23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 23:62–77

وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَ لَدَیْنَا كِتٰبٌ یَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 23:62 in the Quran reader

ہم کسی کو اس کی قوت برداشت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور ہمارے پاس ایک کتاب ( لوگوں کا نامہ اعمال) ہے جو سچ سچ بتا دیتی ہے اور ان لوگوں پر ذرا بھی ظلم نہ کیا جائے گا۔

بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِیْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا وَ لَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 23:63 in the Quran reader

بلکہ ان کے دل اس طرح سے بیخبر ہیں اور بھی (برے اعمال ہیں) جنہیں وہ کرتے رہتے ہیں۔

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ یَجْئَرُوْنَؕ Open ayah 23:64 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوش حال لوگوں کو عذاب میں مبتلا کریں گے تو وہ چلانا شروع کردیں گے۔

لَا تَجْئَرُوا الْیَوْمَ١۫ اِنَّكُمْ مِّنَّا لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 23:65 in the Quran reader

(اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ ) آج تم چیخو چلائو تمہاری مدد نہ کی جائے گی۔

قَدْ كَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَۙ Open ayah 23:66 in the Quran reader

میری آیتیں تمہیں سنائی جاتی تھیں لیکن تم الٹے پائوں بھاگ نکلتے تھے۔

مُسْتَكْبِرِیْنَ١ۖۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ Open ayah 23:67 in the Quran reader

تکبر کرکے اس کے متعلق باتیں کرتے اور بکواس کرتے تھے۔

اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘ Open ayah 23:68 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اس کلام پر غور نہیں کیا یا وہ کوئی ایسی بات لے کر آئے ہیں جو کبھی ان کے باپ داد و کے پاس نہیں آئی تھی ؟

اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘ Open ayah 23:69 in the Quran reader

یا انہوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا تو اس لئے اس کا انکار کررہے ہیں

اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 23:70 in the Quran reader

یا وہ کہتے ہیں اسے جنون ہے۔ یہ بات نہیں بلکہ وہ رسول حق بات لے کر آئے ہیں مگر ان میں سے اکثر وہ لوگ ہیں جو اس سچائی کو پسند نہیں کرتے۔

وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ Open ayah 23:71 in the Quran reader

اور اگر سچا دین ان کی خواہشات کے تابع ہوجاتا تو آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ اس میں ہے اس کا نظام تاہ بر باد ہوجاتا۔ نہیں بلکہ ہم ان کے پاس ان کے لئے نصیحت پہنچا رہے ہیں لیکن وہ نصیحت سے منہ پھیر کر چلنے والے ہیں۔

اَمْ تَسْئَلُهُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَیْرٌ١ۖۗ وَّ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 23:72 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ کیا آپ ان سے کچھ معاوضہ مانگ رہے ہیں تو آپ کا معاوضہ ان کے معاوضے سے زیادہ بہتر ہے۔ کیونکہ اللہ بہترین بدلہ دینے والا ہے۔

وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 23:73 in the Quran reader

اور بلاشبہ آپ ان لوگوں کو صراط مستقیم کی طرف بلاتے ہیں۔

وَ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ Open ayah 23:74 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو آخرت پر امیان نہیں رکھتے وہ سیدھے راستے سے ہٹے جارہے ہیں

وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 23:75 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر رحم و کرم کردیں اور جو بھی تکلیف ہو اس کو ہم دور کردیں تو پھر بھی بھٹکتے ہوئے اپنی سرکشی میں اور زیادہ اصرار کرنے لگیں گے۔

وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 23:76 in the Quran reader

اور یقیناً جب ہم نے ان کو عذاب میں پکڑ لیا تھا تو اس وقت انہوں نے اپنے رب کے سامنے نہ تو عاجزی اختیار کی اور نہ وہ گڑ گڑائے

حَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ۠ Open ayah 23:77 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہم ان پر عذاب کا دروازہ کھول دیں گے تو وہ اس میں اچانک مایوس اور حیران رہ جائیں گے۔

