7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 7:100–108

اَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ١ۚ وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 7:100 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو جو اہل زمین کے بعد زمین کے وارث ہوئے (ان واقعات نے) راہنمائی نہیں کی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کردیں اور ان کے دلوں پر مہر کردیں سو وہ سن ہی نہ سکیں

تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآئِهَا١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 7:101 in the Quran reader

یہ بستیاں ہیں جن کے کچھ کچھ حالات ہم آپ پر بیان فرماتے ہیں اور یقینا ان کے پاس اس کے پیغمبر دلائل لے کر آئے مگر وہ جس چیز کو پہلے جھٹلا چکے تھے پھر اس کو ماننے پہ تیار نہ ہوئے۔ اسی طرح اللہ کافروں کے دلوں پر مہر کردیتے ہیں

وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ١ۚ وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:102 in the Quran reader

اور ان میں سے اکثر کو ہم نے وعدہ پورا کرنے والا نہ پایا اور ہم نے ان میں سے اکثر کو بدکار ہی پایا

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:103 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں (معجزات) کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا سو انہوں نے ان کے ساتھ ظلم (کفر) کیا پس دیکھ لیجئے فساد کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:104 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے فرعون ! بیشک میں پروردگار عالم کی طرف سے بھیجا ہوا پیغمبر ہوں

حَقِیْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 7:105 in the Quran reader

اس بات پر قائم ہوں کہ میں اللہ پر سچ کے سوا کچھ نہ کہوں یقینا میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل کے ساتھ آیا ہوں سو نبی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے

قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:106 in the Quran reader

اس (فرعون) نے کہا کہ اگر تم نشانی لائے ہو تو اسے پیش کرو اگر تم سچے ہو

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 7:107 in the Quran reader

تب انہوں نے اپنا عصا ڈال دیا سو ناگہاں وہ بہت بڑا اژدھا بن گیا

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 7:108 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ نکالا تو اچانک وہ دیکھنے والے کے روبرو بہت ہی روشن ہوگیا

