Ayah 6:148تفسیر 148 (سیقول الذین اشرکوا) جب ان کو حجت لازم ہوگی اور اپنے شرک کے باطل ہونے کا یقین ہوجائے گا (لوشآء اللہ ما اشرکنا ولا آبائونا ولا حرمنا من شیئ) بحیرۃ ، سائبۃ وغیرہ سے انہوں نے ارادہ کیا کہ اس کے قول ” لو شاء اللہ ما اشرکنا “ کو اپنے شرک پر قائم ہونے کی دلیل بنائیں اور انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہیں کہ ہمارے اور ہمارے اعمال کے درمیان رکاوٹ بن جائیں کہ ہم ان کو نہ کرسکیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ہمارے ان افعال و اعمال سے راضی نہ ہونے اور ہمیں اس کا حکم نہ دیا ہوتا اور ہم سے یہ نہ چاہتے ہوتے تو ہمارے درمیان حائل ہوجاتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا۔ (کذلک کذب الذین من قبلھم) پہلی امتوں کے کفار میں سے (حتی ذاقوا بسنا) ہمارا عذاب۔
منکرین تقدیر نے اس آیت سے استدلال کیا ہے وہ کہتے ہیں مشرکین نے جب کہا ” اگر اللہ چاہتے تو ہم شرک نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کردی ہے اور ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا ” کذلک کذب الذین من قبلھم “ ہم کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے قول ” لو شاء اللہ ما اشرکنا “ میں ان کی تکذیب نہیں کی بلکہ یہ بات تو ان کی سچی تھی لیکن تکذیب ان کے اس قول کی تھی کہ اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے اور ہارے ان کاموں پر رضای ہے۔ جیسا کہ سورة اعراف میں خبر دی ہے۔ ” واذا فعلوا فاحشۃ قالوا جدنا علیھا آباء نا واللہ امرنا بھا “ تو تردید ان کی اس میں تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” قل ان اللہ لایمر بالفحشائ “ ہے اور اس پر دلیل کہ اللہ تعالیٰ کی تردید ان کے قول ” لو شاء اللہ ما اشرکنا “ میں نہیں تھی بلکہ جو ہم نے ان کا قول نقل کیا اس پر تھی۔ اللہ تعالیٰ کا قول ” کذلک کذب الذین من قبلھم “ ہے شد کے ساتھ۔
اگر یہ ان کے قول ” لو شاء اللہ ما اشرکنا “ میں ان کے جھوٹ کی خبر ہوتی تو اللہ تعالیٰ ” کذب الذین من قبلھم “ بغیر شد کے فرماتے کہ انہوں نے جھوٹ بولا ہے لیکن یہاں تو ان کی طرف تکذیب کی نسبت کی ہے اور حسن بن فضل (رح) فرماتے ہیں اگر انہوں نے یہ بات اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کے لئے ذکر کی ہوتی اور اس کی معرفت میں کمی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کا اس طرح عیب نہ بیان کرتے بلکہ یوں فرماتے ” ولو شاء اللہ ما اشرکوا “ اور فرمایا ” وما کانوا لیئومنوا الا ان یشاء اللہ “ اور مئومن بھی یہ بات کہتے ہیں لیکن انہوںں نے یہ بات تکذیب کرتے ہوئے اور اللہ کی معرفت کے بغیر جھگڑے کے لئے کہی۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا قول ” وقالوا لو شاء الرحمٰن ما عبدناھم “ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” مالھم بللک من علم ان ھم الایخرصون “ اور بعض نے کہا ہے آیت کا معنی یہ ہے کہ وہ یہ بات تو حق کرتے تھے لیکن یہ اس کو اپنا عذر اور اپنے ایمان چھوڑ نے پر حجت بناتے تھے اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ا ن کی تردید کی ہے کیونکہ اللہ کا حکم اس کی مشیت و ارادہ سے الگ چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام کائنات کا ارادہ کرنے والے ہیں لیکن اپنے ارادہ کی تمام چیزوں کا حکم نہیں دیتے اور بندہ پر لازم ہے کہ اس کے حکم کا اتباع کرے، اس کی مشیت سے نہ معلق ہو کیوں کہ اس کی مشیت کسی کا عذر نہیں ہے۔ (قل ھل عندکم من علم) یعنی اللہ کی طرف سے کتاب و حجت۔ (فتخر جوہ لنآ) تاکہ جو تم اللہ پر شرک اور اپنی حرام کردہ چیزوں کی حرمت کا دعویٰ کرتے ہو وہ ظاہر ہوجائے۔ (ان تتبعون) یعنی جس پر تم ہو اس میں اتباع نہیں کرتے۔ (الا الظن) بغیر علم و یقین کے اٹکل پر چلتے ہو۔ وان انتم الا تخرصون ۔
Ayah 6:149تفسیر 149 (قل فللہ الحجۃ البالغۃ) اپنی مخلوق پر جو دلیل بیان کی ہے وہ پوری ہے اور دلیل کتاب ، رسول اور بیان کے ذریعے سے۔ (فلوشآء لھدکم اجمعین) کافر کا ایمان اگر وہ چاہتا تو اس کو ہدایت دیتا۔
Ayah 6:150150 (قل ھلم)” ھلم “ واحد، تثنیہ اور جمع کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ (شھدآء کم الذین یشھدون) تم اپنے گواہوں کو لے آئو جو اس بات کی گواہی دیں (ان اللہ حرم ھذا) ہذا کا اشارہ ماقبل حرام کردہ اشیاء کی طرف ہے کہ انہوں نے جو اپنے اوپر اشیاء حرام کیں وہ آ کر دعویٰ کریں کہ واقعی اللہ نے ان پر حرام کی ہیں (فان شھدوا ) اگر وہ گواہی دیں تو وہ جھوٹی گواہی دیں گے (فلاتشھد) اور تم (معھم ولا تتبع اھوآء الذین کذبوا بایتنا والذین لایومنون بالاخرۃ وھم بربھم یعدلون) یعنی شرک کرتے ہیں۔
Ayah 6:151-151 (قل تعالوا اتل ماحرم ربکم علیکم الا تشرکوا بہ شیئاً ) مشرکین نے سوال کیا کہ اللہ نے کون سی چیز کو حرام کیا ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
” قل تعالوا اتل “ میں تم پر وہ پڑھتا ہوں جو تم پر تمہارے رب نے حقیقی اور یقینی طور پر حرام کیا ہے، وہ گمان اور جھوٹ نہیں جسے تم گمان کرتے ہو۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ اللہ تعالیٰ کے قول ” حرم ربکم علیکم الا تشرکوا بہ شیئاً “ کا کیا معنی ہے کیونکہ حرام تو شرک ہے نہ کہ شرک کا چھوڑنا ؟ تو جواب یہ ہے کہ ” ان کا محل رفع ہے اس کا معنی یہ ہے کہ وہ یہ ہے کہ تم شرک نہ کرو اور بعض نے کہا ہے کہ اس کا محل نصب ہے اور اس کے نصب کی وجہ میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ تم پر حرام کیا ہے کہ تم شرک کرو اور ” لا “ صلہ ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ” مامنعک ان لاتسج ”‘ یعنی سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا اور بعض نے کہا ہے کہ کلام اللہ تعالیٰ کے قول ” حرم ربکم “ پر مکمل ہوگئی تھی۔ پھر فرمایا تم پر لازم ہے کہ تم اس کے ساتھ کسی کو شریکن ہ کرو ، یہ ابھارنے کے طریقہ پر ہے۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں جائز ہے کہ معنی پر محمول ہو یعنی میں تم پر مشرک کی حرمت کی تلاوت کرتا ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ معنی یہ ہو میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ شرک نہ کرو۔
(وبالوالدین احساناً ولا تقتلوا اولادکم من املاق) (نحن نرزقکم وایاھم) یعنی فقر کے خوف سے بیٹیوں کو زندہ دفن نہ کرو کیونکہ تمہیں اور ان کو میں رزق دیتا ہوں (ولاتقربوا الفواحش ماظھر منھا و ما بطن)
