26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 26:80

وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ۪ۙ Open ayah 26:80 in the Quran reader

اور جب میں بیمار پڑتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے

80۔ واذا مرضت، مرض کی اضافت اپنی طرف کردی کیو کہ مرض اور شفا اسی کی طرف سے ہوتی ہے۔ یہ بطور حسن ادب کے ذکر کیا ہے۔ جیسا کہ حضرت خضر نے فرمایا، فاردت ان اعیبھا، اور فرمایا، فاراد ربک ان یبلغا، اشدھما، فھو یشفین، اور وہ ہی مجھے میرے مرض سے شفادیتا ہے۔
Ayah 26:81

وَ الَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِۙ Open ayah 26:81 in the Quran reader

اور وہ جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا

81۔ والذی یمیتنی ثم یحیین۔ ثم یہاں پر تراخی کے لیے ہے کہ وہ مجھے دنیا میں موت دے گا اور آخرت میں زندہ کرے گا۔
Ayah 26:82

وَ الَّذِیْۤ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِیْٓئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ Open ayah 26:82 in the Quran reader

اور وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ قیامت کے دن میرے گناہ بخشے گا

تفسیر۔ 82۔ والذی ھو اطمع، امید کرتے ہیں ، ان یغفرلی خطیئتی یوم الدین۔ حساب کے دن وہ میری غلطیوں کو درگزر فرمادے گا۔ خطاء سے کیا مراد ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ اس خطاء سے مراد ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ قول، انی سقیم، ہے اور دوسرا ، بل فعلہ ، کبیرھم، اور حضرت سارہ کے متعلق فرمایا، تھا، ھذا اختی، حسن کا قول ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے ستاروں کو دیکھ کر فرمایا تھا، ھذاربی ، یہ خطا ہے۔ حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ کی خدمت میں عرض کیا ابن جرعان زمانہ جاہلیت میں کینہ پروری کرتا تھا اور مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا کیا اس کا اس کو کچھ نفع ملے گا، فرمایا اس کو کچھ فائدہ نہی پہنچے گا، اگر اس نے کسی دن بھی، رب اغفرلی ، خطیتئی یوم الدین نہیں کہا ہوگا، حضرت ابراہیم نے قوم کے سامنے جو کچھ کہاوہ سب بطور احتجاج اور دلیل کے ساتھ تھا کہ جس معبود میں ایسا کرنے کی طاقت نہ ہو وہ معبود ہونے کا حق نہیں رکھتا، اور نہ اس کی پوجا کرنا جائز ہے۔
Ayah 26:83

رَبِّ هَبْ لِیْ حُكْمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 26:83 in the Quran reader

اے پروردگار مجھے علم و دانش عطا فرما اور نیکو کاروں میں شامل کر

83۔ رب ھب لی حکما، ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد حدود اللہ کی معرفت اور اس کے احکام کی معرفت ہے۔ مقاتل کا بیان ہے کہ اس سے مراد فہم اور علم ہے کلبی کا قول ہے کہ اس سے مراد نبوت ہے۔ ” والحقنی بالصالحین۔ ماقبل میں جو انبیاء کرام گزرچکے ہیں، ان کے درجہ اور منزتل تک پہنچا۔
Ayah 26:84

وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 26:84 in the Quran reader

اور پچھلے لوگوں میں میرا ذکر نیک (جاری) کر

84۔ واجعل لی لسان صدق فی الاخرین۔ اچھی تعریف اور اچھاذکر اور قبولیت عامہ جو آئندہ لوگوں کی زبانوں پر کردے جو میرے بعد آئیں گے تمام اہل ادیان میں ہماری تعریف قائم فرمائیں۔ قتیبی کا قول ہے کہ یہاں زبان کو قول کے قائم مقام کردیا گیا ہے چونکہ یہ بات بھی اسی سے صادر ہوتی ہے اس لیے اس کو ذکر کیا۔
Ayah 26:85

وَ اجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 26:85 in the Quran reader

اور مجھے نعمت کی بہشت کے وارثوں میں کر

85۔ واجعلنی من ورثہ جنۃ النعیم۔ ان لوگوں میں سے جن کو تونے جنت کی نعمتوں سے نوازا ہے انہی میں سے مجھے بھی بنا۔
Ayah 26:86

وَ اغْفِرْ لِاَبِیْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَۙ Open ayah 26:86 in the Quran reader

اور میرے باپ کو بخش دے کہ وہ گمراہوں میں سے ہے

86۔ واغفرلی لابی انہ کان من الضالین۔ یہ اس وقت دعا کی تھی جب ان کو معلوم نہیں تھا کہ میرے باپ اللہ کا دشمن ہے۔ جیسا کہ سورة توبہ میں گذرچکا ہے۔
Ayah 26:87

