26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayahs 26:40–51

لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:40 in the Quran reader

تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہوجائیں

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَئِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:41 in the Quran reader

جب جادوگر آگئے تو فرعون سے کہنے لگے کہ اگر ہم غالب رہے تو ہمیں صلہ بھی عطا ہوگا ؟

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 26:42 in the Quran reader

فرعون نے کہا ہاں اور تم مقربوں میں بھی داخل کرلیے جاؤ گے

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 26:43 in the Quran reader

موسیٰ نے ان سے کہا کہ جو چیز ڈالنی چاہتے ہو ڈالو

فَاَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَ عِصِیَّهُمْ وَ قَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 26:44 in the Quran reader

تو انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالی اور کہنے لگے کہ فرعون کے اقبال کی قسم ہم ضرور غالب رہیں گے

فَاَلْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚۖ Open ayah 26:45 in the Quran reader

پھر موسیٰ نے اپنی لاٹھی ڈالی تو وہ ان چیزوں کو جو جادوگروں نے بنائی تھیں نگلنے لگی

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۙ Open ayah 26:46 in the Quran reader

تب جادوگر سجدے میں گرپڑے

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:47 in the Quran reader

(اور) کہنے لگے کہ ہم تمام جہان کے مالک پر ایمان لائے

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 26:48 in the Quran reader

جو موسیٰ اور ہارون کا مالک ہے

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ؕ۬ لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُوصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:49 in the Quran reader

(فرعون نے) کہا کیا اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے بیشک یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے سو عنقریب تم (اس کا انجام) معلوم کرلو گے کہ میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں اطراف مخالف سے کٹوا دوں گا اور تم سب کو سولی پر چڑھا دوں گا

قَالُوْا لَا ضَیْرَ١٘ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 26:50 in the Quran reader

انہوں نے کہا کچھ نقصان (کہ بات) نہیں ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ۠ Open ayah 26:51 in the Quran reader

ہمیں امید ہے کہ ہمارا پروردگار ہمارے گناہ بخش دے گا اس لئے کہ ہم اول ایمان لانے والوں میں ہیں

40۔ لعلنا نتبع السحرۃ ان کانوا ھم الغالبین۔ موسیٰ پر اوربعض نے کہا کہ یہ کہنا کہ ان کا بطور استہزاء کے تھا، بالسحرۃ سے مراد موسیٰ و ہارون اور ان کی قوم کے متعلق تھا۔
Ayah 26:52

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْۤ اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ Open ayah 26:52 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو رات کو لے نکلو کہ (فرعون کی طرف سے) تمہارا تعاقب کیا جائے گا

تفسیر۔ 52۔ واوحینا الی موسیٰ ان اسر بعبادی انکم متبعون۔ فرعون اور اس کے لشکر تمہارا پیچھا کر گے تاکہ وہ تمہیں مصر سے نکلنے سے روکے ۔ ابن جریج سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ پر وحی بھیجی کہ بنی اسرائیل کو جمع کریں اروبنی اسرائیل کے ہر چارگھروالوں کو ایک گھر میں جمع کرو پھر بھیڑ کے بچوں کو ذبح کرکے ان کا خون گھروں کے دروازوں پر لگادو، میں فرشتوں کو حکم دوں گا، کہ جس گھر پر خون کانشان ہوگا اس میں داخل نہیں ہوں گے پھر میں فرشتوں کو حکم دوں گا وہ قوم فرعون کے بچوں کو مار ڈالیں گے اور ان کو مالی نقصان پہنچائیں گے پھر تم روٹیاں بناکرساتھ لے لینا، پھر راتوں رات میرے بندوں کو لے کر سمندر پر پہنچ جانا ، وہاں تم کو میرا جدید حکم ملے گا، صبح ہوئی تو لوگوں نے فرعوں سے کہا یہ حرکت موسیٰ اور اس کی قوم نے کی ہے۔ انہوں نے ہمارے بچوں کو بھی مارڈالا ہے اور ہمارا مال بھی لے گئے۔ فرعون نے حضرت موسیٰ کے پیچھے پندرہ لاکھ سردار جن میں سے ہر ایک کی کمانڈ میں ایک ہزار آدمی تھے ان کو روانہ کیا اور خود بھی اپنی کرسی پر بیٹھ کر نکل کھڑا ہوا۔
Ayah 26:53

فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۚ Open ayah 26:53 in the Quran reader

تو فرعونیوں نے شہروں میں نقیب روانہ کئے

53۔ فارسل فرعون فی المدائن حاشرین۔ تاکہ وہ شہر کے لوگوں کو جمع کرے اور بڑے بڑے جادوگروں کو جمع کرے بعض نے کہا کہ وہ گروہوں کو جمع کردے اور بعض نے کہا یہ کہ ان کے ایک ہزار شہر اور بارہ ہزار بستیاں تھیں اور فرعون نے ان سب مشیروں کو کہا۔
Ayah 26:54

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِیْلُوْنَۙ Open ayah 26:54 in the Quran reader

(اور کہا) کہ یہ لوگ تھوڑی سی جماعت ہے

54۔ ان ھوء لاء لشرذمہ۔ جماعت ہے۔ قلیلون، لوگوں کی ایک قلیل تعداد اس کی جمع شر اذم آتی ہے۔ بعض روایا ت میں ہے کہ اس کے لشکر کی تعداد ایک لاکھ چھ ہزار بتائی جاتی ہے ابن مسعود فرماتے ہیں کہ اس کے لشکر کی تعداد چھ لاکھ سترہزار تھی فرعون کے لشکر کو کوئی بھی شمار نہیں کرسکتا۔
Ayah 26:55

وَ اِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُوْنَۙ Open ayah 26:55 in the Quran reader

اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں

تفسیر۔ 55۔ ونھم لنالغائضون، جیسے کہاجاتا ہے ، غاظہ، اغاظہ، وغیظہ، جب وہ غصے میں ہو ، غیظ وغضب دونوں کا ایک معنی ہے۔ وہ کہنے لگے کہ ہماری مخالفت کرکے انہوں نے ہمیں غصہ دلایا ہے اور ہمارے بچوں کو قتل کرکے ہمارے اموال کو غضب کرکے لے گئے اور ہماری سرزمین مصر سے ہماری اجازت کے بغیر نکل کھڑے ہوئے۔
Ayah 26:56

وَ اِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَؕ Open ayah 26:56 in the Quran reader

اور ہم سب با سازوسامان ہیں

56۔ ونالجمیع حاذرون، اہل حجاز اور بصرہ نے حذرون ، پڑھا ہے۔ بغیر الف کے جبکہ دوسرے قراء نے حاذرون پڑھا ہے ، اس میں دونوں لغات ہیں ، بعض اہل تفاسیر نے کہا کہ ، حاذرون، قوت والے یعنی تیار، فراء کا قول ہے کہ ، حاذر، وہ شخص جو تم کو اس وقت ڈرارہا ہے اور حذر وہ شخص جو خوفناک ہے۔
Ayah 26:57

فَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:57 in the Quran reader

تو ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا

57۔ فاخرجناھم ، من جنات۔ وہ باغات جو دریاؤں کے کنارے تھے۔ ان کو خیرآباد کیا اور گھرکو بھی چھوڑ دیا۔ وعیون ، جاری نہروں سے نکال کر لائے۔
Ayah 26:58

وَّ كُنُوْزٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 26:58 in the Quran reader

اور خزانوں اور نفیس مکانات سے

58۔ وکنوز ، اس سے اموال ظاہرہ سونا، چاندی، مجاہد نے کہا کہ اس کو کنوز کا نام دیا ہے کیونکہ انہوں نے اس سے کوئی صدقہ وغیرہ نہیں نکالا۔ اگرچہ ظاہری طور پر وہ بڑے بڑے باغات ہی کیوں نہ ہوں۔ کہا گیا کہ فرعون کے آٹھ ہزار غلام تھے ہر ایک غلام گھورے پر سوار ہوتا اور گھوڑے کے گلے میں سونے کے زیورات ہوتے تھے۔ ومقام کریم، اور ان غلاموں کے لیے اچھامکان تھا۔ مفسرین نے کہا کہ اس سے رماد امراء ورساء کی مجالس ہیں جن کی لوگ پیروی کرتے تھے مجاہد اور سعید بن جبیر نے اس سے مراد اونچے منبر لیے ہیں اور بعض نے کہا کہ فرعون جب کرسی پر بیٹھتا تھا تو اس کے سامنے تین سوسونے کی کرسیاں بچھی ہوئی ہوتی تھیں جن پر شہر کے اشراف لوگ بیٹھا کرتے تھے۔
Ayah 26:59

