6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 6:41

بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:41 in the Quran reader

(نہیں) بلکہ (مصیبت کے وقت تم) اسی کو پکارتے ہو تو جس دکھ کے لئے اسے پکارتے ہو وہ اگر چاہتا ہے تو اس کو دور کردیتا ہے اور جن کو تم شریک بناتے ہو (اس وقت) انھیں بھول جاتے ہو

-41 پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (بل ایاہ تدعون) یعنی صرف اللہ کو پکارتے ہو اس کے غیر کو نہیں پکارتے (فیکشف ما تدعون الیہ ان شآئ) یہاں قبولیت دعا کے لئے اپنے چاہنے کی قید لگائی ہے اسی طرح تمام کام اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہوتے ہیں (وتنسون) چھوڑ دیتے ہو (ماتشرکون)
Ayah 6:42

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 6:42 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے (پھر انکی طرف نافرمانیوں کے سبب) ہم انھیں سختیوں اور تکلیفوں میں پکڑتے رہے تاکہ عاجزی کریں۔

-42 (ولقد ارسلنا الی امم من قبلک فاخذنھم بالباسآء ) سختی اور بھوک میں (والضرآء ) بیماریوں میں (لعلھم ینضرعون) یعنی توبہ کریں اور عاجزی کریں۔ ” تضرع “ کا معنی ذلت کے ساتھ سوال کرنا۔
Ayah 6:43

فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:43 in the Quran reader

تو جب ان پر ہمارا عذاب آتا رہا کیوں نہیں عاجزی کرتے رہے۔ مگر ان کے تو دل ہی سخت ہوگئے تھے۔ اور جو کام وہ کرتے تھے شیطان ان کو (اُنکی نظروں میں) آراستہ کر دکھاتا تھا۔

-43 (فلو لا اذ جآء ھم باسنا تضرعوا) یعنی کیوں نہیں ایمان لائے کہ ان سے عذاب دور کیا جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں خبر دی ہے کہ ایک قوم جو انتہائی سخت دل ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی جان اور مال میں سختی کی لیکن وہ نہ جھکے اور نہ گڑ گڑائے۔ پس یہی ہے اللہ کا فرمان (ولکن فست قلوبھم وزین لھم الشیطن ماکانوا یعملون) یعنی ان کا کفر اور گناہ۔
Ayah 6:44

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ Open ayah 6:44 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو انکو کی گئی تھی فراموش کردیا تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھولدیے۔ یہاں تک کہ جب ان چیزوں سے جو ان کو دی گئی تھیں خوب خوش ہوگئے تو ہم نے انکو ناگہاں پکڑ لیا۔ اور وہ اس وقت مایوس ہو کر رہ گئے۔

تفسیر (44) (فلما نسوا ما ذکروا بہ) یعنی جو ان کو نصیحت کی گئی تھی اور جو احکام دیئے گئے تھے ان کو چھوڑ دیا ۔ (فتحنا علیھم ابواب کل شیء ) ابوجعفر نے ” فتحنا “ کو شد کے ساتھ تمام قرآن میں پڑھا ہے اور ابن عامر نے بھی اسی طرح پڑھا ہے جب اس کے بعد جمع ہو اور باقی حضرات نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اس صورت میں اس کا ترجمہ استدراج اور مکر کے ہوں گے مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے آزمائش اور سختی کے بدلے نرمی اور صحت کو دیا (حتی اذا فرحوا بما اوتوا) یہ اکڑنے کی خوشی تھی جیسے قارون دنیا کے ملنے پر خوش ہوا تھا۔ (اخذنھم بغتۃ) ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا اور وہ ایمان لائے جس پر وہ تھے اور جو کچھ دنیا میں ان کو دیا گیا تھا اس پر متعجب ہونے لگے …(فاذا ھم مبلسون) ہر خیر سے ناامید ہوگئے۔ ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں کہ مبلس شرمندہ غمگین کو کہتے ہیں۔ عقبہ بن عامر ؓ نے روایت کیا ہے کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تو دیکھے کہ اللہ تعالیٰ بندہ کو اس کی پسندیدہ چیزیں دے رہا ہے اور وہ بندہ گناہوں پر ڈٹا ہوا ہے تو یہ استدراج ہے پھر آپ (علیہ السلام) نے یہ آیت تلاوت فرمائی ” فلما نسوا ما ذکروا بہ آلایۃ)
Ayah 6:45

فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ؕ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 6:45 in the Quran reader

غرض ظالم لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی۔ اور سب تعریف خدائے رب العالمین ہی کو (سزاوار ہے)

-45 (فقطع دابر القوم الذین ظلموا) مطلب یہ ہے کہ وہ عذاب کے ساتھ جڑ سے اکھاڑ دیئے گئے تو ان میں سے کوئی باقی نہ رہا۔ (والحمد للہ رب العلمین) اللہ تعالیٰ نے ان کی جڑ کاٹنے پر اپنی تعریف کی ہے کیونکہ یہ اللہ کے رسولوں پر نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر حمد ذکر کر کے مئومنین کو تعلیم دی کہ وہ اللہ کی اس بات پر تعریف کریں کہ وہ ان کو ظالموں سے کافی ہوگیا اور محمد اور آپ کے ساتھی بھی اپنے رب کی حمد کریں جب وہ مکذبین کو ہلاک کر دے۔
Ayah 6:46

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَ خَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِهٖ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ هُمْ یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:46 in the Quran reader

(ان کافروں سے) کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر خدا تمہارے کان اور آنکھوں چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے تو خدا کے سوا کونسا معبود ہے جو تمہیں یہ نعمتیں پھر بخشے ؟ دیکھو ہم کس کس طرح اپنی آیتیں بیان کرتے ہیں پھر بھی یہ لوگ روگردنی کرتے ہیں۔

-46 (قل ارئیتم) اے مشرکو ! (ان اخذ اللہ سمعکم) حتی کہ تم کچھ بھی نہ سن سکو (وابصارکم) حتی کہ بالکل کوئی چیز نہ دیکھ سکو (وختم علی قلوبکم) حتی کہ تم کچھ بھی نہ سمجھ سکو اور دنیا کی جن چیزوں میں مہارت ہے ان کو بھی نہ پہچان سکو (من الہ غیر اللہ باتیکم بہ) سوال۔ یاتیکم بہ فرمایا بہ میں ہ ضمیر مفرد ہے جبکہ ماقبل میں کان ، آنکھ، عقل، تین اشیاء کا ذکر ہے۔ ضمیر اور مرجع میں مطابقت نہیں۔ جواب۔ یہ المذکور کی تاویل میں ہے کہ ان میں سے ایک چیز بھی چلی جائے تو وہ بھی کوئی نہیں لاسکتا۔ جواب۔ ہ ضمیر کا مرجع سمع کی طرف راجع ہے جو اولاً ذکر کیا ہے باقی اس کے تحت شامل ہیں جیسا کہ اس آیت میں ہے (واللہ و رسولہ احق ان یرضوہ) یہاں پر ضمیر ہ واحد ہے جبکہ ماقبل مرجع اللہ اور رسول دو ہیں لیکن یہاں پر ہ کا مرجع اللہ تعالیٰ ہیں اور اللہ کی رضا میں رسول کی رضا کو شامل کیا گیا (انظر کیف نصرف الایت ثم ھم یصدقون) ہم نبوۃ (توحید) دلیل کے لئے کیا کیا علامات بیان کرتے ہیں۔ تکذیب کرنے والے اس سے اعراض کرتے ہیں۔
Ayah 6:47

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:47 in the Quran reader

کہو کہ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر خدا کا عذاب بیخبر ی میں یا خبر آنے کے بعد آئے تو کیا ظالم لوگوں کے سواء کوئی اور بھی ہلاک ہوگا ؟

تفسیر (47) قل ارء یتکم ان اتکم عذاب اللہ بغتۃ اوجھرۃ) کہ تم اس کو اترتے ہوئے دیکھ رہے ہو۔ اب عباس ؓ اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ رات اور دن کو آئے ۔ (ھل یھلک الا القوم الظلمون) ظالم سے مراد مشرک ہیں۔
Ayah 6:48

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 6:48 in the Quran reader

اور ہم جو پیغمبروں کو بھیجتے رہے ہیں تو خوش خبری سنانے اور ڈرانے کو۔ پھر جو شخص ایمان لائے اور نیکوکار ہوجائے تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ اندوہناک ہوں گے۔

-48 (وما نرسل المرسلین الامبشرین و منذرین فمن امن واصلح) عمل فلاخوف جس وقت جہنم والے ڈر رہے ہوں گے (علیم ولا ھم یخزنون) جب وہ جہنم والے غمگین ہوں گے۔
Ayah 6:49

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 6:49 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کی نافرمانیوں کے سبب انھیں عذاب ہوگا۔

-49 (والذین کذبوا بایتنا بمسنھم العذاب) کس سے مراد پہنچنا ۔ بما کانوا یفسقون یعنی کفر کرتے تھے۔
Ayah 6:50

قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّیْ مَلَكٌ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ؕ اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 6:50 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں اور نہ (یہ کہ) میں غیب جانتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں میں تو صرف اس حکم پر چلتا ہوں جو مجھے (خدا کی طرف سے) آتا ہے کہہ دو کہ بھلا اندھا اور آنکھ والا برابر ہوتے ہیں ؟ تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے ؟

