آیت نمبر 159 تا 160 غزوۂ احد میں مسلمانوں کی اجتہادی غلطی کی وجہ سے مسلمانوں اور رسول اللہ ﷺ کو جو تکلیف پہنچی تھی اس سے رسول اللہ ﷺ کا رنجیدہ ہونا لازمی بات تھی اور آپ کو اس لغرش پر اپنے صحابہ کو تنبیہہ کرنا چاہئے تھی اور آئندہ ان سے مشورہ کبھی نہ لینا چاہئے تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے آیت میں آنحضرت ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ آپ اس واقعہ سے رنجیدہ نہ ہوں اور اب کی خطا کو معاف فرمادیں اور اپنے مزاج کے مطابق ان سے نرمی کا معاملہ فرمائیں اور پہلے کی طرح آپ ان سے مختلف امور میں مشورہ بھی لیتے رہا کریں۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے غزوۂ احد سے واپس لوٹ کر اپنے کے ساتھ انتہائی شفقت و محبت کا معاملہ فرمایا۔ اور ان کی کوتاہیوں کو نظر انداز کردیا۔ آپ سے ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ اے نبی ﷺ یہ اللہ کی بہت بڑی رحمت ہے کہ آپ اپنے صحابہ کے بارے میں انتہائی نرم مزاج ہیں اگر کہیں آپ سخت مزاج اور پتھر دل ہوتے تو یہ دل شکستہ ہوکر آپ کے اردگرد سے منتشر ہوجاتے اور آپ کے فیض صحبت سے محروم ہوجاتے۔ لہٰذا اے نبی ﷺ آپ ان کو دل کی گہرائیوں سے معاف کردیں اور ان کی کو تا ہیوں کے لئے اللہ سے دعائے استغفار کیجئے۔ مشورہ میں ان کو نظر انداز نہ کیجئے۔ مشورہ کے بعد آپ کی جس طرف پختہ رائے ہو اس پر عمل کیجئے اور اللہ پر کامل بھروسہ رکھیے کیونکہ اہل ایمان کو تو اسی پر بھروسہ اور اعتماد رکھنا چاہئے۔
Ayahs 3:161–164

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ١ؕ وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:161 in the Quran reader

اور کسی نبی کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کچھ چھپا کر رکھے۔ اور جو شخص کچھ چھپا کر رکھے گا قیامت کے دن اس کو اس کے کئے ہوئے کام کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی پر ظلم و زیادتی نہ ہوگی۔

اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّٰهِ كَمَنْۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:162 in the Quran reader

بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ جو شخص اللہ کی رضا و خوشنودی کا تابع ہو اس شخص جیسا ہوجائے جو اللہ کے غضب میں گھرا ہوا ہے جس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور جو بدترین جگہ ہے۔

هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:163 in the Quran reader

اللہ کے نزدیک ان دونوں کے درجات میں فرق ہے اور اللہ ان کے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے۔

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 3:164 in the Quran reader

ایمان والوں پر اللہ کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ ان کے درمیان خود ہی ان میں سے ایک ایسے پیغمبر کو اٹھایا ہے جو اس کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں۔ ان کی زندگیوں کو سنوارتے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔ حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔

لغات القرآن آیت نمبر 161 تا 164 ان یغل (یہ کہ وہ خیانت کرے (غلول۔ مال غنیمت میں خیانت کرنا) من یغلل (جو خیانت کرے گا) سخط (غصہ کیا) من اللہ (اللہ نے احسان کیا) ضلٰلٍ مبین (کھلی گمراہی) ۔ تشریح : آیت نمبر 161 تا 164 حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ غزوۂ بدر کے دن مال غنیمت میں ایک سرخ چادر گم ہوگئی۔ بعض منافقین نے جو ہر وقت مسلمانوں اور رسول اللہ ﷺ کی بدخواہی میں آگے آگے رہتے تھے مال غنیمت کی تقسیم کے وقت سیدھے سادھے مسلمانوں کے دلوں میں لغو اور فضول وسوسے پیدا کرنا شروع کردیئے تھے کہ مال غنیمت کی سرخ چادر رسول اللہ نے چھپا کر رکھ لی ہے۔ ان آیتوں میں فرمایا جارہا ہے کہ نبی کی شان تو ان باتوں سے بہت بلند ہے کیونکہ نبی ہر گناہ سے معصوم ہوتا ہے اس کی طرف تو تصور گناہ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ان آیتوں کی تشریح کرتے ہوئے بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ مشرکین اور منافقین تو مرتبہ نبوت سے بیخبر تھے مگر اہل کتاب تو شان نبوت سے بیخبر نہیں تھے۔ اس کے باوجود ان کے نزدیک نبی کی حیثیت ایک معمولی انسان اور کاہن کی جیسی ہو کر رہ گئی تھی جس کا کام صرف آئندہ کی خبریں دینا ہے۔ نیز انبیاء کے معصوم ہونے کا تصور بھی ان کے ہاں کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا تھا ۔ انہوں نے اپنی کتابوں میں انبیاء کی شخصیات کو اس طرح مسخ کرکے رکھ دیا تھا کہ ایک نبی خیانت اور مجرمانہ حرکتوں کا (نعوذ باللہ) مرتکب ہوسکتا تھا۔ اب آیتوں میں انبیاء کرام کے متعلق ان بےسروپا اور غلط باتوں کی تردید کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ ایک نبی کی شان نہیں ہوسکتی کہ وہ خیانت کرے یا حق وصداقت کی کسی بات کو چھپا کر رکھے ۔ فرمایا جارہا ہے کہ اگر ایک عام آدمی بھی خیانت کرے گا تو وہ شخص قیامت کے دن اس چیز کے ساتھ اللہ کے سامنے پیش ہوجائے گا۔ انبیاء کرام کی حفاظت تو اللہ کی طرف سے ہوتی ہے ان سے گناہ سرزد ہو ہی نہیں سکتا ۔ لیکن عام آدمی کی سب سے بڑی خیانت یہ ہے کہ وہ انبیاء کرام کی عظمت سے واقف ہوتے ہوئے بھی ان پر الزامات عائد کرتا ہے۔ کل قیامت کے دن اللہ کے سامنے اس کی جواب دہی کرنا پڑے گی۔ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ جو شخص اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے اپنی زندگی کئے ہوئے ہو اور اس کو شخص کے برابر لاکھڑا کردیا جائے جو گناہ کرکے اللہ کے غضب کا شکار ہوگیا ہے۔ یقیناً یہ دونوں کسی طرح برابر نہیں ہوسکتے ۔ آخر میں فرمایا گیا ہے کہ نبی مکرم ﷺ کی شان ہر اعتبار سے انتہائی قابل احترام ہے کیونکہ وہ اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے۔ ان کے ذریعہ ان کی زندگیوں کو سنوارتے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی ان کا وشوں کے نتیجہ میں عرب کے جاہل آج علم کے رکھوالے بن گئے ہیں حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ سچی تعلیمات سے بالکل بیخبر تھے۔ یہ سب کچھ نبی کریم ﷺ کا صدقہ اور فیض ہے۔ ورنہ یہی لوگ گمراہیوں کے اندھیروں میں بھٹک رہے تھے۔
Ayahs 3:165–177

اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْهَا١ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا١ؕ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:165 in the Quran reader

کیا جب تم پر ایک مصیبت آپڑی۔ حالانکہ اس سے دوگنی مصیبت تمہارے ہاتھوں ان کو پہنچ چکی ہے تو تم کہتے ہو کہ یہ کہاں سے آئی۔ اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجئے کہ یہ مصیبت خود تمہارے اپنے ہاتھوں کی لائی ہوئی ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 3:166 in the Quran reader

اور جو کچھ مصیبت تمہیں اس دن پہنچی جب دونوں جماعتیں آپس میں مقابلہ کر رہی تھیں تو وہ اللہ کی مشیت سے ہوئی تا کہ وہ ایمان والوں کی پہچان کرا دے

وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا١ۖۚ وَ قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوِ ادْفَعُوْا١ؕ قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنٰكُمْ١ؕ هُمْ لِلْكُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْاِیْمَانِ١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 3:167 in the Quran reader

اور منافقین کی بھی پہچان کرا دے۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ کی راہ میں لڑو یا حملوں کو روکو۔ تو وہ کہتے ہیں کہ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ آج جنگ ہوگی تو ہم تمہارا کہا نہ مانتے ۔ حالانکہ جس وقت وہ بات کر رہے تھے اس وقت وہ ایمان کے مقابلے میں کفر سے زیادہ قریب تھے۔ وہ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں۔ حالانکہ اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں۔

اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا١ؕ قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:168 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو خود تو بیٹھے رہے اور اپنے بھائیوں کی نسبت کہتے ہیں کہ اگر ہمارا کہا مانتے تو یوں مارے نہ جاتے۔ آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم سچے ہو

وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ Open ayah 3:169 in the Quran reader

تو اپنے آپ کو موت سے بچا لو۔ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں ۔ ان کو ہرگز مرا ہوا نہ سمجھنا۔ بلکہ وہ اپنے پروردگار کے پاس زندہ ہیں۔ اپنے رب کے پاس سے رزق حاصل کرتے ہیں۔

فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۙ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ١ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ Open ayah 3:170 in the Quran reader

اللہ نے اپنے فضل و کرم سے جو کچھ ان کو عطا کیا ہے وہ اس سے خوش ہوتے ہیں۔ وہ ان کو خوش خبری دیتے ہیں جو ایمان والے ابھی تک ان سے ملے نہیں ہیں اور ان کے پیچھے ہیں کہ ان کے لئے کسی خوف اور رنج و غم کا موقع نہیں ہے۔

یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ٤ۚۛ۠ Open ayah 3:171 in the Quran reader

وہ اللہ کے فضل و کرم پر خوش ہو رہے ہیں کہ بیشک اللہ ایمان والوں کا اجر ضائع نہیں کیا کرتا۔

اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَصَابَهُمُ الْقَرْحُ١ۛؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْهُمْ وَ اتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌۚ Open ayah 3:172 in the Quran reader

وہ لوگ جو زخم لگ جانے کے باوجود اللہ اور اس کے رسول کا کہا مانتے ہیں ان میں سے جو لوگ نیک اور متقی ہیں ان کے لئے اجر عظیم ہے۔

اَلَّذِیْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِیْمَانًا١ۖۗ وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ Open ayah 3:173 in the Quran reader

اور وہ جن کے لئے کہا گیا کہ لوگوں نے تمہارے خلاف بہت کچھ جمع کرلیا ہے ان سے خوف کھاؤ۔ لیکن ان باتوں سے ان کا جذبہ ایمانی اور بڑھ گیا۔ انہوں نے کہا ہمارے لئے اللہ کافی ہے اور وہی ہمارا کارساز ہے۔

فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوْٓءٌ١ۙ وَّ اتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ Open ayah 3:174 in the Quran reader

بالاخر وہ اللہ کے فضل و کرم سے اس طرح پلٹ آئے کہ ان کو کسی قسم کا نقصان بھی نہ پہنچا۔ اور یہ لوگ اللہ کی خوشنودی بھی حاصل کر لائے۔ اللہ بڑے فضل و کرم والا ہے۔

اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآءَهٗ١۪ فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:175 in the Quran reader

یہ شیطان ہی ہے جو اپنے دوستوں کے ذریعہ ڈراتا ہے۔ تم ان سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ہی ڈرتے رہو اگر تم ایمان والے ہو

وَ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ١ۚ اِنَّهُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَلَّا یَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:176 in the Quran reader

اور آپ کے لئے وہ لوگ رنج و غم کا سبب نہ بن جائیں جو کفر میں دوڑتے پھرتے ہیں۔ بلا شبہ یہ اللہ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ اللہ کی مرضی ہی یہ ہے کہ وہ آخرت میں ان لوگوں کے لئے ذرا بھی حصہ نہ رکھے اور آخرت میں ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:177 in the Quran reader

