20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 20:99–112

كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ١ۚ وَ قَدْ اٰتَیْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًاۖۚ Open ayah 20:99 in the Quran reader

اسی طرح ہم آپ کو گذرے ہوئے حالات سے باخبر ہیں او ہم نے آپ کو اپنی طرف سے نصیحت والی کتاب عطا کی ہے

مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وِزْرًاۙ Open ayah 20:100 in the Quran reader

اس سے جو شخص منہ پھیرے گا بیشک وہ قیامت کے دن بھاری بوجھ اٹھائے گا

خٰلِدِیْنَ فِیْهِ١ؕ وَ سَآءَ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ حِمْلًاۙ Open ayah 20:101 in the Quran reader

اور وہ اسی (کیفیت) میں ہمیشہ رہے گا اور ان کے لئے قیامت کے دن کا بوجھ بہت بھاری ہوگا۔

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًاۚۖ Open ayah 20:102 in the Quran reader

جب صور پھونکا جائے گا اس دن ہم ان مجرموں کو اس طرح گھیر کر لائیں گے کہ دہشت سے ان کی آنکھیں نیلی (پتھرائی ہوئی) ہوں گی

یَّتَخَافَتُوْنَ بَیْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا Open ayah 20:103 in the Quran reader

وہ آپس میں آہستہ آہستہ کہتے ہوں گے کہ تم دنیا میں دس دن ہی رہے ہوں گے۔

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُهُمْ طَرِیْقَةً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا۠ Open ayah 20:104 in the Quran reader

(اللہ نے فرمایا) وہ جو کچھ کہتے ہیں اسے ہم خوب جانتے ہیں۔ جب ان میں کا ایک اچھا سوچنے والا کہے گا کہ تم صرف ایک دن رہے ہوں گے۔

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ Open ayah 20:105 in the Quran reader

وہ پہاڑوں کے متعلق پوچھتے ہیں (اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ میرا رب انہیں اڑا کر بکھیر دے گا

فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاۙ Open ayah 20:106 in the Quran reader

اور زمین کو اس طرح چٹیل میدان بنا دیا جائے گا

لَّا تَرٰى فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًاؕ Open ayah 20:107 in the Quran reader

کہ آپ اس میں نہ کوئی ٹیڑھا پن (ناہمواری) دیکھیں گے اور نہ کوئی بلندی وغیرہ

یَوْمَئِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَهٗ١ۚ وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا Open ayah 20:108 in the Quran reader

اس دن ایک پکارنے والے کی پکار پر سیدھے چلے آئیں گے کسی میں بھی ٹیڑھا پن تکبر اور اکڑ نہ ہوگی اس دن رحمٰن کے سامنے سب کی آوازیں پست ہوجائیں گی۔

یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا Open ayah 20:109 in the Quran reader

ہلکی ہلکی آہٹ کے سوا کچھ سنائی نہ دے گا۔ اس دن کسی کی شفارش کا نہ آئے گی۔ سوائے اس کے جس کو رحمن نے اجازت دی ہو اور اس کی بات بھی (اللہ) کو پسند ہو۔

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا Open ayah 20:110 in the Quran reader

اللہ کو ہر اس چیز کا علم ہے جو ان کے سامنے اور ان کے پیچھے ہے ۔ لیکن ان لوگوں کا علم اللہ کے علم کا احاطہ نہیں کرسکتا۔

وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ١ؕ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا Open ayah 20:111 in the Quran reader

سب کے سب اس حی وقیوم ذات کے آگے جھکے ہوں گے۔ وہ شخص نامراد ہوا جو اس دن ظلم کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوگا۔

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا Open ayah 20:112 in the Quran reader

(اس کے برخلاف) جس نے عمل صالح کئے ہوں گے اور وہ مومن بھی ہوگا تو اس کو ظلم اور نقصان کا کوئی اندیشہ نہ ہوگا۔