رکوع نمبر 13 ۔ آیات 100 تا 108 ۔ اسرار و معارف : ہلاک ہونے والے اپنے انجام کو پہنچے مگر بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت کا بہت بڑا نشان بن کے کیسی کیسی خوشحال اور مضبوط قومیں جن کے پاس ہر طرح کے وسائل اور ذرائع موجود تھے دولت کی ریل پیل تھی عالیشان محل تھے اور طاقتور فوج تھی مگر مسلسل گناہ کے باعث عذاب الہی کی گرفت میں آئے اور ایسے تباہ ہوئے کہ سوائے عبرت کے کچھ باقی نہ بچا تو جو لوگ ان کے بعد آ کر پھر سے آباد ہوئے ہیں اور جو اس کتاب اور موجودہ پیغام کے مخاطب ہیں انہیں یہ ضرور سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ قادر ہے جب چاہے گناہ پر سزا دے سکتا ہے اور پہلی قوموں کی طرح انسان اپنے اعمال کی شامت میں گرفتار ہو کر مختلف تباہیوں کا شکار ہوسکتے ہیں یا پھر دوسری سزا دے سکتا ہے اور پہلی قوموں کی طرح انسان اپنے اعمال کی شامت میں گرفتار ہو کر مختلف تباہیوں کا شکار ہوسکتے ہیں یا پھر دوسری سزا جو گناہ پر مرتب ہوتی ہے کہ دل پر مہر کردی جاتی ہے۔ قلوب پر اعمال کا اثر : یعنی دل کا دروازہ حق بات لیے بند ہوجاتا ہے حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو دل پر سیاہ نقطہ پیدا ہوجاتا ہے پھر کرتا ہے تو سیاہی اور بڑھتی ہے حتی کہ مسلسل گناہ سے دل بالکل سیاہ ہوجاتا ہے یہی وہ حال ہے جسے کبھی مہر سے اور کبھی ران یعنی زنگ سے تعبیر فرمایا گیا ہے فرمایا پھر انہیں کچھ سنائی نہیں دیتا حالانکہ وہ بہرے تو نہیں ہوجاتے اور سب کچھ سن رہے ہوتے ہیں مگر یہ بھی تجربہ شدہ بات ہے کہ بہترین ذرائع کے باوجود لوگ ہدایت سے مھروم رہے مثلاً خود نبی اکرم ﷺ کی زبان حق ترجمان سے اللہ کا کلام سنا اور ایمان نہ لائے بلکہ انہیں وہ تکلیف دہ محسوس ہوا اس لیے کہ برے اعمال کے باعث دل سیاہ اور تباہ ہوچکے تھے اور نیکی کو قبول کرنے کی استعداد سے محروم تھے اگر دل میں سے یہ قوت ختم ہوجائے تو کان آنکھ یا جملہ حسیات صرف بدن کی ضروریات اور خواہشات کی تکمیل کے لیے کام کرتی ہیں جو ہر جاندار کو حاصل ہے لہذا صرف بدنی ضرورت کے کام آنا اور روح کی ضروریات سے بیخبر ہوجانا اتنا بڑا جرم اور ایسی محرومی ہے کہ ارشاد فرمایا یہ سنتے ہیں ہی نہیں اصل انسان تو روح تھی بدن تو اس کا آلہ تھا جب روح کے فائدے کی بات یا اس کی ضرورت کی بات نہیں سنتے تو ایسا ہی ہے کہ یہ سنتے ہیں ہی نہیں۔ اور اے حبیب اسی غرض سے ان تباہ شدہ بستیوں اور عذاب الہی میں گرفتار شدہ اقوام کے حالات کا بعض حصہ یا بعض واقعات ہم آپ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ کی قوم اور امت دوسروں کے حالات سے عبرت حاصل کرے ان کے پاس بھی اللہ کے رسول واضح دلائل اور معجزات لے کر آئے مگر وہ اپنی انا میں گرفتار رہے کہ جو جھوٹ انہوں نے ایجاد کر رکھے تھے انہیں پر اصرار کرتے رہے اور حق کو قبول نہ کیا یہ صورت حال آج بھی کسی نہ کسی صورت دیکھی جاسکتی ہے کہ لوگ اور اچھے پڑھے لکھے لوگ یا علما بھی جب ایک بات کہہ دیتے ہیں تو اس پر ضد کرتے ہیں اور دلائل کی ناروا تاویل کرنے میں لگے رہتے ہیں یہ درست نہیں بلکہ اگر غلطی ہوجائے تو پتہ چلنے پر توبہ کرنا اور حق کو قبول کرنا چاہیے کفار میں تو یہ بات اس لیے پیدا ہوجاتی ہے کہ ان کے دلوں پر مہر کردی جاتی ہے۔ سب کے نہیں مگر اکثر کے ضرور کردی جاتی ہے اور یہ اکثر وہی ہوتے ہیں جو مسلسل گناہ کرتے رہتے ہیں ایسے ہی اگر مومن بھی نافرمانی کا راستہ اختیار کرلے تو بعض اوقات دل تباہ ہوجاتا ہے اور ایسا آدمی ایمان چھوڑ کر کفر کی دلدل میں جا گرتا ہے۔ فرمایا جن میں اکثر کے دلوں پر مہر کردی جاتی ہے وہ سب بدعہد ہوتے ہیں یعنی نافرمان ہوتے ہیں کہ یوم الست جو عہد کیا اسے بھی پورا نہیں کرتے اور زندگی میں کتنے مواقع مشکلات وغیرہ کے آتے ہیں جب کہہ اٹھتے ہیں اگر یہ مصیبت ٹل گئی تو پھر جرم نہ کروں گا مگر جب مصیبت ختم ہوجائے تو پھر گناہ کا راستہ اختیار کرلیتے ہیں اور اکثر گناہ اور برائی میں مشغول رہتے ہیں۔ صرف نبی ہی اللہ کی ذات وصفات اور پسند و ناپسند سے مطلع فرما سکتا ہے : پھر ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا بادشاہ مصر جس کا لقب فرعون ہوتا تھا یعنی تمام بادشاہ فرعون کہلاتے تھے۔ کی طرف اور اس کے امراء اور مذہبی پیشواؤں کی طرف اپنے احکام اپنی باتیں اور بہت سے واضح معجزات عطا فرما کر مبعوث فرمایا گیا مگر انہوں نے زیادتی کی نبی کے ساتھ بھی اور اللہ کے دین اور آیات کے ساتھ بھی تو پھر دیکھئے ایسے فساد پرور لوگوں کا کیا انجام ہوا۔ موسی (علیہ السلام) نے فرعون کو دعوت دی اور فرمایا میں تمام جہانوں کے پروردگار کا رسول ہوں۔ یعنی بعثت نبوت اس کی ربوبیت کا تقاضا ہے ، اور میں کبھی اللہ کی طرف غلط بات منسوب نہیں کرسکتا۔ یعنی تمام نبی معصوم بھی ہوتے ہیں امانت دار بھی اور اللہ کی ذات وصفات یا پسند و ناپسد کا علم خود اللہ کی ذات سے پاتے ہیں لہذا غیر نبی اگر اپنی طرف سے کسی بات پر ثواب یا عذاب کا وعدہ کرے تو یہ اللہ کریم پر جھوٹ باندھنے والی بات ہوگی مگر اللہ کے نبی کبھی اللہ پر ایسی بات نہیں کہتے جس کے کہنے کا خود اللہ کی طرف سے حکم نہ دیا گیا ہو۔ پھر میں تمہارے رب کی طرف سے معجزات بھی لایا ہوں یعنی اللہ نے مجھے ایسے امور عطا فرمائے ہیں جو انسانی بس سے باہر ہیں اس لیے کہ وہ تمہارا بھی رب ہے اور تمہاری تربیت کرنا چاہتا ہے لہذا کفر و شرک اور ظلم و جور سے باز آجاؤ اور بنی اسرائیل کو جو ظلماً غلامی میں جکڑ رکھا ہے اس سے توبہ کرو اور انہیں میرے ساتھ جانے اور رہنے کی آزادی دو تو فرعون نے کہا اگر آپ کے پاس کوئی ایسی نشانی ہے تو پیش کریں ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے بہت سے معجزات کا تزکرہ ملتا ہے جن میں سے دو بہت واضح تھے ایک ہاتھ کی لاٹھی کو پھینکتے تو وہ بہت بڑا اژدھا بن جاتی اور دوسرا یہ تھا کہ ہاتھ کو بغل میں دے کر نکالتے تو وہ روشن ہوجاتا تھا۔ یہ سنت الہی ہے کہ لوگوں کے پاس جیسے علوم اور کمالات ہوں ویسے ہی معجزات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو دئیے جاتے ہیں فرعون کا دور جادو کے کمالات کا دور تھا تو موسیٰ (علیہ السلام) کو ایسے معجزات عطا ہوئے کہ جادوگروں پر ان کی عظمت ثابت ہوگئی چناچہ انہوں نے لاٹھی پھینکی تو بہت بڑا اژدھا بن گئی اور ہاتھ کو بغل میں دبا کر نکالا تو وہ روشن اور سفید ہوگیا کہ پورا ماحول روشن کردیا۔
Ayahs 7:109–126

