6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 6:116

وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:116 in the Quran reader

اور اکثر لوگ جو زمین پر آباد ہیں (گمراہ ہیں) اگر تم ان کا کہا مان لو گے تو وہ تمہیں خدا کا راستہ بھلا دیں گے۔ یہ) (محض خیال کے پیچھے چلتے اور نرے اٹکل کے تیر چلاتے ہیں۔

116 (وان تطع اکثر من فی الارض یضلوک عن سبیل اللہ) اللہ کے دین سے کیونکہ اکثر دنیا والے گمراہ ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ اور مئومنین سے جھگڑا کیا تھا کہ تم جس کو خود ذبح کرتے ہو اس کو کھاتے ہو اور جس کو اللہ مار دے اس کو نہیں کھاتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اگر مردار کے کھانے میں آپ (علیہ السلام) ان کی اطاعت کریں گے تو آپ کو بہکا دیں گے (ان یتبعون الا الظن) یعنی ان کا موجودہ دین تو صرف گمان اور خواہشات ہے کوئی بصیرت نہیں (وان ھم الایخرصون) یعنی جھوٹ بولتے ہیں۔
Ayah 6:117

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:117 in the Quran reader

تمہارا پروردگار ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو اس کے راستے سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ اور ان سے بھی خوب واقف ہے جو راستے پر چل رہے ہیں۔

117 (ان ربک ھو اعلم من یضل عن سبیلہ) بعض نے کہا ہے کہ حرف صفت کو ہٹانے کی وجہ سے نصب کی جگہ ہے یعنی لمن یقتل اور زجاج (رح) فرماتے ہیں اس کا محل مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہوتا ہے اور اس کے لفظ استفہام کے ہیں اور معنی یہ ہے کہ تیرا رب ہی خوب جانتا ہے یعنی لوگوں کہ اس کے راستے سے کون گمراہ ہو رہا ہے۔ (وھو اعلم بالمھتدین) یعنی اللہ تعالیٰ گمراہ اور ہدایت یافتہ فریق کو خوب جانتے ہیں تو ہر ایک کو وہی بدلہ دیں گے جس کا وہ مستحق ہے۔
Ayah 6:118

فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰیٰتِهٖ مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:118 in the Quran reader

تو جس چیز پر (ذبح کے وقت) خدا کا نام لیا جائے اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو تو اسے کھالیا کرو۔

تفسیر 118 (فکلوا مما ذکر اسم اللہ علیہ) یعنی جو اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو (ان کنتم بایتہ مومنین) کیونکہ وہ لوگ چوپایوں کی کئی اقسام کو حرام قرار دیتے تھے اور مردہ جانوروں کو حلال سمجھتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو اللہ نے حلال کیا اس کو حلال سمجھو اور جس کو حرام کیا اس کو حرام سمجھو۔
Ayah 6:119

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَهْوَآئِهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 6:119 in the Quran reader

اور سبب کیا ہے کہ جس چیز پر خدا کا نام لیا جائے تم اسے نہ کھاؤ ؟ حالانکہ جو چیز اس نے تمہاے لئے حرام ٹھہرادی ہیں وہ ایک ایک کرکے بیان کردی ہیں (بیشک ان کو نہیں کھانا چاہئے) مگر اس صورت میں کہ ان کے (کھانے کے) لیے ناچار ہوجاؤ اور بہت سے لوگ بےسمجھے بوجھے اپنے نفس کی خواہشوں سے لوگوں کو بہکار ہے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ایسے لوگوں کو جو (خدا کی مقرر کی ہوئی) حد سے باہر نکل جاتے ہیں تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے

119 (ومالکم) یعنی کون سی چیز ہے جس کی وجہ سے تم (الا تاکلوا مما ذکر اسم اللہ علیہ) یعنی ذبح کیا ہوا جانور (وقد فصل لکم ما حرم علیکم) اہل مدینہ، یعقوب اور حفص نے (فصل اور حرم) دونوں میں زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل کی ہے جو تم پر حرام کیا ہے۔ لقولہ (اسم اللہ) اور ابن کثیر، ابن عامر، یعقوب اور ابوع مرونے فاء کے پیش اور جاء کے پیش اور صاد اور راء کی زیر کیساتھ پڑھا ہے۔ مجہول کا صیغہ۔ اللہ تعالیٰ کے قول (ذکر) کی وجہ سے اور حمزہ، کسائی اور ابوبکر (نے فصل) زبر کے ساتھ اور (حرم) پیش کے ساتھ حرام جانوروں کی تفصیل سے اشارہ ہے ” حرمت علکیم المبنۃ والدم “ آیت کی طرف۔ (الا ما اضطورتم الیہ) یعنی ان چیزوں کے کھانے پر مجبور ہو جائو تو اس وقت حلال ہیں۔ (وان کثیرا لیضلون) اہل کوفہ نے یاء کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا قول (لیضلوا) سورة یونس میں اللہ تعالیٰ کے قول (یضلوک عن سبیل اللہ) کی وجہ سے اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے عمرو بن لحی اور اس کے علاوہ مشرکین مراد ہیں جن نے بحیرہ اور سائبہ کو حلال بنایا اور اس کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کیا اور دیگر حضرات نے زبرکیساتھ پڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قول (من یضل) کی وجہ سے (باھوآئھم بغیر علم) جب وہ ان جانوروں کے کھانے سے رک گئے جن پر اللہ کا نام ذکر کیا جائے اور مردار کھانے کی طرف بلائے گے (ان ربک ھو اعلم بالمعتدین) جو حلال سے تجاویز کر کے حرام کھاتے ہیں۔
Ayah 6:120

وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:120 in the Quran reader

اور ظاہری اور پوشیدہ (ہر طرح کا) گناہ ترک کردو۔ جو لوگ گناہ کرتے ہیں وہ عنقریب اپنے کیے کی سزا پائیں گے۔

120 (وتروا ظاھر الاتم و باطنہ) یعنی تمام گناہ چھوڑ دو کیونکہ کوئی بھی گناہ اور ان دو صورتوں سے خالی نہیں یا تو ظاہر ہوگا یا چھپا ہوا۔ وذروا ظاھر الاثم و باطنہ کی تفسیر مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ظاہر گناہ وہ ہے جو انسان اپنے اعضاء سے کرتا ہے اور باطن گناہ وہ ہے جو وہ دل میں نیت کرتے ہیں۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں اس کا ظاہ راکثر مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ ظاہری گناہ زنا کا اعلان کرنا اور باطن سے مراد چپکے سے زنا کرنا کیونکہ عرب زنا کو بہت پسند کرتے تھے ان کے شرفاء تو چپکے سے زنا کرتے تھے اور غیر شریف لوگ اس کی پرواہ نہیں کرتے تھے اور اس زنا کو ظاہر کردیتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حرام کردیا ہے اور سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ ظاہر گناہ محارم سے نکاح کرنا اور باطن گناہ زنا ہے اور ابن زید (رح) فرماتے ہیں کہ ظاہر اثم ننگا ہ کر طواف کرنا اور باطن گناہ زنا۔ اور حیان نے کلبی رحمہما اللہ سے روایت کیا ہے کہ ظاہر اثم مردوں کا دن میں بیت اللہ کا ننگے طواف کرنا اور باطن اثم عورتوں کا رات کو ننگے طواف کرنا (ان الذین یکسبون الاتم سیجزون) آخرت میں (بما کانوا یفترفون) جو دنیا میں انہوں نے کمائی کی۔
Ayah 6:121

وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ١ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْ١ۚ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:121 in the Quran reader

اور جس چیز پر خدا کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاؤ کہ اس کا کھانا گناہ ہے۔ اور شیطان (لوگ) اپنے رفیقوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑا کریں۔ اور اگر تم لوگ ان کے کے کہے پر چلے تو بیشک تم بھی مشرک ہوئے۔

