7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 7:130–141

وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:130 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے فرعون والوں کو قحط اور پھلوں کی کمی میں مبتلا کردیا تاکہ وہ (حق بات کو) سمجھ جائیں

فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ١ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:131 in the Quran reader

پھر جب ان کو آسائش ملتی تو کہتے یہ تو ہمارے لئے ہونی ہی چاہیے اور اگر ان پر کوئی سختی واقع ہوتی تو موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی بدشگونی بتاتے۔ دیکھو ! یقینا ان کی بدشگونی اللہ کے ہاں (مقدر) ہے و لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے

وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:132 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ تم ہمارے پاس اس کی کوئی نشانی ہی لاؤ تاکہ اس سے ہم پر جادو کرو سو ہم تم پر ایمان لانیوالے نہیں ہیں

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 7:133 in the Quran reader

پھر ہم نے ان پر طوفان بھیجا اور ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈک اور خون جیسی مفصل نشانیاں پھر انہوں نے تکبر کیا اور وہ گنہگار لوگ تھے

وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 7:134 in the Quran reader

اور جب ان پر کوئی مصیبت آتی تو کہتے اے موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے لئے اپنے پروردگار سے دعا کرو جس کا اس نے تم سے وعدہ کررکھا ہے اگر تم ہم سے عذاب کو ٹال دو گے تو ہم ضرور تم پر ایمان بھی لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ روانہ کردیں گے

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 7:135 in the Quran reader

پھر جب ہم ایک مدت کے لئے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب کو ہٹا دیتے تو وہ عہد شکنی کرنے لگتے

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:136 in the Quran reader

پس ہم نے ان سے بدلہ لیا سو ان کو سمندر میں ڈبو دیا اس وجہ سے کہ وہ ہماری آیات کو جھٹلاتے اور ان سے لاپرواہی کرتے تھے

وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوْا١ؕ وَ دَمَّرْنَا مَا كَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهٗ وَ مَا كَانُوْا یَعْرِشُوْنَ Open ayah 7:137 in the Quran reader

اور ہم نے اس قوم کو جو بہت کمزور شمار ہوتی تھی زمین کے مشرقوں اور مغربوں کا وارث کردیا جس میں ہم نے برکت دی تھی اور بنی اسرائیل کے بارے میں آپ کے پروردگار کا اچھا وعدہ پورا ہوا اس وجہ سے کہ انہوں نے صبر کیا اور فرعون اور اس کی قوم نے جو (محل) بنائے تھے اور (انگور کے باغات) جو چھتریوں پہ چڑھائے تھے ہم نے تباہ کردیئے

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰى قَوْمٍ یَّعْكُفُوْنَ عَلٰۤى اَصْنَامٍ لَّهُمْ١ۚ قَالُوْا یٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 7:138 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر پار اتارا تو ان کا گزر ایسے لوگوں پر ہوا جو اپنے بتوں کے پاس (عبادت کے لئے) بیٹھے رہتے تھے کہنے لگے اے موسیٰ (علیہ السلام) ! ہمارے لئے بھی ایسا معبود بنادیجئے جیسے ان کے معبود ہیں انہوں نے فرمایا بیشک تم ایک جاہل قوم ہو

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِیْهِ وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:139 in the Quran reader

بیشک جس کام میں یہ لوگ لگے ہیں یہ تباہ ہونے والا ہے اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں (محض) باطل ہے

قَالَ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْكُمْ اِلٰهًا وَّ هُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:140 in the Quran reader

فرمایا کیا میں اللہ کے سوا تمہارا کوئی اور معبود تلاش کروں اور حالانکہ اس نے تمہیں جہانوں پہ فضیلت بخشی ہے

وَ اِذْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ۚ یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 7:141 in the Quran reader

اور جب ہم نے تم کو فرعون والوں سے نجات بخشی جو تم کو سخت تکلیفیں پہنچاتے تھے تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے اور تمہاری بیٹیوں کو (خدمت کے لئے) زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی

رکوع نمبر 16 ۔ آیات 130 تا 141 ۔ اسرار و معارف : چنانچہ فرعون کی قوم بھی گرفتار بلا ہوگئی یاد رہے اللہ اتنا کریم ہے کہ فورا تباہی ان پر بھی نہیں بھیجی بلکہ تھوڑی سی شدت بعض امور میں پیدا فرمائی کہ انہیں نصیحت ہو اور توبہ کریں لہذا ان پر قحط مسلط فرما دیا اور پھلوں میں کمی واقع ہوگئی تاکہ انہیں اپنی بےبسی کا احساس ہو مگر دل کی سیاہی ایسی باتوں کو سمجھنے میں رکاوٹ بنتی ہے جیسے آجکل بھی رزق کی تنگی سے بچنے کے مختلف حیلے ذاتی اور قومی رہ سطح پر اپنائے جاتے ہیں۔ یہ خیال نہیں آتا کہ توبہ کرلیں۔ ایسے ان کا حال تھا بلکہ اتفاقاً اگر کوئی اچھا واقعہ پیش آتا تو اپنی دانائی کا نتیجہ قرار دیتے اور مصیبت کو موسیٰ (علیہ السلام) اور ا ن کے پیروکاروں کی نحوست۔ لیکن یہ جان لینا چاہئیے کہ بدکار کے اعمال کی نحوست ہی اس کی تباہی کے لیے کافی ہوتی ہے اور یہی حال ان کا بھی تھا۔ اصلاح کیلئے سختی کی جاتی ہے : وہ آیات ایسی کتاب کی ہیں جو حقائق کو کھول کھول کر بیان کرتی ہے۔ اور یہاں آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعی اور اس کی حقیقت کا بیان سنایا جائے ا کہ مومنین کو اس سے مزید عبرت حاصل ہو۔ قرآن اگرچہ مخاطب تو ساری انسانیت کو کرتا ہے مگر اس سے فائدہ وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جنہیں ایمان نصیب ہوتا ہے۔ بے شک فرعون اپنی سرزمین میں بہت طاقتور شاہنشاہ تھا اور اس نے لوگوں کو گروہوں میں بانٹ رکھا تھا۔ لفظ شیعہ : یہ پہلے بھی گزر چکا کہ شیعہ کا لفظی تر جمہ گروہ ، پارٹی یا جماعت ہے مگر قرآن کریم نے ہمیشہ گمراہ لوگوں کے ٹولہ پر اس کا اطلاق کیا ہے۔ جیسے اس جگہ کہ فرعون نے لوگوں کے گروہ بنا رکھے تھے اور ایک گروہ یعنی قبطی تو بڑے معززین رہے تھے جبکہ دوسرے سبطی یا بنی اسرائیل کو بہت ذلیل و خوار کر رکھا تھا حتی کہ نہ صرف یہ کہ ان سے بیگار لی جاتی بلکہ ان کے بیٹوں تک کو ذبح کردیا جاتا اور بیٹیوں کو زندہ رکھا جاتا کہ فرعون کو نجومیوں نے اطلاع دی تھی کہ اس قوم میں ایک بچہ پیدا ہونے والا ہے جو تیری حکومت ختم کردے گا تو اس نے بچے قتل کرنے کا حکم دے دیا وہ بہت بڑا فسادی تھا۔ جب اللہ چاہتا ہے تو کمزور طاقتور پہ غالب آتے ہیں : پھر اللہ نے چاہا کہ کمزوروں پر احسان کرے اور ان متکبروں سے اقتدار چھین کر کمزوروں کو سردار اور حاکم بنا دے اور انہیں ان کی حکومت ، شان و شوکت اور مال و دولت کا وارث بنا دے اور انہیں اقتدار عطا کر کے فرعون اس کے وزیر ہامان اور فرعون کے لاؤ لشکر کو وہی بات کر کے دکھا دیں جس سے بچنے کے کیے یہ بچوں کو قتل کر رہے ہیں اور بہت خوفزدہ ہیں ہر حال میں اسے روکنا چاہتے ہیں۔ کلام باری : چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کو پیدا فرما کر ان کی والدہ کو حکم دیا یہاں لفظ وحی لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے کہ ان سے بات کی اور ثابت ہے کہ ولی اللہ کو کلام باری کا شرف نصیب ہوسکتا ہے اور وہ خود اس کے لیے دلیل بھی ہے ہاں نبی سے جو کلام ہوتا ہے وہ ساری امت کے لیے دلیل ہوتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ سے فرمایا کہ انہیں دودھ پلاؤ اور پاس رکھو جب تک کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا پھر اگر فرعون کے سپاہیوں سے خطرہ ہو تو اسے صندوق میں ڈال کر دریا میں ڈال دینا اور یہ ڈر نہ رکھنا کہ کہیں دریا میں ہی ہلاک نہ ہوجائے یا بچھڑ تو بحرحال جائے گا ایسا کچھ نہ ہوگا بلکہ ہم اسے واپس تمہاری گود میں دیں گے اور یہ زندہ بھی رہے گا اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔ اللہ کی شان دیکھئے کہ دریا میں بہتا ہوا وہ صندوق فرعون کے اہل خانہ نے پکڑ لیا کہ دریا سے نہر کاٹ ک محلات سے گزاری گئی تھی پانی بہا کر ادھر لے گیا فرعون کی اہلیہ کی نظر پڑی تو اٹھوا لیا وہ یہ نہ جان سکی کہ یہ تو فرعونی سلطنت کی تباہی کا سبب اور سب سے بڑا دشمن بنے گا بیشک فرعون ہامان اور ان کے لاؤ لشکر غلطی پر تھے بھلا قدرت باری سے مقابلہ کیسا فرعون نے دیکھا تو قتل کا ارادہ کرلیا کہ یقینا کسی اسرائیلی عورت نے قتل کے خوف سے پھینکا ہوگا مگر اس کی اہلیہ جو کہ بےاولاد تھی کہنے لگی کہ اللہ نے ہمیں یہ چاند سا بچہ عطا کیا ہے میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہوگا اور بڑا ہو کر ہماری خدمت کریگا ہم اسی کو بیٹا بنا لیں گے۔ لیکن وہ اس بات کو نہ جان سکے کہ یہ بڑا ہو کر کیا بننے والا ہے۔ اور تم مجھ سے یہ توقع رکھو کہ تمہیں اللہ کے سوا کسی دروازے پہ لے جاؤن گا قطعاً غلط ہے تم نہیں دیکھتے اللہ کریم نے تمہیں ایک زمانے پر فضیلت بخشی ہے فرعون اور اس کی قوم کس طرح عذاب کی صورت میں تم پر مسلط تھے حتی کہ تمہارے بچوں کو ذبح کردیتے اور بچیاں اپنی غلامی کے لیے رکھ لیتے تھے مگر تم اس قدر کمزور تھے کہ شکایت بھی نہ کرسکتے تھے پھر اللہ کریم نے تمہاری مدد فرمائی فرعون اور اس کی قوم کو غرق دریا کردیا اور ملک کو تمہارے لیے خالی کرالیا اور تم معزز اور حکمران بنا دئیے گئے بھلا تمہیں زیب دیتا ہے کہ اس کے علاوہ کسی اور کے در پہ جھکنے کی سوچو۔
Ayahs 7:142–147

وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِیْنَ لَیْلَةً وَّ اَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً١ۚ وَ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَ اَصْلِحْ وَ لَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:142 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تیس راتوں کا وعدہ دیا اور دس (راتیں) ملا کر اسے پورا فرمایا تو ان کے پروردگار کی چالیس رات کی معیاد پوری ہوگئی اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) سے فرمایا میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو اور اصلاح کرتے رہیں اور شریر لوگوں کی راہ پہ مت چلنا

وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗ١ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْ١ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:143 in the Quran reader

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے مقررہ وقت پر آئے اور ان کے پروردگار نے ان سے باتیں کیں تو انہوں نے عرض کیا اے میرے پروردگار ! مجھے (اپنا دیدار) کرادیجئے کہ میں آپ کو دیکھ لوں ارشاد ہو آپ مجھے ہرگز نہ دیکھ سکیں گے و لیکن آپ پہاڑ کی طرف دیکھتے رہیے پس اگر یہ اپنی جگہ برقراررہا تو آپ بھی مجھے دیکھ سکیں گے پس جب ان پروردگار نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو اس کے پرخچے اڑا دیئے اور موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش ہو کر گر پڑے پھر جب افاقہ ہوا تو عرض کیا آپ کی ذات پاک ہے میں آپ کی بارگاہ میں معذرت کرتا ہوں اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے ہوں

قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِكَلَامِیْ١ۖ٘ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:144 in the Quran reader

ارشاد ہوا اے موسیٰ (علیہ السلام) ! بیشک ہم نے آپ کو لوگوں پر برگزیدہ فرمایا اپنے پیغام اور اپنے کلام سے پس جو آپ کو ہم نے عطا کیا ہے اس کو لیں اور شکر ادا کریں

وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ١ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا١ؕ سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:145 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے لئے تختیوں (تورات) میں ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی (فرمایا) سو اسے مضبوطی سے پکڑے رہیں اور اپنی قوم سے کہہ دیں کہ پکڑے رہیں اس کی اچھی اچھی باتیں (ان کو بہت اچھے طریقے سے لیں) میں عنقریب تم کو نافرمانوں کا گھر دکھلاؤں گا

سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:146 in the Quran reader

جو لوگ زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں ان لوگوں کو عنقریب اپنی آیات سے پھیردوں گا اور اگر وہ تمام نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر بھلائی کا راستہ دیکھیں تو اسے (اپنا) راستہ بنالیں یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے غفلت کرتے رہے

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:147 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو اور آخرت کے پیش آنے کو جھٹلایا ان کے سب کام غارت گئے ان کو وہی سزا دی جائے گی جو کچھ وہ کرتے تھے

رکوع نمبر 17 ۔ آیات 142 تا 147 ۔ اسرار و معارف : چنانچہ جب فرعون سے امن نصیب ہوا تو اب ضرورت پیش آئی کہ اگر بت پرستی درست نہیں تو کوئی طریق عبادت اور شریعت تو ہونا چاہئے جسے اختیار کرکے دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کی جائے تو اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ طور پر آ کر تیس راتوں کا اعتکاف کریں تاکہ آپ کو کتاب عطا ہو اور پھر دس راتیں مزید بڑھا دی گئیں یعنی مطلوبہ نسبت یا توجہ الی اللہ تیس کی بجائے چالیس راتوں میں نصیب ہوئی غرض ایک حالت مطلوب تھی جو اللہ کریم چاہتے تو بغیر کسی مجاہدے کے بھی عطا فرما سکتے تھے مگر دنیا عالم اسباب ہے لہذا سبب اختیار کرنے کا حکم دیا۔ خلوت کا اثر : جہاں ضرورت ہو خواتین کام کرسکتی ہیں مگر مردوں کے ساتھ آزادانہ میل جول کی اجازت نہیں ہاں خواتین الگ رہ کر کام کریں یہی حنیفیہ کا مسلک ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) ڈول کھینچ کر ان کی بکریوں کو بھی پانی پلا دیا اور وہ گھر چلی گئیں آپ کسی سایہ کے نیچے جاکر بیٹھے اور دعا کی اے میرے پروردگار تو جو نعمت اور خیر عطا کرے تیری مرضی کہ میں اس وقت بہت ضرورت مند اور محتاج ہوں۔ اللہ کے الوالعزم رسول کی دعا سفر تھکاوٹ بھوک پیاس اور غریب الوطنی میں قبول ہوئی کہ ادھر وہ بچیاں ھر پہنچیں تو والد گرمی نے جلد آنے کا سبب پوچھا انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ سنایا تو فرمایا کہ انہیں بلا کرلے آؤ یہ شعیب (علیہ السلام) تھے آپ بوڑھے بھی تھے اور بینائی بھی نہ تھی ۔ چناچہ ان میں سے ایک بچی اس انداز سے موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہنچی کہ اس کے چلنے سے بھی حیا ٹپک رہی تھی یعنی ان کی دعا کا جواب آیا ۔ واقعی عورت میں حیا ہو تو اللہ کریم کی بہت بڑی نعمت ہے کہ ایک خاتون کے ملنے سے انہیں گھر کنبہ اور ہمدرد سب کچھ میسر آگیا۔ چناچہ انہیں نے آکر فرمایا میرے والد آپ کو یاد فرماتے ہیں کہ آپ نے ہمارا کام کردیا وہ چاہتے ہیں کہ آپ کو اس کا کچھ معاوضہ دیں۔ آپ ساتھ چلے تو مفسرین فرماتے ہیں کہ خود آگے چلے اور انہیں اپنے پیچھے آنے اور راستہ بتانے کا فرمایا کہ اجنبی خاتون پر نظر نہ پڑے۔ جب شعیب (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور سب واقع بیان فرمایا تو انہوں نے فرمایا کہ اب یہاں کوئی خطرہ نہیں آپ اس ملک کی حدود سے باہر آگئے کوئی ڈرنے کی بات نہیں اب آپ اس ظالم قوم کے ہاتھ سے بچ نکلے۔ تب ان کی بیٹی نے درخواست کی کہ ابا انہیں ملازم رکھ لیجیے کہ ضرورت تو ہے اور یہ بڑے قوی بھی ہیں کہ پانی کھینچ نکالا اور امانت دار بھی ہیں کہ ہمارے ساتھ بہت دیانت و امانت کا معاملہ فرمایا ۔ اللہ کی طرف سے جو عطا ہو وہی سب سے بہتر انعام ہوتا ہے یہاں سے ثابت ہے کہ کسی ملازمت یا منصب کے لیے دو شرطوں کا ہونا ضروری ہے اول اس کام کی اہلیت رکھتا ہو دوسرے امین اور دیانتدار ہو کہ خلوص سے کام کرے تو انہوں نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنی ایک بیٹی آپ کے نکاح میں دے دوں مگر شرط یہ ہے کہ آٹھ برس ہمارا کام کریں گے۔ گمراہی کا سبب : یہاں سول پیدا ہوتا ہے کہ کہ کیا بیوی کی خدمت اس کا مہر ہوسکتی ہے تو فقہا کے نزدیک اس کی ذاتی خدمت نہیں مگر ہاں اس کا کام ہو جیسے تجارتی منصوبہ یا کوئی اور کام فارم مواشی وغیرہ تو وہ کام کرنا اور اس کی اجرت مہر میں منتقل کردینا جائز ہے یا پھر جیسے یہاں سب کی خدمت تھی تو والد کا کام اس شرط پر کہ تنخواہ بیٹی کو مہر میں دے جائز ہے پھر یہ بیٹی کا حق ہے کہ وہ چاہے تو والد کو معاف کردے لہذا آپ نے فرمایا کہ آٹھ سال یہاں رہ کر ہماری خدمت کرو اور اگر دس سال کرو تو یہ تمہارا احسان ہوگا بہرحال دونوں میں سے جو مدت بھی آپ پوری کردیں درست ہے کہ میں آپ پر بوجھ نہیں بننا چاہتا نہ میعاد بڑھا کر اور نہ کوئی ایسا کام کرنے کا حکم دوں گا جو آپ نہ کرسکیں۔ اور ساتھ رہ کر آپ مجھے اللہ کا نیک بندہ پائیں گے کہ کسی کی بھلائی کا احساس و ثبوت اس کے کردار سے ملتا ہے۔ انہوں نے قبول کرلیا کہ دونوں میں سے جو عرصہ بھی پورا کردوں درست ہوگا ہمارے اس معاہدے پر الہ کریم کو گواہ کرتے ہیں۔ گناہ اور غفلت مفضی الی الکفر ہوتی ہے : یعنی نافرمانی اور گناہ یاد الہی سے غفلت کا سبب بنتے ہیں اور اگر یہ غفلت ہمیشہ رہے اور اس کا ازالہ نہ ہو تو نہ صرف یاد حق سے غافل رہتا ہے بلکہ آخرت کی حاضری سے بھی غافل ہو کر منکر ہوجاتا ہے اور یوں کفر میں مبتلا ہونے والا سب نیکیاں برباد کرلیتا ہے کہ جزا تو اسی پر مرتب ہوگی جو عمل اختیار کیا جائے۔
Ayahs 7:148–151

وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ١ؕ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّهٗ لَا یُكَلِّمُهُمْ وَ لَا یَهْدِیْهِمْ سَبِیْلًا١ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:148 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے ان کے بعد اپنے ( مقبوضہ) زیوروں کا ایک بچھڑا بنالیا (جو) ایک قالب (تھا) جس میں ایک آواز تھی کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات تک نہیں کرسکتا ہے اور نہ انہیں راہ دکھا سکتا ہے انہوں نے اس کو (معبود) اختیار کرلیا اور وہ بہت غلط کام کرنے والے تھے

وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا١ۙ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:149 in the Quran reader

اور جب وہ اپنے کیے پر پشیمان ہوئے اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے اگر ہمارا پروردگار ہم پہ رحم نہ کرے اور ہمیں معاف نہ فرمائے تو ہم ضرور سخت نقصان اٹھانے والوں میں ہوں گے

وَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ١ۚ وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْهِ یَجُرُّهٗۤ اِلَیْهِ١ؕ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَ كَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ١ۖ٘ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَ لَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:150 in the Quran reader

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف غصے اور رنج سے بھرے ہوئے واپس آئے فرمایا تم نے میرے بعد میری بہت ہی بری نیابت کی کیا تم نے اپنے پروردگار کے حکم (کے آنے) سے (پہلے) جلد بازی کرلی ؟ اور تختیاں (ایک طرف) رکھیں اور اپنے بھائی کے سر (کے بالوں) کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے۔ انہوں (ہارون علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے ماں جائے ! (یہ) لوگ تو یقینا مجھے کمزور سمجھتے تھے اور مجھے قتل کردینا چاہتے تھے۔ سو ایسا نہ کریں کہ دشمن مجھ پر ہنسیں اور مجھے ظالموں میں مت ملائیے

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِاَخِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَ١ۖ٘ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 7:151 in the Quran reader

انہوں (موسیٰ علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار ! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دیجئے اور ہم دونوں کو اپنی رحمت میں داخل فرمائیے اور آپ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والے ہیں

رکوع نمبر 18: آیات 148 ۔ تا۔ 151: اسرارو معارف : موسی (علیہ السلام) کی قوم کا حال سنیں کہ جب انہوں نے اتباع نبوت کے مقابلے میں اپنی عقل پر بھروسہ کیا تو عجیب گمراہی میں مبتلا ہوگئے۔ سامری نام کا ایک مشہور آدمی تھا اس نے سب سے سونا چاندی جمع کرکے اسے پگھلایا اور اس میں وہ مٹی ڈال جو وہ جبرائیل امین کی سواری کے قدموں سے اٹھالایا تھا چناچہ ایک بچھڑے کو بنا دیا جس میں کسی حد تک زندگی کا اثر تھا دوسرے معجزات کے ساتھ یہ دو عظیم معجزات آپ کی نبوت کی دلیل ہیں آپ فرعون اور اس کے امراء سے بات کیجیے انہیں راہ راست کی طرف بلائیے کہ وہ بہت سخت نافرمان ہیں۔ آپ نے عرض کیا بارالہا مجھ سے تو ان کا ایک قبطی مارا گیا تھا خطرہ یہ ہے کہ بات سننے سے پہلے ہی وہ میرے قتل کا حکم صادر کردے پھر اگر بات ہو اور سوال جواب کرنے پڑیں تو میری زبان میں لکنت ہے جن کہ میرے بھائی ہارون بڑے فصیح ہیں اور خوب کلام کرسکتے ہیں انہیں آپ میرے سات کردیجیے کہ وہ میری قوت بھی ہوں گے اور میری تصدیق بھی کریں گے فرعونیوں سے تو مجھے ڈر ہے کہ وہ میری تکذیب کریں گے تو کوئی ایسا بھی ہو جو ان کے روبرو تصدیق بھی کرے۔ ارشاد ہوا تمہارے بھائی کو تمہاری قوت بازو بنا دیں گے یعنی انہیں بھی نبوت سے سرفراز کر کے ساتھ کردیا اور تمہیں وہ رعب عطا کریں گے کہ فرعونی ہاتھ ڈالنے کی جرات ہی نہ کرسکیں گے نیز آپ معجزات لے کر جائیں یعنی تم نے نبی کی تعلیمات کا اتنظار کرنے کی بجائے اپنی عقل اور رائے سے فیصلہ کیا : تعلیمات انبیاء کے مقابلہ میں عقل کی کوئی حیثیت نہیں : حالانکہ نبی اللہ سے بات حاصل کرکے آگے بتاتا ہے اور عقل امور دنیا کے لیے ہے آخرت کے لیے نہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ وہ روشنی جلوہ ذات باری تھا بلکہ وہ نور تو تجلی صفاتی کا کا تھا کہ کلام باری خود صفت باری ہے ارشاد یہ ہورہا تھا کہ یہ کلام جو آپ سن رہے ہیں اور جس کے انوارات سے وادی بقعہ نور بنی ہوئی ہے کرنے والا میں اللہ ہوں۔ اور حکم ہوا کہ اپنے عصا کو ڈال دیجیے آپ نے پھینکا تو وہ اژدہا بن کر پھنکارنے لگا تو موسیٰ (علیہ السلام) جو فزدہ ہو کر پیچھے کو بھاگے کہ بہت بڑا اژدھا تھا آپ نے جان بچانا چاہی اور پیچھے دیکھا تک نہیں کہ دوبارہ آواز آئی کہ موسیٰ ڈریں نہیں واپس آئیں اور آگے بڑھیں۔ آپ تو اللہ کی طرف سے امن دیے گئے ہیں یہ آپ کا معجزہ ہے آپ کی مدد اور نبوت کا ثبوت ہے اسے ہاتھ میں لیجیے عصا بن جائے گا۔ اب اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالیے جب نکالیں گے تو بہت روشن ہوگا اور گھبرنے کی کوئی بات نہیں ۔ اللہ بہت بڑا رحم کرنے والا ہے۔ دعا کا ادب یہ ہے کہ کسی کے لیے بھی دعا کرتے تو خود کو بھی شامل رکھے اور اپنے عجز اور اللہ کی عظمت کا تذکرہ کرے۔
Ayahs 7:152–157