-50 (قل لا اقول لکم عندی خزآئن اللہ) جب مشرکین نے نشانیوں کے مطالبات کئے تو یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ (علیہ السلام) ان کو کہہ دیں کہ (قل لا اقول لکم عندی خزآئن اللہ) یعنی اس کے رزق کے خزانے کہ جو تم مانگو تمہیں دیدوں۔ (ولا اعلم الغیب) کہ تمہیں پچھلی اگلی سب باتوں کی خبر دے دوں (ولا اقول لکم انی ملک) یہ اس وجہ سے کہا کہ فرشتہ ان باتوں پر قادر ہوتا ہے جن پر انسان قادر نہیں ہوتا اور وہ کچھ دیکھ لیتا ہے جو انسان نہیں دیکھ سکتا۔ مراد یہ ہے کہ ان باتوں میں سے کوئی بات میں نے نہیں کی کہ جس کی وجہ سے تم میری بات کا انکار کرو (ان اتبع الا ما یوحی الی) یعنی جو تمہارے پاس میں لاتا ہوں وہ اللہ کے حکم سے ہے اور یہ بات عقلاً محال بھی نہیں ہے کیونکہ اس پر واضح دلائل موجود ہیں۔ (قل ھل یستوی الاعمی والبصیر) قتادہ (رح) فرماتے ہیں کافر اور مئومن اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں گمراہ اور ہدایت یافتہ اور کہا گیا ہے جاہل اور عالم (افلا تتفکرون) یعنی یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔
Ayah 6:51

وَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:51 in the Quran reader

اور جو لوگ خوف رکھتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر کئے جائیں گے (اور جانتے ہیں کہ) اس کے سوا نہ تو ان کا کوئی دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا۔ ان کو اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کرو تاکہ پرہیزگار بنیں۔

-51 (وانذربہ) آپ قرآن کے ذریعے سے ان کو ڈرائیں (الذین یخافون ان یخشرئوا) ان کو جمع کرے گا اور پھر اٹھائے گا (الی ربھم) بعض نے کہا یخافون سے مراد یعلمون ان کو خوف اپنے اعمال کی وجہ سے تھا اور وہ اس خوف کو جاننے بھی تھے۔ (لیس لھم من دوبہ) اللہ کے سوا کوئی نہیں (ولی) کوئی قریبی جوان کو نفع پہنچائے ولا شفیع اور نہ کوئی شفیع (لعلھم یتقون) ان چیزوں سے جن سے منع کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے سوا سب کی سفارش کی نفی کردی ہے حالانکہ انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء سفارش کریں کیونکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش نہ کرسکیں گے۔
Ayah 6:52

وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ١ؕ مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:52 in the Quran reader

اور جو لوگ صبح وشام اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں (اور) اسکی ذات کے طالب ہیں انکو (اپنے پاس سے) مت نکالو۔ ان کے حساب (اعمال) کی جوابدہی تم پر کچھ نہیں اور تمہارے حساب کی جواب دہی ان پر کچھ نہیں (پس ایسا نہ کرنا) اگر انکو نکالو گے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے۔

تفسیر (52) (ولا تطرد الذین یدعون ربھم بالغدوۃ والعشی) ابن عامر نے (بالغداۃ) غین کے پیش اور دال کے سکون اور اس کے بعد وائو کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہاں بھی اور سورة الکہف میں بھی اور دیگر حضرات نے غین اور دال کے زبر اور دال کے بعد الف کے ساتھ پڑھا ہے۔ لاتطرد الذین سے کون لوگ مراد ہیں : سلمان اور خباب بن ارت ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اقرع بن حالبس تیمی اور عینیہ بن حصن فزاری اور ان کے قبیلہ کے مئولفہ قلوب آئے اور نبی کریم ﷺ حضرت بلال، صہیب اور عمار و خباب ؓ کے ساتھ بیٹھے جو کہ غریب مئومنین میں سے تھے۔ جب ان لوگوں نے حضور ﷺ کے اردگرد ان کو دیکھا تو ان کو حقیر سمجھا اور کہنے لگے اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) اگر آپ کسی اونچی جگہ بیٹھتے اور ہم سے ان لوگوں اور ان کے جبوں کی بدبو کو دور کردیتے تو ہم آپ کے ساتھ بیٹھتے اور آپ سے دین حاصل کرتے۔ ان حضرات نے اون کے جبے پہنے ہوئے تھے جس سے پسینے کی بدبو آرہی تھی۔ ان کے پاس اس کے سوا کوئی کپڑا نہ تھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں مئومنین کو دور کرنے والا نہیں ہوں۔ تو وہ کہنے لگے کہ ہم یہ پسند کرتے ہیں کہ آپ ہمارے لئے الگ نشست گاہ بنائیں تاکہ عرب ہمارے مرتبہ کو پہچان لیں کیونکہ آپ کے پاس وفد آتے رہتے ہیں اور ہمیں حیاء آتی ہے کہ ہمیں عرب ان غلاموں کے ساتھ بیٹھا دیکھیں۔ جب ہم آپ کے پاس آئیں تو آپ (علیہ السلام) ان کو اپنے پاس سے کھڑا کردیا کریں۔ جب ہم فارغ ہو لیں تو اگر آپ چاہیں تو ان کے ساتھ بیٹھ جائیں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ٹھیک ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ (علیہ السلام) اس بات پر ایک تحریر ہم کو لکھ دیں، آپ (علیہ السلام) نے حضرت علی ؓ کو لکھنے کے لئے بلایا اور یہ ضعفاء مئومنین بھی ایک طرف بیٹھے تھے کہ اچانک جبرئیل (علیہ السلام) یہ آیت لے کر اترے تو نبی کریم ﷺ نے وہ تحریک پھینک دی اور ہمیں بلایا اور آپ (علیہ السلام) یہ فرما رہے تھے (سلام علیکم کتب ربکم علی نفسہ الرحمۃ) تو ہم حضور ﷺ کے ساتھ بیٹھتے تھے پھر جب آپ (علیہ السلام) کا قیام کا ارادہ ہوتا تو ہمیں چھوڑ کر کھڑے ہوجاتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (واصبر نفسک مع الذین یدعون ربھم بالغدواۃ والعشی یریدون وجھہ) آپ (علیہ السلام) اپنے آپ کو روکے رکھے ان لوگوں کے ساتھ جو اپنے رب کو صبح و شام پکارتے ہیں اس کی رضا کو چاہتے ہیں) تو اس کے بعد نبی کریم ﷺ ہمارے ساتھ بیٹھتے اور ہم آپ کے اتنے قریب ہوجاتے کہ ہمارے گھٹنے آپ (علیہ السلام) کے گھٹنے کو چھو جاتے۔ پھر جب نبی کریم ﷺ کے جانے کا وقت ہوتا تو ہم آپ (علیہ السلام) کو چھوڑ کر کھڑے ہوجاتے تو آپ (علیہ السلام) بھی مجلس سے کھڑے ہوجاتے اور فرماتے تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے تب تک موت نہیں دی جب تک یہ حکم نہ دے دیا کہ میں اپنی امت کی ایک جماعت کے ساتھ اپنے آپ کو روکے رکھوں تمہارے ساتھ زندگی ہے اور تمہارے ساتھ موت ہے۔ کلبی (رح) کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا تھا کہ ایک دن ہماری ملاقات کا مقرر کردیں، ایک دن ان کی ملاقات کا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں ایسا نہ کروں گا تو انہوں نے کہا کہ ایک ہی مجلس میں آپ ﷺ ہماری طرف متوجہ رہیں اور ان کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھیں تو یہ آیت نازل ہوئی۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ قریش نے کہا اگر بلال اور ابن ام عبدؓ نہ ہوتے تو ہم محمد ﷺ کی بیعت کرلیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ” غداۃ “ اور ” عشی “ سے صبح اور عصر کی نماز مراد ہے ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ پانچوں نمازیں مراد ہیں۔ کیونکہ کچھ غریب مسلمان رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اس پر کچھ بڑے لوگوں نے کہا کہ جب ہم نماز میں شریک ہوں تو ان لوگوں کو آپ پیچھے کردیا کریں یہ ہمارے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھیں۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ ابراہیم نخعی (رح) فرماتے ہیں کہ وہ اپنے رب کا ذکر کرتے ہیں اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد حقیقت دعا ہے۔ یریدون وجھہ یعنی اپنی عبادت کے بدلے صرف اللہ کو چاہتے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کے ثواب کے طالب ہیں۔ (ما علیک بن حسابھم من شیء وما من حسابکم علیھم من شیئ) وہ نہ آپ (علیہ السلام) کے معاملے کے مکلف ہیں اور نہ آپ (علیہ السلام) ان کے معاملہ کے اور بعض نے کہا کہ ان کا رزق آپ ﷺ کے ذمہ نہیں کہ ان سے اکتا جائیں۔ کہ آپ (علیہ السلام) کو دور کرنے لگیں کہ آپ کا رزق ان کے ذمہ ہے (فتطردھم) جواب ہے باری تعالیٰ کا قول ہے (ماعلیک من حسابھم من شیئ) پس ہوجائیں گے آپ بےانصافوں میں) کا اور باری تعالیٰ کا قول فتکون من الظالمین جو اب ہے باری تعالیٰ کے قول ولا تطرد کا ان میں سے ایک نفی کا جواب ہے اور دوسرا نہی کا ۔
Ayah 6:53

وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَا١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:53 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے بعض لوگوں کی بعض سے آزمائش کی ہے کہ (جو دولت مند ہیں وہ غریبوں کی نسبت) کہتے ہیں ' کیا یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے ہم سے فضل کیا ہے (خدا نے فرمایا) بھلا خدا شکر کرنیوالوں سے واقف نہیں ؟