لغات القرآن آیت نمبر 99 تا 112 نقص ہم بیان کرتے ہیں۔ انباء خبریں۔ سبق جو گزر گیا۔ لدنا ہمارے پاس۔ اعرض جس نے منہ پھیرا۔ حمل بوجھ۔ زرق (ازرق) نیلی آنکھیں۔ یتخافتون چپکے چپکے کہیں گے۔ لبثتم تم ٹھہرے رہے ، رکے رہے۔ امثل زیادہ سے زیادہ۔ ینسف وہ اکھاڑدے گا۔ قاع ہموار میدان۔ صفصف چٹیل میدان۔ امت ٹیلہ، ابھری ہوئی زمین۔ خشعت نیچے، پست ہوگی۔ ھمس دھیمی اور ہلکی آواز۔ عنت چھپ جائے گی۔ الوجوہ (وجہ) چہرے۔ ظلم زیادتی۔ ھضم نقصان پہنچنا، حق تلفی کرنا۔ ٹکڑے ہونا۔ تشریح : آیت نمبر 99 تا 112 نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ! قرآن کریم کے ذریعہ ہم آپ کے سامنے قوموں کے جن واقعات اور انبیاء کرام (علیہ السلام) کے احوال کو بیان کر رہے ہیں ان کا اصل مقصد ہدایت، عبرت اور نصیحت کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کرنا ہے۔ سورة طہ میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کا واقعہ اور بنی اسرائیل کے مزاج کو تفصیل سے بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ قرآن حکیم اللہ کی وہ آخری کتاب ہدایت ہے جس کی تعلیمات قیامت تک ہر شخص کے لئے رہبر و رہنما ہیں۔ اگر کوئی شخص قرآن حکیم جیسی عظیم کتاب سے منہ پھیرتا ہے یعنی اس کتاب کو پڑھنے، سمجھنے اور عمل کرنے سے گریز کرتا ہے تو اس کو نہ تو اس دنیا میں امن و سکون نصیب ہوگا۔ نہ قیامت کے ہولناک دن اس کی نجات کا سامان میسر آسکے گا بلکہ ان لوگوں کے برے اعمال ان کے سینے پر ایک بوجھ ہوں گے۔ فرمایا کہ وہ دن کس قدر دہشت ناک ہوگا۔ جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے (حضرت اسرافیل) صور پھونکیں گے اور ایک شخص (یعنی اسرافیل) بلند آواز سے لوگوں کو محشر کی طرف بلائیں گے تو اولین و آخرین کے تمام مردے اپنی اپنی قبروں سے نکل کر میدان حشر میں جمع ہوجائیں گے۔ یہ سب کچھ اس قدر اچانک اور ہولناک انداز سے ہوگا۔ کہ کفر و شرک میں مبتلا لوگ حیران و ششدر اور ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اور نیلی پڑجائیں گی۔ ان پر ایسی وحشت طاری ہوگی کہ وہ چپکے چپکے بیان کریں گے اور کہیں گے کہ ہم نے دنیا میں صرف دس دن گزارے ہیں جو ان میں ذرا سوجھ بوجھ کے دعوے دار ہوں گے وہ کہیں گے کہ ”’ اس دن کہاں، ایسا لگتا ہے کہ اس دنیا میں ہم صرف ایک دن رہ کر آگئے ہیں “ اور اب میدان حشر میں جمع کردیئے گئے ہیں۔ فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں بڑے عقل مند بننے کی کوشش کرتے تھے اور کہتے تھے کہ چلو ہم تو ایک کمزور سی مخلوق ہیں لیکن یہ بلند وبالا پہاڑ جو زمین پر میخوں کی طرح گڑے ہوئے ہیں کیا یہ بھی ختم ہوجائیں گے، فرمایا کہ تمہیں اللہ کی طاقت ، قوت اور قدرت کا اندازہ ہی نہیں ہے۔ اس کے سامنے یہ پہاڑ کیا چیز ہیں۔ ان کی کیا طاقت ہے۔ جب اللہ تعالیٰ چاہیں گے ان پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر کے ہوا میں اڑا دیں گے اور زمین اس طرح ہموار ہوجائے گی جس میں نشیب و فراز اور اونچ نیچ نہ رہے گی۔ جب صور پھونکا جائے گا اور ان کو جمع ہونے کے لئے کہا جائے گا تو کفار و مشرکین ہر طرف سے مایوس ہو کر اس آواز کی طرف دوڑے آئیں گے ان کی آوازیں اس طرح دب جائیں گی کہ چپکے چپکے باتیں کریں گے اور آوازیں اس قدرت پست ہوں گی کہ سوائے ایک سرسراہٹ کے کچھ سنائی نہ دے گا۔ کفار پر اس قدر مایوسی طاری ہوجائے گی کہ ان کی زبانیں گنگ ہو کر رہ جائیں گی۔ ہر طرف سے مایوس ہوں گے نہ کسی کی سفارش کا آسرا وہ گا اور نہ کوئی اس وحشت میں ڈھارس بند ھانے والا ہوگا۔ اس کے برخلاف جو لوگ صاحب ایمان اور عمل صالح کے پیکر ہوں گے ان کو ہر طرح کی راحتوں سے ہم کنار کیا جائے گا۔ سفارش کے امیدوار اور مستحق ہوں گے۔ ان کو ان کے بہترین اعمال پر جنت کی ابدی راحتیں عطا کی جائیں گی نہ ان کے حق میں کمی کی جائے گی اور نہ ان کے ساتھ کسی طرح کی زیادتی کی جائے گی ان آیات کا خلاصہ یہ ہے۔ (1) قرآن کریم اللہ کی وہ آخری کتاب ہدایت ہے جو تمام انسانوں کے لئے رہبر و رہنما اور معاملات زندگی میں مشعل راہ ہے۔ اس کی تعلیمات بالکل واضح اور آسان ہیں۔ اگر کوئی شخص ان پر عمل کرے گا۔ تو اس کے ایمان میں پختگی کیساتھ ساتھ تمام مصائب ، مشکلات اور تکالیف میں عزم و ہمت کیس اتھ ڈٹ کر ان کا مقابلہ کرنے کی اہلیت پیدا ہوجائے گی اور دنیا و آخرت کی تمام کامیابیاں اس کا مقدر ہوں گی لیکن جو لوگ قرآن کریم اور اس کی تعلیمات سے منہ پھیریں گے یعنی اس کو پڑھنے، سمجھنے اور عمل کرنے سے گریز کریں گے تو یہ نہ صرف ان کی بدقسمتی ہوگی بلکہ ایسے لوگوں کا انجام بڑا بھیانک ہوگا۔ اور دنیا اور آخرت کی ہر بھلائی سے محروم رہیں گے۔ (2) اعلان نبوت کے بعد نبی کریم ﷺ اور آپ کے جان نثار صحابہ کرام جن مصائب اور مشکلات سے گزر رہے تھے تسلی دیتے ہوئے دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں (1) اللہ کے دین کو پھیلانے اور اس کی سربلندی کی کوشش کرنے والے پیغمبروں اور ان کے ساتھیوں پر ہر طرح کی مشکلات آئیں لیکن انہوں نے اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے صبر و تحمل سے ہر مصیبت کو برداشت کیا۔ (2) دوسری بات یہ ہے کہ وہ وقتی تکلیفوں کے بعد آخر کار حق و صداقت کی فتح ہوئی اور دنیا و آخرت کی تمام کامیابیاں ان کو عطا کردی گئیں۔ لیکن وہ لوگ جو کفر و شرک میں مبتلا رہے ان لوگوں کی دنیا بھی برباد ہوئی اور آخرت کے ہولناک دن تو خوف و دہشت سے ان کی آنکھیں بھی نیلی پڑجائیں گی۔ (3) فرمایا کہ جب قیامت کے دن صور اسرافیل پھونکا جائے گا تو اگلے پچھلے تمام لوگ زندہ ہو کر میدان حشر میں جمع ہوجائیں گے۔ اس دن کفار و مشرکین اور گناہ گاروں پر ایسی وحشت طاری ہوگی کہ ان کے منہ سے الفاظ نکالنا بھی دشوار ہوگا۔ وہ چپکے چپکے باتیں کر کے اپنی شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے کہ دنیا میں ہمیں جتنا بھی موقع ملا تھا ہم نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ شاید وہ مدت دس دن تھی جو دبے قدموں گزر گئی تھی۔ کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جو عقل مندی کے دعوے دار ہوں گے وہ کہیں گے کہ دس دن کیسے ہمیں تو یہ محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے ایک دن گزار کر میدان حشر میں پہنچا دیئے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ کتنی مدت تک رہ کر آئے ہیں۔ (4) جو لوگ کفر و شرک اور گناہوں میں مبتلا ہوں گے وہ اپنے گناہوں کے بوجھ اپنے کاندھوں پر اس طرح لادے ہوئے آئیں گے کہ ان کو کسی طرح کی خیر کی امید نہ ہوگی بلکہ وہ سخت مایوس ہوں گے۔ (5) فرمایا کہ اللہ کی طاقت و قوت اور قدرت ایسی ہے کہ وہ اس کائنات کی ہر چیز کو اور بلند وبالا پہاڑوں کو جب چاہے ذرے بنا کر فضا میں بکھیر سکتا ہے۔ اس کی طاقت کے سامنے کسی کی طاقت نہیں ہے۔ لہٰذا یہ سوال کہ کیا پہاڑ جیسی طاقتور مخلوق کو اللہ تباہ کرسکتا ہے ایک احمقانہ سوال ہے۔ (6) فرمایا کہ جب تک اللہ کی طرف سے اجازت نہ دی جائے گی اس وقت تک اس کی بارگاہ میں کسی کو سفارش کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔ جب اجازت دی جائے گی تو انبیاء کرام اور اللہ کے صاحب ایمان نیک بندے گناہگاروں کی سفارش کریں گے۔ لیکن کفار و مشرکین اس دن ہر طرح کی سفارش اور کرم سے محروم رہیں گے۔ (7) جو لوگ ایمان اور عمل صالح کا پیکر ہوں گے ان پر قیامت کے دن انتہائی کرم ہوگا۔ ان کو ابدی راحتوں سے ہمکنار کیا جائے گا۔ ان کے درجات میں اضافہ کیا جائے گا اور ان پر کسی طرح کا ظلم اور زیادتی نہ ہوگی یہ ان کا بہترین انجام ہوگا۔ ۔
Ayahs 20:113–114