بیشک جنہوں نے ایمان کے بدلے میں کفر کو خرید لیا ہے وہ اللہ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 165 تا 177 اصبتم (تم نے پہنچادیا) مثلیھا (اس سے دوگنا) ادفعوا (دور کرو) اقرب (زیادہ قریب) قعدوا (بیٹھے رہے) لواطاعونا (اگر ہماری بات مانتے) ادرء وا (تم دور کرو) یرزقون (رزق دیئے جاتے ہیں) فرحین (خوش ہوتے ہیں) یستبشرون (بشارت وخوش خبری دیتے ہیں) لم یلحقوا (نہیں ملے) حسبنا اللہ (ہمیں اللہ کافی ہے) یسارعون ( دوڑتے ہیں) حظ (حصہ) ۔ تشریح : آیت نمبر 165 تا 177 غزوۂ احد میں بعض مسلمانوں کی اجتماعی غلطی کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو تکلیف اٹھا نا پڑی اس پر اہل ایمان نے تو صبر اور برداشت سے کام لیا لیکن مناقفین کو بہت سی باتیں کرنے کا موقع مل گیا۔ کہنے لگے کہ یہ کیا بات ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ اس غزوے میں فتح و کامیابی ہوگی پھر یہ مصیبت کہاں سے اگئی اور ہماری فتح، شکست میں کیسے بدل گئی ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی ﷺ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اللہ نے اپنا وعدہ پورا کردیا تھا جب تم کفار کو شکست دے کر ان کی گردنیں اڑا رہے تھے مگر تم ہی میں سے بعض لوگوں کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا۔ بیشک وہ منافق نہیں تھے لیکن ان کی غلطی کی وجہ سے یہ سارا واقعہ پیش آیا۔ اللہ نے فرمایا اس سارے واقعہ سے بہرحال مومن اور منافق کا فرق بھی واضح ہوکر سامنے آگیا کیونکہ اس جبگ میں منافق اور مومن کی اچھی پہچان ہوگئی۔ منافق وہ ہیں جو اپنی جگہ بیٹھے رہے اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ان کو طعنے دے کر کہتے ہیں کہ ہمارا کہا مانتے تو اس طرح نہ مارے جاتے۔ اللہ نے فرمایا کہ موت تو بہرحال ایک دن آکر رہے گی کیا تم موت سے کسی طرح بچ سکتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جاتے ہیں ان کو مردہ کہنے کی اجازت نہیں ہے بلکہ وہ تو زندہ ہیں ان کو حیات جاودانی مل چکی ہے ان کو وہاں عزت کا مقام بھی نصیب ہے اور ان کو وہ رزق دیا جاتا ہے جس سے وہ خوش ہوتے ہیں ان کو جو راحتیں عطا کی جاتی ہیں تو وہ تمنا کرتے ہیں کاش ان کے عزیز اور رشتہ دار بھی ان کی طرح اللہ کی راہ میں شہید ہوکر عزت کا یہ مقام اور آسائش زندگی کی لذتیں حاصل کرلیتے۔ فرمایا کہ منافقین اس موقع پر طرح طرح کی افواہیں پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں کہ کفار نے بہت سا اسلحہ جمع کرلیا ہے وہ عنقریب مدینہ کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے لہٰذا آئندہ کے خطرات سے خوف کھاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس طرح کی افواہوں سے مومن پریشان نہیں ہوتے بلکہ ان کا ایمانی جذبہ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ فرمایا کہ اے مومنو تم نہ ان کی باتوں میں آؤ اور نہ ان سے خوف کھاؤ کیونکہ جو اللہ سے ڈرتا ہے پھر وہ کسی سے بھی نہیں ڈرتا۔ یقیناً کامیابی اہل ایمان ہی کا مقدر بن کررہے گی۔ شرط یہ ہے کہ صبر اور برداشت سے کام لیا جائے۔
Ayahs 3:178–180

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ خَیْرٌ لِّاَنْفُسِهِمْ١ؕ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ لِیَزْدَادُوْۤا اِثْمًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 3:178 in the Quran reader

یہ کافر اس ڈھیل کو، جو انہیں ہماری طرف سے دی جارہی ہے اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں۔ ہم تو انہیں یہ مہلت اس لئے دے رہے ہیں تا کہ وہ خوب گناہ کے بوجھ سمیٹ لیں۔ پھر ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔

مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ حَتّٰى یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:179 in the Quran reader

اللہ ایسا نہیں ہے کہ وہ تمہیں اسی حالت پر رکھے گا، جب تک پاک باز لوگوں کو ناپاک خصلت لوگوں سے چھانٹ کر نہ رکھ دے اور اللہ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ وہ تمہیں غیب کی باتوں سے مطلع کرے گا۔ لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے اپنے رسولوں میں سے منتخب کرلیتا ہے۔ تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اگر تم ایمان لائے اور تم نے پرہیزگاری کا طریقہ اختیار کیا تو تمہارے لئے بہت بڑا اجر وثواب ہے۔

