20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 20:81

كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ لَا تَطْغَوْا فِیْهِ فَیَحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبِیْ١ۚ وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْهِ غَضَبِیْ فَقَدْ هَوٰى Open ayah 20:81 in the Quran reader

(اور حکم دیا کہ) جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو دی ہیں ان کو کھاؤ اور اس میں حد سے نہ نکلنا ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہوگا اور جس پر میرا غضب نازل ہوا وہ ہلاک ہوگیا

81۔ کلو من طیبات مارزقناکم، حمزہ اور کسائی نے ، انجینکم ، وواعدنکم ورزقتکم ، تاء کے ساتھ ہے اور دوسرے قراء نے نون کے ساتھ ذکر کیا ہے تعظیم کی بنا پر اور، ، نزلنا، میں اختلاف نہیں کیا، کیونکہ ان کو الف کے ساتھ ہی ذکر کیا ہے۔ ولاتطغوا فیہ، ابن عباس کا قول ہے کہ تم ظلم نہ کرو کلبی کا بیان ہے کہ تم نعمت کی ناشکری نہ کرو وگرنہ سرکش ظالم بن جاؤ گے۔ بعض نے کہا کہ ہماری پاکیزہ اشیاء برائی میں خرچ نہ کرو۔ بعض نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری نعمتوں کو معاصی میں تقویت نہ دو ۔ بعض نے کہا کہ تم ہماری نعمتوں کا زخیرہ نہ کرو۔ فیحل، اعمش کسائی نے حاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور، ، ومن یحلل، لام کے ضمہ کے ساتھ ہے اس کا معنی ہے اترنا، اور دوسرے قراء نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت میں اس کا معنی ہے واجب ۔ علیکم غضبی، ومن یحلل علیہ غضبی، فقد ھوی۔ تو وہ ہلاک ہوا اور آگ میں جاگرا۔
Ayah 20:82

وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى Open ayah 20:82 in the Quran reader

اور جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے پھر سیدھے راستے چلے اس کو میں بخش دینے والا ہوں

تفسیر۔ 82۔ وانی لغفار لمن تاب، ، ابن عباس کا بیان ہے کہ اس کا معنی ہے شرک سے توبہ کرنا۔ وامن ، ووحد اللہ، اللہ کی وحدانیت اور اس کی تصدیق کرنا۔ وعمل صالحا، فرائض کو ادا کرنا، ثم اھتدی، ابن عباس کا قول ہے کہ اس نے ہدایت پائی یعنی جان لیا کہ یہ سب کچھ اللہ کی توفیق سے ملا ہے ۔ قتادہ اور سفیان ثوری کا قول ہے کہ اسلام پر مرتے دم تک قائم رہا۔ شعبی، مقاتل، کلبی، کا بیان ہے کہ یعنی یہ جان لیا کہ اللہ کی طرف سے اس کا ثواب مجھے ملے گا۔ زید بن اسلم کا قول ہے کہ اس نے علم حاصل کیا تاکہ اس کے مطابق عمل کرے ۔ ضحاک کا قول ہے ہدایت پر قائم رہنا۔ سعید بن جبیرؓ کا قول ہے سنت اور جماعت کے مسلک پر قائم رہا۔
Ayah 20:83

وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:83 in the Quran reader

اور اے موسیٰ تم نے اپنی قوم سے (آگے چلے آنے میں) کیوں جلدی کی ؟

83۔ ومااعجلک، ، قوم کے جلدی آنے کا سبب کیا ہے۔ عن قومک، ، حضرت موسیٰ نے طور پر لے جانے کے لیے بنی اسرائیل میں سے ستر آدمیوں کا انتخاب کیا تاکہ طور پر پہنچ کر حسب وعدہ اللہ کی کتاب حاصل کرلیں۔ پھر ان کو پیچھے چھوڑ کر دیدار الٰہی کے شوق میں خود پہلے آگئے اور ان سے کہہ دیا کہ تم لوگ پیچھے آجانا۔ اللہ نے حضڑت موسیٰ سے یہی سوال کیا ہے کہ تم قوم سے پہلے چلے آئے اس پر اللہ نے فرمایا ، ومااعجلک عن قومک یاموسی۔
Ayah 20:84

قَالَ هُمْ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِیْ وَ عَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى Open ayah 20:84 in the Quran reader

کہا وہ میرے پیچھے (آ رہے) ہیں اور اے پروردگار میں نے تیری طرف (آنے کی) جلدی اس لئے کی کہ تو خوش ہو

84۔ قال، ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ رب العزت کو جواب دے رہے تھے۔ ” ھم اولاء علی اثری، اس مقام کی طرف جہاں عزت وقرب عطا فرمانے اور تجلیات نازل کرنے اور کلام کرنے کا آپ نے وعدہ کیا تھا۔ وعجلت الیک رب لترضی، تاکہ آپ زیادہ خوش ہوں۔
Ayah 20:85

قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ Open ayah 20:85 in the Quran reader

فرمایا کہ ہم نے تمہاری قوم کو تمہارے بعد آزمائش میں ڈال دیا ہے اور سامری نے ان کو بہکا دیا ہے

85۔ قال فانا قد فتنا قومک من بعدک۔۔ حضرت موسیٰ کے پیچھے حضرت ہارون کی آزمائش میں ڈالا، اور وہ ستر ہزار لوگ جنہوں نے بچھڑے کی پوجاشروع کردی تھی بعض نے کہا کہ بنی اسرائیل چھ لاکھ تھے بارہ ہزار کے علاوہ باقی سب گمراہ اور گوسالہ پرست ہوگئے۔ ” واضلھم السامری۔ اس نے لوگوں کو بچھڑے کی پوجا کرنے کی طرف پھیر دیا۔ سامری کی طرف اضافت اس لیے کی اس کے بسبب سب گمراہ ہوئے۔
Ayah 20:86

فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۚ۬ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا١ؕ۬ اَفَطَالَ عَلَیْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ Open ayah 20:86 in the Quran reader

