Ayah 6:78( 78) فلما رالشمس بازغۃ قال ھذا ربی ھذا اکبر) یعنی چاند اور ستارے سے بڑا ہے یہاں ” ھذا “ کہا ہے ” ھذہ “ نہیں کہا حالانکہ شمس مونث ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ شمس کا معنی مراد لیا تھا یعنی روشنی اور نور رہے دوسرا یہ کہ اس کی روشنی ستاروں اور چاند سے زیادہ ہوتی ہے۔
(پھر جب وہ غائب ہوگیا (فلما اقلت غروب ہوگیا) قال ھذا ربی ھذا اکبر فلما اقلت قال یقوم انی اوی مما تشرکون) ۔
Ayah 6:79(79) انی وجھت وجھی للذی فطر السموت والارض حنیفاً وما انا من المشرکین)
Ayah 6:80(80) (وحاجۃ قومہ ط قال اتحآ جونی فی اللہ وقد ھدن) جب ابراہیم (علیہ السلام) اپنے والد کی طرف واپس آگئے اور آپ اتنے نوجوان ہوگئے تھے کہ والد کو ذبح کرنے والوں کا خوف نہ رہا تو اپنے ساتھ پر لگا دیا۔ آزر بت بناتے اور ابراہیم (علیہ السلام) کو دیتے کہ ان کو بیچ آئو تو ابراہیم (علیہ السلام) آواز لگاتے کون شخص ایسی چیز خریدے گا جو نہ اس کو نفع دے گا اور نہ نقصان تو ان سے کوئی بت نہ خریدتا اور ابراہیم (علیہ السلام) ان کو نہر پر لے جا کر ان کا سر پانی میں ڈبو کر کہتے کہ پانی پی لو یہ کام قوم سے استہزاء کے لئے کرتے تھے اور ان کی گمراہی کو واضح کرنے کے لئے جب ان کے استہزاء کی خبر قوم میں پھیل گئی تو وہ آپ (علیہ السلام) سے اپنے دین کے بارے میں جھگڑنے لگے۔ (قال اتحاجونی فی اللہ) اہل مدینہ اور ابن عامر رحمہما اللہ نے نون کی تخفیف سے پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے نون کی شد کے ساتھ۔ دونوں میں سے ایک کو دوسرے میں ادغام کرتے ہوئے اور جنہوں نے بغیر شد کے پڑھا ہے تو انہوں نے ایک نون کو تخفیف کی غضر سے حذف کردیا ہے۔ کہا جاتا ہے کیا تو مجھ سے اللہ کی توحید میں جھگڑا کرتا ہے ؟ حالانکہ اللہ نے مجھے توحید اور حق کی ہدایت دی ہے۔ (ولا اخاف ماتشرکون بہ) ان لوگوں نے ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا کہ بتوں سے ڈر کیونکہ ہمیں خوف ہے کہ آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا دیں۔ مثلاً جنون وغیرہ تو ابراہیم علیہ السلا م نے ان کو یہ جواب دیا تھا جس شرک میں تم مبتلا ہو اس کے روکنے میں کسی چیز سے نہیں ڈرتا۔ (الا ان یشآء ربی شیئاً ) یہ پہلے کلام سے یہ جواب دیا تھا جس شرک میں تم مبتلا ہو اس کے روکنے سے میں کسی چیز کو چاہے اس کے علاوہ تو جو وہ چاہے وہ ہوجائے گا۔ (وسع ربی کل شیء علما احاطہ کرلیا ہے میرے رب کے علم نے سب چیزوں کا) اس کے علم نے ہر چیز کا احاطہ کرلیا ہے۔ (افلا تتذکرون)
Ayah 6:81(تفسیر)81 (وکیف اخاف ما اشرکتم ) یعنی بتوں سے حالانکہ نہ وہ دیکھتے ہیں اور نہ سنتے ہیں اور نہ نقصان دیتے ہیں اور نہ نفع۔ (ولا تخافون انکم اشرکتم باللہ مالم ینزل بہ علیکم سلطناً ) حالانکہ وہ غالب ہے اور ہر چیز پر قادر ہے پھر بھی تم نہیں ڈرتے (فای الفریقین احق بالامن) میں اور میرے دین والے مطمئن ہیں یا تم (ان کنتم تعلمون)
Ayah 6:82( 82) (الذین امنوا ولم یلبسوآ ایمانھم بظلم) اپنے ایمان میں شرک کو نہیں ملایا (اولئک لھم الامن وھم مھتدون)
ولم یلبسوا ایمانھم بظلم کی تفسیر
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ جب آیت کریمہ ” الذین امنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلم “ نازل ہوئی تو مسلمان پر یہ بہت گراں گزری اور کہنے لگے اے اللہ کے رسول ! (ﷺ ) ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے ظلم نہ کیا ہو ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا آیت میں ظلم سے شرک مراد ہے کیا تم نے وہ نہیں سنا جو لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا (بینی لاتشرک باللہ ان الشرک لظلم عظیم) (اے میرے بیٹے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنا، بیشک شرک بہت بڑا ظلم ہے)
Ayah 6:83(83) (وتلک حجتنآ اتینھآ ابرھیم علی قومہ) حتی کہ جب ان سے جھگڑا ہوا تو دلیل میں غالب آگئے (نرفع درجت من نشآئ) علم کے ساتھ اہل کوفہ اور یعقوب رحمہما اللہ نے درجات کو یہاں اور سورة یوسف میں تنوین کے ساتھ پڑھا ہے یعنی درجے بلند کرتے ہیں ہم جس کے چاہیں علم اور سمجھ اور فضیلت اور عقل کے ساتھ جیسا کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے درجات بلند کئے حتی کہ وہ ہدایت پا گئے اور توحید کی دلیل میں اپنی قوم پر غالب رہے۔ (ان ربک حکیم علیم)
Ayah 6:84(84) (ووھبنا لہ اسحق و یعقوب ط کلا ھدینا ونو حا ھدینا من قبل) ہم نے توفیق دی اور سیدھا راستہ دکھایا اور نوح (علیہ السلام) کو ہم نے ہدایت کی ان سب سے پہلے ) یعنی ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے (ومن ذرینہ) یعنی نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے۔ یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد مراد نہیں کیونکہ ان میں یونس اور لوط (علیہما السلام) کا بھی تذکرہ ہے اور یہ ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے نہیں ہیں۔ (دائود) یہ دائود بن ایشا ہیں (وسلیمان) یعنی دائود (علیہ السلام) کے بیٹے۔
(وایوب ) یہ ایوب بن اموص بن رازح بن روم ابن عیص بن اسحاق بن ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ (ویوسف اور یوسف) یہ یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہ السلام) پر (وموسیٰ اور موسیٰ ) یہ موسیٰ بن عمران بن یصحربن فاھث ابن لادی بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہ السلام) (وھرون) یہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی ہیں ان سے ایک سال بڑے تھے (وکذلک ) یعنی جس طرح نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی توحید پر بدلہ دیا کہ ان کے درجات بلند کئے اور ان کو ایسی اولاد دی جو نبیا ور متقی تھی اسی طرح (نجزی المحسنین) ان کی نیکی پر۔ ان انبیاء (علیہم السلام) کا آیت میں ذکر ان کے زمانے کی ترتیب پر نہیں ہے۔