-1 ماظہر سے علانیہ اور ما بطن سے پوشیدہ گناہ ہیں۔ جاہلیت والے اعلانیہ زنا کو برا سمجھتے تھے اور چپکے سے کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے دونوں صورتوں کو حرام قرار دیا ہے۔
-2 اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ ظاہر سے مراد شراب اور باطن سے زنا مراد ہے۔ (ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق) اللہ تعالیٰ نے مئومن اور معاھد (جس سے معاہدہ ہ گیا ہو) کے قتل کو حرام کیا ہے مگر حق پر قتل کرسکتے ہیں۔ یعنی قصاص، ارتداد یا ایسا زنا جس کی سزا رجم ہو تو قتل مباح ہوجاتا ہے۔
مسلمان کا خون حلال نہیں مگر تین امور کی بناء پر
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ کسی ایسے شخص کا خون حلال نہیں جو گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک میں اللہ کا رسول ہوں مگر تین صورتوں میں سے ایک کی وجہ سے -1 شادہ شدہ شخص زنا کرے -2 جان کے بدلے جان -3 اپنے دین کو چھوڑ کر جماعت سے الگ ہوجائے ” ذلکم “ جو میں نے ذکر کیا۔” وصکم بہ “ تم کو یہ حکم دیا ہے ” لعلکم تعقلون “ (تم کو یہ حکم کیا ہے تاکہ تم سمجھو)
Ayah 6:152یتیم کے مال کے کھانے کا کیا حکم ہے
تفسیر 152 (ولا تقربوا مال الیتیم الا بالتیھی احسن) یعنی جس میں اس کے مال کا نفع اور اضافہ ہو۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اس کے مال میں تجارت کرنا مراد ہے اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ احسن طریقہ یہے کہ اس کے مال سے تجارت کرے اور نفع میں سے خود کچھ نہ رکھے۔ (حتی یبلغ اشدہ) شعبی اور مالک رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ بالغ ہوجائے کہ اس کی نیکیاں اور گناہ لکھے جانے لگیں۔ ابوالعالیہ (رح) فرماتے ہیں کہ سمجھ دار ہو اجئے اور قوت والا ہوجائے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں ” اش ”‘ کا اطلاق اٹھارہ سال سے تیس سال تک کی عمر پر وہتا ہے اور بعض نے کہا چالیس سال تک اور بعض نے ساٹھ سال تک اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں بیس سال۔ اور سدی (رح) فرماتے ہیں تیس سال اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں تینتیس سال۔ اور الاشد شد کی جمع ہے قد اور اقد کی طرح اور وہ جوانی کی قوت اور عمر کا مضبوط ہوتا اور اسی سے ” شد النھار “ ہے جب دن خوب نکل آئے اور بعض نے کہا ہے کہ ” بلوغ اش ”‘ یہ ہے کہ بالغ ہونے کے بعد اس سے سمجھ داری محسوس ہو۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے اور سمجھ دار ہو تو اس کا مال اس کے حوالہ کر دو ۔ (واوفوا الکیل والمیزان بالقسط)
(لاتکلف نفساً الا وسعھا) ماپ اور تول کے پورا کرنے میں کہ دینے والے کو اتنی مقدار کا مکلف بنایا جو اس پر واجب ہے زیادہ کو لازم نہیں تاکہ اس پر تنگی نہ ہو اور صاحب حق کو اپنے حق سے کم لینے کا مکلف نہیں بنایا تاکہ اس پر تنگی نہ ہو بلکہ ہر ایک کو اس کی گنجائش کے مطابق حکم دیا (واذا قلتم فاعدلوا) فیصلہ اور گواہی میں سچ بولو (ولو کان ذاقربی) جس پر فیصلہ کیا جا رہا ہے یا جس کے خلاف گواہی دی جا رہی ہے وہ قریبی رشتہ ہی کیوں نہ ہو (وبعھد اللہ اوفوا ط ذلکم وصکم بہ لعلکم تذکرون) حمزہ، کسائی اور حفص رحمہما اللہ نے ” تذکرون “ ذال کے تخفیف کے ساتھ پورے قرآن میں پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے شد کے ساتھ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت محکمات میں سے ہے تمام کتب میں نازل ہوئی۔ اس میں سے کوئی حکم منسوخ نہیں ہے اور تمام بنی آدم پر یہ چیزیں حرام تھیں، یہ کتاب کی اصل ہیں جو ان پر عمل کرے گا جنت میں داخل ہوگا اور جوان کو چھوڑے دے گا جہنم میں داخل ہوگا۔
