26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayahs 26:157–164

فَعَقَرُوْهَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَۙ Open ayah 26:157 in the Quran reader

تو انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے

فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:158 in the Quran reader

سو ان کو عذاب نے آپکڑا بیشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:159 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:160 in the Quran reader

(اور قوم) لوط نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:161 in the Quran reader

جب ان سے ان کے بھائی لوط نے کہا کہ تم کیوں نہیں ڈرتے ؟

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:162 in the Quran reader

میں تو تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:163 in the Quran reader

تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:164 in the Quran reader

اور میں تم سے اس (کام) کا بدلہ نہیں مانگتا میرا بدلہ (خدائے) رب العالمین کے ذمے ہے

157۔ فعقروھا فاصبحوا نادمین، جب اس کی ٹانگیں کاٹ دیں اور پھر اللہ کا عذاب نظر آگیا۔
Ayah 26:165

اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:165 in the Quran reader

کیا تم اہل عالم میں سے لڑکوں پر مائل ہوتے ہو ؟

165۔ اتاتون الذکران ، مقاتل کا بیان ہے کہ اس سے مراد جماع الرجل ہے ، من العالمین بنی آدم میں سے ۔
Ayah 26:166

وَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ Open ayah 26:166 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار نے جو تمہارے لئے تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں انکو چھوڑ دیتے ہو ؟

166۔ وتذرون ماخلق لکم ربکم من ازواجکم، مجاہد کا قول ہے کہ تم عورتوں کے پاس آنے کو چھوڑ کر مردوں کے پاس جاتے ہو۔ بلم انتم قوم عادون، وہ سرکشی میں آخری حد تک پڑے ہوئے تھے اور حلال و حرام میں۔
Ayah 26:167

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ Open ayah 26:167 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ لوط اگر تم باز نہ آؤ گے تو شہر بدر کر دئیے جاؤ گے

167۔ قالوالئن لم تنتنہ یالوط لتکونن من المخرجین، ہماری بستی سے نکل جاؤ۔
Ayah 26:168

قَالَ اِنِّیْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَؕ Open ayah 26:168 in the Quran reader

لوط نے کہا میں تمہارے کام کا سخت بیزار ہوں

168۔ قال انی لعلکم من القالین، بغض رکھنے والا اور پھر ان کو پکارا اور کہا،۔
Ayahs 26:169–170

رَبِّ نَجِّنِیْ وَ اَهْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:169 in the Quran reader

اے میرے پروردگار مجھ کو اور میرے گھر والوں کو انکے کاموں (کے وبال سے) نجات دے

فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 26:170 in the Quran reader

سو ہم نے انکو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی

169۔ رب نجنی واھلی ممایعملون، برے عمل کے ذریعے سے ۔
Ayah 26:171

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَۚ Open ayah 26:171 in the Quran reader

مگر ایک بڑھیا پیچھے رہ گئی

171۔ الاعجوزا فی الغابرین، حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی ہلاک ہونے والوں میں سے ہوگئی۔
Ayah 26:172

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:172 in the Quran reader

پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا

172۔ ثم دمرناالاخرین، پھر ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔
Ayahs 26:173–175

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 26:173 in the Quran reader

اور ان پر مینہ برسایا سو جو مینہ ان (لوگوں) پر (برسا) جو ڈرائے گئے تھے وہ برا تھا

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:174 in the Quran reader

بیشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:175 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

173۔ وامطرنا علیھم مطرا فساء مطرالمنذرین، وھب بن منبہ کا قول ہے کہ اس سے مراد بڑے بڑے پتھروں کی بارش اور آگ کی بارش ہے۔
Ayah 26:176

كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:176 in the Quran reader

اور بن کے رہنے والوں نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

تفسیر۔ 176۔ کذب اصحاب الایکۃ المرسلین۔ اس سے مراد قوم حضرت شعیب (علیہ السلام) ہے ۔ قراء عراقین نے پڑھا ہے کہ یہ ، الایکۃ، اور سو رہ ص میں ہمزہ اور سکون لام ہے اور تاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے ، لی کہ، پڑھا ہے لام کے فتحہ کے ساتھ اور تاء بغیرہمزہ کے۔ ا سکوشہر کا نام بتلایا ہے یہ منصرف نہیں ہے اور سورة الحجر اور سو رہ ق میں اس کے متعلق کوئی اختلاف نہیں ، وہاں دنوں جگہوں پر ہمزہ اور کسرہ کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ والای کہ، درختوں کا جھنڈ ، گھنے درخت مراد ہیں۔
Ayahs 26:177–179

اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَیْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:177 in the Quran reader

جب ان سے شعیب نے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں ؟

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:178 in the Quran reader

میں تو تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:179 in the Quran reader

تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

177۔ اذقال لھم شعیب، یہاں پر بھائی کہہ کر خطاب نہیں کیا، گیا چون کہ وہ اصحاب ایکہ کے نسب میں سے نہیں تھے اور جب مدین کا ذکر کیا تو اس وقت ارشاد فرمایا ، اخاھم شعیبا، کیونکہ یہ ان کے نسبی بھائی تھے اللہ تعالیٰ نے مدین کو ان کی قوم کی طرف نبی بناکربھیجا تھا اور شعیب (علیہ السلام) کو اصحاب الایکہ کی طرف بھیجا ، الاتتقون،۔
Ayah 26:180

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:180 in the Quran reader

اور میں اس (کام) کا تم سے کچھ بدلہ نہیں مانگتا میرا بدلہ تو (خدائے) رب العالمین کے ذمے ہے