اور موسیٰ غم اور غصے کی حالت میں اپنی قوم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اے قوم کیا تمہارے پروردگار نے تم سے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا ؟ کیا (میری جدائی کی) مدت تمہیں دراز معلوم ہوئی یا تم نے چاہو کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف غضب نازل ہو ؟ اور (اس لئے) تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا

86۔ فرجع موسیٰ الی قومہ غضبان اسفا، غمگین ہوکر۔ قال یا قوم الم یعدکم ربک وعداحسنا ، اس سے مراد سچائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تورات دی۔” افطال علیکم العھد، ، آپ سے جدا ہونے کی مدت کتنی تھی۔ ام اردتم ان یحل علیکم غضب من ربکم، اگر تم نے ایسا کرنے کا ارادہ کرلیا تو پھر تم اپنے رب کے غضب کو پہنچ گئے۔ فاخلتم موعدی، ،۔
Ayah 20:87

قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِیُّۙ Open ayah 20:87 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے ختیار سے تم سے وعدہ خلاف نہی کیا بلکہ ہم لوگوں کے زیوروں کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھے پھر ہم نے اس کو آگ میں ڈال دیا اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا

تفسیر۔ 87۔ قالوامااخلفنا موعدک بملکنا، نافع ابوجعفر اور عاصم کے نزدیک ، بملکنا ، میم کے فتحہ کے ساتھ حمزہ اور کسائی نے ان دونوں کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور کہ ہم آپ کے حکم کے مالک ہیں۔ بعض نے کہا کہ ہم نے اپنے اختیار سے ایسا نہیں اور بعض قراء نے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت میں اس کو معنی یہ ہوگا کہ یہ سب کچھ آپ کی قدرت اور اختیار سے کیا۔ بعض نے کہا کہ جب کسی شخص پر کوئی مصیبت یا مشکل افتادہ آپڑے تو پھر اس کو اپنے نفس کی پرواہ نہیں ہوتی۔ ولکنا حملنا، ابوعمرو، حمزہ کسائی، ابوبکر ، یعقوب نے حاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ میم کی تخفیف کے ساتھ، دوسرے قراء نے حاء کے ضمہ کے ساتھ اور میم کی تشدید کیساتھ۔ ” اوزارا من زینۃ القوم، ، فرعون کی قوم کے زیورات ان کو اوزار اس لیے کہا کہ انہوں نے فرعون کی قوم سے عاریۃ زیورات لیے۔ یہ اس وجہ سے کہ جب بنی اسرائیل نے قبطیوں سے سوناعاریۃ لیا تو اس وقت قبطی ان کے ساتھ ساتھ مصر سے باہر نکلے اور بعض نے کہا کہ فرعون اور اس کے ساتھی جب دریا میں ڈوب گئے تودریانے ان کا زیور باہر پھینک دیا۔ بنی اسرائیل نے بطور مال غنیمت اس کو لے لیا، لیکن مال غنیمت ان ک لیے جائز نہ تھا انہوں نے اس کو بوجھ ہی کہا۔ ” فقذفناھا، بعض روایات میں آتا ہے کہ سامری کے کہنے سے انہوں نے ایک گڑھا کھودکر سارا زیور اس میں ڈال دیا تاکہ موسیٰ (علیہ السلام) جب واپس آئیں توزیور کے متعلق شرعی حکم بتائیں۔ سدی کا قول ہے کہ ان کو حضرت ہارون (علیہ السلام) نے کہا کہ جو زیورات تمہارے پاس ہیں یہ غنیمت تمہارے لیے حلال نہیں تو ایک گڑھا کھودا کر اس میں ڈال دو ۔ یہاں تک کہ موسیٰ (علیہ السلام) واپس آجائیں۔ پھر وہ اس کے متعلق رائے دے۔ پھر انہوں نے ایسے ہی کیا، فقذفنھا، ڈال دیا ہم نے اس زیورات کو گڑھے میں۔ فکذالک القی السامری، اور اس میں سامری نے بھی ڈال دیا اور جو کچھ اس کے پاس تھا وہ بھی ڈال دیا۔ سعید بن جبیر تابعی (رح) کی روایت سے حضرت ابن عباس ؓ عنہماکابیان منقول ہے کہ حضرت ہارون نے آگ جلواکر بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ تم لوگوں کے پاس جو زیور ہے وہ اس میں ڈال دو ، حکم کی تعمیل میں بنی اسرائیل نے سارا زیور آگ میں ڈال دیا۔ پھر سامری نے حضرت جبرائیل کے گھوڑے کے قدم کے نیچے کی خاک، (جو اس کے پاس تھی) آگ میں ڈال دی ۔ قتادہ کا بیان ہے کہ سامری نے وہ مٹی اپنے عمامے کے گوشے میں رکھی تھی۔
Ayah 20:88

فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمْ وَ اِلٰهُ مُوْسٰى١۬ فَنَسِیَؕ Open ayah 20:88 in the Quran reader

تو اس نے انکے لئے ایک بچھڑا بنادیا (یعنی اس کا) قالب جس کی آواز گائے کی سی تھی تو لوگ کہنے لگے یہ تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی معبود ہے مگر وہ بھول گئے ہیں

88۔ فاخرج لھم عجلا جسدالہ خوار فقالواھذا الھکم والہ موسیٰ فنسی، ، موسیٰ نے اس کو ترک کردیا اور خدا کی تلاش میں چلا گیا۔ (نعوذ باللہ) بعض نے کہا کہ سیدھاراستہ چھوڑ کر بھٹک گیا۔
Ayah 20:89

اَفَلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِعُ اِلَیْهِمْ قَوْلًا١ۙ۬ وَّ لَا یَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا۠ Open ayah 20:89 in the Quran reader

کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ ان کی کسی بات کا جواب نہیں دیتا اور نہ ان کے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتا ہے