Ayah 6:153تفسیر (153) (وان ھذا) یعنی جو ان دو آیتوں میں تم کو حکم کیا ہے (صراطی مستقیما فاتبعوہ) حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ” و ان “ کو الف کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے استنائف کی بناء پر اور دیگر حضرات نے الف کے زبر کے ساتھ۔ فراء (رح) فرماتے ہیں معنی یہ ہے کہ میں تم پر تلاوت کرتا ہوں کہ یہ میرا سیدھا راستہ ہے اور ابن عامر اور یعقوب رحمہما اللہ نے نون کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ (ولا تتبعوا السبل) اس دین کے علاوہ دین جیسے یہودیت، نصرانیت وغیرہ اور بعض نے کہا خواہشات اور بدات مراد ہیں (فتفرق بکم عن سبیلہ) یعنی اس کے پسندیدہ دین سے (ذلکم وصکم بہ لعلکم تتقون)
صراط مستقیم کی وضاحت
حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لکیر کھینی، پھر فرمایا کہ یہ اللہ کا راستہ ہے پھر اس لکیر کے دائیں اور بائیں کئی لکیریں کھینچیں اور فرمایا یہ راستے ہیں ان میں سے ہر راستے پر شیطان بیٹھا ہے جو اس کی طرف بلا رہا ہے۔ پھر آیت پڑھی (وان ھذا صراطی مستقیماً فاتبعوہ)
Ayah 6:154154 (ثم اتینا موسیٰ الکتب) اگر یہ اعتراض ہو کہ ” ثم اتینا “ کیوں کہا ہے کیونکہ ” ثم “ تو کسی چیز کے بہت بعد میں آنے کے لئے استعمال ہوتا ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب تو قرآن کے آنے سے بہت پہلے دی گئی تھی ؟ تو جواب یہ ہے کہ معنی یہ ہے کہ پھر میں نے تمہیں خبر دی کہ میں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی تو ” ثم “ کو خبر مئوخر ہونے کے لئے لایا گیا ہے نزول مئوخر ہونے کے لئے نہیں۔ (تماما علی الذی احسن) ” الذی احسن “ کی تفسیر میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے نیک کام کرنے والے مراد ہیں اس صورت میں ” الذی “ من کے معنی میں ہوگا کہ جس شخص نے ان کی قوم میں سے نیک کام کیا کیونکہ ان میں اچھے اور برے کام کرنے والے ہر قسم کے لوگ تھے۔ اس قول پر ابن مسعود ؓ قرأت بھی دلالت کرتی ہے کیونکہ اس میں لفظ ” علی الذین احسنوا “ ہے اور ابوعبیدہ (رح) فرماتے ہیں کہ مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دے کر ان کی فضیلت کو مکمل کیا نیک کام کرنے والوں پر اور محسنین سے انبیاء (علیہم السلام) اور مئومنین مراد ہیں اور بعض نے کہا ” الذی احسن “ سے موسیٰ (علیہ السلام) ہی مراد ہیں اور ” الذی “ ما کے معنی میں ہے اب مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے ان کو کتاب دی ان پر نعمت کو مکمل کرنے کے لئے ان کے عبادت، رسالت کی تبلیغ اور احکام کو ادا کرنے میں نیک ہونے کی وجہ سے اور بعض نے کہا ہے کہ ” الاحسان علم “ کے معنی میں ہے اور ” احسن علم “ کے معنی میں ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر عمل و حکمت کی نعمت پورا کرنے کے لئے۔ یعنی ہم نے ان کو کتاب اس پر زیادہ دی تھی اور بعض نے کہا ہے کہ یہ موسیٰ (علیہ السلام) پر میراحسان مکمل کرنا ہے۔ (وتفصیلاً ) بیان کردی (لکل شیئ) ہر چیز کی تفصیل جن کا شریعت دین میں جاننا ضروری ہے (وھدی و رحمۃ) یہ تو راۃ کی صفت ہے (لعلھم بلقآء ربھم یئومنون) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ تاکہ وہ دوبارہ اٹھنے پر ایمان لائیں اور وثاب اور عذاب کی تصدیق کریں۔
Ayah 6:155تفسیر 155 (وھذا کتب) یعنی قرآن (انزلنہ مبرک فاتبعوہ) اس کے احکام پر عمل کرو (واتقوا) اطاعت کرو (لعلکم ترحمون)
Ayah 6:156-156 (ان تقولوا)” بیبن اللہ لکم ان تضلوا “ یعنی تاکہ تم گمراہ نہ ہو اور بعض نے کہا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ ہم نے اس کو اتارا ہے، تمہاری گمراہی کو ناپسند کرتے ہوئے ” ان تقولوا “ کسائی (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ اے اہل مکہ تم پر کہنے سے بچو۔ تاکہ تم نہ کہو (انما انزل الکتب علی طآئفتین من قبلنا) یعنی یہود و نصاریٰ (وان کناعن دراستھم لغفلین) یعنی ہم ان کو نہ جانتے تھے ۔ مطلب یہ ہے کہ تم پر ہم نے قرآن اس لئے اتارا کہ تم یہ نہ کہو کہ بیشک کتاب تو ہم سے پہلے لوگوں پر ان کی زبان میں اتاری گئی تھی تو ہم نے اس کے احکام نہ پہنچانے اور اس کے پڑھنے پڑھانے سے غافل رہے تو تم پر عذر نہ کرسکو۔
Ayah 6:157-157 (او تقولوا لو انا انزل علینا الکتب لکنا اھدی منھم) کفار کی ایک جماعت نے یہ بات کہی تھی کہ اگر جو کتاب یہود و نصاریٰ پر نازل ہوئی ہم پر اترتی تو ہم ان سے بہتر ہوتے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ (فقد جآء کم بینۃ من ربکم وھدی و رحمۃ) اور ہدایت اور رحمت اور نعمت (فمن اظلم ممن کذب بایت اللہ (وصدف) بمعنی اعراض کرنا (عنھا ط سنجزی الذین یصدقون عن ایتنا سوء العذاب) بر ا عذاب بدلے میں (بما کانوا یصدقون ) جو اعراض کرتے ہیں۔
Ayah 6:158تفسیر 158 (ھل ینظرون ) یعنی رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے اور قرآن کا انکار کرنے کے بعد وہ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں (الا ان تاتیھم الملئکۃ) تاکہ ان کی روح قبض کریں اور بعض نے کہا عذاب کے ساتھ حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ” یاتیھم “ یاء کے ساتھ یہاں اور النحل میں پڑھا ہے اور باقی حضرات نے تاء کے ساتھ۔ (اویاتی ربک) بغیر کسی کیفیت کے تاکہ قیامت کے اپنی مخلوق کے درمیان فیصلہ کر دے (اویاتی بعض ایت ربک) یعنی سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔ یہی اکثر مفسرین کی رائے ہے اور اسی کو حضرت ابو سعید خدری ؓ نے مرفوعاً روایت کیا ہے۔
(یوم یاتی بعض ایت ربک لا ینفع نفساً ایمانھا لم تکن امنت من قبل) یعنی اس نشانی کے ظاہر ہونے کے وقت ایمان نفع نہ دے گا (او کسبت فی ایمانھا خیراً ) مطلب یہ ہے کہ کافر کا ایمان اور فاسق کی توبہ قبول نہ ہوگی۔ (قل انتظروآ) اے اہ مکہ (انا منتظرون) تمہارے عذاب کی۔ قیامت کی چند علامات
