7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 7:163–171

وَ سْئَلْهُمْ عَنِ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ١ۘ اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ تَاْتِیْهِمْ حِیْتَانُهُمْ یَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّ یَوْمَ لَا یَسْبِتُوْنَ١ۙ لَا تَاْتِیْهِمْ١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:163 in the Quran reader

اور ان سے اس بستی کے بارے پوچھئے جو سمندر کے کنارے واقع تھی۔ جب وہ لوگ ہفتے کے بارے میں (شرعی) حد سے نکلنے لگے جب ان کے پاس ہفتے کے دن مچھلیاں سامنے آنے لگیں اور جب ہفتے کا دن نہ ہوتا تو نہ آتیں اس طرح ان لوگوں کی نافرمانیوں کے سبب ہم نے ان کو آزمائش میں ڈالا

وَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَا١ۙ اِ۟للّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 7:164 in the Quran reader

اور جب ان میں سے کچھ لوگوں نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والے ہیں یا ان کو سخت عذاب دینے والے ہیں انہوں نے کہا اس لئے کہ تمہارے پروردگار کے سامنے معذرت کرسکیں اور ہوسکتا ہے کہ وہ پرہیزگاری اختیار کرلیں

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖۤ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ وَ اَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۭ بَئِیْسٍۭ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:165 in the Quran reader

پس جب انہوں نے اس کی پرواہ نہ کی جس کی ان کو نصیحت کی تھی تو ہم نے ان لوگوں کو بچا لیا جو اس برے کام سے منع کرتے تھے اور جو ظلم کرتے تھے ہم نے ان کو برے عذاب سے پکڑ لیا اس وجہ سے کہ وہ برائی کرتے تھے

فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَ Open ayah 7:166 in the Quran reader

پس جب انہوں نے اس کام میں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا سرکشی کی تو ہم نے ان کو حکم دیا کہ ذلیل بندر بن جاؤ

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْهِمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ یَّسُوْمُهُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖۚ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:167 in the Quran reader

اور جب آپ کے پروردگار نے (یہود کو) آگاہ فرمادیا کہ وہ ان پر قیامت کے دن تک ضرور ایسے لوگ مسلط کرتا رہے گا جو ان کو شدید تکلیف پہنچاتے رہیں گے بیشک آپ کا پروردگار بہت جلد عذاب کرنے والا ہے اور یقینا وہ بخشنے والا مہربان ہے

وَ قَطَّعْنٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًا١ۚ مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ١٘ وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:168 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو زمین پر جماعتیں بنادیا کچھ ان میں نیک اور کچھ اور طرح کے (بد) اور ہم ان کو آسائشوں اور تکلیفوں (دونوں طرح) سے آزمائش کرتے رہے تاکہ وہ (ہماری طرف) رجوع کریں

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَ یَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُ لَنَا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ یَاْخُذُوْهُ١ؕ اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْهِمْ مِّیْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَ دَرَسُوْا مَا فِیْهِ١ؕ وَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 7:169 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ایسے لوگ (ان کے) جانشین ہوئے جو کتاب کے وارث بنے یہ دنیائے دنی کا مال (حرام) لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں عنقریب ہماری بخشش ہوجائے گی اور اگر ان کے پاس پھر ایسا ہی مال (دین فروشی کے بدلے) آنے لگے تو اس کو لے لیتے ہیں کیا (اس) کتاب میں ان سے (یہ) عہد نہیں لیا گیا تھا کہ اللہ کے بارے سوائے سچ کے کچھ نہ کہیں گے ؟ اور اس (کتاب) میں جو تھا انہوں نے پڑھ بھی لیا اور آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لئے بہترین ہے۔ تو کیا تم سمجھتے نہیں ؟

وَ الَّذِیْنَ یُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 7:170 in the Quran reader

اور جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں یقینا ہم نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے

وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ۚ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 7:171 in the Quran reader

اور جب ہم نے ان کے اوپر (سروں پر) پہاڑ کو سائبان کی طرح معلق کردیا اور وہ سوچنے لگے کہ یہ ان پر گر پڑے گا (تو ہم نے فرمایا) جو کچھ ہم نے دیا ہے اس کو مضبوطی سے پکڑو اور جو اس میں (تحریر) ہے اس کو (خوب) یادرکھو (عمل کرو) تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ

رکوع نمبر 21 ۔ آیات 163 ۔ تا۔ 171 ۔ اسرار و معارف : آپ ذرا ان سے پوچھ کر دیکھیں کہ یہ صرف بات نہیں بلکہ قانون قدرت ہے اور یہ یعنی آپ کے زمانہ کے یہودی بھی اس واقعہ سے پوری طرح باخبر ہیں کہ دریا کنارے یہودیوں کی ہی ایک بستی آباد تھی جن کو یہ حکم دیا گیا کہ ہفتہ کے روز مچھلی کا شکار نہ کیا مگر عجیب بات یہ ہوئی کہ ہفتہ کے روز تو مچھلیاں پانی کے اوپر سے نظر آنے لگتیں اور دوسرے دنوں میں یہ حال نہ ہوتا بلکہ محنت اور تلاش سے شکار ہاتھ لگتا یا نہ بھی لگتا تو در اصل یہ ان کا امتحان تھا ۔ اس لیے کہ وہ پہلے بھی نافرمانی کیا کرتے تھے اور یہ بھی قانون فطرت ہے کہ نیک لوگوں پہ آزمائش ایایسی ہی آتی ہے جس میں نیکی توفیق نصیب رہتی ہے : نافرمانی پہ خطا کے مواقع بطور امتحان زیادہ کردئیے جاتے ہیںَ یہی کلمات ایران کے بادشاہ نے ایک بار کہے تھے جب اس کے سامنے کسی نے کہا اللہ نے آپ کی حکومت کو بہت خوش حالی بخشی ہے تو کہنے لگا یہ میری منصوبہ بندی ہے اس میں اللہ کہاں سے آگیا پھر جب اللہ کی گرفت آئی تو سب کچھ کھو کر سر چھپانے کی جگہ نہ ملتی تھی ہلاک ہوگیا تو قبر کے لیے ترستا تھا۔ ارشاد ہوتا ہے کہ قارون بھی یہ بات بھول گیا کہ اس سے پہلے بڑے بڑے مالدار اور طاقتور اپنے گناہوں کے سبب برباد ہوگئے اور اللہ کو ان کے گناہ پوچھنے نہ پڑے کہ اس سے کچھ بھی پوشیدہ نہ تھا۔ ایک روز بڑی ٹھاٹھ سے نکلا اور قوم نے دیکھا تو دنیا کے متوالوں نے کہا کاش ہم بھی قارون کی طرح دولت مند ہوتے دیکھو یہ کس قدر دولت مند انسان ہے جبکہ انہی میں جو اہل علم تھے کہنے لگے ارے نادانو دولت دنیا کوئی شے نہیں ہاں اللہ اگر نیکی کی توفیق عطا کرے تو اس پر جو انعامات اللہ کے پاس ہیں وہ بہت اعلی دولت ہے مگر اسے وہی لوگ پاسکیں گے جنہوں نے نیکی پر استقامت اختیار کی۔ بالآخر قارون کو اللہ نے اس کے محلات اور خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا اور ساری دنیا میں کوئی اس کی مدد نہ کرسکا نہ وہ اس دولت کر بل بوتے پر اپنے لیے کوئی مدد حاصل کرسکا اور سامان عبرت بن گیا حتی کہ کل تک جو اس جیسا بننے کی آرزو کرتے تھے کہنے لگے کہ یہ سب اللہ کا کام ہے کہ جسے چاہے زیادہ رزق بخش دے اور اپنے بندوں میں جس پہ چاہے رزق کی تنگی کردے اگر ہم پر اسکا احسان نہ ہوتا تو ہم بھی قارون کے ساتھ زمین میں دھنس چکے ہوتے اور حق بات تو یہ ہے کہ کافر کبھی بھلائی نہیں پاسکتے۔ لا اکراہ فی الدین : یہ تو بہت سیدھی سی بات ہے کہ جو لوگ اللہ کریم کی کتاب کو پوری قوت سے پکڑتے ہیں یعنی اس پر عمل کرنے میں پوری محنت صرف کرتے ہیں اور عبادات کو اختیار کرتے ہیں تو ایسے نیک لوگوں کا اجر کبھی ضائع نہیں جاتا بلکہ ان کو تو نیکی پر قائم رکھنے میں بہت کوشش بھی کی گئی یہ بھی اللہ کریم کی رحمت تھی کہ ان پر پہاڑ کو معلق کردیا گیا اور انہیں نظر آرہا تھا کہ ابھی گرا کہ را اور فرمایا کہ اللہ کی کتاب کو پوری محنت سے اختیار کرو جو حکم دے اسے یاد کرکے اس پر عمل اختیار کرو تاکہ تمہارے قلوب میں تقوی کا وصف پیدا ہوسکے بعض لوگ دین پر عمل کرانے کو اکراہ فی الدین سمجھتے ہیں حالانکہ اس کا معنی یہ ہے کہ کسی کو دین قبول کرنے پہ مجبور نہ کیا جائے گا اور یہ کسی بھی دین میں جائز نہ تھا مگر دین قبول کرنے کے بعد عمل میں سستی کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں سے عمل کروائے۔ بلکہ تعزیرات میں ایسے لوگوں کے لیے سزائیں مقرر ہیں۔
Ayahs 7:172–181

وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ۛۚ شَهِدْنَا١ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِیْنَۙ Open ayah 7:172 in the Quran reader

اور جب آپ کے پروردگار نے بنی آدم (علیہ السلام) کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور اس سے خود ان کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ؟ کہنے لگے کیوں نہیں ! ہم (اس بات کے) گواہ ہیں (کہ آپ ہمارے پروردگار ہیں) کہیں قیامت کے دن یہ نہ کہو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہیں

اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّیَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ١ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 7:173 in the Quran reader

یا یہ کہو کہ یقینا شرک تو ہمارے بڑوں نے (ہم سے) پہلے کیا تھا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل میں ہوئے تو کیا آپ جو کام اہل باطل کرتے رہے اس کے بدلے ہمیں ہلاک کرتے ہیں ؟

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:174 in the Quran reader

اور ہم اسی طرح (اپنی) آیات کھول کر بیان کرتے ہیں اور تاکہ یہ باز آجائیں

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 7:175 in the Quran reader

اور ان لوگوں کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنائیں جس کو ہم نے اپنی نشانیاں عطا فرمائیں تو وہ ان میں سے نکل گیا پھر شیطان اس کے پیچھے لگ گیا پس وہ گمراہ لوگوں میں شامل ہوگیا

وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ١ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ١ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ یَلْهَثْ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 7:176 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ان (آیات) سے اس (کے درجات) کو بلند کردیتے مگر وہ تو زمین کے ساتھ لگ گیا (دنیا کی طرف مائل ہوگیا) اور اپنی خواہش کی پیروی کی سو اس کی مثال تو کتے کی سی ہوگئی کہ اگر اس پر سختی کرو تو بھی ہانپے (زبان نکلے) یا یونہی چھوڑ دو تو بھی ہانپے۔ یہ ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہو سو آپ حال بیان فرمادیں تاکہ وہ کچھ سوچیں

سَآءَ مَثَلَا اِ۟لْقَوْمُ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنْفُسَهُمْ كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:177 in the Quran reader

ان لوگوں کی مثال (حالت) بہت بری ہے جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور انہوں نے اپنا ہی نقصان کیا

مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِیْ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:178 in the Quran reader

جس کو اللہ ہدایت فرماتے ہیں سو وہی ہدایت پانے والا ہوتا ہے اور جس کو وہ گمراہ کردیں سو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں

وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۖ٘ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 7:179 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لئے پیدا فرمائے ہیں ان کے دل ہیں کہ ان سے یہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں کہ ان سے یہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں کہ ان سے سنتے نہیں یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے یہی لوگ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں

وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا١۪ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآئِهٖ١ؕ سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:180 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے لئے سب اچھے نام ہے پس اس کو ان (ناموں) سے پکارا کرو اور جو لوگ اس کے ناموں میں کجروی اختیار کرتے ہیں ان کو چھوڑ دو عنقریب ان لوگوں کو ان کے اعمال کی سزا دی جائے گی

وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 7:181 in the Quran reader

اور ہماری مخلوق میں ایسے لوگ بھی ہیں جو حق کا راستہ بتاتے ہیں اور اسی کے مطابق انصاف کرتے ہیں

رکوع نمبر 22 ۔ آیات 172 ۔ تا۔ 181 اسرار و معارف : اور جہاں تک دینی شعور کا تعلق ہے تو وہ ازل ہی سے انسان میں ودیعت فرما دیا گیا تھا پہلی بات تو یہ ہے کہ ارواح عالم امر سے متعلق ہے اور یہ عالم تخلیق سے بلند تر براہ راست صفات باری سے متعلق ہے پھر ارواح کو پیدا فرما کر یونہی چھوڑ نہیں دیا گیا بلکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے پھر ان کی اولاد در اولاد کی پشت سے قیامت تک پیدا ہونے والی اولاد آدم کو نکال کر یکجا جمع فرما دیا اور ان سے خطاب فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں تو سب نے کہا کہ بیشک اے اللہ تو ہی ہمارا رب ہے اور سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہم نہ صرف اقرار کرتے ہیں بلکہ ہم اس بات کے گواہ بھی ہیں اور یوں وہ خود اپنی جانوں کے بھی گواہ قرار پائے۔ عہد الست ارواح سے یا بدن سے بھی تھا۔ یعنی تکبر یہ ہے کہ اپنی رائے کو سب سے حتی کہ احکام شریعہ سے بھی بالا سمجھے تو اس کا یقینی نتیجہ فساد ہے محض اچھے کپڑے پہننا یا اچھا گھر اور اچھی گاڑی اگر حلال ذرائع سے نصیب ہو اور دکھاوے کے لیے نہ ہو ضرورت کے لیے ہو تو یہ بھی شکر ادا کرنے کا ایک انداز ہے لیکن اگر ذاتی نمائش کے لیے ہو تو تکبر شمار ہوگا اور دونوں صورتوں میں نتائج الگ الگ برآمد ہوں گے اور حق یہ ہے کہ عاقبت و آخرت کی سرفرازی انہی لوگوں کے لیے ہے جو دنیا میں پورے خلوص کے ساتھ اللہ کی اطاعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں جو بھی نیک عمل کے ساتھ میدان حشر میں حاضر ہوگا وہ اپنے اعمال کی نسبت بہت زیادہ صلہ پائے گا اور جو اپنے ساتھ گناہ اور برائیاں لائے گا وہ یقینا انہی برائیوں کا بدلہ پائے گا کہ وہی کچھ وہ کرکے لایا ہوگا۔ اقرار ربوبیت اور یہ بات بھی یقینی ہے کہ جس عظیم ذات نے آپ پر قرآن کی تبلیغ اور اس پر عمل فرض کیا ہے اور جس کی وجہ سے آپ کو ہجرت کرنا پڑی وہ آپ کو اپنے شہر عزیز میں یعنی مکہ مکرمہ میں واپس لائے گا یہ ہجرت کے موقع پر نازل ہونے والی آیت فتح مکہ کی نوید بھی سنا رہی ہے اور یہ بھی ثابت ہورہا ہے کہ قرآن کریم پر عمل اور اس کے غلبہ کے لیے کوشش کی جائے تو بفضل اللہ فتح نصیب ہوتی ہے اور ایسی جماعت کبھی شکست سے دوچار نہیں ہوتی۔ اور ان سے کہ دیجئے کہ بھلائی اور برائی کا معیار یہ لوگ نہیں بلکہ اللہ کی پسند ہے لہذا وہ خوب جانتا ہے کہ کون حق پر ہے اور کون گمراہی میں پڑا ہوا ہے۔ بھلا آپ کو کیا خبر تھی کہ آپ کو یہ عظ مت رسالت نصیب ہوگی اور اللہ کی آخری کتاب آپ پر نازل ہوگی یہ تو سب اللہ کی رحمت ہے اور اس کا بےپناہ احسان ہے لہذا آپ کفار کی پرواہ نہ کیجیے ایسا نہ ہو کہ یہ آپ کو رواداری کے نام پر آپ کو اللہ کے احکام کی تبلیغ سے روکنے کی کوشش کریں بلکہ علی الاعلان اللہ کی طرف دعوت دیجیے اور کبھی ان مشرکین کا ساتھ مت دیجیے۔ اے مخاطب اللہ کے برابر کسی سے امید وابستہ نہ کر اور نہ کسی کو پکار اس لیے کہ اللہ کے سوا کوئی بھی اس کا مستحق نہیں۔ اور سوائے ذات باری کے ہر شے مخلوق اور فانی ہے صرف اللہ کا حکم سب پر جاری ہے اور سب اس کے سامنے جوابدہ ہیں۔ بیوی کو پیدا فرمایا وہ قادر مطلق حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرح ان کی زوجہ محترمہ حضرت حوا کو بھی تو مٹی سے پیدا کرسکتا تھا اور پھر ہمیشہ ساری انسانیت کو بھی اسی طرح پیدا کرنے پہ قادر تھا مگر اس نے کوئی علیحدہ وجود پیدا کرنا پسند نہیں فرمایا بلکہ اسی ایک وجود سے دوسرے کو تخلیق اور پھر ان دونوں کو مزید افرادِ انسانیت کے پیدا کرنے کا سبب بنا دیا اور اس سے طرح سے مرد و عورت کو جہاں میں پھیلا دیا۔ رنگ مختلف ہوسکتے ہیں زبان کا فرق ہوسکتا ہے قد و قامت جدا جدا ممکن ہے مگر اصل سب کی ایک ہے اور تمام افرادِ انسانیت ایک دوسرے سے پیوست ہیں۔ ایک بدن کے اجزا ہیں اس لیے انہیں محبت ہی زیب دیتی ہے اور ایک دوسرے کے حقوق کی نگہداشت کی امید کی جاسکتی ہے۔ کہ ایک درخت کی شاخیں اور پتے آپس میں دشمن نہیں ہوتے بلکہ اگر شاخیں الجھ جائیں تو چھاؤں اور گھنی ہوجاتی ہے ایسے ہی افراد انسانیت میں اگر اختلاف یا الجھاؤ پیدا ہو تو انسانیت کی بہتر کے لیے سایہ مزید گھنا کرنے کے لیے تو ہوسکتا ہے تباہی کا تصور انسانیت کے منافی ہے جب ہی تو اسلام نے کافر تک کے حقوق مقرر فرما دئیے ہیں اور اس پر بھی ظلم و زیادتی کرنے کی اجازت نہیں دی چہ جائیکہ مومن ایک دوسرے پر یا مرد اپنی بیویوں پر ورثاء اپنے یتیم عزیزوں پر زیادتی کریں تو یہ بات ہرگز ہرگز اللہ کریم کو پسند نہیں۔ یاد دلایا کہ جب تمہیں اپنا حق طلب کرنا ہو تو کیا نہیں کہتے ہو کہ اللہ سے ڈرو اور میرا حق ادا کردو یا قریبی رشتے کا واسطہ دیتے ہو کہ دیکھو آپس میں تو یہ بات زیب نہیں دیتی ، فرمایا یہ درست ہے مگر جب تمہاری اپنی باری آئے تب بھی تو خیال رکھو کہ اللہ کریم سب کا رب ہے اور رشتہ داری میں سب کی اصل ایک فرد ہے پھر رب جلیل ہمارے ہر حال کو دیکھ رہا ہے کیفیات باطنی تک اس سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ سو نہ صرف طلب حقوق میں بلکہ ادائے فرائض میں بھی اس کا خیال رکھو۔ یتیموں سے برتاؤ : اور یتیم بچوں کو تو تمہاری ذاتی توجہ کی بہت زیادہ ضرورت ہے کہ ان کی طرف سے تو کوئی مطالبہ کرنے والا بھی نہیں۔ انہیں ان کے اموال سے ہرگز محروم نہ کرو اور حرام کو حلال سے نہ بدبو یا برے کو اچھے مال سے تبدیل نہ کرو۔ دونوں صورتیں مفسرین نے تحریر فرمائی ہیں کہ تمہارے پاس جو مال ہے حلال اور جائز اس میں مال یتیم ناجائز طور پر شامل کرکے اسے خراب نہ کردیا کرو ان کے مال میں کوئی اچھی چیز لباس برتن جانور وغیرہ ہو تو اس کی جگہ کمتر شامل کردیا جائے اور وہ لے لیا جائے جیسا کہ عموماً قبل اسلام لوگوں کا وطیرہ تھا تو ایسا ہرگز نہ کرو کہ یہ بہت بڑا وبال ہے اور بہت سخت گناہ ہے کہ جرم تو ہے ہی مگر اس پر جو غضب مرتب ہوتا ہے اور جس قدر رحمت باری سے محرومی ہوتی ہے وہ دوسرے جرائم کی نسبت سے بہت زیادہ ہوتی ہے اگرچہ مال بلوغت پہ لوٹایا جاتا ہے اور بعد بلوغت تو کوئی بھی یتیم نہیں رہتا۔ مگر یہاں چونکہ یتیم ہی کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ فرمایا کہ یتیموں کو ان کا مال لوٹا دو ۔ احادیث مبارکہ میں صلہ رحمی یعنی رشتہ داری کے حقوق کا خیال رکھنے کی فضیلت اور آپس میں محبت سے رہنا پھر اس بھائی چارے کو وسعت دے کر پوری انسانیت کی بہتری اور بھلائی کے لیے سرگرم عمل ہونا ہی کمال انسانیت ہے ایسے لوگ ہی اللہ کریم کے پسندیدہ لوگ ہیں جن کی محبت سے دوسروں کو آرام پہنچے اور جو خود انسانیت پر بوجھ ہیں وہ اللہ کے پسندیدہ بندے ہرگز نہیں ہوسکتے خصوصاً دوسروں کے مال پر نگاہ رکھنے والے لوگ تو کسی تعریف کے ہرگز مستحق نہیں۔ صورت ہو اور تم ان کے حقوق کی نگہداشت نہ کرسکو تو یتیم لڑکیوں سے شادی ہی نہ کرو بلکہ جو عورتیں نکاح میں حلال ہیں ان میں سے دو تین یا چار تک بیک وقت نکاح کرسکتے ہو مگر خیال رہے کہ ان سب کے حقوق کا خیال رکھنا پڑے گا یہ نہ ہو کہ نکاح تو کرلیا مگر کسی ایک کو تو محبوبہ بنا لیا اور دوسری بیویوں کی پرواہ نہ کی بلکہ سب کے حقوق برابر ہوں گے اور اختیار امور میں کسی کی حق تلفی جائز نہ ہوگی اگر یہ مشکل نظر آئے تو پھر ایک ہی بیوی رکھو یا باندی جو تمہاری ملکیت ہے۔ سو اس طرح امید ہے کہ خطا سے بچ جاؤ گے۔ تعدد ازواج : تعدد ازواج اسلام نے شروع نہیں کیا بلکہ قبل اسلام اس کا بہت زیادہ رواج تھا اور دنیا کی تمام قوموں میں بھی اور سب مذاہب میں بھی اسے جائز سمجھا جاتا تھا۔ نہ صرف عرب بلکہ ایران مصر ، بابل اور ہندوستان سب میں یہ رسم موجود تھی ہندوؤں کا اوتار کرشن سینکڑوں بیویاں رکھتا تھا اور آج بھی ویدوں سے غیر محدود تعدد ازواج ثابت ہے یہی حال وسط ایشیائی اقوام کا تھا اور پیرس و روم کی تاریخ دیکھئے نیز اس کی ضرورت و افادیت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اکثر اقوام میں عورتوں کی تعداد مردوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ مرد جنگوں وغیرہ میں کام آجاتے ہیں اور عورتیں ایسی صورت میں رہ جاتی ہیں کہ انہیں کسی آسرے کی ضرورت ہوتی ہے نیز عورت کی ذات کے مختلف تقاضے ایسے ہیں جن سے مرد آزاد ہے۔ سو اس طرح سے اگر متعدد عورتوں سے نکاح کی اجازت نہ ہوگی۔ تو دوسری صورت زنا ہے جو معاشرے میں پھیل جائے گا۔ جس کا عملی ثبوت مغرب کا معاشرہ پیش کر رہا ہے کہ اپنے متقدمین کے خلاف تعدد ازواج پر پابندی لگا دی مگر بغیر نکاح عورت کے ساتھ مراسم رکھنے میں کوئی پابندی نہیں یعنی نکاح کرنے کی اجازت نہیں داشتہ رکھ سکتے ہو۔ یہ سب صورتیں ناپسندیدہ تھیں کہ لوگ نکاح تو بہت زیادہ کرلیتے پھر ان کی پرواہ نہ کرتے تھے اور دوسری صورت میں زنا کے جرم کے علاوہ داشتہ کے کوئی حقوق بھی تو نہیں اسلام نے اس پہلو کی شاندار اصلاح فرمائی کہ تعدد ازواج کو چار تک کا پابند کردیا۔ کہ بیک وقت کوئی بھی مسلمان چار سے زائد بیویاں نہیں رکھ سکتا۔ چناچہ احادیث و سیرت میں موجود ہے کہ بعض صحابہ جب مسلمان ہوئے تو قبل اسلام ان کے نکاح میں دس یا آٹھ یا پانچ عورتیں تھیں حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ چار رکھ لو جو چاہو اور باقی کو طلاق دے کر آزاد کردو یعنی ایک اصلاح تو یہ فرمائی کہ چار کی حد مقرر فرما دی پھر پوری تاکید سے سب بیویوں کے حقوق برابر قرار دئیے اور مساوات کی بہت زیادہ تاکید فرمائی۔ خلاف ورزی پر اللہ کریم کی سخت ناراضگی کا خوف دلایا۔ نیز شروع میں ہی ، ما طاب ، کہہ کر اس کی طرف اشارہ کردیا کہ جو عورت حلال ہو اور تمہیں پسند بھی ہو۔ کہ اس پسند کو حقوق کی نگہداشت میں بہت دخل ہوگا تو جب چاروں پسندیدہ ہوں گی تو مساوات اور آسان ہوجائے گی۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ دلی چاہت کسی سے کم زیادہ ہو مگر عملی طور پر سب برابر ہوں اگر یہ مشکل نظر آئے جیسا کہ واقعی ہے تو پھر صرف ایک بیوی سے گذارہ کرو۔ یا لونڈی جو تمہاری ملکیت ہے اور بغیر نکاح کے حلال ہے یاد رہے کہ آج کے زمانہ میں وہ شرائط نہیں پائی جاتیں جو باندی کے لیے مقرر ہیں اس لیے کسی عورت کو خرید کر یا باندی بنا کر رکھنا جائز نہیں۔ اس شرط کی اور صورت کیا ہے یہ علیحدہ موضوع ہے جس کی یہاں گنجائش نہیں۔ عورت پر اسلام کا احسان : اسلام نے حقوق نسواں کا علم اس دور میں بلند فرمایا جس دور میں عورت محض ایک کھلونا تھی جسے زندہ درگور تک کردیا جاتا تھا جس کی عزت و ناموس سر بازار نیلام ہوتی تھی حتی کہ بیویوں کو ملکیت سمجھا جاتا تھا اور مال کے ساتھ اولاد میں تقسیم بھی ہوتی تھیں۔ مغرب و مشرق ہر جگہ عورت تباہ حال تھی۔ کہ اسلام نے اس کا حق نہ صرف مقرر فرمایا بلکہ معاشرے میں اسے مناسب مقام دلوایا اور حدود مقرر فرما دیں۔ تب اقوام عالم میں یہ رسوا تھی اور اب اقوام عالم میں عیاشی کا ذریعہ اور اشتہار کی زینت بنی ہوئی ہے۔ مشرق ہو یا مغرب سوائے اسلام کے کسی معاشرے میں عورت کا نہ حال ہے اور نہ مستقبل عزت و ناموس نام کی کوئی شئے اس کے پاس نہیں۔ اس کے باوجود اسلام کے تعددازواج کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پھر حیرت ہوتی ہے کہ ناموس رسالت یپہ حملے کئے جاتے ہیں اور اعتراض ہوتے ہیں۔ کفار سے تو گلہ نہیں خود مسلمان کی سمجھ میں بھی پتھر پڑگئے۔ ایک صاحب جو لندن سے چند دن کے لیے تشریف لائے تھے فرمانے لگے کہ ہمارے مولوی کو آپ ﷺ کی زندگی کا یہ پہلو بیان ہی نہیں کرنا چاہئے۔ سبحان اللہ ! انہیں یہ شعور نہیں کہ نبی معصوم ﷺ کی زندگی پاک کا یہ پہلو کس قدر روش اور درخشندہ تھا کہ مشرکین مکہ اور یہود عرب بھی اس پر انگلی نہ اٹھا سکے۔ یہ حضور اکرم ﷺ کو اپنے اوپر قیاس کرتے ہیں ذرا دیکھیں کہ آپ ﷺ نے پچیس برس کنوارے پن میں گزارے اور پھر حضرت خدیجہ ؓ سے نکاح ہوا جو عمر میں آپ ﷺ سے بڑی تھیں پچیس برس حضور ﷺ کے ان کے ساتھ بسر ہوئے جو مثالی زندگی تھی جسے رب جلیل نے نبوت کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے باقی سارے نکاح پچاس سال کی عمر شریف کے بعد ہوئے جب عنفوان شباب گذر چکا تھا ان کی وفات کے بعد حضرت سودہ ؓ سے نکاح ہوا اور چار سال وہ تنہا رہیں عمر شریف چون سال تھیں جب 2 ھ میں عائشۃ الصدیق ؓ رخصت ہو کر آئیں۔ ایک سال بعد حضرت حفصہ ؓ کا نکاح ہوا پھر حضرت زینب بنت خزیمہ ؓ کا جو ڈیڑھ سال بعد فوت ہوگئیں۔ 4 ھ میں ام سلمی ؓ اور 5 ھ میں زینب بنت جحش ؓ اس وقت عمر شریف اٹھاون برس تھی تب تک صرف چار ازواجِ مطہرات تھیں زاں بعد 6 ھ میں حضرت جویریہ اور 7 ھ میں ام حبیبہ ؓ حضرت صفیہ ؓ اور اسی سال حضرت میمونہ ؓ غرض عمر شریف کے چون برس ایک بیوی کے ساتھ بسر ہوئے اٹھاون برس کی عمر شریف تک چار چار اور اس کے بعد پانچ ازواج مطہرات جمع ہوئیں جن کا نکاح اطہر میں آنا جہاں حضور اکرم ﷺ کی خانگی زندگی کو امت تک پہنچانے کا ذریعہ تھا وہاں سیاسی اعتبار سے ریاست اسلام کو اس قدر فتوحات دینے کا سبب بنا جو سینکڑوں جنگوں سے حاصل ہونا ممکن نہ تھا۔ حضرت ام سلمہ ؓ اولاد ساتھ لائیں تو عملی زندگی میں یتیموں کی پرورش کا انداز سمجھ میں آیا۔ حضرت جویریہ ؓ کا نکاح ان کے پورے قبیلہ کی آزادی کا سبب بنا ام حبیبہ ؓ سے نکاح نے اہل مکہ کی کمر توڑ دی کہ ان کے سردار ابوسفیان کی بیٹی تھی۔ غرض جہاں تک تقدس ذات اور عصمت کا تعلق ہے تو وہ اعتراض تو مشرک بھی نہ کرسکے ہاں حضور اکرم ﷺ کی انفرادی خصوصیات بھی تھیں جیسے وصل کے روزے رات کی نمازیں آپ ﷺ کی جائیداد پر احکام وراثت کا نہ ہونا جسم اطہر کا شب معراج عرش عظیم تک جانا آپ ﷺ کی ازواج کا آپ کا آپ ﷺ کے وصال مبارک کے بعد کسی کے نکاح میں نہ آنا اسی طرح سے ان خوش نصیب خواتین کا اس عظمت سے سرفراز ہونا عطائے الہی ہے جہاں تک معترضین کا تعلق ہے ان کے منہ میں خاک ڈالنے کے لیے ذرا عمر شریف کا تجزیہ اور ان نکاحوں کے سیاسی فوائدجو ریاست اسلامی کو حاصل ہوئے اور دینی تعلیم مسلمانوں کے لیے نگاہ میں رہے اور پھر اللہ کریم کا ارشاد کہ ، لایحل لک النساء من بعد۔ یعنی اب ان کے علاوہ آپ کوئی نکاح نہیں کرسکتے یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ یہ ان خوش قسمت خواتین پر بھی اللہ تعالیٰ کا انعام تھا امت مرحومہ پر بھی احسان تھا اور ریاست اسلامی کے ساتھ ساتھ کفار تک کو ان کے فوائد محروم نہ رکھا کاش مسلمان اس پر معذرت کی بجائے اس موضوع کو پڑھیں کہ ان کے دل صاف ہوں اور انہیں اس پر فخر ہو نہ کہ ندامت۔ مولانا اشرف علی صاحب تھانوی قدس سرہ العزیز کا رسالہ ، کثرت ازواج لصاحب المعراف ، بھی بہت فائدہ مند ہے۔ دعوت حق : نیز ساری مخلوق تو گمراہ بھی نہیں بلکہ ایسی جماعت بھی ہے کہ حق کی دعوت دیتی ہے یعنی نہ صرف خود حق پر قائم ہیں ساتھ دوسروں کو بھی حق کی طرف بلاتے ہیں ۔ کے طور پر پیش فرمایا ہے باقی سارے نکاح پچاس سال کی عمر شریف کے بعد ہوئے جب عنفوان شباب گذر چکا تھا ان کی وفات کے بعد حضرت سودہ ؓ سے نکاح ہوا اور چار سال وہ تنہا رہیں عمر شریف چون سال تھیں جب 2 ھ میں عائشۃ الصدیق ؓ رخصت ہو کر آئیں۔ ایک سال بعد حضرت حفصہ ؓ کا نکاح ہوا پھر حضرت زینب بنت خزیمہ ؓ کا جو ڈیڑھ سال بعد فوت ہوگئیں۔ 4 ھ میں ام سلمی ؓ اور 5 ھ میں زینب بنت جحش ؓ اس وقت عمر شریف اٹھاون برس تھی تب تک صرف چار ازواجِ مطہرات تھیں زاں بعد 6 ھ میں حضرت جویریہ اور 7 ھ میں ام حبیبہ ؓ حضرت صفیہ ؓ اور اسی سال حضرت میمونہ ؓ غرض عمر شریف کے چون برس ایک بیوی کے ساتھ بسر ہوئے اٹھاون برس کی عمر شریف تک چار چار اور اس کے بعد پانچ ازواج مطہرات جمع ہوئیں ۔ اور پیر تک اور حکمران سے لے کر عام کاشتکارو دکاندار تک ہر کوئی ذاتی خواہشات اور ذاتی لالچ اور نفع کے شکنجہ میں جکڑا ہوا ہے اس لیے سب تشتت و افتراق اور باہمی رنجش و نااتفاق کا شکار ہیں اللہ کرے کہ ہم پھر سے حق پرستی اختیار کرکے دنیا و آخرت میں سرخرو ہوسکیں۔
Ayahs 7:182–188