89۔ افلایرون الایرجع الیھم قولا، انہوں نے ایسا بچھڑا انہیں دیکھا جو بولتا تھا بھی ہو اور جواب بھی دیتا ہو جب اس کو پکارا جائے۔ ” ولایملک لھم ضرا ولانفعا، ، بعض حضرات کا کہنا ہے کہ سامری بچھڑا بنارہا تھا، کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) ادھر سے گزرے اور پوچھا کہ کیا کررہا ہے سامری نے کہا میں ایسی چیز بنارہا ہوں جو مفید ہوگی ضرر رساں نہیں ہوگی ۔ آپ میرے لیے کامیابی کی دعا کریں حضرت ہارون نے دعا کی کہ اے اللہ یہ جو کچھ تجھ سے مانگ رہے ہیں اس کو اس کی دلی مراد کے مطابق عطافرمادے۔ آپ کی دعا قبول ہوئی اور سامری نے جب بچھڑے کے منہ میں خاک ڈال دی تو وہ بولاچیختا ہوابچھڑا بن گیا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا حقیقت میں یہ اللہ کی طرف سے آزمائش تھی جس میں اللہ نے بنی اسرائیل کو مبتلا کردیا تھا۔
Ayah 20:90

وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَ اَطِیْعُوْۤا اَمْرِیْ Open ayah 20:90 in the Quran reader

اور ہارون نے ان سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ لوگو ! اس سے صرف تمہاری آزمائش کی گئی ہے اور تمہارا پروردگار تو خدا ہے تو تم میری پیروی کرو اور میرا کہا مانو

90۔ ولقد قال لھم ہارون من قبل، ، حضرت موسیٰ کے واپس لوٹنے سے پہلے ہی کہہ چکے تھے ۔ یا قوم انما فتنتم بہ، کہ تم کس میں مبتلا ہوگئے ہو۔ وان ربکم الرحمن فاتبعونی، میرے دین پر چلو میری اتباع کرو۔ واطیعوامری ، اور بچھڑے کی پوجا کو چھوڑ کر میرے حکم کی اطاعت کرو۔
Ayah 20:91

قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَیْهِ عٰكِفِیْنَ حَتّٰى یَرْجِعَ اِلَیْنَا مُوْسٰى Open ayah 20:91 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ جب تک موسیٰ ہمارے پاس نہ آئیں ہم اس (کی پوجا) پر قائم رہیں گے

تفسیر۔ 91۔ قالولن نبرح، ، ہم ہمیشہ اس پر برقرار رہیں گے جب تک موسیٰ (علیہ السلام) واپس نہیں لوٹتے۔ علیہ، اس کی عبادت پر ہمیشہ رہیں گے ، عاکفین ، اسی پر جمے رہیں گے۔ حتی یرجع الینا موسی، اس جواب کے بعد حضرت ہارون (علیہ السلام) اپنے ساتھ بارہ ہزار افراد کو لے کر باقی جماعت سے الگ ہوگئے۔ حضرت موسیٰ واپس آئے تو آپ نے دور سے کچھ شوروغل کی آواز سنی کیونکہ لوگ بچھڑے کے گرد ناچ کود رہے تھے اور شور برپا تھا۔ حضرت موسیٰ کے ساتھ جو ستر آدمی تھے انہوں نے کہا یہ آواز تو کسی فتنہ سے خالی نہیں۔ حضرت موسیٰ نے آکر لوگوں کو بچھڑے کے پاس ناچتے دیکھاتوغضبناک ہوکر دائیں ہاتھ سے حضرت ہارون کے سر کے بال اور بائیں ہاتھ سے داڑھی پکڑ لی۔
Ayah 20:92

قَالَ یٰهٰرُوْنُ مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَیْتَهُمْ ضَلُّوْۤاۙ Open ayah 20:92 in the Quran reader

(پھر موسیٰ نے ہارون سے کہا) کہ ہارون جب تم نے ان کو دیکھا تھا کہ گمراہ ہوگئے ہیں تو تم کو کس چیز نے روکا ؟

92۔ قال، ، ان کو کہا، یاھارون مامنعک اذ رایتھم ضلو، ، کہ تم شرک کرنے لگے ہو۔
Ayah 20:93

اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَیْتَ اَمْرِیْ Open ayah 20:93 in the Quran reader

(یعنی) اس بات سے کہ تم میرے پیچھے چلے آؤ بھلا تم نے میرے حکم کے خلاف (کیوں کیا ؟ )

93۔ الاتتبعن، ، کہ تم میری پیروی کرتے ، ، لاصلہ ہے کہ میرے حکم کی پیروی کرتے اور میرا کہنا مانتے اور آپ ان کے ساتھ قتال کرتے اور تم جانتے ہو کہ اگر میں ان کے درمیان میں ہوتا تو ان کے ساتھ قتال کرتا ان کے کفر کی وجہ سے ۔ بعض علماء نے اس کا معنی یہ بیا کیا ہے کہ تمہیں میرے پیچھے آنے اور مجھے اس واقعہ کی اطلاع دینے سے کیا مانع ہواتم نے ایسا کیوں نہیں کیا ، افعصیت امری ، کہ تم نے میرے کام کی مخالفت کی۔
Ayah 20:94

قَالَ یَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَ لَا بِرَاْسِیْ١ۚ اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ Open ayah 20:94 in the Quran reader

کہنے لگے بھائی میری داڑھی اور سر (کے بالوں) کو نہ پکڑیئے میں تو اس سے ڈرا کہ آپ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کو ملحوظ نہ رکھا

94۔ قال یا ابن ام لاتاخذ بلحیتی ولابراسی، ،، یعنی میرے سر کے بال پکڑ کر نہ کھنچئے، حضرت موسیٰ نے شدت غضب میں حضرت ہارون (علیہ السلام) کے سر کے بال کھینچے تھے ۔ انی خشیت، ، مجھے اندیشہ ہے کہ اگر میں ان کو گوسالہ پرستی سے سختی کرتا تو یہ دوگروہوں میں تقسیم ہوجاتے اور ایک دوسرے کی گردن مارتے تو آپ مجھے کہتے (ان تقول فرقت بین بینی اسرائیل) تو مجھے اس بات سے ڈر لگا کہ اگر ان کو روکوں تولامحالہ ان کے دوفرقے ہوجائیں گے ایک میرا حامی اور دوسرا وہ جس کے ساتھ میں قتال کرتا، اور پھر آپ کہتے کہ بنی اسرائیل کے تونے دوٹکڑے کردیے۔ ولم ترقب قولی، ، اور میری بات کا لحاظ نہیں رکھا، میں نے تجھ سے کہاتھ ا کہ میری جگہ تو ان کی درستی اور اصلاح کرتے رہنا اور ظاہر ہے کہ اصلاح نرمی سے سمجھانے سے ہی ممکن ہوسکتی تھی اس لیے میں نے نرمی سے ان کو سمجھایا، خون ریزی نہیں کی۔ پھر حضرت موسیٰ سامری کی طرف متوجہ ہوئے۔
Ayah 20:95