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 7:109 in the Quran reader

فرعون کی قوم سرداروں نے کہا یقینا یہ بہت بڑا صاحب علم جادوگر ہے

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ١ۚ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 7:110 in the Quran reader

یہ چاہتا ہے کہ تم کو تمہاری زمین (ملک) سے نکال دے تو تمہارا مشورہ کیا ہے ؟

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ اَرْسِلْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 7:111 in the Quran reader

انہوں نے کہا اس کو اور اس کے بھائی کو لوٹا دو اور شہروں میں ہر کارے روانہ کردو

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 7:112 in the Quran reader

کہ وہ تمہارے پاس سب (جادو کا علم خوب) جاننے والے جادوگروں کو لا جمع کریں

وَ جَآءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْۤا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 7:113 in the Quran reader

اور جادو گر فرعون کے پاس آپہنچے (اور) کہنے لگے اگر ہم جیت گئے تو ہمیں صلہ (انعام) عطا کیا جائے گا ؟

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 7:114 in the Quran reader

اس نے کہا ہاں اور بیشک تم مقرب لوگوں میں شامل ہوجاؤ گے

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ Open ayah 7:115 in the Quran reader

تو انہوں نے کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) ! یا تم ڈال دو اور یا ہم ڈالیں ؟

قَالَ اَلْقُوْا١ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْیُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:116 in the Quran reader

انہوں (موسیٰ (علیہ السلام) ) نے فرمایا تم ہی ڈال دو چناچہ جب انہوں نے (چیزیں) ڈالیں تو لوگوں کی آنکھوں رپ جادو کردیا (نظر بندی کردی) اور انہیں ہیبت زدہ کردیا (ڈرادیا) اور بہت بڑا جادو دکھایا

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ۚ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚ Open ayah 7:117 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی کی کہ اپنا عصا ڈال دیجئے پس جبھی وہ (اژدھا بن کر) ان کے بنائے ہوئے (سانپوں) کو نگلنے لگا

فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطَلَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 7:118 in the Quran reader

پس حق ظاہر ہوگیا اور ان کا بنایا سب جاتا رہا

فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَ انْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَۚ Open ayah 7:119 in the Quran reader

پس وہ لوگ اس موقع پر ہار گئے اور خوب ذلیل ہو کر لوٹ گئے

وَ اُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۚۖ Open ayah 7:120 in the Quran reader

اور جادوگر سجدے میں گر گئے

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:121 in the Quran reader

(اور) کہنے لگے ہم پروردگار عالم (اللہ) پر ایمان لائے

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 7:122 in the Quran reader

جو موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا پروردگار ہے

قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِی الْمَدِیْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَاۤ اَهْلَهَا١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:123 in the Quran reader

فرعون کہنے لگے کیا تم میرے اجازت دینے سے پہلے اس پر ایمان لے آئے ہو بیشک یہ ایک فریب ہے جو تم سب نے شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو شہر سے نکال دو ۔ سو جلد تمہیں (اس کا) پتہ چل جائے گا

لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:124 in the Quran reader

میں ضرور تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف طرف سے کاٹوں گا پھر تم سب کو ضرورسولی پر لٹکا دوں گا

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 7:125 in the Quran reader

وہ بولے یقینا ہم تو لوٹ کر اپنے پروردگار کے پاس ہی جانے والے ہیں

وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا١ؕ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:126 in the Quran reader

اور تو نے ہم میں کیا عیب دیکھا سوائے اس کے کہ ہم اپنے پروردگار کی نشانیوں پر جب وہ ہم تک پہنچیں ایمان لے آئے اے ہمارے پروردگار ! ہم پر صبر کے دھانے کھول دیجئے اور ہمیں اسلام پر موت عطا فرمائیے