180۔ ومااسئلکم علیہ من اجر ان اجری الاعلی رب العالمین، حضرات انبیاء کرام کی دعوت کے متعلق جو بیان کیا گیا ان سب کو صیغہ واحد کے ساتھ ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ سب انبیاء تقوی کی تعلیم دینے پر متفق تھے اور اسی طرح طاعات عبادت میں اخلاس اور دعوت و تبلیغ اور رسالت کی انجام دہی پر اجرت لینے کی ممانعت تھی۔
Ayahs 26:181–183

اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَۚ Open ayah 26:181 in the Quran reader

(دیکھو) پیمانہ پورا بھرا کرو اور نقصان نہ کیا کرو

وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِۚ Open ayah 26:182 in the Quran reader

اور ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو

وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ Open ayah 26:183 in the Quran reader

اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور ملک میں فساد نہ کرتے پھرو

181۔ اوفوالکیل ولاتکونوا من المخسرین، لوگوں کے حقوق ادا کرنے میں کمی نہ کرو، ناپ تول میں کمی بیشی نہ کرو۔
Ayahs 26:184–187

وَ اتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 26:184 in the Quran reader

اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلی خلقت کو پیدا کیا

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۙ Open ayah 26:185 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ تم جادو زدہ ہو

وَ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۚ Open ayah 26:186 in the Quran reader

اور تم اور کچھ نہیں ہم ہی جیسے آدمی ہو اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو

فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَؕ Open ayah 26:187 in the Quran reader

اگر سچے ہو تو ہم پر آسمان سے ایک ٹکڑا لا گراؤ

184۔ واتقوی الذی خلقکم والجبلۃ ، خلقت کو کہتے ہیں۔ الاولین، اس سے مراد گزشتہ امتیں، جبلہ، خلقت کو کہتے ہیں۔
Ayah 26:188

قَالَ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:188 in the Quran reader

(شعیب نے) کہا کام جو تم کرتے ہو میرا پروردگار اس سے خوب واقف ہے

188۔ قال ربی اعلم بماتعملون۔ تم جو ناپ تول میں کمی کرتے ہو اس کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور ان کے اعمال کا بدلہ دیں گے اور میں تمہیں عذاب نہیں دے سکتا، میری ذمہ داری تو صرف دعوت دینا ہے۔
Ayahs 26:189–191

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّةِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:189 in the Quran reader

تو ان لوگوں نے ان کو جھٹلایا پس سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا بیشک وہ بڑے (سخت) دن کا عذاب تھا

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:190 in the Quran reader

اس میں یقینا نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:191 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

تفسیر۔ 189۔ فکذبوہ فاخذھم عذاب یوم الظلہ، چونکہ ان کو شدید گرمی نے تنگ کردیا تھا، وہ تنگ آکر تہہ خانوں میں داخل ہوگئے جب وہ تہہ خانوں میں جاتے تو ان کو اس سے بھی زیادہ گرمی محسوس ہوتی۔ پھر وہ باہر نکلے ان پر ایک بادل نے چھاؤں کردی وہ ساری قوم اس سائبان کے نیچے آگئی پھر ان پر آگ کی بارش برسی جس سے وہ سب جل کر راکھ ہوگئے اس کو ہم نے سورة ہود میں نقل کیا ہے ، انہ کان عذاب یوم عظیم۔
Ayah 26:192

وَ اِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:192 in the Quran reader

اور یہ (قرآن خدائے) پروردگار عالم کا اتارا ہوا ہے

192۔ وانہ اس سے مراد قرآن ہے۔ لتنزیل رب العالمین، ،۔
Ayah 26:193

نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُۙ Open ayah 26:193 in the Quran reader

اس کو امانتدار فرشتہ لیکر اترا ہے

193۔ نزل بہ الروح الامین۔ اہل حجاز ابوعمرو حفص نے نزل تخیف کے ساتھ پڑھا ہے حاء اور نون کے ضمہ کے ساتھ ، یعنی حضرت جبرائیل قرآن لے کرنا زل ہوئے۔ دوسرے قراء نے اس کو تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور حاء اور نون کے فتحہ کے ساتھ حضرت جبرائیل اللہ کے حکم سے نازل ہوئے۔ وانہ لتنزیل رب العالمین۔
Ayah 26:194

عَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 26:194 in the Quran reader

(یعنی اس نے) تمہارے دل پر (القا) کیا ہے تاکہ (لوگوں کو) نصیحت کرتے رہو

194۔ علی قلبک ، اے محمد، آپ کے دل پر ہم نے اس کو رکھا ہے۔ لتکون من المنذرین، تاکہ آپ اس قران کے ذریعے سے لوگوں کو ڈرائیں۔
Ayah 26:195

بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 26:195 in the Quran reader

(اور القا بھی) فصیح عربی زبان میں (کیا ہے)

195۔ لسان عربی مبین، حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا کہ اس سے قریش کی زبان مراد ہے تاکہ قریش کو یہ عذر نہ ہو کہ ہم وحی کی زبان کو نہیں سمجھتے ۔
Ayah 26:196

وَ اِنَّهٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:196 in the Quran reader

اس کی خبر پہلے پیغمبروں کی کتابوں میں (لکھی ہوئی) ہے

196۔ وانہ، قرآن کے نزول کا ذکر، اکثر اہل تفسیر نے اس آیت کا مطلب بیان کیا ہے کہ نزول قرآن کا ذکر کتب سابقہ میں کردیا گیا ہے مقاتل کا بیان ہے کہ محمدرسول اللہ کا ذکر گزشتہ کتابوں میں کردیا گیا، لفی زبر، اس سے مراد کتاب ، الاولین۔