قَالَ فَمَا خَطْبُكَ یٰسَامِرِیُّ Open ayah 20:95 in the Quran reader

(پھر سامری سے) کہنے لگے کہ سامری تیرا کیا حال ہے ؟

95۔ قال فماخطبک ، ، سامری تیراکیامعاملہ ہے تونے یہ کس طرح کردیا (یاسامری) ۔
Ayah 20:96

قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَ كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ Open ayah 20:96 in the Quran reader

اس نے کہا میں نے ایسی چیز دیکھی جو اوروں نے نہیں دیکھی تو میں نے فرشتے کے نقش پا سے (مٹی کی) ایک مٹھی بھر لی پھر اس کو (بچھڑے کے قلب میں ڈال دیا اور مجھے میرے جی نے (اس کام کو) اچھا بتایا

96۔ قال بصرت بمالم یبصرو بہ، ، میں نے ایسی چیز دیکھی جو اوروں نے نہیں دیکھی اور میں وہ چیز پہچانی جو اوروں نے نہیں پہچانی ، حمزہ اور کسائی نے ، مالم تبصرو، ، تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے خبر ہونے کی وجہ سے ، فقبضت قبضۃ من اثرالرسو، ، وہ فرستادہ خداوندی کے گھوڑے کے نقش قدم سے، فنبذتھا، اور اس کو بچھڑے کے منہ میں ڈال دیا۔ بعض حضرات نے کہا کہ سامری نے وہ خاک حضرت جبرائیل کے گھوڑے کی ٹاپوں کے نیچے سے اٹھائی تھی کیونکہ اس کی پیدائش اسی سال ہوئی تھی جس سال بنی اسرائیل کے نوزائیدہ بچے قتل کیے جارہے تھے۔ سامری کی ماں نے اس کو لے جاکر ایک غار میں رکھ دیا تھا۔ اللہ نے اس کی پرورش کے لیے حضرت جبرائیل کو مامور کردیا تھا۔ کیونکہ اس کے ہاتھوں سے ایک فتنہ بنی اسرائیل میں بپا کرنا تھا۔ جبرائیل (علیہ السلام) اس کی غذائی پرورش کرتے رہے یہاں تک کہ یہ خود اپنے پاؤں پر چلنے لگا، اس وقت یہ جبرائیل کو پہچانتا تھا۔ وکذلک سوت ، ، میرے دل نے یہی بات پسند کی اور میری نظر میں اس فعل کو پسندیدہ بنادیا۔ لی نفسی، ،۔
Ayah 20:97

قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ١۪ وَ اِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْهِ عَاكِفًا١ؕ لَنُحَرِّقَنَّهٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا Open ayah 20:97 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہ جا تجھ کو دنیا کی زندگی میں یہ (سزا) ہے کہ کہتا رہے کہ مجھ کو ہاتھ نہ لگا اور تیرے لئے ایک اور وعدہ ہے (یعنی عذاب کا) تجھ سے ٹل نہ سکے گا اور جس معبود کی (پوجا) پر تو (قائم و) معتکف تھا اس کو دیکھ ہم اسے جلا دیں گے پھر اس کی راکھ کو اڑا کر دریا میں بکھیر دیں گے

تفسیر۔ 97۔ قال فاذھب فان لک فی الحیوۃ، ،، جب تو اس دنیا میں زندہ رہے گا، ان تقول لامساس، ، میرے قریب تم میں سے کوئی نہ آئے اور نہ ہی وہ مجھے چھوئے۔ حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دے دیا تھا، کہ اس سے میل جول نہ رکھنا، اور اس کے پاس بھی نہ جانا۔ ابن عباس کا قول ہے کہ ، لامساس، کا معنی یہ یہ کہ نہ تجھے چھونا ہے اور نہ ہی تیری اولاد کو۔ مساس مماسۃ سے ہے اس کا معنی یہ ہے کہ میں تم سے بعض بعض کو مس نہ کرے۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ اللہ نے اس کے دل میں انسانوں سے وحشت پیدا کردی تھی۔ اس لیے وہ جنگلوں اور ویرانوں میں مارا مارا پھرتا تھا اور اسی حالت میں مرگیا۔ جو شخص بھی اس کے ساتھ ملتا توسامری کہنا لامساس یعنی میرے قریب نہ آؤ اور نہ ہی مجھے چھوؤ۔ بعض حضرات نے کہا کہ جو شخص اس کو چھولیتا یا جس کو سامری چھولیتا اس کو بخار آجاتا تھا۔ اس دن وہ سب یہی کہتے کہ لامساس اور ان لوگون میں سے بھی کوئی شخص سامری کے چھونے والے کو چھوتا تو اس کو بھی بخار آجاتا۔ وان لک، ، تمہارے لیے اے سامری، موعدا، ، آخرت میں اللہ کا عذاب اور اس کی طرف سے مقرر وعدہ ہے۔ لن تخلفہ، ابن کثیر ابوعمرو اور یعقوب نے ، لن تخلفہ، پڑھا ہے لام کے کسرہ کے ساتھ کہ اس دن نہ تو کسی سے غائب رہ سکے گا اور نہ ہی اس دن بھاگ سکے گا بل کہ اس دن تجھے پورا پورا بدلہ دیاجائے گا دوسرے قراء نے لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے کہ نہ اس دن تو کسی کی تکذیب کرسکے گا اور نہ ہی تیرا کوئی خلیفہ ہوگا اس دن اللہ تعالیٰ تمہارے فعل کا پورا پورا بدلہ دے گا اور اس کے سامنے کوئی عمل بھی پوشیدہ نہیں ہوگا۔ ” وانظر الی الھک، اپنے معبودکودیکھ۔ الذی ظلت علیہ عاکفا لنحرقنہ، ، جب تو اس پرجما بیٹھا رہے اور اس کی عبادت کرتا رہے، عرب کہتے ہیں، ظلت افعل کذا، ، اس کا معنی یہ ہے کہ مجھے مس نہ کرو ابوجعفر کا قول ہے کہ یہ احراق سے ہے ، یعنی ہم اس کو جلا ڈالیں گے۔ ” ثم لننسفنہ، خاک اور راکھ کو یاگھ سے ہوئے چورے کو بکھیردیں گے۔ فی الیم، سمندر میں نسفا، روایت میں آتا ہے حضرت موسیٰ نے اس بچھڑے کو پکڑ اور اس کو ذبح کردیا۔ اس سے خون نکلا کیونکہ وہ گوشت اور خون بن چکا تھا۔ پھر اس کو آگ میں جلادیا۔ پھر اس کو سمندر میں ڈال دیا۔ ابن محیصن نے ، لنحرقن، ، نون کے فتحہ کے ساتھ اور راء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے یعنی پھر ہم اس کو ٹھنڈا کردیں گے ۔ سدی کا قول ہے کہ حضرت موسیٰ نے بچھڑے کو پکڑ اور اس کو ذبح کردیا پھر اس کو جلادیا اور اس کو سمندر میں پھنک دیا۔
Ayah 20:98

