20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 20:25–46

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ Open ayah 20:25 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا اے میرے رب میرا سینہ کھول دیجیے

وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:26 in the Quran reader

اور میرے کام کو میرے لئے سہل اور آسان بنا دیجیے

وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ Open ayah 20:27 in the Quran reader

اور میری زبان کی گرہ کھول دیجیے

یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪ Open ayah 20:28 in the Quran reader

تاکہ وہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں

وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْۙ Open ayah 20:29 in the Quran reader

اور میرے لئے میرے گھر والوں میں سے میرا مددگار بنا دیجیے۔

هٰرُوْنَ اَخِیۙ Open ayah 20:30 in the Quran reader

میرے بھائی ہارون کو

اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْۙ Open ayah 20:31 in the Quran reader

اس کے ذریعے میرے ہاتھ مضبوط کر دیجیے

وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:32 in the Quran reader

اور اس کو میرے کام میں شریک کر دیجیے

كَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًاۙ Open ayah 20:33 in the Quran reader

تاکہ ہم آپ کی کثرت سے تسبیح کریں

وَّ نَذْكُرَكَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 20:34 in the Quran reader

اور آپ کو کثرت سے یاد کریں۔

اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا Open ayah 20:35 in the Quran reader

بیشک آپ تو ہمیں خوب دیکھتے (نگرانی کرتے) ہیں۔

قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:36 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا کہ اے موسیٰ آپ نے جو کچھ مانگا وہ ہم نے عطا کردیا۔

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ مَرَّةً اُخْرٰۤىۙ Open ayah 20:37 in the Quran reader

ہم نے تمہارے اوپر ایک اور احسان کیا ہے۔

اِذْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ مَا یُوْحٰۤىۙ Open ayah 20:38 in the Quran reader

وہ وقت یاد کرو جب ہم نے تمہاری والدہ کو الہام کیا

اَنِ اقْذِفِیْهِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْهِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِهِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّیْ وَ عَدُوٌّ لَّهٗ١ؕ وَ اَلْقَیْتُ عَلَیْكَ مَحَبَّةً مِّنِّیْ١ۚ۬ وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَیْنِیْۘ Open ayah 20:39 in the Quran reader

کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ کر اس کو دریا میں چھوڑ دو پھر دریا اس کو ساحل پر لاڈالے گا اور اس کو میرا اور تمہارا دشمن اٹھا لے گا۔ اور میں نے مت پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی تاکہ تم میری نگرانی میں پرورش پاؤ۔

اِذْ تَمْشِیْۤ اُخْتُكَ فَتَقُوْلُ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى مَنْ یَّكْفُلُهٗ١ؕ فَرَجَعْنٰكَ اِلٰۤى اُمِّكَ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ١ؕ۬ وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّیْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا١۫۬ فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ١ۙ۬ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ یّٰمُوْسٰى Open ayah 20:40 in the Quran reader

وہ وقت یاد کرو جب تمہاری بہن چلتی ہوئی آئی اور انہوں نے (فرعون کے گھر والوں سے ) کہا کیا میں تمہیں اسے گھر والوں نہ بتا دوں جو اس کی اچھی طرح پرورش کرسکتے ہیں۔ پھر ہم نے تمہیں تمہاری ماں کی طرف لوٹا دیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ اداس نہ ہو (یاد کرو جب تم نے) ایک شخص کو غلطی سے قتل کردیا تھا۔ پھر ہم نے تمہیں اس غم سے نجات عطا کی اور تمہیں مختلف آزمائشوں میں سے گذارا۔ پھر تم کئی سال مدینے والوں کے ساتھ ٹھہرے رہے پھر اے موسیٰ خاص وقت مقررہ پر آئے ہو۔

وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِیْۚ Open ayah 20:41 in the Quran reader

ہم نے تمہیں اپنے لئے خاص کرلیا ہے۔

اِذْهَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْكَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِكْرِیْۚ Open ayah 20:42 in the Quran reader

تم اور تمہارا بھائی دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ بغیر کسی کوتاہی کے

اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰىۚۖ Open ayah 20:43 in the Quran reader

فرعون کی طرف جاؤ۔ کیونکہ اس نے سرکشی اختیار کر رکھی ہے۔

فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى Open ayah 20:44 in the Quran reader

تم اس سے نرم بات کہنا۔ شاید وہ نصیحت مان جائے یا ڈر جائے۔

قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ اَنْ یَّطْغٰى Open ayah 20:45 in the Quran reader

دونوں نے کہا۔ اے ہمارے رب ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کہ وہ ہم پر زیادتی نہ کرے اور حد سے نہ بڑھ جائے ۔

قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى Open ayah 20:46 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا تم دونوں مت ڈرو بیشک میں تمہارے ساتھ ہوں میں سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہوں ۔

لغات القرآن آیت نمبر 25 تا 46 یسر آسان کر دے۔ امری میرے کام۔ احلل کھول دے۔ عقدۃ گرہ۔ یفقھو وہ سمجھ لیں۔ اشدد مضبوط کر دے۔ ازری میری قوت۔ کی تاکہ۔ اوتیت تجھے دیدیا گیا۔ سول مانگا۔ سوال کیا گیا۔ مننا ہم نے احسان کیا۔ اقذ ڈالدے۔ الیم دریا سمندر۔ عدد دشمن۔ القیت میں نے ڈال دیا۔ لتصنع تاکہ پرورش پائے۔ یکفل نگرانی کرتا ہے، پرورش کرتا ہے۔ رجعنا ہم نے لوٹا دیا۔ کئی تقر تاکہ ٹھنڈی رہیں۔ قدر مقدار، مقرر، مدت اصطنعت میں نے بنایا۔ لینا آسان، سہل بات۔ یفرط وہ زیادتی کرے گا۔ اسمع میں سنتا ہوں۔ اری میں دیکھتا ہوں۔ تشریح : آیت نمبر 25 تا 46 اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک مقدس وادی ” وادی طویٰ “ میں جو نبوت کا منصب اور مقام عطا کیا تھا۔ انہوں نے اس موقع پر اللہ کی بارگاہ میں چند گزارشات پیش کیں۔ عرض کیا (1) الٰہی مجھے وحی کی شان و عظمت اور آپ کے پیغام حق و صداقت کو پہنچانے کیلئے شرح صدر، عطا کردیجیے یعنی میرا سنیہ اس طرح کھول دیجیے کہ اتنی بڑی ذمہ داری کو پہنچانے اور بیان کرنے میں سہولت ہوجائے۔ (2) درخواست یہ ہے کہ مجھے کوئی ایسا مددگار بھی دیدیجیے جو میرے خاندان سے ہو، موزوں ترین ہوتا کہ میرے اس مقصد اور کام میں سہولت حاصل ہوجائے۔ خود ہی عرض کر دای کہ اگر میرے (بڑے) بھائی ہارون کو میرا مددگار اور معاون بنا دیں تو ہم ایک جگہ آپ کی حمد و ثنا اچھی طرح بیان کرسکیں گے۔ فرمایا کہ اے اللہ یہ تو میری عاجزانہ گذارشات ہیں۔ میں ان کی مصلحتوں تک سے واقف نہیں ہوں۔ آپ ہی ہر چیز کی مصلحت کو بہتر جانتے ہیں اور آپ سے بہتر اور کون جان سکتا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو ان تمام درخواستوں میں ایک بات مشترک ہے اور وہ ہے انتہا درجہ کی اعجزی اور انکساری، اللہ تعالیٰ کو بندے کی یہی ادا سب سے زیادہ پسند ہے کہ وہ عظیم سے عظیم تر مقام پر پہنچنے کے باوجود اللہ کے سامنے تکبر اور غرور کے بجائے عاجزی اور انکساری سے کام لے۔ اس کے برخلاف بنی اسرائیل کے مزاج میں سختی ، تکبر اور غرور اس طرح رچ بس گیا تھا کہ وہ عاجزی اور انکساری سے کام لے۔ اس کے برخلاف بنی اسرائیل کے مزاج میں سختی، تکبر اور غرور اس طرح رچ بس گیا تھا کہ وہ عاجزی اور انکساری کے ہر انداز کو اپنی توہین سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ پر یہ کرم اور مہربانی ان کی عاجزی و انکساری کی بنا پر کی گئی تھیں اور اللہ نے ان کی ہر درخواست کو شرف قبولیت سے نوازا تا۔ فرمایا کہ اے موسیٰ ہم نے آپ کی صرف یہی درخواست قبول نہیں کی بلکہ شروع ہی سے آپ کے معاملہ میں کرم و احسان کا انداز اختیار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو یاد دلایا کہ وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب آپ چھوٹے سے تھے اور فرعون بنی اسرائیل کے لڑکوں کو ذبح کر رہا تھا۔ مگر ہم نے آپ کی حفاظت کا یہ انتظام کیا تھا کہ آپ کی والدہ کے دل میں اس بات کو الہام کردیا تھا کہ وہ آپ کو ایک صندوق میں ڈال کر دریا کی موجود کے حوالے کردیں۔ چناچہ آپ کے والدہ نے ایسا ہی کیا اور اس طرح ہم نے اپنی قدرت کاملہ سے آپ کو اللہ کے اور آپ کے دشمن فرعون کی گود میں پرورش کرا دیا۔ جب حضرت موسیٰ کی والدہ نے ان کو ایک صندوق میں رکھ کر اپنی میں بہا دیا تو حضرت موسیٰ کی بہن یہ دیکھتی رہیں کہ صندوق پانی کی موجوں کے ساتھ کہاں جاتا ہے۔ حضرت موسیٰ کو ایک خوبصورت بچہ سمجھ کر فرعون کی بیوی حضرت آسیہ نے ان کو پانی سے نکال لیا اور کہا کہ اتنا خوبصورت اور پیاسا بچہ ہے اس کو ہم اپنے محل میں پرورش کریں گے۔ یا بیٹا بنا لیں گے بھوک کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰ نے رونا شروع کردیا۔ ہر طرح ہر ایک نے دودھ پلانے کی کوشش کی مگر حضرت موسیٰ نے کسی کا دودھ نہیں پیا۔ حضرت موسیٰ کی بہن جو اس تمام صورتحال کو دیکھ رہی تھیں انہوں نے کہا کہ ایک خاتون میری نظر میں بھی ہیں اگر آپ لوگ کہیں تو میں اس کو بلا لاؤں۔ وہ بچے کے رہنے سے پریشان تھے کہنے لگے کہ تم کسی بھی خاتون کو لے آؤ۔ چناچہ وہ گئیں اور حضرت موسیٰ کی والدہ کو بلا کرلے آئیں۔ حضرت موسیٰ نے ان کا دودھ پیا اور سب لوگ خوش ہوگئے۔ اس طرح اللہ نے نہ صرف حضرت موسیٰ کو ایک محفوظ جگہ پہنچا دیا بلکہ ایک ماں کو بیٹے سے جدا نہ ہونے دیا اور اللہ نے اپنی قدرت کاملہ کا اظہار فرماتے ہوئے بتایا کہ اللہ کی قدرت اور حکمت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے وہ جس طرح چاہتا ہے کرتا ہے اور وہ کام اسی طرح ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ سب کچھ اس لئے تھا کہ اللہ آپ کو اپنا رسول اور مقرب بنا کر آپ سے ہدایت کا کام لینا چاہتا تھا۔ حکم ہوا کہ تم دونوں بھائی عصا اور یدبیضا کا معجزہ لے کر فرعون کے دربار میں جاؤ اور اس کو سرکشی و نافرمانی سے باز رکھنے کی کوشش کرو اور اس مقصد میں ذرا بھی سسی سے کام نہ لینا۔ یہ بھی فرما دیا کہ فرعون سے ایسے نرم لب و لہجے میں گفتگو کرنا کہ وہ اللہ کی طرف پلٹ آئے اور اللہ کی عظمت کے سامنے اپنا سر جھکا دے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون نے عرض کیا ! الٰہی : ہمیں اس بات کا ڈر اور خوف ہے کہ فرعون ہمارے ساتھ زیادتی نہ کرے۔ اللہ نے فرمایا کہ تم دونوں فرعون کے دربار میں بلا خوف و خطر پہنچو۔ میں خود تمہاری حفاظت کا انتظام کروں گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کی باقی تفصیل اس کے بعد کی آیات میں ملاحظہ کیجیے۔
Ayahs 20:47–56

فَاْتِیٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْ١ؕ قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى Open ayah 20:47 in the Quran reader

اس کے (فرعون کے) پاس جاؤ اور تم دونوں کہنا کہ ہم تیرے رب کی طرف سے بھیجے گئے ہیں تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے اور ان کو تکلیفیں نہ دے۔ ہم تیرے پاس تیرے رب کی نشانیاں لے کر آئے ہیں۔ اس پر سلامتی ہو جو راہ ہدایت کی پیروی کرتا ہے۔

اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى Open ayah 20:48 in the Quran reader

بلاشبہ ہماری طرف وحی کی گئی ہے کہ ہر اس شخص کے لئے عذاب ہے جس نے (سچائیوں کو) جھٹلایا اور اس سے منہ پھیرا۔

قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:49 in the Quran reader

(فرعون نے) کہا اے موسیٰ تمہارا رب کون ہے۔

قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى Open ayah 20:50 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی صورت شکل عطا کی اور اس کی رہنمائی کی۔

قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:51 in the Quran reader

(فرعون نے) کہا کہ جو لوگ گذر چکے ہیں (ان کے بارے میں) کیا خیال ہے۔

قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ كِتٰبٍ١ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘ Open ayah 20:52 in the Quran reader

(موسیٰ نے ) کہا اس کا علم میرے رب کے پاس کتاب میں محفوظ ہے۔ (میرا رب وہ ہے ) جو نہ غلطی کرتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى Open ayah 20:53 in the Quran reader

وہ جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا اور اس میں تمہارے چلنے کے لئے راستے بنائے۔ جس نے بلندی سے پانی برسایا (اللہ نے فرمایا) پھر ہم نے اس سے مختلف نباتات کی مختلف شکلیں نکالی

كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:54 in the Quran reader

تاکہ تم کھاؤ اور اپنے مویشویں کو چراؤ۔ بیشک ان میں عقل والوں کے لئے نشانیاں موجود ہیں

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى Open ayah 20:55 in the Quran reader

(ارشاد فرمایا کہ ) ہم نے تمہیں زمین سے پیدا کیا۔ اس میں ہم تمہیں لوٹا دیں گے اور اسی سے ہم تمہیں دوسری مرتبہ نکالیں گے۔

وَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى Open ayah 20:56 in the Quran reader

حالانکہ ہم نے اس کو (فرعون کو) ہر طرح کی نشانیاں دکھائیں گے مگر اس نے جھٹلایا اور ان کا انکار کیا۔

لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 56 ائتیا تم آؤ، تم اس کے پاس جاؤ۔ ارسل بھیج دے۔ لاتعذب تکلیفیں نہ دے۔ اتبع جس نے پیروی کی۔ اعطی عطا کیا، دیا۔ خلق اس نے پیدا کیا۔ مابال کیا حال ہے، کیا معاملہ ہے۔ القرون (قرن) قومیں، جماعتیں۔ لایضل نہ وہ بہکتا ہے۔ نہ وہ غلطی کرتا ہے۔ لاینسی وہ بھولتا نہیں۔ مھد راحت کی جگہ، بچھونا۔ سلک اس نے چلایا۔ سبل (سبیل) راستے۔ ازواج (زوج) جوڑے جوڑے۔ نبات سبزہ، سبزی۔ شتی مختلف، متفرق۔ ارعو جانوروں کو چراؤ۔ انعام مویشی۔ اولی النھی (نھیۃ) عقل و سمجھ والے۔ نعید ہم لوٹائیں گے۔ نخرج ہم نکالیں گے۔ تارۃ اخری دوسری مرتبہ۔ ارینا ہم نے دکھایا۔ ابی اس نے انکار کیا۔ تشریح : آیت نمبر 47 تا 56 اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور ان کے بڑے بھائی حضرت ہارون سے فرمایا کہ تم دونوں فرعون کے ظلم و تم کی پرواہ کئے بغیر، بےخوف و خطر جا کر اس کے بھرے دربار میں اللہ کا پیغام پہنچا دو ، فرعون کے ظلم اور زیادتی سے بچانا ہمارا کام ہے۔ فرمایا جب میں تمہارے ساتھ ہوں تو تمہارا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ چناچہ ان دونوں نے فرعون کے دربار میں پہنچ کر کہا کہ ہم دونوں کو اللہ نے وحی کے ذریعہ پیغام دیا ہے کہ بنی اسرائیل پر ظلم اور زیادتی سے رک جاؤ اور بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دو ۔ اللہ نے ہمیں عصا اور ید بیضا کا معجزہ بھی دیا ہے ہم ان نشانیوں کو لے کر آئے ہیں۔ سلامتی کا حق دار وہی ہے جو ہدایت کے راستے پر چلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں وحی کے ذریعہ بتایا گیا ہے کہ جس نے حق و صداقت کی باتوں کو جھٹلایا اور ان سے منہ پھیرا اس کے لئے سخت عذاب ہے۔ فرعون نے یہ سب کچھ سننے کے بعد کہا کہ میرے سوا تمہارا رب کون ہے ؟ حضرت موسیٰ نے کہا کہ ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کر کے اس کو ایک خاص صور شکل عطا فرمائی اور پھر اس کی رہنمائی کے اسباب بھی پیدا کئے۔ یعنی وہ ایسا پروردگار نہیں ہے کہ اس نے ہر چیز کو پیدا تو کردیا ہو مگر وہ اس کو پروان چڑھانے اور پرورش کرنے سے غافل ہو بلکہ وہ ایسا پروردگار ہے کہ جس نے ہر چیز کو پیدا کر کے اس کی پوری پوری رہنمائی بھی فرمائی ہے۔ حضرت موسیٰ کے اس جواب سے فرعون لاجواب ہوگیا گفتگو کا پہلو بدلتے ہوئے کہنے لگا کہ اے موسیٰ ! یہ تو بتاؤ کہ جو لوگ گزر چکے ہیں ان کا کیا حشر ہوگا۔ ؟ فرعون کے کہنے کا مقصد لوگوں میں اشتعال اور غلط فہمی پیدا کرتا تھا مگر حضرت موسیٰ نے نہایت سادہ اور پروقار انداز میں جواب دیا کہ مجھے اس کا علم نہیں ہے اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے۔ اس کے پاس ہر بات اور ہر چیز لکھی ہوئی اور محفوظ ہے۔ فرمایا کہ میرا رب تو وہ ہے جو نہ تو کسی قسم کی غلطی کرتا ہے نہ وہ کسی چیز کو بھولتا ہے۔ میرا رب وہ ہے جس نے تمہارے چلنے کے لئے راستے بنائے۔ بلندی سے پانی اتار کر اس سے مختلف قسم کے نباتات سبزہ، سبزی اور پھل پیدا کئے تاکہ تم ان کو استعمال کرو اور اپنے جانوروں کو بھی کھلاؤ۔ یہ سب کی سب اللہ کی وہ نشانیاں ہیں جن میں اگر ذرا بھی غور و فکر سے کام لیا جائے تو پروردگار کو پہچاننا مشکل نہ ہوگا۔ حضرت موسیٰ نے فرمایا کہ میرے رب نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا ہے۔ اس میں ان کو لوٹا دیا جائے گا اور پھر وہ ان کو اس جگہ سے دوبارہ زندہ کر کے میدان حشر میں لاکھڑا کرے گا۔ حضرت موسیٰ کی ان تمام باتوں کو سن کر فرعون اپنے انکار اور کفر پر جما رہا اور اس نے ان کھلے ہوئے حقائق کو ماننے سے انکار کردیا۔
Ayahs 20:57–64

قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:57 in the Quran reader

(فرعون نے) کہا اے موسیٰ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ اپنے جادو کے ذریعے ہمیں ہماری سر زمین سے نکال دو ۔

فَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى Open ayah 20:58 in the Quran reader

ہم تمہارے مقابلے کے لئے اسی جیسا جادو لے کر آئیں گے۔ تم اپنے اور ہمارے درمیان ایک وقت مقرر کرلو جس کے خلاف نہ ہم کریں گے نہ تم کرو گے۔ وہ ایک ہموار میدان ہو گا

قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى Open ayah 20:59 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہا تمہارے وعدے کا دن میلے کا دن ہے۔ اس دن سب لوگ جمع ہوجائیں۔

فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى Open ayah 20:60 in the Quran reader

فرعون لوٹ گیا۔ پھر اس نے اپنا داؤ (جادو کا سامان) جمع کیا اور پھر آیا۔

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ١ۚ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى Open ayah 20:61 in the Quran reader

ان سے موسیٰ نے کہا بدنصیبو ! اللہ پر جھوٹ نہ گھڑو۔ ورنہ وہ تمہیں کسی آفت میں مبتلا کر دے گا۔ کیونکہ جس نے جھوٹ باندھا وہ نامراد ہو کر رہا۔

فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى Open ayah 20:62 in the Quran reader

پھر وہ اپنے (آپس کے) معاملہ میں جھگڑنے لگے اور انہوں نے چھپ کر مشورہ کیا۔

قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى Open ayah 20:63 in the Quran reader

انہوں نے کہا یہ دونوں (موسیٰ اور ہارون جادوگر ہیں) جو چاہتے ہیں کہ تمہیں اپنے جادو کے زور پر ملک سے باہر نکال دیں اور تمہاری مثالی زندگی کا خاتمہ کردیں۔

فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا١ۚ وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى Open ayah 20:64 in the Quran reader

لہٰذا تم اپنے داؤں اکٹھے کرلو اور صف بنا کر میدان میں آجاؤ۔ یقینا وہی کامیاب اور بامراد ہوگا جو آج کے دن غالب رہے گا۔

لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 64 اجئتنا کیا تو ہمارے پاس آیا۔ اجعل بنا دے۔ انخلفہ ہم اس کے خلاف نہ کریں گے۔ مکانا سوی ہموار میدان۔ یوم الزینۃ جشن کا دن، بناؤ سنگار کا دن۔ یحشر وہ جمع ہوجائیں گے۔ جمع کئے جائیں۔ ضحی دن چڑھے۔ ویلکم تمہارا ستیاناس ہوجائے۔ لاتفتروا تم نہ گھڑو، نہ بناؤ۔ یسحت وہ ہلاک کر دے گا۔ خاب نامراد ہوا۔ لتنازعوا آپس میں جھگڑ پڑے۔ اسروا انہوں نے چھپایا۔ النجوی مشورہ۔ المثلی نمونہ جو سب سے بہتر ہو۔ استعلی وہ غالب ہوا۔ تشریح : آیت نمبر 57 تا 64 حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) اللہ کی نشانیوں کے ساتھ بلا خوف و خطر فرعون کے دربا میں پہنچ گئے اور اللہ کی شان ربوبیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کائنات کا خالق ومالک اور رب صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی رب نہیں ہے۔ اس نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا اور اس کی مکمل رہنمائی فرمائی۔ انہوں نے مضبوط دلائل کے ساتھ ” عصا “ اور ” ید بیضا “ کے واضح معجزات بھی دکھائے مگر فرعون نے نہ صرف ان معجزات کا انکار کردیا بلکہ ان کے معجزات کے اثرات کو زائل کرنے کے لئے ان کو کھلا جادو قرار دیدیا اور لوگوں کو اس بات کا یقین دلانے لگا کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ حکومت و سلطنت اور تاج و تخت پر قبضہ کر کے تمہاری بےمثال تہذیب اور مثالی زندگی کا خاتمہ کردیں۔ فرعون کو اس بات کا پوری طرح اندازہ ہوگیا تھا کہ اس کا یہ کہنا کہ میں ” رب اعلیٰ “ ہوں نہایت کمزور، بےبنیاد اور مکڑی کے جالے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ فرعون کے لئے اس پوزیشن کو سنبھالنا دشوار ہوگیا تھا کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات اور دلیلیں اس قدر مضبوط اور کھلی آنکھوں سے نظر آنے والی تھیں جس سے ہر شخص اس بات کا قائل ہوگیا تھا کہ واقعی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جو کچھ کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں وہ ایک سچائی ہے۔ مگر فرعون کے خوف سے سب خاموش تھے۔ اس موقع پر فرعون نے ہر طرح کی تدبیریں کر ڈالیں، اس نے لوگوں میں حضرت موسیٰ کے خلاف اشتعال اور غصہ دلانے کیلئے پوچھا کہ جو لوگ گذر چکے ہیں ان کا حشر کیا ہوگا۔ ؟ فرعون کا مقصد یہ تھا کہ اگر حضرت موسیٰ یہ کہتے ہیں کہ وہ جہنم میں جائیں گے تو یقینا لوگ مشتعل ہوجائیں گے کیونکہ اپنے مرنے والے بزرگوں کے خلاف کوئی شخص بھی کسی طرح کی برائی سننے کو تیار نہیں ہوتا۔ حضرت موسیٰ نے ایسا سنجیدہ اور باوقار جواب دیا کہ فرعون کی یہ سازش جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔ فرمایا کہ اس کا علم تو اللہ کو ہے ۔ اس کے پاس مکمل ریکارڈ موجود اور محفوظ ہے۔ وہ اللہ جانتا ہے کہ کس کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا۔ فرعون نے دوسرا حملہ ہوئے کہا کہ اے موسیٰ صاف صاف کیوں نہیں کہہ دیتے کہ تم (قبطیوں کا) اقتدار اور سلطنت ختم کر کے اس پر خود قبضہ کرنا چاہتے ہو ؟ فرعون زبان سے تو یہ کہہ رہا تھا لیکن حقیقت یہ تھی کہ وہ حضرت موسیٰ کے کھلے معجزات کو دیکھ کر اپنے دل میں خود بھی ایک خوف سا محسوس کر رہا تھا۔ کہنے لگے کہ میں اس طرح کے جادوئی ہتھکنڈوں سے مرعوب ہونے والا یا موسیٰ کے جادو کا مقابلہ کرنا جانتے ہیں۔ فرعون نے کہا کہ اس کے لئے کوئی دن مقرر کرلیا جائے۔ حضرت موسیٰ نے فرمایا کہ جس دن تمہارا میلہ ہوتا ہے اس دن کو مقرر کرلو۔ چناچہ مقابلہ کا دن مقرر کرلیا گیا اور ملک بھر کے تمام شعبدہ بازوں اور جادوگروں کو جمع کرلیا گیا جن کو طرح طرح کے لالچ دے کر کہا گیا تھا کہ اگر تم نے آج موسیٰ کو شکست دے دی تو تمہیں انعامات سے نوازا جائے گا۔ حضرت موسیٰ کا مقابلہ کرنے کے لئے تمام جادوگروں نے چھپ چھپ کر چپکے مشورے کرنا شروع کردیئے تکاہ ایک پروگرام کے تحت اپنے اپنے جادو کے کمالات کو پیش کیا جاسکے۔ دوسری طرف حضرت موسیٰ نے فرمایا کہ لوگو ! تم کتنے بدنصیب ہو کہ اللہ کی طرف سے دیئے گئے ان معجزات کو بےحقیقت سمجھ رہے ہو۔ فرمایا کہ میں نے اللہ کے پیغام کو پوری دیانت و امانت سے پہنچا دیا ہے۔ وہی سچاپیغام ہے کیونکہ اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ناکام و نامراد ہو کر رہتے ہیں۔ حضرت موسیٰ کی ان باتوں سے ایک ہنگامہ برپا ہوگیا اور کہنے لگے کہ لوگو ! موسیٰ جادوگر ہیں (نعوذ باللہ) جن کا مقصد یہ ہے کہ اپنے جادو کے زور پر تمہارے ملک پر قبضہ کرلیں۔ تمہیں باہر نکال دیں اور تمہاری بےمثال زندگی کا خاتمہ کردیں۔ لہٰذا تم بھی اپنے تمام داؤں اور صلاحیتوں کو جمع کر کے ان پر حملہ کر دو ، صفیں بنا کر میدان میں اتر آؤ آج وہ خوش نصیب اور کامیاب ہوگا۔ جو اپنے کمالات اور جوہر دکھائے گا۔ اس طرح کی باتوں سے فرعون اور اس کی قوم کے لوگوں نے ہر ایک جوش دلا کر ابھارنے کی بھرپور کوشش کی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں کا مقابلہ معجزات کے ذریعے کرنے سے پہلے جادوگروں کو اور فرعون کے درباریوں کو نہایت ہمدردی اور نرمی سے نصیحت کی اور ان کو اللہ کے خوف سے ڈرایا تاکہ وہ اپنے کفر سے توبہ کرلیں۔ فرمایا کہ تمہاری تباہی سامنے ہے، اللہ پر جھوٹ نہ گھڑو، کیونکہ سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ اللہ کے سوا بھی کوئی معبود ہے۔ اگر تم نے یہ شرک کا انداز اختیار کیا تو عذاب الٰہی تمہیں تباہ و برباد کر کے رکھ دے گا کیونکہ اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ کفر و شرک اور جھوٹ باندھنے والوں کو تہس نہس کئے بغیر نہیں چھوڑتا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں کو نصیحت فرمائی تو وہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کیونکہ حق و صداقت کی آواز دلوں پر اثر کئے بغیر نہیں رہتی۔ یہ سب کچھ سننے کے بعد تمام جادو گر آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ کیا کیا جائے۔ اگر فرعون کی بات مانی جاتی ہے تو دنیا و آخرت کا نقصان ہے اور نہیں مانی جاتی تو فرعون کے ظلم و زیادتی سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ آخر کار ان جادوگروں پر دنیا کا لالچ غالب آگیا اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہمیں ڈٹ کر حضرت موسیٰ کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ اس واقعہ کی بقیہ تفصیل اس کے بعد کی آیات میں بیان کی گئی ہے۔