كَذٰلِكَ١ؕ وَ اَوْرَثْنٰهَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:59 in the Quran reader

(ان کے ساتھ ہم نے) اس طرح (کیا) اور ان چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو کردیا

59۔ کذالک، اسی وصف کے ساتھ، وارثناھا، ہم نے ان کو ہلاک کردکھا، بنی اسرائیل، یہ اس وجہ سے ہوا کہ جب فرعون اور اس کی قوم غرق ہوگئی تو بنی اسرائیل کو وہ تمام اشیاء لوٹادیں جو فرعون اور اس کی قوم کے پاس تھیں۔ ان کے سونے، ان کے مکانات اور دیگراشیاء بنی اسرائیل کے ہاتھوں آگئیں۔
Ayah 26:60

فَاَتْبَعُوْهُمْ مُّشْرِقِیْنَ Open ayah 26:60 in the Quran reader

تو انہوں نے سورج نکلتے ہی (یعنی صبح کو) انکا تعاقب کیا

60۔ فاتبعوھم مشرقین۔ سورج کے نکلنے کے وقت ان کو جاکرملے۔ فرعون کی قوم حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کو سورج نکلنے کے وقت دریاپرجاپہنچی، فلماتراء الجمعان، وہ ایک دوسرے کے سامنے آگئے اس طور پر کہ ایک دوسرے کو انہوں نے دیکھ بھی لیا، حمزہ، نے تراء ی، کی ہمزہ کو کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے دوسرے قراء نے ان دونوں کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 26:61

فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ Open ayah 26:61 in the Quran reader

جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے ساتھی کہنے لگے کہ ہم تو پکڑ لئے گئے

61۔ قال اصحاب موسیٰ انالمدرکون، فرعون کو قوم نے ہمیں پالیا اور ہم ان سے مقابلہ کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھتے تھے۔
Ayah 26:62

قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 26:62 in the Quran reader

(موسی نے) کہا ہرگز نہیں میرا پروردگار میرے ساتھ ہے وہ مجھے راستہ بتائے گا

62۔ قال، حضرت موسیٰ کو اللہ تعالیٰ کا وعدہ پختہ یاد تھا کہ اللہ نے ان کیساتھ مدد کا وعدہ کیا ہوا ہے ، کلا ہرگز وہ نہیں پا نہیں سکتے۔ ان معی ربی سیھدین، وہ ہمیں نجات کا راستہ ضرور بتلائے گا۔
Ayah 26:63

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ١ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 26:63 in the Quran reader

اس وقت ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی دریا پر مارو تو دریا پھٹ گیا اور ہر ایک ٹکڑا (یوں) ہوگیا (کہ) گویا بڑا پہاڑ (ہے)

63۔ فاوحینا الی موسیٰ ان اضرب بعصاک البحر فانفلق، حضرت موسیٰ نے اپناعصا سمندر پر مارا جس سے وہ خشک ہوکرپھٹ گیا، فکان کل فرق پانی کے ٹکڑے بن گئے۔ کالطودالعظیم، جیسا کہ وہ بڑے بڑے پہاڑ بن گئے۔ ابن جریج کا قول ہے کہ جب حضرت موسیٰ سمندر کے کنارے پر پہنچے تو ہوا چلنے لگی اور سمندر پہاڑ کی مانند موجیں مارنے لگا، یوشع کہنے لگا کہ اے اللہ کلام کرنے والے آپ کا کیا حکم ہے۔ ہمیں فرعون کی فوج نے ڈھانپ لیا اور ہمارے سامنے سمندر ہے۔ موسیٰ نے فرمایا کہ یوشع اپنے گھورے کو لے کر پانی میں چلو، انہوں نے ایسا ہی کیا حتی کہ ان کے گھوڑوں کے کھروں کو پانی تک نہ لگا، اور جس شخص نے اپنا ایمان چھپایا ہوا تھا اس نے کہا کہ کہاں ہے تمہارا حکم۔ اس نے اپنے گھوڑے کی لگام کو مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا۔ اس نے زور سے کھینچا کہ وہ اڑ کر سمندر میں جالگا، اس کا پانی سے کچھ بھی گیلا نہیں ہوا۔ بعض حجرات نے کہا کہ جب موسیٰ ان لوگوں کی بات جواب دینے سے قاصر ہوئے تو اللہ نے وحی بھیجی کہ اپنی عصا سمندر پر ماریں، اس میں راستے بن گئے تو اس سے گزرنے والے نہ تو گھوڑے کے کھروں کو پانی لگا اور نہ ہی کسی سوا کو۔
Ayahs 26:64–65