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ Open ayah 7:152 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے بچھڑے کی پرستش کی ان کو عنقریب ان کے پروردگار کے غضب اور دنیا کی زندگی میں ذلت کا شکار ہونا پڑے گا اور ہم جھوٹ باندھنے والوں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِهَا وَ اٰمَنُوْۤا١٘ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:153 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے برے کام کیے پھر اس کے بعد توبہ کی اور ایمان لائے تو بیشک آپ کے پروردگار اس کے بعد بخشنے والے مہربان ہیں

وَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ١ۖۚ وَ فِیْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ یَرْهَبُوْنَ Open ayah 7:154 in the Quran reader

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ فرو ہوا تو تختیوں کو اٹھا لیا اور ان کے مضامین میں ان لوگوں کے لئے جو اپنے پروردگار سے ڈرتے تھے ہدایت اور رحمت تھی

وَ اخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَا١ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِیَّایَ١ؕ اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا١ۚ اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ١ؕ اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ Open ayah 7:155 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے ستر (70) آدمی ہمارے وقت مقررہ پر لانے کے لئے چنے سو جب ان کو زلزلہ نے آپکڑا تو (موسیٰ علیہ السلام) عرض کرنے لگے اے میرے پروردگار ! اگر آپ کو یہ منظور ہوتا تو آپ اس سے پہلے ہی ان کو اور مجھ کو ہلاک کردیتے کیا آپ ہم میں سے چند بیوقوفوں کی حرکت پر ہم کو ہلاک کردیں گے یہ صرف آپ کی (طرف سے) آزمائش ہے اس سے آپ جسے چاہیں گمراہی میں ڈال دیں اور جسے چاہیں ہدایت پر قائم رکھیں آپ ہی ہمارے خبر رکھنے والے (دوست) ہیں سو آپ ہم کو بخش دیجئے اور ہم پر رحم فرمائیے اور آپ سب سے بہتر بخشنے والے ہیں

وَ اكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ١ۚ وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 7:156 in the Quran reader

اور ہمارے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دیجئے اور آخرت میں بھی کہ یقینا ہم آپ کی طرف رجوع ہوچکے۔ فرمایا میں جس پر چاہتا ہو اپنا عذاب نازل کرتا ہوں اور میری رحمت ہر شے کو شامل ہے سو عنقریب میں اس کو ان لوگوں کے نام لکھوں گا جو پرہیز گاری کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں

اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ١٘ یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 7:157 in the Quran reader

جو لوگ ایسے پیغمبر جو نبی امی (حضرت محمد) ہیں کہ پیروی کرتے ہیں جن (کے اوصاف) وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں وہ انہیں نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور انہیں برے کاموں سے منع فرماتے ہیں اور پاکیزہ چیزوں کو ان کے لئے حلال کرتے ہیں اور ناپک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں اور ان لوگوں پر سے ان کے بوجھ اور ان کے (گلے میں پڑے ہوئے) طوق اتارتے ہیں پس جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی حمایت کی اور ان کی مدد کی اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا اس کی پیروی کی وہی لوگ (پوری) کامیابی حاصل کرنے والے ہیں