لانکلف ‘ ہم بوجھ نہیں ڈالتے۔ ہم تکلیف نہیں دیتے (لدینا) ہمارے پاس ‘ (ینطق) بولتا ہے ‘(غمرۃ) بیخبر ی۔ غفلت۔ جہالت۔ سختی ‘(مترفی (مترفین) عیش پسند و خوشحال لوگ ‘ (یجئرون) وہ چیختے چلاتے ہیں ‘ (اعقاب (عقب) ایڑیاں ‘(تنکصون) تم الٹے پاؤں پھرجاتے ہو۔ (سامر) رات کو قصے گھڑ گھڑ کر سنانے والا ‘ (تھجرون) برے الفاظ سے یاد کرتے ہو ‘ لم یدبرو (غور نہیں کیا) (کارھون (ناپسند کرنے والے) ‘ خرج (معاوضہ ۔ بدلہ) ‘ لجوا (منہمک رہے۔ وہ اڑے رہے) مایتضرعون (وہ گڑ گراتے نہیں ہیں) ‘ مبلسون (حیران رہ جانے والے) تشریح : آیت نمبر 62 تا 77 : تمام انسانوں پر اللہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ وہ کسی پر اتنا بوجھ نہیں ڈالتا جسے وہ اٹھا نہ سکیں وہ کسی پر ظلم اور زیادتی نہیں کرتا ‘ بار بار آگاہ اور خبردار کرتا رہتا ہے ‘ نصیحت و عبرت کے کسی پہلو کو نہیں چھوڑتا جسے وہ سامنے نہ رکھ دیتا ہو مگر کفر و شرک ‘ شک و شبہ اور غفلت و لاپرواہی میں ڈوبے ہوئے عیش پرست اور خوش حال لوگ برے انجام سے آنکھیں بند کر کے مدہوشی میں زندگی گذارتے رہتے ہیں جب ان کے مسلسل گناہوں اور زیادتیوں کی وجہ سے ان پر عذاب الہی ٹوٹ پڑتا ہے تو وہ اس سے حیران و پریشان رہ جاتے ہیں۔ اور وہ سوچتے ہیں کہ وہ باتیں جنہیں ہم بہت معمولی سمجھ کر نظر انداز کردیا کرتے تھے کیا واقعی ان کی اتنی زبردست اہمیت تھی کہ ان کی وجہ سے زندگی کی بنیادیں تک ہل جائیں گی۔ اگر وہ عذاب کی شدت سے پہلے توبہ کرلیتے ہیں تو ان پر رحم کردیا جاتا ہے۔ مگر ان کی ناشکری اور بےقدری کا یہ عالم ہوتا ہے کہ جب ان پر عذاب کی سختی کم ہوجاتی ہے تو وہ پھر سے اپنی اسی روش زندگی پر آجاتے ہیں۔ صد ‘ ہٹ دھرمی اور غفلت و لاپرواہی کا مظاہرہ شروع کردیتے ہیں۔ گذرے ہوئے برے اعمال سے عبرت و نصیحت حاصل کرنے کے بجائے اسے وہ اپنی جدوجہد ‘ حسن تدبیر اور کوششوں کا نتیجہ قرار دینے لگتے ہیں۔ لیکن جب وہ گناہوں خطاؤں اور نافرمانیوں کی انتہاؤں پر پہنچنے کے باوجود اپنی غفلتوں سے باز نہیں آتے اور ایمان و عمل صالح میں میں کسی دلچسپی کا اظہار نہیں کرتے تب اللہ تعالیٰ ان کو مضبوطی سے اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ جس سے وہ رونے ‘ چلانے اور آہ وزاری کرنے لگتے ہیں۔ لیکن وقت گذرنے کے بعد ان کارونا ‘ چلانا ‘ فریاد کرنا بےکار ہوتا ہے۔ جس سے وہ رونے ‘ چلانے اور آہ وزاری کرنے لگتے ہیں ۔ لیکن وقت گذرنے کے بعد ان کا رونا ‘ چلانا ‘ فریاد کرنا بےکارہوتا ہے۔ فرمایا کہ یہ تو اس دنیا میں حال ہے آخرت میں جب یہ عیش پسند پہنچیں گے اور جہنم کی بھڑکتی آگ کو دیکھیں گے تو وہ اللہ کے سامنے روئیں گے ‘ گڑ گڑائیں گے اور ہر طرح کی فریاد کریں کے مگر اس وقت کا رونا ‘ چلانا ان کے کسی کا نہ آسکے گا اور آخرت میں ہر طرح کی خیر سے محروم رہیں گے۔ اس طرح وہ نہ صرف دنیا میں اللہ کا عذاب چکھیں گے بلکہ آخرت کے دائمی عذاب سے کس طرح چھٹکار انہ پاسکیں گے۔ جب نبی کریم ﷺ نے کفار مکہ مکہ کے ظلم و ستم سے تنگ آکر صحابہ کرام کو ہجرت کرنے کا حکم دیا اور بعد میں اللہ کے حکم سے آپ نے بھی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ اس وقت اللہ نے اپنے رسول کو نظر انداز کرنے کی سزا یہ دی کہ ان پر شدید قحط کو مسلط کردیا یہ قحط اس قدر بھیانک تھا کہ مکہ والے درختوں کے پتے اور مرد ار جانور تک کھانے پر مجبور ہوگئے۔ بعد میں جب حضرت ابوسفیان (جو اس وقت تک ایمان نہ لائے تھے ) نے مدینہ منور جاکر حضور اکرم ﷺ سے اس قحط کو دور کرنے کے لئے دعا کی درخواست کی تو اللہ نے اپنے نبی کی دعا کو قبول فرمایا اور مکہ والوں پر سے قحط ختم ہوا۔ اس کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ کفار اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لے آتے مگر دلوں میں نرمی کے بجائے وہ اپنی سابقہ ہٹ دھرمی پر اور سخت ہوگئے اور نبی کریم ﷺ کو قصے کہانیاں سنانے والا قرار دے دیا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان کفار کو شدید تنبہہ کی ہے کہ اگر وہ اپنی ان حرکتوں اور کفر و شرک سے با زنہ آئے تو ان کی دنیا اور آخرت دونوں تباہ و برباد ہو کر رہ جائیں گی۔ ان بنیادی باتوں کی طرف زیر مطالعہ ٓیات میں توجہ دلائی جارہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ وہ اللہ کسی شخص پر اس کی ہمت و طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ فرمایا کہ ہمارے پاس ایک ایسی کتاب (نامہ اعمال) ہے جو بالکل ٹھیک ٹھیک بولتی ہے اور کسی پر کسی طرح کا ظلم اور زیادتی نہ ہوگی۔ بلکہ ان کے دل ہی غفلتوں اور شک و شبہ میں پڑے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے وہ بہت ہی برے کاموں میں مبتلارہتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب ہم ان میں خوش حال اور عیش پسند لوگوں کو گرفت میں لے کر ان پر عذاب نازل کریں گے تو وہ چلانا ‘ چیخنا اور فریاد کرنا شروع کردیں گے۔ اللہ کی طرف سے کہا جائے گا گا کہ اب تم مت چلائو کیونکہ آج تمہاری کوئی مدد نہ کی جائے گی۔ زندگی بھر تمہارا یہ حال رہا کہ جب بھی میری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائی گئیں تو تم تکبر اور غرور سے الٹے پاؤں بھاگتے تھے اور کلام الہی کے متعلق نا مناسب باتیں کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم ان سچائیوں کو ماننے کے بجائے نبی کو کہا نیاں سنانے والوں کی طرح بےحقیقت سمجھتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں سے پوچھا ہے کہ (1) کیا ان کے پاس کوئی ایسی کتاب آگئی ہے جو انوکھی اور نئی ہے جو ان کے باپ دادا کے پاس ہیں آئی تھی ؟ (2) یا وہ اللہ کے رسول کو نہ پہچاننے کی وجہ سے ان کا انکار کرتے ہیں ؟ (3) کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ اس شخص پر جنون طاری ہے ؟ فرمایا کہ وہ نبی ﷺ تو اللہ کی طرف سے حق و صداقت کا پیغام لے کر آئے ہیں۔ لیکن ان میں سے اکثر لوگ وہ ہیں جنہیں سچی اور حق و صداقت سے بھر پور باتیں کڑوی لگتی ہیں۔ فرمایا کہ وہ یہ چاہتی ہیں کہ حق و صداقت کی جو بات بھی ہو وہ ان کی خواہشوں اور تمناؤں کے مطابق ہو۔ وہ جس طرح کرنا چاہیں اور جس بات کو جس طرح کہنا چاہیں وہی حق و صداقت کی آواز ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر ایسا ہوجائے تو زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے وہ سب کا سب تباہ و برباد ہو کر رہ جائے۔ کیونکہ یہ باطل پرست حق و صداقت کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نبی کی لائی ہوئی تعلیمات کو نظر انداز کر رہے ہیں اور عبرت و نصیحت کی کسی بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اور اس سے منہ پھیر پھیر کر چلتے ہیں اور اپنی بد نصیبی کو آواز دیتے ہیں۔ فرمایا کہ ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ اللہ کے یہ نبی محض اللہ کی رضا و خوشنودی کیلئے ہر سچی بات کو پہنچا رہے ہیں اس پر ان سے کوئی بدلہ یا معاوضہ کا مطالبہ نہیں کررہے ہیں۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ اسی طرح اللہ کے دین اور صراط مستقیم کی طرف بلاتے رہیے۔ وہ لوگ جو آخرت کا یقین نہیں رکھتے وہ صراط مستقیم سے اس طرح ہٹتے جارہے ہیں کہ اگر ہم ان پر ان کے گناہوں کے باوجود رحم و کرم کی انتہا کردیں تو وہ اپنی گمراہی اور ضد میں اور زیادہ آگے بڑھتے چلے جائیں گے۔ فرمایا کہ جب وہ (کفار مکہ) عذاب میں مبتلا ہوئے (قحط پڑگیا تھا) تو انہوں نے کسی عاجزی اور انکساری کا مظاہرہ نہیں کیا نہ وہ گڑ گڑائے۔ اگر وہ ایسا کرتے تو ان پر اللہ کا بہت زیادہ کرم ہوتا۔ لیکن وہ اپنے برے اعمال میں لگے ہوئے ہیں۔ جب ان پر اللہ کے عذاب کا درازہ کھول دیا جائے گا تو وہ اچانک مایوس اور حیران و پریشان ہو کر رہ جائیں گے۔
Ayahs 23:78–92