وَ اَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:64 in the Quran reader

اور دوسروں کو وہاں ہم نے قریب کردیا

وَ اَنْجَیْنَا مُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:65 in the Quran reader

اور موسیٰ اور ان کے سب ساتھ والوں کو تو بچا لیا

64۔ وازلفنا، قریب لے آئے۔ ثم الاخرین، اس سے مراد فرعون کی قوم ہے۔ وہ یہ کہنے لگے کہ وہ سمندر تک پہنچ گئے اور ہلاکت کے قریب ہوگئے۔ ابوعبیدہ نے اس کا ترجمہ کیا ہے کہ ہم نے ان دونوں کو جمع کردیا۔ اسی سے لیلہ المزدلفہ ہے اس رات کو لیلۃ الجمع بھی کہتے ہیں۔ واقعہ میں آیا ہے کہ حضرت جبرائیل قوم موسیٰ اور قوم فرعون کے درمیان تھے اور وہ بنی اسرائیل کو کھینچ رہے تھے اور وہ کہہ رہے تھے کہ ہم نے اس شخص سے اچھا کوئی نہیں دیکھا، اور فرعون کی قوم کو ڈرا رہے تھے اور وہ یہ کہہ رہے تھے کہ اس شخص سے زیادہ کوئی شخص نہیں دیکھا جو ڈرارہا ہو۔
Ayah 26:66

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَؕ Open ayah 26:66 in the Quran reader

پھر دوسروں کو ڈبو دیا

66۔ ثم اغرقنا الاخرین۔ فرعون اور اس کی قوم ، سعید بن جبیر نے کہا کہ سمندر پہلے خاموشی کے ساتھ چل رہا تھا جب حضرت موسیٰ نے اپناعصا مارا تو وہ پھیل گیا اور خشک ہوگیا۔
Ayah 26:67

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:67 in the Quran reader

بیشک اس (قصے) میں نشانی ہے لیکن یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں

67۔ ان فی ذالک لایہ، وماکان اکثرھم مومنین۔ اس سے مراد اہل مصر ہیں۔ بعض حضرات نے کہا کہ فرعون کے ساتھیوں میں سے صرف یہ لوگ ایمان لائے تھے آسیہ فرعون کی بیوی اور ایک وہ شخص جو اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا، یعنی حرقیل اور اس کی بی بی مریم بنت ناموسیا، یہ مریم وہی عورت ہے جس نے حضرت یوسف کی قبر کی نشاندہی کی تھی۔
Ayahs 26:68–69

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:68 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 26:69 in the Quran reader

اور ان کو ابراہیم کا حال پڑھ کر سنا دو

68۔ وان ربک لھوالعزیزالرحیم۔ عزیز جو اپنے دشمنوں سے انتقام لینے والا ہو اور رحیم ہے مومنین کے لیے ان کو نجات دے کر۔
Ayah 26:70

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 26:70 in the Quran reader

جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ تم کس چیز کو پوجتے ہو ؟

70۔ اذقال لابیہ وقومہ ماتعبدون، تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو۔
Ayah 26:71

قَالُوْا نَعْبُدُ اَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِیْنَ Open ayah 26:71 in the Quran reader

وہ کہنے لگے ہم بتوں کو پوجتے ہیں اور ان کی پوجا پر قائم ہیں

تفسیر۔ 71۔ قالوانعبد اصناما فنظل لھاعاکفین۔ ہم انہی بتوں کی پوجا کرنے پر قائم ہیں۔ بعض اہل علم کا بیان ہے کہ یہاں آیت میں ، فنظل ، کہا گیا ہے کیو کہ وہ ان کو دن کے وقت پوجتے تھے رات کو نہیں پوجتے تھے جیسا دن کے وقت کام کرنے والے کو بولاجاتا ہے ، ظل یفعل۔
Ayahs 26:72–73

قَالَ هَلْ یَسْمَعُوْنَكُمْ اِذْ تَدْعُوْنَۙ Open ayah 26:72 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا کہ جب تم انکو پکارتے ہو تو کیا وہ تمہاری آواز سنتے ہیں ؟