تفسیر (121) (ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ) ذبح کے وقت جان کر یا بھول کر تسمیہ چھوڑ دینے کی صورت میں ذبیحہ کا حکم۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آیت میں وہ جانور مراد ہیں جن کو وہ بتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے۔ اہل علم کا اس صورت میں اختلاف ہے کہ اگر مسلمان اللہ کا نام ذبح کے وقت نہ ذکر کرے تو کیا حکم ہے ؟ ایک جماعت کا قول ہے کہ چاہے نام لینا بھول گیا ہو یا جان بوجھ کر نہ پڑھے دونوں صورتوں میں یہ جانور حرام ہے۔ یہی امام شعبی اور ابن سیرین رحمہما اللہ کا قول ہے۔ ان حضرات نے اسی آیت کے ظاہری معنی سے استدلال کیا ہے اور ایک جماعت کا قول ہے کہ دونوں صورتوں میں مسلمان کا ذبیحہ حلال ہے ۔ یہی بات ابن عباس ؓ سے روایت کی گئی ہے اور یہی امام مالک، امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ کا قول ہے اور ایک جماعت کا قول ہے کہ اگر مسلمان نے جان بوجھ کر تسمیہ چھوڑ دی تو جانور نہ ہوگا اور اگر بھول کر چھوڑ دی تو حلال ہے۔ خرقی نے امام احمد (رح) کے شاگردوں سے نقل کیا ہے کہ امام احمد (رح) کا بھی یہی قول ہے اور سفیان ثوری (رح) اور اصحاب رائے کا بھی یہی قول ہے جنہوں نے اس جانور کو مباح قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آیت میں مردہ جانور اور وہ جانور جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کئے جائیں وہ مراد ہیں کیونکہ اس کو اللہ تعالیٰ نے فسق کہا ہے اور فسق غیر اللہ کا نام لینے ہی کی صورت میں ہوسکتا ہے جیسا کہ اسی سورت کے آخر میں کہا ” اوفسقاً اھل لغیر اللہ بہ “ اور ان حضرات کی دلیل وہ حدیث ہے جو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ آپ ؓ نے فرمایا کہ ایک قوم نے کہا اے اللہ کے رسول ! (ﷺ ) ہمارے ہاں ایک قوم ہے جنہوں نے شرک سے نئی جان چھڑائی ہے وہ ہمارے پاس گوشت لاتے ہیں ہم نہیں جانتے کہ وہ اللہ کا نام لیتے ہیں یا نہیں ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تم اللہ کا نام لے کر کھالو۔ اگر جانور کے حلال ہونے کے لئے تسمیہ شرط ہوتی تو اس کے پائے جانے میں جب شک ہو تو گوشت ممنوع ہوتا۔ جیسا کہ اگر جانور میں یہ شک ہوجائے کہ اس کو ذبح کیا گیا ہے یا نہیں تو وہ جانور ممنوع ہوتا ہے (وان الشیطن لیوحون الی اولیھم لیجادلوکم) اس جھگڑا کا واقعہ یہ ہے کہ مشرکین کہنے لگے اے محمد ! (ﷺ ) ہمیں بتائیں کہ جب بکری مرجاتی ہے تو اس کا کون مارتا ہے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا اللہ اس کو مارتا ہے تو کہنے لگے کیا آپ کا یہ گمان ہے کہ جس کو آپ اور آپ کے ساتھی مار دیں وہ حلال ہے اور جس کو کتا، شکرا، چیتا مار دے وہ حلال ہے ؟ اور جس کو اللہ مار دے وہ حرام ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (وان اطعتموھم) مردار کھانے میں (انکم لمشرکون) زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ آیت میں واضح دلیل ہے کہ جو حلال چیز کو حرام قرار دے یا حرام کو حلال قرار دے وہ مشرک ہے۔
Ayah 6:122

اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:122 in the Quran reader

بھلا جو (پہلے) مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس کے لیے روشنی کردی جس کے ذریعے سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے کہیں اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو اندھیرے میں پڑا ہوا ہو اس نکل ہی نہ سکے ؟ اس طرح کافر جو عمل کر رہے ہیں وہ انھیں اچھے معلوم ہوتے ہیں۔

122 (اومن کان میتافآحبینہ) نافع نے (میلاً ) اور لحم اخیہ میتا) اور (والارض المیتۃ احییناھا) ان میں شد کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے تخفیف کے ساتھ یعنی کفر کی وجہ سے مردہ تھا ہم نے ایمان کے ذریعے اس کو زندہ کردیا۔ (وجعلنا لہ نوراً ) تاکہ تم اس کے ذریعے سے روشنی حاصل کرو۔ (یمشی بہ فی الناس) راستے کے ارادہ پر۔ بعض نے کہا کہ نور سے مراد اسلام ہے کیونکہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا (یخرجھم من الظلمات الی النور نکالتا ہے ان کو اندھیروں سے روشنی کی طرف) اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ روشنی اللہ کی کتاب ہے جو اللہ کی طرف سے مئومن کے لئے واضح دلیل ہے کہ اس کی روشنی میں عمل کرتا ہے اسی سے دلیل لیتا ہے (کمن مثلہ فی الظلمت یہاں المثل صلہ ہے گویا کہ وہ اندھیرے میں ہے لیس بخارج منھا) یعنی کفر کی تاریکیوں میں۔ بعض حضرات نے کہا کہ یہ آیت دو متعین شخصوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ پھر ان کی تعیین میں اختلاف ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ” جعلنا لہ نوراً “ سیم راد حمزہ بن عبدالمطلب ؓ اور ” کمن مثلہ فی الظلمات “ ابوجہل بن ہشام مراد ہے۔ اور ضحاک (رح) کہتے ہیں کہ آیت عمر بن خطاب ؓ اور ابوجہل بن ہشام کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور عکرمہ اور کلبی رحمہما اللہ کہتے ہیں کہ عمار بن یاسر اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ (کذلک زین للکفرین ماکانوا یعملون) یعنی کفر اور معصیت۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ شیطان نے ان کے لئے بتوں کی عبادت کو مزین کردیا۔
Ayah 6:123

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِیْهَا لِیَمْكُرُوْا فِیْهَا١ؕ وَ مَا یَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:123 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں بڑے بڑے مجرم پیدا کیے کہ ان میں مکاّریاں کرتے رہیں۔ اور جو مکاّریاں یہ کرتے ہیں ان کا نقصان انہی کو ہے اور (اس سے) بیخبر ہیں۔

123 ابو جہل کا آپ ﷺ پر اوجھڑی ڈالنا اور حضرت حمزہ کا اس سے بدلہ لینا تفسیر :- اس کا پس منظر یہ ہے کہ ابو جہل نے رسول اللہ ﷺ پر گوبر سے بھری اوجھڑی ڈالی۔ حضرت حمزہ ؓ شکار سے لوٹ رہے تھے آپ ؓ کے ہاتھ میں کمان تھی، آپ کو اس وقت یہ خبر ملی آپ اس وقت ایمان نہ لائے یہ خبر سنتے ہی غصہ میں ابوجہل کے پاس گئے اور اپنی کمان ابوجہل کو ماری تو وہ گڑگڑانے لگا کہ اے ابویعلی آپ کو پتہ نہیں محمد (ﷺ ) کیا دین لائے ہیں ؟ ہمیں بیوقوف کہتے ہیں ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہتے ہیں، ہمارے آباء و اجداد کی مخالفت کرتے ہیں تو حمزہ ؓ نے کہا کہ تم سے زیادہ بیوقوف کون ہے ؟ اللہ کو چھوڑ کر بتوں کی عبدت کرتے ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ 123 (وکذلک جعلنا فی کل قریۃ اکبر مجرمبھا) جیسا کہ مکہ کے فساق مکہ کے سردار ہیں اسی طرح ہم ہر بستی کے گنہگار اس کے سردار بناتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا طریقہ رہا ہے کہ رسولوں کے پیروکار ہر بستی کے کمزور لوگ ہوا کرتے ہیں جیسا کہ نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں فرمایا ہے ” انومن لک واتبعک الارذلون “ اور ان کے فاسق لوگوں کو ان کے بڑے اور سردار لوگ بنایا۔ (لیمکروافیھا) ان لوگوں نے مکہ کے ہر راستے پر چار آدمی بٹھائے ہوئے جو لوگوں کو محمد ﷺ پر ایمان لانے سے روکتے تھے اور کہتے تھے اس شخص سے بچنا کیونکہ یہ نجومی، جادوگر، جھوٹا ہے۔ ” نعوذ باللہ من ذلک “ (وما یمکرون الا بانفسھم) کہ ان کے مکر کا وبال ان پر آئے گا۔
Ayah 6:124

وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ١ؔۘؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا كَانُوْا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 6:124 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ جس طرح کی رسالت خدا کے پیغمبروں کی ملی ہے جب تک اسی طرح کی رسالت ہم کو نہ ملے ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔ اس کو خدا ہی خوب جانتا ہے کہ (رسالت کا کون سا محل ہے اور) وہ اپنی پیغمبری کسے عنایت فرمائے جو لوگ جرم کرتے ہیں ان کو خدا کے ہاں ذلّت اور عذاب شدید ہوگا۔ اس لیے کہ مکاّریاں کرتے تھے۔