وَ لَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَۙ Open ayah 26:87 in the Quran reader

اور جس دن لوگ اٹھا کھڑے کئے جائینگے مجھے رسوا نہ کیجئیو

87۔ ولاتحزنی ، اور مجھے اس دن رسوا نہ کرنا۔ یوم یبعثون۔
Ayah 26:88

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ Open ayah 26:88 in the Quran reader

جس دن نہ مال ہی کچھ فائدہ دے سکے گا اور نہ بیٹے

88۔ یوم لاینفع مال وولابنون الامن اتی اللہ بقلب سلیم۔ جو خالص شرک سے پاک ہے۔ گناہوں سے پاک ہونامراد نہیں کیونکہ کوئی شخص بھی گناہ سے پاک نہیں ہے۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ قلب سلیم سے مراد صحیح دل ہے اور مومن کا دل ہے کیونکہ کافر اور منافق کا دل مریض ہے۔
Ayah 26:89

اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ Open ayah 26:89 in the Quran reader

ہاں جو شخص خدا کے پاس پاک دل لے کر آیا (وہ بچ جائے گا )

89۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ، فی قلوبھم مرض، ابن عثمان النیشابوری اس سے مراد دل کا بدعت سے خالی ہونا اور سنت سے مطمئن ہونا ۔
Ayahs 26:90–91

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 26:90 in the Quran reader

اور بہشت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِلْغٰوِیْنَۙ Open ayah 26:91 in the Quran reader

اور دوزخ گمراہوں کے سامنے لائی جائے گی

90، 91۔ وازلفت، ، اور قریب کردی جائے گی۔ الجنۃ للمتقین، وبرزت ، ، اور وہ ظاہر کھلی ہوئی ہوں گی۔ الجحیم اللغاوین۔ کافروں کے لیے۔
Ayahs 26:92–93

وَ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:92 in the Quran reader

اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ هَلْ یَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ یَنْتَصِرُوْنَؕ Open ayah 26:93 in the Quran reader

یعنی جن کو خدا کے سوا (پوجتے) تھے کیا وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں ؟ یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟

تفسیر۔ 92، 93۔ وقیل لھم، قیامت کے دن ، اینما کنتم تعبدون، من دون اللہ ھل ینصرونکم، وہ تمہیں عذاب سے نہیں روک سکیں گے۔ او ینتصرون، یا خود محفوظ ہوسکتے ہیں۔
Ayah 26:94

فَكُبْكِبُوْا فِیْهَا هُمْ وَ الْغَاوٗنَۙ Open ayah 26:94 in the Quran reader

تو وہ اور گمراہ (یعنی بت اور بت پرست) اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دئیے جائیں گے

آیت فکبکبوا میں تفسیری اقوال ۔ 94۔ فکبکبوفیھا۔ ابن عباس نے اس کا ترجمہ کیا، دوزخ میں ان کو جمع کیا جائے گا، مجاہد کا قول ہے کہ ان کو اوندھا منہ گرادیاجائے گا، مقاتل کا بیان ہے کہ پھینک دیاجائے گا، زجاج نے کہا کہ ایک کو دوسرے پر ڈال دیاجائے گا، قتیبی نے کہا کہ سر کے بل ڈال دیے جائیں گے ، ھم الغاو ون، اس سے مراد شیاطین ہیں۔ قتادہ مقاتل کلبی کا بیان ہے کہ اس سے مراد جن کا کفر ہے۔
Ayah 26:95

وَ جُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَؕ Open ayah 26:95 in the Quran reader

اور شیطان کے لشکر سب کے سب (داخل جہنم ہوں گے)

95۔ وجنود ابلیس اجمعون۔ شیطان کے چیلے اور وہ لوگ جو اس کی اتباع کریں گے خواہ وہ جنوں میں سے ہوں یا انسانوں میں سے بعض نے کہا کہ شیطان کی ذریت مراد ہے۔
Ayahs 26:96–97

قَالُوْا وَ هُمْ فِیْهَا یَخْتَصِمُوْنَۙ Open ayah 26:96 in the Quran reader

(وہاں) وہ آپس میں جھگڑیں گے اور کہیں گے

تَاللّٰهِ اِنْ كُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 26:97 in the Quran reader

کہ خدا کی قسم ہم تو صریح گمراہی میں تھے

96۔ قالوا، ، وہ اپنے پجاریوں اور جنہوں نے ان کو گمراہ کیا تھا، ان کے ساتھ لڑیں گے۔ وھم فیھا یختصمون، اپنے معبودین کے ساتھ جھگڑا کریں گے اور وہ بھی ایک دوسرے سے جھگریں گے۔
Ayah 26:98

