Ayah 20:121121۔ فاکلا، حضرت آدم اور حواء علیہماالسلام نے کھالیا، منھافبدت لھماسواتھما۔۔۔ تا۔۔۔ ربہ۔ اس درخت سے کھالیا، فغوی، ان سے ایسا فعل صادر ہوا جوان سے صادر ہونے والانہ تھا۔ حضرت آدم منزل مقصود کے راستے سے بھٹک گئے اور صحیح راستہ کھودیا، ہمیشگی والی زندگی کی خاطر ممنوعہ شجرہ سے کھاکر خسارے میں پڑگئے اور اس مراد کونہ پہنچ سکے۔ ابن العربی کا بیان ہے کہ غوی کا معنی ہے کہ ان کی آرام دہ زندگی ختم ہوگئی اور عزت سے ذلت کی طرف اور سکھ سے دکھ کی طرف چلے گئے۔
ابن قتیبہ نے کہا کہ اگرچہ ، عصی آدم ربہ، کہنا درست ہے لیکن آدم کو عاصی کہنا غلط ہے کیوں کہ عاصی اس شخص کو کہتے ہیں جو عصیان کا عادی اور خوگر ہو۔ اگر کسی نے ایک بار کوئی کپڑا سی لیاتویہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ اس نے کپڑاسی لیا لیکن جب تک سینے کا اعادہ بار بار نہ کرے اور سینے کا عادی نہ ہوجائے اس کو خیاط نہیں کہا جاسکتا۔
آدم (علیہ السلام) کے جنت سے زمین پر آنے کا واقعہ۔
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ رب کے سامنے آدم کا باہم کچھ مباحثہ ہوا اور آدم (علیہ السلام) موسیٰ پر غالب آگئے۔ موسیٰ نے آدم (علیہ السلام) سے کہا آپ آدم ہیں۔ آپ کو اللہ نے اپنے دست قدرت سے بنایا۔ آپ کے اندر اپنی روح پھونکی فرشتوں نے آپ کو سجدہ کیا، اور آپ کو اپنی جنت میں رکھا۔ پھر آپ نے اپنے قصور کی وجہسے لوگوں کو جنت سے زمین پر اتروادیا۔ آدم نے کہا کہ آپ موسیٰ ہیں آپ کو اللہ کو اللہ نے اپنی رسالت اور اپنے کلام کے لیے منتخب فرمایا، اور آپ کو تختیاں عطا فرمائیں جن کے اندر ہرچیز کا واضح بیان ہے اور آپ کو ہم کلام بنانے کے لیے اپناقرب عنایت کیا کہ آپ بتادکتے ہیں کہ میری پیدائش سے کتنی مدت پہلے اللہ نے توریت لکھ دی تھی، موسیٰ نے کا کہا چالیس برس پہلے آدم (علیہ السلام) نے کہا کہ کیا اس میں یہ بھی تھا کہ آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بھٹک گیا۔ موسیٰ نے کہاہاں آدم نے کہا، پھر آپ مجھے ایسا کام کرنے پر ملامت کررہے ہیں جس کا مجھ سے صادر ہونا اللہ نے میری پیدائش سے چالیس برس پہلے لکھ دیا، رسول اللہ نے فرمایا پس آدم موسیٰ پر غالب آگئے۔
Ayah 20:122122۔ ثم اجتباہ ربہ، ، یعنی ہم نے آپ کو چن لیابرگزیدہ بنادیا۔ فتاب علیہ، ہم نے انسے درگزر کیا، وھدی، اور ہم نے ان کی توبہ کی طرف رہنمائی کی ۔ یہاں تک کہ وہ کہنے لگے، ربناظلمنا انفسنا، ،۔