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا Open ayah 20:113 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ان پر اس قرآن کو عربی میں نازل کیا اور اس میں ہم نے ہر طرح کے خوف دلائے تاکہ وہ پرہیز گار بن جائیں یا ان کے لئے نصیحت کا کوئی سامان پیدا ہوجائے۔

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ١٘ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا Open ayah 20:114 in the Quran reader

وہ اللہ بلند اور برتر اور سچا بادشاہ ہے۔ (اے نبی ﷺ آپ اس قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیجیے جب تک آپ کی طرف وحی مکمل نہ ہوجائے اور کہئے کہ اے میرے رب ! مجھے اور زیادہ علم عطا فرما۔

لغات القرآن آیت نمبر 113 تا 114 صرفنا ہم نے طرح طرح بیان کیا۔ الوعید ڈرا دے۔ یحدث وہ پیدا کرتا ہے۔ تعالیٰ بلندو برتر۔ الملک بادشاہ، فرمان روا۔ لاتجعل تو جلدی نہ کر۔ ان یقضیٰ یہ کہ پوری ہوجائے۔ زدنی مجھے زیادہ دے۔ علماً علم۔ تشریح :- آیت نمبر 113 تا 114 قرآن کریم میں گزشتہ قوموں کے ذکر کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کی اصلاح و تربیت اور ہدایت کے اسباب پیدا ہوجائیں ۔ برے اعمال کے برے نتائج کا ذکر بھی اسی لئے کیا گیا ہے کہ ان میں دنیا کی سمجھ پیدا ہوجائے۔ وہ نصیحت و عبرت حاصل کر کے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرماں برداری کا راستہ اختیار کریں اور ہر اس راستے سے بچ کر چلیں جو ان کو گناہوں اور برے اعمال کی دلدل میں پھنسا سکتا ہے۔ اس طرح ان میں اخلاق اور تقویٰ کی اعلیٰ اور بہترین صفات پیدا ہوتی چلی جائیں گی۔ فرمایا کہ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کریم کو صاف ستھری عربی زبان میں نازل کیا ہے تاکہ وہ اس کو آسانی سے سمجھ کر تقویٰ کی زندگی احتیار کرسکیں اور کم از کم اپنی اصلاح کی فکر تو کرسکیں۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے تاکہ وہ اس کو آسانی سے سمجھ کر تقویٰ کی زندگی اختیار کرسکیں اور کم از کم اپنی اصلاح کی فکر تو کرسکیں۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ سب سے بلندو برتر اور حقیقی بادشاہ ہے۔ اس نے اپنی رحمت سے ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جس کو پڑھنے سے انسانوں کی ہدایت کے راستے کھلتے چلے جاتے ہیں وہ خود اس کا نگراں اور محافظ ہے۔ لہٰذا یہ قرآن اصل حالت میں قیامت تک باقی رہے گا۔ فرمایا کہ اے نبی ! آپ اس بات کی فکر نہ کیجیے اور اپنے آپ کو اس مشقت میں نہ ڈالئے کہ جو قرآن نازل کیا جا رہا ہے اس کو آپ بھول جائیں گے۔ جب قرآن کریم کا نزول ہو رہا ہو تو آپ اس قرآن کو (یاد کرنے کے لئے) اس وقت تک غور سے سنئے جب تک وحی مکمل نہ ہوجائے اور ہمیشہ یہ کہئے کہ اے میرے پروردگار میرے علم میں اضافہ اور ترقی عطا فرمائیے۔ ان آیات کی چند باتوں کی وضاحت (1) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے اس قرآن حکیم کو عربی زبان میں نازل کیا ہے۔ اس کی پہلی حکمت تو یہ ہے کہ قرآن کے سب سے پہلے مخاطب وہ لوگ ہیں جن کی زبان عربی ہے۔ لہٰذا ان کو سمجھنے کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ دوسری حکمت یہ سمجھ میں آتی ہے کہ عربی زبان دنیا کی وسیع ترین، باعظمت اور زندہ زبان ہے۔ کہتے ہیں کہ آج دنیا میں چھوٹی بڑی ساڑھے آٹھ ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں۔ لیکن عربی زبان کا آج بھی ایک اعلیٰ مقام ہے۔ یہ دنیا کی وہ عظیم زبان ہے جس کا مقابلہ ساری دنیا کی زبانیں بھی نہیں کرسکتیں۔ اس لئے اللہ نے اپنے کلام کے لئے اس عظیم و فصیح زبان کا انتخاب فرمایا ہے۔ میری ناقص رائے یہ ہے کہ اگر کوئی اور زبان ہوتی تو شاید وہ قرآن کریم کے معانی اور فصاحت و بلاغت کا بوجھ برداشت نہ کرسکتی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کردیتے تو وہ پہاڑ دب جاتا۔ اس کے ٹکڑے اڑ جاتے مگر وہ قرآن کے بوجھ کو برداشت نہ کرسکتا۔ اسی طرح یہ ایک حقیقت ہے کہ عربی جیسی عظیم اور شاندار زبان کے علاوہ کوئی دوسری زبان قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت، مفہوم اور معانی کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتی تھی۔ اس لئے قرآن کریم کے لئے عربی زبان کا انتخاب کیا گیا جس سے یہ زبان بھی ایک زندہ زبان بن گئی ہے۔ قرآن کریم قیامت تک کے لئے ہے اور عربی زبان میں قرآن کریم اترنے کی وجہ سے اس زبان کو بھی قیامت تک تحفظ حاصل ہوگیا ہے۔ (2) دوسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کریم میں بار بار لوگوں کو ان کے برے اعمال کے بارے نتائج سے خبردار کیا ہے کہ اگر وہ اپنے سامنے اللہ کی وعید کو رکھیں گے تو ان میں دو اعلیٰ ترین صفات پیدا ہوجائیں گی۔ (1) پہلی تو یہ ہے کہ ان میں تقویٰ اور پرہیز گاری جیسی اعلیٰ صفت پیدا ہوجائے گی۔ (2) دوسری یہ کہ ان میں تقویٰ کیساتھ ساتھ کم از کم سوچنے اور فکر کرنے سے نصیحت و عبرت کے اسباب پیدا ہوجائیں گے۔ (3) تیسری بات یہ فرمائی کہ اس کائنات میں اگر کوئی بلندو برتر ہستی ہے تو وہ اللہ ہے جو حقیقی اور سچا بادشاہ اور حکمران ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر اعتبار سے اس قدر بلند اور برتر ہے کہ انسان اس کی عظمت کا تصور تک نہیں کرسکتا۔ وہی اس کائنات کا خالق ومالک ہے۔ وہی سچا بادشاہ ہے، اس کے سوا کوئی عبادت و بندگی کے لائق نہیں ہے۔ (4) چوتھی اہم بات یہ ارشاد فرمائی کہ یہ قرآن کریم اللہ نے نازل کیا ہے وہی اس کا نگران اور محافظ ہے۔ وہ اس کی حفاظت میں کسی کا محتاج نہیں ہے وہ جس سے چاہے اس کی حفاظت کا کام لے سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس نے کفار کو ایمان کی توفیق عطا فرما کر ان سے حفاظت قرآن کا وعدہ پورا کیا ہے چناچہ وہ تاتاری قوم جو دنیا سے مسلمانوں اور قرآن کو مٹانے کے لئے اٹھی تھی جس نے بظاہر دین اسلام اور مسلمانوں کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی تھی۔ اللہ نے اس قوم کو راہ ہدایت دی اور انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اسلام کی عظیم خدمات سر انجام دیں یعنی دین اسلام کو مٹانے والے خود ہی دین کے محافظ بن گئے۔ غرضیکہ یہ اللہ کا کلام ہے وہ اس کی حفاظت کا خود ذمہ دار ہے۔ نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ! جب تک آپ کی طرف پوری طرح وحی نازل نہ ہوجائے اس وقت تک آپ جلدی نہ کیجیے۔ اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ جب حضرت جبرئیل اللہ کا کلام لے کر آتے اور آپ کو قرآن کریم سناتے تھے تو آپ شدید احساس ذمہ داری کی وجہ سے یہ خیال کرتے تھے کہ میں ان آیات کو اچھی طرح یاد کرلوں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں بھول جاؤں اور ادائیگی رسالت میں کمی رہ جائے۔ آپ یاد کرنے کے لئے جلدی جلدی اپنی زبان کو حرکت دیا کرتے تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے سورة الاعلیٰ میں فرمایا کہ اے نبی ! ہم آپ کو (یہ قرآن) اس طرح پڑھائیں گے کہ آپ اس کو بھول نہ سکیں گے۔ سورۃ القیامہ میں ارشاد فرمایا گیا کہ اے نبی ! آپ اپنی زبان مبارک (ہونٹوں) کو جلدی جلدی حرکت نہ دیا کریں کیونکہ اس (قرآن کو دل پر جمع کردینا) اور اس کو (آپ کی زبان مبارک سے) تلاوت کرا دینا ہماری ذمہ داری ہے جب یہ قرآن پڑھا جائے تو آپ اس کی اتباع کیجیے (خاموشی سے سنئے) پھر یہ مہاری ذمہ داری ہے (کہ قلب پر جمع کرائیں اور تلاوت کرا دینے کے علاوہ) اس کا مفہوم بھی (آپ کی زبان مبارک سے) بیان کرا دیں گے۔ ( سورة قیامہ) اس میں اللہ تعالیٰ نے تین باتیں اپنے ذمے رکھی ہیں (1) آپ کے قلب مبارک پر قرآن کو جمع کردینا۔ (2) اس کی تلاوت کرا دینا (3) اور اس کا بیان یعنی وضاحت کرا دینا۔ یعنی صرف یہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جس قرآن کو آپ کے قلب مبارک پر جمع کردیا ہے اس کی تلاوت کرا دیں گے بلکہ آیات الٰہی کے معانی، مفہوم اور مراد کی وضاحت بھی اللہ کی طرف سے ہوگی۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کے جس لفظ کا ترجمہ اور اس کی وضاحت جس طرح نبی کریم ﷺ نے فرمائی ہے وہی اللہ کی مراد ہے اور اس کی وضاحت خود اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ پر القا فرمائی ہے یعنی آپ کے دل میں اس کا مفہوم ڈالا گیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کریم کے الفاظ اور آیات کا مطلب اور مفہوم متعین کرنے کا اختیار نبی کریم ﷺ کے علاوہ کسی کو نہیں ہے۔ الحمد اللہ ہمارے اکابر اور بزرگوں نے پوری دیانت و امانت کے ساتھ قرآن کریم کی وہی تشریح فرمائی ہے جو نبی کریم ﷺ سے نقل کی گئی ہے۔ انسان تاریخ میں ان اکابر کی کاوشوں کو سنہری حروف سے لکھا جائے گا اور امت ہمیشہ ان کے کارناموں پر فخر کرے گی۔ خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی ہر وہ تشریح جو احادیث رسول اللہ ﷺ کے مطابق ہوگی وہی اللہ کی مراد سمجھی جائے گی لیکن جو لوگ اپنی اغراض کے لئے احادیث رسول اللہ ﷺ سے منہ پھیر کر من مانی تشریح کرتے ہیں وہ ناقابل اعتبار تشریح ہے۔ (5) پانچویں بات یہ ارشاد فرمائی ہے کہ اے ہمارے حبیب ! آپ ہمیشہ یہی کہئے کہ اے میرے پروردگار میرے علم میں اضافہ اور ترقی عطا فرمائیے۔ ان علوم کے علاوہ جتنے بھی علوم ہیں ضروری نہیں ہے کہ ان علوم کے ذریعہ انسان کو راہ ہدایت نصیب ہوجائے بلکہ اگر اللہ کا نور ہدایت اس میں شامل نہیں ہوگا۔ تو انسانوں کے بھٹکنے کے زیادہ امکانات ہیں۔
Ayahs 20:115–128

وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠ Open ayah 20:115 in the Quran reader

اور اس سے پہلے ہم نے آدم (علیہ السلام) کو ایک حکم دیا تھا۔ ان سے غفلت ہوگئی اور ہم نے ان میں ارادہ کی پختگی نہ پائی۔

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى Open ayah 20:116 in the Quran reader

اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ تم آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو۔ ان سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے انکار کردیا۔

فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى Open ayah 20:117 in the Quran reader

پھر ہم نے کہا کہ اے آدم یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے۔ ایسا نہ ہو کہ تمہیں جنت سے نکلوا دے اور تم مصیبت میں پڑجاؤ۔

اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ Open ayah 20:118 in the Quran reader

بیشک تمہارے لئے اس جنت میں یہ (نعت) ہے کہ نہ تم بھوکے رہو گے اور نہ ہی ننگے،

وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَ لَا تَضْحٰى Open ayah 20:119 in the Quran reader

نہ تم پیاسے رہو گے اور نہ تمہیں دھوپ کی تپش ستائے گی۔

فَوَسْوَسَ اِلَیْهِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا یَبْلٰى Open ayah 20:120 in the Quran reader

پھر شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا اور کہا کہ اے آدم کیا میں مت ہیں ایک ایسے درخت کے متعلق نہ بتاؤں جس سے ہمیشہ کی زندگی اور نہ ختم ہونے والی سلطنت نصیب ہوجائے ؟

فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١٘ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ Open ayah 20:121 in the Quran reader

آخر کار ان دونوں نے اس سے کھالیا جس سے ان دونوں کے ستر ایک دوسرے کے آگے کھل گئے اور وہ دونوں جنت کے پتوں سے اپنے آپ کو ڈھانپنے لگے ۔ آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور غلطی میں پڑگئے۔

ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَیْهِ وَ هَدٰى Open ayah 20:122 in the Quran reader

پھر اس کے رب نے اسے منتخب کرلیا۔ پھر اللہ نے توجہ فرمائی (توبہ قبول کرلی) اور اسے راہ دکھائی ۔

قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِیْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى١ۙ۬ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰى Open ayah 20:123 in the Quran reader

(اللہ نے ) فرمایا کہ تم دونوں یہاں سے اتر جاؤ۔ تم سب ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ پھر جب میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے تو جو بھی اس کی پیروی کرے گا وہ گمراہ نہ ہوگا اور نہ بدبختی میں مبتلا ہو گا

وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى Open ayah 20:124 in the Quran reader

اور جس نے میری یاد (نصیحت) سے منہ پھیرا تو بیشک اس کی معیشت (روز) تنگ ہوجائے گی اور اسے ہم قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے۔

قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا Open ayah 20:125 in the Quran reader

وہ کہے گا کہ اے میرے رب تو نے مجھے اندھا اٹھایا جب کہ میں دنیا میں آنکھوں والا تھا۔

قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَا١ۚ وَ كَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُنْسٰى Open ayah 20:126 in the Quran reader

اللہ فرمائیں گے کہ جس طرح تو نے ہماری آیات کو بھلا دیا تھا جب کہ وہ تیرے پاس آئی تھیں۔ اسی طرح آج ہم نے تجھے بھلا دیا

وَ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ وَ لَمْ یُؤْمِنْۢ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰى Open ayah 20:127 in the Quran reader

اور ایسے ہی حد سے گذرنے والوں کو اور جو لوگ اپنے رب پر ایمان نہیں اتے ان کو ہم اسی طرح کی سزا دیں گے اور آخرت کا عذاب تو شدید ترین اور دیر تک قائم رہنے والا ہو گا

اَفَلَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:128 in the Quran reader