اِنَّمَاۤ اِلٰهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَسِعَ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا Open ayah 20:98 in the Quran reader

تمہارا معبود وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے

98۔ انما الھکم اللہ الذی لاالہ الاھو وسع کل شئی علما۔ ہرچیز کا علم اس کے پاس ہے۔
Ayah 20:99

كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ١ۚ وَ قَدْ اٰتَیْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًاۖۚ Open ayah 20:99 in the Quran reader

اس طرح پر ہم تم سے وہ حالات بیان کرتے ہیں جو گزر چکے ہیں اور ہم نے تمہیں اپنے پاس سے نصیحت (کی کتاب) عطا فرمائی ہے

99۔ کذالک نقص علیک من انباء ماقد سبق، ، جو امور گزرچکے ہیں ۔ وقد اتیناک من لدنا ذکرا، اس سے مراد قرآن ہے۔
Ayah 20:100

مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وِزْرًاۙ Open ayah 20:100 in the Quran reader

جو شخص اس سے منہ پھیرے گا وہ قیامت کے دن (گناہ کا) بوجھ اٹھائے گا

100۔ من اعرض عنہ، ، جس نے اس قرآن سے اعراض کیا اس پر ایمان نہیں لایا، نہ ہی اس پر عمل کیا۔ فانہ یحمل یوم القیامۃ وزرا۔ گناہوں کا بھاری بوجھ لے کر آئے گا۔
Ayah 20:101

خٰلِدِیْنَ فِیْهِ١ؕ وَ سَآءَ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ حِمْلًاۙ Open ayah 20:101 in the Quran reader

(ایسے لوگ) ہمیشہ اس (عذاب) میں (مبتلا) رہیں گے اور یہ بوجھ قیامت کے روز ان کے لئے برا ہے

101۔ خالدین فیہ، بھاری بوجھ لاد کر کھڑے رہیں گے۔ وساء لھم یوم القیامۃ حملا، قرآن سے انکار کے بسبب وہ برا بوجھ ہوگاجو وہ قیامت کے دن اٹھائے ہوں گے۔
Ayah 20:102

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًاۚۖ Open ayah 20:102 in the Quran reader

جس روز صور پھونکا جائے گا اور ہم گنہگاروں کو اکٹھا کریں گے اور ان کی آنکھیں نیلی نیلی ہوں گی

102۔ یوم ینفخ فی الصور ، ابوعمرو نے ننفخ ، پڑھا ہے فاء کے ضمہ کے ساتھ ، ونحشر ، دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے فاء کے فتحہ کے ساتھ ، المجرمین ، اس سے مشرکین مراد ہیں۔ یومئذ زرقا، اس سے مراد ہے نیلی آنکھوں والے آنکھ کی سیاہی میں سبزی کی آمیزش کو زرقت کہتے ہیں اور بعض نے کہا کہ زرقا سے مراد اندھا ہونا ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد پیاسا ہونا ہے۔
Ayah 20:103

یَّتَخَافَتُوْنَ بَیْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا Open ayah 20:103 in the Quran reader

(تو وہ آپس میں آہستہ آہستہ کہیں گے کہ تم دنیا میں) صرف دس ہی دن رہے ہو

تفسیر۔ 103۔ یتخافتون بینھم، ، وہ آپس میں مشاورت کرتے ہیں اور چپکے چپکے باتیں کرتا ہے۔ ان لبثتم ، کہ کتنا عرصہ تم دنیا میں ٹھہرے رہے۔ الاعشرا، مگر دس راتیں۔ بعض نے کہا کہ قبروں میں دس راتیں ٹھہرے رہے۔ بعض نے کہا کہ دونوں ، نفخوں کے درمیان کتنی دیر ٹھہرے، وہ چالیس سال کا عرصہ ہے ان دونوں صوروں کے درمیان ان پر کوئی عذاب نہیں ہوگا، آرام کی مدت قلیل معلوم ہوگی اس لیے وہ چالیس سال کو دس روز کہیں گے۔
Ayah 20:104

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُهُمْ طَرِیْقَةً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا۠ Open ayah 20:104 in the Quran reader

جو باتیں یہ کریں گے ہم خوب جانتے ہیں اس وقت ان میں سب سے اچھی راہ والا (یعنی عاقل وہوش مند (کہے گا کہ نہیں بلکہ صرف ایک ہی روز ٹھہرے ہو