Ayah 20:123123۔ قال اھبطا منھا جمیعا۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ تبع ھدی۔ اس سے مراد کتاب اور رسول ہے۔ فلایضل ولایشقی، سعید بن جبیر ؓ نیابن عباس ؓ عنہماکاقول نقل کیا ہے کہ جو شخص قرآن پڑھے گا اور جو تعلیم اس میں ہے اس پر چلے گا، اللہ اس کو دنیا میں بھی گمراہی سے بچا کر سیدھے راستے پرچلائے گا اور قیامت کے دن بھی حساب کی خرابی سے محفوظ رکھے گا، کیونکہ اللہ نے خود فرمادیا ہے ، فمن تبع ھدای فلایضل ولایشقی، شعبی کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا قرآن کی پیروی کرنے والے کو اللہ دنیا میں گمراہ اور آخرت میں بدنصیب ہونے سے محفوظ رکھے گا۔ پھر حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے یہی آیت تلاوت فرمائی۔
Ayah 20:124تفسیر۔
124۔ ومن اعرض عن ذکری، ذکر سے مراد قرآن ہے جو اس پر ایمان نہیں لایا، اور نہ ہی اس کی پیروی کی ، فانہ لہ معیشۃ ضنکا، ضنکا کا معنی ہے تنگ کردینا۔
اللہ کے ذکر سے اعراض رزق کی تنگی کا باعث ہے۔
حضرت ابن مسعود اور حضرت ابوسعید کا قول نقل کیا ہے ، معیشۃ ضنکا، سے مراد عذاب قبر ہے حضرت ابوسعید نے فرمایا کہ زمین اس کو دبائے گی کہ اس کی پسلیاں ادھر ادھر نکل جائیں گی بعض مسند احادیث سے مرفوعا منقول ہے کہ اس پر قبر اس طرح سمٹے گی کہ اس کی پسلیاں ادھر ادھر نکل جائیں گی اور قبر سے اٹھائے جانے کے وقت تک برابر یہ عذاب ہوتا رہے گا، حسن کا قول ہے کہ معیشۃ ضنکا سے مراد ہے زقوم اور ضریع۔ اور غسلین مراد ہے۔ عکرمہ کا قول ہے کہ اس سے مراد حرام رزق ہے۔ ضحاک نے کہا کہ اس سے ناپاک کمائی مراد ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا کہ اس سے مراد بدبختی ہے۔ ایک روایت میں حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول نقل کیا گیا ہے کہ بندے کو جو مال بھی دیاجائے تھوڑا ہو یا بہت اور وہ اس میں تقوی اختیار نہ کرے توای سے مال میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی۔ یہی ، معیشۃ ضنکا، ہے ایسے لوگوں کو اللہ پر بدگمانی ہوتی ہے وہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ اس کی جگہ ان کو دوسری معاش عطا نہیں فرمائے گا۔ سعید بن جبیر ؓ نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ ہم اس سے قناعت چھین لیتے ہیں کہ کسی طرح وہ مال سے سیر نہیں ہوتا۔
” ونحشرہ یوم القیامۃ اعمی، ابن عباس کا قول ہے ، کہ اعمی سے مراد ہے ، اندھا اور مجاہد کے نزدیک کو ر بصیرت مراد ہے یعنی اس کو کوئی دلیل بھی کام نہیں دے گی۔
Ayah 20:1251265۔ قال رب لماحشرتنی، اعمی وقد کنت بصیرا۔ آنکھوں سے وہ اندھا ہے یا اس کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ اس وجہ سے اس کو اندھا کہا گیا۔
Ayah 20:126126۔ قال کذالک، ایسے ہی ہمارے احکام، اتتک آیاتنا فنیس تھا، اس کو چھوڑ دیا اور اس سے اعراض کیا، وکذالک الیوم تنسی، تمہیں آگ میں چھوڑ دیاجائے گا، اور پھر میں تمہیں اس دن بھول جاؤں گا، قتادہ کا قول ہے کہ ہم تمہاری بھلائیوں کو بھول جائیں گے اور تمہیں عذاب دینے سے نہیں بھولیں گے۔