124 (واذا جآء تھم ایۃ قالوا لن نومن حتی نوتی مثل مآ اوتی رسل اللہ یعنی جو رسولوں کو نبوت دی گئی ہے وہ ہمیں دی جائے۔ واذ جاء تھم ایۃ کا نزول کس کے حق میں ہوا اس کا پس منظر یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ کہنے لگا کہ اگر نبوت حق ہوتی تو میں اس کا زیادہ حق دار تھا کیونکہ محمد ﷺ سے عمر میں بڑا ہوں اور مال میں زیادہ ہوں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ مقاتل (رح) ہتے ہیں کہ آیت ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی کیونکہ اس نے کہا تھا ہم سے بنو عبد مناف مرتبہ میں مزاحم تھے حتیٰ کہ ہم دونوں ہم مرتبہ تھے اب وہ کہیں گے کہ ہم میں نبی ہے جس کی طرف وحی کی جاتی ہے اللہ کی قسم ہم نہ اس پر ایمان لائیں گے اور نہ اس کی اتباع کریں گے مگر یہ کہ ہمارے پاس بھی اس کی طرح وحی آجائے تو ٹھیک ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ” واذا جاء تھم آیۃ “ محمد ﷺ کی سچائی پر حجت۔ وہ کہتے ہیں یعنی ابوجہل ” لن نومن حتی نوتی متل ما اوتی رسل اللہ ‘ یعنی محمد ﷺ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ (اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ) ابن کثیر اور حفص نے ” رسالتہ “ مفرد پڑھا ہے اور باقی حضرات نے ” رسالاتہ “ جمع یعنی اللہ خوب جانتا ہے کہ کون رسالت کا زیادہ مستحق ہے۔ (سیصیب الذین اجر موا صغار عند اللہ و عذاب شدیدم بما کانوا یمکرون) بعض نے کہا کہ دنیا میں ذلت اور آخرت میں سخت عذاب ہے۔
Ayah 6:125

فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:125 in the Quran reader

تو جس شخص کو خدا چاہتا ہے کہ ہدایت بخشے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہ کرے اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کریتا ہے گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے۔ اس طرح خدا ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے عذاب بھیجتا ہے۔

(آیت 125) یشرح صدرہ للاسلام کی تفسیر اور علامات تفسیر 125 (فمن یرد اللہ ان یھدیہ یشرح صدرہ للاسلام) یعنی اس کا دل کھول دیتا ہے اور اس کو روشن کردیتا ہے یہاں تک کہ وہ اسلام کو قول کرلیتا ہے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ سے شرح صدر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا وہ نور ہے جس کو ﷺ مئومن کے دل میں ڈال دیتے ہیں جس کی وجہ سے اس کا سینہ کھل جاتا ہے تو سوال کیا گیا کہ کیا اس کی کوئی علامت ہے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ہمیشگی کے گھر کی طرف رجوع کرنا اور دھوکے کے گھر (دنیا) سے کنارہ کش ہونا اور موت کی تیاری کرنا موت آنے سے پہلے (ومن یرد ان یضلہ یجعل صدرہ صیقا حرجاً ) ابن کثیر (رح) نے ” ضیقا “ کو یہاں اور سورة فرقان میں بغیر شد کے پڑھا ہے اور باقی نے شد کے ساتھ اور یہ دونوں لغتیں فصیح ہیں جیسے ” ھین ھین ولین لین “ … ” حرجاً “ اہل مدینہ اور ابوبکر نے راء کے کسرہ اور باقی نے راء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ دونوں لغتیں بھی فصیح ہیں۔ یعنی اس کے دل کو بالکل تنگ کردیتا ہے کہ ایمان داخل نہ ہو سکے اور کلبی (رح) کہتے ہیں کہ اتنا تنگ کہ خیر کے لئے اس میں کوئی سوراخ نہ ہو۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب اللہ کے ذکر کو سنتا ہے تو اس کا دل تنگ ہوجاتا ہے اور جب بتوں کی عبادت کا ذکر ہو تو راحت محسوس کرتا ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اس آیت کو پھڑا اور کنانہ قبیلہ کے ایک دیہاتی سے پوچھا کہ تمہاری لغت میں ” حرجۃ “ کا کیا معنی ہوتا ہے تو اس نے کہا کہ ایا ایسا درخت جو درختوں کے اتنے گھنے جھنڈ میں ہوتا ہے کہ نہ اس تک کوئی چرواہا پہنچ سکے اور نہ کوئی وحشی جانور اور نہ کوئی اور چیز تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا اسی طرح منافق کی طرف کوئی خیر نہیں پہنچ سکتی۔ (کانما یصعد فی السمآئ) ابن کثیر (رح) نے ” یصع ”‘ کو بغیر شد کے اور صاد کے سکون کے ساتھ اور ابوبکر نے عاصم (رح) سے ” یصاع ”‘ الف کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے عین اور صاد کی شد کے ساتھ ” یصع ”‘ پڑھا ہے۔ یعنی اس پر ایمان لانا ایسے مشکل ہے جیسے آسمان پر چڑھنا مشکل ہے اور الصعود کی اصل مشقت ہے اور اسی سے اللہ تعالیٰ کا قول ” سارھقہ صعوداً “ ہے یعنی مشکل گھاٹی۔ (کذلک یجعل اللہ الرجس علی الذین لایومنون) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رجس سے مراد شیطان ہے کہ شیطان کو مسلط کر دے گا۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ رجس جس میں خیر نہ ہو اور عطاء (رح) فرماتے ہیں رجس سے مراد عذاب اور بعض نے کہا نجاست مراد ہے۔ مروی ہے کہ بیشک رسول اللہ ﷺ جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو فرماتے اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں رجس اور نجس سے۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ رجس دنیا میں لعنت اور آخرت میں عذاب ہے۔
Ayah 6:126

وَ هٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِیْمًا١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 6:126 in the Quran reader

اور یہی تمہارے پروردگار کا سیدھا راستہ ہے۔ جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لیے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں۔

تفسیر (126) (وھذا صراط ربک مستقیماً ) یعنی جو ہم نے بیان کیا اور بعض نے کہا وہ راستہ جس پر محمد ﷺ ہیں اور وہ دین جو آپ (علیہ السلام) کے لئے اللہ تعالیٰ نے پسند کیا ہے بالکل سیدھا ہے کہ اس میں کوئی ٹیڑھا پن نہیں۔ (قد فضلنا الایت لقوم یذکرون)
Ayah 6:127

لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ هُوَ وَلِیُّهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:127 in the Quran reader

ان کیلئے ان کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے اور وہی ان کا دوست دار ہے۔

127 (لھم دارالسلم عندربھم) یعنی جنت۔ اکثر مفسرین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ سلام اللہ تعالیٰ ہیں اور دار سے مراد جنت ہے۔ لھم دارالسلام کی تفسیر اور بعض نے کہا سلام سلامتی ہے۔ یعنی ان کے لئے آفات سے سلامتی کا گھر ہے۔ یعنی جنت کو دار السلام اس وجہ سے کہتے ہیں کہ جو بھی اس میں داخل ہوگا ہر قسم کی تکالیف سے محفوظ ہوجائے گا اور بعض نے کہا اس وجہ سے نام رکھا گیا کہ اس کے تمام حالات سلام کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ ابتداء میں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ” ادخلوھا بسلام امنین “ …” والملائکۃ یدخلون علیھم من کل باب سلام علیکم “ وقال ” لایسمعون فیھا لغواً ولا تاثیما الاقیلا سلاماً سلاماً (تحیتھم فیھا سلام) (سلام قولا من رب رحیم) ……(وھو ولیھم بما کانوا یعملون) حسین بن فضیل فرماتے ہیں کہ ان کو دنیا میں ولی بنایا اپنی توفیق سے اور آخرت میں ان کو جزا دی جائے گی۔
Ayah 6:128

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا١ۚ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ١ۚ وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیْۤ اَجَّلْتَ لَنَا١ؕ قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:128 in the Quran reader

اور جس دن وہ سب (جن وانس) جو جمع کریگا (اور فرمائے گا کہ) اے گروہ جناّت تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کیے۔ تو جو انسانوں میں ان کے) (دوست دار ہوں گے وہ کہیں گے کہ پروردگار ہم ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے رہے اور (آخر) اس وقت کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا۔ خدا فرمائے گا (اب) تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہو گے مگر جو خدا چاہے۔ بیشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے۔

