20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 20:41

وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِیْۚ Open ayah 20:41 in the Quran reader

اور میں نے تم کو اپنے (کام کے) لیے بنایا

تفسیر۔ 41۔ واصطنعتک لنفسی، ، یعنی ہم نے آپ کو اپنے لیے منتخب کرلیا اور چن لیا اپنی وحٰ اور اپنی رسالت کو یہ سب کچھ آپ کو اس لیے دیا کہ آپ نے کامل محبت صرف اللہ ہی سے کی ۔ زجاج کا قول ہے کہ آپ نے ہمارے حکم کو اختیار کیا اور تمہیں اپنی حجت کے لیے قائم کردیا اور مخاطب ہمارے اور مخلوق کے درمیان آپ کو بنایا۔
Ayah 20:42

اِذْهَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْكَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِكْرِیْۚ Open ayah 20:42 in the Quran reader

تو تم اور تمہارا بھائی دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا

42۔ اذھب انت واخوک بایاتی، ، میری دلالت سے، ابن عباس کا قول ہے کہ آیات سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ کو دیے گئے تھے ۔ ولاتنیا، اور تم دونوں میرے ذکر میں سستی نہ کرنا، سدی (رح) کا قول ہے کہ میرے ذکر میں کمی نہ کرنا، محمد بن کعب کا بیان ہے کہ سستی نہ کرنا، فی ذکری، ،۔
Ayah 20:43

اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰىۚۖ Open ayah 20:43 in the Quran reader

دونوں فرعون کے پاس جاؤ کہ وہ سرکش ہو رہا ہے

43۔ اذھبا الی فرعون انہ طغی، ابوعمرو اور اہل حجاز نے اسی طرح پڑھا ہے۔ لنفسی، اذھب۔۔ فی ذکری، ، اذھبا۔۔ ان قومی اتخذوا۔۔۔ من بعدی اسمہ، ، سب مقامات میں یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے اس کو یاء ساکن کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 20:44

فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى Open ayah 20:44 in the Quran reader

اور اس سے نرمی سے بات کرنا شاید وہ غور کرے یا ڈر جائے

44۔ فقولالہ قولا لینا ، ابن عباس کا قول ہے کہ بات کرنے میں درشتی نہ کرنا۔ سدی اور عکرمہ کا بیان ہے کہ کنیت کہہ کر کلام کرنا چونکہ فرعون کی کنیت ابوالعباس یا ابوالولید تھی ، مقاتل نے کہا کہ نرم کلام کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس طرح کہنا ، ھل لک الی ان تزکی واھدیک الی ربک فتخشی، ، اور بعضنے کہا کہ نرم کلام کرنے کی وجہ یہ ہے کہ فرعون کے زیر پرورش موسیٰ رہ چکے تھے اسی کو حق تربیت حاصل تھا۔ سدی کا بیان ہے کہ نرم کلام یہ تھا کہ حضرت موسیٰ نے اس سے وعدہ کرلیا تھا کہ اگر تم ایمان لاتے ہو تو تم کو دوبارہ ایسی جوانی مل جائے گی جو کبھی پیری میں تبدیل نہیں ہوگی اور مرتے دم تک تمہاری حکومت قائم رہے گی اور کھانے پینے کی لذت اور صنفی مقاربت کی کیفیت وقت موت تک تم کو حاصل ہوتی رہے گی، اور مرنے کے بعد جنت ملے گی۔ فرعون کو موسیٰ کی یہ بات پسند آگئی لیکن وہ ہامان کے کسی مشورے کے بغیر عمل نہیں کرتا تھا۔ ہامان اس وقت موجود نہیں تھا، جب آیا اور فرعون نے اس سے موسیٰ کی باتیں نقل کیں اور مشورہ لیا اور قبول کرنے کا ارادہ ظاہر کیا توہامان نے کہا میں آپ کو دانش مند اور صاحب رائے سمجھتا تھا، کیا آپ رب ہوکرمربوب بنناچاہتے ہو۔ اب تک آپ کی پوجا کی جاتی ہے تو کیا آپ دوسرے کی عبادت کرنے کے خواہش مند ہو۔ غرض ہامان نے فرعون کی رائے پلٹ دی۔ حضرت ہارون اس دن مصر میں تھے ان کی طرف اللہ نے وحی کی کہ وہ حضرت موسیٰ کے ساتھ ملاقات کریں اور وہ موسیٰ سے ایک منزل دور تھے اور ان کو خبر دو کہ میری طرف اللہ نے وحی کی ہے۔ لعلہ یتذکر او یخشی، ، اس کو نصیحت کریں شاید کہ وہ اللہ کے خوف سے ڈر جائے اور اسلام لے آئے۔ سوال کیا جائے کہ یہ کیسے فرمادیا، لعلہ یتذکر، ، حالانکہ ماقبل میں یہ بات گزرچکی ہے کہ نہ اس کو نصیحت کام کرے گی اور نہ ہی اسلام لائے گا۔ اس کا جواب بعض حضرات نے دیا ہے کہ تم دونوں اس کے پاس جاؤ شاید کہ اس پر تمہاری سچائی ظاہر ہوجائے اور وہ طمع کرنے لگ جائے آپ دونوں کے کام کے پیچھے اللہ کا فیصلہ ہے۔ حسین بن فضل کا بیان ہے کہ شاید وہ غیر فرعون کی طرف لوٹ جائے۔ مطلب یہ کہ وہ نصیحت حاصل کرلے یاڈر جائے۔ جب وہ آپ کی رائے اور آپ کے لطف سے کہ اس کو کس نے پیدا کیا اور اس پر اللہ کی نعمت، پھر اس کو ربوبیت کی دعوت دینا، ابوبکر محمد بن عمر الورق کا بیان ہے کہ ، ، لعل، ، جب اللہ تعالیٰ کے لیے آئے تو وجوب کو ظاہر کرتا ہے اور یقیناا سکونصیحت توآگئی جب اس کو سمندر میں ڈالا گیا، تو کہنے لگا کہ ، انہ لاالہ الالذی امنت بہ بنی اسرائیل وانا من المسلمین۔ یحییٰ بن معاذ کے سامنے جب یہ آیت پڑھی گئی توزاروقطار رونے لگے اور عرض کیا اے اللہ یہ تیری نرمی تو اس شخص کے ساتھ ہے جو اپنے بارے میں کہتا ہے ، اناالہ، کہ میں معبود ہوں اس کے ساتھ تیری نرمی کا معاملہ کیا ہوگاجوکہتا ہے ، انت الالہ، کہ تو ہی میرا معبود ہے۔
Ayah 20:45

قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ اَنْ یَّطْغٰى Open ayah 20:45 in the Quran reader

دونوں کہنے لگے کہ ہمارے پروردگار ہمیں خوف ہے کہ وہ ہم پر تعدی کرنے لگے یا زیادہ سرکش ہوجائے

45۔ قالا، ، حضرت موسیٰ و ہارون دونوں کہنے لگے، ربنااننا نخاف ان یفرط علینا، ابن عباس کا قول ہے کہ کہ ، ان یفرط علینا کا مطلب یہ ہے کہ تکمیل دعوت اور اظہار معجزات سے پہلے ہی کہیں وہ ہم کو قتل کرنے اور عذاب دینے کا حکم نہ دے بیٹھے۔ عربی محاورے میں فرط علیہ کا معنی ہوتا ہے دکھ پہنچانے میں جلدی کرنا۔ اصل میں یہ فرط کا معنی ہے ، آگے بڑھ گیا، فارط آگے بڑھنے والا۔ اور ان یطغی، اس کا مطلب یہ کہیں کہ وہ اور زیادہ سرکش نہ ہوجائے تیری شان میں مزید گستاخی کرنے لگ جائے۔
Ayah 20:46

قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى Open ayah 20:46 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا کہ ڈرو مت میں تمہارے ساتھ ہوں (اور) سنتا اور دیکھتا ہوں

46۔ قال لاتخافا اننی معکمااسمع واری، ،، ابن عباس فرماتے ہیں کہ اسمع کا معنی ہے کہ میں سننے والا ہوں تمہاری دعاؤں کو ان کو قبول کروں گا، واری جو تمہارے خلاف ارادہ کیا جائے۔ بس میں رکاوٹ ڈالنے والا ہوں، میں تمہارے احوال سے بیخبر نہیں تم پرواہ نہ کرو۔
Ayah 20:47

فَاْتِیٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْ١ؕ قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى Open ayah 20:47 in the Quran reader

(اچھا) تو اس کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم آپ کے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دیجئے اور انھیں عذاب نہ کیجئے ہم آپ کے پاس آپ کے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں اور جو ہدایت کی بات مانے اس کو سلامتی ہے

47۔ فاتیہ فقولا انارسولاربک، ہم دونوں کو تیری طرف بھیجا ہے۔ فارسل معنا بنی اسرائیل، یعنی ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو ملک شام چلے جانے کی اجازت دیں۔ ان کو اپنی ماتحتی سے آزاد کردے۔ ولاتعذبھم ، ان کو سخت تکلیفیں اور دکھ نہ دے فرعون بنی اسرائیل سے دشوار ترین مشقت کے کام لیا کرتا تھا۔ قد جئناک بایۃ من ربک، فرعون نے کہا کہ وہ نشانی کیا ہے اس کے لیے حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ نکالا وہ چمکنے لگا جیسے سورج چمکتا ہے۔ والسلام علی من التبع الھدی، ، اس سلام سے مراد سلام تحیر نیہں ہے بلکہ اس کا معنی ہے کہ جو شخص اسلام لاتا ہے وہ اللہ کے عذاب سے سلامت رہتا ہے۔
Ayah 20:48

اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى Open ayah 20:48 in the Quran reader

ہماری طرف یہ وحی آئی ہے کہ جو جھٹلائے اور منہ پھیرے اس کے لئے عذاب (تیار) ہے

48۔ اناقداوحی الینا ان العذاب علی من کذب وتولی، ، بیشک اللہ تعالیٰ اس کو عذاب دیتا ہے جو اس کی طرف سے دی ہوئی نشانیوں کو جھٹلاتا ہے اور اس سے اعراض کرتا ہے۔
Ayah 20:49

قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:49 in the Quran reader

(غرض موسیٰ اور ہارون فرعون کے پاس گئے) اس نے کہا موسیٰ تمہارا پروردگار کون ہے ؟

تفسیر۔ 49۔ قال فمن ربکما یاموسی، ، تم دونوں کا رب کون ہے کس نے تمہیں میرے پاس بھیجا ہے۔
Ayah 20:50

قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى Open ayah 20:50 in the Quran reader

کہا کہ ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شکل وصورت بخشی پھر راہ دکھائی

50۔ قال ربناالذی اعطی کل شئی خلقہ ثم ھدی، ، حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ اس نے ہمیں ہرچیز عطا کی ہے جس میں ہماری بھلائی اور بہتری کا سامان تھا پھر اس کو اس چیز کے حصول کا جس میں اس کی بھلائی ہے راستہ بتادیا۔ مجاہد کا بیان ہے کہ اللہ نے ہرچیز کو اس کے مناسب صورت عطا فرمائی ، آدمی کی شکل جانوروں جیسی اور جانوروں کی شکل انسان جیسی نہیں بنائی پھر کھانے پینے اور قربت صنفی کرنے کی طرف اس کی راہنمائی کی۔ ضحاک کا بیان ہے کہ اس نے ہرچیز پیدا کی وہ ہمیں عطا کی۔ اس سے مراد ہاتھ ، چھونے کے لیے پاؤں چلنے کے لیے ہے، زبان بولنے کے لیے ، آنکھ دیکھنے کے لیے اور کان سننے کے لیے بنائے۔ سعید بن جبیر ؓ کا بیان ہے کہ خلق سے مراد ہرچیز کو اس کا ہم جنس جوڑا بنادیا مرد کو عورت، اونٹ کو اونٹنی، گدھے کو گدھی، اور گھوڑے کو گھوڑی ، پھر صنفی قربت کا طریقہ اس کو فطرتا بتادیا۔
Ayah 20:51

قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:51 in the Quran reader

کہا تو پہلی جماعتوں کا کیا حال ہے ؟

51۔ قال، ، فرعون نے کہا، فلمابال القرون الاولی، ، یہاں بال سے مراد حالت ہے یعنی گزری ہوئی قوموں کا کیا حال ہوا جیسے قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، اور دوسری اقوام کا کیا ہوگاجوبت پرستی اور منکر قیامت تھی ان کے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔
Ayah 20:52

قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ كِتٰبٍ١ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘ Open ayah 20:52 in the Quran reader

کہا کہ انکا علم میرے پروردگار کو ہے (جو) کتاب میں (لکھا ہوا ہے) میرا پروردگار نہ چوکتا ہے اور نہ بھولتا ہے

52۔ قال، ، حضرت موسیٰ نے جواب دیا، علمھاعندربی، ، ان کے اعمال اللہ کے ہاں محفوظ ہیں وہی ان کو بدلہ دے گا، بعض نے کہا کہ حضرت موسیٰ نے اس کی نسبت اللہ کی طرف اس لیے کی وہ اس کے متعلق نہیں جانتے تھے کیونکہ تورات تو فرعون کے غرق ہونے کے بعد نازل ہوئی۔ ” فی کتاب، ، لوح محفوظ میں، لایضل ربی، ، وہ غلطی کرنے والا نہیں اور بعض نے کہا اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ ولاینسی، ، وہ ان کے اعمال کو بخوبی جانتا ہے یہاں تک کہ ان کو بدلہ دے گا، اور بعض نے کہا کہ وہ انتقام ضرور لے گا، وہ انتقام لینے سے نہیں بھولا، اور مومن کو اچھا بدلہ دے گا۔
Ayah 20:53

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى Open ayah 20:53 in the Quran reader

وہ (وہی تو ہے) جس نے تم لوگوں کے لئے زمین کو فرش بنایا اور اس میں تمہارے لئے راستے جاری کئے اور آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے انواع واقسام کی مختلف روئیدگیاں پیدا کیں

53۔ الذی جعل الکم الارض مھدا، ، قراء اہل کوفہ نے مھدا نقل کیا ہے اور سو رہ زخرف میں مصدر ذکر کیا ہے۔ اس سے مراد فرش ہے اور دوسرے قراء نے ، مھادا پڑھا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ، الم نجعل الارض مھادا، اس کو بچھونا بنایا، یہ اس بچھونے کا نام ہے جیسے باسط اس کا نام ہے جس کو بچھایا جاتا ہے۔ ” وسلک لکم فیھا سبلا، ، سلک کہتے ہیں کہ ایک چیز کو دوسری چیز میں داخل کرنا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے تمہارے لیے زمین میں راستے داخل کردیے تاکہ تم ان پر چلو۔ ابن عباس کا قول ہے کہ تمہارے لیے راستہ ہے اس پر تم چلو، وانزل من السماء مائ، بارش نازل فرمائی ، بعض مفسرین کا بیان ہے کہ ، ماء ، تک حضرت موسیٰ کا کلام ختم ہوگیا، پھر آگے اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے فرمایا کہ ہم نے پانی سے طرح طرح کا سبزہ پیدا کیا۔ فاخرجنا بہ، اس پانی کے ذریعے، ازواجا، طرح طرح کی اصناف پیدا کیں، من نبات شتی، مختلف قسموں کو اور مختلف کھانے پینے کی اشیاء کو اور ان سے منافع پیدا کیے۔ خواہ وہ سفید ہوں ، سرخ ہوں، سبز ہوں ، ہر ایک صنف کو جوڑا جوڑا بنایا، ان میں سے بعض لوگوں کے لیے فائدہ مند بنایا اور بعض چوپایوں کے لیے بنایا۔
Ayah 20:54

كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:54 in the Quran reader

کہ خود بھی کھاؤ اور اپنے چارپایوں کو بھی بھی چراؤ بیشک ان باتوں میں عقل والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں

54۔ کلو وارعوا، ، چراؤ اس میں، انعامکم، اپنے چوپایوں کو جیسا کہ عرب کا قول ہے ، رعیت القوم، میں نے قوم کی حفاظت اور نگہداشت کی ، فراعت پس وہ محفوظ ہوگئی۔ یعنی اس میں تم اپنے جانوروں کو چراؤ۔ ” ان فی ذالک ، ، جو ہم نے ذکر کیا، لایات لاولی النھی، اس سے مراد ذوی العقول ہیں اس کی واحد ، نھیہ، ہے ، عقل کو نھیہ اس لیے کہتے ہیں کہ چونکہ یہ بھی انسان کو بری اور ضرور رساں اور غلط باتوں سے روکتی ہے اس لیے عقل کو، نھیہ، کہتے ہیں ضحاک کا قول ہے کہ ، اولی النھی، ا کو کہتے ہیں کہ جو اللہ کی حرام کردہ اشیاء سے روکتے ہیں۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے تقوی والے لوگ مراد ہیں۔
Ayah 20:55

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى Open ayah 20:55 in the Quran reader

اسی زمین میں سے ہم نے تم کو پیدا کیا اور اسی میں تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے دوسری دفعہ نکالیں گے

تفسیر۔ 55۔ منھا، ، اسی زمین سے ، خلقناکم، پیدا کیا تم کو اور تمہارے باپ آدم کو بھی۔ عطاء خراسانی نے بیان کیا ہے کہ جس جگہ آدمی دفن ہونے والا ہوتا ہے اسی جگہ کی مٹی فرشتہ لے کرنفطہ پر چھڑکتا ہے۔ پھر اس نطفہ اور مٹی سے آدمی کا جسم بنتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، منھاخلقناکم، وفیھا نعیدکم، ، اور موت کے بعد اور دفن کے وقت اسی میں واپس لوٹا دیاجائے گا۔ ومنھا نخرجکم تارۃ اخری، ، قیامت کے دن واپس تمہیں اٹھایاجائے گا۔
Ayah 20:56

وَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى Open ayah 20:56 in the Quran reader

اور ہم نے فرعون کو اپنی سب نشانیاں دکھلائیں مگر وہ تکذیب اور انکار ہی کرتا رہا

56۔ ولقد اریناہ ، ، فرعون کو ساری نشانیاں دکھائیں۔ آیاتنا، کلھا، نونشانیاں جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو دی تھیں، فکذب ، اس نے ان نشانیوں کو جھٹلایا کہ وہ جادو ہے۔ وابی، کہ وہ اسلام لائے۔
Ayah 20:57

قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:57 in the Quran reader

کہنے لگا موسیٰ تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ اپنے جادو (کے زور) سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال دو

57۔ قال، فرعون نے کہا، اجتنا لتخرجنا من ارضنا، مصر کی سرزمین ، بسحرک یاموسی، تو اس بات ک ارادہ کرتا ہے کہ تو ہمارے شہر پر قابض ہوکر ہمیں وہاں سے نکال دے۔
Ayah 20:58

فَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى Open ayah 20:58 in the Quran reader

تو ہم پھر تمہارے مقابل ایسا ہی جادو لائیں گے تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کرلو نہ تو ہم اس کے خلاف کریں گے اور نہ تم (اور یہ مقابلہ) ایک ہموار میدان میں (ہوگا)

58۔ فلناتینک بسحر مثلہ فاجعل بیننا وبینک موعدا، ، یعنی ہمارے اور اپنے درمیان ایک میعاد اور وقت مقرر کرلے۔ لانخلفہ ، ابوجعفر نے ، لانخلفہ پڑھا ہے اس کا معنی ہوگا کہ تم اس سے تجاوز کرسکو گے۔ نحن ولا انت مکانا سوی، ابن عامر ، عاصم ، حمزہ اور یعقوب نے سین کے ضمہ کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ اور دوسرے قراء نے اس کو کسرہ کے ساتھ ذکر کیا ہے اس کی دونوں لغتیں ہیں ، جیسے عدی وعدی اور طوی وطوی، مقاتل اور قتادہ کا بیان ہے کہ اس کا معنی برابر ہے۔ یعنی ہمارے تمہارے درمیان مسافت برابر ہو۔ ابن عباس کا قول یہی ہے کہ ابوعبیدہ اور قتیبی نے بیان کیا دونوں فریقوں کے درمیان مجاہد کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے برابر۔ کلبی کا بیان ہے کہ سوی اس جگہ کے علاوہ کوئی دوسرامقام ۔
Ayah 20:59

قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى Open ayah 20:59 in the Quran reader

(موسی نے) کہا کہ آپ کے لئے یوم زینت کا وعدہ ہے اور یہ کہ لوگ اس دن چاشت کے وقت اکٹھے ہوجائیں

59۔ قال موعدکم یوم الزینہ، ، مجاہد، قتادہ اور مقاتل اور سدی کا بیان ہے کہ مصر والوں کا ایک تہوار سالانہ ہوتا تھا جس میں لوگ آراستہ ہوکر میلہ کی شکل میں جمع ہوتے تھے ۔ بعض نے کہا کہ نیروز کا دن تھا، ابن عباس اور سعید بن جبیر ؓ کے نزدیک اس سے یوم عاشور مراد ہے ۔ وان یحشر الناس ضحی، چاشت کے وقت دن چڑھے تاکہ سب لوگ دیکھ لیں اور کسی کو شک نہ رہے۔
Ayah 20:60

فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى Open ayah 20:60 in the Quran reader

تو فرعون لوٹ گیا اور اپنا سامان جمع کر کے پھر آیا

60۔ فتولی فرعون فجمع کیدہ، ، مکروحیلہ سے مراد جادوگر ہے ۔ ثم اتی، وقت مقررہ۔
Ayah 20:61

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ١ۚ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى Open ayah 20:61 in the Quran reader

موسیٰ نے ان (جادوگروں سے کہا) ہائے تمہاری کمبختی خدا پر جھوٹ افترا نہ کرو کہ وہ تمہیں عذاب دے فنا کر دے گا اور جس نے افترا کیا وہ نامراد رہا

61۔ قال لھم موسی، ، یہ ضمیر جادوگروں کی طرف راجع ہے جن کو فرعون نے جمع کیا تھا۔ یہ بہتر (72) جادوگر تھے اور ان میں ہر ایک کے پاس ایک ایک لا تھی یارسی تھی، اور بعض نے کہا کہ جادوگروں کی تعداد چار سو تھی، کعب کا بیان ہے ان کی تعداد بارہ سوبتائی جاتی ہے اور بعض نے کہا اس سے زیادہ کہا ہے۔ ” ویلکم لاتفترا علی اللہ کذبا فیسحتکم بعذاب، ، حمزہ کسائی اور حفص ، فیسحتکم بعذاب، حمزہ کسائی اور حفص ، فیسحتکم ، یاء کے ضمہ کے ساتھ ، حاء کے کسرہ کے ساتھ ساتھ اور باقی قراء نے یاء کے فتحہ کے ساتھ حا کے فتحہ کے ساتھ دونوں طرح ہیں۔ مقاتل اور کلبی کا بیان ہے کہ نہیں ہلاک کرددیں گے ۔ قتادہ کا قول ہے کہ وہ بیخ وبن سے تم کو اکھاڑ پھینکے ۔ وقد خاب من افتری، ،۔
Ayah 20:62

فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى Open ayah 20:62 in the Quran reader