Ayah 20:127127۔ وکذالک، ، اور ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں جیسے قرآن سے اعراض کرنے کا بدلہ دیتے ہیں۔ نجزی من اسرف۔ جس نے شرک کیا، ولم یومن بایات ربہ ولعذاب الاخرۃ اشد۔ اس عذاب سے جو تمہیں دنیا میں اور قبر میں دیا گیا اور اس سے سخت ہوگا۔ وابقی، اور وہ ہمیشہ والاعذاب ہے۔
Ayah 20:128128۔ الم یھدلھم، ، کیا قرآن نے ان کے لیے اور واضح نہیں کردیا۔ یعنی کفار مکہ کے لیے ، کم اھلکنا قبلھم من القرون یمشون فی مساکنھم، ان کے گھروں اور ان کے ٹھکانوں کو ہم نے ہلاک کردیا۔ یہاں خطاب قریش مکہ کو ہے کہ جب وہ شام کی طرف سفر کرتے ہیں تو وہ ان اقوام کی ہلاک شدہ بستیوں کو دیکھتے ہوں جیسے اصحاب حجر، ثمود اور قوم لوط کی بستیاں ہیں۔ ان فی ذالک لایات لاولی النھی، اس سے مراد ذو ی العقول ہیں۔
Ayah 20:129129۔ ولولاکلمۃ سبقت من ربک لکان لزاما واجل مسمی، اس میں تقدیم و تاخیر ہے۔ تقدیری عبارت یوں ہے۔ ولولا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاما واجل مسمی، کلمہ یہ فیصلہ ہے ان کے تاخیر عذاب کا۔ مطلب یہ ہوگا کہ اگر تاخیر عذاب کا پہلے سے فیصلہ نہ ہوچکا ہوتا تو دنیا میں فوری عذاب اور وہ عذاب جس کا وقت مقرر کردیا گیا ہے دونوں لازمی ہوجاتے اور گزشتہ انبیائے کی کافر امتوں کی طرح بالکل ہلاک کردینا بھی لازم ہوجاتا۔
Ayah 20:130تفسیر۔
130۔ فاصبر عل مایقولون، ، یہ آیت قتال سے منسوخ ہے۔ وسبح بحمد ربک ، ، اپنے رب کے حکم سے نماز پڑھیے، بعض نے کہا کہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس نے آپ کو نماز اور تسبیح کی توفیق دی۔ قبل طلوع الشمس، اس سے مراد صبح کی نماز ہے۔ وقبل غروبھا، اس سے مراد عصر کی ماز ہے۔ ومن آناء اللیل ، آناء ایک گھڑی کو کہتے ہیں ، فسبح ، اس سے مراد مغرب و عشاء کی نماز ہے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد رات کے پہلے حصے کی نماز ہے۔ و اطراف النھار، اس سے مراد ظہر کی نماز ہے۔ ظہر کا نام اس وجہ سے بیان کیا کہ یہ دن کے کنارے پر ہوتی ہے اور اس کا وقت دن کے ڈھلنے یعنی زوال کے بعد ہوتا ہے۔ یہ نصف اول ہے دن کے آخری حصے کا اور ان کے اول حصے کا آخر ہے۔
اوربعض حضرات نے کہا کہ، آناء اللیل، سے مراد عشاء کی نماز ہے اور اطراف النہار سے ظہر اور مغرب کی نماز ہے کیونکہ ظہر طرف اول نہار ہے اور دن کے طرف آخر کی ابتداء ہے چونکہ یہ طرفین کے درمیان ہے اور طرف ثالث غروب شمس ہے ۔ اسوقت مغر ب کی نماز پرھی جاتی ہے۔ لعلک ترضی، تاکہ اللہ کی طرف سے تم کو وہ ثواب مل جائے جس سے تم خوش ہوجاؤ، کسائی ابوبکر نے عاصم سے ضاد کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے کہ ان کا ثواب دے دو ۔ بعض نے کہا کہ تاکہ اللہ اس سے تمہارے ساتھ راضی ہوجائے۔ جیسا کہ اللہ رب العزت کا فرمان ہے، وکان عندربہ مرضیا، بعض حضرات نے خوش ہونے سے مراد لیا ہے شفاعت کرنے سے خوش ہونا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ، ولسوف یعطیک ربک فترضی،۔