تفسیر (53) (وکذلک فتنا بعضھم ببعض) مراد یہ ہے کہ مالداروں کو فقراء کے ذریعے اور شریفوں کو کمینوں کے ذریعے آزمایا ہے اور یہ آزمائش اس طرح ہے کہ اگر کوئی شریف کسی کمینے کو ایمان میں سبقت کرتے ہوئے دیکھ لے تو اس وجہ سے وہ اسلام لانے سے رک جاتا ہے۔ یہ اس کی آزمائش ہے۔ (لیقولوا اھولاء من اللہ علیھم من بیننا) تو اللہ تعالیٰ نے جواب دیا (الیس اللہ باعلم بالشکرین) یہ استفہام ہے لیکن معنی میں خبر ہے۔ یعنی اللہ خوب جانتے ہیں کہ کس کو اسلام کی ہدایت دیں تو وہ شکر کرے گا۔ جنت میں داخلے کے وقت مالدار لوگوں سے سبقت کرنے والے کون لوگ ہیں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ میں غریب مہاجرین کی ایک جماعت میں بیٹھا ہوا تھا اور ان میں سے بعض دوسروں کی آڑ لے کر اپنے جسم کو چھپا رہے تھے اور ایک قاری ہم کو تلاوت سنا رہے تھے کہ اچانک نبی کریم ﷺ لائے اور ہم پر کھڑے ہوگئے تو قاری خاموش ہوگیا تو آپ (علیہ السلام) نے سلام کیا اور پوچھا کیا کر رہے ہو ؟ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) ایک قاری ہم پر قرآن پڑھ رہے تھے اور ہم اللہ کی کتاب کو توجہ سے سن رہے تھے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے میری امت میں سے وہ لوگ بنائے جن کے بارے میں آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے میری امت میں سے وہ لوگ بنائے جن کے بارے میں مجھے حکم دیا کہ میں ان کے ساتھ اپنے آپ کو روکوں۔ پھر آپ (علیہ السلام) ہمارے درمیان میں بیٹھ گئے اور اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ فرمایا تاکہ سب ایک حلقہ بنالیں اور سب کے چہرے آپ (علیہ السلام) کے سامنے واضح ہوجائیں تو میں نے دیکھا کہ میرے سوا اس مجلس میں نبی کریم ﷺ کو نہ پہچانتے تھے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا قیامت کے دن مکمل نور کے ساتھ خوش ہو جائو تم لوگ جنت میں مالدار لوگوں سے آدھا دن پہلے داخل ہو گے اور یہ آدھا دن پانچ سو سال کی مقدار ہوگا۔
Ayah 6:54

وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:54 in the Quran reader

اور جب تمہارے پاس ایسے لوگ آیا کریں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ( ان سے) سلام علیکم کہا کرو۔ خدا نے اپنی ذات (پاک) پر رحمت کو لازم کرلیا ہے کہ جو کوئی تم میں سے نادانی سے کوئی بری حرکت کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور نیکوکار ہوجائے تو وہ بخشنے والا مہربان ہے

واذا جاء ک الذین یئومنون سے کون لوگ مراد ہیں (54) (واذا جآء ک الذین یئومنون بایتنا فقل سلم علیکم) عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جن کو دور کرنے سے نبی کریم ﷺ کو روکا گیا تھا اور نبی کریم ﷺ جب ان کو دیکھتے تھے تو سلام میں پہل کرتے تھے اور عطاء فرماتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابوبکر، عمر، عثمان، علی، بلال، سالم ، ابو عبیدہ، مصعب بن عمیر، حمزہ، جعفر، عثمان بن مظعون، عماربن یاسر، ارقم بن ابی ارقم، ابوسلمہ بن عبدالاسد رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ (کتب ربکم علی نفسہ الرحمۃ انہ من عمل منکم سوء ام بجھالۃ) مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ حلال اور حرام کو نہ جانتا ہو اور اس ناواقفیت سے گناہ کر بیٹھا ہو اور بعض نے کہا کہ اس گناہ کے نقصان سے ناواقف ہو اور عض نے کہا کہ وہ جاہل یوں ہے کہ گناہ کو عبادت پر ترجیح دی اور جلدی کی تھوڑی چیز کی وجہ سے بعد میں آنے والی کثیر چیز کو چھوڑ دیا۔ (ثم تاب من بعدہ) اپنے گناہ سے رجوع کرلے (واصلح) اور اپنے عمل کو نیک کرلے بعض نے کہا کہ خلاص توبہ کرے۔ (فانہ غفور رحیم) ابن عامر، عاصم اور یعقوب رحمہما اللہ نے ” انہ من عمل فانہ غفور “ میں دونوں جگہ الف پر زبر پڑھی ہے اور اس کو رحمتہ سے بدل بنایا ہے۔ یعنی لکھ دیا ہے اللہ نے اپنے اوپر کہ جو کوئی کرے تم میں سے الخ۔ پھر دوسرے کو پہلے سے بدل بنایا ہے اور اہل مدینہ نے پہلے کو فتحہ دیا ہے اور دوسرے کو زیر دے کر نیا جملہ بنایا ہے اور دیگر حضرات نے دونوں پر زیر پڑھی ہے اور نیا جملہ بنایا ہے۔
Ayah 6:55

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 6:55 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں (تاکہ تم لوگ ان پر عمل کرو) اور اس لئے کہ گناہ گاروں کا راستہ ظاہر ہوجائے

تفسیر (55) (وکذلک نفصل الایت) یعنی جس طرح اس صورت میں ہم نے اپنے دلائل واضح کئے مشرکین پر اسی طرح ہم آیتوں کو بیان کریں گے یعنی ہر اس حق بات میں آپ کے لئے دلائل بیان کریں گے جس کا باطل لوگ انکار کریں گے (ولتسئین سبیل المجرمین) یعنی مجرموں کا طریقہ ۔ اہل مدینہ نے ” لتمستبین “ کو تاء کے ساتھ اور سبیل المجرمین کو زبر کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہ نبی کریم ﷺ کو خطاب ہے۔ یعنی تاکہ ہم پہچان لیں اے محمد ! (ﷺ) مجرموں کا راستہ اور حمزہ، کسائی اور ابوبکر رحمہما اللہ نے ” لیستبین “ کو یاء کے ساتھ اور سبیل کو پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے لتستبین کو تاء کے ساتھ اور سبیل کو پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی واضح ہوجائے راستہ اور سبیل کا لفظ مذکر اور مئونث دونوں طرح قرآن مجید میں استعمال کیا گیا ہے مذکر کی مثال اللہ تعالیٰ کا فرمان ” وان یروا سبیل الرشد لایتخذوہ سبیلا “ اور مئونث کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ” لم تصدون عن سبیل اللہ من امن بہ وتبغونھا عوجاً “
Ayah 6:56

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَهْوَآءَكُمْ١ۙ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:56 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ کفار سے) کہہ دو کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو مجھے ان کی عبادت سے منع کیا گیا ہے۔ (یہ بھی) کہہ دو کہ میں تمہاری خواہشوں کی پیروی نہیں کروں گا ایسا کرو تو گمراہ ہوجاؤں اور ہدایت یافتہ لوگوں میں سے نہ رہوں۔

(56) (قل ابی نھبت ان اعبد الذین تدعون من دون اللہ قل لا اتبع اھوآء کم) بتوں کی عبادت کرنے اور فقراء کو دھتکارنے میں (قد ضللت اذا ئوما انا من المھتدین) یعنی اگر میں نے ایسا کیا تو میں نے حق راستہ کو چھوڑ دیا اور غلط راستہ پر چل پڑا۔
Ayah 6:57

قُلْ اِنِّیْ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ كَذَّبْتُمْ بِهٖ١ؕ مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ یَقُصُّ الْحَقَّ وَ هُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ Open ayah 6:57 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تو اپنے پروردگار کی دلیل روشن پر ہوں اور تم اس کی تکذیب کرتے ہو۔ جس چیز (یعنی عذاب) کیلئے تم جلدی کر رہے ہو وہ میرے پاس نہیں ہے (ایسا) حکم اللہ ہی کے اختیار میں ہے وہ سچی بات بیان فرماتا ہے وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

(57) (قل انی علیہ بینۃ) بیان، بصیرت اور برہان پر۔ من ربی وکذبتم بہ جس کو میں لایا۔ (ماعندی ما تستعجلون بہ) بعض نے کہا کہ وہ عذاب کو جلدی طلب کرتے تھے جیسا کہ قرآن مجید میں ان کا قول مذکور ہے (ان کان ھذا ھوا الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ اگر یہ حق ہے تیری طرف سے تو برساہم پر پتھر) اور بعض نے کہا اس سے قیامت مراد ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (قیامت کو جلدی چاہتے ہیں وہ لوگ جو اس پر ایمان نہیں لاتے)…(ان الحکم الا للہ ط یقص) دیگر حضرات نے ” یقضی “ پڑھا ہے قاف کے سکون اور ضاد کے کسرہ کے ساتھ۔ قضیت سے ہے یعنی حق کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ باری تعالیٰ نے فرمایا (وھو خیر الفصلین) اور فصل قضاء میں ہوتا ہے اور یاء کو حذف کیا الف اور لام کے ثقیل ہونے کی وجہ سے جیسے باری تعالیٰ کا قول (صال الجحیم) ہے اور بالحق نہیں کہا اس لئے حق مصدر کی صفت ہے گویا کہ فرمایا بقضی القضاء الحق۔
Ayah 6:58

قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:58 in the Quran reader

کہہ دو کہ جس چیز کیلئے تم جلدی کر رہے ہو اگر وہ میرے اختیار میں ہوتی تو مجھ میں اور تم میں فیصلہ ہوچکا ہوتا اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے

(تفسیر) (58) (قل لو ان عندی) میرے ہاتھ میں (ماتستعجلون بہ) یعنی عذاب (لقضی الا مربیھی وبینکم) یعنی میں عذاب دے کر تمہیں ہلاک کر کے تم سے چھٹکارا حاصل کرلیتا ہے۔ (واللہ اعلم بالظلمین)
Ayah 6:59

وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:59 in the Quran reader

اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جن کو اس کے سواء کوئی نہیں جانتا اور اسے جنگلوں اور دریاوں کی سب چیزوں کا علم ہے اور کوئی پتا نہیں چھڑتا مگر وہ اس کو جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں میں کوئی دانا اور کوئی ہری اور سوکھی چیز نہیں ہے مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے

(59) (وعندہ مفاتح الغیب لایعلمھآ الا ھو) غیب کی کنجیاں یعنی اس کے خزانے ۔ مفتح کی جمع ہے۔ مفاتیح الغیب کی مختلف تفسیریں مفاتیح الغیب کی تفسیر میں مفسرین رحمہما اللہ کا اختلاف ہے۔ عبداللہ بن دینا (رح) نے خبر دی ہے کہ انہوں نے ابن عمر ؓ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ غیب کی چابیاں پانچ ہیں جن کو اللہ کے سوا کوئی جانتا۔ رحم میں کیا ہے اس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور کل کیا ہونا ہے اس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور بارش کب آئے گی اس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور کوئی نفس یہ نہیں جانتا کہ کس زمین میں اس کی موت آئے گی اور قیامت کب قائم ہوگی اس کو خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ضحاک اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ غیب کی چابیوں سے زمین کے خزانے مراد ہیں اور عذاب نازل ہونے کا علم اور عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ ثواب اور عقاب میں سے کیا پوشیدہ ہے وہ مراد ہے۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ تمہارے نبی ﷺ کو ہر چیز کا علم دیا گیا ہے سوائے غیب کی چابیوں کے علم کے (ویعلم ما فی البر والبحر) مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ” البر “ سے جنگل اور چٹیل میدان مراد ہیں اور ” البحر “ سے شہر اور بستیاں۔ ان دونوں میں جو چیز بھی ہوتی ہے اللہ اس کو جانتے ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے معروف معنی مراد ہیں یعنی جنگل اور سمندر۔ (وما تسفط من ورقہ الایعلمھا) یعنی جتنے پتے درختوں سے گرتے ہیں اور جو باقی رہتے ہیں ان کی تعداد کو جانتا ہے (اور اللہ تعالیٰ ان پتوں کو بھی جانتا ہے جو زمین پر گرے ہوئے ہیں کہ کب میں پلیٹیں گے (ولا حبۃ فی ظلمت الارض) بعض نے کہا کہ وہ دانہ جو زمین میں پوشیدہ ہے۔ بعض نے کہا وہ دانہ جو زمین کی تہہ پہاڑ کے نیچے چھپا ہوا ہے (ولا رطب ولایابس) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رطب سے مراد پانی اور ” یابس “ سے مراد جنگل ہے اور عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ جو چیزیں اگتی ہیں اور نہیں اگتی وہ مراد ہیں۔ بعض نے کہا ہر چیز مراد ہے۔ (الا فی کتب مبین) یعنی سب کچھ لو ح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔
Ayah 6:60

وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُكُمْ فِیْهِ لِیُقْضٰۤى اَجَلٌ مُّسَمًّى١ۚ ثُمَّ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 6:60 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو رات کو (سونے کی حالت میں) تمہاری روح قبض کرلیتا ہے اور جو کچھ تم دن میں کرتے ہو اس سے خبر رکھتا ہے پھر تمہیں دن کو اٹھا دیتا ہے تاکہ (یہی سلسلہ جاری رکھ کر زندگی کی) معین مدت پوری کردی جائے پھر تم (سب) کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (اس روز) وہ تم کو تمہارے عمل جو کرتے ہو (ایک ایک کرکے) بتائے گا

(60) (وھو الذین یتوفکم بالیل) یعنی جب تم رتا کو سوتے ہو تو تمہاری روح کو قبض کرلیتا ہے۔ (ویعلم ما جرحتم بالنھار ثم یبعثکم فیہ) یعنی دن میں تم کو بیدار کرتا ہے (لیقضی اجل مسمی) یعنی زندگی کی مدت پوری ہو (ثم الیہ مرجعکم) آخرت میں (ثم ینبنکم بما کنتم تعملون)
Ayah 6:61

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ Open ayah 6:61 in the Quran reader

اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم پر نگہبان مقرر کئے رکھتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے

تفسیر :-(61) (وھو القاھر فوق عبادہ ویرسل علیکم حفظۃ) یعنی وہ فرشتے جو بنی آدم کے اعمال کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہ حافظ کی جمع ہے اس کی نظیر (وان علیکم لحافظین کراماً اکتبین) ہے (حتی اذا جآء احد کم الموت توقتہ) حمزہ نے ” توفاہ “ پڑھا ہے (رسلنا) یعنی ملک الموت کی مددگار فرشتے اس کو قبض کر کے ملک الموت کو دیتے ہیں وہ اس کی روح نکال لیتا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ ملک الموت کی مددگار اس کے حکم سے خود روح قبض کرلیتے ہیں اور بعض نے کہا کہ آیت میں ” رسل “ سے ملک الموت مراد ہے ایک کے لئے جمع کا صیغہ ذکر کیا گیا ہے اور یہ بات احادیث میں آئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کے سامنے دنیا کو چھوٹے سے دستر خوان کی طرح کردیا ہے وہ دنیا کے تمام کونوں سے آسانی سے روح قبض کرلیتا ہے اور جب روحیں زیادہ ہوں تو ان کو بلاتے ہیں وہ ان کی دعوت کو قبول کرلیتی ہیں (وھم لایفرطون) کوتاہی نہیں کرتے۔
Ayah 6:62

ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ Open ayah 6:62 in the Quran reader

پھر (قیامت کے دن تمام) لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائے جائیں گے سن لو کہ حکم اسی کا ہے اور وہ نہایت جلد حساب لینے والا ہے

(62) (ثم ردوا الی اللہ مولھم الحق) یعنی فرشتے اور بعض نے کہا ہے کہ وہ انسان مراد ہیں جو مرنے کے بعد اپنے حقیقی مالک کی طرف پہنچائے جاتے ہیں۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ آیت مئومن و کافر سب مرنے والوں کے بارے میں ہے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کافروں کا بھی مولیٰ ہے اور دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” ان الاکفرین لا مولی لھم، تو اس میں تطبیق کیسے ہوگی ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں مولی بعض مالک کے ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کے مالک ہیں اور جہاں کافروں سے مولیٰ کی نفی کی گئی ہے وہاں مولیٰ بمعنی مددگار کے ہے یعنی ان کا کوئی مددگار نہ ہو اور بعض نے یہ جواب دیا ہے کہ آیت میں صرف مئومن مراد ہیں کہ وہ اپنے مولیٰ کے پاس پہنچائے جائیں گے اور کفار ان کے تابع ہیں (الا لہ الحکم) نہ کہ اس کی مخلوق کا (وھو امر الحسبین) یعنی جب حساب لے گا تو اس کا حساب جلد ہوگا کیونکہ وہ حساب کے لئے غور و فکر کا محتاج نہیں ہے۔
Ayah 6:63

قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ۚ لَئِنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:63 in the Quran reader

کہو بھلا تم کو جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں سے کون مخلصی دیتا ہے (جب) کہ تم اس سے عاجزی اور نیاز پنہانی سے پکارتے ہو (اور کہتے ہو) اگر خدا ہم کو اس تنگی سے نجات بخشے تو ہم اسکے بہت شکرگزار ہوں

(63) (قل من ینجیکم) یعقوب نے تخفیف کے ساتھ اور اکثر حضرات نے شد کے ساتھ پڑھا ہے (من ظلمت البر والبحر) یعنی ان کی سختیوں او ہولناکیوں سے وہ لوگ جب جنگل یا سمندر میں سفر کر رہے ہوتے اور راستہ بھول جاتے اور ہلاکت کا خوف ہوتا تو اللہ کے ساتھ اعتقاد کو خالص کر کے اس کو پکارتے تو اللہ تعالیٰ ان کو نجات دے دیتے۔ (تدعونہ تضرعا وخفیۃ) ابوبکر نے عاصم رحمہما اللہ سے ” خیفۃ “ خاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہاں بھی اور سورة الاعراف میں بھی اور باقی قراء نے دونوں جگہ خاء کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ دونوں نعمتیں مستعمل ہیں (لئن انجنا من ھذہ لنکونن من الشکرین) شکر نعمت کو پہچاننا اس کا حق ادا کرنے کے ساتھ۔
Ayah 6:64

قُلِ اللّٰهُ یُنَجِّیْكُمْ مِّنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:64 in the Quran reader

کہو کہ خدا ہی تم کو اس (تنگی) سے اور ہر سختی سے نجات بخشتا ہے پھر (تم) اس کے ساتھ شرک کرتے ہو