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 23:78 in the Quran reader

اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لئے کان ‘ آنکھیں اور دل بنائے ہیں۔ تم میں سے بہت کم لوگ شکرادا کرتے ہیں۔

وَ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 23:79 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلا رکھا ہے اور تم سب اسی کی طرف جمع کئے جائو گے۔

وَ هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ لَهُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 23:80 in the Quran reader

وہی تو ہے جو زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ اسی کے اختیار سے رات اور دن بدلتے ہیں کیا تمہیں اتنی سی بات بھی سمجھ نہیں آتی۔

بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 23:81 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ یہ (کفار ) بھی وہی بات کہہ رہے ہیں جو ان سے پہلے لوگ کہا کرتے تھے ۔

قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ Open ayah 23:82 in the Quran reader

وہ کہتے ہیں جب ہم مرجائیں گے اور ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے ؟

لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 23:83 in the Quran reader

بلاشبہ ہم سے اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادوں سے یہی وعدہ ہوتا آرہا ہے۔ یہ کچھ نہیں محض پرانے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔

قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:84 in the Quran reader

اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کیا تمہیں معلوم ہے زمین اور جو کچھ اس کے اندر ہے یہ سب کس کا ہے۔

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 23:85 in the Quran reader

وہ یہی جواب دیں گے کہ اللہ کا ہے۔ آپ کہیے کہ پھر تم غور کیوں نہیں کرتے ؟

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ Open ayah 23:86 in the Quran reader

آپ ان سے پوچھیئے کہ سات آسمانوں اور عظیم عرش کا رب کون ہے ؟

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:87 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ اللہ ہے۔ آپ کہئے کیا پھر تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟

قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:88 in the Quran reader

آپ پوچھئے کہ اگر تمہیں معلوم ہے تو یہ بتائو کہ وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا اختیار ہے وہ جس کو چاہے پناہ دیتا ہے او کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا۔

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ Open ayah 23:89 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ اللہ (ہی سب کچھ ہے آپ کہئے کہ پھر تم دھوکے فریب میں کیوں مبتلا ہو ؟

بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 23:90 in the Quran reader

بلکہ ہم نے ان کے پاس حق اور سچائی کو پہنچا دیا ہے وہ یقیناً ( اپنی باتوں میں) جھوٹے ہیں۔

مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 23:91 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے نہ تو کسی کو اپنا بیٹا بنایا ہے نہ اس کے ساتھ کوئی دوسرا معبود ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی مخلوق کو لے کر جدا ہوجاتا اور ایک پر ایک چڑھائی کردیتا۔ اللہ کی ذات اس سے پاک ہے جو وہ بیان کرتے ہیں

عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 23:92 in the Quran reader

کھلے اور چھپے کا جاننے والا وہی ہے اور اس سے بہت بلندو بر تر ہے جنہیں وہ شریک سمجھتے ہیں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 78 تا 92 : ذرأ(اس نے پیدا کیا۔ اس نے پھیلادیا) ‘ اساطیر (اسطورۃ) قصے کھانیا ‘ یجیر (پناہ دیتا ہے) ‘ السبع (سات) ‘ تسحرون ( تم جادو میں پھنس گئے) ما اتخذ (نہیں بنایا) ‘ لذھب (البتہ جاتا ( البتہ لے جاتا) ‘ لعلا ( البتہ چڑھ دوڑتا) ‘ یصفون (وہ بیان کرتے ہیں) ‘ الغیب ( بن دیکھی حقیقتیں۔ چھپی باتیں) ‘ الشھادۃ ( موجود۔ کھلی باتیں) ‘ تعلی ( وہ بلندو برتر) ۔ تشریح : آیت نمبر 78 تا 92 : اگر انسان اللہ کی ان نعمتوں کو شمار کرنا چاہے جو اس پر اللہ نے کی ہیں تو شاید ان کو شمارنہ کرسکے ان بیشمار صالحیتوں میں سے انسان کو فکر و تدبر کے ساھ سننے ‘ دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتوں سے نوازا گیا ہے جن کا مقصدیہ ہے کہ وہ اپنی آنکھوں سے ان بیشمار نعمتوں کو دیکھے جو اس کیچاروں طرف بکھری ہوئی ہیں ‘ کانوں سے حق و صداقت کی باتوں کو سن کر ان پر عمل کرے اور سوچنے اور غور و فکر کرنے کی صلاحیتوں سے ہر حقیقت کی گہرائی تک پہچنے کی جدوجہد کرے۔ جو لوگ ان صلاحیتوں سے کام لیتے ہیں وہ در حقیقت اللہ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور جو لوگ ان نعمتوں کو اپنی جدوجہد ‘ کوششوں اور کاوشوں کا نتیجہ سمجھتے ہیں وہ کافر ہیں۔ مومن اور کافر میں یہی بنیادی فرق ہے۔ مومن ہر چیز کو اللہ پر اعتماد کرتے ہوئے یقین کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور کافر ہر بات میں شک و شبہ رکھتا ہے۔ مومن تو یہ کہتا ہے کہ زمین ‘ آسمان ‘ چاند ‘ سورج ‘ ستارے ‘ فضائیں ‘ ہوائیں ‘ شجر وحجر ہر چیز اللہ نے پیدا کی ہیں۔ وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دے گا اور وہی ہڈیوں کا چورہ ہونے اور اجزا کے مٹی میں ملنے کے باوجود قیامت کے دن سب کو دوبارہ زندہکرکے ان کے اعمال کا حساب لے گا۔ مومن دنیا اور آخرت کی ہر چیز کو اللہ کی طرف سے منسوب کرتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ میرا خالق ومالک اللہ ہے جس کا کوئی شریک یا برابر نہیں ہے۔ اس کے بر خلاف کا فر اسی شک و شبہ کا اظہار کرتا رہتا ہے کہ جب ہم مٹی میں مل جائیں گے۔ ہماری ہڈیاں چورہ چورہ ہوجائیں گی تو کیا ہم دوبارہ پیدا کئے جائیں گے۔ کفار کی زبان پر یہی ہوتا ہے کہ ایسا ناممکن ہے کیونکہ ہم سے پہلے جو لوگ گذرے ہیں ان سے بھی ایسی ہی باتیں کی گیں یہ محض گھڑے گھڑائے افسانے اور قصے کہانیاں ہیں۔ مرنے کے عبد قصہ ختم ہوجاتا ہے اور آخرت ‘ جنت ‘ جہنم کی باتیں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں ( نعوذ باللہ) ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ وہ ہے جس نے تمہیں کان ‘ آنکھ اور سوچنے کے لئے دل عطا کیا ہے۔ وہی پیدا کرنے والا ہے دنیا میں پھیلانے والا ‘ زندگی اور موت دینے والا ہے ‘ اسی کے اختیار سے دن رات کا آنا جانا ہے اس کائنات میں سارے اختیار ات کا مالک ایک اللہ ہے۔ فرمایا کہ ان کا یہ کہنا کہ جب ہم مرکر مٹی ہوجائیں گے اور ہماری ہڈیاں بھی گل سڑ جائیں گی تو کیا ہم دوبارہ پیدا کئے جائیں گے۔ فرمایا کہ یہ لوگ اس پر غور کیوں نہیں کرتے کہ اس ززمین و آسمان اور اس کے اندر جو کچھ موجود ہے اس کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے۔ وہی سات آسمانوں کا اور عرش عظیم کا مالک ہے۔ اس کے دامن میں سب کو پناہ ملتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا۔ اور ایسا با اختیار رہے کہ وہ کسی کا کسی طرح بھی محتاج نہیں ہے۔ نہ وہ کسی سے پیدا ہوا ‘ نہ اس سے کوئی پیدا ہوا۔ وہ اس پوری کائنات کے نظام کو تنہا چلارہا ہے۔ اگر اللہ کے سوا بھی کوئی دوسرا معبود ہوتا تو اس کا ئنات کا نظام تباہ ہو جاتاکیون کہ ہر ایک اپنی بات چلانے کی کوشش کرتا اور اختیارات کی اس جنگ میں مخلوق فائدے اٹھانے کے بجائے طرح طرح کے نقصانات برداشت کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ لوگ جو غیر اللہ کی عبادت و بندگی میں لگے ہوئے ہیں اگر ان پوچھا جائے کہ یہ سب کچھ تمہارے پتھر کے بےجان بتوں نے پیدا کیا ہے تو وہ یقیناً یہی جواب دیں گے کہ سب کچھ اللہ نے پیدا کیا ہے۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے یہی پوچھتے ہیں کہ جب اس کائنات کا خالق ومالک اللہ ہے۔ پھر وہ دوسروں سے کیوں اپنی حاجتوں کا سوال کرتے ہیں اور اپنی آخرت کی فکر کیوں نہیں کرتے جہاں کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا ؟ اور یہ بت بھی اپنے عبادت گذاروں کو نہ بچا سکیں گے۔