Ayahs 6:85–86تفسیر :-(85) (وزکریا) یہ زکریا بن اذن ہیں (جو یحییٰ ) زکریا (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں (وعیسیٰ ) مریم بنت عمران کے بیٹے ہیں (والیاس) اس سے کون مراد ہیں اس میں مفسرین رحمہما اللہ کا اختلاف ہے۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ یہ ادریس (علیہ السلام) ہیں ان کے دو نام تھے۔ یعقوب اور اسرائیل کی طرح اور صحیح قول یہ ہے کہ الیاس، ادریس (علیہم السلام) کے علاوہ نبی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے الیاس (علیہ السلام) کا ذکر نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں کیا ہے اور ادریس (علیہ السلام) تو نوح (علیہ السلام) کے والد کے دادا ہی۔ الیاس (علیہ السلام) کا نسب نامہ یہ ہے الیاس بن بشیر بن فنحاص بن عیزاربن ہارون بن عمران (علیہم السلام)
( 85) (کل من الصحلین و اسمٰعیل) یہ ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں (والیسع) یہ اخطوب بن عجوز کے بیٹے ہیں اور حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ” الیسع “ کو الام کی شد اور یاء کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے یہاں بھی اور سورة ص میں بھی (ویونس) یہ یونس بن متی ہیں (ولوطاً ) یہ لوط بن ہاران ابراہیم کے بھتیجے ہیں (وکلا فضلنا علی العلمین) ان کے زمانہ کے جہان والوں پر ۔
Ayah 6:87(87) (ومن ابٓاء ھم ) یہاں ” من تبعیض “ کے لئے ہے کیونکہ بعض ابنیاء (علیہم السلام) کے آباد مشرک تھے (وذریتھم) یہاں بھی بعض ابنیاء (علیہم السلام) کی اولاد مراد ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ (علیہما السلام) کی اولاد نہ تھی اور بعض انبیاء (علیہم السلام) کی اولاد میں کافر بھی تھے۔ (واخوانھم واجتبینھم وھداینھم الی صراط مستقیم) ۔
Ayah 6:88(88) (ذلک ھدی اللہ) اللہ کا دین ہے (یھدی بہ من یشآء من عبادہ ذولوا شرکوا) یعنی جن کا ہم نے نام لیا (لخبط عنھم ما کانوا یعملون)
Ayah 6:89(89) اولئک الذین اتینھم الکتب) یعنی جو کتابیں ان پر اتاری گئیں (والحکم ) یعنی علم اور فقہ (والنبوۃ فان یکفربھا ھولآء ) یعنی الہ مکہ (فقد وکلنا بھا قوما لیسوا بھا بکفرین) یعنی انصار اور اہل مدینہ یہی قول ابن عباس ؓ عنما اور مجاہد (رح) کا ہے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس قوم سے وہ اٹھارہ ابنیاء (علیہم السلام) مراد ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے یہاں تذکرہ کیا ہے اور ابو رجاء عطاردی (رح) فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ اگر زمین والے انکار کریں گے تو ہم نے آسمان والوں یعنی فرشتوں کو مقرر کردیا ہے جو اس کے منکر نہیں ہیں۔
Ayah 6:90تفسیر :90 (اولئک الذی ھدی اللہ فبھدھم) یعنی ان کی سنت اور سیرت پر۔ اقتدہ میں ھاء وقف کی ہے۔ حمزہ، کسائی اور یعقوب رحمہما اللہ ھاء حالت وصل میں حذف کردیتے ہیں اور باقی حضرات وصل اور وقف دونوں صورتوں میں اس کو ثابت رکھتے ہیں ۔ (قل نا اسئلکم علیہ اجراً ط ان ھو الا ذکریٰ للعلمین)
Ayah 6:91(91) (وما قدرو اللہ حق قدرہ یعنی ان نے اس کی تعظیم کا حق ادا نہیں کیا اور بعض نے کہا کہ انہوں نے اس کا حق وصف بیان نہیں کیا۔ (اذا قالوا اما انزل اللہ لعی بشر من شیئ)
وما قدروا اللہ حق قدرہ کی تفسیر
سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی آیا جس کو مالک بن صیف کہا جاتا تھا اور مکہ میں نبی کریم ﷺ سے جھگڑنے لگا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا میں تجھے اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات کو نازل کیا کیا تو توریت میں یہ بات نہیں پاتا کہ اللہ تعالیٰ فربہ عالم کو ناپسند کرتے ہیں اور یہ یہودی بھی موٹا شخص تھا تو وہ غصہ ہوگیا اور کہنے لگا اللہ نے کسی انسان پر کچھ نہیں اتارا۔
سدی (رح) کہتے ہیں کہ یہ آیت فنحاص بن عازوراء کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ اس نے یہ بات کہی تھی جب مالک بن صیف کی بات یہودیوں نے سنی تو اس کو ڈانٹا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے تو ریت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل نہیں کی ؟ تو تو نے یہ بات کیوں کی ؟ تو مالک بن صیف کہنے لگا کہ محمد ﷺ نے مجھے غصہ دلا دیا تھا اس لئے میں نے یہ کہہ دیا تو یہود نے کہا جب بھی تجھے غصہ آئے گا تو تو اللہ پر ناحق باتیں کہے گا۔ اس لئے اس کو حبر کے مرتبہ سے اتار دیا اور کعب بن اشرف کو اپنا بڑا عالم بنادیا ۔
اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہود نے کہا تھا اے محمد ! (ﷺ ) کیا اللہ نے آپ (علیہ السلام) پر کتاب اتاری ہے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ہاں۔ تو وہ کہنے لگے اللہ کی قسم اللہ نے آسمان سے کوئی کتاب نہیں اتاری تو یہ آیت نازل ہوئی (وما قدروا اللہ حق قدرۃ) (قل من انزل الکتب الذی جآء بہ موسیٰ نوراً وھدی للناس) آپ ان سے کہہ دیں کس نے اتاری وہ کتاب جو موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے تھے روشن تھی اور ہدایت تھی لوگوں کے لئے) یعنی توریت (تجعلونہ قراطیس تبدونھا و تخفون کثیراً ) یعنی توریت کو الگ الگ لکھتے ہو پھر جو چاہتے ہو ظاہر کرتے ہو اور بہت سی باتیں چھپاتے ہو مثلاً محمد ﷺ کی صفات اور رجم کی آیت ابن کثیر اور ابو عمرو نے ” یجملونہ، ویدونھا، ویخفونھا “ کو یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان (وما قدروا اللہ) کی وجہ سے اور دیگر حضرات نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے اللہ تعالیٰ کے قول (قل من انزل الکتاب الذی جاء بہ مسوی) کی وجہ سے۔
(وعلمتم مالم تعلموا) اکثر مفسرین رحمہما اللہ کے نزدیک یہ خطاب یہود کو ہے یعنی محمد ﷺ کی زبان سے تم کو وہ باتیں سکھائیں جن کو تم نہ جانتے تھے (انتم ولا ابارکم ) حسن (رح) فرماتے ہیں کہ جو کچھ محمد ﷺ لے کر آنے والے تھے اس کا علم ان کو دے دیا تھا لیکن انہوں نے اس کو ضائع کردیا کوئی نفع نہ اٹھایا اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ یہ خطاب مسلمانوں کو ہے اللہ تعالیٰ ان کو اپنی نعمت یاد دلا رہے ہیں۔ ان کو محمد کی زبان سے تعلیم دی گئی (قل اللہ) یہ اللہ تعالیٰ کے قول (قل من نزل الکتاب الذی جاء بہ موسیٰ ) کی طرف لوٹ رہا ہے پس اگر وہ آپ کو جواب دیں تو ٹھیک ورنہ آپ کہہ دیں (اللہ) یعنی آپ کہیں اللہ نے اتار دی ہے۔ اتاری (ثم ذرھم فی خوضھم یلعبون)