تفسیر (64) (قل اللہ ینجیکم منھا) اہل کوفہ اور ابو جعفر نے ینجیکم تشدید کے ساتھ پڑھا ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے (قل من ینجیکم) اور دوسرے قراء نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے (ومن کل کرب) کرب کہتے ہیں انتہائی غم کو جو انسان کے نفس کو پہنچتا ہے (ثم انتم تسرکون) یعنی یہ مشرکین خود اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اللہ کو وہ سختی کے وقت پکارتے ہیں تو وہ ان کو نجات دیتا ہے، پھر بھی اس کے ساتھ ان بتوں کو شریک ٹھہراتے ہیں جن کے بارے میں ان کو علم ہے کہ وہ ان کو نفع دیتے ہیں نہ نقصان۔
Ayah 6:65

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ Open ayah 6:65 in the Quran reader

کہ دو کہ وہ (اس پر بھی) قدرت رکھتا یے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا تمہیں فرقہ فرقہ کر دے اور ایک کو دوسرے (سے لڑا کر آپس) کی لڑائی کا مزا چکھا دے دیکھو ہم اپنی آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھیں

(65) (قل ھو القادر علی ان یبعت علیکم عذاباً من فوقکم) حسن اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ آیت اہل ایمان کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور ایک جماعت نے کہا کہ مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ عذاباً من فوقکم یعنی چیخ، پتھر، ہوائیں اور طوفان جیسے قوم عاد، ثمود اور قوم لوط اور قوم نوح کے ساتھ کیا ہے۔ (اومن تحت ارجلکم) یعنی زلزلے اور دھنسا دینا جیسے شعیب کی قوم اور قارون کے ساتھ کیا۔ ابن عباس ؓ، مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اوپر سے عذاب ظالم حکمران اور نیچے سے عذاب برے غلام (اویلبسکم شیعاً ) یعنی تم میں مختلف فرقے ملا دے اور تم میں مختلف خواہشات پھیلا دے ۔ (ویذیق بعضکم باس بعض) یعنی تم ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو۔ قل ھو القادر آیت کے نزول پر آپ ﷺ کا تعوذ پڑھنا حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ” قل ھو القادر علی ان یبعث علیکم عذاباً من فوقکم “ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! میں تیری کریم ذات کی پناہ میں آتا ہوں۔ پھر پڑھا ” او من تحت ارجلکم “ تو فرمایا میں تیری ذات سے پناہ مانگتا ہوں۔ پھر پڑھا ” اویلبسکم شیعا ویذیق بعضکم باس بعض “ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ آسان ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی امت کے حق میں تین دعائیں مانگیں دو قبول کردی گئیں ایک نہیں عامر بن سعد بن وقاص اپنے والد سعد بن ابی وقاص ؓ سے رویات کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بنو معاویہ کی ایک مسجد سے گزرے تو آپ (علیہ السلام) اس مسجد میں داخل ہوئے اور آپ (علیہ السلام) نے دو رکعتیں پڑھیں اور ہم نے بھی آپ (علیہ السلام) کے ساتھ پڑھیں تو آپ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے بڑی لمبی دعا کی۔ پھر فرمایا، میں نے اپنے رب سے تین دعائیں مانگیں۔ میں نے دعا مانگی کہ میری امت کو غرق کر کے ہلاک نہ کرے تو اللہ تعالیٰ نے قبول کرلیا ور میں نے یہ دعا مانگی کہ میری امت کو قحط سے نہ ہلاک کرے تو یہ بھی مجھے دے دی اور میں نے یہ دعا مانگی کہ میری امت کی آپس میں لڑائی نہ ہو تو اس سے منع کردیا۔ سلیمان بن بلال (رح) سے روایتہے کہ عبید اللہ بن عمر ؓ ان کے پاس آئے اور یہ حدیث بیان کی کہ نبی کریم ﷺ نے مسجد میں تین دعائیں ماگنی ہیں۔ دو قبول ہوئیں ایک قبول نہیں ہوئی۔ یہ دعا کی کہ اللہ میری امت پر ان کے علاوہ کوئی ایسا دشمن نہ مسلط کر دے جو ان پر غالب ہو یہ قبول ہوئی اور یہ دعا کی کہ ان کو قحط سے نہ ہلاک کرے یہ قبول ہوئی اور یہ دعا کی کہ ان کی آپس میں لڑائی نہ ہو تو یہ قبول نہیں ہوئی۔ (انظر کیف نصرف الایت لعلھم یفقھون)
Ayah 6:66

وَ كَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَ هُوَ الْحَقُّ١ؕ قُلْ لَّسْتُ عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 6:66 in the Quran reader

اور اس (قرآن) کو تمہاری قوم نے جھٹلایا حالانکہ وہ سراسر حق ہے کہہ دو کہ میں تمہارا داروغہ نہیں ہوں

تفسیر (66) (وکذب بہ قومک) یعنی قرآن کو اور بعض نے کہا عذاب کو (وھو الحق ط قل لست علیکم بوکیل) نگہبان اور بعض نے کہا تم پر مسلط نہیں کہ تم انکار کردیا اقرار تم پر اسلام لازم کر دوں۔ میں تو بس پیغام پہنچانے والا ہوں۔
Ayah 6:67

لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ١٘ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:67 in the Quran reader

ہر خبر کیلئے ایک وقت مقرر ہے اور تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا

(67) (لک نبا) پہلی امتوں کی خبروں میں سے خبر (مستقر) تاکہ اس کا سچایا جھوٹا ہونا معلوم ہوجائے اور اس کا حق یا باطل وقت اور جگہ متعین ہے۔ اس سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتی اور کلبی (رح) فرماتے ہیں ہر قول اور فعل کی حقیقت ہے یا تو دنیا میں یا آخرت میں جو دنیا میں ہے اس کو عنقریب تم جان لو گے اور جو آخرت میں ہے وہ عنقریب تمہارے سامنے ظاہر ہوجائے گی۔
Ayah 6:68

وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖ١ؕ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:68 in the Quran reader

اور جب ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کے بارے میں بےہودہ بکواس کر رہے ہیں تو ان سے الگ ہوجاؤ یہاں تک کہ اور باتوں میں مصروف ہوجائیں اور اگر (یہ بات) شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے پر ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو

(68) (واذا رایت الذین یخوضون فی ایتنا) یعنی قرآن کا استہزاء کر کے ) (فاعرض عنھم) ان کو چھوڑ دیں اور ان کے ساتھ نہ بیٹھیں (حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ ط واما ینسینک الشیطن) ابن عامر نے نون کے فتح اور سین کے شد کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے نون کے سکون اور سین کی تخفیف سے پڑھا ہے۔ (لاتاتعد بعد الذکری مع القوم الظلمین) یعنی جب بھول کر آپ ان کے ساتھ بیٹھ جائیں تو جب یاد آئے فوراً کھڑے ہوجائیں۔
Ayah 6:69

وَ مَا عَلَى الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:69 in the Quran reader

اور پرہیزگاروں پر ان لوگوں کے حساب کی کچھ بھی جواب دہی نہیں ہاں نصیحت تاکہ وہ بھی پرہیزگار ہوں

(69) (وما علی الذین یتقون من حسابھم من شیئ) ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ” واذا رأیت الذین یخوضون فی آیاتنا فاعرض عنھم “ تو مسلمان کہنے لگے ہم مسجد حرام میں کیسے بیٹھیں ؟ اور بیت اللہ کا طواف کیسے کریں کیونکہ یہ تو ہمیشہ آیات میں جھگڑتے رہتے ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ مسلمانوں نے کہا کہ اگر ہم ان لوگوں کو نہ روکیں گے تو ہمیں گناہ کا خوف ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ (وما علی الذین یتقون) جھگڑنے سے ” من حسابھم “ یعنی جھگڑنے والوں کے گناہ سے۔” من شیئ “ (ولکن ذکری لیکن ان کے ذمہ نصیحت کرنی ہے یعنی ان کو قرآن سے وعظ کریں اور ذکر اور ذکریٰ ایک ہے، مراد ہے ذکرھم وھم ذکری تو یہ محل نصب میں ہے (لعلھم ینفقون) جھگڑنے سے جب تم ان کو وعظ کریں گے آیت میں مسلمانوں کو اتنی رخصت دی ہے کہ ان کے ساتھ نصیحت کرنے کے لئے بیٹھ سکتے ہیں تاکہ وہ حیاء کریں اور اس کام سے باز آجائیں۔
Ayah 6:70

وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ١ۖۗ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ١ۚ وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْا١ۚ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:70 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ان سے کچھ کام نہ رکھو ہاں اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہو تاکہ (قیامت کے دن) کوئی اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے (اس روز) خدا کے سوا نہ تو کوئی اس کا دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا اور اگر وہ ہر چیز (جو روئے زمین پر ہے بطور) معاوضہ دینا چاہے تو وہ اس سے قبول نہ ہو یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے ان کیلئے پینے کو کھولتا ہوا پانی اور دکھ دینے والا عذاب اس لئے کہ کفر کرتے تھے