جریر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چودھویں رات کو چاند کو دیکھ کر فرمایا یقینا تم اپنے رب کو اس طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو جس کو دیکھنے میں تمہیں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ پس جہاں تک تم ہوسکے طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے کی تمام نمازیں تمہاری ضائع نہ ہوجائیں۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ۔ وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل غروبھا۔
Ayah 20:131آیت کا شان نزول۔
131۔ ولاتمدن عینک، ، ابورافع کا بیان ہے کہ نبی کریم کے پاس ایک مہمان آکراترا، آپ نے مجھے ایک یہودی کے پاس آٹا قرض خریدنے کے لیے بھیجا یہ فرمایا کہ مجھے رجب کا چاند دیکھنے تک کے لیے آٹا دے دو ۔ یہودی نے کہا کہ بغیر کسی چیز کو رہن رکھے نہیں دوں گا۔ میں نے حاضر خدمت ہوکر یہودی کا جواب عرض کردیا، اور شاد فرمایا اگر وہ میرے ہاتھ بیچ ڈالتا یافرمایاقرض بیچ ڈالتا تو میں ضرور ادا کرتا اور میں بلاشبہ آسمان میں بھی امین ہوں اور زمین میں بھی امین ہوں۔ جاؤ میرے لوہے کی زرہ اس کے پاس لے جاؤ، میں آپ کے پاس سے باہر نکلنے نہ پایا تھا کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ ولاتمدن عینک ، ان چیزوں کی طرف ہرگز اٹھاکرنہ دیکھنا، الی مامتعنا بہ، ان کو ہم نے دنیاوی آرائش کے لیے دیا ہے ۔ ازواجا ، مختلف قسموں کی چیزیں۔ منھم زھرۃ الحیوۃ الدنیا، زینت ، تروتازگی۔ یعقوب نے ، زھرہ ، ھاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور عام قراء نے مجزم پڑھا ہے۔ لنفتنھم فیہ، ہم نے ان کو یہ دنیا کی رونق اس لیے دی ہے تاکہ یہ ان کے لیے مزید فتنہ بنے اور ان کے کفر اور سرکشی میں مزید اضافہ کریں۔ ورزق ربک اور تمہارے رب کی طرف سے وعدہ کیا ہوا رزق ہے جنت میں۔ خیر وابقی، حضرت ابی بن کعب سے روایت ہے کہ اللہ کی تسکین دہی اور اطمینان بخشی سے اگر کسی کو تسکین قلبی اور اطمینان خاطر خاصل نہ ہو تو اس کا سانس حسرت دنیا میں ہی نکلتا ہے اور جو لوگوں کے مال کی طرف چشم تمنا سے دیکھتا ہے اس پر غم چھایارہتا ہے اور جو شخص خیال کرتا ہے کہ کھانا پینا اور لباس ہی اللہ کی نعمت ہے تو اس کے اعمال کم ہوجاتے اور عذاب سامنے آموجود ہوتا ہے۔
Ayah 20:132تفسیر۔