128” ویوم یحشرھم “ حفص نے ” یحشرھم “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” جمیعاً “ یعنی جنون اور انسانوں کو قیامت کے موقف میں جمع کرے گا اور کہے گا۔ ” یمعشرالجن “ جن سے مراد شیاطین ہیں (قد استکثرتم میں الانس) سے یعنی تم نے گمراہ کر کے بہت سے انسان اپنے ساتھ ملا لئے۔ (وقال اولیوھم من الانس) یعنی شیطانوں کے وہ انسان دوست جنہوں نے ان کی اطاعت کی ہے۔ (ربنا استمتع بعضنا ببعض) کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ انسانوں نے جنوں سے نفع یوں حاصل کیا کہ جب کوئی انسان جنگل بیابان میں سفر کرتا اور وہاں پڑائو ڈالتا اور جنوں کا خوف ہوتا تو وہ کہتا میں اس وادی کے سردار کی پناہ میں آجاتا ہوں اس کی قوم کے بیوقوفوں کے شر سے تو وہاں آسانی سے رات گزارتا اور جنوں نے نفع یہ اٹھایا کہ وہ کہنے لگے کہ ہم جنوں کے ساتھ انسانوں کے بھی سردار ہوگئے کہ وہ ہماری پناہ مانگتے ہیں۔ تو وہ اپنی قوم میں متربہ میں بڑھ گئے اور خود کو عظیم سمجھنے لگے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ” وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن فزادوھم رھقاً اور بعض نے کہا کہ انسانوں نے جنوں سے یہ نفع اٹھایا کہ وہ ان کو جادو اور کہانت وغیرہ بتاتے تھے اور جنوں نے فائدہ یہ حاصل کیا کہ انسان ان کے بدلے میں ان کی اطاعت کرتے تھے گمراہی اور معاصی کے امور میں جو ان کے لئے مزین کئے گئے تھے ۔ محمد بن کعب (رح) فرماتے ہیں وہ ایک دوسرے کی اطاعت کرنا اور ایک دوسرے کی موافقت کرنا ہے۔ (ویلغنآ اجلنا الذی اجلت لنا) یعنی قیامت اور بعث (قال النار مثوکم) تمہارا ٹھکانہ (خلدین فیھا الا ماشآء اللہ) اس استثناء میں ان کا اختالف ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قول ” خالدین فیھا ما دامت السموات والارض الا ماشاء ربک “ میں۔ بعض نے کہا کہ اتنا عرصہ مراد ہے جو ان کے دوبارہ زندہ کرنے اور جہنم میں بھیجنے کے درمیان ہے۔ یعنی ہمیشہ جہنم میں رہیں گے مگر اتنی مدت اور بعض نے کہا کہ استثناء کا تعلق عذاب سے ہے کہ ہمیشہ اگٓ میں رہیں گے سوائے اس کے کہ اللہ عذاب کی اقسام میں سے چاہے دے گا اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ استثناء کا تعلق اس قوم سے ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ وہ اسلام لے آئیں گے اور آگ سے نکالے جائیں گے۔ اس صورت میں ماشاء اللہ میں ” مامن “ کے معنی میں ہوگا۔ (ان ربک حکیم علیم) وہ دلوں کے اندر کو جاننے والا ہے کہ تم نیک ہو متوقی پرہیز گار ہو۔
Ayah 6:129

وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 6:129 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے اعمال کے سبب جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے پر مسلط کردیتے ہیں۔

تفسیر 129 (وکذلک نولی بعض الظلمین بعضام بما اکنوا یکسبون) بعض نے کہا یعنی جیسے ہم نے نافرمان جن و انس کو ذلیل کیا حتیٰ کہ انہوں نے ایک دوسرے سے نفع اٹھایا۔ اسی طرح ہم بعض ظالموں کو بعض پر مسلط کردیں گے اور ظالم سے ظالم کے ذریعے بدلہ لیں گے جیسا کہ وارد ہوا ہے کہ جس نے ظالم کی مدد کی اللہ اس ظالم کو اسی پر مسلط کر دے گا۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں ہم ان میں سے بعض کو بعض کا دوست بنادیں گے۔ پس مئومن جہاں بھی ہو مئومن کا دوست وہ گا اور کافر کافر کا دوست ہے جہاں بھی ہو اور معمر نے قتادہ سے روایت کیا ہے ہم ان میں سے بعض کو بعض کے آگے پیچھے لگا دیں گے۔ موالاۃ سے ہے اور بعض نے کہا ہے اس کا معنی ہم ظالم انسانوں کو ظالم جنوں کا اور ظالم اور اظلم جنوں کو ظالم انسانوں کا دوست بنادیں گے اور ان کو ایک دوسرے کے سپرد کردیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے ” نولہ ماتولی “ ابن عباس ؓ سے آیت کی تفسیر کے بارے میں مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتے ہیں تو ان کا معاملہ ان کے بہترین لوگوں کے سپرد کرتے ہیں اور جب کسی قوم کے بارے میں شرکا ارادہ کرتے ہیں تو ان کا معاملہ ان کے برے لوگوں کے سپرد کردیتے ہیں یعنی حکمران برے لوگ ہوتے ہیں۔
Ayah 6:130

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 6:130 in the Quran reader

اے جن وانسانوں کی جماعت کیا تمہارے پاس پیغمبر نہیں آتے رہے جو میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے سامنے آموجود ہونے سے ڈراتے تھے ؟ وہ کہیں گے کہ (پروردگار) ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے۔ ان لوگوں کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا اور (اب) خود اپنے اوپر گواہی دی کہ کفر کرتے تھے۔

-130 (یمعشر الجن والانس الم یاتکم رسل منکم) جنات میں رسول مبعوث ہوئے ہیں یا نہیں اس میں اختلاف ہے کہ جنوں میں رسول بھیجے گئے ہیں کہ نہیں ؟ ضحاک (رح) سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا بالکل کیا تو نے نہیں سنا کہ اللہ نے فرمایا ” الم یاتکم رسل منکم “ کیا نہیں آئے تمہارے پاس رسول انسانوں میں سے یا جنوں میں سے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ محمد ﷺ کی بعثت سے پہلے رسول جنوں اور انسانوں کی طرف بھیجے جاتے تھے اور محمد ﷺ جن و انس سب کی طرف بھیجے گئے ہیں اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ رسول انسانوں میں آئے ہیں اور جنوں میں ڈرانے والے آئے ہیں رسول نہیں آئے۔ پھر آیت پڑھی ” ولوا الی قومھم منذرین “ کہ جنہوں نے رسول کریم ﷺ کی کلام سنی اور جنوں کو تبلیغ کی اس صورت میں ” رسل منکم “ کا تعلق صرف انسانوں سے ہوگا۔ جیسا کہ فرمایا (یخرج منھما اللو لوو المرجان نکلتے ہیں ان دونوں سمندروں سے موتی اور مونگے) حالانکہ یہ تو کھارے سمندر سے نکلتے ہیں نہ کہ میٹھے سے۔ (وجعل القمر فیھن نوراً ) یہ ایک ہی آسمان سے نازل ہوتا ہے۔ (یقصون علیکم) تمہارے اوپر پڑھتے ہیں ایتی میری کتابیں (وینذونکم لقآء یومکم ھذا) قیامت کے دن سے (قالوا شھدنا علی انفسنا) کہ انہوں نے پیغام دیا تھا۔ مقاتل (رح) کہتے ہیں کہ یہ اقرار اس وقت ہوگا جب ان کے اعضاء ان کے خلاف شرک اور کفر کی گواہی دیں گے (وغرتھم الحیوۃ الدنیا) حتی کہ ایمان نہیں لائے (وشھدوا علی انفسھم انھم کانوا کفرین) ۔
Ayah 6:131

ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ یَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ Open ayah 6:131 in the Quran reader

(اے محمد) یہ (جو پیغمبر آتے رہے اور کتابیں نازل ہوتی رہیں تو) اس لیے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں کہ بستیوں کو ظلم سے ہلاک کردے اور وہاں کے رہنے والوں کو کچھ بھی خبر نہ ہو۔

تفسیر 131 (ذلک ان لم یکن ربک مھلک القری بظلم) یعنی یہ جو ہم نے آپ (علیہ السلام) پر رسولوں کے واقعات اور ان کی تکذیب کرنے والوں کا عذاب بیان کیا اس لئے کہ آپ کا رب بستیوں کو ان کے ظلم و شرک کی وجہ سے ہلاک کرنے والا نہیں ہے کہ ” واھلھا غفلون “ ان کو ڈرایا نہ گیا ہو حتی کہ ان کی طرف رسولوں کو بھیجتا ہے جو ان کو ڈراتے ہیں اور وہاں کے لوگ بیخبر ہوں کہ ان کو ڈرایا نہ گیا ہو۔ کلبی (رح) کہتے ہیں کہ ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کو اس وقت تک ہلاک نہیں کرتے جب تک رسول نہ بھیج دیں اور بعض نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ بغیر تنبیہ اور بغیر تذکیر کے ان کو ہلاک نہیں کرتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ سنت جاری کی ہے گناہ کے بعد ہی پکڑتا ہے اور گناہ اس وقت ہوتا ہے کہ جب کسی کو حکم دیا جائے اور وہ حکم نہ مانے یا کسی کام سے روکا جائے اور وہ نہ رکے اور یہ سب کچھ رسولوں کے ڈرانے کے بعد ہوسکتا ہے۔
Ayah 6:132

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:132 in the Quran reader

اور سب لوگوں کے بلحاظ اعمال درجے (مقرر) ہیں۔ اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں خدا ان سے بیخبر نہیں۔

132 (ولکل درجت مما عملوا) یعنی ثواب اور عقاب دنیا میں جو انہوں نے عمل کئے اس کے مطابق ہوگا۔ بعض کو بہت سخت عذاب اور بعض کو بہت زیادہ ثواب ہوگا (وما ربک بغافل عما یعملون) ابن عامر نے ” تعملون “ تاء کے ساتھ اور باقی حضرات نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 6:133

وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 6:133 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار بےپروا (اور) صاحب رحمت ہے۔ اگر چاہے (تو اے بندو) تمہیں نابود کردے اور تمہارے بعد جن لوگوں کو چاہے تمہارا جانشین بنادے۔ جیسا تم کو بھی دوسرے لوگوں کی نسل سے پیدا کیا ہے۔

133 (وربک الغنی) اپنی مخلوق سے (ذو الرحمۃ) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اپنے اولیاء اور اطاعت کرنے والوں پر (ان یشا یذھبکم) تم کو ہلاک کر دے۔ یہ اہل مکہ کو وعید ہے (ویستخلف من م بعدکم ما یشآئ) تمہارے علاوہ مخلوق کو جو زیادہ فرمانبردار ہو (کما انشاکم من ذریۃ قوم اخرین) یعنی تمہارے پچھلے آباء و اجداد سے نسل در نسل ۔
Ayah 6:134

اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 6:134 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ (وقوع میں) آنے والا ہے اور تم (خدا کو) مغلوب نہیں کرسکتے۔

134 (ان ماتوعدون) یعنی حشر اور قیامت کے آنے کا جو تم سے وعدہ کیا گیا ہے (لاب وما انتم بمعجزین) یعنی اس سے چھوٹنے والے نہیں ہیں یعنی جہاں بھی تم ہو گے موت تمہیں آئے گی۔
Ayah 6:135

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:135 in the Quran reader

کہہ دو کہ لوگو ! تم اپنی جگہ عمل کیے جاؤ میں (اپنی جگہ) عمل کیے جاتا ہوں۔ عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ آخرت میں (بہشت) کس کا گھر ہوگا۔ کچھ شک نہیں کہ مشرک نجات نہیں پانے کے۔

تفسیر (قل اے محمد آپ کہہ دیجیے یقوم اعملوا علی مکاتتکم) ابوبکر نے عاصم سے ” مکاناتکم “ جمع کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی جہاں بھی ہو۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں جس حالت پر تم ہو۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں جس پر تم ہو اسی پر عمل کرتے رہو۔ آدمی جو جب وہ کسی حالت پر ہو اور اس پر ثابت قدم رہنے کا حکم کیا جائے تو کہا جاتا ہے ” علی مکانتک یا فلان “ یعنی اپنی حالت پر ثابت قدم رہ اور یہ امرو عید میں مبالغہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی (علیہ السلام) کو کہہ رہے ہیں کہ آپ ﷺ ان کو کہہ دیں جو تم کرتے ہو کرتے رہو۔” انی عامل “ جو مجھے میرے رب نے حکم دیا ہے۔ ” فسوف تعلمون من تکون لہ عاقبہ الدار “ یعنی جنت ۔ حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے یکون یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہاں اور سورة القصص میں اور دیگر حضرات نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے ” العاقبۃ “ کے مئونث ہونے کی وجہ سے۔ (135) (انی عامل) جو مجھے میرے رب نے حکم دیا (فسوف تعلمون) من تکون لہ عاقبۃ الدار ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جس نے کفر کیا یا شرک کیا وہ نیک بخت نہ ہوگا۔ انہ لا یفلح الظلمون ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ وہ کامیاب نہ ہوگا۔
Ayah 6:136

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآئِنَا١ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ مَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ یَصِلُ اِلٰى شُرَكَآئِهِمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 6:136 in the Quran reader

اور (یہ لوگ) خدا ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں خدا کا بھی ایک حصّہ مقرر کرتے ہیں اور اپنے خیال (باطل) سے کہتے ہیں کہ یہ (حصّہ) تو خدا کا اور یہ ہمارے شریکوں (یعنی بتوں) کا۔ تو جو حصّہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے وہ تو خدا کی طرف نہیں جاسکتا۔ اور جو حصّہ خدا کا ہوتا ہے وہ ان کے شریکوں کی طرف جاسکتا ہے یہ کیسا برا انصاف ہے

136 (وجعلوا للہ مما ذرا من الحرب والانعام نصیباً ) کھیتوں میں اور چوپالوں میں مشرکین بتوں کا حصہ بھی رکھتے ہیں مشرکین اپنی کھیتوں، مویشیوں اور پھلوں اور تمام اموال میں اللہ تعالیٰ کا حصہ رکھتے تھے اور بتوں کا بھی حصہ رکھتے تھے جو اللہ تعالیٰ کا حصہ ہوتا وہ مہمانوں اور مسکینوں پر خرچ کرتے اور جو بتوں کے نام پر جو متعین کرتے وہ بتوں کے خدام کے لئے مقرر کرتے اگر کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے حصہ میں سے بتوں کے حصہ میں گرجاتی اس کو نہ اٹھاتے اور کہتے اللہ ان چیزوں سے غنی ہے اور اگر بتوں کے حصہ سے کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے حصہ میں گرجاتی تو اس کو اٹھا لیتے اور کہتے یہ محتاج ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حصہ میں کچھ کمی ہوجاتی یا سارا حصہ ہلاک ہوجاتا تو اس کی پروا نہ کرتے اور اگر بتوں کا حصہ ہلاک ہوجاتا یا کمی ہوجاتی تو اس کو اللہ تعالیٰ کے حصہ سے پورا کرلیتے۔ (فقالوا ھذا اللہ بزعمھم) زاء کے پیش کے ساتھ اور باقی حضرات نے زاء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ دو لغتیں ہیں اور اس کا معنی غیر حقیقی بات۔ (وھذا لشر کآئنا) یعنی بتوں کا (فما کان لشرکآفھم فلا یصل الی اللہ وما اکن للہ فھو یصل الی لشرکآتھم ) اور اس کا معنی یہ ہے کہ ہم نے نہیں کہا کہ وہ بتوں کا حصہ اللہ تعالیٰ کے حصہ سے پورا کریں اور اللہ کا حصہ بتوں کے حصہ سے پورا نہ کریں۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ جب قحط آتا تو اللہ تعالیٰ کے حصہ کو کھا جاتے اور جو بتوں کا حصہ ہوتا اس کو نہ کھاتے، شآء مایحکمن۔
Ayah 6:137

وَ كَذٰلِكَ زَیَّنَ لِكَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِیُرْدُوْهُمْ وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْهِمْ دِیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:137 in the Quran reader

اسی طرح بہت سے مشرکوں کو ان کے شریکوں نے ان کے بچّوں کو جان سے مار ڈالنا اچھّا کر دکھایا ہے۔ تاکہ انہیں ہلاکت میں ڈال دیں اور ان کے دین کو ان پر خلط ملط کردیں اور خدا چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور ان کا جھوٹ۔

137 (وکذلک زین لکثیر من المشرکین) جیسا کہ کھیتی اور مویشیوں کی حرمت ان کے لئے مزین کی گئی اسی طرح اکثر مشرکین کے لئے مزین کردیا (قتل اولادھم شرکآئوھم لبردوھم ولیلبسوا علیھم دینھم) مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ شیاطین نے ان کے لئے بیٹیوں کے قتل کو مزید کردیا۔ شیاطین کو شرکاء کہا کیونکہ انہوں نے ان کی اطاعت کی اللہ کی نافرمانی کرنے میں۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے شرکاء ان کے معبودوں کے خادم ہیں جنہوں نے کفار کے لئے اولاد کے قتل کو مزید کر دای تو مشرکین یہ دعا کرتے تھے کہ اگر اتنے بیٹے پیدا ہوئے تو ایک ذبح کر دوں گا جیسا کہ عبدالمطلب نے اپنے بیٹے عبداللہ پر قسم کھائی تھی اور ابن عامر (رح) نے ” زین “ زاء کے پیش اور یاء کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” قتل “ سرفوع ہے۔ ” اولادھم “ منصوب ہے۔” شرکاء ھم “ منصوب کے ساتھ مقدم ہونے کی بناء پر۔ گویا کہ فرمایا ہے کہ بہت سے مشرکین کے لئے ان کے شرکاء کا ان کی اولاد کو قتل کرنا مزین کیا گیا ہے۔ فعل اور فاعل کے درمیان مفعول ہے یعنی الاولاد کے ذریعے فاصلہ کیا گیا ہے۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے : فزججتہ متمکنا زج القلوص ابی مزادہ یعنی زج ابی مزادہ القلوص تو فعل یعنی قتل کو الشرکاء کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔ اگرچہ انہوں نے اس کو نہیں کیا تھا لیکن کیونکہ انہوں نے اس کو مزین کیا ہے اور اس کی طرف بلایا ہے تو گویا کہ انہوں نے خود یہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قول ” لیردوھم “ تاکہ وہ ان کو ہلاک کردیں۔” ولیلبسوا علیھم “ تاکہ وہ ان پر خلط کردیں۔”’ ینھم “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ تاکہ ان پر ان کے دین میں شک کو داخل کردیں یہ اسماعیل (علیہ السلام) کے دین پر تھے شیطان کی تلبیس کی وجہ سے اس سے پھرگئے۔ (ولو شآء اللہ مافعلوہ ) اگر اللہ چاہتے تو ان کو محفوظ کرتے جس کی وجہ سے کھیتی اور مویشی کو حرام نہ کرسکتے اور اولاد کو قتل نہ کرتے (فذرھم وما یفترون)
Ayah 6:138