تو وہ باہم اپنے معاملہ میں جھگڑنے اور چپکے چپکے سرگوشی کرنے لگے

تفسیر۔ 62۔ فتنازعوا امرھم بینھم، ، کہ وہ آپس میں مناظرہ کرنے لگ گئے اور آپس میں مشورہ کرنے لگے۔ وہ جادوگر موسیٰ کے معاملے میں فرعون سے مشورہ کرنے لگے۔ کلبی نے اس کا یہ مطلب بیان کیا کہ انہوں نے اس مشورے کو چھپائے رکھا اگر موسیٰ ہم پر غالب آگئے توہم ان کا اتباع کرلیں گے محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ جب حضرت موسیٰ نے ان کو مذکورہ بالا نصیحت کی تو جادوگروں نے باہم کہا یہ کلام تو جادوگر نہیں ہے۔ بعض نے بعض کے ساتھ کہا کہ یہ بات نہیں ہے۔ واسروالنجوی، یہ مناجات ہے یہ مصدر ہے ، ناجیہ یعنی اس کا معنی خفیہ بات کی۔
Ayah 20:63

قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى Open ayah 20:63 in the Quran reader

کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں اور چاہتے ہیں کہ اپنے جادو (کے زور) سے تم کو تمہارے ملک سے نکال دیں اور تمہارے شائشسہ مذہب کو نابود کردیں

63۔ قالو، ، بعض لوگ بعض کے ساتھ سرگوشی کرنے لگے۔ ان ھذان لساحران، ، ان دونوں کے متعلق کہ یہ دونوں جادوگر ہیں۔ ابن کثیر اور حفص نے نون کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ ھذان، ای ماھذان، ، کہ یہ دونوں نہیں مگر جادوگر۔ جیسا کہ اس آیت میں ہے۔ وان نظنک لمن الکاذبین ، یعنی میں ان کو گمان نہیں کرتا مگر جھوٹ۔ ابن کثیر نے نون کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے ۔ ھذان، میں اور ابوعمرو کی قرات کی ، ان ، مشددہ آیا ہے۔ یہ نحو کے عام ضابطہ کے مطابق آیا ہے لیکن ابوعمرو کے علاوہ ھذان ہی جمہور کی قرات ہے۔ بعض حضرات نے ، ھذان ، کے الف کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ اس کی قرات میں آئمہ کا اختلاف ہے ۔ ہشام بن عروہ نے اپنے باپ کے حوالے سے حضرت عائشہ صدیقہ کا قول نقل کیا ہے کہ یہ کاتب کی غلطی ہے کہ لیکن یہ بعض لوگوں نے کہایہ قبائل ابوالحارث اور خثعم اور کنانہ کے محاورہ کے موافق ہے۔ تنثیہ ہویا کوئی ایسی ساکن یاء جس سے پہلے فتحہ ہو۔ ان قبائل نے اس کو الف بہر حال پڑھا ہے۔ اتانی الرجلان، رایت الرجلان مررت بالرجلان، بہرحال تثنیہ کو الف ہی کے اتھ پڑھتے ہیں۔ نصب اور جر کسی بھی حالت میں یاء کو قبول نہیں کرتے۔ مثلا عصا اور جیسا کہ کہاجاتا ہے ۔ کسرت یداہ ورکبت علاہ۔ کہتے ہیں۔ یدیہ وعلیہ، نہیں کہتے۔ شاعر کا قول ہے۔ ان اباھا واباھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قد بلغافی المجد غایتھا۔ دوسرے ، اباھا، کو الف کے ساتھ پڑھاجاتا ہے ۔ ابیھا ، نہیں آیا۔ بعض نے اس کی تقدیر میں فرمایا کہ ، انہ ھذان ، ھا کو حذف قرار دیا۔ بعض حضرات نے کہا کہ یہاں، ان، نعم کے معنی میں ہے۔ ایک اعرابی نے حضرت زبیر سے کچھ مانگا، آپ نے نہیں دیا، اعرابی نے کہا کہ ، لعن اللہ ناقۃ حملتنی الیک۔ کہ اللہ کی لعنت ہو اس اونٹنی پر جو مجھے آپ کے پاس سوار کرکے لائی۔ حضرت زبیر نے جواب دیا، ان وصاحبھا، بیشک اور اس کے مالک پر بھی۔ جیسا کہ شاعر کا قول ہے ۔ ویقلن شیب قد علاک وقد کبرت فقلت انہ، یہاں بھی نعم کے معنی میں ہے۔ یرید ان یخرجاکم من ارضکم، اس سے مراد مصر کی سرزمین ہے۔ بسحرھما، ویذھبا، بطریقتکم المثلی، ابن عباس نے فرمایا کہ طریقہ سے مراد سردار ان قوم بڑے لوگ مثل تانیث الامثل ہے وہ افضل ہے۔ بطریقتکم المثلی کی تفسیر۔ شعبی نے حضرت علی رضٰی اللہ عنہ کی حدیث نقل کی ہے۔ یعنی لوگوں کا رخ اپنی طرف پھیر دیں گے۔ قتادہ نے کہا کہ اس زمانہ میں بنی اسرائیل تعداد میں بھی ساری قوم سے زیادہ تھے اور مال میں بھی اس لیے طریقہ ، مثلی، سے بنی اسرائیل مراد ہیں مطلب یہ ہے کہ یہ دونون چاہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے جائیں۔ فرعون کے اس قول کی وجہ یہ تھی کہ حضرت موسیٰ نے فرعون سے کہا، بعض مفسرین نے کہا کہ ، مثلی، ، سے مراد دین ہے جس پر اہل مصر قائم تھے جیسے کہاجاتا ہے کہ فلاں طریق مثلی ہے مراد اس سے صراط مستقیم ہے۔
Ayah 20:64

فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا١ۚ وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى Open ayah 20:64 in the Quran reader

تو تم (جادو کا) سامان اکٹھا کرلو اور پھر قطار باندھ کر آؤ اور آج جو غالب رہا وہی کامیاب ہوا