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ Open ayah 7:182 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ان کو ہم جلد ہی درجہ بدرجہ (گمراہی میں) لے جائیں گے ایسے طریقے سے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١۫ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 7:183 in the Quran reader

اور میں ان کو مہلت دیتا ہوں بیشک میری تدبیر بہت مضبوط ہے

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:184 in the Quran reader

کیا یہ سوچتے نہیں کہ ان کے صاحب کو ذرا بھی جنون نہیں وہ تو کھلے کھلے (انجام بد سے) ڈرانے والے ہیں

اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:185 in the Quran reader

کیا یہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت میں نہیں دیکھتے اور دوسری چیزوں میں جو اللہ نے پیدا فرمائی ہیں اور یہ بھی (خیال نہیں کرتے) کہ ہوسکتا ہے ان کی موت کا وقت قریب آپہنچا ہو پھر اس کے بعد یہ لوگ کون سی بات پر ایمان لائیں گے

مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ١ؕ وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 7:186 in the Quran reader

جس کو اللہ گمراہ کریں تو اس کو کوئی راہ پر نہیں لاسکتا اور وہ ایسوں کو گمراہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتے ہیں

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ١ۚ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔۘؕ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً١ؕ یَسْئَلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:187 in the Quran reader

آپ سے قیامت کے بارے پوچھتے ہیں کہ کب واقع ہوگی ؟ فرما دیجئے کہ اس کا علم میرے پروردگار کے پاس ہے وہی اسے اس کے وقت پر ظاہرفرمائے گا۔ یہ آسمانوں اور زمین میں ایک بھاری بات ہوگی کہ وہ تم پر اچانک آپڑے گی وہ آپ سے (اس طرح) پوچھتے ہیں جیسے آپ اس کی تحقیق کرچکے ہیں فرمادیجئے کہ اس کا علم خاص اللہ ہی کے پاس ہے و لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ١ۛۖۚ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ١ۛۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 7:188 in the Quran reader

فرما دیجئے کہ میں اپنے لئے نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا مگر جو اللہ چاہیں اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو ضروربہت سے فائدے جمع کرلیا اور مجھے کوئی دکھ نہ پہنچتا میں تو صرف ایمان والوں کے لئے (انجام بد سے) ڈرانے والا اور خوش خبری دینے والا ہوں

رکوع نمبر 23 ۔ آیات 182 ۔ تا۔ 188 اسرار و معارف : جو لوگ کفر یا انکار کی راہ اختیار کرتے ہیں برائی کا راستہ اپنا لیتے ہیں وہ آہستہ دست قدرت کی سخت گرفت میں آ رہے ہوتے ہیں مگر خود انہیں پتہ تک نہیں چلتا۔ استدرج : استدراج کا معنی تو آہستہ آہستہ کسی کام کرنے مگر اصطلاح شریعت میں ہر وہ کمال جو غفلت میں مبتلا کردے اور آہستہ آہستہ تباہی کی طرف لے جا رہا ہو جیسے بعض شعبدے کسی کو راہ حق میں مصیبت سے گھبرانا درست نہیں کیا لوگوں کا یہ گمان ہے کہ صرف یہ کہ دینے سے کہ ہم مومن ہیں وہ چھوٹ جائیں گے اور ان پر کوئی آزمائش نہ آئے گی یقینا آزمائش ضرور آئے گی بلکہ ان سے پہلی ساری امتوں کو آزمایا گیا اور اللہ نے کھرے اور کھوٹے سچے اور جھوٹے کو الگ الگ ثابت کردیا۔ آج کے مسلمان کا جو خیال ہے کہ کوئی ایسا راستہ ہو کہ اسلام پر بھی کاربند رہا جائے اور کافر بھی ناراض نہ ہوں اور کوئی مصیبت بھی کھڑی نہ کردیں یہ خیال خام ہے جو بھی حق پر عمل پیرا ہوگا اس کی آزمائش ضرور ہوگی ہاں کفار یہ نہ جان لیں کہ وہ برای کر کے اللہ کی گرفت سے بچ جائیں گے ان کی یہ سوچ بالکل غلط اور بری ہے یعنی وہ مغلوب ہوں گے اور دنیا میں بھی انجام کار مومن غالب ہوگا اور آخرت کا عذاب تو یقینی ہے۔ مومن کی زندگی : اور مومن جو وصال الہی کی امید پر زندگی گزارتا ہے کہ کافر کے کیے جو موت کہلاتی ہے اور بہت خوفناک نظر آتی ہے مومن کے لیے حضوری کی گھڑی اور نوید مسرت ہوتی ہے یعنی مومنانہ زندگی یہ ہے کہ اللہ سے ملاقات کے لیے زندہ رہا جائے تو ایسے لوگوں کو یقین کے ساتھ جان لینا چاہیے کہ اللہ کا وعدہ آرہا ہے اور اللہ سب کی بات سننے والا اور سارے حالات جاننے والا ہے۔ مجاہدہ انسان کی ضرورت ہے : اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ دین کے لیے بہت قربان کر رہا ہے اور بہت بڑے مجاہدے سے گزر رہا ہے تو اس کی اپنی ضرورت ہے اور خود اسی کو اس کا فائدہ ملے گا۔ اللہ تو تمام جہانوں سے بےنیاز ہے وہ کسی کی عبادت یا مجاہدے کا محتاج اور ضرورت مند نہیں۔ بلکہ جو لوگ صحیح عقیدہ اختیار کر کے نیک عمل میں بھی کوشاں رہتے ہیں ان سے اگر غلطی ہوگئی یاکمی رہ گئی تو اللہ اپنی رحمت عامہ سے اس کی تلافی فرما کر انہیں ان کے نیک اعمال کا اجر اعمال کی نسبت بہت اعلی عطا فرمائیں گے لہذا مجاہدے سے گھبرانا نہ چاہیے۔ عقیدہ کی اہمیت : اور جہاں تک عقیدے کا تعلق ہے تو اس کی اہمیت اتنی ہے کہ خود اللہ نے والدین سے حسن سلوک کرنے اور ان کی اطاعت کرنے کا حکم دیا ہے لیکن اگر وہ بھی یہ کہ دیں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرو یا کفریہ بات جس کا حق ہونا ثابت نہ ہو ماننے کا حکم دیں تو ان کا حکم ماننے سے بھی انکار کردیا جائے اور اے مخاطب ان کی یہ بات ہرگز مت ماننا اس لیے کہ تجھے واپس میری بارگاہ میں لوٹ کر آنا ہے جہاں اللہ کسی سے پوچھنے کا محتاج نہ ہوگا بلکہ آنے والے کو اس کے اعمال کی خبر دی جائے گی۔ اور یقینا جو لوگ نیکی پر کاربند رہے ان کا شمار نیک اور صالح لوگوں کے ساتھ ہوگا۔ اور کچھ لوگوں کا تو حال ایسا ہے کہ اپنے مسلمان ہونے کا تو اقرار کرتے ہیں مگر اللہ کی راہ میں کوئی تکلیف پیش آئے تو یا کفار کوئی دباؤ ڈالیں تو گھبرا جاتے ہیں جیسے اللہ کے عذاب سے ڈرنا چاہیے کہ اس کا نہ تو جواب ہوسکتا ہے اور نہ برداشت کیا جاسکتا ہے مگر یہ کفار سے ڈر کر ان کی بات مان لیتے ہیں۔ اور جب اللہ کی طرف سے مسلمانوں کو فتح نصیب ہوتی ہے یا کوئی فائدہ نظر آتا ہے تو کہ اٹھتے ہیں کہ ہم بھی تو آپ کے ساتھ ہیں۔ کیا انہیں احساس نہیں کہ اللہ تو سب جہانوں کی مخلوق کے دلوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے اور یہ بھی کہ مشیت باری اسی جہان میں ایمانداروں اور منافقین کو الگ الگ کر دے گی۔ کفار اسلام کی راہ سے ہٹانے کے کئی حیلے کرتے ہیں جو ان کی طاقت اور رعب میں نہ آئے اسے کہتے ہیں بھئی تم ہماری راہ اختیار کرلو قیامت کو تمہارے گناہوں کا ذمہ ہم لے لیتے ہیں لہکن یہ بہت بڑا جھوٹ ہے وہ ہرگز کسی کا بوجھ نہ بانٹیں گے بلکہ ان کے اپنے کفر کا بوجھ ہی بہت بھاری ہوگا جبکہ دوسروں کو کفر کی دعوت دینے کا بوجھ بھی ان پر لادا جائے گا اور اس جھوٹ کی پرسش ان کے لیے بہت بڑی مصیبت بن جائے گی ۔ کفر کی دعوت کا بوجھ : جو لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے بولتے ہیں یہاں ثابت ہے کہ کفر کی دعوت دینا بھی بہت بڑا کفر ہے اور اگر کوئی عملا کفار کی غلامی پر لوگوں کو آمادہ کرے کہ دنی ا میں نقصان اٹھاؤ گے تو وہ بھی بہت بڑا گناہگار ہے اور کافروں کی غلامی میں انسان نقصان سے بچ نہیں سکتا بلکہ نقصان کے ساتھ ذلت میں بھی پھنس جاتا ہے۔ یہ ان لوگوں کا حال ہے جو عملا کفر کی غلامی کا مشورہ دیں اور جو سیاستدان یہ کہتے ہیں کہ سود کے بغیر زندہ رہنا محال ہے یا اسلامی سزائیں وحشیانہ ہیں ان کے کفر میں کوئی شبہ نہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں کہ آپ ﷺ کی دعوت پر کفار مسلمانوں کا راستہ روکنے کے حربے استعمال کرنے لگے یا انہیں ایذا دینے کے درپے ہیں یا آج کے زمانے میں ایسا ہورہا ہے بلکہ یہ سب کچھ زمانہ قدیم سے ایسا ہی ہوتا چلا آرہا ہے لیکن کفار کی سب تدبیروں کے باوجود فتح ہمیشہ دین دار لوگوں کو نصیب ہوئی جیسے نوح (علیہ السلام) کا واقعہ کہ ہم نے انہیں ان کی قوم میں مبعوث فرمایا کہ ان کی قوم ان کے حسب نسب اور عالی کردار سے خوب واقف تھی۔ انہوں نے نو سو پچاس برس مسلسل تبلیغ کی اور نیکی کی دعوت دی اور اتنا طویل عرصی کفار کے ایذا اور ان کے طعنے برداشت کیے مگر انہوں نے مان کر جواب نہ دیا تو اللہ کا عذاب آیا اور تمام کفار کو طوفان نے گھیر کر غرق کردیا کہ وہ بہت بڑے ظالم تھے اپنی ساری طاقت دولت اور تدبیریں لے کر غرق ہوگئے ان کے کام نہ آسکیں اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان سے بھی اور طوفان سے بھی محفوظ کردیا بلکہ جتنے لوگ بھی ایمان لاکر ان کے ساتھ کشتی میں سوار ہوئے سب سلامت رہے اور سب عالم کے لیے ایک معجزہ قرار پائے۔ ایسے ہی ابراہیم (علیہ السلام) کو دیکھ لیجیے کہ جب وہ مبعوث ہوئے اور قوم کو اللہ کی طرف دعوت دی کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور کاروبار حیات میں اللہ کی اطاعت اختیار کرو تمہاری دنیا کی اور آخرت کی بہتری اسی میں ہے خوب سمجھ لو۔ بھلا تم اللہ کی عبادت سے محروم ہو کر بت خانے سجائے بیٹھے ہو اور بتوں کے بارے جھوٹے قصے اور باطل عقیدے تراش رکھے ہیں۔ ان بتوں کو دیکھو جن کی تم عبادت کرتے ہو یہ تو تمہیں ایک دانہ گندم بھی نہیں دے سکتے۔ تمہیں دنیا ہی کی بھلائی مطلوب ہے تو وہ بھی اللہ ہی کے پاس نصیب ہوسکتی ہے۔ تم اس کی عبادت کرو اور اس کا شکر ادا کرنے کا راستہ اپناؤ تاکہ دنیا میں بھی فائدہ حاصل کرو اور پھر آخرت میں تو اسی کی بارگاہ میں جانا ہی ہے۔ علم غیب : دوسرے یہ بات قابل توجہ ہے کہ انبیاء کا موضوع ہی غیب سے متعلق ہے کہ فرشتے برزخ آخرت اور خود ذات باری جو سب سے بڑا غیب ہے تو تمام غیوب سے ساری مخلوق کو مطلع فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ علم غیب نہیں رکھت تو یہ سب باتیں اللہ کی طرف سے انبیاء کو بتائی جاتی ہیں اور جتنی بھی کسی کو بتائی گئیں سب سے زیادہ نبی اکرم ﷺ کو بتائی گئیں آپ کا علم اولین و آخرین کے علوم سے بھی زیادہ ہے مگر اس کو غیب پر اطلاع دینا کہا گیا یعنی اطلاع علی الغیب اور علم غیب وہ ہے جس کے حصول میں کوئی واسطہ نہ ہو یہ صرف اللہ کریم کو سزاوار ہے ہاں شان نبوت یہ ہے کہ نیک و بد بھلائی اور برائی کا نہ صرف پتہ چلا جائے بدی سے بچنا نصیب ہوجائے ہاں یہ نعمت یقینا انہی کو نصیب ہوسکے گی جو ایمان لائیں گے کہ نبی سے اخذ فیض کی بنیاد ایمان ہے۔