104۔ نحن اعلم بمایقولون، ، جو وہ آپس میں مشاورت کرتے ہیں۔ اذ یقول امثلھم طریقۃ، یعنی زیادہ سمجھدار اور بھرپور عقل والا اور سب سے بڑھ رک معتدل العقل یامعتدل العمل، ان لبثتم الایوما۔ ان کی آنکھوں کے سامنے اس کی مدت میعاد کم ہوگی کیونکہ اس وقت ان کے دل مرعوب اور ہول زدہ ہوں گے اس لیے چپکے چپکے باہم کہیں گے کہ ہم لوگ دنیا میں صرف چند دن رہے۔ بعض نے کہا کہ کثرت اور شدت ھول کی وجہ سے وہ ٹھہرنے کی مدت کو ہی بھول جائیں گے۔
Ayah 20:105

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ Open ayah 20:105 in the Quran reader

اور تم سے پہاڑوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ خدا ان کو اڑا کر بکھیر دے گا

105۔ ویسالونک عن الجبال فقل ینسفھا ربی نسفا، حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ کسی ثقفی شخص نے آپ سے دریافت کیا کہ قیامت کے دن ان پہاڑوں کا کیا ہوگا، اس کے جواب میں آیت مذکورہ نازل ہوئی نسف کہاجاتا ہے کہ کسی چیز کو جڑ سے اکھاڑنا ، اور اس دن یہ پہاڑ اڑتی ہوئی روئی کی مانند ہوجائیں گے۔
Ayah 20:106

فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاۙ Open ayah 20:106 in the Quran reader

اور زمین کو ہموار میدان کر چھوڑے گا

106۔ فیذرھا، پہاڑوں کو نشیبی زمین کے اردگرد پہاڑوں اور ٹیلے ہٹ گئے ہوں۔ قاعا صفصفا، ہموار زمین جس میں کوئی نباتات نہیں ہوگا، قاع نرم نشیبی زمین کو کہاجاتا ہے اور صف صف ہموار زمین کو کہاجاتا ہے۔
Ayah 20:107

لَّا تَرٰى فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًاؕ Open ayah 20:107 in the Quran reader

جس میں نہ تم کجی (اور پستی) دیکھو نہ ٹیلا (اور نہ بلندی)

107۔ لاتری فیھا عوجا ولاامتا۔ مجاہد کا قول ہے کہ نہ اس میں بلندی دکھائی جائے گی اور نہ ہی پستی۔ حسن کا قول ہے کہ عوج کہاجاتا ہے جو زمین سے ذرا نیچے ہو اور امت جو زمین سے اونچی ہو کہ نہ تو اس دن زمین کونہ نیچھے دیکھے گا اور نہ ہی اونچا۔ قتادہ کا قول ہے کہ نہ اس میں کوئی کجی نظر آئے گی اور نہ ہی ابھار۔
Ayah 20:108

یَوْمَئِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَهٗ١ۚ وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا Open ayah 20:108 in the Quran reader

اس روز لوگ ایک پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے اور اس کی پیروی سے انحراف نہ کرسکیں گے اور خدا کے سامنے آوازیں پس ہوجائیں گی تو تم آواز خفی کے سوا کوئی آواز نہ سنو گے

108۔ یومئذ یتبعون الداعی، ، پکارنے والے کی آواز جو قیامت کے دن روز محشر کی طرف جمع ہونے کے لیے پکارے گا وہ حضرت اسرافیل (علیہ السلام) ہوں گے اور حضرت اسرافیل (علیہ السلام) صور اپنے منہ میں لیے ہوئے ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اے بوسیدہ ہڈیو، اے پارہ پارہ کھالو، اے ٹوٹے ہوئے بالو، تم کو اللہ کے فیصلے کے لیے جمع ہونے کا حکم دیتا ہے۔ لاعوج لہ، ان کے سامنے کسی کاٹیڑھاپن نہیں رہے گا، اور یہ مقلوب ہے یعنی پکارے جانے پر بلانے سے دائیں بائیں کی طرف نہیں مڑیں گے بلکہ سیدھے تیزی کے ساتھ داعی کی دعوت پر آئیں گے۔ ” وخشعت الاصوات للرحمنن ، ، رحمن کی ہیبت سے آوازیں پست ہوجائیں گی۔ فلاتسمع الاھمسا، ، محشر کی طرف چلنے کی آواز۔ ھمس ، خفیف آواز جیسے چلنے میں اونٹوں کے پاؤں کی آواز ہوتی ہے ۔ مجاہد (رح) کا قول ہے کہ ، ھمسی معنی ہے چکے چپکے بات کرنا اور پست آواز۔ سعید بن جبیرؓ نے اس کی تشریح میں حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول نقل کیا ہے بغیر بات کیے لب ہلانا۔
Ayah 20:109

یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا Open ayah 20:109 in the Quran reader

اس روز (کسی کی) سفارش کچھ فائدہ نہ دے گی مگر اس شخص کی جسے خدا اجازت دے اور اسی کی بات کو پسند فرمائے

تفسیر۔ 109۔ یومئذ لاتنفع الشفاعۃ۔ اس دن لوگوں میں سے کسی کی شفاعت قبول نہیں کی جائے گی، الامن اذن لہ الرحمن، مگر جس کو اللہ رب العزت اجازت فرمائیں گے۔ ورضی لہ قولا، جس کی بات سے وہ راضی ہوگاجس کی شفاعت کو وہ پسند کرے گا۔ ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد لاالہ الا اللہ ہے۔ یہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مومن کے بغیر کوئی شفاعت کرنے والا نہیں۔
Ayah 20:110

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا Open ayah 20:110 in the Quran reader

جو کچھ ان کے آگے ہے جو کچھ ان کے پیچھے ہے وہ اسکو جانتا ہے اور وہ (اپنے) علم سے خدا (کے علم) پر احاطہ نہیں کرسکتے