Ayah 6:92تفسیر (92) وھذا کتب انزلنہ مبرک مصدق الذی بین یدیہ ولتذر) اے محمد ﷺ ابوبکر نے عاصم سے ” لبئذر “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے یعنی کتاب ڈرائے (ام القریٰ ) مکہ کا نام ام القریٰ اس وجہ سے رکھا گیا ہے کہ زمین مکہ کے نیچے سے بچھائی گئی ہے۔ تو یہ زمین کی اصل ہوئی جیسے ماں اپنی نسل کے لئے اصل ہوتی ہے اور یہاں مراد مکہ والے ہیں (ومن حولھا) یعنی تمام دنیا والے (والذین یومنون بالاخرۃ یومنون بہ) اس کتاب پر (وھم علی صلاتھم) پانچوں نمازوں سے (یخافظون) یعنی مئومن ہمیشہ پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں۔
Ayah 6:93(93) ومن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذباً ) اور یہ گمان کرے کہ اللہ نے اس کو نبی بنا کر بھیجا ہے (ائو فال اوحی الی ولم یوح الیہ شیء )
مسیلمہ کذاب کا قتل
قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت مسیلمہ کذاب کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ مسجع کلام کرتا تھا اور کاہن تھا۔ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور گمان کیا کہ اللہ نے اس کی طرف وحی بھیجی ہے۔ اس نے رسول اللہ ﷺ کی طرف دو قاصد بھیجے تو آپ (علیہ السلام) نے ان دو سے پوچھا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ مسیلمہ نبی ہے ؟ تو ان دونوں نے کہا جی۔ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر قاصد کو قتل نہ کیا جاتا ہوتا تو میں تمہاری گردا اڑا دیتا۔
ھمام بن منبہ سے روایت ہے کہتے ہیں ہمیں ابوہریرہ ؓ نے خبر دی کہ رسولا للہ ﷺ نے فرمایا کہ میں سویا ہوا تھا کہ مجھے زمین کے تمام خزانے دیئے گئے تو میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن رکھ دیئے گئے تو وہ مجھے بڑے ناگوار لگے تو میری طرف وحی کی گئی کہ میں ان کو پھونک مار دوں تو میں نے پھونک ماری تو وہ چلے گئے توں نے ان دو کنگنوں کی تعبیر دو ایسے جھوٹوں سے کی ہے جن کے درمیان میں ہوں ایک صاحب صنعاء اور دوسرا صاحب یمہ صاحب صنعاء سے اسود عنسی اور صاحب یمامہ سے مسیلمہ کذاب مراد ہے۔
(ومن قال سانزل مثل ما انزل اللہ) بعض نے کہا کہ یہ آیت عبداللہ بن سعدن ابی سرح کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ نبی کریم ﷺ کا کاتب تھا اور آپ (علیہ السلام) جب اس کو ” سمیعا بصیراً لکھوتاے تو یہ ” علیماً حکیماً لکھتا اور جب ” علیماً حکیماً “ لکھنے کا کہتے تو ” غفور اً رحیماً “ لکھتا۔ جب آیت ” ولقد خلقنا الانسان من سلالۃ من طین “ نازل ہوئی تو آپ نے لکھوائی تو عبداللہ کو انسان کی تخلیق بڑی عجیب لگی تو کہنے لگا ” تبارک اللہ احسن الخالقین ‘ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس کو لکھ لے اسی طرح نازل ہوئی ہے تو عبداللہ کو شک ہوا اور سونپے لگا اگر محمد ﷺ سچے ہیں تو میری طرف بھی وحی کی گئی ہے جیسے ان کی طرف کی جاتی ہے تو اسلام سے مرتد ہوگیا اور مشرکین کے ساتھ جا ملا۔ پھر فتح مکہ سے پہلے اسلام لے آیا۔ جب نبی کریم ﷺ نے ” مرالظھران “ جگہ پر پڑائو ڈالا ہوا تھا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت سے استہزاء کرنے والے مراد ہیں یہ ان کے قول ” لو نشاء لقلنا مثل ھذا “ کا جواب ہے (ولو تری اذا لظلمون فی عمرت الموت) موت کے سکرات میں یہ عمرۃ کی جمع ہے ہر چیز کا بڑا حصہ۔ اس کی اصل ایسی چیز جو اشیاء کو ڈھانپ لے۔ پھر اس کو سختیوں اور ناپسندیدہ چیزوں میں استعمال کیا جانے لگا (والمئکۃ باسطوا ایدیھم ) عذاب دینے کے لئے اور ان کے منہ اور پیٹھ کو مارنے کے لئے اور بعض نے کہ ا روح قبض کرنے کے لئے (اخرجوا انفسکم) یعنی اپنی روحوں کو مجبوراً نکالو کیونکہ مئومن کی روح تو اپنے رب کی ملاقات کے لئے خوش ہو رہی ہوتی ہے اور ” لو “ کا جواب مخذوف ہے کہ اگر آپ ان کو اس حال میں دیکھ لیں تو بڑا عجیب منظر دیکھیں۔ (الیوم تجزون عذاب الھون بما کنتم تقولن علی اللہ غیر الحق وکنتم عن ایتہ تستکبرون) قرآن پر ایمان لانے سے تکبر کرتے ہو اور اس کی تصدیق نہیں کرتے۔
Ayah 6:94تفسیر (84) (ولقد جنتمونا فرادی ) اللہ تعالیٰ خبر دے رہے ہیں کہ قیامت کے دن کفار کو کہیں گے تم اکیلے آئے ہو نہ تمہارے پاس مال ہے اور نہ بیوی اور نا اولاد اور نہ خادم فرادی فردان کی جمع ہے جیسے سرکاری سکران اور کسالی کسلان کی اعرج نے اس کو ” فردی “ پڑھا ہے بغیر الف کے ” سکری “ کی طرح (کما خلقنکم اول مرۃ) ننگے بدن، ننگے پائوں، لاغر کمزور (اوترکتم ماخولنکم) اور چھوڑ آئے اپنے پیچھے مال، اولاد، خادم (ورآء ظھورکم) دنیا میں (وما نری معکم شفعآء کم الذین زعتم انھم فیکم شرکوآئ) کیونکہ مشرکین کا گمان تھا کہ وہ بتوں کی عبادت اس وجہ سے کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے شریک ہیں اور اس کے پاس ان کے سفارشی ہوں گے۔ (لقد تقطع بینکم وصل عنکم ما کنتم تزعمون) اہل مدینہ، کسائی اور صف رحمہما اللہ نے عاصم (رح) سے نون کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ معنی یہ ہے کہ تمہارے درمیان کے تعلقات ٹوٹ گئے اور نون کے پیش کے ساتھ یعنی تمہارا تعلق ٹوٹ گیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے قول (وتقطعت بھم الاسباب) کی مثل ہے یعنی تعلقات اور البین کا لفظ اضداد میں سے ہے کبھی ملانے اور کبھی جدا کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ (وضل عنکم ماکنتم تزعمون )
Ayah 6:95تفسیر (95) (ان اللہ فالق الحب والنوی) خلق کا معنی پڑھانا۔ (الفلق) پھاڑنا۔ حسن، قتادہ اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ دانہ سے خوشہ کو اور گٹھلی سے پودا کو پھاڑ کر نکالتا ہے۔ ” حب حبۃ “ کی جمع ہے جس چیز کی بھی گٹھلی نہ ہو اس کو ” حب “ کہا جاسکتا ہے جیسے گندم، جو، چاول وغیرہ۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں خشک دانہ اور خشک گٹھلی کو پھاڑتا ہے اور اسی سے سبز پتے نکالتا ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں ” نویٰ نواۃ “ کی جمع ہے ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس کا دانہ نہ ہو جیسے کھجور، شفتا لو وغیرہ۔ یعنی دو سوراخ جوان دونوں میں ہیں یعنی پودوں سے پھاڑتا ہے اور پودوں کو ان سے نکالتا ہے اور گٹھلی کو کھجور سے پھاڑتا ہے اور کھجور کا درخت گٹھلی سے نکالتا ہے اور (النوی نواۃ) کی جمع ہے وہ ہر چیز جس کا دانہ (بیج) نہ ہو جیسے کھجور، شفتالو وغیرہ۔ اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں (فالق الحب والنوی) یعنی دانہ (بیج) اور اس کی گٹھلی کو پیدا کرنے وا لا ہے۔ (یخرج الحی من المیت و مخرج المیت من الحی ط ذلکم اللہ فانی توفکون) حق سے پھر رہے ہو۔
Ayah 6:96(96) (فالق الاصباح) وہ ظلمت شب یا دن کی روشنی میں عمود صبح کو چیر کر نکالنے والا ہے۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں دن کو پیدا کرنے والا ہے۔ الاصباح مصدر ہے اقبال کی اور ادبار کی طرح۔ بمعنی رشن کرنا اور اس سے صبح مراد ہے۔ یعنی دن کا ابتدائی ظاہر ہونے والا حصہ۔ مراد یہ ہے کہ وہ صبح کو ظاہر اور واضح کرنے والا ہے۔ (وجعل الیل سکناً ) جس میں مخلوق آرام کرتی ہے اور اہل کوفہ رحمہما اللہ نے وجعل کو ماضی اور (اللیل) کو منصوب پڑھا ہے مصحف کی اتباع کرتے ہوئے اور ابراہیم نخعی (رح) نے (فلق الاصباح) اور (وجعل اللیل سکنا) پڑھا ہے۔ (والشمس والقمر حسباناً ) یعنی سورج اور چاند کو متعین حساب پر مقرر کیا ہے کہ وہ اس سے تجاوز نہیں کتے اور الحساب مصدر ہے الحاسب کی طرح اور بعض نے کہا ہے کہ حساب کی جمع ہے۔ (ذلک تقدیر العزیز العلیم) ۔
Ayah 6:97(97) (وھو الذی جعل لکم النجوم) یعنی ان کو تمہارے لئے پیدا کیا (لتھتدوا بھا فی ظلمت البر والبحر) اللہ تعالیٰ نے ستاروں کو کئی فوائد کے لئے پیدا کیا۔ ایک فائدہ تو یہ ہے کہ سمندر ی سفر کرنے والے اور بیابان میں سفر کرنے والے رات کو اپنی منزل کا تعین ان کے ذریعے کرتے ہیں اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ یہ آسمان کی خوبصورتی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (ولقد زینا السماء الدنیا بمصابیح اور تیسرا فائدہ یہ ہے کہ شیطان کو بھگانے کے کام آتے ہیں۔ (کمال قال اللہ تعالیٰ وجعلنا ھا رجوماً للشیاطین)…(قد فصلنا الایت لقوم یعلمون)
Ayah 6:98(98) (وھو الذی انشاکم من نفس واحدۃ) یعنی آدم (علیہ السلام) سے فمستقر و مستودع پھر ایک تو تمہارا ٹھکانہ ہے اور ایک امانت رکھی جانے کی جگہ ہے) ابن کثیر اور اہل بصرہ نے مستقر کو قاف کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی تم میں سے ٹھکانہ پکڑنے والے ہیں اور تم میں امانت رکھنے والے اور باقی حضرات نے قاف کے فتحہ کے ساتھ۔
مستقر اور مستودع کی تفاسیر
مستعقر اور مستودع کی تفسیر میں اختلاف ہے۔
-1 عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ مستقر رحم میں پیدائش کے وقت تک اور مستودع قبر میں بعث تک۔
-2 سعید بن جبیر ؓ اور عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ مستقر مائوں کے رحم میں اور مستودع باپ کی پشت میں یہی کہ جو امانت تیری پیٹ ھ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو عنقریب باہر نکال دے گا۔
-3 ابی سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ مستقر آباء کی پشت میں اور مستودع مائوں کے رحموں میں۔
-4 بعض نے کہا ہے مستقر رحم میں اور مستودع زمین کے اوپر۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (ونقر فی الارحام مانشائ)
-5 مجاہد (رح) فرماتے ہیں مستقر دنیا میں زمین کے اوپر اور مستودع آخرت میں اللہ کے پاس اور اس پر اللہ تعالیٰ کا قول (اولکم فی الارض مستقر و متاع الی حین) دلالت کرتا ہے۔
(6) حسن (رح) فرماتے ہیں المستقر قبر میں اور الممتودع دنیا میں اور وہ فرماتے تھے اے ابن آدم ! تو اپنے گھر والوں میں امانت ہے اور عنقریب تو اپنے ساتھی سے جا ملے گا۔
-7 بعض نے کہا ہے المستودع قبر اور المستقر جنت اور جہنم کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جنتیوں کے بارے میں فرمایا ہے (حسنت سقراً و مقاماً ) اور جہنمیوں کے بارے میں فرمایا (ساء تم ستقراً و مقاماً )…(قد فصلنا الایت لقوم یفقھون)
Ayah 6:99تفسیر :-(99) (وھو الذی انزل من السمآء مآء فاخر جنابہ) پانی سے (نبات کل شیء فاخرجنا منہ) پانی سے اور بعض نے کہا نبات سے (خضراً سبز کھیتی) یعنی سرسبز جیسے العور اور الاعور ہے یعنی جو ترو تازہ اور سرسبز ان میں سے جو اگتا ہے جو اور گندم وغیرہ سے۔ (نخرج منہ حبا مترا کباً ) یعنی آپس میں ملے ہوئے جیسے گندم، جو اور چاول وغیرہ کی خوشوں میں دانے ملے ہوئے ہوتے ہیں۔ (ومن النحل من طلعھا قنوان) طلع کا معنی کھجور کا ابتدائی پھل۔ قنوان قنو کی جمع ہے بمعنی ٹہتی سے صنو اور صنوان کی مثل ان دونوں کی کلام میں کوئی نظیر نہیں ہے۔ (دانیۃ) کھانے والے کے قریب کہ کھڑا بیٹھا ہر شخص ان کو لے سکے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں ہیں کہ بھرے ہوئے۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں چھوٹے زمین سے لگے ہوئے، اس میں اختصار ہے۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ کھجور کے بعض گچھے قریب ہیں اور بعض دور یہاں صرف قریب کے ذکر پر اکتفاء کیا گیا ہے کیونکہ دور خود ذہن کی طرف سبقت کرتا ہے اس لئے ذکر کی ضرورت نہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (سرابیل تفیکم الحر) یعنی سردی اور گرمی سے۔ ایک کے ذکر پر اکتفاء کیا ہے۔ (وجنات من اعناب) یعنی ہم نے اس سے باغات نکالے اور اعمش نے عاصم (رح) (وجنات) پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قول (قنوان) پر عطف ہے اور اکثر قراء اس کے خلاف ہیں۔ (والزیتون والرمان) یعنی زیتون اور انار کے در۔ ت (والزیتون والرمان) یعنی انگور اور انار کے درخت (مشتبھا و غیر متشابہ) قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے پتے مشابہ اور پھل مختلف ہیں کیونکہ زیتون کے پتے انار کے پتوں سے ملتے جلتے ہیں اور بعض نے کہا کہ دیکھنے میں ملتے جلتے اور ذائقے میں مختلف۔ (انظروا الی ثمرۃ)
حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ثاء اور میم کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہاں دونوں جگہ اور سورة یٰسین میں کہ یہ ثمار کی جمع ہے اور باقی حضرات ثاء اور میم کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہ ثمرۃ کی جمع ہے جیسے بقرۃ کی جمع بقر۔ (اذا اثمر و ینعہ ان فی ذلکم لایت لقوم یومنون)
Ayah 6:100تفسیر :-100 (وجعلو اللہ شرکآء الجن) یعنی کافر اللہ کا شریک جنون کو بناتے ہیں (وخلقھم) یعنی جنون کو پیدا کیا ہے۔
زنا دقہ کی تردید
کلبی (رح) کہتے ہیں کہ یہ آیت زندیق لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی کہ وہ تخلیق میں ابلیس کو شریک بناتے تھے اور کہتے تھے اللہ نور اور لوگوں اور چوپایوں کا خالق ہے اور ابلیس تاریکی ، درندوں، سانپوں، بچھوئوں کا خالق ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے قول (وجعلوا بینہ وبین الجنۃ نسبا) کی طرح ہے اور ابلیس جنوب میں سے ہے۔ (وخرقوا) راء کی شد کے ساتھ تکثیر کے معنی کی بناء پر اور دیگر حضرات نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی انہوں نے گھڑ لیا (وخرقوا لہ بنین وبنت بغیر علم) جیسے یہود نے کہا عزیز (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے اور نصاریٰ نے کہا مسیح (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں اور کفار مکہ نے کہا فرشتے اللہ کے بیٹے ہیں (سبحنہ و تعلی عما یصفون)
Ayah 6:101101 (بدیع السموت والارض) ان دونوں کو بغیر کسی مثال کے پیدا کیا۔ (اتی یکون لہ ولد) اور وہ کیسے اس کے لئے اولاد کو منتخب کرتے ہیں۔ (ولم تکن لہ صاحبۃ) حالانکہ اس کی کوئی بیوی نہیں۔ (وخلق کل شیء و ھو بکل شیء علیم)
Ayah 6:102(102) ذلکم اللہ ربکم لا الہ الا ھو خالق کل شیء فاعبدوہ) یعنی اس کی اطاعت کرو (وھو علی کل شیء وکیل) اس کی حفاظت اور تدبیر کر کے ۔ (لاتدر کہ الابصار وھو یدرک الابصار) ۔
رویت باری تعالیٰ کا ثبوت اور معتزلہ کی تردید
ان جیسی آیات کے ظاہر سے معتزلہ نے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دیکھنا ممکن نہیں۔
اور اہل سنت والجماعت کا مذہب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ” رئویت عیانا “ ثابت ہے۔
خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وجوہ یومئذ ناضرۃ الی ربھا ناظرۃ کئی چہرے اس دن ترو تازہ ہوں گے اپنے رب رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے) اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا (کلا انھم عن ربھم یومئذ لمعجوبون)
امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ اگر مئومنین نے اللہ تعالیٰ کو قیامت کے دن نہ دیکھنا ہوتا تو اللہ تعالیٰ کافروں کو یہ عار نہ دلاتے کہ اس دن تمہارے سامنے پردہ ہوگا اور نبی کریم ﷺ نے آیت پڑھی (للذین احسن الحنسی، ان لوگوں کے لئے جنہوں نے نیکی کی حسنیٰ (جنت) ہے اور زیادتی) اور زیادتی کی تفسیر فرمائی کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی زیارت ہے۔
جریر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم عنقریب اپنے رب کو آمنے سامنے دیکھ لو گے۔
Ayah 6:103(103) (لاتدر کہ الابصار) ادراک کا معنی ہوتا ہے شے کی حقیقت پر مطلع ہونا اور اس کی حقیقت کا احاطہ کرنا اور رئویت کا معنی ہوتا ہے دیکھنا، مشاہدہ کرنا اور کبھی دیھکنا بغیر ادراک کے بھی ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں بیان کیا (فلما تر ای الجمعان قال اصحاب موسیٰ انا لمدرکون) پس جب دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا تو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی کہنے لگے کہ ہم پکڑے گئے) کہا ہرگز نہیں۔ (تخاف درکا ولا تخشی تو نہ خوف کر پکڑے جانے کا اور نہ ڈر) تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ادراک کی نفی کی ہے اور رئویت کو ثابت کیا ہے تو یہ بات ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بندے بغیر ادراک اور احاطہ کے دیکھ لیں جیسا کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہے لیکن اس کی ذات کا احاطہ کوئی اپنی معرفت سے نہیں کرسکتا خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا (ولا یحیطون بہ علماً اور وہ نہیں احاطہ کرسکتے اس کا علم کے ذریعے) ثبوت علم کے ساتھ احاطہ کی نفی کی۔ سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ آنکھیں اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں اور عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ مخلوق کی آنکھیں اس کے احاطہ سے عاجز آگئی ہیں۔ ابن عباس ؓ اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ دنیا میں آنکھیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ آخرت میں دیکھا جائے گا۔ (وھو یدرک یدرک الابصار) یعنی اللہ پر کوئی چیز مخفی نہیں ہے اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹ سکتی ہے۔ (وھو اللطیف الخبیر) ابن عباس ؓ اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ دنیا میں آنکھیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ آخرت میں دیکھا جائے گا۔ (وھویدرک یدرک الابصار) یعنی اللہ پر کوئی چیز مخفی نہیں ہے اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹ سکتی ہے۔ (وھو اللطیف الخبیر) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ” اللطیف “ اپنے اولیاء پر ان کے بارے میں باخبر ہے اور امام زہری (رح) فرماتے ہیں (اللطیف) کا معنی اپنے بندوں پر نرمی کرنے والا ہے اور بعض نے کہا ہے (اللطیف) کسی چیز کو نرمی کے ساتھ پہنچانے والا اور بعض نے کہا ہے (اللطیف) وہ ذات جو بندوں کو ان کے گناہ بھلا دے تاکہ وہ شرمندہ نہ ہوں اور (اللطف) کی اصل اشیاء میں باریک بینی۔ (وھو اللطیف الخبیر)
Ayah 6:104تفسیر (104) (قد جآء کم بصآئر من ربکم تمہاریپ اس آچکیں نشانیاں تمہارے رب کی طرف سے، یعنی واضح دلائل جن کے ذریعے تم ہدایت کو گمراہی سے اور حق کو باطل سے دیکھ سکو۔ (فمن ابصر) پھر جس نے دیکھ لیا اور اس پر ایمان لایا (فلنفسہ) سو اپنے واسطے اس کا عمل اور اس کا نفع اس کے لئے ہے (ومن عمی فعلیھا) اور جو اندھا رہا سو اپنے نقصان کو) یعنی جو ان نشانیوں سے اندھا رہا ان کو نہ پہچانا اور ان کی تصدیق نہ کی تو اس کا نقصان اس کی ذات کو ہوگا (ومآ انا علیکم بحفیظ ) کہ تمہارے اعمال شمار کرتا رہوں میں تو رسول ہوں میرا کام اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دینا ہے۔ اللہ تمہارے اعمال پر نگہبان ہے اس پر تمہارا کوئی عمل مخفی نہیں رہتا۔
Ayah 6:105(105) وکذلک نصرف الایت) ہم ان کی تفصیل کرتے اور ہر صورت میں بیان کرتے ہیں تاکہ وہ کہیں) بعض نے کہا اس کا معنی یہ ہے کہ تاکہ وہ نہ کہیں (ولیقولوا) اور بعض نے کہا ہے لام لام عاقبت ہے یعنی ان کے معاملہ کا انجام یہ ہوگا کہ وہ کہیں گے (درست) یعنی آپ نے کسی سے پڑھا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ آپ نے اہل کتاب کی کتابوں کو پڑھا ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ (فالتقطہ آل فرعون لیکون لھم عدوا وحزنا) اور یہ بات معلوم ہے کہ آل فرعون نے اس کو اس لئے نہیں اٹھایا تھا لیکن ان کے اٹھانے کا انجام یہ ہوا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ تاکہ اہل مکہ کہیں جب آپ ان پر قرآن پڑھیں کہ آپ نے اس کو یسار اور جبر سے سیکھا ہے یہ دور رومی غلام تھے اور ان سے سیکھ کر آپ ہم پر پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔
یہ ان کے قول درست الکتاب ادرسی و دراست سے مشتق ہے اور فراد (رح) فرماتے ہیں وہ کہتے ہیں آپ نے یہود سے سیکھا ہے اور ابن کثیر اور ابو عمرو نے پڑھا ہے (دارست) الف کے ساتھ سین کے زبر اور تاء کے سکون کے ساتھ۔ یعنی یہ پرانی خبریں جو آپ ہمیں پڑھ کر سناتے ہیں۔ یہ مٹ چکی ہیں یہ اہل عرب کے قول درس الاثرید رس دروسا سے مشتق ہے۔ (ولنبینہ لقوم یعلمون) یعنی قرآن اور بعض نے کہا ہے نصرف الآیات لقوم یعلمون۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مراد اس کے اولیاء ہیں جن کو سیدھے راستے کی طرف ہدایت دی ہے اور بعض نے کہا ہے یعنی آیات کا پھیر۔ تاکہ ان کے ذریعے ایک قوم بدبخت ہو اور دوسری قوم نیک بخت ہو جس نے کہا کہ آپ نے یہ کسی سے پڑھا ہے تو وہ بخت ہو۔ پس جس نے کہا کہ آپ نے یہ کسی سے پڑھا ہے تو وہ بدبخت ہے اور جس کے لئے حق واضح کیا گیا تو وہ نیک بخت ہے۔
Ayah 6:106تفسیر (106) (اتبع ما اوحی الیک من ربک) یعنی قرآن پر عمل کریں (لا الہ الا ھو و اعرض عن المشرکین) ان سے نہ جھگڑیں۔
Ayah 6:107107 (ولو شآء اللہ ما اشرکوا) یعنی اگر چاہتا تو سب مئومن ہوتے (وما جعلنک علیھم حفیظاً ) عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ آپ کو اس لئے نہیں بھیجا گیا کہ مشرکین کی اللہ کی عذاب سے حفاظت کریں آپ تو صرف مبلغ بنا کر بھیجے گئے ہیں (وما انت علیھم بوکیل )
Ayah 6:108108 (اور تم لوگ برا نہ کہو ان کو جن کی یہ پرستش کرتے ہیں اللہ کے سوا)
ولا تسبوا الذین کا شان نزول
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت کریمہ ” انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم “ نازل ہوئی تو مشرکین کہنے لگے اے محمد ! (ﷺ ) آپ ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے باز آجائیں ورنہ ہم آپ (علیہ السلام) کے رب کی اشعار میں برائی کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے مسلمان کو ان کے بتوں کو برا بھلا کہنے سے منع کردیا اور قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ مسلمان کافروں کے بتوں کو برا بھلا کہتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو روک دیا کہ کہیں وہ اپنی جہالت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر سب و شتم نہ شروع کردیں۔
اور سدی (رح) کہتے ہیں کہ جب ابو طالب کی وفات کا وقت آیا تو قریش کہنے لگے کہ ہم ابوطالب کے پاس چلتے ہیں اور ان کو کہتے ہیں کہ اپنے بھتیجے کو ہم سے روکے کیونکہ ہمیں اس سے شرم اتٓی ہے کہ آپ کے مرنے کے بعد ہم ان کو قتل کریں تو عرب کہیں کہ ان کا چچا رکاوٹ تھا، اس کے مرتے ہی انہوں نے بھتیجے کو قتل کردیا تو اس مقصد کے لئے ابوسفیان، ابوجہل، نضربن حارث، امیہ اور ابی دونوں خلف کے بیٹے، عقبہ بن ابی معیط اور عمرو بن عاص اور اسود بن ابی البختری ابو طالب کے پاس گئے اور کہنے لگے اے ابو طالب ! آپ ہمارے بڑے اور سردار ہیں محمد ﷺ ہیں اور ہمارے خدائوں کو تکلیف دیتے ہیں، ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کو بلا کر اس سے منع کریں کہ وہ ہمارے خدائوں کا تذکرہ نہ کیا کریں، ہم ان کو اور ان کے خدا کو چھوڑ دیں گے تو ابو طالب نے آپ (علیہ السلام) کو بلایا اور کہا اے محمد ! (ﷺ ) یہ آپ کی قوم چاہتی ہے کہ آپ ان کو اور ان کے معبودوں کو چھوڑ دیں تو یہ آپ کو اور آپ کے معبود کو چھوڑ دیں گے ان لوگوں نے انصاف کی بات کی ہے آپ ان کی یہ بات قبول کرلیں تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر میں تمہاری یہ خواہش پوری کر دوں تو کیا تم مجھے ایک ایسا کلمہ دے سکتے ہو جس کو اگر تم کہہ لو تو پورے عرب کے مالک ہو جائو گے اور عجم تمہارے قریب ہوجائیں گے تو ابو جہل کہنے لگا ہاں تیرے باپ کی قسم ! ایسے دس کلمے کہہ دیں گے اور پوچھنے لگا وہ کیا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ” لا الہ الا اللہ “ کہہ دو تو انہوں نے انکار کردیا تو ابو طالب کہنے لگے بھتیجے اس کے علاوہ کوئی بات کہو تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا اے چچا ! میں اس کے علاوہ کوئی بات نہیں کہتا۔
اگرچہ یہ سورج کو لا کر میرے ہاتھوں میں رکھ دیں تو وہ کہنے لگے کہ آپ ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے رک جائیں ورنہ ہم آپ کو اور جو آپ کو حکم دیتا ہے اس کو سب و شتم کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ اس سے مراد بت ہیں (فیسبو اللہ عدواً ) ظلم اور سرکشی میں حد سے بڑھے ہوئے (بغیر علم) بغیر علم۔
یعقوب نے ” عدواً “ کو دال اور عین کی پیش اور وائو کی شد کے اتھ پڑھا ہے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام ؓ کو فرمایا کہ اپنے رب کو برا بھلا نہ کہو تو مسلمان ان کے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے رک گئے۔ آیت کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ ان کے معبودوں کو برا بھلا نہ کہو لیکن حقیقت میں یہ اللہ تعالیٰ کو برا بھلا کہنے سے نہی ہے کیونکہ ان کے معبدوں کو برا بھلا کہنا سبب بنے گا اللہ تعالیٰ کے سب و شتم کا ۔ (کذلک زینا لکل امۃ عملھم) جیسے ان مشرکوں کے لئے بتوں کی عبادت اور شیطان کی اطاعت مزین کردی ہے اسی طرح ہر گوہ کے لئے ان کے اچھے برے عمل مزین کردیئے ہیں (ثم الی ربھم مرجعھم فینبھم اور ان کو بدلہ دیں گے بما کانوا یعملون)
Ayah 6:109تفسیر 109 (واقسموا باللہ)
آیت و اقسموا باللہ جھد ایمانھم کا شان نزول
محمد بن قرظی اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ قریش کہنے لگے محمد ! (ﷺ ) آپ ہمیں خبر دیتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کیپ اس ایک لاٹھی تھی اس کو پتھر پر مارا تو اس سے بارہ چشمے پھوٹ پڑیا ور یہ خبر دیتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) مردوں کو زندہ کردیتے تھے تو آپ ایسی کوئی نشانی ہمارے پاس لائیں تاکہ ہم آپ کی تصدیق کریں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم کیا چیز پسند کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا ہمارے لئے صفا پہاڑ کو سونا بنادیں اور ہمارے کچھ مردے زندہ کردیں تاکہ ان سے پوچھیں کہ آپ جو کہہ رہے ہیں وہ حق ہے یا باطل اور ہمیں فرشتے دکھائیں جو آپ (علیہ السلام) کے حق میں گواہی دیں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا اگر میں ان میں سے کچھ باتیں کردوں تو کیا تم میری تصدیق کرو گے ؟ تو کہنے لگے جی ہاں اللہ کی قسم ! اگر آپ نے ایسا کردیا تو ہم سب آپ کا اتباع کریں گے اور مسلمانوں نے بھی رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ ان چیزوں کو ان پر اتار دیں تاکہ یہ ایمان لے آئیں تو رسول اللہ ﷺ دعا مانگنے کے لئے کھڑے ہوئے تو جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور کہا کہ اگر آپ چاہیں تو اللہ تعالیٰ صفا کو سونے کا بنادیں لیکن اگر انہوں نے تصدیق نہ کی تو ان کو عذاب دوں گا اور اگر آپ چاہیں تو ان کو چھوڑ دوں تاکہ ان کے لوگ توبہ کرلیں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا میں یہ چاہتا ہوں کہ ان کے لوگ توبہ کرلیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ (واقسموا باللہ جھد ایمانھم) یعنی انہوں نے اللہ کی قسمیں کھائیں یعنی قسموں کی جتنی تاکید پر قادر تھے اتنی تاکید سے قسمیں کھائیں۔ کلبی اور مجاہد رحمہما اللہ فرماتے ہیں جب کوئی شخص اللہ کی قسم کھاتا ہے تو یہ اس کی پختہ قسم ہے۔ (لئن جآء تھم ایۃ) جیسے ان سے پہلی امتوں کے پاس آئی ہے (لیومن بھا قل انما الایت عند اللہ تو ضرور اس پر ایمان لائیں گے آپ کہہ دیں اے محمد ! (ﷺ ) کہ نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں اور اللہ ہی ان کے نازل کرنے پر قادر ہے اور تم کو اے مسلمانو ! اور تمہیں کیا خبر ہے (وما یشعرکم) اور تمہیں کیا معلوم اس کے مخاطب کون لوگ۔ مختلف اقوال ہیں۔ بعض نے کہا ہے ان مشرکین کو خطاب ہے جنہوں نے قسمیں کھائی تھیں اور بعض نے کہا ہے مئومنین کو خطاب ہے انھآ اذا جآء ث لایومنون کہ وہ نشانیاں آئیں گی تو یہ لوگ ایمان لے ہی آئیں گے۔ )
(انھا اذا جاء ت لایئومنون) آیت کے متعلق ابن کثیر اور اہل بصرہ اور ابوبکر نے عاصم رحمہما اللہ سے روایت کیا ہے کہ (انھا) الف کی زیر کے ساتھ ہے ابتداء کی بناء پر اور ان حضرات نے کہا ہے کہ (وما یشعرکم) پر کلام مکمل ہوگئی تھی، پھر جنہوں نے کہا کہ یہ خطاب مشرکین کے لئے ہے انہوں نے اس کا معنی یہ کیا ہے اور اے مشرکو ! تمہیں کیا خبر ہے کہ اگر وہ نشانیاں آجائیں گی تو تم ایمان لے آئو گے ؟ اور جنہوں نے کہا کہ یہ خطاب مئومنین کے لئے ہے انہوں نے اس کا معنی یہ کیا ہے ” اے مئومنو ! تمہیں کیا خبر ہے کہ اگر وہ نشانیاں آجائیں تو یہ مشرکین ایمان لے آئیں گے ؟ اس لئے کہ مسلمان رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال کرتے تھے کہ اللہ سے دعا کریں کہ جو نشانیاں یہ مانگ رہے ہیں ان کو دکھا دیں تاکہ وہ ایمان لے آئیں تو اللہ تعالیٰ نے (وما یشعرکم) سے ان کو خطاب کیا ہے۔ پھر باتداء کرتے ہوئے فرمایا (انھا اذا جاء ت لایئومنون) یہ آیت مخصوص قوم کے بارے میں ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کردیا تھا کہ وہ ایمان نہ لائیں گے اور دیگر حضرات نے (انھا)
الف کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اس صورت میں یہ خطاب مئومنین کے لئے ہے۔ انھا اذا جآء ت لایومنون ۔ یہ مخصوص قوم کے بارے میں ارشاد فرمایا اور یہ اللہ کا فیصلہ تھا کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ (انھا) بعض حضرات نے الف کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور کہا ہے کہ یہ خطاب مئومنین کو ہے۔ بعض حضرات نے لایئومنون کو صلہ قرار دیا ہے۔ وما یشعرکم کے ماموصلہ کا۔ اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہوگا کہ اے مئومنین کی جماعت کہ جب آیات یا معجزات آ بھی جائیں تو پھر بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ بعض نے کہا کہ انھا لعل کے معنی میں ہے اور یہی قرأت ابی بن کعب کی ہے۔ یعنی تم کو کیا معلوم کہ ظہور معجزہ کے بعد مشرکین کی کیا رفتار ہے۔ شاید وہ ایمان نہ لائیں۔ بعض حضرات کے نزدیک لایئومنون کے بعد او یئومنون محذوف ہے۔ یعنی تم کو نہیں معلوم کہ معجزہ آنے کے بعد یہ ایمان نہیں لائیں گے یا لائیں گے۔
Ayah 6:110تفسیر (110) (ونقلب افئدتھم وابصارھم کمالم یئومنوا بہ اول مرۃ)
کفار مکہ کی مزید ہٹ دھرمیاں
ابن عباس ؓ کہ یعنی ہم ان کے اور ایمان کے درمیان رکاوٹ ہیں۔ اگر ہم ان کی منہ مانی نشانیاں دے دیں تو بھی وہ ایمان نہ لائیں گے جیسے پہلی مرتبہ نہیں لائے یعنی اس سے پہلے چاند کے ٹکڑے ہوجانا اور بعض نے کہا کہ جس طرح یہ پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات اور دیگر معجزات دیکھ کر ایمان نہیں لائے تو اب کیسے لاسکتے ہیں ؟ علی بن ابی طلحہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ پہلی مرتبہ سے مراد دنیا ہے یعنی اگر ان کو آخرت سے دنیا کی طرف لوٹا دیا جائے تو بھی ہم ان کے دل اور آنکھیں ایمان سے الٹ دیں گے جیسے وہ دنیا میں مرنے سے پہلے ایمان نہیں لائے۔ (ونذرھم فی طغیانھم یعمھون) عطاء (رح) فرماتے ہیں ہم ان کو رسوا کردیں گے اور ان کو ان کی گمراہی میں سرگرداں چھوڑ دیں گے۔
Ayah 6:111تفسیر (111) (ولواننا نزلنا الیھم الملٓئکۃ) اور وہ ان کو اپنے سامنے دیکھ لیں (وکلمھم الموتی) ہم ان کو زندہ کردیں اور وہ آپ کی نبوت کی گواہی دیں جیسے ان کا مطالبہ ہے (وحشرنا علیھم کل شیء قبلاً ) اہل مدینہ اور ابن عامر رحمہما اللہ نے قبلا کو قاف کے کسرہ اور باء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے یعنی آمنے سامنے اور باقی حضرات نے قاف اور باء کے پیش کے ساتھ اور بعض نے کہا یہ قبیل کی جمع ہے یعنی ” قبیلہ ای “ فوج اور بعض نے کہا مقابلہ کے معنی میں ہے ان کے قول اتیتک قبلاً لادبراً کی طرح ہے جب اس کے سامنے آئے۔ (ماکانوا لیومنوا الا ان یشآء اللہ ولکن اکثرھم یجھلون)
Ayah 6:112تفسیر (112) (وکذلک جعلنا لکل نبی عدواً ) اس میں نبی کریم ﷺ کو تسلی ہے یعنی جس طرح اس قوم کے ذریعے ہم نے آپ کی آزمائش کی اسی طرح آپ سے پہلے ہر نبی کے لئے دشمن بنائے ۔ شیطین الانس والجن
شیاطین انس و جن کا بیان
عکرمہ، ضحاک، سدی اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ انسانوں کے شیطان ایسے جو انسانوں کے ساتھ اور جنوں کے شیطان ایسے جو جنوں کے ساتھ اور انسانوں میں سے کوئی شیطان نہیں کیونکہ ابلیس نے اپنے لشکر کو دو حصے کردیا ہے۔ ایک جماعت ان میں سے انسانوں کی طرف اور ایک جماعت جنوں کی طرف بھیجی اور یہ دونوں جماعتیں نبی کریم ﷺ اور آپ کے اولیاء کی دشمن ہیں اور یہ دونوں جماعتیں آپس میں ملتی ہیں اور ایک دوسرے کو کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ساتھی کو یوں گمراہ کیا تو بھی اس کو اس طریقہ سے گمراہ کر اور یہی ان کی ایک دوسرے کی طرف وحی ہے۔
قتادہ، مجاہد اور حسن رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ انسانوں میں سے بھی شیاطین ہیں جیسا کہ جنوں میں سے شیطان ہیں اور شیطان ہر سرکش چیز کو کہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ شیطان جب کسی انسان کو گمراہ کرنے سے تھک جاتا ہے تو سرکش انسان کی طرف جاتا ہے اور اس کو ابھارتا ہے کہ وہ اس انسان کو گمراہ کرے اس پر دلیل وہ حدیث ہے جس کو ابو ذر ؓ نے روایت کیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ کیا تو اللہ کی پناہ انسانوں اور جنوں کے شیاطین سے مانگتا ہے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! (ﷺ ) کیا انسانوں میں بھی شیاطین ہیں ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ہاں اور یہ جنوں کے شیاطین سے زیادہ برے ہیں۔
مالک بن دینار (رح) فرماتے ہیں کہ انسانوں کے شیطان زیادہ نقصان دہ ہیں مجھ پر جنوں کے شیاطین سے کیونکہ جب میں تعوذ پڑھتا ہوں تو جنوں کا شیطان بھاگ جاتا ہے اور انسانوں کا شیطان میرے پاس آت ا ہے اور مجھے گناہوں کی طرف لے جاتا ہے (یوحی بعضھم الی بعض زخرف القول غروراً ) زخرف ایسے قول کو کہتے ہیں جس پر باطل کا خوبصورت لبادہ چڑھایا جاتا ہے لیکن اس کا کوئی معنی نہیں وہتا۔ یعنی یہ شیاطین بنی آدم کے برے اعمال کو مزین کرتے ہیں اور ان کو دھوکہ دیتے ہیں (ولو شآء ربک ما فعلوہ) یعنی ان کے دل میں وسوسہ نہ ڈالتے (فذرھم وما یفترون)
Ayah 6:113-113 (ولتصفی الیہ افئدۃ الذین لایئومنون بالاخرۃ) یعنی اس کی طرف مائل ہوتا ہے اور الصفو مائل ہونا۔ کہا جاتا ہے صفو فلان معک یعنی مائل ہوا اور اس کا فعل صفی یصفی، صفار و صفی یصفی اور یصفوا اصفو ہے ای ھائ (زخرف القول کی طرف لوٹ رہی ہے ولیرضوہ ولیقترفوا اور وہ اس کو پسند بھی کرلیں اور کئے جائیں تاکہ وہ کمائیں۔ ماھم مفترفون)
کہا جاتا ہے افترف فلان مالاً جب وہ مال کمائے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (ومن یفترف حسنۃ) اور زجاج (رح) فرماتے ہیں یعنی تاکہ وہ جو گناہ کرتے ہیں وہ کرلیں۔
Ayah 6:114تفسیر (114) (افغیر اللہ ابتغی حکماً ) اس میں عبارت محذوف ہے یعنی اے محمد آپ ان کو کہیں کیا اللہ کے سوا کسی اور کو منصف بنائوں) جو میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرے کیونکہ وہ نبی کریم ﷺ کو کہتے تھے کہ آپ ہمارے اور اپنے درمیان کوئی منصف بنائیں تو ﷺ نے ان کو یہ جواب دیا (وھو الذی انزل الیکم الکتب مفصلاً ) اس میں امر اور نہی واضح ہیں اور بعض نے کہا مفصلاً کا معنی ہے پانچ پانچ اور دس دس آیتیں نازل کیں (والذین اتینھم الکتب) یعنی یہود اور نصاریٰ کے علماء جن کو ہم نے تو رات اور انجیل دی ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اہل کتاب میں سے ایمان لانے والے مراد ہیں اور عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے اہم صحابہ کرام ؓ مراد ہیں اور کتاب سے مراد قرآن ہے (یعلمون انہ منزل) ابن عامر اور حفص رحمہما اللہ نے ” منزل “ کو شد کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہ تنزیل باب سے ہے کیونکہ قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا گیا ہے اور دیگر حضرات نے تخفیف کے ساتھ انزل باب سے پڑھا ہے (من ربک بالحق فلا تکونن من الممترین) شک کرنے والوں میں سے کہ وہ اس کو جانتے ہیں۔
Ayah 6:115115 (وتمت کلمت ربک) اہل کوفہ اور یعقوب نے ” کلمۃ “ کو مفرد اور باقی حضرات نے کلمات جمع کا صیغہ پڑھا ہے اور کلمات سے مراد امر، نہی ، وعدہ، وعید ہیں۔ (صدقاً وعدلاً ) یعنی وعدوں اور وعید میں سچی ہے اور امرو نہی میں انصاف والی ہے (لامبدل لکلمتہ) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس کی قضاء کو کوئی ٹالنے والا نہیں اور اس کے حکم کو کوئی تبدیل کرنے والا نہیں اور اس کے وعدہ کا خلاف نہیں (وھو السمیع العلیم) بعض نے کہا ہے کہ کلمات سے قرآن مراد ہے کہ اس کو کوئی نہ تبدیل کرسکتا ہے اور نہ اس میں کمی یا زیادتی کرسکتا ہے۔