رکوع نمبر 14 ۔ آیات 109 تا 126 ۔ اسرار و معارف : جادو اور معجزہ میں فرق : جب امراء دربار نے دیکھا جن میں مذہبی پیشوا اور دنیاوی سردار سب شامل تھے تو کہہ اٹھے کہ انہیں فن جادوگری میں کمال حاصل ہے کم از کم اتنا ضرور مان گئے کہ یہ کمال آج تک کسی جادوگر سے دیکھا نہ سنا چونکہ ان کے قلوب اس قدر سیاہ اور تباہ ہوچکے تھے کہ قبول حق کی استعداد ہی نہ تھی ورنہ جادوگروں پر موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کی برتری تو سامنے تھی نیز جادو اور معجزہ میں کئی طرح سے فرق ہوتا ہے سب سے پہلے تو افراد ہی مختلف طرح کے ہوتے ہیں جادوگر کا شیطان سے رابطہ ہوتا ہے لہذا وہ غلیظ اور بدکار ہوتا ہے جبکہ نبی کا رابطہ ذات باری سے ہوتا ہے لہذا عقائد اور اعمال میں پاکیزگی ہوتی ہے دوسرا یہ کہ جاو کا اظہار ذاتی بڑائی یا اپنی بات منوانے کے لیے کیا جاتا ہے جبکہ معجزہ کا اظہار عظمت باری کو منوانے کے لیے ہوتا ہے تیسرا فرق یہ ہوتا ہے کہ جادو سے چیز کی اصل تبدیل نہیں ہوتی صرف انسانی آنکھیں دھوکا کھاتی ہیں مگر معجزہ شے کی حقیقت کو بدل دیتا ہے اور جو کچھ نظر آتا ہے وہ واقعی ہوتا بھی ہے یہی پہچان کرامت ولی اور شعبدہ میں بھی ہے کہ کرامت در اصل نبی کا معجزہ ہی ہے جو کامل اتباع کے طفیل ولی کے ہاتھ پہ ظاہر ہوا۔ تو کہنے لگے کہ اس کا سبب ہماری سمجھ میں تو یہی آتا ہے کہ یہ قوم فرعون سے اس کی سلطنت اور وطن چھیننا چاہتا ہے ہے اور محض اقتدار کی خاطر یہ اپنے کمال کا اظہار کر رہا ہے اب سب ایوان مل کر رائے دیں کہ اس کے بارے کیا کریں۔ جادو سے ڈرنا نہ چاہئے : بالآخر سب نے یہ طے کیا کہ۔ فرعون کو چاہئے اسے مہلت دے اور اس کے جادو کا مقابلہ اپنے قوم کے جادوگروں سے کرایا جائے تاکہ یہ شکست کھا کر اپنے انجام کو پہنچے بھلا یہ کی امشکل ہے آخرت ہمارے پاس بھی تو ایک سے ایک ماہر جادوگر ہے چناچہ جادوگروں کو جمع کرنے کے لیے تمام شہروں میں قاصد روانہ کردئیے جائیں۔ چناچہ ہر طرف سے جادور جمع ہونا شروع ہوگئے جن کی تعداد بعض روایات کے مطابق سینکڑوں میں تھی اور سینکڑوں اونٹوں پر لاٹھیوں اور رسوں کے انبار لاد کر لائے گئے اور مقابلے کی تیار شروع ہوگئی انہوں نے آتے ہی فرعون سے درخواست کی کہ ہم مقابلہ جیت گئے تو ہمیں انعام بھی ملنا چاہئے۔ صاحب تفسیر کبیر نے یہاں استدلال فرمایا ہے کہ اگر جادو کے زور سے کچھ ہوسکتا تو انہیں فرعون سے مانگنے کی ضرورت نہ تھی مٹی کو سنا بنا لیتے یا دنیا کے بادشاہ بن جاتے مگر جادو صرف نظر کا دھوکا ہوتا ہے شئے کی حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتا اس لیے جادوگر سے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں وہ دیکھ رہے تھے کہ فرعون خود عاجز اور ذلیل ہے تب ان سے مدد کا طلب گار ہے پھر بھی اس سے مانگ رہے تھے لہذا اس نے وعدہ کرلیا کہ نہ صرف انعام دوں گا بلکہ تمہیں میرا قرب عطا کیا جائے گا۔ میرے درباری اور مقرب بن ادئیے جاؤگے۔ طے شدہ وقت اور مقام پر مقابلے کے لیے پہنچے ایک طرف فرعونی تکبر اور نمود و نمائش لاؤ لشکر اور تماشائی تھے جادوگروں کی فوج تھی دوسری طرف اللہ کا اولوالعزم رسول اپنے بھائی کے ساتھ بالوں کے کمبل کا لباس اور کچے چمڑے کی جوتی ، ہاتھ میں عصا ، بظاہر اکیلا و تنہا مگر تائید مالک الملک کے ساتھ جلوہ افروز ہوا۔ ادب کا ثمرہ : جادوگر الوہیت اور نبوت کے تصور سے آشنا نہ تھے مگر موسیٰ (علیہ السلام) کی عظمت کے قائل ضرور ہوگئے کہ ضرور کوئی صاحب کمال ہے جس نے فرعون کو پریشان کردیا ہے لہذا ادب کا اظہار کیا اور کہا آپ پہلے لاٹھی ڈالنا پسند فرمائیں گے یا ہمیں اجازت ہے کہ ہم ڈالیں علامہ ابن کثیر نے بھی یہی استدلال فرمایا کہ جادوگروں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے ادب کا معاملہ کیا تو اللہ کریم نے انہیں ہدایت نصیب فرما دی اور فرعون نے تکبر کیا لہذا محروم رہا۔ اور بھی بہت سی مثالوں کے علاوہ خود آقائے نامدار ﷺ کے ساتھ جن لوگوں نے اگرچہ اطاعت نہیں کی بلکہ کفر و شرک کی طرف سے اسلام کے خلاف جنگوں میں بھی شریک ہوئے مگر اخلاقی اعتبار سے آپ سے گستاخی کے مرتکب نہیں ہوئے انہیں توبہ کی توفیق نصیب ہوگئی اور جو لوگ اخلاقاً گستاخ اور بےادب تھے محرومی و حسرت کی موت کا شکار ہوئے اور کبھی ہدایت نہ پا سکے یہی حال اہل اللہ کا ہوتا ہے با ادب مستفید ہوتا ہے اور بےادب محروم رہتا ہے۔ چنانچہ موسیٰ (علیہ السلام) سے اجازت پا کر جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینک دیں مگر لوگوں کی نگاہوں پہ جادو کردیا اور لوگوں کو ڈرایا بھی۔ تفسیر کبیر میں ہے کہ جگہ جگہ یہ اعلان بھی کیا گیا کہ ہر آدمی اپنی حفاظت کا خود خیال رکھے اس طرح انہوں نے جادو کا بہت بڑا یعنی دو کام کیے قوت متخیلہ پر مسمریزم کی طرح گرفت کرکے اور ساتھ لوگوں کو پریشان کرکے پنا کام نکالا کہ جب آدمی خوفزدہ اور پریشان ہوتا ہے تو اس کی قوت متخیلہ کو متاثر کرنا آسان ہوجاتا ہے اور وہ پریشانی کی وجہ سے دفاع نہیں کرسکتا۔ اللہ کریم نے اسے سحر عظیم فرمایا جس سے ثابت ہے کہ اصل شئے تبدیل نہیں ہوتی ہاں دیکھنے والوں کو ویسی نظر آتی ہے جیسے جادوگر دکھانا چاہتا ہے مثلاً جاودوگر کسی انسان کو گدھا بنا دے تو وہ واقعی گدھا نہیں بنے گا مگر لوگوں کو بھی اور اپنے آپ کو بھی ایسا ہی پائے گا اور ایسی ہی حرکات شروع کردے گا لیکن اگر مرگیا تو حساب انسانوں ہی کے ساتھ دے گا جانوروں میں شمار نہ ہوگا۔ اب موسیٰ (علیہ السلام) کو ارشاد ہوا ذرا آپ بھی لاٹھی ڈال دیں ہزاروں بڑے بڑے شہتیر اور رسے میدان میں اژدہوں کی صورت میں پھنکارتے پھرتے تھے جنہیں گرداگرد سے جادوگر بمشکل روک رہے تھے اور لوگوں کو بچنے اور ہوشیار رہنے کی تلقین ہو رہی تھی کہ اللہ کریم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے دل پر القا فرمایا اب اس ہماہمی اور جادو کے اظہار کے عین شباب کے وقت لاٹھی ڈال دیں۔ لاٹھی کا ڈالنا تھا کہ ایک عظیم اژدہا بن گیا اتنا بڑا کہ ان سب کو نگلنے لگا اور سانپوں اژدہوں کی عادت ہے اپنے سے چھوٹے کو کھاجاتے ہیں میدان بھرا ہوا تھا لاکھوں کی تعداد تھی اور بڑے بڑے اژد ہے تھے مگر لاٹھی سب سے بڑا اژدھا بن گئی اور ان سب کو نگل گیا اور ان سے میدان خالی کردیا مگر بھوک سے منہ پھیلائے پھنکار رہا تھا۔ یہ حق کی فتح تھی موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگروں پہ عظیم فتح حاصل ہوئی اور جتنا رعب انہوں نے بنایا تھا ختم ہوگیا اور لوگوں کو اندازہ ہوگیا کہ ان کی اور ان کے جادو کی کوئی حیثیت نہیں۔ نہ صرف مغلوب ہوئے بلکہ بہت رسوائی ہوئی اور حق کو عزت ملی۔ مگر اس کے ساتھ ہی وہ سجدے میں گر گئے اور اعلان کردیا کہ ہم پروردگار عالم پہ ایمان لائے وہ پروردگار جسے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اپنا رب مانتے ہیں یہ شاندار معجزہ فرعون نے بھی اور اس کی تمام قوم نے بھی دیکھا تھا مگر ایمان لانے کی توفیق صرف جادوگروں کو نصیب ہوئی یہ نبی کے ادب کرنے کا صلہ تھا جو اللہ کریم نے عطا فرما دیا۔ اور جب جادوگر ایمان لائے تو لوگوں کی اکثریت بھی اس طرف مائل ہوگئی اور لاکھوں لوگوں نے اعلان کردیا کہ حق موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہے۔ مگر فرعون نے بھی فوراً پانسہ پھینکا اور کہنے لگا اچھا تو یہ ملک کے خلاف سازش تھی میں اب سمجھاتم سب نے مل کر موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ سازش تیار کی ہے کہ اس طرح سے لوگوں کو خوفزدہ کرکے اقتدار پر قابض ہوجاؤ پھر تو موسیٰ (علیہ السلام) لوگوں کو شہروں سے نکال باہر کریں گے اور اپنی غریب قوم کو وہاں آباد کردیں گے یہ بالکل ایسا ہی تھا جیسے آج ہر سیاست دان جب کام اس کی مرضی کے خلاف ہو تو ملک کے لیے سخت خطرے کا اعلان کردیتا ہے اس بات کا موجد فرعون تھا جادوگروں کا کمال اور لوگوں کا متاثر ہونا پھر موسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ اور اس کے نتیجے میں جادوگروں کا ایمان لانا جو پہلے سے بھی بڑا معجزہ تھا اس تمام کام کو ایک سیاسی سازش کہہ کر لوگوں سے اس کا حقیقی اثر زائل کرنا چاہا اور کہنے لگا ابھی تمہاری اس حرکت کی سزا دے کر تمہارا بھرم کھول دیتا ہوں میں تمہیں ایسی سخت سزا دوں گا کہ ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پاؤں کٹوا دوں گا پھر تمہارے اس آدھے بدن کو سولی پر لٹکایا جائے گا۔ حصول علم کا سب سے اعلی ذریعہ : دین اور آخرت کا علم یا ذات باری اور صفات باری کی بات عقل نہیں دل سیکھتا ہے اور اس کے سیکھنے کا صرف ایک ذریعہ ہے کہ قلب نبوت سے رابطہ استوار کرلے تو بغیر لبوں کی جنبش کے اور بغیر تقریر و تحریر کے خالص اور کھرے علوم اس تک پہنچ جاتے ہیں۔ ابھی توھری دیر پہلے جو جادوگر کافر تھے اور ساری امیدوں کا مرکز فرعون کو بنا رکھا تھا اب مومن ہیں اور ذرا ذوق شہادت دیکھئے اور علم کا اندازہ کریں کہ کہنے لگے اگر تم ہمیں سولی دوگے تو بہت مزہ آئے گا کہ ہم اپنے رب کی بارگاہ میں پہنچ جائیں گے گویا وہ نہ صرف عظمت باری کو پا گئے بلکہ حیات موت ما بعد الموت اور ان تمام باتوں کو جان گئے۔ شیخ کے ساتھ تعلق کا کمال بھی یہی ہے کہ دل زندہ ہو کر ان علوم کو حاصل کرلے۔ فرمانے لگے کہ اللہ کی آیات پہ ایمان لانے کی اگر یہ سزا ہے تو کوئی بات نہیں یہ جان تو اسی مقصد پہ نثار ہونی چاہئے ہاں ہم از خود کچھ بھی تو نہیں لہذا اے ہمارے رب ہم پر صبر انڈیل دے ایسا صبر عطا کر کہ کافر ایذا دے کر شرمندہ ہو اس کے کان ہماری آہ نہ سن سکیں اور ہمیں اسلام پر موت نصیب فرما۔ سبحان اللہ زندگی اور اس کی تمام لذتوں سے بڑھ کر اسلام عزیز ہے اور صبح کے سورج نے جنہیں فرعون کا جادوگر دیکھا تھا شام کے ڈھلتے سورج نے انہیں موسیٰ کے شہداء کے روپ میں دیکھا۔
Ayahs 7:127–129

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ١ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ Open ayah 7:127 in the Quran reader

اور فرعون کی قوم کے سردار کہنے لگے کہ کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ دیں گے تاکہ وہ ملک میں خرابی کریں اور آپ کو اور آپ کے معبودوں کو چھوڑ دیں اس (فرعون) نے کہا ہم عنقریب ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رکھیں گے اور بیشک ہم ان پر غلبہ رکھتے ہیں

قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْا١ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 7:128 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ سے مدد مانگو اور ثابت قدم رہو بیشک زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں عطا فرماتے ہیں اور آخرت پرہیزگاروں کے لئے ہے

قَالُوْۤا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا١ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:129 in the Quran reader

کہنے لگے ہم تو آپ کے آنے سے پہلے بھی مصیبت ہی میں تھے اور آپ کے آنے کے بعد بھی۔ انہوں نے فرمایا قریب ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور اس کی جگہ تم کو زمین کا مالک بنادے پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو

رکوع نمبر 15 ۔ آیات 127 تا 129 ۔ اسرار و معارف : فرعون کی اس مکاری نے قوم کو گمراہ کرنے کا کام تو کسی حد تک کیا مگر باوجود سب طرح کی جہالت کے انہوں نے یہ بات پوچھ ہی لی کہ بھئی ایمان لانے ولوں کو بڑی زبردست سز املی مگر خود موسیٰ (علیہ السلام) کا آپ نے کچھ نہیں بگاڑا نہ ان کی قوم کے لیے کوئی سزا تجویز کی اگر یہی حال رہا تو موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم تو تباہی مچا دیں گے اور آپ کو اور آپ کے معبودوں کو ترک کردیں گے مگر فرعون حقیقت حال جان چکا تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) سے سخت خوفزدہ تھا صرف تکبر کی وجہ سے دل انابت سے خالی تھا اور توبہ کی توفیق نصیب نہ تھی کہنے لگا بھئی ہم نے ان پر پہلے ہی بہت سخت سزا مقرر کر رکھی ہے کہ نوزائیدہ بچوں کو قتل کردیا جائے اور بچیوں کو زندہ رکھا جائے تاکہ ہماری خدمت کریں اور اب ہم ان پر اور بھی سختی کریں گے آخر وہ ہیں کیا چیز مگر موسیٰ (علیہ السلام) کا نام پھر بھی نہ لے سکا مفسرین کے مطابق ان سے بیحد خوفزدہ ہوگیا تھا۔ پریشانیوں کا حل : موسی (علیہ السلام) نے حالات دیکھ کر قوم سے فرمایا کہ دیکھو تمام پریشانیوں سے نجات کا آسان نسخہ ہے کہ اللہ سے مدد طلب کرو جس کا طریقہ یہ ہے کہ اس کی اطاعت اختیار کرو خواہ وہ خلاف مزاج بھی ہو صبر کا معنی اپنے آپ کو روکنا ہے یعنی خلاف پسند بات کو بھی برداشت کرنا اور یہاں مراد گناہ اور نافرمانی سے رکنا ہے۔ نیز حالات کی ناساز گاری پر غلط راستے اختیار کرنے سے رکنا۔ تو پریشانی کا درست اور آسان حل یہ ہے اللہ کی اطاعت اختیار کرکے اس کی مدد طلب کرو اور اللہ کی نافرمانی سے باز آجاؤ تو زمین اس کی اپنی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اقتدار عطا کردیتا ہے یعنی اگر حکومت ظالم یا ناپسندیدہ ہے تو اسے تبدیل کرنے کے لیے بھی ظالمانہ رویہ اپنایا گیا تو ظلم بڑھے گا ختم تو نہ ہوگا لہذا اس کا طریقہ یہ ہے کہ اطاعت الہی اختیار کی جائے تو وہ اقتدار ظالم سے چھین کر مظلوم کو دینے پہ قادر ہے رہی آخرت اور دائمی زندگی تو اس کا فیصلہ ہوچکا کہ وہ صرف نیکوکار لوگوں کا حصہ ہے وہاں بدکاروں کو کچھ نہیں مل سکے گا۔ آئندہ کی خبر : قوم بھی عجیب تھی غالباً کیفیات قلبی کی قیمت سے کماحقہ آشنا نہ تھے اور محض دنیا کے آرام کی بات اکثر کرتے تھے کہنے لگے موسیٰ (علیہ السلام) آپ کے آنے سے کیا فرق پڑا آپ نہیں تھے تو یہ ذلت ہمارا مقدر تھی آپ آئے تو بھی ہم اسی ذلت میں گرفتار ہیں۔ یہاں آپ نے پیشگوئی فرمائی۔ مراد یہ تھی کہ انہیں استقامت نصیب ہو تو نیکی کریں اور گمراہی سے بچیں تو فرمایا عنقریب اللہ تمہارے دشمن کو ہلاک کردے گا اور یہ زمین جس پر تمہارا عرصہ حیات تنگ کیا رہا ہے تمہارے زیر نگیں ہوگی تمہیں اللہ کی طرف سے حکومت نصیب ہوگی مگر انسان کی حکومت تو اللہ کریم کی نیابت و خلافت کا نام ہے کہ وہ پھر تمہیں بھی دیکھے گا کہ تم کون سا رویہ اپنتے ہو یعنی اگر اتقدار میں آ کر تم نے بھی غلط روش اختیار کی تو تم بھی تباہی کو آواز دینے والے ہوگے۔ اقتدار بہت بڑا امتحان ہوتا ہے : اس لیے کہ اقتدار و اختیار عطا فرما کر اللہ کریم یہ امتحان لیتے ہیں کہ خلافت یعنی اللہ کریم کے حکم کے مطابق کام کرتا ہے یا اپنی پسند کو نافذ کرتا ہے اور حدیث پاک کے مطابق ہر شخص حکمران ہے کوئی بڑا کوئی چھوٹا کسی کا اقتدار ملک پر ہے تو کسی کا خاندان پر یا کم از کم اپنے وجود پر لہذا سب ہی اپنی حیثیت کے مطابق جوابدہ ہوں گے اور غلط کار عذاب الہی کی گرفت میں آجائیں گے۔