وذر الذین اتخذوا دینھم لعباً ولھواً کی تفسیر تفسیر :(70) (وذر الذین اتخذوا دینھم لعبا ولھواً ) یعنی ان کفار کو چھوڑ دیں جنہوں نے اللہ کی آیات کو سنا اور ان کے ساتھ استہزاء کیا اور بعض نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے لئے عید مقرر کی ہے تو ہر قوم نے اپنی عید کو کھیل اور تماشا بنادیا اور مسلمانوں کی عید نماز، تکبیرات اور اچھے کام کرنا ہے جیسے جمعہ، فطرانہ اور قربانی (وغرتھم الحیوۃ الدنیا و ذکربہ) قرآن سے وعظ کرے (ان تبسل کہ وہ تلسیم نہ ہو نفس “ بمعنی ہلاک بما کسبت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہے کہ وہ ہلاک ہوجائیں اور قتادہ (رح) نے فرمایا کہ وہ قید کئے جائیں اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ جلا دیا جائے ابن زید (رح) فرماتے ہیں پکڑا جائے اور معنی یہ ہے کہ ان کو نصیحت کریں کہ وہ ایمان لے آئیں تاکہ کوئی نفس اپنے اعمال کی وجہ سے ہلاک نہ ہو اور اخفش (رح) فرماتے ہیں (تبسل) بدلہ دیا جائے اور بعض نے کہا ہے رسوا کیا جائے اور فراء (رح) فرماتے ہیں رہن رکھا جائے اور ابسال کی اصل حرام کرنا ہے اور ” البسل ، حرام ہونا، پھر ہر اس سختی کی صفت بنائی گئی ہے جس سے بچا جائے۔ (لیس لھا اس نفس کے لئے (من دون اللہ ولی) اس سے مراد قریبی دوست (ولا شفیع) جو آخرت میں سفارش کرے (وان تعدل کل عدل) یعنی فدیہ دے (لایوخذمنھا ط اولئک الذین ابسلوا بما کسبوا الھم شراب من حمیم و عذاب الیم بماکانوا یکفرون)
Ayah 6:71

قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤى اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ هَدٰىنَا اللّٰهُ كَالَّذِی اسْتَهْوَتْهُ الشَّیٰطِیْنُ فِی الْاَرْضِ حَیْرَانَ١۪ لَهٗۤ اَصْحٰبٌ یَّدْعُوْنَهٗۤ اِلَى الْهُدَى ائْتِنَا١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ اُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:71 in the Quran reader

کہو کیا ہم خدا کے سوا ایسی چیز کو پکاریں جو نہ ہمارا بھلا کرسکتے ہیں اور نہ برا اور جب ہم کو خدا نے سیدھا راستہ دکھا دیا تو (کیا) ہم الٹے پاؤں پھرجائیں (پھر ہماری ایسی مثال ہو) جیسے کسی کو جنات نے جنگل میں بھلا دیا ہو (اور وہ) حیران (ہورہا ہو) اور اسکے کچھ رفیق ہوں جو اس کو راستے کی طرف بلائیں کہ ہمارے پاس چلا آ کہہ دو کہ راستہ وہی ہے جو خدا نے بتایا ہے اور ہمیں تو یہ حکم ملا ہے کہ ہم خدا رب العالمین کے فرمابردار ہوں

(71) (قل اندعوا من دون اللہ مالا ینفعنا) اگر ہم ان کی عبادت کریں (ولا یضرناً ) اگر ہم ان کو چھوڑ دیں یعنی بت نہ نفع دیتے ہیں اور نہ نقصان (وترد علی اعقابنا) شرک کی طرف مرتد ہو کر (بعد اذھدنا اللہ کالذی استھونہ الشیطین) یعنی ہماری مثال اس شخص کی طرح ہوگی جس کو شیاطین نے گمراہ کردیا ہو۔ (فی الارض حیران لہ اصحب یدعونہ الی الھدی ائتنا) ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ اس شخص کی طرح ہے کہ وہ بھگتنا ہوا متحیر پھر رہا ہو اس کی سمجھ میں نہ آتا ہو کہ کہاں جائے اور کیا کرے۔ (لہ اصحب یدعونہ الی الھدی ائتنا) یہ اللہ تعالیٰ نے مثال دی ہے کہ جس شخص کے دوست ہوں کچھ اس کو متعدد خدائوں کی طرف بلاتے ہوں اور کچھ اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف تو اس کی مثال اس شخص کی سی ہے کہ جو جنگل میں راستہ بھول جائے اس کے دوست اس کو سیدھے راستے کی طرف بلائیں اور جن اس کو اپنی طرف بلائیں تو وہ اس وقت حیران و پریشان ہوگا۔ اگر جنوں کے پاس جاتا ہے تو ہلاک ہوجائے گا اور اگر ان دوستوں کی طرف جاتا ہے جو سیدھے راستے کی طرف بلاتے ہیں تو نجات پا جائے گا۔ (قل ان ھدی اللہ ھو الھدی) بتوں کی عبادت سے روکتی ہے۔ گویا کہ فرمایا تو یہ نہ کر کیونکہ ہدایت اللہ تعالیٰ کی ہدیات ہے اس کے سوا کوئی ہدایت نہیں دیتا۔ (وامرنا لنسلم لرب العلمین)
Ayah 6:72

وَ اَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ وَ هُوَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:72 in the Quran reader

اور یہ (بھی) کہ نماز پڑھتے رہو اور اس سے ڈرتے رہو اور وہی تو ہے جس کے پاس تم جمع کیے جاو گے

تفسیر (72) وان اقیموا الصلوۃ واتقوہ) یعنی ہمیں نماز قائم کرنے اور تقویٰ کا حکم دیا گیا ہے (وھو الذین الیہ تحشرون) حساب کے لئے موقف میں جمع کئے جائو گے۔
Ayah 6:73

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ یَوْمَ یَقُوْلُ كُنْ فَیَكُوْنُ١ؕ۬ قَوْلُهُ الْحَقُّ١ؕ وَ لَهُ الْمُلْكُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ١ؕ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:73 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو تدبیر سے پیدا کیا ہے اور جس دن وہ فرمائے گا کہ ہوجا تو (حشربرپا) ہوجائے گا۔ اسکا ارشاد برحق ہے۔ اور جس دن صور پھونکا جائے گا (اس دن) اسی کی بادشاہت ہوگی۔ وہی پوشیدہ اور ظاہر (سب) کا جاننے والا ہے اور وہی دانا اور خبردار ہے۔

73 (وھو الذی خلق السموت والارض بالحق) بعض نے کہا کہ باء لام کے منی میں ہے کہ حق کو ظاہر کرنے کے لئے پیدا کیا ۔ اللہ تعالیٰ کا سب کو اس طرح پیدا کرنا اس کی وحدانیت پر دلالت کرتا ہے۔ (ویوم یقول کن فیکون) ۔ کن فیکون یہ راجع ہے آسمان و زمین کی تخلیق کی طرف۔ یہاں خلق بمعنی قضاء اور قدر کے ہے مطلب یہ ہے کہ زمین و آسمان میں ہر چیز اللہ کے فیصلے اور تقدیر کے تحت ہے۔ کن فیکون کی تفسیر جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے لفظ کن فرمایا تو فیکون وہ ہوگیا اور بعض نے کہا کہ یہ قیامت کی طرف راجع ہے۔ اس صورت میں یہ قیامت کے جلدی وقوع پذیر ہونے پر دلالت کرتا ہے اور مردوں کے دوبارہ زندہ ہونے پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب سب کو فرمائیں گے موتوا سب مرجائیں گے اور جب اللہ تعالیٰ فرمائے گا اٹھو تو سب اٹھ جائیں گے۔ (قولہ الحق) یعنی جو وعدے کرتا ہے وہ سچ ہے اور ضرور ہوگا۔ (ولہ الملک یوم ینفخ فی الصور) یعنی بادشاہوں کی بادشاہی اس دن ختم ہوجائے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ” مالک یوم الدین “ اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا ” والا مریومئذ للہ ‘ ہر وقت میں اللہ ہی کا حکم ہے لیکن اس دن خاص طور پر اسی کا حکم چلے گا اس کے علاوہ کسی کا حکم نہیں چل سکے گا اور صور سینگ ہے جس میں پھونک ماری جائے گی۔ مجاہد کا ق ول ہے کہ صور سینگ کا نام ہے۔ بعض نے کہا کہ یہ اہل یمن کی لغت میں ہے۔ عبداللہ بن عمرو بن الاعصی ؓ سے روایت ہے کہ ایک بدو نبی کریم ﷺ کی طرف آیا اور پوچھا صور کیا ہے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا سینگ ہے جس میں پھونک ماری جائے گی۔ ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں کیسے خوشی عیشی کی زندگی گزاروں حالانکہ صور والا اس کو منہ میں لے کر اور کان لگا کر اور پیشانی جھکا کر بیٹھا ہے کہ اس کو کب حکم دیا جائے گا ؟ تو صحابہ کرام رضوان ﷺ علیہم اجمعین نے پوچھا اے اللہ کے رسول ! (ﷺ ) آپ کیا حکم دیتے ہیں ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تم کہو ” حسبنا اللہ و نعم الوکیل “ (علم الغیب والشھادۃ) یعنی جو چیزیں بندوں سے پوشیدہ ہیں یا ان کے مشاہدہ میں ان سب کو جانتا ہے اس کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ (وھو الحکیم الخبیر) ۔
Ayah 6:74

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةً١ۚ اِنِّیْۤ اَرٰىكَ وَ قَوْمَكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:74 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آذر سے کہا کہ تم بتوں کو کیا معبود بناتے ہو۔ میں دیکھتا ہو کہ تم اور تمہاری قوم صریح گمراہی میں ہو۔

تفسیر (74) (واذ قال ابرھیم لابیہ ازر) یعقوب (رح) نے (آزر) پیش کے ساتھ یعنی (آزر) پڑھا ہے اور معروف قرأت نصب کے ساتھ ہے۔ آزر عجمی نام ہے غصر منصرف ہے اس لئے اس پر جر نہیں آسکتی۔ آزر ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام ہے یا چچا کا محمد بن اسحاق، ضحاک، کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ آزر اور تارخ ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام ہے جیسے اسرائیل اور یعقوب دونوں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے نام ہیں اور مقابل بن حیان اور دیگر حضرات فرماتے ہیں کہ آزاد ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا لقب ہے اور اس کا نام تارخ تھا اور سلیمان تمیمی (رح) فرماتے ہیں کہ آرز گالی اور عیب ہے کیونکہا ن کی زبان میں اس کا معنی ٹیڑھا ضدی شخص ہے اور بعض نے کہا اس کا معنی بوڑھا کمزور آدمی ہے اور سعید بن مسیب اور مجاہد رحمہما اللہ کہتے ہیں کہ آزر بت کا نام تھا اس صورت میں آزر محل نصب میں ہوگا۔ اصل عبارت یوں تھی ” اتنخذ آزر الھا “ یعنی کیا تو آزر کو معبود بناتا ہے۔ (اتتخذا اصناماً الھۃ انی ارک وقومک فی ضلل مبین) ۔
Ayah 6:75

وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ Open ayah 6:75 in the Quran reader

اور ہم اس طرح ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات دکھانے لگے تاکہ وہ خوب یقین کرنے والوں میں ہوجائیں

(75) (وکذلک نری ابرھیم) جیسے ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دین میں بصیرت عطا فرمائی۔ (ملکوت السموت والارض) ملکوت میں تاء مبالغہ کے لئے زیادہ کی گئی ہے جیسے جبروت، رحموت، رھبوت میں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یعنی آسمان اور زمین کی تخلیق اور مجاہد (رح) اور سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ آسمان اور زمین کی نشانیاں مراد ہیں۔ اس کی صورت یہ بنی کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو چٹان پر کھڑا کر کے ان کے لئے آسمانوں اور زمین کی نشانیاں مراد ہیں۔ اس کی صورت یہ بنی کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو چٹان پر کھڑا کر کے ان کے لئے آسمانوں اور زمین کے عجائبات کھول دیئے گئے اور انہوں نے عرش اور زمینوں کے نیچے تک اور اپنا جنت میں ٹھکانہ دیکھ لیا۔ حضرت سلمان ؓ سے روایت ہے اور بعض نے یہی روایت حضرت علی ؓ سے مرفوعاً نقل کی ہے کہ جب تمام چیزیں ابراہیم (علیہ السلام) پر منکشف ہوگئیں تو انہوں نے ایک شخص کو بےحیائی کا کام کرتے دیکھا، اس پر بد دعا کی وہ ہلاک ہوگیا۔ پھر دوسرے کو دیکھا اس پر بد دعا کی وہ بھی ہلاک ہوگیا۔ پھر تیسرے کو دیکھا بد دعا کرنے لگے تو ؓ نے فرمایا اے ابراہیم ! (علیہ السلام) آپ کی دعا قبول ہوتی ہے آپ میرے بندوں کو بد دعا نہ کریں کیونکہ میرا اپنے بندوں سے تین طرح کا معاملہ ہے۔ (1) وہ مجھ سے توبہ کریں اور میں قبول کرلوں۔ (2) میں اس کی اولاد میں سے کوئی پیدا کر دوں جو میری عبادت کرے۔ (3) وہ مر کر مجھ تک آئے اگر چاہوں تو معاف کردوں اور اگر چاہوں تو اس کو سزا دوں۔ قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ ” ملکوت السموت “ سورج چاند اور ستارے ہیں اور ” ملکوت الارض “ پہاڑ، درخت اور سمندر ہیں۔ (ولبکون من الموقنین) معنی پر عطف ہے اور اس کا معنی ہم اس کو آسمان و زمین کی سلطنتیں دکھائیں تاکہ ان کے ذریعے استدلال کرے اور یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے۔
Ayah 6:76

فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ الَّیْلُ رَاٰ كَوْكَبًا١ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ Open ayah 6:76 in the Quran reader

(یعنی) جب رات نے ان کو (پردہ تاریکی سے) ڈھانپ لیا تو (آسمان میں) ایک ستارا نظر پڑا۔ کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ جب وہ غائب ہوگیا تو کہنے لگے کہ مجھے غائب ہوجانیوالے پسند نہیں۔

نمرود کا واقعہ (76) (فلما جن علیہ الیل راکو کبا) مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی ولادت نمرود بن کنعان کے زمانہ میں ہوئی نمرود دنیا میں پہلا شخص ہے جس نے سر پر تاج رکھا اور لوگوں کو اپنی عبادت کی طرف بلایا اور اس کے کئی کاہن اور نجومی تھے۔ انہوں نے اس کو کہا کہ تیرے شہر میں اس سال ایک بچہ پیدا ہوگا جو زمین والوں کا دین تبدیل کر دے گا اور تیری اور تیری سلطنت کی ہلاکت ا سی کے ہاتھ سے ہوگی اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے یہ بات پہلے انبیاء (علیہم السلام) کی کتابوں میں پائی تھی۔ سدی (رح) کہتے ہیں کہ نمرود نے خواب دیکھا کہ ایک ستارہ طلوع ہوا اور اس نے سورج اور چاند کی روشنی بالکل ختم کردی تو وہ اس خواب سے بہت زیادہ گھبرا گیا تو اس نے جادو گروں اور کاہنوں کو بلایا اور اس خواب کی تعبیر پوچھی تو انہوں نے کہ ا کہ ایک بچہ اس سال تیرے ملک میں پیدا ہو اس کو ذبح کردیا جائے اور حکم دیا کہ مرد اپنی عورت کے قریب نہ جائیں اور ہر دس لوگوں پر ایک نگران مقرر کردیا ۔ جب عورت کو حیض آتا تو وہ نگران چلا جاتا کیونکہ وہ لوگ حالت حیض میں جماع نہ کرتے تھے۔ پھر جب عورت حیض سے پاک ہوتی تو وہ نگران اس عورت اور اس کے خاوند کے درمیان حائل ہوجاتا تو آزر آئے تو بیوی کو یدکھا کہ اس وقت حیض سے پاک ہوئی ہے تو اس سے جماع کیا جس سے ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش ہوئی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش کا واقعہ محمد بن اسحق کہتے ہیں کہ نمرود نے ہر حاملہ عوتر کو اپنے پاس قید کرا لیا لیکن ابراہیم (علیہ السلام) کی والدہ کو قید نہ کرا سکے کیونکہ ان کی عمر بہت چھوٹی تھی اور جسم سے حاملہ ہونا معلوم بھی نہ ہوتا تھا اور سدی (رح) کہتے ہیں کہ نمرود مردوں کو عورتوں سے الگ کرنے کے لئے تمام مردوں کا ایک لشکر بنا کر شہر سے باہر لے گیا کہ اگر شہر میں ہوں گے تو کہیں بچہ نہ پیدا ہوجائے۔ کچھ مدت بعد اس کو شہر میں کوئی ضروری کام پڑا۔ آزر کے سوا کوئی قابل اعتماد شخص نہ ملا تو ان کو کہا کہ میں ایک کام سے آپ کو شہر بھیجتا ہوں لیکن آپ اپنے گھر نہ جانا، انہوں نے کہا کہ میں اپنے دین کے باقی رہنے پر ا س سے زیادہ حریص ہوں، جب وہ شہر گئے اور نمرود کا کام کرلیا تو یعال کی خبر گری کے لئے گھر بھی گئے وہاں صبر نہ ہوسکا اور ان کی اہلیہ حاملہ ہوگئیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب ام ابراہیم (علیہ السلام) کو حمل ہوا تو نمرود کو کاہنوں نے کہا گزشتہ رات وہ بچہ اپنی ماں کے پیٹ میں آگیا ہے تو اس نے بچوں کے قتل کا حکم دیا۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) کی ولادت قریب ہوئی تو ان کی والد ڈر کے مارے شہر سے دور ایک خشک گھاس میں گئیں اور وہاں ان کو جنم دیا اور ایک کپڑے میں لپیٹ کر ان کو وہیں گھاس پر رکھ آئیں اور واپس آ کر ولادت کی خبر اپنے خاوند کو دی اور جگہ بتادی تو آزر گئے اور اس نے وہاں جا کر بچہ کو لے کر ایک سرنگ کھود کر ابراہیم (علیہ السلام) کو اس میں رکھ کر اس سرنگ کے منہ پر پتھر رکھ دیا کہ کوئی درندہ نہ کھاجائے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی والدہ دن میں کئی دفعہ چکر لگا کر آپ (علیہ السلام) کو دودھ پلا جاتی تھیں۔ ابو روق کہتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی والدہ نے ایک دن ابراہیم (علیہ السلام) کو دیکھا کہ ایک انگلی سے پانی ایک سے شہد ایک سے کھجور اور ایک سے دودھ اور ایک سے گھی چاٹ رہے ہیں۔ محمد بن اسحق کہتے ہیں کہ آزر نے ام ابراہیم سے حمل کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا بچہ پیدا ہوا تھا وہ مرگیا اور ابراہیم (علیہ السلام) کا جسم ایک ماہ میں ایک سال جتنا بڑھ رہا تھا۔ صرف پندرہ ماہ آپ (علیہ السلام) غار میں رہے اور والدہ کو کہا اب مجھے باہر نکال دیں، انہوں نے نکالا تو آپ (علیہ السلام) نے آسمانوں اور زمین میں غور و فکر کیا اور کہا کہ بیشک جس نے مجھے پیدا کیا اور رزق دیا، کھلایا اور پلایا وہی میرا رب ہے۔ اس کے سوا میرا کوئی معبود نہیں۔ پھر آسمان کی طرف دیکھ اور ستارے دیکھے تو کہا یہ میرا رب ہے پھر اس کو دیکھتے رہے جب وہ چھپ گیا تو کہا میں غائب ہوجانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ پھر سورج طلوع ہوا تو یہی کہا۔ پھر اپنے والد کے پاس گئے اور آپ کو استقامت حاصل ہوچکی تھی اور اپنے رب کو پہچان چکے تھے اور اپنی قوم کے دین سے برأت ظاہر کرچکے تھے لیکن ان کو اس کی اطلاع نہیں دی اور والد کو خبر دی کہ میں آپ کا بیٹا ہوں اور ماں نے بھی تصدیق کی اور کس طرح پرورش کی ہے وہ بھی بتایا تو آزر اس سے بہت خوش ہوئے۔ بعض نے کہا کہ غار میں سات سال رہے اور بعض نے تیرہ سال اور بعض نے سترہ سال۔ مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) جوان ہوئے اور وہ ابھی اس گڑھے میں تھے تو اپنی والدہ سے پوچھا میرا رب کون ہے ؟ انہوں نے کہا میں۔ آپ (علیہ السلام) نے پوچھا آپ کا رب کون ہے ؟ انہوں نے کہا تیرا والد آزر۔ آپ (علیہ السلام) نے پوچھا میرے والد کا رب کون ہے ؟ انہوں نے کہا نمرود۔ پھر پوچھا نمرود کا رب کون ہے ؟ تو والدہ نے کہا خاموش ہوجا۔ آپ (علیہ السلام) خاموش ہوگئے تو والدہ نے جا کر اپنے خاوند کو کہا کہ میرا خیال ہے کہ جس لڑکے نے زمین والوں کے دین کو تبدیل کرنا ہے وہ آپ کا بیٹا ہے اور ساری بات ان کو بتادی تو آزر ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے اور ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے بھی وہی سوال و جواب کئے۔ اس کے بعد کہا کہ مجھے اس گڑھے سے نکالیں تو وہ ان کو نکال کر غروب شمس کے بعد اپنے ساتھ لے گئے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے اونٹ، گھوڑے، بکریوں کو دیکھا تو ان کے بارے میں پوچھا کہ یہ کیا ہیں ؟ والد نے بتایا تو آپ (علیہ السلام) کہنے لگے کہ ان کا بھی خالق اور رب ضرور ہوگا۔ پھر دیکھا تو مشتری ستارہ طلوع ہوچکا تھا اور بعض نے کہا زہرہ۔ یہ رات مہینے کی آخری راتوں میں سے تھی اس لئے چاند دیر سے طلوع ہوا اور ابراہیم (علیہ السلام) نے چاند سے پہلے ستاروں کو دیکھ کر یہ کلام کی (فلما جن علیہ الیل) یعنی رات داخل ہوئی۔ کہا جاتا ہے ” جن اللیل واجن اللیل وجنۃ اللیل واجن علیہ اللیل بجن جنونا وجنانا “ جب رات تاریک ہو اور ہر چیز کو ڈھانپ لے اور جنون اللیل رات کی تاریکی۔ (رأی کوکبا) ابو عمرو نے (رأی) راء کے زبر اور الف کے زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور ابن عامر، حمزہ، کسائیا ور ابوبکر رحمہما اللہ نے دونوں کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے۔ اگر کاف یاھاء کے ساتھ متصل ہو تو ان دونوں کو ابن عامر (رح) زیر دیتے ہیں اور اگر ان کو ساکن ملا ہوا ہو تو راہ کو زیر اور ہمزہ کو زبر دیتے ہیں اور دیگر حضرات ان دونوں کو زبر دیتے ہیں۔ (قال ھذا ربی) اس قول سے ابراہیم (علیہ السلام) کی کیا مراد تھی۔ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ بعض نے اس کو ظاہری معنی پر جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) میں وقت تک رہنمائی طلب کر رہے تھے اور توحید کے طالب تھے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے دن کو توفیق دی اور ان کو راہ دکھائی تو اس قول نے ان کو نقصا نہیں دیا اور ویسے بھی یہ بات انہوں نے بچپن کے زمانہ میں کہی تھی۔ اس وقت وہ مکلف نہ تھے اس لئے یہ قول کفر نہیں ہے اور دیگر مفسرین رحمہما اللہ نے اس قول کا انکار کیا ہے اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جس کو رسول بنانا ہوتا ہے وہ ہر وقت اللہ کی توحید کا قائل اور اللہ کو پہچاننے والا وہتا ہے اور اللہ کے علاوہ ہر معبود سے بری ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ابنیاء (علیہم السلام) پر ایسے کفر یہ قول کا وہم بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے ان باتوں سے محفوظ کیا ہے اور ان کو پاک کیا اور پہلے سے سمجھ دی اور ان کے بارے میں خبر دی۔ (اذ جاء ربہ بقلب سلیم) اور فرمایا (وکذلک نری ابراہیم ملکوت السماوات والارض) تیرا کیا خیال ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو سلطنتیں دکھائیں تاکہ ان کو یقین حاصل ہوجائے اور جب ان کو یقین حاصل ہوا تو ستارے کو دیکھ کر کہا یہ میرا رب ہے اس کو عقیدہ بنا لیا ؟ یہ ایسی بات ہے جو کبھی نہیں ہوسکتی، پھر اس کے کئی تاویلات کی گئی۔ ایک یہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اس قول سے یہ ارادہ کیا کہ قوم کو ڈھیل دیں تاکہ ان کی غلطی ان پر واضح ہوجائے اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ تمام امور ان ستاروں کے سپرد ہیں تو ان کو یہ خیال دلایا کہ ابراہیمع لیہ السلام بھی ان چیزوں کی تعظیم کرتے ہیں جن کی وہ تعظیم کرتے ہیں اور اسی سے ہدیات تلاش کرتے ہیں جس سے وہ تلاش کرتے ہیں۔ جب وہ ستارہ غروب ہوگیا تو ان کو ستاروں کا نقص وعیب دکھایا تاکہ ان کے دعویٰ کی خطاء واضح ہوجائے۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے حواری بتوں کی عبادت کرنے والی قوم پر آیا تو ان کی تعظیم ظاہر کی توبت پرستوں نے اس کا اکرام کیا اور کئی معاملات میں اس کی تصدیق کی۔ یہاں تک کہ ایک دن دشمن نے حملہ کیا تو لوگ حواری سے مشورہ کرنے آئے تو اس نے کہا میری رائے یہ ہے کہ تم اس بات سے مدد مانگو یہ ہماری مدد کرے گا تو وہ اس کے اردگرد جمع ہو کر آہ وزاری کرنے لگے۔ جب یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ تو نفع نقصان نہیں دیتے تو ان کو دعوت دی کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں تو انہوں نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے دشمن کا خوف دور کردیا تو وہ سب اسلام لے آئے، کہ تم ان ستاروں کی تعظیم کرتے ہو اور عبادت کرتے ہوئے حالانکہ میں تو عیب موجود ہے تو یہ کیسے معبود ہوسکتے ہیں ؟ (2) تاویل یہ ہے کہ یہ قول استفہام تھا کہ کیا یہ میرا رب ہے ؟ اور یہ استفہام ڈانٹ کے لئے ہے کہ کیا اس جیسی چیز رب ہوسکتی ہے ؟ جیسے باری تعالیٰ کا قول (افائن مت فھم الخالدون) ہے یعنی کیا وہ ہمیشہ رہیں گے ؟ اور اس کو ڈانٹ کے طور پر ذکر کیا ہے ان کے فعل کا انکار کرنے کے لئے۔ یعنی کیا اس جیسی چیز اب ہوسکتی ہے۔ یعنی یہ میرا رب نہیں ہے۔ (3) تاویل ان پر استدلال قائم کرنا ہے۔ فرمایا یہ میرا رب ہے تمہارے گمان کے مطابق۔ جب وہ غائب ہوگیا تو فرمایا اگر یہ معبود ہوتا تو غائب نہیں ہوتا۔ جیسا کہ فرمایا (ذق انک انت العزیز الکریم) یعنی تیرے نزدیک اور تیرے گمان میں اور جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں خبر دی ہے کہ انہوں نے کہا (وانظر الی الھک الذی ظلت علیہ عافکا لنحرقنہ) مراد تیرا معبود ہے تیرے گمان کے مطابق۔ (4) تاویل وجہ اس میں عبارت مقدر ہے۔ اصل عبارت وہ کہتے ہیں یہ میرا رب ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(واذ یرفع ابراہیم القواعد من البیت و اسماعیل ربنا تقبل منا) یعنی وہ کہتے ہیں (ربنا تقبل منا) (فلما افل قال لا احب الافلین) اور جن میں دوام نہ ہو۔
Ayah 6:77

فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ یَهْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَكُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 6:77 in the Quran reader

پھر جب چاند کو دیکھا کہ چمک رہا ہے تو کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ لیکن جب وہ بھی چھپ گیا تو بول اٹھے کہ اگر میرا پروردگار مجھے سیدھا راستہ نہیں دکھائیگا تو میں ان لوگوں میں ہوجاؤں گا جو بھٹک رہے ہیں۔

(77) (فلما را القمر) بازغاً کا معنی ہے طالعاً (قال ھذا ربی فلما افل قال لئن لم یھدنی ربی لاکونن من القوم الضآلین)” لئن لم یھدنی ربی “ کی تشریح بعض حضرات نے یہ کی ہے کہ اگر مجھے اللہ ہدایت پر ثابت قدم نہ رکھتا ہدایت نہ دیتا یہ معنی نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ بغیر ہدایت کے کسی نبی کو نہیں بھیجتے۔ اس لئے انبیاء (علیہم السلام) جب بھی اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں تو ایمان پر ثابت قدمی کا سوال کرتے ہیں۔