اور کیا (اس بات نے بھی) ان کو ہدایت نہ دی کہ ان سے پہلے ہم کتنے لوگوں کو ہلاک کرچکے ہیں۔ جن کی بستیوں میں (یہ آج بھی) چلتے پھرتے ہیں۔ یقینا ان میں عقل رکھنے والوں کے لئے نشانیاں موجود ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 115 تا 128 تشقی تم مصیبت میں پڑجاؤ گے۔ لاتجوع تو بھوکا نہ رہے گا۔ لاتعری تو ننگا نہ رہے گا۔ لاتضمو نہ پیاسے رہوگے۔ لاتضحی نہ دھوپ میں رہوگے۔ ادل میں رہنمائی کرتا ہوں۔ الخلد ہمیشہ۔ لایبلی زوال نہ آئے۔ طغی وہ بہک گیا۔ لایشقی بدنصیب نہ ہوگا۔ معیشتۃ گزر بسر کا سامان۔ ضنک تنگ۔ النھی عقل و سمجھ۔ تشریح : آیت نمبر 115 تا 128 اللہ تعالیٰ نے انسان کو جہاں بڑی عظمتوں سے نوازا ہے وہیں اس میں بعض کمزوریاں بھی پائی جاتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی کمزوری یہ خواہش ہے کہ اس کو زندگی کی نعمتیں، لذتیں، راحتیں، عیش و آرام، حکومت و سلطنت اور اقتدار اس طرح مل جائے جس سے وہ سب کچھ اسے ہمیشہ حاصل رہیں اور ان کو کبھی زوال نہ آئے۔ حالانکہ اس دنیا کی مختصر زندگی میں یہ ممکن بھی نہیں ہے لیکن انسان کو جو کچھ ملتا ہے وہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ یہ چیزیں ہمیشہ اس کے پاس رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور ان کی رفیقہ حیات بی بی حوا کو ایسی جنت عطا فرما دی تھی جس میں بھوک، پیاس، دھوپ کی تپش اور لباس کی کمی نہ تھی اور ان سے کہا گیا تھا کہ وہ اس جنت میں رہیں سوائے ایک درخت کے ہر چیز کو وہ کھائیں اور استعمال کریں۔ اس درخت کے قریب نہ جانا جوان کی محض ایک آزمائش تھا۔ شیطان جو انسان کا ازلی دشمن ہے اس نے ہمدردانہ انداز اختیار کر کے اور خیر خواہی پر قسمیں کھا کر حضرت آدم و حوا سے یہ کہا کہ اصل میں تم دونوں کو اس درخت کا پھل کھانے سے صرف اس لئے منع کیا گیا ہے کہ اگر تم نے اس کو کھالیاتو ہمیشہ اسی جنت میں رہ جاؤ گے اور تمہیں ہر طرح کا اقتدار و اختیار دائمی طور پر مل جائے گا۔ اس وقت حضرت آدم و حوا اس بات کو بھول گئے کہ شیطان ان کا ازلی دشمن ہے اور وہ دونوں اس کے دھوکے اور فریب میں آگئے۔ درخت کے کھاتے ہی ان دونوں کے بدن سے جنت کا لباس اتر گیا۔ ایک دوسرے کا ستر ایک دوسرے کے سامنے کھل گیا حالانکہ اس جگہ وہ دونوں تنہا تھے مگر شرم و حیا سے دونوں اپنے ستر کو جنت کے پتوں سے چھپانے لگے۔ اس وقت حضرت آدم (علیہ السلام) کو اس غلطی کا احساس ہوا کہ ان سے بھول ہوگئی حالانکہ عزم و ہمت کا تقاضا یہ تھا کہ وہ دونوں اتنی بڑی بات کو کبھی نہ بھولتے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم و حوا کو جنت کی راحتوں سے نکال کر دنیا میں بھیج دیا اور فرمایا کہ اب جنت میں آنے کا ایک ہی راستہ ہے تم اور تمہاری اولادیں دنیا میں ایک مدت تک رہ کر ایمان اور حسن عمل کا مظاہرہ کریں گے تو جنت کے مستحق بن سکیں گے۔ اس بات کی یاد دھانی کے لئے ہم اپنے پاک نفس انبیاء کرام کو راہ ہدایت کی تعلیمات دے کر بھیجتے رہیں گے اگر ان کی لائی ہوئی تعلیمات پر عمل کیا گیا تو وہ جنت کی ابدی راحتوں سے محروم نہ رہیں گے لیکن اگر نافرمانی کی روش اختیار کی گئی تو نہ صرف یہ کہ ان کی زندگی کا دائرہ تنگ کردیا جائے گا بلکہ دنیا اور آخرت میں سوائے نقصان کے کچھ بھی حاصل نہ ہو سکے گا۔ آخرت کی سزا تو یہ ہوگی کہ جن لوگوں نے اللہ کے پیغمبروں کی لائی ہوئی تعلیمات سے منہ پھیرا ہوگا۔ اور جان بوجھ کر اندھے بنے رہے ہوں گے جب وہ قیامت کے دن اٹھیں گے تو بصارت سے محروم ہوں گے۔ وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہم دنیا میں تو آنکھوں والے تھے ہمیں یہاں اندھا کر کے کیوں اٹھایا گیا ہے ؟ جواب دیا جائے گا کہ جب تمہارے پاس ہماری آیتیں بھیجی گئی تھیں تو نہ صرف ہماری آیتوں کا انکار کر کے تم حد سے بڑھ گئے تھے بلکہ جان بوجھ کر اندھے بنے رہے تھے۔ لہٰذا یہ تمہاری سزا ہے یہ تو ان کی آخرت میں سزا ہوگی۔ دنیاوی سزا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ بہت سی قوموں کو اس لئے برباد کردیا گیا تھا کہ انہوں نے ہماری نافرمانیوں کے ایسے انداز اختیار کئے جس سے انہوں نے اپنے ہاتھوں اپنی دنیا اور آخرت کو برباد کر ڈالا۔ آج ان کے کھنڈرات ان کی نافرمانیوں کی منہ بولتی تصویریں ہیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ حضرت آدم سے حکم کی فرماں برداری میں غفلت ہوگئی ان کو دنیا میں بھیجا گیا تاکہ تمام لوگ ایمان اور حسن عمل اختیار کر کے دوبارہ اپنے آپ کو جنت کا مستحق ثابت کریں۔ دنیا میں آنے کے بعد حضرت آدم و حوا اس نافرمانی پر شرمندگی محسوس کر رہے تھے اور دن رات روتے رہتے اور توبہ و استغفار میں لگے رہتے تھے آخر کار اللہ کو ان کے ندامت کے آنسوؤں پر رحم آگیا اور اللہ نے ان کی اس خطا کو معاف کردیا اور ان کی توبہ کو قبول فرما لیا۔ اب نصاریٰ کا یہ عقیدہ کہ حضرت آدم کا یہ گناہ نعوذ باللہ ان کی نسلوں میں چلتا رہا اور اللہ نے (نعوذ باللہ) اپنے بیٹے حضرت عیسیٰ کو سولی پر چڑھا کر حضرت آدم اور سارے انسانوں کے گناہوں کو معاف کردیا ۔ یہ عقیدہ کس قدر کمزور اور احمقانہ ہے لیکن بدقسمتی سے نصاریٰ اس عقیدہ پر جمے ہوئے ہیں اور گمراہی کو اپنے گلے میں ڈالے ہوئے ہیں۔
Ayahs 20:129–132

وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّىؕ Open ayah 20:129 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات طے نہ کردی گئی ہوتی اور مدت مقرر نہ کردی گئی ہو تو ان پر ضرور عذاب نازل ہوجاتا۔

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَا١ۚ وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى Open ayah 20:130 in the Quran reader

جو کچھ وہ کہتے ہیں اس پر صبر کیجیے اور اپنے رب کی حمد و ثنا کیجیے۔ سورج نکلنے سے پہلے اور سورج غروب ہونے سے پہلے تسبیح کیجیے اور کچھ رات کی گھڑیوں میں اس کی تسبیح کیجیے اور دن کے کناروں پر بھی شاید کہ آپ خوش ہو جائیں

وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ۬ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:131 in the Quran reader