وَ قَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ١ۖۗ لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:138 in the Quran reader

اور اپنے خیال سے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ چار پائے اور کھیتی منع ہے۔ اسے اس شخص کے سوا جسے ہم چاہیں کوئی نہ کھائے اور (بعض) چار پائے ایسے ہیں کہ ان کی پیٹھ پر چڑھنا منع کردیا گیا ہے۔ اور بعض مویشی ایسے ہیں جن پر (ذبح کرتے وقت) خدا کا نام نہیں لیتے۔ سب خدا پر چھوٹ ہے۔ وہ عنقریب ان کو انکے جھوٹ کا بدلہ دیگا۔

تفسیر 138 (وقالوا ھذہ انعام وحرث حجر) یعنی حرام ہے۔ یعنی جو کھیتی اور مویشی اللہ تعالیٰ اور بتوں کے لئے خاص کی ہے وہ حرام ہے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ مویشیوں سے بحیرۃ ، سائبۃ ، وصیلۃ حام مراد ہیں۔ (لایطعمھآ الا من نشآء بزعمھم) یعنی مرد کھائیں عورتیں نہ کھائیں (وانعام حرمت ظھورھا) یعنی حام کی پیٹھ پر سوار نہ ہوتے تھے (وانعام لا یذکرون اسم اللہ علیھا) یعنی ان کو بتوں کے نام کے ساتھ ذبح کرتے ہیں۔ ابو وائل کہتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ ان پر نہ نج کرتے ہیں اور نہ کوئی نیکی کا کام۔ اس لئے کہ یہی عادت جاری ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نام ہر خیر کے کام پر لیا جاتا ہے تو یہاں اللہ کے ذکر سے فعل خیر مراد لیا ہے۔ (افترآء علیہ سیجزیھم بما کانوا یفترون)
Ayah 6:139

وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَكَآءُ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:139 in the Quran reader

اور یہ بھی کہتے ہیں کہ جو بچّہ ان چارپایوں کے پیٹ میں ہے وہ خاص ہمارے مردوں کے لیے ہے اور ہماری عورتوں کو (اس کا کھانا) حرام ہے۔ اور اگر وہ (بچّہ مرا ہوا ہو تو سب اس میں شریک ہیں۔ (یعنی اسے مرد اور عورتیں سب کھائیں) عنقریب خدا ان کو ان کے ڈھکو سلو کی سزا دیگا۔ بیشک وہ حکمت والا خبردار ہے۔

139 (وقالوا ما فی بطون ھذہ الانعام خالصۃ لذکورنا و محرم علی ازوجنا) ہماری عورتوں پر ابن عباس ؓ قتادہ اور شعبی رحمہہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد بحیرہ اور سائبہ کے بچے ہیں کہ جو بچہ زندہ پیدا ہوتا وہ صرف مردوں کے لئے ہوتا عورتیں نہ کھا سکتیں اور جو مردہ پیدا ہوتا اس کو مرد و عورت سب کھاتے۔ (الخالصۃ) میں ھاء تاکید کے لئے ہے جیسے ” عامۃ، علامۃ ، نشابۃ “ میں اور فراء (رح) فرماتے ہیں کہ یہ تانیث کی ہے اور کسائی (رح) فرماتے ہیں کہ خلاص اور خالصتہ ایک ہیں جیسے وعظ و موعظتہ۔ وان یکن میتۃ ابن عامر اور ابو جعفر رحمہما اللہ نے ” تکن “ تاء کے ساتھ ” میتۃ “ پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔ فعل کو تانیت کی علامت کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ اس لئے کہ ” المیتۃ “ لفظ کے اعتبار سے مئونث ہے اور ابوبکر نے عاصم رحمہما اللہ سے ” تکن “ تاء کے ساتھ اور ” میتۃ “ زبر کے ساتھ پڑھا ہے یعنی اور نہ ہو مگر مردہ بچہ اور ابن کثیر (رح) نے ” وان یکن “ یاء کے ساتھ اور ” میتۃ “ پیش کے ساتھ پڑھا ہے اس لئے کہ ” میتۃ “ سے مراد میت ہے۔ یعنی جو پیٹوں میں ہے اگر وہ مردہ ہو اور دیگر حضرات نے ” وان یکن “ یاء کے ساتھ ” میتۃ “ زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس کو ” ما “ کی طرف لوٹایا ہے یعنی ” وان یکن ما فی البطون میتۃ “ اس پر دلالت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (فھم فیہ شرکآء ) فیھا نہیں کہا اور مراد یہ ہے کہ مرد اور عورتیں اس میں شریک ہوتے ہیں۔ (سیجزیھم وصفھم) یعنی ان کے وصف کے بدلہ میں یا ان کے اللہ پر جھوٹے وصف بیان کرنے پر۔ (انہ حکیم علیم)
Ayah 6:140

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ١ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ۠ Open ayah 6:140 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنی اولاد کو بےوقوفی سے بےسمجھی سے قتل کیا اور خدا پر افترا کرکے اس کی عطا کی ہوئی روزی کو حرام ٹھہرایا ہو گھاٹے میں پڑگئے۔ وہ بےشبہ گمراہ ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں۔

تفسیر 140 (قد خسر الذین قتلوا اولادھم) ابن عامر اور ابن کثیر رحمہما اللہ نے ” قتلوا “ کو تاء کی شد کے ساتھ پڑھا ہے یہ کثرت کا معنی دے اور باقی حضرات نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ (سفھا بغیر علم) یہ آیت قبیلہ ربیعہ، مضر اور بعض دوسرے عرب کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو فقفر اور قید کے خوف سے زندہ دفن کردیتے تھے اور بنو کنانہ ایسا نہ کرتے تھے۔ (وحرموا مارزقھم اللہ) یعنی بحیرۃ ، سائبۃ ، حام، وصیلتہ کو (افترآء علی اللہ) کیونکہ انہوں نے کہا کہ اس کا اللہ نے حکم دیا ہے (قد ضلوا وما کانوا مھتدین) ۔
Ayah 6:141

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّ غَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّ النَّخْلَ وَ الزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ١ۖ٘ وَ لَا تُسْرِفُوْا١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 6:141 in the Quran reader

اور خدا ہی تو ہے جس نے باغ پیدا کیے چھتریوں پر چڑھائے ہوئے بھی اور جو چھتریوں پر نہیں چڑھائے ہوئے وہ بھی اور کھجور اور کھیتی جن کے طرح طرح کے پھل ہوتے ہیں اور زیتون اور انار جو (بعض باتوں میں) ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور (بعض باتوں میں) نہیں ملتے۔ جب یہ چیزیں پھلیں تو ان کے پھل کھاؤ اور جس دن (پھل توڑو اور کھیتی) کاٹو تو خدا کا حق بھی اس میں سے ادا کرو۔ اور بےجا نہ اڑانا۔ کہ خدا بےجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