110۔ یعلم مابین ایدھیم وماخلفھم، ، اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو اس کے سامنے ہے اور جو کچھ اس کے پیچھے ہے جو کچھ یہ دنیا میں چھوڑ آیا ہے بعض نے کہا کہ مابین ایدیھم سے مراد آخرت کے احوال ہیں۔ اور وماخلفھم، ، سے مراداعمال ہیں۔ ولایحیطون بہ علما، یعنی ان کا علم اللہ کی معلومات کا احاطہ نہیں کرسکتا۔
Ayah 20:111

وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ١ؕ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا Open ayah 20:111 in the Quran reader

اور اس زندہ و قائم کے رو برو منہ نیچے ہوجائیں گے اور جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا وہ نامراد رہا

111۔ وعنت الوجوہ للحی القیوم، ، ذلیل ہوں گے عاجز ہوں گے ۔ جیسے قیدی بادشاہ کے سامنے ذیل و عاجز ہوتے ہیں ۔ طلق بن حبیب کا قول ہے کہ اس دن سارے حی وقیوم کے سامنے جھکے ہوں گے۔ وقد خاب من حمل ظلما، ابن عباس ؓ عہنما نے آیت کی تشریح میں فرمایا گھاٹے میں رہے گا، جس نے اللہ کا کسی کو شریک قرار دیا۔
Ayah 20:112

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا Open ayah 20:112 in the Quran reader

اور جو نیک کام کرے گا اور مومن بھی ہوگا تو اس کو نہ ظلم کا خوف ہوگا اور نہ نقصان کا

112۔ ومن یعمل من الصالحات وھو مومن فلایخاف، ، ابن کثیر نے ، فلایخف، پڑھا ہے۔ جواب نہی ہونے کی وجہ سے اور دوسرے قراء نے ، فلایخاف، ، خبر ہونے کی وجہ سے مرفوع پڑھا ہے۔ ظلما ولاھضما، ابن عباس کا قول ہے کہ اس کو اپنی برائیوں کے بڑھ جانے کا خوف نہیں ہوگا اور نہ ہی اپنی نیکیوں کے کم ہونے کا اندیشہ ہوگا۔ حسن (رح) کا قول ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ اس کو نیکیوں کے ثواب میں کمی ہونے کا اندیشہ ہوگا اور نہ ہی اس امر کا خوف ہوگا کہ دوسرے گناہ گار کے گناہ اس پر لاد دیے جائیں گے۔ ضحاک کا بیان ہے کہ اس کو ناکردہ گناہ میں پکڑے جانے کا اندیشہ نہیں ہوگا اور نہ ہی کسی عمل کو اچھائی تلف ہونے کا خطرہ ، ھضم ، کا لغوی معنی ہے کم کرنا، ہضم الطعام اسی سے بنا ہے۔
Ayah 20:113

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا Open ayah 20:113 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو اسی طرح کا قرآن عربی نازل کیا ہے اور اس میں طرح طرح کے ڈراوے بیان کر دئیے ہیں تاکہ لوگ پرہیزگار بنیں یا خدا ان کے لئے نصیحت پیدا کر دے

113۔ وکذالک، ، اسی طرح ہم نے اس سورت میں بیان کیا، انزلناہ ، یعنی نازل کیا، اس کتاب کو، قراناعربیا، ، جو ہم نے قرآن نازل کیا وہ عربی زبان میں پڑھا جاتا ہے ۔ سب کا اسلوب اور طرز ایک ہے۔ وصرفنا، اور ہم نے اس کو بیان کیا۔ فیہ من الوعید، ، ہم نے اس کے قول کو پھیردیا، وعید کے ذکر کرنے کے ساتھ، یعنی بار بار وعید کی آیات کو ذکر کیا تاکہ لوگ شرک و معاصی سے اجتناب کریں۔ لعلھم یتقون، تاکہ وہ شرک سے بچیں۔ اور یحدث لھم ذکرا، اور قران کو ان کے لیے نصیحت بنایا۔ تاکہ وہ اس سے عبرت حاصل کریں ۔ اور نصیحت پکڑیں اور اس میں ماقبل اقوام کے عتاب کے ساتھ ذکر کیا۔
Ayah 20:114

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ١٘ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا Open ayah 20:114 in the Quran reader

تو خدا جو سچا بادشاہ ہے عالی قدر ہے اور قرآن کی وحی جو تمہاری طرف بھیجی جاتی ہے اس کے پورا ہونے سے پہلے قرآن کے (پڑھنے کے) لئے جلدی نہ کیا کرو اور دعا کرو کہ میرا پروردگار مجھے اور زیادہ علم دے

114۔ فتعالی اللہ ا الملک الحق، ، جس طرح اللہ تعالیٰ اپنی ذات وصفات میں مخلوق کی مشابہت سے پاک ہیی اس طرح اس کا کلام بھی مخلوق کی کلام کی مماثلت سے اعلی اور بالا ہے ۔ پس وہ جو برتر اور منزہ ہے۔ مشرکوں نے شرکیہ اقوال سے ۔ ولاتعجل بالقرآن، جب نبی کریم پر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) قرآن نازل کرتے تو آپ صلی اللہ اس کو جلدی جلدی یاد کرتے۔ حضرت جبرائیل کی وحی پہنچانے سے پہلے پہلے بھول جانے اور نسیان کے خوف سے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے نہی فرمائی اور فرمایا۔ ” ولاتعجل بالقرآن، ، اس کو جلدی جلدی نہ پڑھیے، من قبل ان یقضی الیک وحیہ، ، حضرت جبرائیل کی وحی کے مکمل ہونے سے پہلے اس کی مثال اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے، لاتحرک بہ لسانک لتعجل بہ، یعقوب نے (نقض) پڑھا ہے نون کے فتحہ کے ساتھ اور ضاد کے کسرہ کے ساتھ، یاء کے فتحہ کے ساتھ۔ مجاہد اور قتادہ نے آیت کا تفسیری مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ، صحابہ کرام کو قرآن پڑھانا اور لکھوانا اور اس وقت تک شروع نہ کیجئے جب تک آپ کے لیے اس کا مطلب اور معنی واضح نہ ہوجائے۔ گویا مکمل بیان آنے سے پہلے مجمل آیات کی تبلیغ کی ممانعت کی گئی۔ ” وقل رب زدنی علما، ، اس سے قرآن اور اس کے معانی مراد ہیں اور بعض نے کہا کہ آپ کو جو علم دیا گیا اس کے حصول تک۔ ابن مسعود جب یہ آیت پڑھتے تھے تو فرماتے تھے، اللھم زدنی ایمانا ویقینا، ، اے اللہ تو میرے ایمان میں اور یقین میں زیادتی فرما۔
Ayah 20:115

وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠ Open ayah 20:115 in the Quran reader

اور ہم نے پہلے آدم سے عہد لیا تھا مگر وہ (اسے) بھول گئے اور ہم نے ان میں صبر وثبات نہ دیکھا

تفسیر۔ 115۔ ولقد عھدنا الی آدم من قبل، ، ہم نے حضرت آدم کو حکم دیا اور نصیحت کردی کہ درخت کے قریب نہ جائے اور اس درخت سے نہ کھائے۔ فنسی، حضرت آدم اس امر کو بھول گئے۔ آیت کا معنی یہ ہوگا کہ انہوں نے عہد کو توڑدیا اور وہ بھول گئے۔ ولم نجدلہ عزما، حسن کا قول ہے کہ جس چیز سے ان کو روکا گیا اس سے کماحقہ نہ رک سکے بلکہ بھول گئے۔ عطیہ عوفی کا بیان ہے کہ جس چیز کا ان کو حکم دیا اس کی حفاظت نہ کرسکے۔ ابن قتیبہ کا بیان ہے کہ شیطان نے آپ کو پختہ عزم دیا جس وجہ سے وہ غلطی کربیٹھے اور وہ ان کے ساتھ حسد کرتا تھا اور اسی نے آپ کے سامنے سرجھکانے سے انکار کردیا۔ لغت میں عزم کا معنی ہے کسی کام کو کرنے کا پختہ ارادہ کرنا۔ ابوامامہ باہلی کا بیان ہے کہ اگر حضرت آدم کے حلم کے ساتھ تمام بنی آدم کے حلم کا وزن کیا جائے تو حضرت آدم کا حلم راجح ہوگا۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ولم نجدلہ عزما۔ سوال : کیا حضرت آدم اللہ کا حکم بھول گئے یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے ؟ جواب : ہوسکتا ہے کہ وہ بھول گئے ہوں اور اس وقت نسیان انسان سے معاف نہیں تھا، بلکہ قابل مواخذہ تھا بلکہ آپ سے معاف کیا گیا۔ بعض نے یہ جواب دیا کہ وہ عقوبت کو بھول گئے اور انہوں نے گمان کیا یہ نہی تنزیہی ہے۔
Ayah 20:116

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى Open ayah 20:116 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب سجدے میں گرپڑے مگر ابلیس نے انکار کیا

116۔ واذقلناللملائکۃ۔۔۔۔۔ ، اس نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔
Ayahs 20:117–118

فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى Open ayah 20:117 in the Quran reader

ہم نے فرمایا کہ آدم یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے تو یہ کہیں تم دونوں کو بہشت سے نکلوا نہ دے پھر تم تکلیف میں پڑجاؤ

اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ Open ayah 20:118 in the Quran reader

یہاں تم کو یہ (آسائش) ہوگی کہ نہ بھوکے رہو نہ ننگے

117۔ فقلنا یا آدم ان ھذاعدولک ولزوجک، ، حضرت حواء کا بھی دشمن ہے۔ فلایخرجنکما من الجنۃ فتشقی، پھر تھک جاؤ گے تعجب میں پڑجاؤ گے۔ آپ کی زندگی دائیں ہاتھ کی کمائی سے ہوگی کہ اس ہاتھ سے کما کر پسینہ بہاکر ایک دانہ حاصل کرکے اس پر طرح طرح کی مشقتیں کاٹ کر حاصل کرو گے۔ سدی کا بیان ہے کہ اس سے مراد کھیتی باڑی کرنا، پھر اس پیداوار کو کاٹنا، پھر اس کو پیس کر آٹا گوندھنا پھر گرم آگ پر اس کو پکانا۔ سعید بن جبیرؓ کا قول ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے لیے ایک سرخ بیل بھی پیدا کیا گیا جس کے ذریعے وہ زمین کھودتے تھے اور اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھتے تھے ۔ یہ تشقی کا مفہوم ہے۔ یہاں خطاب صرف حضرت آدم (علیہ السلام) کو کیا گیا۔ شقاء سے مراد روزی کی تلاش میں تھکنا اور یہ کام صرف آدم (علیہ السلام) کا تھا، حضرت حواء کانہ تھا اس لیے خطاب صرف حضرت آدم کو کیا گیا۔
Ayah 20:119

وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَ لَا تَضْحٰى Open ayah 20:119 in the Quran reader

اور یہ کہ نہ پیاسے رہو اور نہ دھوپ کھاؤ

119۔ وانک ، ، نافع ابوبکر نے الف کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ جملہ مستانفہ ہے اور دوسرے قراء نے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ الاتجوع فیھا، ،، کہ وہ اپنی پیاس بجھائیں۔ فیھا ولاتضحی، یعنی دھوپ میں تپنا نہ پڑے گا، کیونکہ جنت کے اندر دھوپ ہی نہیں ہر وقت سایہ پھیلارہتا ہے۔
Ayah 20:120

فَوَسْوَسَ اِلَیْهِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا یَبْلٰى Open ayah 20:120 in the Quran reader

تو شیطان نے انکے دل میں وسوسہ ڈالا (اور) کہا کہ آدم ! بھلا میں تم کو (ایسا) درخت بتاؤں (جو) ہمیشہ کی زندگی کا (ثمرہ دے) اور (ایسی) بادشاہت کہ کبھی زائل نہ ہو ؟

تفسیر۔ 120۔ فوسوس الیہ الشیطان۔۔۔۔ الخلد۔ وہ درخت جس کے کھانے کی وجہ سے انسان ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ وملک لایبلی، ، جس کو کبھی زوال نہی ہوگا اور نہ ہی وہ فنا ہوگا۔