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ١ؕ سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 3:180 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اس مال میں کنجوسی سے کام لیتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل و کرم سے عطا کیا ہے کہ یہ ان کے حق میں کچھ زیادہ بہتر ہے۔ نہیں بلکہ یہ ان کے حق میں بہت برا ہے۔ جو کچھ یہ کنجوسی کے ساتھ جمع کر رہے ہیں وہی قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق بن جائے گا۔ آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ ہی کے لئے ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے واقف ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 178 تا 180 نملی (ہم ڈھیل دیتے ہیں) لیزدادوا (تاکہ وہ بڑھ جائیں) لیذر (البتہ وہ چھوڑے) حتی یمیز (جب تک وہ جدا نہ کردے) الخبیث (گندگی) الطیب (پاکیزگی) لیطلعکم (تاکہ وہ تمہیں بتادے) یجتبی (وہ منتخب کرتا ہے) یبخلون (وہ کنجوسی کرتے ہیں) سیطوقون (عنقریب وہ طوق پہنائے جائیں گے) میراث (ملکیت) ۔ تشریح : آیت نمبر 178 تا 180 کفار اپنی عیش و عشرت کی زندگی پر فخر کرتے ہوئے کہتے تھے کہ جب ہم اس دنیا میں اس قدر عیش و آرام کے ساتھ ہٰن تو آخرت میں بھی ہم اس سے زیادہ راحت و آرام میں ہوں گے۔ اگر اللہ ہم سے ناراض ہوتا تو کیا ہمیں یہ عیش و آرام نصیب ہوتا یقیناً اللہ ہم سے بہت خوش ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ دنیاوی عیش و عشرت اللہ کے خوش ہونے کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ یہ تو ان کے لئے ڈھیل ہے جو اس نے ان کفار کو دے رکھی ہے۔ اس سے ان کو یہ غلط فہمی پیدا نہیں ہونی چاہئے کہ وہ اللہ کے عذاب سے بچ جائیں گے۔ اللہ نے ان کو یہ مہلت اس لئے دے رکھی ہے تاکہ وہ اپنے کفر اور جرم میں خوب آگے بڑھ جائیں اور گناہوں میں خوب ترقی کرتے چلے جائیں تب ایک دن اللہ ان کو اپنی گرفت میں لے لے گا۔ جس سے بچنا ممکن ہی نہ ہوگا۔ وہ کفار سمجھتے ہیں کہ ہم بڑی عزت کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں حالانکہ ان کے لئے ذلیل و خوار کرنے والا عذاب تیار ہے۔ تاکہ ان کو پوری پوری سزا مل سکے۔ وہ عذاب ان کو دنیا میں بھی مل سکتا ہے اور آخرت میں بھی۔ دوسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ مسلمانوں پر غزوۂ احد میں جو مصائب اور مشکلات پیش آئی ہیں اس میں بھی بڑی بڑی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ کیونکہ اب بھی مسلمانوں کی صفوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو بظاہر مسلمان ہیں لیکن حالات کی شدت انکے دلی جذبات کو کھول کر رکھ دیگی۔ بیشک اللہ تعالیٰ کے لئے یہ بہت آسان تھا کہ وہ منافقوں کے نام بتاکر مسلمانوں سے انکو علیحدہ کرادیتا لیکن اس کی حکمت ومصلحت کا تقاضا تھا کہ وہ ایسے حالات پیدا کردے جس سے کھرا اور کھوٹا کھل کر سامنے آجائے۔ ان آیتوں میں اہل ایمان کو یہ تسلی دی گئی ہے کہ وہ مشکلات سے نہ گھبرائیں بلکہ ان مشکلات میں ڈالے جانے کی بہت سی مصلحتیں ہیں کیونکہ منافق کبھی بھی مشکلات میں ثابت قدم نہیں رہ سکتا۔ وہ تو دنیاوی مفادات حاصل کرنے کے لئے مومنوں میں شامل ہوا ہے۔ اگر اس کے مفاد پر ضرب پڑے گی تو وہ کبھی بھی مسلمانوں کے ساتھ نہ رہے گا۔ لہٰذا فرمایا گیا ہے کہ یہ حالات اس لئے لائے گئے تاکہ ایک پاک طینت اور ایک بدباطن کھل کر سامنے آجائے ۔ فرمایا گیا کہ اگر ایمان پر قائم رہے اور اللہ کا تقوی اختیار کئے رہے تو دنیا وآخرت میں تمہارے لئے بہت زیادہ اجر وثواب ہے۔ ان آیتوں میں تیسری بات یہ فرمائی گئی کہ یہ منافقین جس طرح اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے بھاگتے ہیں اسی طرح اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے ساے بھی جی چراتے ہیں لیکن جس طرح جہاد سے بچ کر دنیا کی چند روزہ زندگی کی مہلت حاصل کرنا ان کے حق میں کچھ بہتر نہیں ہے ایسے کنجوسی اختیار کرکے بہت سا مال اکٹھا کرلینے میں بھی ان کے لئے کوئی فائدہ مند بات نہیں ہے۔ اگر بالفرض دنیا میں کوئی مصیبت پیش نہ آئی تو قیامت کے دن یقیناً یہ جمع کیا ہوا مال جو کنجوسی سے جمع کیا گیا تھا عذاب کی صورت میں ان کے گلے کا ہار بن کررہے گا لہٰذا وقتی مفادات میں زندگی گذارنا کسی کے لئے بھی مفید نہیں ہے۔
Ayahs 3:181–182

لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُ١ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَ قَتْلَهُمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ نَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 3:181 in the Quran reader

بلا شبہ اللہ نے ان لوگوں کا قول سن لیا جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ تو فقیر ہے اور ہم مال دار ہیں۔ یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہم اسے لکھ رہے ہیں۔ اور پیغمبروں کا جو قتل ناحق کیا ہے اسے بھی ہم نے لکھ رکھا ہے (قیامت کے دن ) ہم کہیں گے کہ اب آگ کا عذاب چکھو۔

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۚ Open ayah 3:182 in the Quran reader

یہ ان حرکتوں کی وجہ سے ہوا ہے جو تم نے آگے بھیجا ہے، اس لئے کہ اللہ تو اپنے بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 181 تا 183 سمع اللہ (اللہ نے سن لیا) اغنیاء (مال دار (غنی کی جمع) ذوقوا (تم چکھو (ذق) عذاب الحریق ( بھڑکتی آگ کا عذاب) ظلام (بہت زیادہ ظالم) عبید (بندے) ۔ تشریح : آیت نمبر 181 تا 183 سورة آل عمران کی ابتداء ہی سے خطاب اہل کتاب یعنی یہودیوں اور عیسائیوں سے ہو رہا تھا۔ درمیان میں غزوۂ احد سے متعلق ارشاد فرمایا گیا۔ اب پھر سلسلہ کلام اہل کتاب کی طرف ہے۔ گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی تعریف کی جو اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال خرچ کرتے ہیں۔ اور ان کی برائی بیان کی گئی جو مال میں کنجوسی اختیار کرتے ہیں۔ یہاں یہ فرمایا جارہا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اپنے سے کمزور اور بےبس لوگوں کی امداد واعانت کے لئے اپنا مال خرچ کریں تو اسی میں یہ آیت بھی نازل ہوئی ” من ذالذی یقرض اللہ قرضاً حسناً “ یعنی کون ایسا شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے ؟ حالانکہ اس آیت میں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کو قرض سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس پر گستاخ یہودیوں نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا (نعوذباللہ) مسلمانوں کا اللہ تو مفلس اور غریب ہوچکا ہے۔ اس کا خزانہ خالی ہوگیا ہے۔ اب وہ اپنے بندوں سے قرض مانگ رہا ہے تاکہ اپنی سلطنت کو چلا سکے۔ مسلمانوں کا اللہ فقیر ہوچکا ہے اور ہم مال دار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس گستاخانہ انداز پر صرف اتنا فرمایا کہ ہم نے اس گستاخی کو اپنے پاس لکھ کر رکھ لیا ہے تاکہ قیامت کے دن ان پر حجت تمام کرکے عذاب دیا جاسکے۔ پھر ان کی گستاخی کے ساتھ ان کے ایک اور جرم کا بھی ذکر فرما دیا کہ ان سے کوئی بعید نہیں ہے یہ تو وہ ہیں جنہوں نے اللہ کے نبیوں تک کو قتل کیا ہے تو ایسے لوگوں سے اور کس بات کی توقع کی جاسکتی ہے۔ فرمایا کہ قیامت کے دن ان کو شدید ترین عذاب دیا جائے گا۔ ارشاد ہے اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا بلکہ کچھ لوگ خود ہی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے عادی ہوتے ہیں۔
Ayahs 3:183–185

اَلَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَیْنَاۤ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰى یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْكُلُهُ النَّارُ١ؕ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِیْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالَّذِیْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْهُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:183 in the Quran reader

وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ بلاشبہ ہمیں اللہ نے حکم دیا تھا کہ ہم کسی نبی پر اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک وہ ہمارے سامنے ایک ایسی قربانی پیش نہ کرے جسے (آسمان سے) آکر آگ کھا جائے۔ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ مجھ سے پہلے تو اور بہت سے رسول آچکے ہیں جو کھلی نشانیاں لے کر آئے تھے اور وہ نشانی بھی لے کر آئے تھے جس کا تم مطالبہ کر رہے ہو۔ اگر تم سچے ہو

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ جَآءُوْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ وَ الْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 3:184 in the Quran reader

تو تم نے ان انبیاء کو کیوں قتل کر ڈالا تھا۔ اے نبی ﷺ پھر اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو آپ سے پہلے بھی یہ بہت سے رسولوں کو جھٹلا چکے ہیں جب کہ وہ کھلی نشانیاں صحیفے اور روشن کتابوں کے ساتھ آئے تھے۔

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 3:185 in the Quran reader

فرمایا بالاخر ہر جان دار کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ اور تمہیں تو تمہاری مزدوری قیامت کے دن ہی ملے گی۔ تو جو شخص دوزخ کی آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا یقیناً وہی کامیاب و بامراد ہے۔ اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 183 تا 185 عھد (وعدہ کیا) حتی یا تینا (جب تک نہ لائے ہمارے پاس) بقربان (قربانی) تاکله النار (اس کو آگ کھالے) کذب (جھٹلایا گیا) زبر (صحیفے) الکتاب المنیر (روشن کتاب) ذائقة الموت (موت کا مزہ چکھنا ہے) زحزح ( بچا لیا گیا) ادخل (داخل کردیا گیا) متاع الغرور (دھوکے کا سامان) تشریح : آیت نمبر ا 83 تا 185 یہود جو ہر طرح اسلام کا مذاق اڑانے میں سب سے آگے رہتے تھے انہوں نے ایک نئی بات کہنا شروع کردی کہ ہم ایمان تو لے آئیں مگر دشواری یہ ہے کہ ہمیں اللہ نے حکم دے رکھا ہے کہ جب تک آنے والا نبی ایک قربانی کا جانور پیش نہ کردے جس کو آسمان سے آکر غیبی آگ کھا جائے اس وقت تک ہم اس پر ایمان نہ لائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس احمقانہ بات کا جواب یہی دیا کہ اس سے پہلے انبیاء کرام بھی تو اس طرح کے معجزات دکھا چکے ہیں کیا تمہارے آباء واجدادا ن معجزات کو دیکھ کر ایمان لائے ؟ اگر ان کو توفیق نہیں ہوئی تو تمہیں کای توفیق ہوگی۔ انبیاء کرام نے یہ معجزات دکھلائے لیکن اس کے باوجود بھی ان کو قتل کردیا گیا ۔ جس کو ایمان لانا ہوتا ہے وہ اتنے بہانے اور باتیں نہیں کیا کرتا۔ فرمایا گیا کہ اے اللہ کے رسول اگر آج یہ آپ کو طرح طرح سے ستا رہے ہیں اور آپ پر ایمان نہیں لاتے تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ یہ اس سے پہلے انبیاء کرام کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرچکے ہیں۔ فرمایا گیا کہ موت سے تو ہر شخص کو واسطہ پڑتا ہے پھر انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کامیاب ہونے والے کون تھے اور دنیا وآخرت کی ناکامیاں کس نے سمیٹ لی ہیں۔ یقیناً وہ شخص جو دوزخ کی آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہی کامیاب و بامراد ہے اور یہ دنیا کی چند روزہ زندگی تو دھوکے کا سامان ہے۔ اصل چیز آخرت اور اس کی زندگی ہے۔