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت نہ قائم ہوگی حتیٰ کہ سورج مغرب سے طلوع ہوجائے۔ جب سورج طلوع ہوجائے گا اور اس کو لوگ دیکھ لیں گے تو سارے ایمان لے آئیں گے اور یہ وہ وقت ہے کہ کس نفس کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کی ہو۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ رات کو اپنے ہاتھ کشادہ کرتے ہیں تاکہ دن کو برے کام کرنے والے توبہ کرلیں اور دن کو ہاتھ کشادہ کرتے ہیں تاکہ رات کو برے کام کرنے والا توبہ کرلے۔ یہ سلسلہ سورج کے مغرب سے طلوع ہونے تک رہے گا۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے پہلے توبہ کرلی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیں۔ زر بن حبیش (رح) فرماتے ہیں کہ میں صفوان بن عسال، مرادی ؓ کے پاس آیا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک بات ذکر کی کہ اللہ تعالیٰ نے مغرب میں ایک دروازہ بنایا ہے توبہ کے لئے جس کی چوڑائی کی مسافت ستر سال ہے۔ وہ دروازہ اس وقت تک بند نہ ہوگا جب تک سورج اس کی جانب سے طلوع نہ ہوجائے اور یہ اللہ تعالیٰ کا قول (یوم یاتی بعض آیات ربک لاینفع نفسا ایمانھا لم تکن امنت من قبل) اور ابو حازم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ک ہتین چیزیں جب نکلیں گی تو کسی نفس کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو یا نیک کام نہ کئے ہوں۔-1 دجال -2 چوپایہ -3 سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔
Ayah 6:159تفسیر 159 (ان الذین فرقوا دینھم) حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ” فارقوا “ الف کے ساتھ یہاں اور سورة روم میں پڑھا ہے۔ یعنی اپنے دین سے نکل گئے اور اس کو چھوڑ دیا اور باقی حضرات نے ” فرقوا “ شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی اللہ کا دین ایک ہے یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کا دین حنیف ان لوگوں نے اس کے مختلف دین بنا کر یہودی اور نصرانی بن گئے۔ اس مطلب پر آیت کا یہ حصہ دلالت کررہا ہے (وکانوا شیعاً ) یعنی مختلف فرقے یہود و نصاریٰ وغریہ ہوگئے۔
وکانوا شیعاً سے کون سے فرقے مراد ہیں
یہ مجاہد، قتادہ اور سدی رحمہما اللہ کا قول ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے اس امت کے بدعتی اور شبہ میں پڑنے والے لوگ مراد ہیں۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو فرمایا کہ اے عائشہ ! ؓ جن لوگوں نے دین کو چھوڑا اور بہت سے فرقے ہوگئے وہ اس امت کے بدعتی اور شبہات میں پڑنے والے لوگ ہیں۔
عرباض بن ساریہ ؓ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی اور بڑی بلیغ نصیحت کی جس سے آنکھیں بہہ پڑیں اور دل کانپ گئے۔ کہنے والے نے کہا اے اللہ کے رسول ! (ﷺ ) یہ تو الوداع کہنے والے کی نصیحت کی طرح نصیحت ہے۔ آپ ہمیں وصیت کریں تو آپ ع لیہ السلام نے فرمایا کہ میں تمہیں وصیت کرتا ہوں اللہ سے ڈرنے اور سننے اور اطاعت کرنے کی اگرچہ حبشی غلام ہو کیونکہ جو تم میں سے میرے بعد زندہ رہے گا تو وہ بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا تو تم لازم پکڑو میری سنت اور میرے خلفاء راشدین کی سنت کو اس کو داڑھوں سے مضبوطی سے تھام لو اور بچو دین میں نئی ایجاد ہونے والی چیزوں سے کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے۔ عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بیشک بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹے گی، سارے جہنم میں ہوں گے سوائے ایک کے ۔ صحابہ کرام ؓ نے سوال کیا وہ کون سا فرقہ ہے اے اللہ کے رسول ! (ﷺ ) تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا جو اس راستہ پر ہو جس پر میں اور میرے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ہیں۔
ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ سب سے اچھی بات اللہ کی کتاب ہے اور سب سے اچھی سیرت محمد ﷺ کی سیرت ہے اور تمام امور میں سے برے ترین نئی ایجاد کی ہوئی چیزیں ہیں۔ اسی حدیث کو حضرت جابر ؓ نے مرفوع نقل کیا ہے۔ (نست منھم فی شیئ) یعنی آپ کو ان سے لڑنے کی ضرورت نہیں۔ اس کو جہاد کی آیات نے منسوخ کردیا ہے۔ یہ تاویل ان حضرات کے قول پر ہے جن کے نزدیک ان سے یہود و نصاریٰ مراد ہیں اور جن کے نزدیک آیت سے خواہشات کے پیچھے چلنے والے مراد ہیں تو انہوں نے کہا آیت کا مطل بیہ ہے کہ آپ ع لیہ السلام ان سے بری ہیں وہ آپ (علیہ السلام) سے بری ہیں عرب کہتے ہیں اگر تو نے اس طرح کیا تو تو مجھ میں سے نہیں ہے اور میں تجھ سے نہیں ہوں۔ یعنی ہم میں سے ہر ایک دوسرے سے بڑی ہے ۔ (انما امرھم الی اللہ) سزا اور بدلہ دینے میں (ثم بنبنھم بما کانوا یفعلون) جب وہ قیامت میں لائے جائیں گے۔
Ayah 6:160وہ اعمال جن پر دس گنا ثواب ملتا ہے
تفسیر 160 (من جآء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا) یعنی اس کے لئے اس کی مثل دس نیکیاں ہیں (ومن جآء بالسینۃ فلا یجزی الا مثلھا وھم لایظلمون) حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی ایک اپنے اسلام کو اچا کرلے تو جو نیکی وہ کرے گا تو اس کے لئے اس کی دس مثل سے سات سو گنا تک لکھا جائے گا۔ یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرلے گا۔ حضرت ابو ذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو کوئی نیکی لائے تو اس کے لئے اس کے مثل دس ہے اور میں بڑھا دوں گا اور جو کوئی برائی لاتا ہے تو اس برائی کی مثل سزا پائے گا یا میں معاف کر دوں گا اور جو مجھ سے ایک بالشت قریب ہوگا تو میں اس سے ایک گز قریب ہو جائوں گا اور جو مجھ سے ایک گز قریب ہوگا تو میں اس سے دونوں ہاتھ کے درمیانی فاصلہ کی بقدر قریب ہو جائوں گا اور جو میرے پاس چل کر آئے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آئوں گا اور جو مجھے ملے زمین کے بھرائو کے بقدر گناہوں کے ساتھ لیکن میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں اس کی مثل مغفرت کے ساتھ اس کو ملوں گا۔ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ آیت میں صدقات کے علاوہ نیکیاں مراد ہیں کیونکہ صدقات سات سو گنا تک دگنے کئے جاتے ہیں۔
Ayah 6:161161 (قل اننی ھدنی ربی الی صراط مستقیم دینا قیماً ) اہل کوفہ اور شام نے ” قیما “ قاف کی زیر اور باء کے زبر کے ساتھ بغیر شد کے پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے قاف کی زبر اور یاء کی زیر کے ساتھ مشدد پڑھا ہے دونوں کا معنی ایک ہے اور وہ سیدھا درست اور اس کا منصوب ہونا اس بناء پر ہے کہ اصل عبارت ” ھدانی دینا قیماً “ ہے کہ مجھے دین قیم کی ہدایت دی۔ (ملۃ ابراہیم حنیفاً وما کان من المشرکین)
