23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 23:93–118

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 23:93 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ اے میرے پروردگار جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا گیا ہے۔

رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:94 in the Quran reader

اگر آپ مجھے دکھائیں تو مجھے ان ظالموں میں شامل نہ کیجئے گا۔

وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ Open ayah 23:95 in the Quran reader

اور ہم اس بات پر قدرت رکھتے ہیں کہ جس عذاب کا ان سے وعدہ کررکھا ہے وہ آپ کو دکھادیں۔

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ Open ayah 23:96 in the Quran reader

اے نبی ﷺ آپ ان کی برائیوں کو ایسی اچھائیوں سے دور کردیجئے جو سب سے بہتر ہوں۔ ہم خوب جانتے ہیں جو باتیں بناتے ہیں۔

وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ Open ayah 23:97 in the Quran reader

اور آپ کہئے اے میرے پروردگار میں شیطانی وسوسوں سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں

وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ Open ayah 23:98 in the Quran reader

اور اے میرے پروردگار میں اس سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ شیاطین میرے پاس آئیں۔

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ Open ayah 23:99 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ اے میرے رب مجھے واپس لوٹا دیجئے

لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:100 in the Quran reader

تاکہ دنیا جسے میں چھوڑ آیا ہوں اس میں نیک عمل کروں۔ (اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں) ہر گز نہیں۔ یہ ایک (بےحقیقت) بات ہے جسے وہ کہہ رہے ہیں۔ ان کے آگے عالم برزخ ہے اس دن تک کے لئے جب تک وہ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے۔

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 23:101 in the Quran reader

پھر جس وقت صور پھونکا جائے گا تو اس دن لوگوں کے درمیان نہ تو رشتے ناطے ہوں گے اور نہ ہی ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 23:102 in the Quran reader

پھر جن لوگوں کے (اعمال کے) وزن بھاری ہوں گے تو یہی لوگ کامیاب و بامراد ہوں گے۔

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 23:103 in the Quran reader

اور جن کے وزن کم ہوں گے تو یہ لوگ وہ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو بھاری نقصان میں ڈالا اور وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔

تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ Open ayah 23:104 in the Quran reader

وہ آگ ان کے چہروں کو جھلس دے گی اور اس میں ان کی شکلیں بگڑ جائیں گی۔

اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 23:105 in the Quran reader

ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تمہارے پاس میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی گئی تھیں اور پھر تم نے ان کو نہیں جھٹلایا ؟

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ Open ayah 23:106 in the Quran reader

وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہمار بدبختی ہمارے اوپر مسلط ہوگئی تھی اور ہم گمراہ قوم میں سے ہوگئے تھے۔

رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 23:107 in the Quran reader

اے ہمارے رب ہمیں اس جہنم سے نکال دیجئے۔ آئندہ اگر ہم ایسا کریں تو بیشک ہم بےانصاف ہوں گے۔

قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ Open ayah 23:108 in the Quran reader

اللہ فرمائیں گے اس جہنم میں ذلیل و خوار ہو کر پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔

اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 23:109 in the Quran reader

(اس کے برخلاف) میرے بندوں میں سے ایک جماعت تھی جو مجھ سے کہتی تھی کہ اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لے آئے ہیں ہماری مغفرت فرمادیجئے ہم پر رحم کیجئے آپ تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والے ہیں۔

فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ Open ayah 23:110 in the Quran reader

پھر تم نے ان کا مذاق بنایا یہاں تک کہ تم نے میری یاد ہی کو بھلا دیا۔ اور تم ان کا مذاق اڑاتے رہے۔

اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 23:111 in the Quran reader

آج میں ان کے صبر کا بدلہ دوں گا اور بیشک وہی لوگ کامیاب اور بامراد ہونے ولے ہیں۔

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ Open ayah 23:112 in the Quran reader

اللہ ان سے پوچھیں گے کہ تم زیمن پر گنتی کے کتنے سال رہے ہو۔

قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ Open ayah 23:113 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ ایک دن یا ایک دن سیبھی کم۔ آپ ان (فرشتوں) سے پوچھ لیجئے جو شمار کرنے والے ہیں۔

قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:114 in the Quran reader

اللہ فرمائیں گے تم واقعی زیمن پر تھوڑی مدت ہی رہے ہو۔ کیا اچھا ہوتا کہ تم اس کو جان لیتے۔

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 23:115 in the Quran reader

کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ ہم نے تمہیں بےفائدہ پیدا کیا ہے۔ اور تم ہماری طرف لوٹائے نہ جائو گے۔

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ Open ayah 23:116 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ جو خود بادشاہ ہے بلندو برتر ہے۔ اس کے سوا کوئی ممعبود نہیں ہے وہ عرش عظیم کا مالک ہے ۔

وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 23:117 in the Quran reader