64۔ فاجمعواکیدکم ، ، ابوعمرو نے ، ، اجمعو، ، کے الف کو وصل کے ساتھ پڑھا ہے۔ میم کے فتحہ کے ساتھ جمع سے ہے۔ یعنی تم ان اشیاء کونہ پکارو یا جمع نہ کرو جو تمہارے ساتھ دھوکہ کرے۔ لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا معنی عزم اور محکم ہو۔ یعنی تم فیصلہ کرو اس کو اجماعی فیصلہ قرار ددو باہمی اختلاف نہ کرو۔ ثم ائتو صفا، ، سب کے سب۔ مقاتل اور کلبی نے یہی بیان کیا ہے کہ اور بعض قوم نے کہا کہ تم سب جمع ہوکر ایک قطار میں ہوکرآؤ تاکہ دیکھنے والوں کے دلوں میں ہیبت پیدا ہو۔ ابوعبیدہ کا قول ہے کہ صف کا معنی ہے جمع ہونے کی جگہ، جائے نماز کو صف اسی مناسبت سے کہتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ جو مقرر ہے اس جگہ پہنچ جاؤ۔ وقد افلح الیوم من استعلی، جو غالب ہوا کامیاب ہوگیا۔
Ayah 20:65

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى Open ayah 20:65 in the Quran reader

بولے کہ موسیٰ یا تو تم (اپنی چیز) ڈالو یا ہم اپنی چیزیں پہلے ڈالتے ہیں

65۔ قالو، ، جادوگروں نے کہا، یاموسی اماان تلقی، ، اپنی لاٹھیاں ڈالیں، واما ان نکون اول من القی، جو کچھ ہمارے ہے۔
Ayah 20:66

قَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى Open ayah 20:66 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہا نہیں تم ہی ڈالو (جب انہوں نے چیزیں ڈالیں) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور لاٹھیاں موسیٰ کے خیال میں ایسی آنے لگیں کہ وہ (میدان میں) ادھر ادھر دوڑ رہی ہیں

66۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا، بل القو، ، تم پہلے ڈالو۔ فاذا حبالھم، اس میں اضمار ہے کہ تم اپنی لاٹھیاں یارسیاں ڈالو۔ وعصیھم ، عصا کی جمع ہے۔ یخیل الیہ، ابن عامر اور یعقوب نے تخیل تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ پہلی صورت میں ضمیر ان کی رسویں اور لاٹھیوں کی طرف راجع ہے اور دوسری صورت میں ان کے مکرو فریب اور جادو کی طرف لوٹ رہی ہے۔ من سحرھا انھا تسعی، ڈالی ہوئی چیزوں کے متعلق تخیل پیدا ہو کہ وہ چل رہی ہیں اور یہ اس وجہ سے کہ جب انہوں نے لاٹھیاں زمین پر پھینکی تو لوگوں کی نظربندی کردی اور نظربندی کی وجہ سے موسیٰ کو اور دوسرے حاضرین کو ایسا محسوس ہونے لگا کہ ایک ایک میل تک سانپوں سے بھرگئی ہے۔ اور سانپ دوڑ رہے ہیں۔
Ayah 20:67

فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰى Open ayah 20:67 in the Quran reader

(اس وقت) موسیٰ نے اپنے دل میں خوف معلوم کیا

67۔ فاوجس فی نفسہ خیفۃ موسی، ، اس کو خوف پایا۔ بعض نے کہا کہ انہوں نے اپنے دل میں خوف کو چھپایا، خوف کے متعلق بعض نے کہا کہ بشریت کے تقاضے کی بنا پر کچھ خفیہ خوف پیدا ہوا ۔ مقاتل کا بیان ہے کہ آپ کو یہ اندیشہ ہوا کہ لوگ دھوکہ کھاجائیں گے اور میرے معجزے میں ان کو شک پڑجائے گا اور حق واضح نہ ہوگا۔
Ayah 20:68

قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى Open ayah 20:68 in the Quran reader

ہم نے کہا خوف نہ کرو بلاشبہ تم ہی غالب ہو

68۔ قلنا، ، ہم نے موسیٰ سے کہا کہ، لاتخف ، انک انت الاعلی، ، آپ غالب رہیں گے غلبہ آپ کے لیے ہے اور کامیابی آپ ہی کی ہے۔
Ayahs 20:69–70

وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍ١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى Open ayah 20:69 in the Quran reader

اور جو چیز (یعنی لاٹھی) تمہارے داہنے ہاتھ میں ہے اسے ڈال دو کہ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے اس کو نگل جائے گی جو کچھ انہوں نے بنایا ہے یہ تو جادوگروں کے ہتھکنڈے ہیں اور جادوگر جہاں جائے فلاح نہیں پائے گا

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى Open ayah 20:70 in the Quran reader

(القصہ یونہی ہوا) تو جادوگر سجدے میں گرپڑے اور کہنے لگے کہ ہم ہارون اور موسیٰ کے پروردگار پر ایمان لائے

69۔ والق مافی یمینک، اس عصا کو ڈال دیجئے ۔ تلقف ، وہ سب کو نگل لے گا اور ہڑپ کرلے گا۔ ماصنعوا، ، ابن عامر نے ، تلقف ، فاء کے رفع کے ساتھ اور دوسرے قراء نے جزم کے ساتھ پڑھا ہے۔ انماصنعوا، جو انہوں نے بنایا وہ سب جادو ہے۔ کید ساحر ، جادوگروں کاحیلہ ہے اسی طرح حمزہ اور کسائی نے سین کے کسرہ کے ساتھ بغیر الف کے ذکر کیا ہے وردوسرے قراء نے ساحر پڑھا ہے کیونکہ کید کی اضافت فاعل کی طرف ہے۔ ولایفلح الساحر حیث اتی، یعنی جادوگر جہاں اور جس زمین میں جائے کامیاب نہیں ہوتا۔ ابن عباس کا قول نقل کیا ہے اس کا حاصل بھی یہی ہے بعض نے ، ، اتی ، ، کا ترجمہ حیث احتال کیا ہے یعنی جو تدبیر جہاں کرے کامیاب نہیں ہوتا۔
Ayah 20:71

