23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 23:33–44

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ الْاٰخِرَةِ وَ اَتْرَفْنٰهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَ یَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:33 in the Quran reader

اور اس (نوح (علیہ السلام) کی ) قوم کے ان سرداروں نے جنہوں نے کفر کیا اور آخرت کی حاضری کو جھٹلایا جن کو ہم نے دنیاوی زندگی کا عیش و آرام دے رکھا تھا کہا کہ یہ تو تم ہی جیسا بشر ہے وہ اس میں سے کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور اس میں سے پیتا ہے جو تم پیتے ہو۔

وَ لَئِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَۙ Open ayah 23:34 in the Quran reader

اور اگر تم نے اپنے جیسے بشر کی اطاعت قبول کرلی تو یقیناً تم سخت نقصان میں رہو گے۔

اَیَعِدُكُمْ اَنَّكُمْ اِذَا مِتُّمْ وَ كُنْتُمْ تُرَابًا وَّ عِظَامًا اَنَّكُمْ مُّخْرَجُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:35 in the Quran reader

(انہوں نے کہا) کیا وہ تم سے یہ وعدہ کرتا ہے کہ جب تم مرجائو گے اور تم مٹی اور ہڈیوں (کا ڈھیر) بن جائو گے تب تم دوبارہ (زندہ کر کے قبروں سے) نکالے جائو گے ؟

هَیْهَاتَ هَیْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:36 in the Quran reader

(یہ بات تو) بعید ہے اور بالکل بعید ہے وہ تمہیں وعدہ دیا جارہا ہے ۔

اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ۪ۙ Open ayah 23:37 in the Quran reader

بس یہی دنیا کی زندگی ہے جس میں ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں۔ اور ہم دوبارہ (قبروں سے) نہیں اٹھائے جائیں گے۔

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلُ اِ۟فْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا وَّ مَا نَحْنُ لَهٗ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 23:38 in the Quran reader

یہ ایک ایسا شخص ہے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے اور ہم اس پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:39 in the Quran reader

رسول نے کہا کہ اے میرے پروردگار اس پر میری مدد فرما کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا ہے۔

قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْنَۚ Open ayah 23:40 in the Quran reader

(اللہ نے) فرمایا کہ وہ بہت شرمندہ ہوں گے۔

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءً١ۚ فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:41 in the Quran reader

پھر انہیں وعدہ الہی کے مطابق ایک زبردست چنگھاڑنے آپکڑا۔ پھر ہم نے ان کو کوڑا کباڑ بنا کر رکھ دیا اور پھر وہ ظالم قوم (اللہ کی رحمت سے) دور ہوگئی۔

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 23:42 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بعد اور امتیں پیدا کیں۔

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَؕ Open ayah 23:43 in the Quran reader

کوئی قوم نہ اپنے وقت سے پہلے ختم ہو سکتی ہے اور نہ اس کے بعد۔

ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا١ؕ كُلَّمَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَّ جَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ١ۚ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 23:44 in the Quran reader

پھر ہم نے لگاتار اپنے رسول بھیجے۔ جس قوم کے پاس بھی کوئی رسول آیا انہوں نے اس کو جھٹلایا۔ ہم بھی ایک کے بعد دوسری (نافرمانض قوم کو تباہ کرتے چلے گئے اور ان کو بھولی بسری کہانیاں بنا کر رکھ دیا۔ (ان لوگوں پر) اللہ کی ما رہے جو ایمان نہیں لائے۔

لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 44 : لقائ (ملاقات۔ حاضری) ‘ اترفتا (ہم نے عیش و آرام کیا) ‘ ایعدکم (کیا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے) ‘ تراب (مٹی) ‘ ھیھات (بیعد ہے۔ دور ہے) ‘ حیاتنا (ہماری زندگی) ‘ نموت (ہم مرجاتے ہیں) ‘ نحیا (ہم زندہ رہتے ہیں) ‘ مبعوثین (اٹھائے جانے والے) ‘ افتری (جھوٹ باندھا) ‘ یصبحن (وہ رہ جائیں گے۔ وہ ہوجائیں گے) ‘ نادمین (شرمندہ) ‘ الصیحۃ (چنگھاڑ) ‘ غثائ (کوڑا۔ کباڑ) ‘ ماتسبق (نہیں آگے بڑھتی) ‘ اجل (مدت) ‘ تترا (مسلسل ایک کے بعد دوسرا) ‘ احادیث (باتیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 33 تا 44 : حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی نافرمان قوم کے بھیانک انجام کے بعدان آیات میں کسی نبی یا رسول کا نام لئے بغیر بعض انبیا کی امتوں کی طرف اشارہ کر کے چند اصولی اور بنیادی باتوں کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔ فرمایا کہ اللہ کے حکم سے ہر زمانے ہر ملک اور ہر خطے میں راہ سے بھٹک جانے والوں کی ہدایت کے لئے مسلسل اور لگاتار اپنے نبیوں اور رسولوں کو بھیجا جنہوں نے اپنی اپنی قوم سے فرمایا کہ وہ اللہ پر ایمان لائیں اسی کی عبادت و بندگی کریں کیونکہ اس کے سوا کوئی دوسرا عبادت و بندگی کے لائق نہیں ہے۔ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک یا ساتھی نہیں ہے۔ ٭ وہ اپنے فیصلے کرنے میں پورا اختیار رکھتا ہے اور اسے اس کائنات میں پوری طرح کی طاقت وقوت حاصل ہے۔ یہ انبیاء کرام پوری زندگی اسی کی جدوجہد اور کوشش کرتے رہے۔ اس کے برخلاف دوسری طرف “ مترفین ‘ تھے یعنی عیش و آرام پسند ‘ مال و دولت کی چکا چوند میں مست ‘ اولاد کی کثرت پر ناز کرنے والے ‘ اپنے آپ کو عام لوگوں سے بلندو بر تر اور بڑا سمجھنے والے لوگ تھے۔ جو اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے تھے۔ اللہ کی وحدانیت ‘ آخرت کا انکار اور بد عملی میں سب سے آگے تھے۔ جو اپنے اقتدار کی ہلتی ہوئی دیواروں کو سہارادینے کے لئے اللہ کے پاک نفوس انبیاء کرام کی یہ کہہ کر توہین کرتے تھے کہ تمہارے اور ہمارے درمیان آخر وہ کون سا فرق ہے جس کی وجہ سے ہم تمہیں اللہ کا نبی تسلیم کرلیں۔ تم ہماری طرح ہم جیسے آدمی ہو ‘ بیوی بچے رکھتے ہو ‘ کھاتے پیتے ہو اور بازاروں میں چلتے پھرتے ہو ‘ مال و دولت اور دنیاوی مرتبہ اور کوئی اعلی مقام بھی نہیں رکھتے ہو۔ اگر ہم تم جیسے لوگوں کی باتوں میں آگئے تو سوائے نقصان کے اور کیا حاصل کرسکیں گے۔ کبھی وہ مر کر دوبارہ زندہ ہونے کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ جب ہم مرجائیں گے ‘ ہمارا وجود مٹی ہوجائے گا ‘ ہماری ہڈیاں گل سڑ جائیں گی اور ہمارے ذرات بکھر جائیں گے تو ہم دو بارہ زندہ کر کے اللہ کے سامنے حاضر کئے جائیں گے۔ وہ کہتے یہ تو ایک ایسی بات ہے جس کا عقل و فہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور بہت ہی دور کی بات ہے۔ وہ کہتے آخرت ‘ جنت اور جہنم یہ سب کہنے کی باتیں ہیں اصل یہی دنیا کی زندگی ہے ہم اسی میں پیدا ہوئے ‘ اسی میں پلے بڑے ‘ اسی میں مرکھپ جائیں گے۔ مر کر دوبارہ زندہ ہونا خواہ مخواہ کی بات ہے یہ سب گھڑی ہوئی باتیں ہیں ہم تو ان باتوں پر یقین کرنے والے ہیں ہیں۔ تمام انبیاء کرام کے ساتھ یہی ہوا کہ ان کو اور ان کی تعلیمات کو جھٹلایا گیا۔ جب ان کی تعلیم کا مذاق اڑایا گیا اور کسی نے ان کی باتوں کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم نہیں کیا تو انبیاء کرام کے منہ سے حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرح یہی نکلا کہ الہی یہ ہمیں جھٹلا رہے ہیں اور کوئی بات ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ آپ ہماری مدد کیجئے اور اس معاملے میں فیصلہ کر دیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اب وہ وقت بہت زیادہ دور نہیں ہے کہ جب ان کو پکڑا جائے گا تو یہ سخت شرمنہ اور پشیمان ہوں گے۔ جب اللہ کا وہ فیصلہ آیا تو ایک سخت کڑک ‘ چمک اور زبردست آواز نے ان کو اور ان کی تہذیب اور تمدن کو تباہ و برباد کرکے کوڑا کباڑ بنا کر رکھ دیا اور ان پر اللہ کی لعنت مسلط کردی گئی۔ فرمایا کہ انبیاء کرام کے آنے کا سلسلہ جاری رہا۔ اس نے لگاتار نبیوں اور رسولوں کو بھیجا اور جب بھی انہوں نے ان کو جھٹلایا اور ان کی لائی ہوئی تعلیمات کا انکار کیا تو اللہ نے ان کے برے اعمال کے سبب سے ان کی قوم کو تہس نہیس کر کے ان کی زندگیوں اور ترقیات کو ایک قصہ کہانی بنا کر رکھ دیا۔ اور ایسے لوگوں کی زندگیوں پر اللہ کی لعنت اور پھٹکار برستی رہی۔ یہ انبیاء کرام کون تھے ان کی قومیں کونسی تھیں اگر چہ ان آیات میں اس کی کوئی وضاحت نہیں ہے لیکن قرآن کریم کے الفاظ سے ایسا لگتا ہے کہ ان سے مراد قوم عاد اور قوم ثمود ہے۔ قوم عاد کی طرف حضرت ہود (علیہ السلام) کو اور قوم ثمود کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) کو بھیجا گیا تھا۔ اکثر مفسرین نے ان آیات میں ذکر کی گئی قوموں سے مراد ان دونوں قوموں کو لیا ہے۔ ان آیات میں درحقیقت کفار مکہ کو آئینہ دکھایا گیا ہے اور اس طرح متوجہ کیا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ بھی اور نبیوں کی طرح آخری نبی اور آخری رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ اگر کفار مکہ نے سابقہ قوموں کی طرح ان کا مذاق اڑایا اور ان پر ایمان نہ لائے تو وہ اپنے برے انجام پر غور کرسکتے ہیں کیونکہ اللہ کا قانون اور دستور ایک ہی رہا ہے اور ہے۔ وہ نیکیوں پر چلنے والوں کو نواز تا ہے اور نجات دیتا ہے لیکن نافرمانوں اور نبیوں کو جھٹلانے والوں کو جڑ و نبی اد سے اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے۔
Ayahs 23:45–50

ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَ اَخَاهُ هٰرُوْنَ١ۙ۬ بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 23:45 in the Quran reader

پھر ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں اور کھلے دلائل کے ساتھ

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا عَالِیْنَۚ Open ayah 23:46 in the Quran reader

فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا جنہوں نے تکبر کیا تھا اور وہ بڑے سرکش لوگ تھے۔

فَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَ قَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَۚ Open ayah 23:47 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں حالانکہ ان دونوں (موسی (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) ) کی قوم ہماری خدمت گذار ہے۔

فَكَذَّبُوْهُمَا فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِیْنَ Open ayah 23:48 in the Quran reader

انہوں نے ان دونوں کو جھٹلایا اور پھر وہ ہلاک ہونے والوں میں (شامل) ہوگئے

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 23:49 in the Quran reader

اور یقیناً ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تاکہ وہ ہدایت حاصل کریں۔

وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗۤ اٰیَةً وَّ اٰوَیْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ۠ Open ayah 23:50 in the Quran reader

اور ہم نے ابن مریم (علیہ السلام) (عیسی (علیہ السلام) ) اور ان کی والدہ ( کی زندگی) کو ایک معجزہ بنادیا اور ان دونوں کو ایسی بلند جگہ عطا کی جو سکون کی جگہ تھی اور پانی (کا ایک چشمہ) بہہ رہا تھا۔

لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 50 : سلطان مبین (کھلے دلائل) ‘ استکبروا (انہوں نے تکبر کیا۔ بڑائی کی) ‘ عالین (سرکش) ‘ عابدون (عبادت کرنے والے) ‘ اوینا (ہم نے ٹھکانہ دیا) ‘ ربوۃ (بلند ٹیلہ۔ اونچا مقام) ‘ ذات قرار (ٹھہرنے کی جگہ۔ سکون کی جگہ) ‘ معین (جاری پانی۔ چشمہ) ۔ تشریح : آیت نمبر 45 تا 50 : حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے کے بعد بعض نبیوں کی امتوں کا نام لئے بغیر ان کا تذکرہ فرمایا گیا ہے اور ان آیات میں خاص طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر خیر فرمایا گیا ہے ان واقعات کو اس لئے بھی بیان کیا گیا تاکہ نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو اس سے تسلی ہوجائے کہ اگر آج قریش مکہ نبی کریم ﷺ اور آپ کی لائی ہوئی تعلیمات کو جھٹلا رہے ہیں اور طرح طرح ستا رہے ہیں تو یہ کوئی ایسی نئی یا انوکھی بات نہیں ہے۔ بلکہ منکرین اور متکبرین کا ہمیشہ سے یہی طریقہ رہا ہے کہ اللہ کے نبی جب بھی تشریف لائے تو ان کو جھٹلایا گیا اور ہر طرح ستایا گیا لیکن جن لوگوں نے ان کو جھٹلایا ان کا انجام بھی بڑا بھیانک اور عبرت ناک ہوا ہے۔ اگر آج یہ کفار مکہ آپ کی بات سننے سے انکار کررہے ہیں اور اپنے دنیاوی مفادات کی خاطر ابدی سچائی کو جھٹلا رہے ہیں تو ان کا انجام بھی دوسری گذری ہوئی قوموں سے مختلف نہ ہوگا۔ لیکن اگر انہوں نے ایمان کا راستہ چن لیا تو دین و دنیا کی تمام عظمتیں عطا کی جائیں گی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور نبی کریم ﷺ کے واقعات میں بڑی یکسانیت ہے جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر سے مدین ہجرت کرنا پڑی اور یہدوی ظالم بادشاہ ہیرودس کی شدید مخالفت نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے دل میں اس بات کو الہام فرمادیا کہ یہ ظالم بادشاہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنا چاہتا ہے تو حضرت مریم (علیہ السلام) آپ کو لے کر مصر کی طرف ہجرت فرما گئیں۔ جب تک اس ظالم بادشاہ کی موت واقع نہیں ہوگئی وہ فلسطین واپس نہیں آئیں۔ اسی طرح جب کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثاروں کو طرح طرح کی اذیتیں دیں اور نبی کریم ﷺ کے قتل کرنے کی سازشیں کیں تو آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ بیت اللہ کی سرزمین مکہ مکرمہ چھوڑ نے پر مجبور کردیئے گئے اور آپ نے اور آپ کے صحابہ کرام ؓ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ اور انبیا کی طرح آپ کا ہجرت فرمانا اس بات کی واضح اور روشن دلیل تھی کہ اگر کفار مکہ نے دین اسلام کو قبول نہیں کیا تو ان کو بھی سخت سزاد ئیے جانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے عظیم پیغمبر اور بنی اسرائیل کے ایک فرد تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں بنی اسرائیل کے کچھ افراد مصر میں آباد ہوگئے تھے ۔ جن کی تعدا روز بروز بڑھنا شروع ہوئی۔ اور دین اسلام کی تبلیغ کی برکت تھی کہ بنی اسرائیل کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی۔ جب تک بنی اسرائیل انبیاء کرام کے راستے پر چلتے رہے اور ان کی لائی ہوء تعلیمات کو مشعل راہ بنائے رہے قوم بنی اسرائیل عزت و عظمت کی سر بلندیوں پر فائز رہی لیکن جب انہوں نے انبیاء کی اولاد ہونے کے باوجود انبیاء کا راستہ چھوڑ دیا تو وہی قوم ذلتوں کی پستی میں گرتی چلی گئی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے وصال کے بعد حالات نے ایک نئی کروٹ لی اور مصری حکومت کا انتظام قبطیوں کے ہاتھ میں چلا گیا۔ ان کے باشاہوں کا لقب فرعون تھا۔ فرعون اور اس کے ماننے والے اگرچہ بہت تھوڑے سے تھے اور بنی اسرائیل کی تعداد بہت زیادہ تھی لیکن فرعونوں کے ظلم و ستم اور قوم بنی اسرائیل کی بےحسی اور جہالت نے انہیں اس قدر پست اور ذلیل کردیا تھا کہ قوم بنی اسرائیل کی حیثیت غلاموں جیسی ہو کر رہ گئی اور ہر وہ کام کرنے پر مجبور کردیئے گئے جو معاشرہ کا ذلیل ترین کام تھا۔ انہیں دو وقت کی روٹی اور سر چھپانے کی فکر نے اس درجہ پر پہنچا دیا کہ وہ اپنے منصب اور مقام کو بھول بیٹھے۔ وہ یہ بھول گئے کہ وہ کن نبیوں کی اولاد ہیں۔ اور دنیا پر انہوں نے حکمرانی کی تھی۔ پستی اور ذلت کی انتہا یہ تھی کہ جب فرعون نے بنی اسرائیل کی ماؤں کی گود سے بچے چھین چھین کر ان کے سامنے ان کو ذبح کرنا شروع کیا تو وہ فرعون کی مزاحمت کرنے کی اہلیت تک کھو بیٹھے تھے ۔ حالانکہ ایک بلی جیسی کمزور مخلوق کے بچوں کی طرف بھی اگر کوئی ہاتھ بڑھاتا ہے تو وہ اپنی طاقت کے مطابق حملہ کردیتی ہے مگر بنی اسرائیل کا یہ عالم تھا کہ ان میں کوئی اتحاد و اتفاق نہ تھا اور اس ظالم بادشاہ کے ظلم کا جواب تک دینے کی صلاحیت کھو چکے تھے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پر جوش خطبات اور تقریروں نے قوم بنی اسرائیل میں ایک نئی زندگی اور اتحاد اتفاق پیدا کردیا۔ انہوں نے قوم کو سمجھایا کہ تمہاری ذلت کا سبب یہی ہے کہ تم نے اللہ کا راستہ چھوڑ دیا ہے تم اس بات کو بھول بیٹھے ہو کہ تم کن انبیاء کی اولاد ہو۔ تمہاری وراثت تو علم اور عمل خیر تھا مگر تم دنیا کی بےحقیقت چیزوں سے دل لگا بیٹھے ہو۔ ایک وقت آیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پوری قوم بنی اسرائیل جن کی تعداد پچیس لاکھ کے قریب تھی مصر سے فلسطین کی طرف ل کر چلے۔ فرعون اور اس کے ماننے والوں کو غرق کردیا گیا اتنے بڑے احسان کے بعد سب کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے تھا مگر فرعون کے غرق ہونے کے بعد بنی اسرائیل پھر سے اللہ کی نافرمانیوں میں لگ گئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے صحرائے سینا میں ایک کتاب ہدایت توریت نازل فرمائی تاکہ قوم بنی اسرائیل اس پر عمل کر کے اپنی دنیا اور آخرت کو سنوار سکیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون فلسطین پہنچنے سے پہلے وصال فرما گئے۔ فلسطین پہنچ کر بنی اسرائیل نے اپنی چھوٹی چھوٹی ریاستیں بناڈالیں اور اپنے اتحاد و اتفاق کو بھول گئے۔ اور ایک مرتبہ پھر یہ قوم نافرمانیوں میں لگ گئی اور بار بار اللہ کا عذاب نازل ہوتا رہا۔ ان کی چھوٹی چھوٹی ریاستیں کفار و مشرکین کے قبضے میں چلی گئیں اور قوم بنی اسرائیل اس تباہی کے کنارے پہنچ گئی جہاں سے قوموں کی واپسی ناممکن ہوا کرتی ہے۔ انبیاء کرام تشریف لاتے رہے یہ قوم کچھ وقت تک سنبھل جاتی لیکن پھر مسلسل نافرمانیوں کو اپنا مزاج بنا لیتی اسی شدید انتشار کے بعد اللہ نے ان کی اصلاح وہدایت کے لئے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم (علیہ السلام) کو بھیجا۔ اس وقت یہودیوں کی ذہنی پستی کا شاہ کارہیر و دس بادشاہ تھا جو کوئی بھی حق اور سچ بات سننے کے لئے تیار نہ ہوتا تھا ۔ جب اسے کسی ذریعہ سے یہ معلوم ہوا کہ ایک شخص ایسے آنے والے ہیں جن کو سرداری اور عظمت عطا کی جائے گی تو وہ حضرت عیسیٰ کا سخت دشمن بن گیا۔ اس نے ان کو قتل کرنا چاہا تو اللہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے دل میں اس بات کو الہام فرمایا کہ وہ ان کو لے کر کہیں دور چلی جائیں چناچہ حضرت مریم ؐ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو لے کر مصر تشریف لے گئیں اور جب تک اس یہودی ظالم باد شاہ کا انتقال نہیں ہوگیا اس وقت تک مصر سے فلسطین نہیں آئیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جوان ہوچکے تھے جب فلسطین واپس آکر آپنے اللہ کا دین پہنچانا شروع کیا تو پوری قوم بنی اسرائیل جواب یہودی قوم بن چکی تھی اس نے نہ صرف شدید مخالفت کی بلکہ ہر طرح کی سازشوں کا جال پھیلنا شروع ہوگیا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خطبات اور تقریروں سے لوگوں کی آنکھیں کھلنا شروع ہوئیں تو یہودی اس سے گبھرا گئے اور ان کے گرد ایسا گھیرا تنگ کرنا شروع کردیا کہ آخر کار ان کو ملک و قوم کا باغی قرار دے کر پھانسی دیئے جانے کا حکم دیدیا گیا۔ اس وقت اللہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا ( اب انشا اللہ وہ قیامت کے قریب دوبارہ تشریف لائیں گے) اللہ نے آپ کو انجیل جیسی کتاب عطا فرمائی جو آپ کے جانے کے بعد چند لوگوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن گئی اور انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیمات کو بھلا کر خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا بنا دیا اور قوم کو سمجھایا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں جو تمام دنیا کے انسانوں کے گناہ اپنے اوپر رکھ کر پھانسی چڑھ گئے اور ساری دنیا کے گناہ معاف کرادیئے۔ اس عقیدہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ماننے والوں کو ایمان اور حسن عمل سے دور کردیا اور اس طرح یہ قوم بھی یہودیوں کی طرح نصاری یا عیسائی کہلانے لگی۔ جب نبی کریم ﷺ کی بعثت ہوئی اس وقت سب سے آگے دین کی علم بردار یہی دو قومیں تھیں۔ بقیہ لوگ اس سے بھی زیادہ کفر و شرک میں مبتلا ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام قوموں کی ہدایت کے لئے اپنے آخری نبی اور آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو بھیجا تاکہ اس مردہ قوم میں ایک نئی زندگی پیدا ہوسکے۔ فرمایا جارہا ہے کہ اگر آخری نبی اور آخری رسول ﷺ کا دامن ہدایت پکڑ لیا گیا تو دنیا کی اصلاح ہو سکے گی۔ لیکن اگر ان کے دامن سے وابستگی نہ ہوئی تو پھر قیامت تک ان کی اصلاح نہ ہوسکے گی۔ اہل ایمان کو تسلی دی گئی ہے کہ جب تک وہ سچائیوں کے ان اصولوں کو اپنائے رہیں گے وہ دنیا اور آخرت کی بھلائی حاصل کرتے رہیں گے۔ لیکن اگر انہوں نے اس راستے کو چھوڑ دیا تو پھر وہ اپنے سامنے گذری ہوئی قوموں کے انجام کو رکھیں کیونکہ اللہ کا دستور اور قانون ہمیشہ سے ایک ہی رہا ہے اور رہے گا۔
Ayahs 23:51–61

یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ Open ayah 23:51 in the Quran reader

اے پیغمبرو ! پاک چیزوں میں سے کھائو اور عمل صالح کرو۔ بیشک جو کچھ تم کرتے ہو اس سے میں واقف ہوں۔

وَ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 23:52 in the Quran reader

اور بیشک یہ تمہاری امت ایک ہی امت تھی اور میں تمہارا رب ہوں پس تم مجھ سے ہی ڈرو۔

فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُرًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 23:53 in the Quran reader

پھر انہوں نے آپس میں (دین کے ) کام کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے وہ اس میں مگن ہے۔

فَذَرْهُمْ فِیْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:54 in the Quran reader

پس انہیں ان کی غفلت میں ایک مقررہ مدت تک چھوڑ دیجئے۔

اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ Open ayah 23:55 in the Quran reader

کیا وہ یہ گمان رکھتے ہیں کہ ہم نے جو کچھ مال اور اولاد سے ان کی مدد کی ہے

نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 23:56 in the Quran reader

ہم ان کے لئے بھلائیوں میں جلدی کررہے ہیں ؟ بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) وہ شعور نہیں رکھتے ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ خَشْیَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۙ Open ayah 23:57 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو اپنے رب کے خوف سے ڈرنے والے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:58 in the Quran reader

جوا پنے رب کی آیات پر ایمان لاتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 23:59 in the Quran reader

اور جو اپنے پروردگار کے ساتھ دوسروں کو شریک نہیں کرتے

وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ Open ayah 23:60 in the Quran reader

اور وہ لوگ اللہ کے لئے جو کچھ بھی دیتے ہیں تو ان کے دل (اس تصور سے) ڈرتے رہتے ہیں کہ بیشک انہیں پروردگار کی طرف لوٹ کرجاتا ہے۔

اُولٰٓئِكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ Open ayah 23:61 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جو بھلائیوں میں بھاگ دوڑ کرنے والے ہیں اور وہ آگے بڑھ جانے والے ہیں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 61 : الرسول (رسول) (پیغمبر) ‘ الطیبات (طیبۃ) پاکیزہ۔ ستھری چیزیں ‘ امۃ (امت۔ جماعت) ‘ تقطعوا (تم کاٹتے ہو) ‘ زبر (زبرۃ) کسی چیز کو ٹکڑے ٹکڑے کردینا ‘(حزب) جماعت۔ فرقہ ‘(فرحون) خوش ہونے والے ‘(غمرۃ) گہرا پانی۔ غفلت ‘(نمد) ہم دیتے ہیں ‘(نسارع) ہم دوڑتے ہیں۔ ہم جلدی کرتے ہیں ‘(مشفقون) لڑنے والے۔ اندیشہ رکھنے والے ‘(وجلۃ) ڈرانے والے ‘(سابقون) سب سے آگے پہنچنے والے۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 61 : خاتم الا نبی اء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات پر جس نظام زندگی کی تکمیل فرمائی گئی ہے اس کی سب سے بڑی عظمت یہ ہے کہ وہ نظام زندگی صرف وہی راستے نہیں بتاتا جس سے انسان کی آخرت کی زندگی سدھر جائے بلکہ آخرت کے ساتھ ساتھ اس کی دنیاوی زندگی کے ہر چھوٹے بڑے معاملے میں اس کی بھر پور رہنمائی کرتا ہے۔ خاص طور پر وہ چیزیں جن سے مومن کے جسم ‘ روحانیت اور قلبی کیفیات کو نقصان پہنچ سکتا ہے ان سے بچنے کی ہر ممکن تدبیریں بتاتا ہے تاکہ مومن کے جسم کی حفاظت کے ساتھ اس کی روح کی تابانی میں بھی کوئی فرق نہ آسکے۔ دین اسلام ہمیں ہر قدم پر رزق حلال کی برکتوں اور رزق حلال کی تلاش میں ہر طرح کی مشکلات کو برداشت کرنا سب سے بڑی عبادت اور اعلی ترین نیکی ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) جو معصوم ہوتے ہیں اور ہمیشہ حلال غذائیں ہی کھاتے اور عمل صالح کا پیکر ہوا کرتے ہیں ان سے فرمایا جارہا ہے۔ اے رسول ! تم حلال اور پاکیزہ چیزیں کھائو اور عمل صالح کرو اس آیت میں اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو پاکیزہ چیزوں کے کھانے اور عمل صالح کا حکم دیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کے واسطے سے ان کی امتوں کے ہر فرد کو اس بات کی تاکید فرمائی ہے کہ اگر وہ عمل صالح اختیار کرنے اور نیکیوں سے بھر پور زندگی گذارنا چاہتے ہیں تو ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ حلال اور پاکیزہ چیزیں کھا کر اپنے جسم اور روح کی حفاظت کریں۔ انسان جو بھی لقمہ حلق سے نیچے اتارتا ہے اس کے اثرات ہمارے جسم اور معاشرہ پر پڑتے ہیں ظاہری اور باطنی اثرات اگر بہتر ہیں تو وہ معاشرہ کو بہتر بناتے ہیں اور اگر خراب ہیں تو وہ انسانی اخلاق کو بری طرح تباہ کردیتے ہیں۔ اگر غذا ناجائز ‘ حرام اور گندی ہے تو اس کے باطنی اثرات تو یہ ہیں کہ انسان کے سارے اعمال واخلاق غلط رخ اختیار کرلیتے ہیں ‘ دعائیں قبول نہیں ہوتیں ‘ گھروں سے مال و دولت سے برکتیں اٹھ جاتی ہیں ‘ حسن عمل اور توبہ کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ اس کے ظاہری اثرات یہ ہوتے ہیں کہ اس معاشرہ میں ہر وقت کے لڑائی جھگڑوں اور باہمی اختلافات سے دلی سکون اور آپس کا اعتماد اٹھ جاتا ہے جو اس معاشرہ کا کڑا امتحان اور شدید آزمائش ہوا کرتی ہے۔ مذہبی اعتبار سی اس معاشرہ کے لوگ ایک اللہ کی عبادت و بندگی کے بجائے چاند ‘ سورج ‘ ستاروں ‘ درختوں اور پتھر ‘ لکڑی اور مٹی کے بنائے ہوئے بتوں کو اپنا معبود سمجھ بیٹھتے ہیں اور ان کو اپنا مشکل کشا مان کر ان سے اپنی مرادیں اور منتیں مانگتے ہیں۔ غرضیکہ روحانی اور جسمانی گراوٹ کی وہ انتہا آجاتی ہے جہاں کفر و شرک فسق و فجور اور تفرقہ بازی اختیار کرنے والے پور معاشرہ کو اپنی خود غرضیوں کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آزمائش کے لئے ان (بدکاروں پرض خوش حالی اور مال و دولت کی کثرت کے دروازے کھول دیتا ہے یہاں تک کہ جب وہ ان پر اترانے اور غرور وتکبر کرنے لگتے ہیں تو ان کو پکڑ لیا جاتا ہے۔ جب تک ان کو مہلت دی جاتی ہے تو وہ مال و دولت کی کثرت اور خوش حالی کو اپنا کمال سمجھنے لگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا اللہ ہم سے خوش ہے کیونکہ اگر وہ ہم سے ناراض ہوتا تو ہمیں خوش حالی اور اہل ایمان کو بد حالی میں مبتلا کیوں کرتا۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ وہ اس و بھول گئے جس کی انہیں نصیحت کی جاتی تھی تو ہم نے ان پر نعمتوں کے دروازے کھول دیئے ‘ یہاں تک کہ جب وہ ان چیزوں پر جوان کی دی گئی تھیں اترانے لگتے ہیں تو ہم ان کو اچانک پکڑ لیتے ہیں۔ جس سے وہ حیران وپریشان رہ جاتے ہیں۔ (سورۃ الا نعام) خلاصہ یہ ہے کہ حرام و ناجائز غداؤں اور بد عملی سے انسان کو روحانی اور جسمانی شدید نقصانات اٹھانا پڑتے ہیں۔ اس کے بر خلاف پاکیزہ ‘ نفیس ‘ صاف ستھری حلال غذاؤں اور حسن عمل کی برکت سے بیشمار روحانی اور جسمانی فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ رزق حلال کی برکتوں سے انسان کو بھلے کام کرنے کی توفیق عطا کی جاتی ہے۔ اس کے جان ومال میں سات گنا برکت ہوتی ہے۔ اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ باہمی محبت و اخلاص میں ترقی ہوتی ہے۔ گھروں سے معاشرہ سے اختلافات اور لڑائی جھگڑے ختم ہوجاتے ہیں سب سے بڑھ کر آخرت کی کامیابی اور ابدی راحتیں ہیں جو جنت میں ان کو ہمیشہ کے لئے دی جائیں گی۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو باقی رکھنا اور ترقی دینا چاہتا ہے تو اس قوم میں دو باتیں پیدا کردی جاتی ہیں (1) ہر کام میں اعتدال ‘ تو ازن اور میانہ روی (2) اور دوسرے عفت وعصمت (پاکیزگی اور آبرو کی حفاظت کا جذبہ ) پیدا ہوجاتا ہے اور جب اللہ کسی قوم سے رشتہ توڑ لینا چاہتا ہے تو اس کو رزق میں وسعیتیں ( مالی خوش حالی ‘ عیش و آرام) دے کر ان پر خیانت اور بےایمانی کے درواز کھول دیتا ہے اور جب وہ غرور وتکبر کرنے لگتے ہیں تو ان کو پکڑ لیا جاتا ہے ( اور عبرت ناک سزائیں دی جاتی ہیں) ان تمام باتوں کو سورة المومنون کی ان آیتوں میں بیان کیا گیا ہے۔ زیرمطالعہ ان آیات کی کچھ وضاحت ملاحظہ کرلیجئے۔ فرمایا اے رسولو ! تم پاک صاف حلال رزق میں سے کھائو اور عمل صالح اختیار کرو کیونکہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے اور وہ ہر بات کو اچھی طرح جانتا ہے۔ فرمایا کہ یہ تمہاری امت ایک ہی امت تھی یعنی سب میں اتحاد و اتفاق تھا حالانکہ ان کا اور تمہارا رب صرف میں ہوں ‘ مجھ سے ہی ڈرنا چاہیے تھا لیکن بعض لوگوں نے اپنی اغراض اور ضد کی وجہ سے اس امت کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے۔ اور اب وہ کسی ہدایت کی طلب اور تڑپ کے بجائے جو ان کے پاس ہے وہ اپنے ہی خیال میں مگن ہیں اور وہ ایسی غفلت کا شکار ہوچکے ہیں جس میں وہ عقل و فکر سے بہت دور جاچکے ہیں فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان کو کچھ دن اسی غفلت اور مدہوشی میں پڑا رہنے دیجئے۔ وہ وقت دور نہیں ہے جب انہیں اس کا برا انجام خود ہی معلوم ہوجائے گا۔ فرمایا کہ ان کی غفلت و نادانی کی انتہا یہ ہے کہ اللہ نے اپنی رحمت سے جو بھی مال و دولت انہیں دیا ہوا ہے اسے وہ اپنا کار نامہ سمجھ کر یہ کہتے پھرتے ہیں کہ یہ جو کچھ بھی ہمیں حاصل ہے وہ اللہ نے ہمیں ہمارے عقیدے کی درستگی کی وجہ سے دیا ہوا ہے اور ہم حق پر ہیں۔ فرمایا کہ ایسے نادانوں کو خود کو حق و صداقت پر سمجھنا انتہائی بےشعوری ‘ بد عقلی اور ناسمجھی کی بات ہے۔ البتہ وہ لوگ جو اپنے اللہ سے ڈرتے ہوئے اس کے خوف سے لرزتے رہے ہیں کہ نجانے ان کے اعمال اللہ کے ہاں قبول بھی ہیں یا نہیں۔ وہ اپنے پروردگار پر مکمل ایمان رکھتے ہیں اور اس کے ساتھ کسی کو (عبادت و بندگی میں ) شریک نہیں کرتے۔ ان کو اس بات کا ہمیشہ دھیان رہتا ہے کہ وہ جو کچھ خرچ کررہے ہیں وہ اللہ کا کرم ہے اور ان کے دل اس تصور سے کانپ اٹھتے ہیں کہ انہیں ایک دن اللہ کے سامنے پہنچ کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ فرمایا کہ ایسے لوگ ہی بھلائیوں اور نیکیوں میں بھاگ دوڑ کرتے اور نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا جذبہ رکھتے اور کوشش کرتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ کامیاب و بامراد ہیں۔