اِذْ نُسَوِّیْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 26:98 in the Quran reader

جبکہ تمہیں (خدائے) رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے

98۔ اذ نسویکم، ہم تمہارے لیے شمار کرتے تھے۔ برب العالمین، تمہاری عبادت کے ساتھ۔
Ayah 26:99

وَ مَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 26:99 in the Quran reader

اور ہم کو ان گنہگاروں نے گمراہ کیا تھا

99۔ ومااضلنا ، انہوں نے توہ میں گمراہی کی طرف مائل کیا۔ ” الاالمجرمون، مقاتل کا بیان ہے کہ ، المجرمون، سے مراد شیاطین کلبی کا بیان ہے کہ اس سے گمراہ اسلاف مراد ہیں جن کی تقلید ان کافروں نے کی تھی۔ ابوالعالیہ اور عکرمہ کا قول ہے کہ اس سے مراد ابلیس ہے اور ابن آدم کا پہلا بیٹا قابیل ہے۔ کیونکہ اس نے قتل کو ایجاد کیا تھا، اور دوسرے گناہوں کا بھی ارتکاب کیا۔
Ayah 26:100

فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَۙ Open ayah 26:100 in the Quran reader

تو (آج) نہ کوئی ہمارا سفارش کرنے والا ہے

100۔ فمالنا من شافعین۔ کون ہماری سفارش کرے گا فرشتوں میں سے انبیاء میں سے مومنین میں سے۔
Ayahs 26:101–103

وَ لَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ Open ayah 26:101 in the Quran reader

اور نہ گرم جوش دوست

فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:102 in the Quran reader

کاش ہمیں (دنیا میں) پھرجانا ہو تو ہم مومنوں میں ہوجائیں

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:103 in the Quran reader

بیشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں

101۔ ولاصدیق حمیم۔ یا کوئی قریبی رشتہ دار جو ہماری سفارش کرے گا، کفار لوگ اس وقت کہیں گے جب مومنین کی سفارش فرشتے انبیاء ، اور دیگر مومنین کریں گے ۔ صدیق وہ دوست جو محبت میں سچاہو دین کی شرط کے ساتھ۔ حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت ہے کہ فرماتے ہیں ن کہ میں نے خود حضرت محمد کو فرماتے ہوئے سنا کہ آدمی جنت کے اندر چلاجائے گا، اور کہے گامیرافلاں دوست کا کیا ہوا ؟ اس وقت اس جنتی کادوست جہنم میں ہوگا۔ اللہ حکم دے گا، اس کے دوست کو دوزخ سے نکال کر جنت میں لے جاؤ اس کے بعد جو لوگ دوزخ میں رہ جائیں گے وہ کہیں گے ، فمالنا من شافعین ولاصدیق حمیم۔ حسن کا قول ہے کہ اپنے مومن دوستوں کی تعداد زیادہ رکھو کیونکہ قیامت کے دن وہ شفاعت کریں گے۔
Ayah 26:104

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:104 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو غالب اور مہربان ہے

تفسیر۔ 104۔ وان ربک لھوالعزیر الرحیم۔ عزیز وہ جس پر کوئی غالب نہیں آسکے ، اللہ تعالیٰ عزیز ہیں اور ان کی وصف عزت کیساتھ رحیم والی بھی صفت ہے۔
Ayah 26:105

كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:105 in the Quran reader

تو قوم نوح نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

105۔ کذبت قوم نوح المرسلین۔ حضرت حسن بصری سے دریافت کیا گیا کہ اے ابوسعید، یہ توبتلائیے کہ اللہ تبارک وتعالی نے ، کذبت قوم نوح المرسلین، کذبت عاد المرسلین، کذبت ثمود المرسلین فرمایا ہے حالانکہ ان میں سے ہر قوم نے صرف اپنے ہی ایک پیغمبر کی تکذیب کی کیونکہ ان کی ہدایت ک لیے ایک ہی پیغمبر بھیجا گیا، تھا، حسن بصری نے فرمایا ہر دوسرا پیغمبر انہی، عقائد کا حامل) تعلیم ل کر آیا جس کے لیے پہلا پیغمبر لے کرآیا، اور جب انہوں نے ایک پیغمبر کی تکذیب کی تو حقیقت میں سب کی تکذیب کی۔
Ayah 26:106

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:106 in the Quran reader

جب ان سے ان کے بھائی نوح نے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں ؟

106۔ اذقال لھم اخوھم، ، جب ان سے ان کے نسبی بھائی نے کہا دینی بھائی مراد نہیں، نوح الاتتقون۔
Ayah 26:107

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:107 in the Quran reader

میں تو تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں

107۔ انی لکم رسول امین۔ جو اللہ کی طرف سے میری طرف وحی آئی ہے میں اس میں امانت دار ہوں۔
Ayahs 26:108–109