رکوع نمبر 19 ۔ آیات 152 تا 153 ۔ اسرار و معارف : غیر اللہ سے امید وابستہ کرنیوالا ذلت میں مبتلا ہوتا ہے : ایک قانون ارشاد فرمادیا کہ جن لوگوں نے بچھڑے کی پرستش اختیار کی انہیں دنیا بھی اللہ کا غضب اور ذلت پیش آئے گی یعنی ایسے لوگ جو حالات سے گھبرا کر یا جلد بازی میں اللہ کا دروازہ چھوڑ کر کسی دوسری ذات سے امید وابستہ کرلیتے ہیں ۔ جب آگ لینے کے لیے پہنچے تو وادی کہ اس کنارے سے جہاں پورا تختہ ہی روشن ہورہا تھا اور برکات سے بھرا ہوا تھا کہ جہاں کوئی مبارک کام ہو یا مبارک ہستی مقیم ہو وہ جگہ بھی برکات کی حامل ہوتی ہے۔ چناچہ اسی تختہ میں سے ایک درخت سے جو سارے کا سارا روشن ہورہا تھا آواز آرہی تھی کہ اے موسیٰ میں اللہ ہوں جو سب جہانوں کا پالنے والا ہوں۔ وادی میں ذات باری جلوہ افروز تھی کیا ؟ : یہاں یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ وہ روشنی جلوہ ذات باری تھا بلکہ وہ نور تو تجلی صفاتی کا کا تھا کہ کلام باری خود صفت باری ہے ارشاد یہ ہورہا تھا کہ یہ کلام جو آپ سن رہے ہیں اور جس کے انوارات سے وادی بقعہ نور بنی ہوئی ہے کرنے والا میں اللہ ہوں۔ اور حکم ہوا کہ اپنے عصا کو ڈال دیجیے آپ نے پھینکا تو وہ اژدہا بن کر پھنکارنے لگا تو موسیٰ (علیہ السلام) جو فزدہ ہو کر پیچھے کو بھاگے کہ بہت بڑا اژدھا تھا آپ نے جان بچانا چاہی اور پیچھے دیکھا تک نہیں کہ دوبارہ آواز آئی کہ موسیٰ ڈریں نہیں واپس آئیں اور آگے بڑھیں۔ آپ تو اللہ کی طرف سے امن دیے گئے ہیں یہ آپ کا معجزہ ہے آپ کی مدد اور نبوت کا ثبوت ہے اسے ہاتھ میں لیجیے عصا بن جائے گا۔ اب اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالیے جب نکالیں گے تو بہت روشن ہوگا اور گھبرنے کی کوئی بات نہیں جب دوبارہ گریبان میں ڈالیں گے تو درست ہوجائے گا۔ دوسرے معجزات کے ساتھ یہ دو عظیم معجزات آپ کی نبوت کی دلیل ہیں آپ فرعون اور اس کے امراء سے بات کیجیے انہیں راہ راست کی طرف بلائیے کہ وہ بہت سخت نافرمان ہیں۔ آپ نے عرض کیا بارالہا مجھ سے تو ان کا ایک قبطی مارا گیا تھا خطرہ یہ ہے کہ بات سننے سے پہلے ہی وہ میرے قتل کا حکم صادر کردے پھر اگر بات ہو اور سوال جواب کرنے پڑیں تو میری زبان میں لکنت ہے جن کہ میرے بھائی ہارون بڑے فصیح ہیں اور خوب کلام کرسکتے ہیں انہیں آپ میرے سات کردیجیے کہ وہ میری قوت بھی ہوں گے اور میری تصدیق بھی کریں گے فرعونیوں سے تو مجھے ڈر ہے کہ وہ میری تکذیب کریں گے تو کوئی ایسا بھی ہو جو ان کے روبرو تصدیق بھی کرے۔ ارشاد ہوا تمہارے بھائی کو تمہاری قوت بازو بنا دیں گے یعنی انہیں بھی نبوت سے سرفراز کر کے ساتھ کردیا اور تمہیں وہ رعب عطا کریں گے کہ فرعونی ہاتھ ڈالنے کی جرات ہی نہ کرسکیں گے نیز آپ معجزات لے کر جائیں یہ بات طے ہے کہ آپ اور آپ کے اطاعت شعار ہی فاتح اور غالب ہوں گے موسیٰ (علیہ السلام) معجزات کے ساتھ نوید فتح لے کر فرعون کی طرف روانہ ہوئے۔ اور جب فرعون کے دربار میں پہنچے دعوت دی اور معجزات کا اظہار فرمایا تو اہل دربار کہنے لگے یہ سب جادو کا کھیل نظر آتا ہے اور ساری بات ایک تراشیدہ حقیقت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ آج تک ہمارے باپ دادا نے کسی نبی یا دین کا نام تک نہیں سنا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ حق اور باطل کا فیصلہ تو پروردگار ہی کے پاس ہے اور وہ خوب جانتا ہے کہ اس کی بارگاہ سے ہدایت کا پیغام کون لایا ہے اور انجام کار کس کو فتح اور آخرت کی کامرانی نصیب ہوگی لیکن یہ ظاہر ہے کہ ظلم کبھی کامیاب نہ ہوگا اور نہ ہی اللہ ظالموں کا بھلا کرے گا اور تم لوگ ظالم ہو لہذا تمہارا انجام واضح ہے۔ فرعون کہنے لگا کہ اے ہامان میں نہیں سمجھتا کہ میرے علاوہ کوئی دوسری ایسی ہستی ہے جس کی پوجا اور اطاعت کی جائے اگر کوئی آسمانوں پہ ہے تو پھر مٹی کو آگ میں پکا کر اس سے ایک بہت بڑی اور بلند وبالا عمارت بناؤ کہ اس سے جھانک کر آسمانوں تک میں دیکھا جاسکے کہ کہیں موسیٰ کا معبود بھی ہے حالانکہ میں یہ جانتا ہوں کہ وہ غلط کہ رہا ہے۔ فرعون کے حکم سے ہامان نے اینٹ ایجاد کی : یعنی اول اینٹ جو تیار کی گئی وہ ہامان نے ایجاد کی۔ اور ایک بلند وبالا عمارت کھڑی کی گئی اور فرعون کو حسرت ہی رہی فرعون کو اپنے لشکروں پہ اور طاقت پہ بڑا گھمنڈ تھا اس نے تکبر کی راہ اختیار کی اور اس کے لشکر بھی زمین پر ناحق اکڑتے پھرتے تھا جیسے انہوں نے یہ سمجھ لیا ہو کہ انہیں پلٹ کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر نہیں ہونا۔ چنانچہ اللہ کی گرفت میں پکڑے گئے فرعون بھی اور اس کے لاؤ لشکر بھی اور پانی میں غرق کر کے تباہ کردیے گئے اے مخاطب طلم کرنے والوں کا انجام دیکھ لے کہ برائی کرتے کرتے وہ جہنم کی طرف بلانے والے داعی اور امام بن گئے۔ لفظ امام : لفظ امام کوئی شرعی منصب نہیں یہ پہلے بھی گزر چکا یہ محض قیادت اور لیڈر شپ کے معنوں میں کتاب میں استعمال ہوا نیک لوگوں کا رہنما بھی امام کہ لایا اور کفار و بدکار کا راہنما یا لیڈر بھی لہذا شیعہ کا منصب امامت محض ایک گھڑی ہوئی بات ہے ہ شرعی منصب ہی نہیں اور فرعونی ایسے امام بنے جو دوزخ کی طرف دعوت دیتے تھے اور روز حشر جن کی مدد کو بھی کوئی نہیں ہوگا یعنی شفاعت سے بھی محروم ہوں گے اور ان کے اعمال بد کے نتیجے میں اس دنیا میں بھی ان پر لعنت مسلط کردی گئی کہ وہ نہ رہیں تو بھی انہیں پھٹکار پڑتی رہے اور روز حشر ان کا بہت برا حال ہوگا۔ ہر برائی بجائے خود آگ ہے : یہاں ثابت ہے کہ ہر برا عمل بجائے خود ایک آگ ہے اور آخرت میں جس طرح نیکی گل و گلزار بن جائے گی ویسے ہی برائی انگاروں کی صورت اختیار کرلے گی۔ اور جب پہلی امتیں اپنی گمراہی کے سبب ہلاک ہوگئیں تو ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرما کر مبعوث فرمایا جس میں بصائیر یعنی عقل سلیم کی رہنمائی کرنے والی باتیں اور صحیح رہنمائی اور اللہ کی رحمت تھی کہ حق بات عقل سلیم کو اپیل کرتی ہے پھر بندہ ایمان قبول کرتا ہے تو یہ ہدایت ہوگی اور پھر اعمال صالح نصیب ہوتے ہیں جو رحمت ہیں اور یہ اہتمام اس لیے فرمایا کہ لوگ نصیحت حاصل کریں اور جب یہ سب ہورہا تھا یا موسیٰ (علیہ السلام) سے بات ہو رہی تھی تو انہیں کتاب عطا ہوئی تو آپ طور پر تشریف نہ رکھتے تھے کہ آپ نے وہ واقعہ دیکھا ہو پھر بر شمار لوگ گزرے اور زمانے بیت گئے یہ باتیں لوگوں کے علوم سے مٹ گئیں اور نہ ہی آپ اہل مدین کے زمانے میں وہاں تھے کہ آپ یہ واقعات پوری صحت کے ساتھ بیان فرماتے۔ یہ تو ہمارا کرم ہے کہ سلسلہ نبوت کو جاری رکھا اور ہدایت کے لیے انبیاء بھیجتے رہے اور اب آپ مبعوث ہوئے اور یہ حقائق بذریعہ وحی آپ تک پہنچے۔ آپ تو طور پر موجود نہ تھے جب موسیٰ (علیہ السلام) کو شرف ہمکلامی نصیب ہوا آپ پر تو یہ سارے حقائق اللہ کی رحمت سے بذریعہ وحی نازل ہوئے تاکہ ان لوگوں کے پاس آپ مبعوث ہوں جن کے پاس عرصہ دراز سے کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا اور یہ زمانہ اور اہل زمانہ حقائق سے دور اور ہدایت سے محروم ہوچکے ہیں تو آپ کے ارشادات سے نصیحت حاصل کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جب اپنے کرتوتوں کے باعث تباہ ہونے لگیں تو کہنے لگیں کہ اے ہمارے پروردگار آپ نے ہمارے پاس بھی تو رسول بھیجا ہوتا تاکہ ہم آپ کی آیات پر عمل پیرا ہوتے اور ایمان والے بندوں میں شامل ہوسکتے۔ مگر اب جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق پہنچا تو ایک نیا نقطہ نکال لائے کہ قرآن ویسے یکبارگی کیوں نہ عطا ہوا جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک ہی بار تورات عطا ہوئی تھی تو کیا جب موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عطا ہوئی تھی تو لوگوں نے مان لی تھی اور کفر نہ کیا تھا بلکہ اب قرآن کو بھی سن کر کفار کہتے ہیں وہ بھی اور یہ بھی جادو بھری باتیں ہیں اور ہم ان سب باتوں کے ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ آپ ان سے کہیے کہ غرض تو حق کا اتباع کرنے سے ہے اگر بالفرض قرآن حق نہیں ہے تو حق کیا ہے تم پیش کردو کوئی ایسی کتاب لاؤ جو اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہو اور ان دونوں سے بہتر رہنمائی کرتی ہو تو میں اس کا اتباع کرلوں گا اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تو ایسا کر دکھاؤ اور اگر ایسا ممکن نہیں تو پھر یہ اللی کی کتاب ہدایت اپنی حقانیت کے ثبوت کے ساتھ موجود ہے تم مان لو۔ اس پر بھی آپ کی بات نہ مانیں تو جا لیجیے کہ یہ لوگ نہ ہدایت پر چلتے ہیں اور نہ ہدایت کے طالب ہیں بلکہ محض اپنی خواہشات نفس کے غلام ہیں اور جو کوئی بھی اللہ کی ہدایت کے بغیر محض اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتا ہے اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا اور یہ پکی بات ہے کہ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نصیب نہیں فرماتے۔ اور پھر قرآن حکیم کے مسلسل اتارے جانے کی حکمت ارشاد ہوئی کہ ہم نے قرآن کریم کو بتدریج نازل فرمایا کہ لوگوں کو بار بار تازہ بتازہ کلام الہی نصیب ہوتا رہے اور مسلسل دعوت الی اللہ دی جاتی رہے نیز ہر آیت کو واقعات اور سوالات کے جواب میں نازل فرما کر یہ سہولت پیدا کردی کہ یاد رکھنے میں بھی آسانی ہو ورنہ اللہ قادر ہے تورات کی طرح ایک ہی دفعہ بھی عطا فرما دیتا۔ اور یہ محض اعتراض ہے ورنہ وہ لوگ جو اہل کتاب میں سے ایمان دار تھے اور اپنی کتاب پر ہی ایمان رکھتے تھے جب ان کے سامنے یہ آیات پڑھی گئیں تو انہوں نے فورا کہا کہ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں کہ یہ حق ہے اور ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے اور ہم تو اس کے نازل ہونے اور آپ کی بعثت سے پہلے ہی اپنی کتابوں میں پیش گوئیاں پڑھ کر یہ خقیقت تسلیم کیے بیٹھے تھے اب جب آپ کی بعثت کی سعادت سے مشرف ہونے کا موقع نصیب ہوگا تو بھلا کیسے نہ مانیں گے ۔ سنت کا اتباع فرض ہے : اور ایسے لوگ جو اس نور کا یعنی کلام باری کا جو ہر طرح کی ظلمت کے مقابلے میں ایک روشن راستہ ہے اتباع کرتے ہیں ایسے ہی لوگ ہر طرح کی کامیابی اور دو عالم کی فلاح کو پا لیتے ہیں اس لیے کہ سنن میں امور دو طرح سے ہیں۔ مفسرین کرام کے مطابق یہ آیت ابو طالب کے بارہ میں نازل ہوئی کہ آپ ﷺ کی بہت خواہش تھی انہیں ایمان نصیب ہو مگر خود وہ آمادہ نہ ہوئے۔ صاھب روح المعانی نے اس موضوع پر بحث سے منع فرمایا ہے کہ آپ ﷺ کو طبعی طور پر دکھ پہنچنے کا احتمال ہے۔ اول اتباع نبوت جو شروع آیت میں مذکور ہے کہ ایمان و عمل اور خود قرآن کو اللہ کی کتاب ماننا بھی آپ کی اطاعت اور اتباع پر منحصر ہے لہذا سنت کا اتباع بھی فرض ہوا دوسرے آپ نے جو عقائد ارشاد فرمائے ہیں بلا کم وکاست قبول کرنا اور آپ سے محبت آپ کا ادب و احترام جو اطاعت پر مجبور کردے اور آپ کی منشا کی تکمیل پہ جان لڑا دینا اور اس نور یعنی قرآن کا اتباع جو آپ کے ساتھ نازل ہوا یہ کلید جنت ہے۔
Ayahs 7:158–162

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَا اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 7:158 in the Quran reader

آپ فرمادیجئے کہ اے لوگو ! یقینا میں تم سب کی طرف اللہ کا پیغمبر ہوں (وہ) جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی (حقیقی) حکومت ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے سو اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے پیغمبر نبی امی (حضرت محمد ﷺ پر جو (خود) اللہ پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کی پیروی کرو تاکہ تم راہ راست پر آجاؤ

وَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰۤى اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 7:159 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں ایسے لوگ بھی ہیں جو حق کا راستہ بتاتے ہیں اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں

وَ قَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا١ؕ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗۤ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْهِمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:160 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو بارہ قبیلے ، بڑی بڑی جماعتیں بنادیا اور جب موسیٰ (علیہ السلام) سے ان کی قوم نے پانی طلب کیا تو ہم نے ان کو وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مار دیں تو اس میں سے بارے چشمے پھوٹ نکلے ، تو ہر شخص نے اپنے پینے کی جگہ معلوم کرلی اور ہم نے ان پر بادل سے سایہ کیا اور ان پر من اور سلوٰی (ترنجبین اور بٹیریں) اتارا جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو بخشی ہیں اس میں سیکھاؤ اور انہوں نے ہمارے ساتھ زیادتی نہیں کی و لیکن وہ اپنے آپ کے ساتھ زیادتی کرتے تھے