اور دنیاوی زندگی کی اس شان و شوکت کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھیے جو ہم نے ان مختلف قسم کے لوگوں کو برتنے کے لئے دے رکھی ہیں۔ وہ اس لئے ہیں کہ ہم آزمائیں اور آپ کے پروردگار کا دیا ہوا رزق ہی بہتر اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے۔

وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَا١ؕ لَا نَسْئَلُكَ رِزْقًا١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكَ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى Open ayah 20:132 in the Quran reader

آپ اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیجیے اور اس پر قائم رہنے ہم آپ سے کوئی رزق نہیں چاہتے بلکہ ہم رزق دینے والے ہیں اور بہترین انجام تقویٰ اور پرہیز گاری ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 129 تا 132 سبقت گزر گئی، طے کردی گئی۔ لزام عذاب۔ اجل مسمی مدت مقرر، متعین۔ اناء برتن، لمحہ، وقت۔ اطراف کنارے۔ ترضی تو خوش ہوگا۔ لاتمدن تو ہرگز نہ پھیلے گا۔ متعنا ہم نے برتنے کا سامان دیا۔ زھرۃ آرائش و زیبائش۔ نفتن ہم آزماتے ۔ اصطبر تو قائم رہ۔ تشریح : آیت 129 تا 132 ان آیات میں کفار و مشرکین کے اس طرز عمل کو بیان کیا گیا ہے جو انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ اختیار کر رکھا تا۔ ان لوگوں کی نافرمانیوں، ضدوں اور ہٹ دھرمیوں کی وجہ سے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اللہ کا عذاب ان پر ٹوٹ پڑتا اور ان کو گزشتہ قوموں کی طرح تباہ و برباد کر کے رکھ دیا جاتا چونکہ اللہ کی ہر صفت پر اس کی صفت رحم و کرم اور صفت حلم و تحمل چھائی ہوئی ہے اس لئے گناہگاروں کو فوراً ہی سزا نہیں دی جاتی بلکہ ان کو ایک خاص اور مقرر مدت تک مہلت اور ڈھیل دی جاتی ہے تاکہ وہ اس فرصت سے فائدہ اٹھا کر اپنے اعمال و افعال کی اصلاح کرلیں۔ اس کے باوجود اگر وہ اپنی روش زندگی اور طرز فکر کو تبدیل نہیں کرتے تب اللہ کا وہ فیصلہ آجاتا ہے جس کے سامنے کسی کا ٹھہرنا اور نجات پانا ناممکن بن جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ اور آپ کے جان نثار صحابہ کرام سے فرمایا جا رہا ہے کہ وہ کفار کی نافرمانیوں اور ضد کی پرواہ نہ کریں اپنے نفس کو قابو میں رکھتے ہوئے کسی طرح کے انتقام کے جذبے کو پروان نہ چڑھائیں۔ اپنے فریضہ تبلیغ اور اشاعت دین کی جدوجہد کو تیز کردیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کفار کے پیچھے نہ پڑیں اپنے اعمال کی فکر کرتے ہوئے اللہ کی عبادت و بندگی اور حمد وثناء میں دل و جان سے لگ جائیں اس سے نہ صرف سکون قلب کی دولت مل جائے گی بلکہ استحکام و ترقی بھی عطا کی جائے گی۔ سکون قلب کا سب سے بہتر ذریعہ اور عبادت کا بہترین انداز اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے نماز پڑھنا ہے۔ فرمایا کہ (1) سورج نکلنے سے پہلے (2) سورج غروب ہونے سے پہلے (3) رات کے لمحات میں (4) دن کے دونوں حصوں کے ملنے کے وقت اللہ کی حمد وثناء کیجیے اور اس ذات کی خوبیاں بیان کیجیے جس کا سب سے بڑا فائدہ ہر طرف سے خوشی ہی خوشی ہے۔ یہ وہ آیت ہے جس میں پانچ وقت فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازوں کے اوقات بیان کئے گئے ہیں اور پانچ وقت کی نمازوں کی فرضیت ثابت ہوتی ہے۔ ان آیات میں دوسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اس دنیا میں اصل چیز ایمان لانے کے بعد انسان کے بہترین اعمال اور ان کے بہترین نتائج ہیں۔ کیونکہ انسان کے نیک اور بہتر اعمال اس کو آخرت کی عظمت و بلندی کی طرف لے جانے والے ہیں جب کہ دنیا کی چمک دمک، مال و دولت، زیب وزینت اور دنیاوی خوبصورتیاں اکثر انسان کو اچھے اعمال اور مقصد حیات سے بہت دور لے جاتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اے نبی ! یہ دنیا کی ظاہری چمک دمک، رشک ، رغبت اور شوق سے دیکھنے کی چیزیں نہیں ہیں کیونکہ یہ تو انسان کی ایک آزمائش ہیں۔ اکثر لوگ دنیا کے حرص و لالچ میں پڑ کر آخرت تک کو بھول جاتے ہیں۔ دنیا محض استعمال کرنے کے لئے بنائی گئی ہے دل لگانے کے لئے نہیں کیونکہ جو چیز اللہ کے اس سے وہی زیادہ بہترین اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ یہ دنیا اور اس کی رونقیں عارضی ہیں جو ایک وقت پر ختم ہوجائیں گی۔ تیسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ اے نبی ﷺ آپ خود بھی صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے نماز قائم کیجیے اور اپنے گھر والوں کو بھی اس پر جمانے کی کوشش کیجیے۔ رزق کی پروا نہ کیجیے ہم یہ نہیں چاہتے ہیں کہ آپ دنیا کا ساز و سامان جمع کریں کیونکہ زندگی گذارنے کا پورا انتظام ہم نے کر رکھا ہے ہم وہ آقا نہیں جو اپنے غلاموں سے محنت کراتے اور گھر بیٹھ کر آرام سے کھاتے ہیں بلکہ ہم آپ کے رزق کے ذمہ دار ہیں۔ ہم ہی آپ کو رزق دیں گے۔ بہترین انجام تو صرف تقویٰ اور پرہیز گاری اختیار کرنے والوں کا ہے۔
Ayahs 20:133–135

وَ قَالُوْا لَوْ لَا یَاْتِیْنَا بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اَوَ لَمْ تَاْتِهِمْ بَیِّنَةُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:133 in the Quran reader