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:108 in the Quran reader

تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 26:109 in the Quran reader

اور میں اس کام کا تم سے صلہ نہیں مانگتا میرا صلہ تو رب العالمین ہی پر ہے

108۔ فاتقواللہ ، اس کی اطاعت اور اس کی عبادت کرتے رہو۔ واطیعون، جس چیز کے بارے میں تمہیں حکم دیا گیا ہے خواہ اس کا تعلق ایمان سے ہو یا توحید سے۔
Ayah 26:110

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِؕ Open ayah 26:110 in the Quran reader

تو خدا سے ڈرو اور میرے کہنے پر چلو

110۔ فاتقواللہ، اس کی اطاعت اور عبادت کے ساتھ، واطیعون۔
Ayah 26:111

قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَ اتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَؕ Open ayah 26:111 in the Quran reader

وہ بولے کہ کیا ہم تم کو مان لیں اور تمہارے پیرو تو ذلیل لوگ ہوئے ہیں

111۔ قالوانومن لک واتبعک الارذلون، یعقوب نے ، واتباعک الارذلون، پڑھا ہے۔ اس سے مراد نچلے طبقہ کے لوگ ہیں حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ اس سے مراد سنار ہیں۔ عکرمہ کا قول ہے کہ اس سے مراد کپڑے بننے والے موچی مراد ہیں۔
Ayah 26:112

قَالَ وَ مَا عِلْمِیْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:112 in the Quran reader

(نوح نے) کہا مجھے کیا معلوم کہ وہ کیا کرتے ہیں ؟

112۔ قال، حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا، وماعلمی بماکانوایعملون، وہ ان کے اعمال اور ان کے طریقوں کو جانتا ہے ان کے اس حقیر پیشہ اور ان کے احوال کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ میں نے توا نہیں صرف دعوت تبلیغ کا مکلف بنایا ہے کہ وہ لوگوں کو میری طرف بلائیں۔
Ayahs 26:113–115

اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَۚ Open ayah 26:113 in the Quran reader

ان کا حساب (اعمال) میرے پروردگار کے ذمے ہے کاش تم سمجھو

وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:114 in the Quran reader

اور میں مومنوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں

اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 26:115 in the Quran reader

میں تو صرف کھول کھول کر نصیحت کرنے والا ہوں

113۔ ان حسابھم، ان کا حساب ہمارے اوپر نہیں۔ الاعلی ربی لوتشعرون، اگر تم ان کو جان لیتے تو ان کے اس فعل پر عبث ہونے کا الزام نہ لگاتے۔ زجاج نے اس کا یہ مطلب بیان کیا کہ ان کاپی سے سے دین پر کوئی ضرر نہیں ہوتا۔ بعضنے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ میں نہیں جانتا کہ اللہ ان کو ہدایت دے گایا ان کو گمراہ کرے گا، یا ان کو رسوا کرے گا۔
Ayahs 26:116–117

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَؕ Open ayah 26:116 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ نوح اگر تم باز نہ آؤ گے تو سنگسار کر دئیے جاؤ گے

قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِۚۖ Open ayah 26:117 in the Quran reader

نوح نے کہا کہ پروردگار میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا

116۔ قالوا لئن لم تنتہ یانوح، ، جو کچھ تم کہہ رہے ہو اس سے باز نہ آئے۔ لتکونن من المرجومین، مقاتل، کلبی کا بیان ہے کہ اس کا معنی ہے جو پتھروں کی بارش سے قتل کیے گئے ہوں۔ ضحاک نے اس کا ترجمہ کیا ہے ، مشنومین یعنی ہم تمہیں گالیاں دیں گے۔
Ayah 26:118

فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَهُمْ فَتْحًا وَّ نَجِّنِیْ وَ مَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:118 in the Quran reader

سو تو میرے اور انکے درمیان ایک کھلا فیصلہ کر دے اور مجھے اور جو میرے ساتھ ہیں ان کو بچا لے

118۔ فافتح ، ہمارے درمیان فیصلہ کردے۔ بینی وبینھم فتحا، یعن میرے اور ان کے درمیان فیصلہ کردے۔ دونوں جگہ فتح سے مراد فیصلہ ہے۔ ونجنی من معی من المومنین۔
Ayah 26:119

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۚ Open ayah 26:119 in the Quran reader

پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ بڑھی ہوئی کشتی میں سوار تھے ان کو بچا لیا

119۔ فانجیناہ ومن معہ فی الفلک المشحون، وہ کشتی لوگوں سے بھری ہوئی اور پرندوں اور حیوانوں کو بھی بچالیا جوان میں موجود تھے۔