وَ اِذْ قِیْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ وَ كُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَ قُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِیْٓئٰتِكُمْ١ؕ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:161 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا گیا کہ اس آبادی میں جا کر رہو اور اس میں جہاں سے جی چاہے کھاؤ اور (ہاں شہر میں جاؤ تو) حطۃ (توبہ ہے) کہتے جانا اور دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرتے ہوئے (جھکے جھکے داخل ہونا) ہم تمہارے گناہ بخش دیں گے (اور خلوص سے) نیکی کرنے والوں کو عنقریب زیادہ دیں گے

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ۠ Open ayah 7:162 in the Quran reader

سو ان میں سے ظالموں (غلط کاروں) نے اس بات کو جو ان سے فرمائی گئی تھی اور بات سے تبدیل کردیا تو ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا اس وجہ سے کہ وہ ظلم کرتے تھے

رکوع نمبر 20 ۔ آیات 158 ۔ تا۔ 162 ۔ اسرار و معارف : جب آپ سے پہلے مبعوث ہونے والے انبیاء آپ کی خبر پہنچاتے رہے اور اپنی اپنی امت سے آپ پر ایمان لانے کا مطالبہ فرماتے رہے نیز یہ ارار بھی لیتے رہے کہ اگر تم میں سے کوئی آپ کا زمانہ پائے تو آپ کی اطاعت اختیار کرے۔ ۔ چناچہ وہ سب کہیں گے کہ اے اللہ ہم ان سے برات کا اظہار کرتے ہیں یعنی ہمیں ان کا شریک جرم نہ بنایا جائے کہ یہ ہماری پرستش نہ کرتے تھے بلکہ اپنی خواہش نفس کے غلام تھے۔ پھر انہیں حکم ہوگا کہ پکارو اپنے معبودان باطلہ کو اور پکاریں گے مگر انہیں کوئی جواب تک نہ ملے گا اور جہنم کا (علیہ السلام) ذاب سامنے دیکھ رہے ہوں گے کیا ہی اچھا ہوتا کہ انہوں نے ہدایت قبول کرلی ہوتی۔ پھر اعلان کیا جائے گا کہ اب سوچو کہ تم نے اللہ کے فرستادہ نبیوں اور رسولوں کو کی اجواب دیا تھا لیکن عذاب ان کی یادداشتیں تک کھو دے گا آپس میں بھی ایک دوسرے سے پوچھ پاچھ نہ سکیں گے ہاں مگر جو اب توبہ کرلے ۔ توبہ کیا ہے : اور توبہ یہ ہے کہ عقائد درست کرے اور عقائد کے مطابق نیک اعمال بجا لائے سو ایسے لوگوں کے کامیاب ہونے کی امید کی جاتی ہے۔ تیرا پروردگار جس چیز کو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے اور اپنی مخلوق سے جسے چاہے پسند کرلے یہ پسند و ناپسند ان کے اختیار میں نہیں بلکہ ان کے مشرکانہ عقائد سے اللہ کریم بہت بلند ہے اور اس نے فیصلہ کردیا کہ جس کے دل میں جتنی انابت اور جس قدر خلوص ہوگا اللہ اسے اتنا پسند فرمائے گا۔ فضیلت کا معیار : علما کے نذدیک معیار فضیلت دو چیزیں ہیں ایک اختیاری اور ایک غیر اختیاری۔ غیر اختیاری یہ ہے کہ زمانوں پہ ایک خاص زمانے کو یا زمین پر ایک خاص جگہ کو جیسے بیت اللہ شریف یا دنوں پر جمعہ کے روز کو رمضان کو مہینوں پر یا لیلۃ القدر کو راتوں پر اور دوسری اختیاری جیسے انبیاء کے علاوہ انسانوں کو ان کے خلوص اور کردار پر یا جس جگہ نیک کام کے لیے جائیں ان کے باعث اس جگہ کو دوسرے مقامات پر ایسے ہی عالم کو پھر تابعی اور پھر صحابہ کو اور ان میں بااتفاق علماء حق سب میں خلفائے راشدین کو اور ان سب پر ابوبکر صدیق ؓ کو پھر حضرت عمر ؓ حضرت عثمان ؓ اور حضرت علی ؓ کو۔ یہخیال کرو کہ اگر تم لوگوں پہ ہمیشہ کے لیے رات ہی طاری کردی جاتی تو کتنی نعمتوں سے تمہاری حیات محروم ہوجاتی۔ بھلا کسی میں ہمت ہے کہ رب جلیل کے علاوہ تمہیں روشنی مہیا کرتا اور دن پیدا کردیتا پھر تمہیں کیا ایسی باتیں سنائی ہی نہیں دیتیں اور اگر اللہ ہمیشہ کے لیے دن کردیتے سورج کبھی غروب ہی نہ ہوتا قیامت تک دن ہی دن چلا جاتا تو کوئی ایسا معبود اللہ کے بغیر تھا جو تمہیں رات کے آرام مہیا کرتا اور رات کا سکون واپس لا دیتا۔ کیا یہ حقائق تمہاری نظر میں نہیں آتے ۔ یہ تو اس کا کرم ہے کہ کاروبار حیات کے لیے دن بخشا اور سکون و آرام کے لیے رات عطا فرما دی اور اتنے انعامات اس لیے بخشے کہ تم اس کا شکر ادا کرو۔ رسومات کو دین سمجھا جائے تو آسمانی آفات کے آنے کا باعث بنتا ہے : محرومی تو اپنی جگہ دنیا میں بھی ان پر آسمانی بلائیں ٹوٹ پڑیں یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ آپ کا اتباع چھوڑ کر اگر رسومات اور بدعات کو باعث ثوابت جان کر ان پر عمل کیا جائے تو عذابوں کا نزول ہوتا ہے جیسے فصلوں کی تباہی قحط سالی مختلف امراض زلزلے وغیرہ موجودہ دنیا میں سائنس کی بےپناہ ترقی اور بچاؤ کے جدید انتظامات کے باوجود طرح طرح کے عذاب بیماری جنگ اور آفات سماوی کی صورت میں دنیا پہ مسلط ہیں۔ آج بھی اگر کوئی پناہ کا طالب ہو تو اتباع رسالت کا دروازہ کھلا ہے قوم اختیار کرے تو قوم فلاح پائے گی کوئی فرد اپنا لے تو وہ فرد کامیاب رہے گا۔