اور اگر کوئی شخص اللہ کے سوا کسی اور کو معبود سمجھتا ہے جس کی اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے تو اس کا حساب اس کے پروردگار کے ہاں ہوگا۔ بلاشبہ کافروں کو فلاح نصیب نہ ہوگی۔

وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 23:118 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہئے اے میرے پروردگار بخش دیجئے اور رحم کیجئے اور آپ ہی بہترین رحم کرنے والے ہیں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 93 تا 118 : ترینی (مجھے دکھائیں) ‘ لاتجعلنی ( مجھے نہ بنائے گا) ‘ ادفع ( دورکردے) ‘ احسن ( بہترین) ‘ ھمزات (وسوسے) ‘ ترکت ( میں نے چھوڑ دیا) ‘ یحضرون (وہ حاضر ہوتے ہیں) برزخ (آڑ۔ پڑدے کے پیچھے) انساب (نسب۔ رشتے ناتے) ‘ ثقلت (بھاری ہونا) ‘ خفت (ہلکی ہوگی) موازین (وزن) خسروا ( نقصان کیا) ‘ تلفح (جھلس دی گئی) ‘ کالحون (بگڑے چہرے) ‘ شقوۃ (بدنصیبی۔ بد بختی) ‘ اخسوا (دور ہوجائو) ‘ سخریا (مذاق) ‘ تضحکون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں) ‘ العادین (شمار کرنے والے۔ گننے والے) ‘ عبثا (فضول) خیرالراحمین ( بہترین رحم کرنے والا) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 93 تا 118 : جب اللہ کے نبی اور رسول اللہ کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچاتے ہیں تو خوش نصیب اس کو قبول کرتے ہیں اور بدنصیب لوگ اس کا انکار کرکے کفر و شرک میں آگ بڑھتے چلے جاتے ہیں اور اپنے آپ کو جہنم اور عذاب الہی کا مستحق بنا لیے یہں۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو سخت سزادیتا ہے۔ کفار کے لئے یہ عذاب کا فیصلہ کبھی تو پیغمبروں کی زندگی میں ان کو دیکھا دیا جاتا ہے اور کبھی ان کے بعد۔ رسول اللہ ﷺ نے جب اللہ کے دین اور اس ابدی پیغام کو پہنچانے کی کوشش کی جس میں کفار مکہ اور آنے والی نسلوں کی فلاح اور کامیابی پوشیدہ تھی تو وہ انکار کرکے اللہ کی رحمت سے دور ہوتے چلے گئے۔ نبی کریم ﷺ کے صدقے اب اس امت پر وہ عذاب تو نہیں آئیں گے جو گذشتہ امتوں پر آئے لیکن سزا کے طور پر بیماریوں ‘ طوفانو ‘ زلزلوں اور اپس کے اختلافات اور جھگڑوں کے عذاب آتے رہیں گے۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے (پوری امت سے ) کہا جارہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیجئے کہ اے میرے پروردگار آپ نے ان کافروں سے جس عذاب کا وعدہ کیا ہے اگر وہ مجھے اسی دنیا میں دکھادیں تو وہ عذاب اس طرح آئے کہ میں بھی دیکھوں لیکن مجھے ظالموں میں شریک نہ کیجئے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہمیں اس بات پر پوری قدرت حاصل ہے کہ اگر ہم چاہیں تو کفارو مشرکین کے لئے جس عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے وہ آپ کو بھی دکھادیں لیکن اللہ نے ان کے لئے فیصلے کا ایک دن مقرر کر رکھا ہے۔ اس فیصلے کے دن تک بہر حال آپ ان کے ساتھ ہر برائی کا بدلہ بھلائی اور نیکی سے دیتے رہیے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ان کے کرتوت کیا ہیں اور وہ کس طرح شیطان کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ فرمایا کہ آپ بھی دعا کرتے رہیے کہ الہی میں شیطان کے وسوسوں اور شرارتوں سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں او اس سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں۔ کفار و مشرکین کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جب ان میں سے کسی کو موت آئے گی تو وہ شرمندگی سے یہ کہیں گے کہ ہمیں تو پھر اسی دنیا میں بھیج دیجئے جس کو ہم چھوڑ کر آئے ہیں تاکہ ہم وہاں جا کر خوب نیک اور بھلے کام کریں۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ کیونکہ ان کی یہ باتیں ہی باتیں ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ان کے اور دنیا کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی گئی ہے جو اسی وقت ہٹے گی جب صور پھونکا جائے گا اور اولین و آخرین کے تمام لوگ اپنی قبروں سے اٹھ کر اس میدان حشر میں جمع ہوں گے جہاں سارے رشتے ناطے ٹوٹ جائیں گے وہاں کوئی کسی کو نہیں پوچھے گا۔ ہر شخص اپنے اعمال لے کر حاضر ہوگا ۔ اچھے یا برے۔ جس کے اعمال کے وزن بھاری ہوں گے اس دن وہی کامیاب و بامراد ہوں گے لیکن جن کے اعمال ہلکے اور بےوزن ہوں گے ان کو اس بات پر بڑا افسوس ہوگا۔ کہ انہوں نے اپنا بہت بڑا نقصان کرلیا ہے اور ان کو جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جھونک دیا جائے گا۔ وہ آگ ان کے چہرے جھلس دے گی اور ان کے چہروں کو بگاڑ کر رکھ دے گی۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ جب میری آیات تمہیں سنائی جاتی تھیں اور برے انجام سے ڈرایا جاتا تھا تو تم ان آیات کو جھٹلایا کرتے تھے۔ وہ کہیں گے کہ واقعی یہ ہماری بد نصیبی ہے اور قدقسمتی نے ہمیں چاروں طرف سے گھیر لیا تھا اور ہم بھٹک گئے تھے۔ درخواست کریں گے الہیٰ ! اب ہمیں اس جہنم سے نجات دید دیجئے دنیا میں لوٹا دیجئے اگر ہم پھر بھی ایسا کریں تو بیشک ہم سے بڑا بےانصاف کوئی نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ تم اسی طح ذلیل و خوار پڑے رہو اور آج مجھ سے بات نہ کرو۔ ارشاد فرمایا جائے گا کہ میرے بندوں میں سے وہ بھی ایک جماعت تھی جو ہر وقت اپنے گناہوں کی معافی مانگتی رہتی تھی اور کہتی تھی کہ الہی ہم پر رحم فرمائیے کیونکہ آپ سے بڑا رحم کرنے والا کون ہے ؟ کفار سے فرمایا جائے گا کہ تم نے میرے بندوں کی اس جماعت کو مذاق کا نشانہ بنا لیا تھا اور ہماری یاد سے تم مسلسل غفلت برت رہے تھے اور ان نیک لوگوں پر تم ہنستے تھے۔ آج کے دن ہم نے ان کو ان کے صبرو برداشت کا بدلہ عطا کردیا اور آج وہ کامیاب و بامراد ہیں۔ فرمایا جائے گا کہ اچھا تو یہ بتائو کہ تم دنیا میں کتنے عرصے تک رہے ہو وہ کہیں گے ہمیں تو ایسا معلوم ہوا جیسے دن یا آدھے دن تک رہے ہوں گے۔ اس کا صحیح اندازہ تو انہیں ہوگا۔ جو اس کو شمار کررہے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ واقعی دنیا کی زندگی بڑی مختصر ہے اور تم اسی مختصر عرصے میں رہے ہو۔ لیکن کیا اچھا ہوتا کہ اس تھوڑی سی مدت میں کبھی تم اس بات پر غور کرلیتے کہ تمہارے کفر و شرک اور گناہوں کا انجام کیا ہوگا۔ فرمایا جائے گا کہ تم نے تو یہ سمجھ لیا تھا کہ ہم نے تمہیں یوں ہی کھیل کود کے طور پر بنارکھا ہے اور تمہیں ہماری طرف لوٹ کر نہیں آنا ہے۔ اگر تمہیں اس کا احساس ہوتا تو آج یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا ۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے ‘ سچا بادشاہ ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک و مختار ہے۔ جو لوگ ایسے با اختیار معبود کو چھوڑ کر بےبس ومجبور اور بےسند معبودوں کو پکارتے ہیں وہ ناکام ترین لوگ ہیں اور کافروں کو کبھی فلاح و کامیابی نصیب نہ ہوگی۔ آخری میں نبی کریم ﷺ (اور آپ کی امت کو) خطاب کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ گناہوں کا معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا صرف اللہ ہی ہے لہذا تم ہمیشہ یہی کہو کہ اے ہمارے پروردگار ہمارے گناہ معاف کردیجئے۔ اور ہم پر رحم کیجئے کیونکہ سب رحم کرنے والوں میں آپ ہی سب سے بڑھ کر رحم و کرم کرنے والے ہیں۔ اس مضمون پر سورة مومنون کی ختم فرمایا گیا ہے۔ اس کی ابتداء اس جملے سے کی گئی تھی کہ اہل ایمان ہی کامیاب و بامراد ہیں اور ختم اس جملے پر کیا گیا ہے کہ جو اللہ کے منکر ہیں ان کو کبھی فلاح و کامیابی نصیب نہ ہوگی۔ اگر انہوں نے توبہ کرلی اور اپنے حقیقی معبود کو پہچان کر اس کی عبادت و بندگی میں لگ گئے تو وہ اللہ اتنا مہربان ہے کہ وہ انسانوں کے تمام گناہوں کو معاف کرکے رحم و کرم کرنے والا ہے۔ الحمد للہ سورة المومنون کا ترجمہ ‘ تشریح مکمل ہوا۔ واخر و دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین