20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 20:65–76

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى Open ayah 20:65 in the Quran reader

کہنے لگے اے موسیٰ ! تم پہلے (جادو) ڈالتے ہو یا ہم ڈالیں۔

قَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى Open ayah 20:66 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہا پہلے تم ڈالو۔ یکایک ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ان کے جادو کے زور سے (سانپ کی طرح ) دوڑتی ہوئی محسوس ہوئیں

فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰى Open ayah 20:67 in the Quran reader

تو موسیٰ نے اپنے دل میں خوف محسوس کیا

قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى Open ayah 20:68 in the Quran reader

(اللہ نے فرمایا) تم خوف نہ کرو یقینا تم ہی غالب رہو گے

وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍ١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى Open ayah 20:69 in the Quran reader

اور تمہارے داہنے ہاتھ میں جو عصا ہے اس کو پھینکو وہ ان تمام (بناوٹی چیزوں کو نگل جائے گا۔ جو انہوں نے بنائی ہوئی ہیں جو کچھ انہوں نے بنایا ہے وہ جادو (گروں) کا دھوکہ ہے۔ جادوگر کہیں سے بھی آئے وہ کامیاب نہیں ہوتا۔

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى Open ayah 20:70 in the Quran reader

(معجزہ دیکھنے کے بعد) جادوگر سجدے میں گر گئے اور کہنے لگے کہ ہم موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لے آئے۔

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ١٘ وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:71 in the Quran reader

فرعون نے کہا میری اجازت سے پہلے ہی تم ایمان لے آئے ہو۔ معلوم ہوتا ہے وہ تمہارا بڑا (جادوگر) ہے۔ جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے۔ میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالوں گا اور میں تمہیں کھجور کے تنوں پر پھانسی دیدوں گا پھر تمہیں پتہ چلے گا کہ ہم میں سے کسی کا عذاب سخت اور دیر تک رہنے والا ہے۔ (

قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ١ؕ اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 20:72 in the Quran reader

مومن بن جانے والوں نے) کہا اس ذات کی قسم جس نے ہمیں پیدا کیا ہے جب صاف اور واضح نشانیاں ہمارے سامنے آ چکی ہیں تو ان کی موجودگی میں ہم تجھے ہرگز ترجیح نہ دیں گے۔ جو تجھے کرنا ہے وہ کرلے تو جو کچھ کرسکتا ہے وہ اسی دنیا کی زندگی میں کرسکتا ہے۔

اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:73 in the Quran reader

ہم تو اپنے (حقیقی) رب پر ایمان لے آئے ہیں تاکہ وہ ہمارے گناہ اور جو تو نے ہم سے زبردستی جادو کرایا ہے اس کو معاف کر دے۔ اللہ وہ ہے جو بہتر اور سدا باقی رہنے والا ہے۔

اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ١ؕ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى Open ayah 20:74 in the Quran reader

بلاشبہ جو اپنے رب کے پاس مجرم بن کر آئے گا اس کے لئے جہنم ہے جس میں نہ وہ مرے گا نہ جئے گا۔

وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ Open ayah 20:75 in the Quran reader

اور جو اس کے پاس مومن بن کر آئے گا اور اس نے عمل صالح کئے ہوں گے ان لوگوں کے درجات بہت بلند ہوں گے۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠ Open ayah 20:76 in the Quran reader

راحت بھری جنتیں ہوں گی جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہونگی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ جنہوں نے پاکیزگی اختیار کی تھی یہ ان کا بدلہ ہوں گی۔

لغات القرآن آیت نمبر 65 تا 76 حبال (حبل) رسیاں۔ عصی (عصا) لاٹھیاں۔ یخیل خیالی شکلیں بناتا ہے۔ تسعی وہ دوڑتی ہیں۔ او جس محسوس کیا۔ تلقف نگل جاتی ہے۔ کھا جاتی ہے۔ حیث اتی وہ جس طرح آئے۔ اذن اجازت دی۔ لاقطعن میں ضرور کاٹ ڈالوں گا۔ لاصلبن میں ضرور پھانسی دوں گا۔ جذوع تنے۔ النخل کھجور۔ اینا ہم میں سے کون۔ ابقی زیادہ باقی رہنے والا۔ لن نوثر ہم ہرگز ترجیح نہ دیں گے۔ اقض تو کر گزر۔ اکرھتنا تو نے زبردستی کیا۔ مجبور کیا۔ تزکی جس نے پاکیزگی حاصل کی۔ تشریح : آیت نمبر 65 تا 76 جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ کے لئے ملک بھر کے جادوگر میدان میں پہنچ گئے تو وہ اپنے جادو کی کامیابی پر ناز کرتے ہوئے بڑے اعتماد سے کہنے لگے کہ اے موسیٰ ! جادو کے کمالات دکھانے کی ابتدا تم کرتے ہو یا ہم کریں ؟ حضرت موسیٰ نے فرمایا کہ ابتدا تم ہی کرو۔ چناچہ ان جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکنا شروع کردیں۔ توڑی دیر میں ایسا لگا جیسے ساری زمین چھوٹے بڑے سانپوں سے بھر گئی ہے اور وہ سانپ ادھر ادھر دوڑتے نظر آنے لگے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر حضرت موسیٰ کے دل میں بشری تقاضے کی وجہ سے ایک خوف سا طاری ہوگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ تمہیں گھبرانے یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ تم ہی غالب رہوگے اور یہ نظر بندی کا کھیل بہت جلد ختم ہوجائے گا کیونکہ جادو ا کی نظر بندی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اس بےحقیقت چیز سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جادو سے کسی چیز کی اصلیت نہیں بدلتی بلکہ جادوگر اپنے خیال کو دورسوں پر اس طرح غالب کردیتا ہے کہ ہر شخص کو صرف وہی نظر آتا ہے جس کو جادوگر چاہتا ہے۔ اللہ نے فرمایا اے موسیٰ ! تم اپنے داہنے ہاتھ رہ جائے گی۔ چناچہ جب حضرت موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا تو وہ ایک زبردست اژدھا (بڑا سانپ) بن گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس اژدھا نے تمام سانپوں کو اس طرح نگلنا شروع کردیا کہ کچھ دیر بعد پورا میدان جادوگروں کے سانپوں سے پاک ہوگیا۔ فرعون کے درباری اور حاضرین جو جادوگروں کے کمالات سے بیحد متاثر ہوچکے تھے جب انہوں نے پھنکارتے ہوئے اژدھا اور اس منظر کو دیکھا تو خوف اور دہشت سے ایک دوسرے پر گرتے پڑتے ایک دوسرے کو کچلتے ہوئے وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ نجانے کتنے لوگ اس بھاگ دوڑ میں کچلے گئے ہوں گے۔ اژدھا نے جب فرعون کی طرف رخ کیا تو فرعون گھبرا گیا اور اس نے حضرت موسیٰ سے فریاد کرنا شروع کردی کہ موسیٰ ! مجھے اس اژدھا سے بچاؤ۔ حضرت موسیٰ نے اللہ کے حکم سے اس اژدھا کے منہ میں ہاتھ ڈالا تو وہ پھر سے عصا بن گیا اور جادوگر جو ایک عصائے موسیٰ کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے اور سمجھ گئے کہ عصائے موسیٰ ایک معجزہ ہے اور وہ کوئی نظر بندی یا جادو نہیں ہے جب ان پر یہ سچائی کھل گئی تو وہ تمام جادوگر اللہ کی اس طاقت کے اظہار کو پہچان کر سجدے میں گر پڑے اور واضح الفاظ میں کہہ اٹھے کہ ہم موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لے آئے۔ صرف وہی رب العالمین ہے اس کے سوا کوئی رب اور معبود نہیں ہے۔ اس طرح وہ جادوگر فرعون کے خوف اور دہشت کی پرواہ کئے بغیر ایمان کی دولت سے مالا مال ہوگئے۔ فرعون نے جب اس بنے بنائے کھیل کو بگڑتے دیکھا تو کڑک کر کہا کہ تمہاری ہمت کیسے ہوئی کہ تم نے میری اجازت کے بغیر ایمان قبول کرلیا ہے۔ اس نے جس طرح حضرت موسیٰ پر الزام لگایا تھا کہ ان تمام کوششوں کا مقصد اقتدار اور حکومت پر قبضہ کرنا ہے۔ اسی طرح ایمان لانے کے بعد جادوگروں سے کہنے لگا ایسا لگتا ہے یہ سب تمہاری ملی بھگت اور سازش ہے۔ یہ موسیٰ تم سب کا استاد لگتا ہے جس سے تم نے جادو سیکھا ہے۔ فرعون نے کہا تم نے میرے غصہ اور غضب کو دعوت دی ہے۔ فرعون نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ میں تمہیں ایسی عبرتناک سزا دوں گا جس سے دیکھنے والوں کے ہوش اڑ جائیں گے۔ اس نے کہا میں تمہیں اس طرح تڑپا تڑپا کر ماروں گا کہ سب سے پہلے میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹواؤں گا یعنی ایک طرف سے ہاتھ اور دوسری طرف سے پاؤں کٹوا کر گلے میں پھندا ڈال کر کھجور کے درختوں پر لٹکوا دوں گا۔ پھر تمہیں اندازہ ہوگا۔ کہ موسیٰ پر یمان لانے کا انجام کتنا بھیانک ہے اور تم اس بات کو اچھی طرح جان جاؤ گے کہ میری طرف سے دی گئی سزا زیادہ سخت ہے یا موسیٰ کے رب کی طرف دی گئی سزا، فرعون نے اپنے تکبر اور غرور کا اظہار تو کردیا مگر وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ موسیٰ تو ان جادوگروں سے واقف بھی نہیں ہیں نہ ان کی شکل و صورت دیکھتی تھی مگر وہ اپنے دلی خوف اور دہشت کو الفاظ کے پردے میں لپیٹ کر دلیر اور بہادر بننے کی کوشش کر رہا تھا تاکہ دوسرے لوگ اس کی ہیبت اور حکم سے باہر نہ نکل جائیں۔ لیکن فرعون یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ اس کی دھمکیوں کا جادوگروں پر کوئی اثر تک نہیں ہوا بلکہ ان کی ایمانی طاقت کا یہ عالم تھا کہ ان لوگوں نے بڑی جرأت ، ہمت، جذبے اور مکمل اعتماد کے ساتھ فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا کہ اے فرعون ! آج ہمیں پوری طرح انداز ہوگیا ہے کہ اب تک ہماری آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے تھے۔ حقیقت حال سے ہم واقف نہ تھے اور تھجے اپنا رب اعلیٰ سمجھتے رہے۔ موسیٰ جو نشانیاں لے کر آئے ہیں انہیں دیکھ کر ہمیں یقین ہوگیا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہی وہی ہمارا پیدا کرنے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک ہم جس گناہ کے راستے پر چل رہے تھے ہم نے اس سے توبہ کرلی اور ہم اس فیصلے پر اس طرح قائم ہیں کہ ایک قدم پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اے فرعون ! اب تو ہماری زندگی کے متعلق جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کرلے ہمیں تیرا ہر فیصلہ منظور ہے۔ انہوں نے فرعون کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اے فرعون تیرا ہر فیصلہ ہمیں زندگی کی راحتوں سے محروم تو کرسکتا ہے لیکن جب ہم نے آخرت کی ابدی زندگی کا فیصلہ کرلیا ہے تو اب ہمیں اپنی جانوں اور تیری دھمکیوں کی پرواہ نہیں ہے۔ بلکہ ہم تو چاہتے ہیں کہ اب تک ہم گناہوں کی زندگی گزارتے رہے ہیں اب ہم اللہ سے درخواست کرتے ہیں کہ جب ہمارا واسطہ اور رابطہ اللہ سے ہوگیا ہے تو وہ ہمارے گناہوں کو معاف کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ باقی رہنے والی ذات صرف اللہ کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے فرعون ! یہ تیری سلطنت و حکومت، رعب اور دہشت بہرحال ختم ہوجانے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیرا کہا ماننا درحقیقت اپنے سچے رب کے سامنے مجرم بننے کے برابر ہے۔ تیرے انعام و اکرام کا لالچ اور تیری سزائیں اس دنیا تک محدود ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اپنے رب کے سامنے مجرم بن کر پیش نہ ہوں کیونکہ اس میں ہمیشہ کی زندگی کی تباہی و بربادی ہے۔ آخرت کی زندگی ایسی ہے کہ اس میں ایسے لوگوں کو نہ تو موت آئے گی کہ ان کی جان چھوٹ جائے اور نہ ایسی زندگی ہوگی کہ جس سے جینے کا آرام، سکون اور لطف اٹھایا جاسکے۔ لیکن جو لوگ ایمان لا کر عمل صالح اختیار کریں گے ان کا مرتبہ اور مقام آخرت میں بہت بلند ہوگا۔ ان کو ہمیشہ رہنے والی جنتیں ملیں گی جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی۔ وہ جب ان کو دیدی جائیں گی تو ان سے کبھی چھینی نہ جائیں گے۔ یہ ان لوگوں کی نیکیوں کا بدلہ ہوگا۔ کامیابی اور کامرانی ہوگی۔ کیونکہ جو شخص ایمان لانے کے بعد نیک اور بھلے کام کرے گا اس کو اللہ بہترین جزا عطا فرمائیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان طاقت و قوت، جرات و ہمت اور بہادری کا نام ہے۔ جب یہ ایمان دل میں آجاتا ہے تو پھر آدمی اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا۔ اس کے دل میں اگر خوف ہوتا ہے تو صرف حقیقی معبود اور رب العالمین کا اس کے سوا وہ ہر خوف اور دھمکی سے بےنیاز ہوجاتا ہے۔
Ayahs 20:77–89

وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى١ۙ۬ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا١ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى Open ayah 20:77 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے کر نکل جاؤ اور پھر سمندر میں ان کے لئے (عصا مار کر ) خشک راستہ بنا لینا نہ تو پکڑے جانے کا خوف کرنا اور نہ ڈوبنے کا۔

فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْؕ Open ayah 20:78 in the Quran reader

پھر فرعون نے لشکر کیساتھ ان کا پیچھا کیا۔ پھر ان کو پانی نے ڈھانپ لیا جیسا کہ ڈھانپ لیا (غرق کردیا) ۔

وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى Open ayah 20:79 in the Quran reader

فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور سیدھی راہ نہ دکھائی۔

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى Open ayah 20:80 in the Quran reader

اے نبی اسرائیل ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات عطا کی اور کوہ طور کے دائیں جانب تم سے توریت دینے کا وعدہ کیا اور ہم نے تمہارے اوپر من وسلویٰ اتارا تھا

كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ لَا تَطْغَوْا فِیْهِ فَیَحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبِیْ١ۚ وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْهِ غَضَبِیْ فَقَدْ هَوٰى Open ayah 20:81 in the Quran reader

کہ تمہیں جیسا کچھ پاکیزہ رزق عطا کیا ہے اس میں سے کھاؤ نافرمانی نہ کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اوپر میرا عذاب نازل ہوجائے اور جن لوگوں پر میرا عذاب نازل ہوا وہ تباہ و برباد ہو گئے

وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى Open ayah 20:82 in the Quran reader

اور بیشک میں ہر اس شخص کو خوب معاف کرتا ہوں جس نے توبہ کی وہ ایمان لایا اور عمل صالح اختیار کر کے اس نے ہدایت حاصل کی۔

وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:83 in the Quran reader

اے موسیٰ تمہیں کیا چیز قوم سے پہلے لے آئی۔

قَالَ هُمْ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِیْ وَ عَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى Open ayah 20:84 in the Quran reader

عرض کیا جو میرے پیچھے آ رہے ہیں جلدی سے لے کر ان کو آپ کے پاس حاضر ہوگیا تاکہ آپ مجھ سے خوش ہوجائیں۔

قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ Open ayah 20:85 in the Quran reader

(اللہ نے ) فرمایا ہم نے تمہارے آنے کے بعد تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا اور سامری نے ان لوگوں کو گمراہ کردیا۔

فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۚ۬ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا١ؕ۬ اَفَطَالَ عَلَیْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ Open ayah 20:86 in the Quran reader

موسیٰ سخت غصے اور افسوس کی حالت میں اپنی قوم کی طرف پلٹے اور کہا اے میری قوم کیا تم سے متہارے پروردگار نے اچھے وعدے نہیں کئے تھے ؟ کیا تم پر میری جدائی طویل ہوگئی تھی یا تم اپنے رب کا غضب ہی اپنے اوپر لادنا چاہتے تھے۔ کہ تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی ؟

قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِیُّۙ Open ayah 20:87 in the Quran reader

انہوں نے کہا ہم نے اپنے اختیار سے تمہارے ساتھ وعدہ خلافی نہیں کی بلکہ ہمارے اوپر (قوم فرعون کے) زیور کا بوجھ لدا ہوا تھا جس کو ہم نے پھینک دیا تھا۔ پھر اسی طرح سامری نے بھی کچھ ڈالا

فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمْ وَ اِلٰهُ مُوْسٰى١۬ فَنَسِیَؕ Open ayah 20:88 in the Quran reader

اور ان کے لئے ایک بچھڑا بنا ڈالا جس میں سے گائے کی جیسی آواز نکلتی تھی۔ پھر اس نے کہا یہ تمہارا اور موسیٰ کا معبود ہے جس کو موسیٰ بھول گیا تھا۔

اَفَلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِعُ اِلَیْهِمْ قَوْلًا١ۙ۬ وَّ لَا یَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا۠ Open ayah 20:89 in the Quran reader

(اللہ نے فرمایا) کیا انہیں اتنا بھی دکھائی نہیں دیا کہ وہ بچھڑا نہ تو بات کا جواب دیتا ہے اور نہ ان کے نفع اور نقصان کا مالک ہے ؟ ۔

لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 89 بس راتوں رات نکل جا۔ طریق راستہ۔ یبس خشک۔ درک پکڑنا۔ لاتخشی خوف نہ کر۔ اضل گمراہ کردیا۔ الایمن داہنے جانب۔ لاتطغوا حد سے نہ بڑھو۔ رجع لوٹ گیا۔ اخلفتم تم نے خلاف کیا۔ اوزار (وزر) بوجھ۔ قذفنا ہم نے پھینک دیا۔ خوار بچھڑے کی آواز ، گائے کی آواز۔ نسی وہ بھول گیا۔ افلا یرون کیا پھر وہ نہیں دیکھتے۔ ضر نقصان۔ تشریح : آیت نمبر 77 تا 89 فرعونی ظلم و ستم اور بنی اسرائیل کے خلاف سازشوں کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب تک مصر میں رہے وہ ان کو نصیحتیں اور تبلیغ دین فرماتے رہے جن سے قوم بنی اسرائیل میں ایک نئی زندگی اور امنگ پیدا ہوگئی۔ حضرت موسیٰ اس طرح فرعن کو معجزات دکھا کر اس بات کی کوشش کرتے رہے کہ کس طرح فرعون قوم بنی اسرائیل کو چھوڑ دے اور وہ فلسطین میں جا کر آباد ہوجائیں تاکہ وہاں آزادی سے اللہ کے دین پر عمل کرسکیں مگر فرعون بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے رہائی دینے پر آمادہ نہ تھا۔ جب فرعون کسی طرح اپنی حرکتوں سے بز نہ آیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ حکو حکم دیا کہ وہ خود اور بنی اسرائیل کو راتوں رات نہایت خاموشی اور احتیاط سے لے کر ہجرت کر جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو یقین دلایا کہ ہو کسی طرح کا فکر اور غم نہ کریں۔ بیشک فرعون پیچھا کرے گا لیکن اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی حفاظت کا انتظام فرما دیں گے۔ بنی اسرائیل جس علاقے میں رہتے تھے وہ قبطیوں یعنی فرعونیوں کی بستی سے کافی فاصلے پر تھا۔ اس لئے جب لاکھوں بنی اسرائیل راتوں رات نہایت خاموشی اور احتیاط سے مصر کے علاقوں سے نکل کر فلسطین کی طرف چلے تو فرعون او اس کے لوگوں کو ان کی روانگی کا علم نہ ہوسکا۔ راستے میں سمندر پڑتا تھا جب وہ سمندر کے کنارے تک پہنچنے کے قریب تھے کہ کسی طرح فرعون کو اس بات کی اطلاع ہوگئی۔ وہ اپنے تمام لشکر کو لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں روانہ ہوگیا۔ ابھی بنی اسرائیل پانی کے کنارے پر پہنچے ہی تھے کہ دیکھا فرعون اپنے عظیم الشان لشکر کو لئے ان کے تعاقب میں سمندر کے کنارے کی طرف تیزی سے آ رہا ہے۔ اس ناگہانی آفت کو دیکھ کر بنی اسرائیل بوکھلا اٹھے اور اپنی موت کو سامنے دیکھ کر چلانے لگے کہ اب ان کا کیا ہوگا۔ ایک طرف فرعون کا لشکر ہے اور دوسری طرف ٹھاٹھے مارتا ہوا سمندر ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی طرف وحی فرمائی کہ موسیٰ گھبرانے یا ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ تم اپنا عصا پانی پر مارو پھر ہماری قدرت کا تماشا دیکھو۔ حضرت موسیٰ نے جیسے ہی اپنا عصا پانی پر مارا اللہ کے حکم سے بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کیلئے بارہ راستے اس طرح بنا دیئے گئے کہ جس سے گذرنا بہت آسان تھا جب بنی اسرائیل ان راستوں سے گذر کر دوسرے کنارے پر پہنچ گئے تو اس وقت فرعون سمندر کے کنارے پر پہنچ گیا۔ پہلے تو فرعون اس عجیب صورتحال سے گھبرایا مگر تکبر اور غرور کے انداز سے کہنے لگا کہ یہ سب میری وجہ سے راستے بنائے گئے ہیں۔ یہ کہہ کر اس نے اپنا گھوڑا ان راستوں پر ڈال دیا۔ اس کی ساری فوج نے اس کی بات کی جب وہ سب کے سب سمندر کے درمیان میں پہنچے تو اللہ نے پانی کو آپس میں مل جانے کا حکم دیا۔ جیسے ہی پانی آپس میں ملا تو فرعون اور اس کا لشکر ڈوبنے لگا۔ جب فرعون نے دیکھا کہ اب موت سامنے ہے اور اس سے نجات کا کوئی راستہ نہیں ہے تو اس نے کہا ” میں اس بات پر ایمان لے آیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اللہ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں میں بھی اس اللہ پر ایمان لاتا ہوں۔ ( سورة یونس) اللہ تعالیٰ نے فرعون کے اس ایمان لان کو قبول نہیں کیا بلکہ فرمایا ” اب تو ایمان لایا ہے حالانکہ اس سے پہلے تو نافرمانی کرتا رہتا تھا اور تو فسادی آدمی ہے۔ پس آج کے دن ہم تیرے بدن کو نجات دیں گے تاکہ اپنے بعد آنے والوں کے لئے تو اللہ کی طرف سے عبرت کا نشان بن جائے۔ ( سورة یونس آیت 90 تا 92) اس طرح فرعون، اس کا لشکر اور غرور وتکبر کا ہر انداز سمندر کے پانی میں غرق کردیا گیا۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا کہ فرعون کو غرق کر کے اس کے بدن کو بچا لیا جائے گا اس لئے اللہ نے اس کی موت کے بعد اس کی لاش کو سمندر کے کنارے پر لا ڈالا جب قوم نے فرعون کی لاش کو دیکھا تب ان کو یقین آگیا کہ فرعون اور اس کا لشکر تباہ و برباد ہوچکا ہے۔ اس تمام صورتحال کو بنی اسرائیل دوسرے کنارے پر دیکھ رہے تھے کہ اس کائنات میں ساری قوت و طاقت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے وہ جب چاہتا ہے طاقت و قوت کا دعویٰ کرنے والوں کو ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے تہس نہس کر ڈالتا ہے۔ فرعون کے غرق کردینے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پوری قوم بنی اسرائیل کو لے کر صحرائے سینا سے گزرنے لگے اس وقت ان کی خوراک کے ذخیرے ہونے لگے اور جو کچھ اپنے ساتھ لائے تھے ان کو کم ہوتا دیکھا تو ایک دفعہ پھر بوکھلا اٹھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے ساری صورت حال کو رکھا۔ اللہ نے حضرت موسیٰ کی دعا کی برکت سے صحرا میں بنی اسرائیل کو خوراک کا انتظام کردیا اور ” من وسلویٰ “ نازل کیا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے قوم بنی اسرائیل کو یاد دلایا ہے کہ وہ ان نعمتوں کو یاد کریں جو اللہ نے ان پر نچھاور کی ہیں۔ سب سے پہلی نعمت تو یہ ہے کہ اللہ نے بنی اسرائیل کو فرعون اور اس کے ظلم سے نجات عطا فرمائی، ان کے دشمنوں کو کیفرکردار تک پہنچا دیا اور غرق کردیا گیا۔ دوسری نعمت یہ ہے کہ اللہ نے ایک لق و دق صحرا میں ” من وسلویٰ “ جیسی تازہ، لذیذ اور بہترین غذا عطا فرمائی۔ نزول توریت کے متعلق فرمایا کہ جب اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر بلایا تاکہ ان کو کتاب ہدایت دی جائے تو حضرت موسیٰ اس خوشی میں کہ اللہ نے ان کی قوم کی ہدایت کے لئے راہنما اصول عطا فرمانے کا وعدہ کیا ہے بہت جلد کوہ طور پر پہنچ گئے۔ فرمایا کہ اللہ نے جو کچھ کرم فرمائے ہیں ان کا یہ تقاضا ہے کہ وہ لوگ ہدایت کے سیدھے راستے پر چلیں۔ جو بھی ان کو رزق حلال دیا گیا ہے اس کو کھائیں استعمال کریں لیکن حد سے نہ گزریں، ورنہ اللہ کے عذاب کو روکنا ممکن نہ ہوگا۔ کیونکہ جس پر اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے وہ بڑا بدنصیب اور اللہ کی رحمتوں سے محروم ہوتا ہے۔ اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو ایمان لا کر عمل صالح اختیار کرتے ہیں اور توبہ کرنے کو اپنا شعار بنا لیتے ہیں۔ ان پر اللہ کی رحمتیں برستی ہیں۔ چناچہ بنی اسرائیل جب تک اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے رہے اور انہوں نے جھوٹ، فریب اور کفر کی روش اختیار نہ کی تھی اس وقت تک اللہ نے ان پر بےانتہا کرم فرمائے لیکن جب وہ صراط مستقیم کو بھول کر کفر اور زیادتیوں میں لگ گئے تو اللہ نے اسی قوم کو ذلیل و خوار کر کے رکھ دیا۔ سورة بنی اسرائیل میں اس کی تفصیل گذر چکی ہے کہ جب بنی اسرائیل نے اللہ کی نافرمانی اختیار کی تو وہ اللہ کے عذاب سے نہ بچ سکے ان پر ظالم و جابر بادشاہوں کو مسلط کر کے ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ انہوں نے ان کے گھروں اور بستیوں کو اجاڑ دیا اور ان کے گھروں میں گھس گئے۔ ان کو اور ان کی اولاد دوں کو نہ صرف قتل کیا گیا بلکہ ان کو اس طرح بےعزت کیا گیا کہ ان کو اپنا وجود سنبھالنا دشوار ہوگیا۔ اس طرح وہ عرصہ تک کفار و مشرکین کے ظالمانہ نظام کے حت اپنی زندگیاں گذارنے پر مجبور کردیئے گئے۔ لیکن جب انہوں نے اپنے گناہوں کی معافی مانگی اور اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوئے تو ان کو دوبارہ عزت و عظمت سے ہم کنار کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے احسانات کا ذکر کرنے کے بعد بنی اسرائیل کو ان کی لغزشوں اور کوتاہیوں پر آگاہ کیا ہے اور فرمایا ہے کہ تم نے ہمیشہ جلد زی سے کام لیا ہے اور صبر سے کام نہیں یا۔ اس لئے تم بےصبری کی وجہ سے سامری جیسے مکار آدمی کے جال میں پھنس گئے تھے اور حضرت موسیٰ جو چند روز کے لئے کتاب ہدایت لینے کو وہ طور پر گئے تھے تم ان کی واپسی کا بھی انتظار نہ کرسکے تھے اور سامری کے بنائے ہوئے بچھڑے کو تم نے اپنا معبود بنا لیا تھا۔ واقعہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو ریت لینے کے لئے کوہ طور پر گئے تو انہوں نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کو اپنا قائم مقام بنایا اور خود کوہ طور پر تشریف لے گئے تیس دن کے بجائے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے دس دن کے لئے مزید روک لیا تو سامری نے بنی اسرائیل کے زیورات سے ایک ایسا بچھڑابنایا جس سے ایک خاص آواز نکلتی تھی اور اس نے بنی اسرائیل کو یقین دلا دیا کہ موسیٰ ہم سب کو چھوڑ کر کہیں چلے گئے ہیں اور جاتے ہوئے یہ بتانا بھول گئے تھے کہ یہی بچھڑا تمہارا معبود ہے۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے پوری قوم کو سمجھایا کہ یہ سامری کا فریب ہے مگر قوم بنی اسرائیل نے بچھڑے کو معبود بنا کر اس کی پرستش اور عبادت شروع کردی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو بتایا کہ تمہارے آنے کے بعد تمہاری قوم ایک فتنے میں مبتلا ہوگئی ہے۔ حضرت موسیٰ توریت کی تختیاں لے کر جن پر اللہ کی آیات تحریر تھیں جب واپس پہنچے اور قوم کو بچھڑے کی پوجا کرتے دیکھا تو غصہ سے بےقابو ہوگئے تو ری کی تختیاں بھی ہاتھ سے چھوٹ گئیں اور یہ سمجھ کر ان کے بھائی حضرت ہارون نے غفلت کا مظاہرہ کیا ہے شدید غصے میں ان کے سر کے بال اور ڈاڑھی پکڑ کر فرمایا کہ تم نے قوم بنی اسرائیل کو کس حال تک پہنچا دیا۔ حضرت ہارون نے فرمایا کہ بھائی پہلے میری بات تو سنو، میں نے اپنی قوم کو ہر طرح سمجھایا گیا مگر وہ سب کے سب سامری کے فریب میں پھنس گئے تھے میں کیا کرتا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے بعد سامری کو بلا کر پوچھا۔ اس نے کہا کہ میں نے حضرت جبرئیل کے پاؤں تلے سے مٹی اٹھا کر اس میں ڈال دی تھی اور اس میں سے ایک آواز نکلنے لگی تھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تیری سزا تو یہ ہے کہ اب تو ہر شخص سے کہے گا کہ ” مجھے ہاتھ نہ لگاؤ “ یعنی مجھ سے دور رہو اور پھر بنی اسرائیل کے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے بچھڑے کی عبادت کی تھی اس کی سزا مقرر فرمائی۔ اس کی تفصیل آگے آئے گی۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ نے بنی اسرائیل کو اپنی نعمتیں اور احسانات یاد دلا کر فرمایا ہے کہ اللہ نے تمہیں ہر نعمت سے نوازا تھا مگر تم نے نافرمانیوں کی انتہا کردی جس کی تمہیں سزا دی جا رہی ہے اور نبی کریم ﷺ کے تشریف لانے کے بعد پھر ایک موقع دیا جا رہا ہے۔ اگر اس قوم نے اپنی اصلاح کرلی تو ان کو دین و دنیا کی تمام بھلائیاں عطا کی جائیں گیا ور اگر ان کا کہنا نہ مانا تو پھر قیامت تک ان کی اصلاح ممکن نہ ہوگی۔
Ayahs 20:90–98

وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَ اَطِیْعُوْۤا اَمْرِیْ Open ayah 20:90 in the Quran reader

بلاشبہ ہارون نے پہلے ہی ان سے کہا تھا کہ اے میری قوم (اس بچھڑے کی وجہ سے) تم ایک آزمائش میں پھنس گئے ہو۔ تمہارے رب تو رحمٰن ہی ہے۔ میری پیروی کرو اور میری بات مانو۔

قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَیْهِ عٰكِفِیْنَ حَتّٰى یَرْجِعَ اِلَیْنَا مُوْسٰى Open ayah 20:91 in the Quran reader

انہوں نے کہا ہم تو یہیں جمے بیٹھے رہیں گے جب تک موسیٰ ہماری طرف پلٹ کر نہیں آجاتے۔

قَالَ یٰهٰرُوْنُ مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَیْتَهُمْ ضَلُّوْۤاۙ Open ayah 20:92 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہا کہ اے ہارون جب تم نے دیکھا تھا کہ وہ گمراہ ہو رہے ہیں تو تم نے انہیں منع کیوں نہیں کیا ؟

اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَیْتَ اَمْرِیْ Open ayah 20:93 in the Quran reader

تمہیں کس چیز نے میری پیروی یا میرے پاس آنے سے روک رکھا تھا ؟ کیا تم نے میری نافرمانی کی ؟

قَالَ یَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَ لَا بِرَاْسِیْ١ۚ اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ Open ayah 20:94 in the Quran reader

(ہارون نے) کہا اے میرے ماں جائے ! میری داڑھی اور سر کے بال نہ پکڑیئے۔ مجھے اس بات کا اندیشہ تھا کہ آپ یہ نہ کہنے لگیں کہ تم نے بنی اسرائیل کے درمیان تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کا خیال نہ رکھا۔

قَالَ فَمَا خَطْبُكَ یٰسَامِرِیُّ Open ayah 20:95 in the Quran reader

(موسیٰ نے ) کہا اے سامری اس بارے میں تو کیا کہتا ہے ؟

قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَ كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ Open ayah 20:96 in the Quran reader

اس نے کہا میں نے جو کچھ دیکھا اس کو انہوں نے نہیں دیکھا تھا۔ پس میں نے فرشتے کے نقش قدم سے ایک مٹھی (خاک لے) لی تھی وہ میں نے (اس بچھڑے کے پتلے میں ڈال دی۔ اور اس طرح مجھے میرے نفس نے اس بات پر آمادہ کرلیا تھا۔

قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ١۪ وَ اِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْهِ عَاكِفًا١ؕ لَنُحَرِّقَنَّهٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا Open ayah 20:97 in the Quran reader

(موسیٰ نے ) کہا تیرے لئے زندگی میں (یہ سزا ہے کہ ) تو یہی کہتا پھرے گا کہ ” ہاتھ نہ لگانا “ اس کے علاوہ بیشک تیرے لئے (آخرت کے عذاب کا) وقت مقرر ہے جس کے خلاف نہ ہوگا اور تو اپنے اس معبود ( بچھڑے) کی طرف دیکھ جس پر تو جما بیٹا رہتا تھا کہ اس کو ہم جلا ڈالیں گے اور اس (کی راکھ) اڑا کر دریا میں بہا دیں گے۔

اِنَّمَاۤ اِلٰهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَسِعَ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا Open ayah 20:98 in the Quran reader

(اپنی قوم سے فرمایا) کہ تمہارا پروردگار صرف اللہ ہی ہے جس کے سوا عبادت اور بندگی کے لائق کوئی نہیں ہے۔ جس کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 90 تا 98 فتنتم تم آزمائش میں ڈالے گئے۔ لننبرح ہم ہرگز نہ کریں گے۔ عکفین جم کر بیٹھنے والے۔ عصیت تو نے نافرمانی کی۔ یا بنوم اے میری ماں کے بیٹے۔ لاحیۃ داڑھی۔ خشیت میں ڈر گیا۔ فرقت تو نے تفرقہ ڈال دیا۔ لڑا دیا۔ خطبک تیرا کہنا، تیرا حال۔ بصرت میں نے دیکھا۔ قبضت میں نے اٹھا لیا۔ اثر الرسول فرشتے کا قدم، فرشتے کا نشان قدم۔ سولت گھڑ لیا، پھسلا دیا۔ لامساس نہ چھونا، ہاتھ نہ لگانا۔ ظلت تو (بیٹھا) رہا۔ نحرقن ہم ضرور جلا ڈالیں گے۔ ننسفن ہم ضرور بکھیر دیں گے۔ تشریح :- آیت نمبر 90 تا 98 جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر پہنچ گئے اس وقت بنی اسرائیل کے اکثر لوگوں نے سامری کے فریب میں آ کر اپنا وہ سونا، چاندی اور زیور جو انہوں نے مصر سے لوٹا تھا اس کو پھینک دیا۔ جس کو گلا کر سامری نے ایک بچھڑا بنا لیا تھا اور لوگوں سے کہا تھا کہ تمہاری یہی معبود ہے اس کی پرستش اور عبادت و بندگی کرو اس وقت حضرت ہارون (علیہ السلام) نے جو حضرت موسیٰ کے قام مقام تھے لوگوں کو ہر طرح سمجھانے کی کوشش کی اور فرمایا کہ دیکھو اگر تم نے اس بےجان بچھڑے کو اپنا معبود بنا کر اس کی عبادت کی تو یہ تمہاری بہت بڑی غلطی اور آزمائش ہوگی۔ یہ ایک فتنہ ہے اس سے بچو، میری اتباع کرو، میرا کہا مانو، ان تمام تر نصیحتوں کا جواب قوم بنی اسرائیل نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ دیا کہ ہم تو اسی کی عبادت کریں گے ہم اس سے ہٹنے والے یا ٹہلنے والے نہیں ہیں۔ جب موسیٰ واپس آجائیں گے اس وقت ہم دیکھ لیں گے کہ کیا کرنا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت جیسی کتاب عطا کردی جو چند تختیوں پر لکھی ہوئی تھی۔ فرمایا کہ اے موسیٰ ! تم نے جب سے اپنی قوم کو چھوڑا ہے تو وہ ایک سخت فتنے، میں مبتلا ہوچکی ہے۔ اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سخت غصے میں بھرے ہوئے اپنی قوم میں آئے۔ دیکھا کہ قوم کے اکثر لوگ اللہ کی عبادت و بندگی چھوڑ کر ایک بچھڑے کو اپنا معبود بنا کر اس کی پرستش کر رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ کو اپنے بھائی حضرت ہارون پر سخت غصہ تھا کہ ان کی موجودگی میں اتنی بڑی تبدیلی کیسے آگئی۔ انہوں نے تصور کیا کہ حضرت ہارون نے یقینا غفلت سے کام لیا ہے اس حالت میں حضرت ہارون کے پاس پہنچے تو ریت کی تختیوں کو ایک طرف رکھ کر حضرت ہارون کے سر کے بال اور ڈاڑھی پکڑ کر اپنی طرف کھینچتے ہوئے کہنے لگے کہ اے ہارون یہ تم نے کیا کیا جب میں تمہیں اپنے پیچھے اس قوم کی اصلاح و تربیت کیلئے چھوڑ گیا تھا تو تم نے ان کی اصلاح کیوں نہ کی۔ ایمان والوں کو ساتھ لے کر ان بت پرستوں کا مقابلہ کیوں نہ کیا۔ کم از کم کوہ طور پر آ کر مجھے بتا سکتے تھے۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے کہا بھائی میری بات تو سنئے۔ میں نے اس معاملے کو میں نہ تو کسی طرح کی سستی کی ہے نہ غفلت سے کام لیا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ میں نے بنی اسرائیل کو ہر طرح سمجھانے کی کوشش کی مگر انہوں نے میری ایک بات بھی نہ مانی اور کہنے لگے کہ جب تک موسیٰ واپس نہیں آجاتے ہم تمہارے کوئی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ظالموں نے تو مجھے قتل تک کرنے کی کوشش کی جب میں نے یہ حالت دیکھی تو مجھے اس بات کا اندیشہ پیدا ہو کہ کہیں اہل ایمان اور بچھڑے کے پوجنے والوں کے درمیان جنگ و جدل اور فساد برپا نہ ہوجائے اور قوم تقسیم نہ ہوجائے اور ان میں تفرقہ نہ پڑجائے۔ اس لئے میری سمجھ میں یہی آیا کہ میں آپ کا انتظار کرلوں تاکہ میرے اوپر یہ الزام نہ آجائے کہ میں نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈالوا کر ان کے ٹکڑے اڑا دیئے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت ہارون کی ان تمام باتوں کو سنا اور انہیں یقین آگیا کہ یہ سب کچھ حضرت ہارون کی غفلت کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ ایک اللہ کو چھوڑ کر بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ حضرت موسیٰ نے اپنے لئے اور حضرت ہارون کے لئے دعائے مغفرت فرمائی۔ اس کے بعد آپ اپنی قوم کی طرف متوجہ ہوئے۔ انہوں نے اس کا پورا الزام سامری پر رکھ دیا اور کہا کہ ہم نے اپنا وہ تمام زیور، سونا ، چاندی جو ہمارے اوپر بوجھ بنا ہوا تھا۔ جب اس کو پھینک دیا تو سامری نے اس کو گلا کر ایک بچھڑا بنا لیا جس میں سے بچھڑے کی جیسی آواز نکلتی تھی۔ اس نے ہمیں یقین دلایا کہ ہمارا معبود یہی بچھڑا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کے لوگوں سے بات کرنے کے بعد سامری سے پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا۔ آخر وہ کون سے اسباب تھے جن کی وجہ سے تو نے بچھڑا بنا کر ایک اللہ کی عبادت سے ہٹا کر بچھڑے کی پوجا پر پوری قوم کو لگا دیا۔ اس نے کہا اصل بات یہ ہے کہ جب فرعون ڈوب رہا تھا اس وقت میں نے جبرئیل کو دیکھا کہ وہ فرعن اور بنی اسرائیل کے درمیان حائل ہیں۔ جاں ان کے گھوڑے کا پاؤں پڑتا تھا وہیں سبزہ اگ آتا تھا۔ میں نے گھوڑے کے پاؤں کے نیچے سے کچھ مٹی حاصل کرلی تھی جب میں نے بچھڑا بنا کر اس میں اس مٹی کو ڈالا تو اس میں سے سچ مچھ بچھڑے کے کی آواز نکلنا شروع ہوگئی۔ میں نے کہا کہ یہی تمہارا معبود ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری کی بات سن کر اس کو معاف نہیں کیا بلکہ اس کو بد دعا دی اور فرمایا کہ دنیا کی زندگی میں تیری سزا یہ ہے کہ تو ہر شخص سے کہے گا کہ ” مجھے ہاتھ مت لگانا “ آخرت کی سزا تو یقینا تیرے لئے مقرر ہے۔ جس سے بچنا ممکن ہی نہیں ہے، اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حکم سے اس بچھڑے کو جلا ڈالا گیا اور اس کی راکھ کو دریا میں بہا دیا گیا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے لوگو ! عبادت کے لائق صرف ایک اللہ ہی ہے اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں ہے، وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا اور اس کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