Ayah 6:162162 (قل ان صلاتی و نس کی) بعض نے کہا ” نسک “ سے حج اور عمرہ کا ذبیحہ مراد ہے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ” نسک “ سے حج مراد ہے اور بعض نے کہا دین مراد ہے (ومحیای ومماتی للہ رب العلمین) یعنی وہ مجھے موت وحیات دیتا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ ” محیای “ نیک عمل کے ساتھ اور ” مماتی “ جب میں ایمان پر مر جائوں گا۔ ” اللہ رب العالمین “ اور بعض نے کہا ہے میری اطاعت میری زنگدی میں اللہ کے لئے ہے اور میرے مرنے کے بعد میری ” جزاء اللہ رب العالمین “ کی طرف ہے۔ اہل مدینہ نے ” محیای “ یاء کے سکون کے ساتھ اور ” مماتی “ یاء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور اکثر حضرات کی قرأت ” محیای “ یاء کے سکون کے ساتھ اور ” مماتی “ یاء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور اکثر حضرات کی قرأت ” محیای “ یاء کے زبر کے ساتھ ہے تاکہ دو ساکن جمع نہ ہوجائیں۔
Ayah 6:163163 (لا شریک لہ وبذلک امرت وانا اول السلمین) قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ میں اس امت میں سے پہلا مسلمان ہوں۔
Ayah 6:164تفسیر 164 (قل اغیر اللہ ابعی ربا) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں سید اور معبود (وھو رب کل شیئ) پس منظر یہ ہے کہ کفار نبی کریم ﷺ کو کہنے لگے آپ ہمارے دین کی طرف لوٹ آئیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ولید بن مغیرہ کہنے لگا تم میرے پیچھے چلو میں تمہارے گناہ اٹھائوں گا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ (ولا تکسب کل نفس الا علیھا) یعنی جو فنس کچھ لاتا ہے تو اس کا گناہ جرم کرنے والے پر ہے اور بوجھ نہ اٹھائے گا (ولا تزروا زرۃ وزر اخری) یعنی ایک کا بوجھ دوسرے پر نہیں ڈالا جائے گا۔ ایک کے گناہ کی سزا دوسرے کو نہیں دی جائے گی۔ ایک شخص دوسرے کا پھر تمہارے رب کے پاس ہی تم سب کو لٹو کر جانا ہے۔ سو وہ جتلائے گا جس بات میں تم جھگڑتے تھے۔ )
Ayah 6:165165- (وھو الذی جعلکم خلئف الارض) یعنی پہلی امتوں سے یعنی اے محمد ﷺ کی امت تمہیں ان کے بعد زمین کا وارث بنایا ہے تمہیں ان کا خلیفہ و نائب بنایا، اسی زمین میں تم ان کے نائب ہو اور ان کے بعد زمین آباد کرتے ہو اور خلائف خلیفتہ کی جمع ہے جیسے ” وصائف وصیفۃ “ کی جمع ہے اور جو شخص کسی کے جانے کے بعد آئے وہ اس کا خلیفہ ہے کیونکہ وہ اس کے پیچھے آیا ہے۔ (ورفع بعضکم فوق بعض درجت) یعنی تمہارے احوال ایک دوسرے کے خلاف کردیئے تو تم میں سے بعض کو خلق، رزق، معاش، قوت اور فضل میں بعض پر بلند کردیا (لیبلوکم فی مااتکم) یعنی اپنے دیئے ہوئے رزق میں تمہارا امتحان کرے یعنی مال دار، فقیر، شریف، گھٹیا، آزاد، غلام سب کا امتحان کرے۔ تاکہ تم سے ثواب و عقاب کو ظاہر کر دے۔ (ان ربک سریع العقاب) تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے اس لئے کہ ہر آنے والی چیز تیز اور قریب ہے۔ بعض نے کہا ہے دنیا میں ہلاک ہونا مراد ہے۔ (وانہ لغفور رحیم) عطاء (رح) فرماتے ہیں اپنے دشمنوں کو جلد سزا دینے والا اپنے اولیاء کو بہت بخشنے والا اور ان پر رحم کرنے والا ہے۔