اَوْ یَنْفَعُوْنَكُمْ اَوْ یَضُرُّوْنَ Open ayah 26:73 in the Quran reader

یا تمہیں کچھ فائدے دے سکتے ہیں یا نقصان پہنچا سکتے ہیں ؟

72۔ قال ھل یسمعولکم، کیا یہ تمہاری پکار کو سنتے ہیں۔ اذ تدعون، جب تم انکو پکارتے ہو۔ ابن عباس کا قول ہے کہ کیا یہ تمہاری بات کو سنتے ہیں۔ اوینفعونکم، اس سے مراد رزق ہے۔ اویضرون، اگر تم ان کی عبادت کو ترک کردو کیا یہ تمہیں سزا دیتے ہیں۔
Ayahs 26:74–75

قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 26:74 in the Quran reader

انہوں نے کہا (نہیں) بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے

قَالَ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:75 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا کہ تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو

74۔ قالوا بل وجدنا آباء نا کذالک یفعلون۔ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ کسی کی بات نہیں مانتے اور نہ کسی کو نفع پہنچاتے ہیں اور نہ ہی نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس راستے پر پایا ہے یہی تمہاری تقلید کے ابطال کی دلیل ہے۔
Ayah 26:76

اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمُ الْاَقْدَمُوْنَ٘ۖ Open ayah 26:76 in the Quran reader

تم بھی اور تمہارے اگلے باپ دادا بھی

76۔ انتم وآباء کم الاقدمون، اس سے مراد پہلے لوگ ہیں۔
Ayah 26:77

فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّیْۤ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:77 in the Quran reader

وہ میرے دشمن ہیں ؟ مگر خدائے رب العالمین (میرا دوست ہے )

77۔ فانھم عدولی، وہ میرے دشمن ہیں۔ یہاں پر ہر معبود کو اکیلاذکر کیا ہے۔ کیونکہ ان کو ہر ایک کے ساتھ دشمنی نہوتی ہے۔ سوال : بتوں کے ساتھ عداوت کا ذکر کیا ہے حالانکہ وہ تو بےجان ہیں ؟ جواب : قیامت کے دن وہ دشمن بن جائیں گے اللہ تعالیٰ نے فرمایا، سیکفرون بعبادتھم ویکون علیھم ضدا، بعض نے کہا کہ یہ میرے دشمن ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ یہ ہمارے پاس آسکتے ہیں اور نہ ہی ان کی جہت سے کوئی نفع حاصل ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ کوئی شخص نہ ان سے دشمنی مول لے سکتا ہے اونہ ہی ان کی جانب سے کوئی نفع حاصل کرسکتے ہیں۔ الارب العالمین، اس استثناء میں آئمہ کے مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا کہ یہ استثناء منقطع ہے۔ گویا کہ یوں فرمایا کہ وہ سب میرے دشمن ہیں مگر رب العالمین کہ وہ میرادوست ہے۔ بعض اہل علم نے کہا کہ قوم ابراہیم بتوں کے ساتھ اللہ کی عبادت بھی کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم نے فرمایا، تمہارے سارے معبود سوائے رب العالمین کے میرے دشمن ہیں یایوں کہا جائے تاکہ ان کے آباء و اجداد میں سے کچھ لوگ اللہ کو مانتے ہیں اور اس کی عباد ت کرتے ہیں حسین بن فضل نے اس کا معنی بیان کیا کہ مگر وہ جو میرے رب العالمین کے پاس ہے پھر اس کے معبود ہونے کا وصف بیان کیا۔
Ayah 26:78

الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَهُوَ یَهْدِیْنِۙ Open ayah 26:78 in the Quran reader

جس نے مجھے پیدا کیا ہے وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے

78۔ الذی خلقنی فھویھدین، اور وہ ہدایت کے راستے کی طرف ، نجات کے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے۔
Ayah 26:79

وَ الَّذِیْ هُوَ یُطْعِمُنِیْ وَ یَسْقِیْنِۙ Open ayah 26:79 in the Quran reader

اور وہ جو مجھے کھلاتا پلاتا ہے

79۔ والذی ھویطعمنی ویسقین۔ اور وہ مجھے رزق اور غذا ، کھانے پینے کے لیے دیتا ہے۔ وہی رزاق ہے اور اسی کے پاس میرارزق ہے۔