وہ کہتے ہیں کہ (اے نبی ﷺ آپ اپنے رب کی طرف سے کوئی نشانی (معجزہ) لے کر کیوں نہیں آتے۔ (اللہ نے فرمایا) کیا ان کے پاس پہلی کتابوں میں سے وہ نشانی نہیں آئی ؟

وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰى Open ayah 20:134 in the Quran reader

اور اگر ہم رسولوں کے آنے سے پہلے ان کو ہلاک کردیتے تو کہتے کہ اے ہمارے رب ! آپ نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا تاکہ ہم ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے ان کی اتباع کرتے

قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَ مَنِ اهْتَدٰى۠ Open ayah 20:135 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے۔ تم انتظار کرو۔ تمہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ کون سیدھے راستے پر چلنے والا ہے اور کس نے ہدایت حاصل کی۔

لغات القرآن آیت نمبر 133 تا 135 لولا یا تینا وہ کیوں نہیں لاتے ہمارے پاس۔ صحف (صحیفۃ) کتابیں۔ ارسلت تو نے بھیجا۔ نذل ہم ذلیل ہوتے ہیں۔ نخزی ہم رسوا ہوتے ہیں۔ متربص انتظار کرتے ہیں۔ السوی برابر۔ اھتدی جس نے ہدایت پائی۔ تشریح :- آیت نمبر 133 تا 135 سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کو دیئے گئے معجزات (عصا اور ید بیضا) کا بڑی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ ان معجزات کو دیکھ کر کئی لوگ تو ایمان لے آئے لیکن آل فرعون اور بنی اسرائیل کی بہت بڑی اکثریت نے سب کچھ آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود اس کو ایک جادو سے زیادہ نہ سمجھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس کو ایمان لانا ہے وہ کسی معجزہ یا بہانے کا محتاج نہیں ہوتا۔ بلکہ جب حق و صداقت کی روشنی نظر آتی ہے تو ان کے دل ایمان کے نور سے منور ہوجاتے ہیں۔ کفار مکہ جو ایمان نہ لانے کے بہانے تلاش کرتے رہتے تھے اگر وہ ذرا بھی غور کرتے تو نبی کریم ﷺ کی ذات اور قرآن کریم جیسی عظیم کتاب کے بعد ان کو کسی معجزہ کے مطالبہ کی ضرورت نہ تھی۔ کیونکہ ایک نبی امی (ﷺ) کی زبان مبارک سے ایسا کلام سنا جانا جس کی مثال اور نظیر لانا ممکن ہی نہیں ہے جو عرب کے تمام اہل زبان کے لئے ایک چیلنج تھا اور قرآن کریم میں صاف صاف فرما دیا گیا تھا کہ اگر دنیا کے جنات اور انسان بھی مل جائیں تب بھی اس قرآن جیسا لانے کی کوشش میں ناکام و نامراد ہوجائیں گے بلکہ قرآن کریم کی ایک سورت بھی بنا کر نہیں لاسکتے۔ لہٰذا اس معجزہ کی موجودگی میں کسی بھی نئے معجزہ کا مطالبہ بڑی حماقت کی بات ہے کفار مکہ بڑی جسارت سے کہتے تھے کہ اے نبی (ﷺ) اگر آپ سچے ہیں تو ثبوت کے طور پر کوئی نشانی یا معجزہ لے کر کیوں نہیں آئے جس کو دیکھ کر ہم ایمان لے آتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کے اس سے پہلے جو کتابیں آ چکی ہیں جن میں انبیاء کرام کے معجزات کا ذکر ہے کیا وہ ایمان لانے کے لئے کافی نہیں ہیں ؟ کیا انہیں یہ بات معلوم نہیں کہ انبیاء کرام نے بڑے بڑے معجزات دکھائے لیکن ان پر ایمان والے صرف چند سعادت مند لوگ ہی تھے ؟ یہاں اس بات کی ایک دفعہ اور وضاحت ضروری ہے کہ نبی کریم ﷺ پر کفار کی فرمائش پر کسی معجزہ کو نازل نہیں کیا گیا کیونکہ اگر وہ اس معجزہ کو دیکھنے کے باوجود اس پر ایمان نہ لاتے تو اللہ کا عذاب نازل ہوتا اور پوری قوم تباہ و برباد ہو کر رہ جاتی جو اللہ کی مصلحت کے خلاف ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ یہ امت آخری نبی کی آخری امت ہے اگر یہ مٹ جاتی تو پھر قیامت تک کوئی شخص اور قوم اللہ کا نام لینے والا اور آخری پیغام کو پہنچانے والا نہ ہوتا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے آپ سے پہلے بہت سی قوموں کو ان پر ان ہی کی نافرمانیوں کی وجہ سے ہلاک کیا ہے جن کے صرف اب کھنڈرات بھی باقی نہیں اور نشان عبرت و نصیحت بن چکے ہیں۔ البتہ آپ سے بیشمار معجزات صادر ہوئے جن کو ہزاروں صحابہ کرام نے دیکھا اور اس کو تفصیل سے بیان کیا چناچہ معجزات نبوی ﷺ پر بیشمار کتابیں لکھی گئی ہیں جن کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ فرمایا کہ ہم نے اپنے رسولوں کو اس لئے بھیجا تھا کہ وہ لوگ یہ نہ کہنے لگیں کہ اگر ہمارے پاس رسول آتے تو ہم اس طرح ذلیل و رسوا نہ ہوتے اور ہم ایمان لے آتے۔ فرمایا کہ اب اللہ نے اپنا آخری رسول اور آخری نبی بھیج دیا ہے جن سے انسان ہدایت پاسکتا ہے اب قرآن کریم کی موجودگی میں نہ کسی نبی کی ضرورت ہے اور نہ کسی نئی کتاب کی۔ فرمایا کہ اہل ایمان کو کفار کی چالوں سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ بہت جلد یہ نافرمان اور سرکش لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ حق و صداقت کو نہ ماننے کا انجام کتنا بھیانک ہے اور جو لوگ سچائی پر ایمان لانے والے ہیں وہ بھی جان لیں گے کہ سیدھے راستے پر چل کر منزل مقصود پر کون پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و کرم سے نبی کریم ﷺ کی شان ختم نبوت کے صدقے ایمان اور عمل صالح کی توفیق عطا فرمائے آمین اور آخرت کی ابدی راحتیں عطا کرے آمین ثم آمین الحمد اللہ سورة طہ کا ترجمہ و تشریح تکمیل تک پہنچی۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین