26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 26:197

اَوَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ اٰیَةً اَنْ یَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:197 in the Quran reader

کیا ان کے لئے یہ سند نہیں ہے کہ علمائے بنی اسرائیل اس (بات) کو جانتے ہیں ؟

197۔ الم یکن لھم ایۃ۔ ابن عامر نے تکن پڑھا ہے تاء کے ساتھ اور رفع کے ساتھ۔ ان یعلمہ، دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ آیہ، منصوب ہوگا، اس صورت میں، ایہ، خبر ہے قرآن کا اللہ کی طرف سے نازل ہونا علماء بنی اسرائیل کے علم میں ہے۔ وہ اس سے واقف ہیں۔ بنی اسرائیل کے علماء کو اس بات کا علم تھا کہ آخرزمانہ میں ایک نبی نازل ہوں گے اور ان پر کتاب نازل ہوگی دوسرا یہ کہ ان کی کتابوں میں نبی آخرالزمان اور قرآن کے متعلق ذکر تھا۔ بنی اسرائیل کے علماء میں سے یہ بھی تھے۔ عبداللہ بن سلام جو یہودیوں کے بڑے تھے۔ ابن عباس نے فرمایا اہل مکہ کے یہودیوں نے مدینہ کی طرف کچھ لوگوں کو بھیجا تاکہ وہ معلوم کریں محمد ﷺ کے بارے میں، تو وہ کہنے لگے کہ ہم نے ان کی صفات توریت میں پائی ہیں۔ یہ ان کی سچائی پر دلالت کرتی ہے۔ ان یعلمہ، محمد ﷺ جانتے ہیں، علماء بنی اسرائیل، عطیہ کا قول ہے کہ پانچ علماء مراد ہیں، عبداللہ بن سلام، ابن یامین، ثعلبہ، اسد، اسید۔
Ayah 26:198

وَ لَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰى بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَۙ Open ayah 26:198 in the Quran reader

اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اتارتے

198۔ ولونزلناہ اس سے مراد قران مجید ہے۔ علی بعض الاعجمین، جمع ہے اعجمی کی، وہ شخص مراد ہے جو فصیح نہ ہو اور عربی زبان پر واقفیت نہ ہو۔ اگرچہ وہ نسبی عربی ہو۔ والعجمی، عجم کی طرف منسوب ہے اگرچہ وہ فصیح ہو۔ آیت کا معنی یہ ہوگا کہ اگر ہم ایسے شخص پر اس کو نازل کرتے جو عربی زبان پر عبور نہیں رکھتا۔
Ayah 26:199

فَقَرَاَهٗ عَلَیْهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ مُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 26:199 in the Quran reader

اور وہ اسے ان (لوگوں) کو پڑھ کر سناتا تو یہ اسے (کبھی) نہ مانتے

199۔ فقراء ہ ، علیھم، بغیرعربی لغت کے، ماکانوا بہ مومنین، اور وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم اس کا کلام نہیں سمجھتے۔ اس کی نظیر اللہ کے اس فرمان سے ہے۔ ولوجعلناہ قرآن عجمیا لقالوا لولافصلت ، بعض نے اس کا یہ معنی بیان کیا کہ اگر ہم اس کو ای سے شخص پر نازل کرتے جو عرب میں سے نہ ہوتوہرگز اس پر ایمان نہ لاتے۔
Ayah 26:200

كَذٰلِكَ سَلَكْنٰهُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 26:200 in the Quran reader

اسی طرح ہم نے انکار کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کردیا

200۔ کذالک سلکناہ ، ابن عباس، حسن ، مجاہد کا قول ہے کہ شرک اور تکذیب کو ہم نے ان کے دلوں میں داخل کردیا۔ فی قلوب المجرمین۔
Ayah 26:201

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَۙ Open ayah 26:201 in the Quran reader

وہ جب تک درد دینے والا عذاب نہ دیکھ لیں اس کو نہیں مانیں گے

201۔ لایومنون بہ، اس قران پر، حتی یروالعذاب الالیم۔ موت کے وقت جب وہ عذاب کونہ دیکھ لیں۔
Ayah 26:202

فَیَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 26:202 in the Quran reader

وہ ان پر ناگہاں آ واقع ہوگا اور ان کو خبر بھی نہ ہوگی

202۔ فیاتیھم، آئے گا ان پر عذاب، بغۃ، اچانک۔ وھم لایشعرون، دنیا میں وہ نہیں جانیں گے۔
Ayahs 26:203–204

فَیَقُوْلُوْا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَؕ Open ayah 26:203 in the Quran reader

اس وقت کہیں گے کیا ہمیں مہلت ملے گی ؟

اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 26:204 in the Quran reader

تو کیا یہ ہمارے عذاب کو جلدی طلب کر رہے ہیں ؟

203۔ فیقولوا ھل نحن منظرون، توہم ان پر ایمان لے آتے اور ان کی تصدیق کرتے تو وہ واپس لوٹنے کی تمنا کرتے۔ مقاتل نے بیان کیا کہ جب اللہ نے اپنے رسول کی زبانی کافروں کو عذاب سے ڈرایا تو کہنے لگے کب تک عذاب سے ڈراتے رہو گے آخر عذاب کب آئے گا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 26:205

اَفَرَءَیْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:205 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو اگر ہم ان کو برسوں فائدے دیتے رہے

205۔ افرایت ان متعنا ھم سنین، ان کو ہم ہلاک نہ کریں بلکہ باقی رکھیں۔
Ayah 26:206

ثُمَّ جَآءَهُمْ مَّا كَانُوْا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 26:206 in the Quran reader

پھر ان پر وہ (عذاب) آ واقع ہو جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے

206۔ ثم جاء ھم ماکانوایوعدون، اس سے مراد عذاب ہے۔
Ayah 26:207

مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یُمَتَّعُوْنَؕ Open ayah 26:207 in the Quran reader

تو جو فائدے یہ اٹھاتے رہے ہیں ان کے کس کام آئیں گے ؟

207۔ مااغنی عنھم ماکانوا یمتعون، اس مدت میں اس کا معنی یہ ہے کہ اگر ہم ان کو باقی رکھ کر دنیاوی نعمتوں سے نواز دیں گے لیکن پھر بھی جب ان پر عذاب آتا تو وہ طویل نعمتیں ان کو اس عذاب سے مستغنی نہیں کرسکتیں، وہ ایسے جائیں گے جیسے ان پر کوئی نعمت آئی ہی نہ ہو۔
Ayah 26:208

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا لَهَا مُنْذِرُوْنَ٥ۗۛۖ Open ayah 26:208 in the Quran reader

اور ہم نے کوئی بستی ہلاک نہیں کی مگر اس کے لئے نصیحت کرنے والے (پہلے بھیج دیتے) تھے

208۔ ومااھلکنا من قریۃ الالھا منذرون، ایسارسول جوان کو ڈرائے۔
Ayah 26:209

ذِكْرٰى١ۛ۫ وَ مَا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 26:209 in the Quran reader

تاکہ نصیحت کردیں اور ہم ظالم نہیں ہیں

209۔ ذکری، محل نصب میں واقع ہے ۔ یعنی انکونصیحت کے ساتھ ڈائیں۔ بعض نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم پیغمبروں کو مجسم نصیحت بنادیتے ہیں۔ وماکناظالمین، ان کو عذاب دینے کی صورت میں چونکہ عذاب سے پہلے ہم نے ان پر حجت تام کردی اور وہ ہماری طرف عذرخواہی نہیں کرسکیں گے۔
Ayah 26:210

وَ مَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّیٰطِیْنُ Open ayah 26:210 in the Quran reader

اور اس (قرآن) کو شیطان لے کر نازل نہیں ہوئے

210۔ وماتنزلت بہ الشیاطین۔ مشرکین یہ کہتے تھے کہ شیطان آپ پر قرآن القاء کرتا تھا، اس کی تردید میں اللہ نے فرمایا، وماتنزلت ، ہم نے قران کو شیطان کے ذریعے نازل نہیں کیا، اور نہ ہی اس کا القاء کردہ ہے۔
Ayah 26:211

وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهُمْ وَ مَا یَسْتَطِیْعُوْنَؕ Open ayah 26:211 in the Quran reader

یہ کام نہ تو ان کو سزاوار ہے اور نہ وہ اسکی طاقت رکھتے ہیں

تفسیر۔ 211۔ وماینبغی لھم، کہ وہ قران کو نازل کریں۔ ومایستطیعون، اور نہ وہ اس کی طاقت رکھتے ہیں۔
Ayah 26:212

اِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَؕ Open ayah 26:212 in the Quran reader

وہ (آسمانی باتوں کے) سننے (کے مقامات سے) الگ کر دئیے گئے ہیں

212۔ انھم عن السمع ، آسمان سے اچکنے سے، لمعزولون، ہم نے ان کو محجوب کردیا، شہاب ثاقب کی وجہ سے کہ وہ ان کو مارتے ہیں۔
Ayah 26:213

فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَكُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:213 in the Quran reader

تو خدا کے سوا کسی اور معبود کو مت پکارنا ورنہ تم کو عذاب دیا جائے گا

213۔ فلاتدع مع اللہ الھا اخر فتکون من المعذبین۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہ کہ اس سے دوسروں کو ڈرانا مقصود ہے۔ گویا یوں فرمایا کہ آپ تمام مخلوق میں میرے نزدیک زیادہ معزز ہیں لیکن اگر آپ بھی میرے سوا دوسرے کو معبود بنائیں گے تو آپ کو بھی عذاب دوں گا۔
Ayah 26:214

وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَۙ Open ayah 26:214 in the Quran reader

اور اپنے قریب کے رشتہ داروں کو ڈر سناو

214۔ وانذر عشیرتک الاقربین۔ اور (سب سے پہلے) آپ اپنے قریب ترین کنبہ والوں کو ڈرائیے۔ وانذر عشیرتک الاقربین کی تفسیر۔ یعنی سب سے پہلے اس کو جو آپ کا زیادہ قرابت دار ہو۔ پھر اس سے کم قرابت رکھنے والے کو پھر اس سے کم قرابت دار کو کیونکہ جس کی قرابت زیاد ہ ہے وہ پہلے ہدایت کا مستحق ہے مزید یہ کہ اس طریقہ ہدایت سے دوسروں کو بدگمانی کا بھی موقع نہیں مل سکتا کیونکہ عام طور پر لوگ اپنے قریب ترین عزیزوں سے چشم پوشی کیا کرتے تھے۔ (اور جب آپ قریب ترین عزیزوں کو بھی اللہ کے عذاب سے ڈائیں گے تو کسی کو یہ گمان کرنے کا موقع ہی نہیں ملے گا، کہ آپ اپنے عزیزوں کی طرف چشم پوشی کررہے ہیں) یا اس لیے عزیز ترین قرابت داروں کو ڈرانے کا حکم دیا گیا کہ دوسرے لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اللہ کے عذاب کو دفع کرنے والا کوئی نہیں۔ (پیغمبر بھی اپنے قرابت داروں کو نہیں بچاسکیں گے) نجات کا راستہ یہی ہے کہ ان کی بات مانی جائے اور ان کی ہدایت پر عمل کیا جائے۔ محمد بن اسحق نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت علی نے فرمایا جب یہ آیت رسول اللہ پر اتری تو آپ نے مجھے طلب فرمایا اور فرمایا علی ، اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اپنے قریب ترین عزیزوں کو اللہ کے عذاب سے ڈراؤں۔ میں یہ حکم سن کو سوچ میں پڑگیا کہ میں کیا کروں، مجھے معلوم تھا کہ اگر میں ان لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈراؤں گا اور اس کام کے لیے پکاروں گا توان کی طرف سے میرے سامنے ایساعمل آگے گا جو مجھے ناگوار ہوگا، یہ سوچ کر میں خاموش رہا لیکن اب جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھ سے آکر کہا کہ محمد اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو اللہ تم کو عذاب دے گا۔ لہذا علی تم جاکر ایک صاع (آٹے) کی روٹی بنواؤ اور بکری کی ایک ٹانگ (پکاکربطور سالن کے) اس کے ساتھ رکھ دو اور ایک بڑے پیالے میں دودھ بھر کرلے آؤ، پھر اولاد عبدالمطلب کو اکٹھا کرو تاکہ جس بات کا مجھے حکم دیا گیا ہے میں وہ بات ان کو پہنچادو۔ حضرت علی نے فرمایا، میں نے حکم کی تعمیل کی پھر سب کی دعوت کردی وہ لوگ آئے جن میں رسول اللہ کے تائے، ابوطالب، حمزہ، عباس، ابولہب بھی تھے۔ سب کم وبیش چالیس آدمی تھے جب سب جمع ہوگئے تو آپ نے وہ کھانا منگوایا جو میں نے تیار کیا تھا، میں نے لاکر رکھ دیا، آپ نے اس میں سے ایک ٹکڑا گوشت کالے کر اپنے دانتوں سے ا س کو کاٹا، پھر اس کو پیالہ میں رکھ دیا پھر فرمایا بسم اللہ کھائیے، سب نے یہاں کھایا یہاں تک کہ سیر ہوگئے۔ خدا کی قسم جتنا کھانا میں نے سب کے لیے رکھا تھا اتنا تو ان می سے ایک آدمی کھالیتا۔ پھر فرمایا ان کو دودھ پلاؤ میں ان کے سامنے وہی دودھ بھراپیالہ لے آیا خدا کی قسم دودھ اتنا تھا کہ اتناتو ایک آدمی پی جاتا لیکن سب پی کرسیر ہوگئے۔ اب رسول اللہ نے کچھ بات کرنے کا موقع پایا لیکن حضور کے کچھ کہنے سے پہلے ابولہب بول اٹھا اور کہنے لگا کہ تمہارے ساتھی نے تم پر جادو کردیا ہے۔ یہ سنتے ہی لوگ منتشر ہوگئے۔ اور رسول اللہ ان سے بات نہ کرسکے اور دوسرے دن حضور نے فرمایا علی تم کو معلوم ہے یہ شخص پہلے بول اٹھا اور میرے بات کرنے سے پہلے ہی لوگ منتشر ہوگئے، اب پھر ویسا ہی کرو اور کھانا تیار کرو جیسا کل کیا تھا اور لوگوں کو پھر جمع کرو میں نے حکم کی تعمیل کی پھر سب کو جمع کیا، حضور نے کھانامنگوایا میں نے سامنے لاکر رکھ دیا آپ نے وہی عمل کیا جو گزشتہ دن کیا تھا، اس کے بعد سب نے کھایا کھاچکنے کے بعد رسول لالہ نے کلام شروع کیا اور فرمایا اے اولاد عبدالمطلب میں میں تمہارے پاس دنیا اور آخرت کی بھلائی لے کرایا ہوں اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تم کو بھی اس کی دعوت دوں تم میں سے کون شخص ہے جو اس کام میں مددر کے اور میرابھائی اور وصی اور نائب ہوجائے لوگ یہ سن کر سب کے سب جھجکے، میں سب سے کم عمر تھا، میں نے کہایانبی اللہ، میں اس کام میں آپ کا مددگار ہوں۔ یہ سن کر آپ نے میری گردن پکری اور فرمایا یہ میرا بھائی میراوصی اور میرانائب ہے تم اس کی بات سنو اورس کا کہامانوا، لوگ ہنستے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے اس نے ہم کو حکم دیا ہم علی ؓ کی بات سنیں اور اس کی اطاعت کریں۔ آیت وانذر عشیرتک الاقربین کا شان نزول۔ صحیحین میں سعید بن جبیر کی وساطت سے حضرت ابن عباس ؓ عنہماکابیان آی ا ہے کہ جب آیت وانذر عشیرتک الاقربین نازل ہوئی تو حضور کوہ صفا پرچرھ کر مختلف بطون قریش کو پکارناشروع کردیا، اور اے اولاد فہر، اے بنی عدی، آواز سن کر سب لوگ جمع ہوگئے جو خود نہ آسکا اس نے اپناقاصد بھیج دیا تاکہ وہ جاکر دیکھے کہ واقعہ کیا ہے ۔ ابولہب بھی آگیا اور دوسرے قریش والے بھی۔ آپ نے فرمایا بھلابتاؤ اگر میں تم کو اطلاع دو کہ وادی کے اندراس وقت کچھ سوار موجود ہیں جو تم پر تاخت کرنا چاہتے ہیں توکیاتم میری تصدیق کرو گے سب نے کہاجی ہاں، ہم نے اپنے تجربہ میں آپ کا کبھی کوئی جھوٹ نہیں پایا۔ حضور نے فرمایا تو عذاب شدید آنے سے پہلے میں تم کو اس سے ڈرارہا ہوں (عذاب شدید میرے سامنے موجود ہے جو آنے والا ہے) ابولہب بولا تو ہمیشہ ک لیے لیے ہلاک ہوجائے کیا اسی لیے تم نے ہم کو جمع کیا تھا، اس پر سورت ، تبت یدا ابی لھب وتب، آخر تک نازل ہوئی۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے آیا ہے کہ جب آیت، وانذر عشیرتک الاقربین، اتری تو رسول اللہ کھڑے ہوئے فرمایا اے گروہ قریش ، (راوی کا بیان ہے کہ یہ لفظ فرمایا یا اسی طرح کوئی دوسرالفظ) اپنی جانوں کو خرید لو (یعنی آنے والے عذاب سے بچالو) میں اللہ (کے عذاب سے تمہارے کسی کام نہیں آؤں گا) اے اولاد عبدمناف میں اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں تہارے کسی کام نہیں آؤ گا، اے عباس بن عبدالمطلب میں اللہ کے عذاب سے بچانے کے لیے بالکل تمہارے کام نہیں آسکتا اے رسول اللہ کی پھوپھی صفیہ تم کو بھی اللہ سے نہیں بچاسکتا، اے محمد کی بیٹی ، فاطمہ میرے مال میں تو جو کچھ مانگنا چاہتی ہے مجھ سے مانگ لے اللہ کے مقابل میں تیرے کوئی کام نہیں آؤں گا۔ حضرت عبداللہ بن حمار مجاشعی کی روایت ہے کہ بیان کیا کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ نے مجھے حکم دیا کہ جو علم اس نے مجھے عطا فرمایا ہے اور تم اس سے واقف نہیں آج تم کو اس کے کچھ حصہ سے وقف کردوں اس نے فرمایا جو مال میں نے اپنے بندوں کو بطور حلال عطا کردیا، وہ ان کے لیے حلال ہے میں نے اپنے بندوں کو موحد پیدا کیا۔ پھر شیطانوں نے پہنچ کر ان کو ان کے دین سے بہکا دیا، اور جو چیز میں نے ان کے لیے حلال کردی تھی شیطانوں نے وہ چیز ان کے لیے حرام قرار دی میں نے ان کو حکم دیا تھا کہ جس چیز کی معبودیت کی ، میں نے کوئی دلیل نہیں اتاری اس کو میراساجھی نہ قرار دیں، اللہ نے تمام زمین والوں کو دیکھا سب نفرت کی عرب ہوں یاعجمی ہوں۔ اہل کتاب میں سے جو اصلی دین پر باقی رہ گئے تھے ان سے نفرت نہیں کی، اللہ نے مجھے حکم دیا کہ میں اللہ کی نافرمانی اور عذاب سے قریش کو دڑاؤں گا، میں نے عرض کیا اے رب ، وہ تومیراسرتوڑ ڈالیں گے اور میراسر کو کو کچل کر روئی بنادیں گے۔ اللہ نے فرمایا میں نے تجھے اسی لیے بھیجا کہ تیری بھی جانچ کروں اور تیرے ذریعہ سے دوسروں کو بھی۔ میں نے تیرے اوپر ایک کتاب اتاری جس کو پانی نہیں دھوسکتا تو اس کو سوتے جاگتا پڑھاکر تو ان سے جہاد کر کامیاب ہوگا، تو اللہ کے بندوں پر خرچ کر اللہ کی طرف سے تجھ پر خرچ کیا جائے گا، تو ایک لشکر کافروں کے مقابلے میں کے لیے تیار کر میں اس پانچ گنا لشکر تیری مدد کے لیے بھیج دوں گا، اور اپنے فرمانبرداروں کو ساتھ لے کرنا فرمانوں سے جنگ کر، پھر فرمایا ، اہل جنت تین ہیں۔ 1) ۔ منصف حاکم، 2) ہر قرابت دار اور مسلم پر مہربانی کرنے والانرم دل آدمی۔ (3) ۔ دولت مند پاک دامن آدمی جو خود پاکدامن رہتا ہے اور دوسروں کو خیرات دیتا ہے اور دوزخی پانچ ہیں وہ کمزور بےعقل جس میں برائیوں سے روکنے والی سمجھ نہ ہو محض دوسروں کے پیچھے لگ جانے والے والا ہو، اور وہ شخص کہ جب صبح کو اٹھتا ہے تو تم کو تمہارے مال پر عیال کے معاملہ میں فریب دیتا ہے اور وہ شخص کہ اس کا ہر لالچ خواہ کتنا ہی چھوٹا ہو اس کو اپنے ساتھ لے جاتا ہے اور وہ شخص جو بداخلاق اور فحاش ہے۔ حضور نے بخ (رح) اور کذب کا بھی ذکر کیا تھا۔ واللہ اعلم۔
Ayah 26:215

وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:215 in the Quran reader

اور جو مومن تمہارے پیرو ہوگئے ہیں ان سے بتواضع پیش آؤ

تفسیر۔ 215۔ واخفص جناحک ، اپنے پہلو کو نرم رکھو۔ لمن التبعک من المومنین۔
Ayah 26:216

فَاِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:216 in the Quran reader

پھر اگر لوگ تمہاری نافرمانی کریں تو کہہ دو کہ میں تمہارے اعمال سے بےتعلق ہوں

216۔ فان عصوک فقل انی بری مماتعملون۔ ان کے کفر اور غیر اللہ کی عبادت کرنے کی وجہ سے۔
Ayah 26:217

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 26:217 in the Quran reader

اور (خدائے) غالب اور مہربان پر بھروسہ رکھو

217۔ و توکل ، قراء اہل مدینہ اور شام کے قراء نے فتوکل) فاء کے ساتھ ذکر کیا ہے اور اسی طرح ان کے مصاحف میں بھی مذکور ہے ان کے علاوہ باقی قراء نے واؤ کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ علی العزیز الرحیم، اس اللہ پر اعتماد کریں جو تمہارے دشمنوں کے مکروفریب کے لیے کافی ہے۔
Ayah 26:218

الَّذِیْ یَرٰىكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ Open ayah 26:218 in the Quran reader

جو تم کو جب تم (تہجد) کے وقت اٹھتے ہو دیکھتا ہے

218۔ الذی یراک حین تقوم، اپنی نماز کے لیے جب کھڑے ہوں اکثر مفسرین کا یہی قول ہے کہ مجاہد کا قول ہے کہ تم اس طرح کھڑے ہو کہ وہ تمہیں دیکھتا ہے کہ تم کہاں کھڑے ہو۔ بعض نے کہا کہ جب تم ان کی دعا کے لیے ہاتھ اٹھاؤ۔
Ayahs 26:219–220

وَ تَقَلُّبَكَ فِی السّٰجِدِیْنَ Open ayah 26:219 in the Quran reader

اور نمازیوں میں تمہارے پھرنے کو بھی

اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 26:220 in the Quran reader

وہ بیشک سننے والا اور جاننے والا ہے

219۔ وتقلبک فی الساجدین۔ یعنی نماز کے اندر قیام اور رکوع اور سجود اور قعود کی طرف تمہارے منتقل ہونے کو وہ دیکھ رہا ہے۔ عکرمہ ، عطیہ نیابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے فی الساجدین کا ترجمہ، فی المصلین، سے کیا ہے۔ مقاتل کلبی کا بیان ہے کہ فی المصلین، یعنی مع المصلین، کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تم کو اس وقت بھی دیکھتا ہے جب تم تنہا نماز پڑھتے ہو اور اس وقت بھی دیکھتا ہے جب نمازیوں کے ساتھ جماعت کی نماز پڑھتے ہو۔ مجاہد (رح) کا قول ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم جو نمازیوں کی طرف نظر گھما تے پھرتے ہو اللہ اس کو دیکھتا ہے اللہ اس کو دیکھتا ہے کہ رسول اللہ جس طرح سامنے سے دیکھتے تھے اسی طرح پشت کے پیچھے کی چیز کو بھی دیکھتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ کیا تم میرارخ یہاں دیکھتے ہو واللہ تمہارے خضوع کی حالت مجھ سے پوشیدہ نہیں ہوتی میں تمہیں بلاشبہ اپنی پشت کے پیچھے سے دیکھتا ہوں حسن کا قول ہے کہ تقلب سے مراد یہ ہے کہ تصرف یعنی مومنوں میں تمہاری آمد ورفت کو اللہ دیکھتا ہے۔ سعید بن جبیر کا قول ہے ساجدین سے مراد ہیں انبیاء یعنی جیسے انبیاء کے حالات تھے وہ چلتے پھرتے مختلف احوال رکھتے تھے اسی طرح مختلف احوال میں تمہارے تصرف کو بھی اللہ دیکھتا ہے۔ عطاء نیابن عباس ؓ عنہماکے حوالے سے تقلب کا معنی نقل کیا ہے کہ انبیاء کرام کی امتیں آتی رہیں گی ایک امت سے دوسری امت کی طرف یہاں تک کہ آخری نبی کی امت آجائے گی۔
Ayah 26:221

هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُؕ Open ayah 26:221 in the Quran reader

(اچھا) میں تمہیں بتاؤں کہ شیطان کس پر اترتے ہیں ؟

221۔ ھل انبئکم ، ، کیا میں تمہیں اس کی خبر نہ دوں علی من تنزل الشیاطین ، یہ ان کے اس قول کا جواب ہے۔ تنزل علیہ الشیطان۔ پھر آگے بیان کیا اور فرمایا۔
Ayah 26:222

تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 26:222 in the Quran reader

ہر جھوٹے گنہگار پر اترتے ہیں

222۔ تنزل، اصل میں تتنزل تھا، علی کل افاک، جھوٹے کو کہتے ہیں۔ اثیم، بمعنی فاجر، قتادہ کا قول ہے کہ اس سے کاہن مراد ہیں کہ شیطان الجن آسمانی باتوں کو اچک لیتا ہے اور اپنے کاہنوں کو آکروہ خبر بتلاتے ہیں جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے۔
Ayah 26:223

یُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَ اَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَؕ Open ayah 26:223 in the Quran reader

جو سنی ہوئی بات (اس کے کان میں) لا ڈالتے ہیں اور وہ اکثر جھوٹے ہیں

223۔ یلقون السمع، وہ فرشتوں سے کان لگا کر سنتے ہیں پھر اس کو اپنے کاہنوں پر ڈال دیتے ہیں ۔ واکثرھم کاذبون، چونکہ ا اس کو ایک سچی بات کے ساتھ کئی جھو ٹ ملاکربیان کرتے ہیں۔
Ayah 26:224

وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَؕ Open ayah 26:224 in the Quran reader

اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کیا کرتے ہیں

شعراء کی تفسیر۔ 224۔ والشعراء یتبعھم الغاو ون۔ اہل تفاسیر کا بیان ہے کہ آیت میں وہ شعراء مراد ہیں جو کافروں کی حمایت میں رسول اللہ کی ہجو کرتے تھے مقاتل نے ان کے نام اس طرح نقل کیے ہیں عبداللہ بن الزبعری السہمی، ہبیرہ بن ابی وھب ، مشافع بن عبدمناف، ابوعز بن عبداللہ ، وامیہ بن ابی صلت الثقفی، یہ شعراء جھوٹی غلط باتیں کہتے اور دعوی کرتے تھے کہ جیسامحمد کہتے ہیں ویسا ہی ہم بھی کہتے ہیں۔ یہ لوگ اشعا رسنتاے اور ان کی قوم کے کچھ گمراہ لوگ جمع ہوجاتے اور رسول اللہ اور صحابہ کرام کے متعلق ان شاعروں کے ہجائیہ اشعار سنتے اور پھر نقل کرتے تھے یہی وہ لوگ تھے جن کو اللہ نے الغاو ون فرمایا یعنی وہ لوگ جو رسول اللہ اور مسلمانوں کے متعلق کہے ہوئے ہجائیہ اشعار نقل کرتے تھے۔ ا (رح) لغاو ون کا مصداق۔ قتادہ اور مجاہد کا قول ہے کہ الغاو ون سے مراد شیاطین ہیں۔ ضحاک کا قول ہے کہ آپ کے زمانے میں دوآدمیوں کا آپس میں جھگڑا ہوگیا، ان میں سے ایک کا تعلق انصار سے تھا اور دوسرا کسی اور جماعت سے تھا۔ ان میں سے ہر ایک اپنی قوم کی طرف سے مقرر تھا اور وہ سب بیوقوف تھے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی یہ روایت عطیہ کیا بن عباس ؓ سے منقول ہے۔
Ayah 26:225

اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِیْ كُلِّ وَادٍ یَّهِیْمُوْنَۙ Open ayah 26:225 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں سر مارتے پھرتے ہیں

225۔ الم تر انھم فی کل واد، وادی سے مراد کلام کی ایک نوع مراد ہے۔ یھیمون، وہ اسی میں سرگرداں اور راہ حق سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ ھائم کسی شخص کا ایسی طرف جانا جس طرح اس کو کوئی کام نہ ہو۔ ابن عباس اس آیت کے متعلق فرماتے ہیں ہر لغو بات جس میں وہ غوطہ لگاتے ہیں قتادہ کا قول ہے شعراء تعریف بھی جھوٹی کرتے ہیں اور ہجو بھی جیسا کہ کہاجاتا ہے ، انافی واد وانت فی واد۔ میں ایک وادی میں ہوں اور تو دوسری وادی میں ہے۔ بعض نے کہا کہ فی کل واد یھیمون، کا مطلب بیان کیا ہے کہ حروف تہجی کے حساب سے ہر حرف پر اشعار کے قافیے بندی بناتے ہیں۔
Ayah 26:226

وَ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 26:226 in the Quran reader

اور کہتے وہ ہیں جو کرتے نہیں

226۔ وانھم یقولون مالایفعلون۔ وہ اپنے اشعار میں جھو ٹ بولتے ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے یہ یہ بات کہی اور وہ جھوٹے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا اگر کسی کے پیٹ میں لہو، پیپ بھرا ہوا اس کی صحت کو غارت کردے تو اس سے بہتر ہے کہ اس کے اندر شعر بھرے ہوں ۔ پھر اس سے مسلمان شعراء کا استثنی کیا جو زمانہ جاہلیت کے شعراء کا جواب دیتے ہیں اور کفار کے اشعار کی ہجو کرتے ہیں اور نبی کریم اور ان کے صحابہ کرام کی طرف سے دفاع کرتے ہیں ان میں سے حسان بن ثابت، عبداللہ بن رواحہ، کعب بن مالک ہیں۔
Ayah 26:227

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ ذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ انْتَصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠ Open ayah 26:227 in the Quran reader

مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے اور خدا کو بہت یاد کرتے رہے اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد انتقام لیا اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ کون سی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں

227۔ الاالذین امنواعموالصالحات۔۔ بغوی نے شرح السنہ اور معالم میں لکھا ہے کہ حضرت کعب بن مالک نے رسول اللہ کی خدمت میں عرض کیا یانبی اللہ، شاعری کے متعلق اللہ نے جو کچھ نازل فرمایا وہ معلوم ہی ہے (پھر ہمارا کیا ہوگا) فرمایا مومن اپنی تلوار سے بھی جہاد کرتا ہے اور زبان سے بھی جہاد کرتا ہے قسم ہے اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم جو اپنی زبانوں سے ان کے تیرمارتے ہو وہ گویا کمانوں سے تیر مارنے کی طرح ہے۔ جہاد میں اشعار کہنا تیروں جیسا اثر رکھتا ہے۔ حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ عمرۃ القضا کے موقع پر رسول اللہ مکہ میں داخل ہوئے ابن رواحہ حضور کے آگے آگے چل رہے تھے اور حرم کے اند رشعر پڑھ رہے تھے حضور نے حضرت عمر سے فرمایا عمر اس کو پڑھنے دو یہ اشعار کمانوں کے تیروں سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ ان پراثر انداز ہوتے ہیں۔ حضرت براء بن عازب کی روایت ہے کہ غزوہ بنی قریظہ کے دن رسول اللہ نے حضرت حسان بن چابت سے فرمایا مشرکوں کی ہجو کروجبرائیل مدد کے لیے تمہارے ساتھ ہیں یہ بھی رسول اللہ حضرت حسان سے فرما رہے تھے۔ میری طرف سے ان کو جواب دو ۔ اے اللہ روح القدس کے ذریعے سے اس کی مدد کرو۔ حضرت عائشہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا قریش کی ہجو کرو تمہاری طرف سے یہ ہجو قریش کے لیے تیر لگنے سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے۔ حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ میں نے حضور کو حسان سے یہ فرماتے ہوئے سنا روح القدس برابر تیری مدد پر رہے گا، جب تو اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف سے دفاع کرے گا۔ بخاری میں حضرت عائشہ کی روایت سے بیا ن کیا ہے کہ رسول اللہ حسان کے لیے مسجد کے اندر منبررکھوادیتے تھے جس پر وہ کھڑے ہوکر رسول اللہ کی طرف سے فخریہ یادعائیہ کلام پڑھتے تھے اور رسول اللہ فرماتے تھے اللہ روح القدس سے حسان کی مدد کراتا ہے جب تک رسول اللہ کی طرف سے حسان دفاع کرتا ہے۔ حضرت عائشہ کی روایت سے بیان کیا ہے رسول اللہ نے فرمایا قریش کی ہجو کرو، یہ ان کے لیے تیر لگنے سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے۔ پھر ابن رواحہ کے پاس آدمی بھیجا اور ان کو حکم دیا۔ ان کی ہجو کرو اور ان سے ہجو میں مقابلہ کرو لیکن وہ حضور کی خوشی کے مطابق ہجو نہ کرسکے پھر کعب بن مالک کو بلوایا پھر حسان بن ثابت کو بلوایا جب حسان آئے تو فرمایا اب وقت آگیا ہے کہ تم اس شیر کی طرف تیر بھیجو جو دم پٹک رہا ہے یعنی حملہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ پھر حضرت حسان نے باہر نکلتے ہوئے اسے بلا کر کہاقسم ہے اس کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اپن یزبان سے ان کو چمڑے کی طرح چیر ڈالوں گا، حضور نے فرمایا جلدی نہ کرو ابوبکر قریش کے نسبوں سے بخوبی واقف ہیں میرانسب بھی قریش کے اند ر ہی ہے۔ ابوبکر میرے نسب کو ان کے اندر سے الگ چھانٹ دیں گے۔ حسان حضرت ابوبکر کے پاس گئے پھر لوٹ کر آئے اور عرض کیا یارسول اللہ، ابوبکر نے آپ کے نسب کو چھانٹ دیا قسم ہے اس کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں آپ کو ان کے اندر سے اس طرح کھینچ نکالوں گاجی سے گوندھے ہوئے آٹے سے بال نکال لیاجاتا ہے ۔ حسان نے یہ شعر کہے،: ھجوت محمد افاجبت عنہ، ،، وعنداللہ فی ذالک الجزائ۔ تونے محمد ﷺ کی ہجو کی میں نے ان کی طرف سے جواب دیا اللہ کے ہاں اس کا بدلہ ہے۔ ھجوت محمد حنفیا، ،، ، رسول اللہ شیمتہ الوفائ۔ تونے مقدس پرہیزگار محمد کی ہجور کی جو اللہ کے رسول ہیں اور ان کی خصلت وفاعہد ہے۔ فان ابی ووالدتی وعرضی، ،، لعرض محمد منکم وقائ، میرے ماں باپ اور میری آبرومحمد ﷺ کی آبروکوتم سے بچانے والی ہے یعنی محمد صلی اللہ پر آبرو سب قربان۔ فمن یھجو رسول اللہ منکم، ،، ویمدحہہ وینصرہ سوائ۔ تم میں سے جو رسول اللہ کی ہجو کرتا ہے جو رسول اللہ کی مدح اور امداد کرتا ہے کیا دونوں برابر ہوسکتے ہیں۔ وجبرائیل رسول اللہ فینا، وروح القدس لیس لہ کفائ۔ اللہ کے رسول جبرائیل ارروح القدس ہمارے اندر ہیں جن کا کوئی ہمسر نہیں۔ ابن سیرین کی مرسل روایت ہے کہ رسول اللہ نے کعب بن مالک سے فرمایا لاؤ حضرت کعب نے آپ کو قصہ سنایا، حضور نے فرمایا یہ ان قریش کے لیے تیر لگنے سے بھی زیادہ سخت ہیں۔ دارقطنی نے حضرت عائشہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ کے پاس شعر کے جواز عدم جواز کا ذکر کیا گیا فرمایا یہ بھی ایک کلام ہے اچھا بھی ہوتا ہے برا بھی ہوتا ہے اچھے کو لے لو برے کو چھوڑ دو ۔ حضرت ابی بن کعب راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا بعض شعر حکمت ہوتے ہیں۔ (رواہ البخاری۔ ) ۔ شعبی کا بیان ہے کہ ابوبکر بھی شعر کہتے تھے اور عمر بھی شعر کہتے تھے اور علی ؓ بھی شعر کہتے تھے۔ تینوں شعر کہتے تھے۔ روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ عنہمامسجد کے اندر خود بھی شعر پڑھتے اور پڑھواتے بھی تھے۔ ایک بار عمرو بن ربیع کو طلب فرماکر اس سے اس کا قصیدہ سناجس کا پہلا شعر یہ تھا،: امن آل نعم انت غاد فمبکر، ، غداۃ غد ام رائح فمھجر۔ ابن ربیعہ نے آپ کو پوراقصیدہ آخر تک سنا دیا جو تقریبا ستر شعر کا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے دوبارہ لوٹ کر سنا دیا کیوں کہ آپ پورا قصیدہ ایک بار سن کریاد کرلیا کرتے تھے۔ ” وذکرواللہ کثیر، ، ان کی شاعری ان کے لیے اللہ کے ذکر کی کثرت سے مانع نہ ہو اور اپنے بیشتر اشعار میں وہ اللہ کے ذکر اور ترغیب وترہیب کو بیان کرتے ہیں۔ وانتصروا من بعد ماظلموا، مقاتل کا بیان ہے کہ مشرکین کے مقابلے میں ہجو کے ذریعے مدد کروپھرشعراء مشرکین کے بارے میں فرمایا، وسیعلم الذین ظلموا، ، جو انہوں نے شرک کیا، اور ہجو کی، ای منقلب یقلبون، وہ موت کے بعد ہماری طرف ہی لوٹانے والے ہیں ، ابن عباس فرماتے ہیں کہ جہنم اور آتش سوزاں کی طرف لوٹیں گے واللہ اعلم۔