132۔ وامر اھلک باصلاۃ، اہل سے مراد قوم والے ہیں یا قبیلہ والے یا ہم مذہب ۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے وکان یامر اھلہ بالصلوۃ، واصطبر علیھا، نماز پر صبر کریں یعنی اس کی پابندی کریں کیونکہ نماز بےحیائی اور بری باتوں سے بچاتی ہے۔ لانسئلک رزقا، ہم آپ کو اس بات کا مکلف نہیں کرتے کہ آپ ہماری مخلوق مں سے کسی کو رزق کہیں سے دیں یا اپنارزق خود پیدا کریں، بلکہ ہم نے آپ کو عمل کرنے کا مکلف بنایا ہے۔ نحن نرزقک والعاقبۃ، اس کے بعد اچھا بدلہ دیں گے ۔ للتقوی ، متقین کے لیے ، ابن عباس نے فرمایا کہ جن لوگوں نے آپ کو سچا جانا اور مانا اور آپ کے بتائے ہوئے راستے پر چلے اور مجھ سے ڈرتے رہے ان کا انجام اچھا ہے۔ بعض سندوں سے روایت منقول ہے کہ نبی کریم کے گھروالوں کو جب کوئی دکھ پہنچتا تھا تو آپ ان کو نماز کا حکم دیتے تھے اور یہ آیت تلاوت کیا کرتے تھے۔
Ayah 20:133133۔ وقالو، ، اور مشرکین کہتے ہیں کہ ، لولایتینا بایۃ من ربہ، ، مشرکین محض عناد کی وجہ سے اس نشانی کو نہیں مانتے تھے حالانکہ بہت ساری نشانیاں آچکی تھیں۔ اولم تاتھم بینہ، اہل مدینہ، اہل بصرہ ، وحفص بن عاصم نے ، تاتھم، پڑھا ہے ، بینہ کے مونث ہونے کی وجہ سے اور دوسرے قراء نے اس کو یاء کے ساتھ پڑھا ہے ۔ فعل کی تقدیم کی وجہ سے دوسری وجہ یہ ہے کہ بینہ سے ، بیان ہے اس کا معنی کی طرف لوٹایا گیا۔ مافی الصحف الاولی، جو کچھ اس میں بیان کیا گیا اس سے مراد قرآن ہے جو دلائل کے اعتبار سے قوی اور آیات کے اعتبار سے اور اس کی واضح ہے اور بعض نے کہا کہ کہ اولم یاتھھم، بیان ہے ، مافی الصحف الاولی، کا اس سے مراد توریت اور انجیل ہے اور دوسری وہ اخبار جو ماقبل امتوں پر نازل ہوئیں اور جن کا انہوں نے انکار کیا اور ان پر ایمان نہیں لائے کیسے وہ عذاب کی جلدی کرتے تھے اور ہم نے ان کو ہلاک کیا۔ جو آیت نشانی ان ک پاس آتی اس پر ایمان نہ لاتے تھے ۔ کیسے وہ عذاب کی جلدی کرتے تھے اور ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ ان کا حال بھی ان کے حال کی طرح تھا۔
Ayah 20:134134۔ ولوانا اھلکنا ، ، ان پر رسول کو بھیجنے سے پہلے اور قرآن کے نزول سے پہلے۔ لقالو اربنا لولا، بمعنی ھلا کے ہے۔ ارسلت الینا رسولا، کہ ہماری طرف رسول کو نہیں بھیجا، جو ہمیں ہدایت کی طرف راہنمائی کرتا۔ یہ سب کچھ قیامت کے دن کہیں گے ، فنتبع آیاتک من قبل ان نذل ونخزی، ان کو عذاب کے ذریعے ذلیل کرتے اور قید اور قتل ہونے کی ذلت اٹھاتے۔
Ayah 20:135135۔ قل کل متربص، ،، ہم منتظر ہیں زمانے کے چلنے کے ساتھ کیونکہ مشرکین کہا کرتے تھے ہم منتظر ہیں کہ محمد پر زمانے کی گردشتیں آئیں اور وہ حوادث دھر میں مبتلا ہوجائیں۔ جب وہ مرجائیں گے اسی وقت ہمارا پیچھا چھوٹے گا، فتربصوا تم انتظار کرو، فستعلمون، جب اللہ کا حخم آجائے گا اور قیامت واقع ہوجائے گی۔ من اصحاب الصراط السوی، وہ سیدھاراستہ ہے ۔ ومن اھتدی اور گمراہی سے راستہ پانے والے ہم ہیں یا تم۔