141 (وھو الذی انشا جنت) معروشت وغیر معروشت) یعنی اٹھے ہوئے اور غیر مرفوع۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ معروشات وہ جو زمین پر پھیل جائیں مثلاً انگور ، تربوز وغیرہ اور غیر معروشات جو تنے پر کھڑے ہوجائیں جیسے کھجور، کھیتی اور تمام درخت اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ دونوں سے انگور مراد ہیں کہ بعض کو سہارا دے کر کھڑا کیا جاتا ہے اور بعض انگوروں کو ایسے چھوڑ دیا جاتا ہے (والنحل والزرع ) اور پیدا کئے اس میں (مختلفاً اکلہ) پھلوں میں مٹھاس و کھٹاس اچھے اور خراب (والزیتون والرمان متشابھا) دیکھنے میں (وغیر متشابہ) ذائقے میں جیسے دو انار دیکھنے میں رنگ ان کا ایک ہو لیکن ذائقہ مختلف ہوگا (کلوا من ثمرہ اذا اثمر واتواحقہ یوم حصادہ) اہل بصرہ ، ابن عامر اور عاصم رحمہما اللہ نے ” حصادہ “ کو حاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے حاء کے کسرہ کے ساتھ اور دونوں کا معنی ایک ہے جیسے صرام اور صرام اور جذار اور جذار کا۔ وآتوحقہ یوم حصادہ کی تفسیر اس حق کی تفسیر میں اختلاف ہے۔ ابن عباس ؓ، طائوس، حسن جابر بن زید اور سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ اس سے فرض زکوۃ یعنی عشر اور عشر کا نصف مراد ہے اور علی بن حسین (رح)، عطار، مجاہد، حماد اور حکم رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ مال میں زکوۃ کے سوا بھی حق ہے جس کے دینے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور زکوۃ مدینہ میں فرض ہوئی ہے۔ ابراہیم (رح) فرماتے ہیں وہ کھاڑو ہے اور ربیع (رح) فرماتے ہیں سنبل کے گرے ہوئے خوشے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں وہ پھل کاٹنے کے وقت ایک خوشہ کو لٹکا دیتے تھے تو اس سے گزرنے والا کھاتا تھا۔ یزید بن اصم (رح) فرماتے ہیں کہ اہل مدینہ جب پھل کاٹتے تو ایک ٹہنی مسجد کی ایک طرف لکٹا دیتے تو مسکین آتا اس کو لاٹھی مارتا جو پھل گرتا اس کو لے لیتا۔ سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ یہ حق ابتداء میں واجب تھا عشر کے وجوب کی وجہ سے منسوخ ہوگیا ہے۔ مقسم نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ زکوۃ کی فرضیت سے قرآن مجید میں موجود تمام نفقات کی فرضیت منسوخ ہوگئی ہے۔ ولا تسرفوا کی تفسیر میں مختلف اقوال (ولا تسرفوا ط انہ لایحب المسرفین) بعض نے کہا ہے کہ اسراف سے سارا مال دینا مراد ہے۔ کلبی (رح) کی روایت میں ابن عباس ؓ کا فرمان ہے کہ ثابت بن قیس ابن شماس ؓ نے پانچ سو کھجوروں کا پھل کاٹا اور ایک ہی دن میں تقسیم کردیا اور گھر والوں کے لئے کچھ نہ چھوڑا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ بےجا خرچ نہ کرو کا مطلب یہ ہے کہ اتنا مال نہ دو کہ خود فقیر بن بیٹھو۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص سارا مال دے اور گھر والوں کے لئے کچھ نہ رکھے تو اس نے اسراف کیا کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ اپنے عیال سے ابتداء کر۔ سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ صدقہ سے نہ رکو اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ بخل اور مال روکنے میں اتنا اسراف نہ کرو کہ واجب صدقات سے بھی رک جائو۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اسراف وہ ہے کہ جس سے اللہ کے حق میں کوتاہی ہوتی ہے۔ اگر ابوقیس پہاڑ سونے کا کسی آدمی کا ہو اور وہ سارا اللہ کے راستے میں خرچ کر دے تو وہ اسراف کرنے والا نہیں اور اگر ایک درہم یا ایک مد اللہ کی نافرمانی میں خرچ کرے تو وہ اسراف کرنے والا ہے۔ ابن وہب نے ابن زید سے روای کیا ہے کہ خطاب بادشاہوں کو ہے ان کو کہا ہے کہ تم اپنے حق سے زیادہ نہ لو۔
Ayah 6:142

وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّ فَرْشًا١ؕ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 6:142 in the Quran reader

اور چارپایوں میں بوجھ اٹھانے والے (یعنی بڑے بڑے) بھی پیدا کیے اور زمین سے لگے ہوئے (یعنی چھوٹے چھوٹے) بھی۔ (پس) خدا کا دیا ہوا رزوق کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو۔ وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔

تفسیر (142) (ومن الانعام حمولۃ و فرشا) یعنی وہ چھوٹے اونٹ جو بوجھ اٹھا سکیں (کلوا مما رزقکم اللہ ولا تتبعوا خطوت الشیطن) یعنی اس کے آثار قدم پر نہ چلو کھیتی اور مویشی حرام کرنے میں۔ (انہ لکم عدومبین) اب ” حمولۃ “ اور فرش کو بیان کر رہے ہیں۔
Ayah 6:143

ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ نَبِّئُوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَۙ Open ayah 6:143 in the Quran reader

(یہ بڑے چھوٹے چارپائے) آٹھ قسم کے (ہیں) دو (دو ) بھیڑوں میں سے اور دو (دو ) بکریوں میں سے (یعنی ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ) (اے پیغمبر ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادینوں کو یا جو بچہ مادینوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اسے ؟ اگر سچے ہو تو مجھے سند سے بتاؤ۔

تفسیر 143 (ثمنیۃ ازواج) اس پر نصب الحمولتہ اور الفرش سے بدل ہونے کی بنا کی وجہ سے ہے۔ یعنی چوپایوں سے آٹھ قسموں کو پیدا کیا (من الضان اثنین) مذکر اور مئونث تو مذکر ایک قسم ہے اور مئونث ایک قسم اور عرب ایک کو زوج کہتے ہیں جب وہ دوسرے سے جدا نہ ہوسکتا ہو۔ ” ضان “ اون والی بھیڑ۔ اس کی مئونث ” ضائنۃ “ اور جمع ” ضوائن “ ہے۔” ومن المعزاثنین “ ابن کثیر اور ابن عامر رحمہما اللہ اور اہل بصرہ نے ” من المعز “ عین کی زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرت ا نے سکون کے ساتھ اور ” المعز “ اور ” المعزی “ جمع ہے اس کے الفاظ سے اس کا کوئی واحد نہیں ہے۔ یہ بالوں والی بکری اور ” الماعز “ کی جمع ” معزی “ ہے اور ” الماعز “ کی جمع ” مواعز “۔ ” قل “ اے محمد !” ء الذکرین حرم “ یعنی بھیڑ اور بکری کے نر کو اللہ نے حرام کیا ہے (ام الانبین ) بھیڑ اور بکری کی مادہ (اما اشتملت علیہ ارحام الانبین) بچہ دان دونوں مادہ کے (کیونکہ رحم تو صرف مذکر یا مونث پر مشتمل ہوتا ہے) بتلائو مجھ کو سند زجاج (رح) فرماتے ہیں جو تم نے حرام کئے ہیں ان کے علم سے تفسیر کرو۔ اگر تم سچے ہو) ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حرام کیا ہے۔
Ayah 6:144

وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 6:144 in the Quran reader

اور دو (دو ) اونٹوں میں سے دو (دو ) گایوں میں سے (ان کے بارے میں بھی ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادینوں کو یا جو بچہ مادینوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اس کو بھلا جس وقت خدا نے تم کو اس کا حکم دیا تھا تم اس وقت موجود تھے ـ؟ تو اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ افترا کرے تاکہ ازراہ بیدانشی لوگوں کو گمراہ کرے ؟ کچھ شک نہیں کہ خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

تفسیر 144 (ومن الابل اثنین ومن البقر اثنین ط قلء الذکر ین حرم ام الانشبین) وہ لوگ کہتے تھے ” ھذہ انعام و حرث و حجر “ اور کہتے تھے جو ان چوپایوں کے پیٹوں میں ہے وہ صرف ہمارے مردوں کے لئے ہماری عورتوں پر حرام ہے اور ان لوگوں نے بحیرہ ، سائبہ، وصیلتہ اور حام کو حرام کیا ہے۔ وہ ان میں سے بعض کو مردوں اور عورتوں پر حرام کرتے تھے اور بعض کو صرف عورتوں پر، جب اسلام آیا وہ لوگ مختلف قسم کے جانور حرام کیا کرتے تھے جب اسلام آیا اور احکام ثابت ہوئے تو وہ نبی کریم ﷺ سے بحث کرنے آئے اور ان کا متکلم مالک بن عوف ابوالاحوض جشمی تھا۔ وہ کہنے لگے کہ اے محمد ! (ﷺ ) ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ آپ ان اشیاء کو حرام قرار دیتے ہیں جن کو ہمارے آباء کیا کرتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم نے کئی قسم کے جانور بغیر بنیاد کے حرام کردیئے ہیں اللہ تعالیٰ نے تو ان آٹھ قسموں کو کھانے اور نفع اٹھانے کے لئے پیدا کیا ہے تو یہ حرمت کہاں سے آئی ؟ نر ہونے کی وجہ سے یا مادہ ہونے کی وجہ سے ؟ تو اس سوال کو سن کر مالک بن عوف حیران رہ گیا اور جواب نہ دے سکا کیونکہ اگر وہ کہتا کہ یہ حرمت نر ہونے کی وجہ سے آئی ہے تو اس کا تقاضا تھا کہ تمام نر حرام ہونے چاہئیں اور اگر مادہ ہونے کی وجہ سے حرمت آئی ہے تو تمام مادہ حرام ہونے چاہئیں کیونکہ رحم سب پر مشتمل ہوتا ہے اور پانچویں یا ساتویں بچہ کو حرام قرار دینا کہاں سے نکالا اور یہ بات مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے مالک ! تو جواب کیوں نہیں دیتا ؟ تو وہ کہنے لگا آپ بات کریں میں سنتا ہوں (ام کنتم شھدآء اذ وصکم اللہ بھذا فمن اظلم ممن افتری علی اللہ کذباً لیضل الناس بغیر علم) بعض نے کہا اس سے عمرو بن لحی اور اس کے بعد والے اس کے پیرو کار مراد ہیں (ان اللہ لا یھدی القوم الظلمین) پھر آگے بیان کیا کہ حرام و حلال تو وحی کے ذریعے پتہ چلتا ہے تو فرمایا۔
Ayah 6:145

قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِیْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّكُوْنَ مَیْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:145 in the Quran reader

کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں میں ان میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا۔ بجز اس کے کہ وہ مرا ہوا جانور ہو یا بہتا لہو یا سور کا گوشت کہ یہ سب ناپاک ہیں یا گناہ کی کوئی چیز ہو کہ اس پر خدا کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہے۔ (اور) اگر کوئی مجبور ہوجائے لیکن نہ تو نافرمانی کرے اور نہ حد سے باہر نکل جائے تو تمہارا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے۔

-145 (قل لا اجد فی مآ اوحی الی محرماً ) مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ پھر کون سی چیز حرام ہے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (علی طاعم یطعمہ) جو وہ کھاتا اور کھلاتا ہے۔ (الا ان یکون میتۃ) (او دما مسفوحاً )” میتۃ “ ابن عامر اور ابو جعفر رحمہما اللہ نے یکون یاء کے ساتھ ” میتۃ “ پیش کے ساتھ پڑھا ہے یعنی مگر یہ کہ وہ مردہ واقع ہو اور ابن کثیر اور حمزہ رحمہما اللہ نے ” تکون “ یاء کے ساتھ ” میتۃ “ زبر کے ساتھ اسم مئونث کی تقدیر پر ہے۔ یعنی مگر یہ کہ ہو نفس یعنی وہ جسم مردار اور باقی حضرات نے یاء کے ساتھ ” میتۃ “ زبر کے ساتھ۔ یعنی مگر یہ کہ وہ کھانا مردار ہو۔ ”’ ما مسفوحا “ یعنی بہایا ہوا بہنے والا یا بہتا ہوا خون) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جو خون زندہ جانور سے اور جو رگوں سے ذبح کے وقت نکلے اس میں جگر اور تلی داخل نہیں کیونکہ جما ہوا خون ہیں اور شرع میں مباح ہیں اور جو خون گوشت کے ساتھ ملا وہا ہو وہ بھی حرام نہیں کیونکہ وہ بہتا نہیں۔ عمران بن جریر کہتے ہیں کہ میں نے ابو حجاز سے اس خون کے بارے میں سوال کیا جو گوشت کے ساتھ ملا ہوا اور اتنی مقدار جو اس میں خون کی سرخی دیکھی جاتی ہے تو انہوں نے کہ ا کہ یہ حلال ہے آیت میں بہنے والا خون حرام کیا گیا ہے اور ابراہیم (رح) فرماتے ہیں رگ یا گودہ میں خون ہو تو کوئی حرج نہیں ہے مگر بہنے والا خون اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں اگر یہ آیت نہ ہوتی تو مسلمان رگوں میں یہود کی اتباع کرتے۔ (اولحم خنزیر فانہ رجس او فسقاً اھل لغیر اللہ بہ) وہ جانور جو اللہ کے نام کے علاوہ پر ذبح کیا جائے۔ بعض اہل علم اس طرف گئے ہیں کہ حرمت انہی اشیاء پر بند ہے یہی بات حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور ابن عباس ؓ سے مروی ہے اور یہ حضرات کہتے ہیں کہ اس میں مردار، مخنقہ، موقوذۃ اور وہ چیزیں جو سورة مائدہ کے ابتداء میں ذکر کی گئیں یہ سب داخل ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ حرام نہیں اور اکثر علماء فرماتے ہیں کہ حرمت ان اشیاء کے ساتھ خاص نہیں بلکہ مطلب آیت کا یہ ہے کہ کتاب کی نص سے جو چیزیں حرام کی گئی ہیں ان میں سے بعض اس آیت میں ذکر کی گئی ہیں اور بعض کی حرمت سنت سے ثابت ہوئی ہے جس پر ایمان لانا ضروری ہے۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر کچلی والے درندے کے کھانے سے منع کیا اور ہر پنجے سے شکار کرنے والے پرندے کے کھانے سے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ درندوں میں سے ہر کچلی والا حرام ہے۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک حرمت کا ضابطہ یہ ہے کہ جس چیز کی حرمت یا حلت کے بارے میں کوئی صراحت وارد نہیں ہوئی تو اگر شریعت نے اس کے قتل کا حکم دیا جیسے آپ (علیہ السلام) نے فرمایا، پانچ چیزوں کو حرم اور حل میں قتل کیا جائے یا شریعت نے اس کے قتل سے منع کیا ہے۔ جیسا کہ آپ (علیہ السلام) نے چیونٹی کے قتل سے منع کیا ہے تو ایسی چیزیں حرام ہیں اور جو اس کے علاوہ ہیں تو اکثر عرب کی عادت کو دیکھا جائے گا کہ اکثر عرب اس کو کھاتے ہیں تو حلال ہے اور جس کو اکثر عرب نہیں کھاتے تو وہ حرام ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قول ” قل احل لکم الطیبات “ سے عرب کو مخاطب کیا ہے تو ثابت ہوگیا کہ جس کو عرب پسند کریں گے وہ حلال ہے۔ (فمن اضطر غیر باغ ولا عاد فان ربک غفور رحیم) اللہ تعالیٰ نے ان حرام کردہ چیزوں کو اضطرار کے وقت مباح قرار دیا ہے جبکہ حد سے تجاوز نہ کریں۔
Ayah 6:146

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ١ۚ وَ مِنَ الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ شُحُوْمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَاۤ اَوِ الْحَوَایَاۤ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِبَغْیِهِمْ١ۖ٘ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 6:146 in the Quran reader

اور یہودیوں پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کردیے تھے اور گایوں اور بکریوں سے ان کے چربی حرام کو دی تھی سوا اس کے جو ان کی پیٹھ پر لگی ہو یا اوجھڑی ہو یا ہڈی میں ملی ہو۔ یہ سزا ہم نے ان کو ان کی شرارت کے سبب دی تھی اور ہم سچ کہنے والے ہیں۔

تفسیر 146 (وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر) مویشی اور پرندوں میں سے جس کی انگلیوں میں خلاء نہ ہو جیسے اونٹ، شتر مرغ، بطخ وغیرہ۔ قتیبی (رح) فرماتے ہیں ہر پنجہ والا پرندہ اور کھر والا مویشی اور اس کو بعض مفسرین رحمہما اللہ سے نقل کیا ہے کھر کو ناخن کا نام دیا ہے استعارہ کی بناء پر۔ (ومن البقر والغنم حرمنا علیھم شحومھمآ اور گائے اور بکری میں سے حرام کی تھی ان کی چربی) یعنی پیٹ کی چربی اور وہ پروں کی چربی اور دونوں گردوں کی چربی ہے۔ (الا ماحملت ظھورھمآ) مگر وہ چربی جو پیٹ کے اندر پشت اور پہلو سے معلق ہو۔ (اوالحواباً ) اس کا واحد ” حاویۃ “ اور ” حویۃ “ ہے یعنی سمٹی ہوئی آنتوں پر جو چربی ہے۔ پر (اوما اختلط بعظم) یعنی چکی کی چربی یہ ساری اشتناء میں داخل ہیں اور حرمت خاص ہے پیٹ اور گردوں کی چربی کے ساتھ۔ جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فتح کے دن کہ اللہ کے اور اس کے رسول ﷺ نے حرام کیا ہے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی بیع کو تو صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! (ﷺ ) مردار کی چربی کے بارے میں آپ (علیہ السلام) کا کیا حکم ہے ؟ کیونکہ اس سے کشتیوں کو لگایا جاتا ہے اور لوگ اس سے روشنی حاصل کرتے ہیں اور چمڑوں کو تیل لگایا جاتا ہے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ نہیں یہ حرام ہے۔ پھر آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ یہود کو ہلاک کرے کہ اللہ تعالیٰ نے جب چربی کو حرام کیا تو وہ اس کو پگھلا کر بیچ دیتے اور اس کی قیمت کھالیتے (ذلک جزینھم) یہ حرمت ان کے لئے سزا کے طو رپر (ببغبھم) یعنی ان کے ظلم کی وجہ سے کہ انہوں نے انبیاء (علیہم السلام) کو قتل کیا اور اللہ کے راستے سے روکا، سود کھایا اور باطل طریقے سے لوگوں کے مال کو حلال سمجھا۔ (وانا لصدقون) جو ہم نے ان پر حرام کیا اس کی خبر دیتے ہیں۔
Ayah 6:147

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ١ۚ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 6:147 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ تمہاری تکذیب کریں تو کہہ دو تمہارا پروردگار صاحب رحمت وسیع ہے۔ مگر اس کا عذاب گنہگار لوگوں سے نہیں ٹلے گا۔

تفسیر 147 (فان کذبوک فقل ربکم ذو رحمۃ واسعۃ) کہ تم سے عذاب کو مئوخر کردیا (ولا یرد باسہ) جب اس کا (عن القوم المجرمین) وقت آجائے گا۔