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ١٘ وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:71 in the Quran reader

(فرعون) بولا کہ پیشتر اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے ؟ بیشک وہ تمہارا بڑا (یعنی استاد) ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے سو میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں (جانب) خلاف سے کٹوا دوں گا اور کجھور کے تنوں پر سولی چڑھوا دوں گا (اس وقت) تم کو معلوم ہوگا کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیر تک رہنے والا ہے

71۔ قال آمنتم لہ قبل ان آذان لکم انہ لکبیرکم،۔ کہ یہ تمہارا سردار اور تمہارا استاد سکھانے والا ہے۔ الذی علکم السحر فلاقطعن ایدیکم وارجلکم من خلاف والاصلبنکم فی جذوع النخل۔ درخت کھجور کے تنوں میں لمبا ہوتا ہے دور سے نظر آتا ہے۔ ولتعلمن اینااشد عذابا ، ، یعنی میں تم کو اب موسیٰ پر ایمان لانے کی زیادہ سخت سزا دے سکتا ہوں یاموسی کا رب تم کو زیادہ سخت عذاب دے سکتا ہے۔ اگر تم اس پر ایمان نہ لاتے ، وابقی، اس سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔
Ayah 20:72

قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ١ؕ اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 20:72 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ جو دلائل ہماے پاس آگئے ہیں ان پر اور جس نے ہم کو پیدا کیا ہے اس پر ہم آپ کو ہرگز ترجیح نہیں دیں گے تو آپ کو جو حکم دینا ہو دیجیے اور آپ جو حکم دے سکتے ہیں وہ صرف اسی دنیا کی زندگی میں (دے سکتے ہیں)

تفسیر۔ 72۔ قالوا، جادوگر کہنے لگے ، لن نوثرک، کہ تمہیں اختیار نہیں کریں گے ، علی ماجاء نا من البینات۔ ان دلائل کے مقابلے میں مقاتل کا بیان ہے کہ یہ دلائل سے مراد یدبیضاء اور عصا اور باقی معجزات ہیں اربعض نے کہا کہ اگر یہ جادو ہے توپھرہماری رسیاں اور لاٹھیاں کہاں جائیں گی اور بعض نے کہا کہ ، بینتا ، سے مراد یقین وعلم ہے۔ قاسم بن ابی ابزی سے حکایت کی جاتی ہے کہ جب جادوگرسجدہ میں گرجائیں گے تو اللہ ان کو سجدہ سے اس وقت تک نہیں اٹھائے گا جب تک کہ ان کو سجدہ میں جنت دوزخ دکھانہ لیں۔ اور جنت کے اہل والون کو ان کے اعمال کا ثواب اور جو کچھ جنت میں ہے وہ دیکھ نہ لیں۔ اس آیت، قالو الن نوثرک علی ماجاء نا من البینات، کا مطلب یہی ہے ، ولذی فطرنا ، اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تجھے ترجیح نہ دیں گے۔ یعنی جس فطرۃ پر پہلے سے ہم ہیں اس کو چھوڑ دیں گے بعض نے کہا کہ یہ قسم ہے ، فاقض ماانت قاض، توکرڈال جو کچھ توکرناچاہتا ہے۔ انماتقضی فی ھذہ الحیوۃ الدنیا، یعنی یہ سب کچھ تو دنیا میں کرسکے گا تیری یہ بادشاہت اور سلطنت دنیا ہی تک ہے جو عنقریب زائل ہونے والی ہے۔
Ayah 20:73

اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:73 in the Quran reader

ہم اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے تاکہ وہ ہمارے گناہوں کو معاف کر دے اور (اسے بھی) جو آپ نے ہم سے زبردستی جادو کرایا اور خدا بہتر اور باقی رہنے والا ہے

73۔ اناآمنا بربنا، ،، من السحر۔ سوال یہ ہوتا ہے کہ جادوگر تو اپنے اختیار سے آئے تھے فرعون نے ان کو مجبور کب کیا تھا خود ہی انہوں نے فعرون کی قسم کھاکر کہا تھا کہ ہم غالب رہیں گے ، پھر، مااکرھتنا علیہ من السحر ، کہنا کس طرح صحیح ہوسکتا ہے ؟۔ جواب : حسن (رح) تعالیٰ کا قول ہے کہ کچھ لوگوں کو فرعون جادوسیکھنے پر مجبور کرتا۔ تاکہ جادو کی جڑ قائم رہے۔ ما اکرھتنا، سے یہی مراد ہے۔ مقاتل کا بیان ہے کہ جادوگربہتر تھے۔ دوقبطی اور ستراسرائیلی فرعون نے اسرائیلیوں کو جادوسیکھنے پر مجبور کیا، تھا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے ۔ عبدالعزیز بن ابان نے کہا کہ جادوگروں نے فرعون سے درخواست کی کہ پہلے ہم کو موسیٰ (علیہ السلام) سوتے کی حالت میں دکھادیجئے۔ چناچہ جب حضرت موسیٰ سو رہے تھے اور لاٹھی آپ کا پہرہ دے رہی تھی ۔ اس وقت فرعون نے جادوگروں کو بلوا کر حضڑت موسیٰ کا معائنہ کروایا، جادوگر دیکھ کر کہنے لگے کہ یہ توسحر نہیں ہے۔ کیونکہ جادوگر سوتا ہے تو اس کا جادو ختم ہوجاتا ہے۔ فرعون نے جادوگروں کی بات نہیں مانی اور مقابلہ پر مجبور کیا۔ مااکرھتنا، کا یہی مطلب ہے ، واللہ خیر وابقی، محمد بن اسحق کا بیان ہے کہ آپ کو بہتر ثواب دیاجائے گا اور ان کے لیے عذاب کو باقی رکھا۔ محمد بن کعب کا بیان ہے کہ تمہارے لیے ثواب بہتر ہے ۔ اگر تم ہماری اطاعت کرو گے اور تمہارے لیے عذاب کو باقی رکھاجائے گا اگر تم نے ہماری نافرمانی کی گویا اس کا جواب ، ولتعلمن اینااشد عذاباوابقی،۔۔
Ayah 20:74

اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ١ؕ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى Open ayah 20:74 in the Quran reader

جو شخص اپنے پروردگار کے پاس گنہگار ہو کر آئے گا تو اس کے لئے جہنم ہے جس میں نہ مرے گا نہ جئے گا

74۔ انہ من یات ربہ مجرما۔۔ اللہ تعالیٰ کے کلام کی ابتداء ہے بعض نے کہا کہ جادگروں کا آخری کلام ہے یعنی جو حالت شرک پر مرے گا۔ فان لہ جھنم لایموت فیھا، اس کو جہنم میں راحت حاصل نہیں ہوگی۔ ولایحییٰ اور نہ ہی ایسی زندگی جس سے انکونفع حاصل ہو۔
Ayah 20:75

وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ Open ayah 20:75 in the Quran reader

اور جو اس کے روبرو ایماندار ہو کر آئے گا اور عمل بھی نیک کئے ہوں گے تو ایسے لوگوں کے لئے اونچے اونچے درجے ہیں

75۔ ومن یاتہ، ابوعمرو نے ھاء کے سکون کے ساتھ اس کو ذکر کیا ہے۔ دوسرے قراء کے نزدیک اشباع کے ساتھ ہے ۔ مومنا، جو شخص حالت ایمان پر فوت ہوا۔ قد عمل الصالحات فاولئک لھم الدرجات العلی، ان ک لیے بلند مرتبہ ہے۔ العلی، جمع ہے ، علیا، کی تانیث ہے اعلی کی۔
Ayah 20:76

جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠ Open ayah 20:76 in the Quran reader

(یعنی) ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہ اس شخص کا بدلہ ہوگا جو پاک ہوا

تفسیر۔ 76۔ جنات عدن تجری من تحتھا۔۔۔۔ تمہیں گناہوں سے پاک کرلیں گے کلبی کا بیان ہے کہ اپنے نفس کی زکوۃ ادا کرو لاالہ الاللہ کے قول کے ساتھ۔ حضرت ابوسعیدخدری ؓ کی روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا اونچے درجات والوں کو نیچے والے اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم چمکتے ستاروں کو آسمان کے کنارے پر دیکھتے ہو اور حضرت ابوبکر وعمر انہی میں سے ہوں گے۔
Ayah 20:77

وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى١ۙ۬ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا١ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى Open ayah 20:77 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہماے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ پھر ان کے لئے دریا میں (لاٹھی مار کر) خشک راستہ بنادو پھر تم کو نہ تو (فرعون کے) آ پکڑنے کا خوف ہوگا اور نہ (غرق ہونے کا ڈر)

77۔ ولقد اوحینا الی موسیٰ ان اسربعبادی، ، ان کو مصر سے راتوں رات باہر لے جاؤ۔ فاضرب لھم طریقا فی البحر، ، بنالو ان کے راستہ سمندر میں لاٹھی کے مارنے کے ساتھ۔ یسا، وہ ایسا خشک ہوجائے گا کہ نہ اس میں مٹی ہوگی اور نہ ہی پانی اور نہ ہی کیچڑ ۔ اللہ تعالیٰ سمندر کے پانی کو جام کردیں گے۔ لاتخاف درکا، حمزہ نے اسکو ، لاتخف، ، پڑھا ہے ۔ مجزم نہی کی وجہ سے اور باقی قراء نے رفع اور الف کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ ولاتخشی، بعض نے کہا کہ آپ اس وجہ سے خوف نہ کھائیں کہ آپ کے پیچھے فرعون آگیا اور نہ ہی اس بات سے خوف کھائیں کہ آگے سمندر میں ڈوب جائیں گے۔
Ayah 20:78

فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْؕ Open ayah 20:78 in the Quran reader

پھر فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ ان کا تعاقب کیا تو دریا کی (موجوں) نے ان پر چڑھ کر انھیں ڈھانک لیا (یعنی ڈبو دیا)

78۔ فاتبعھم، ، فرعون اپنالشکر لے کر ان کے پیچھے چل پڑا۔ فرعون بجنودہ، بعض نے کہا کہ فرعون نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ وہ ان کے پیچھے پیچھے جائیں۔ بعض نے کہا کہ باء زائدہ ہے اور فرعون ان میں شامل تھا۔ فغشیھم، ان کو پہنچا۔ من الیم ما غشیھم، اور وہ غرق ہوگیا۔ یعنی فرعون کو ایسی موجوں نے ڈھانپ لیاجواوپر سے بھی آئیں جن کی مقدار اور حقیقت سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا۔ ایک تو سمندر کا اندھیرا اور دوسرا موجوں کے جوش مارنے کا اندھیرا۔ اور بعض نے کہا کہ ان کو ای سے اندھیرے نے سمندر میں لپیٹا جیسا کہ موسیٰ کی قوم کو نہیں کیا۔ فرعون کی قوم غرق ہوگئی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بچ گئی۔
Ayah 20:79

وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى Open ayah 20:79 in the Quran reader

اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کردیا اور سیدھے راستے پر نہ ڈالا

79۔ واضل فرعون قومہ وماھدی، ، فرعون نے اپنی قوم کو بےراہ کردیا تھا اور ان کوسیدھاراستہ نہیں دکھایا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ومااھدیکم الاسبیل الرشاد۔
Ayah 20:80

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى Open ayah 20:80 in the Quran reader

اے آل یعقوب ! ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی اور (تورات دینے کے لئے) تم سے کوہ طور کی داہنی طرف مقرر کی اور تم پر من اور سلویٰ نازل کیا

80۔ یابنی اسرائیل قد انجیناکم من عدوکم، اس سے مراد فرعون ہے ۔ وواعدنکم جانب الطور الایمن ونزلنا علیکم المن والسلوی۔