Ayahs 7:73–84رکوع نمبر 10 ۔ آیات نمبر 73 تا 84 ۔
اسرار و معارف :
حقیقت دعا :
بات اسی تسلسل میں جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی قدرت کا مالک اور اپنی مخلوق پر بہت زیادہ مہربان بھی ہے اس کی رحمت محتاجوں کو تلاش کرتی ہے اگر کوئی انسان محروم ہے تو اس کی وجہ نزول رحمت میں کمی نہیں خود اس کے دل میں قبولیت کی استعداد میں کمی ہے جیسے حدیث شریف ارشاد ہے کہ لوگ دور دراز سفر کرکے پریشان بالوں پھٹے ہوئے دامنوں اور گرد سے اٹے پاؤں اور چہرہ لے کر پکارتے ہیں یار یارب مگر ان کی دعا سنی نہیں جاتی اس لیے کہ کھانا حرام پہننا حرام ہوتا ہے بعض بےنصیب تو دعا ہی سے محروم ہوتے ہیں اور بعض صورت دعا تو بنا لیتے ہیں مگر حقیقت سے بیخبر یہ دونوں صورتیں محرومی کی ہیں۔ عاد کی ہلاکت اور تباہی کے بعد ثمود جو ان کے چچا ازاد تھے اور عاد ثانی بھی کہلاتے ہیں۔ ان سب زمینوں اور جائدادوں پہ قابض ہوئے پھر سے تعمیر شروع کی اور پہلوں سے بازی لے گئے ان کے تباہ شدہ گھروں پہ اپنے محل تمعیر کیے ساتھ ساتھ فن سنگ تراشی میں ایسا کمال حاصل کیا کہ بڑے پہاڑوں کی عمودی چٹانوں کو کاٹ کر محلات اور مکانوں کی شکل دے دے دروازے ڈیوڑھیاں اور ستون وغیرہ آج تک ان کے فن کے گواہ اور ان کی تباہی پہ داستان عبرت سناتے ہیں جب پھلے پھولے تو مذہبی لٹیروں کا گروہ بھی پیدا ہوا اور تکمیل خواہشات پر مذہبی تقدس کا رنگ چڑھا کر احکام الہی کی جگہ خود ساختہ رسومات کو جاری کردیا اگرچہ عاد اولی کی بات ابھی بہت پرانی نہ ہوئی تھی مگر جب دل اندھے ہوجائیں عبرت کے سامان نظر نہیں آتے چناچہ یہ بھی کفر و شرک اور بد اعمالی میں گرفتار و مبتلا ہوگئے جب دلوں کی دنیا اجڑنے لگی تو ابر کرم پھر برسا اس نے گناہ میں مشغول بندوں کو بھی محرومی کی نذر نہ ہونے دیا اور ان ہی میں سے ان کے بھائی یعنی ہم قوم حضرت صالح (علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز فرمایا پھر سے نغمہ توحید گونجا پھر لا الہ الا اللہ کی حیات آفریں صدا آئی اور انہوں نے قوم کو دعوت دی کہ صرف اللہ کریم کی عبادت اختیار کرو اس لی کہ اس کے سوا کوئی معبود ہے ہی نہیں اور پورے اطمینان اور صبر کے ساتھ یہ پیغام پہنچاتے رہے مگر دل ہی برباد ہوچکے ہوں تو سوائے انکار کے کیا جواب ہوگا عجیب بات ہے صالح (علیہ السلام) نہ گھبرائے دعوت دییتے دیتے بال سفید ہونے لگے مگر قوم تنگ آگئی کہ ان کی بات سنتے سنتے تو کان ہی پک گئے کوئی ایسا طریقہ سوچیں جو ان سے پیچھا چھورا دے چناچہ بڑے غور و فکر کے بعد ایک عجیب اور ان ہونی بات کا مطالبہ کیا چونکہ ان کی معیشت جانوروں اور ریوڑوں پر تھی تو کہنے لگے یہ سامنے جو پہاڑ ہے یہ پھٹ جائے اور اس میں سے ایک اونٹنی نکلے اور وہ دس ماہ کی گابھن بھی ہو جب آپ ایک ایسی ذات کی طرف دعوت دیتے ہیں جو ہر چیز پہ قادر ہے تو اسے کہیں ایسا کردے اگر ایسا ہوگیا تو ہم سب آپ کی بات مان لیں گے حضرت صالح (علیہ السلام) نے دعا کی ایک بہت بڑی چٹان پھٹ کر ایک عظیم الجثہ سانڈنی بر آمد ہوگئی کچھ خوش نصیب تو ایمان لے آئے مگر اکثریت کو مذہب کے نام پر عیش کرنے والے سرداروں نے گمراہ کرلیا اور مختلف تاویلیں گھڑنے لگے۔
نسبت کا اثر :
حضرت نے فرمایا کہ اب تاویلوں کی گنجائش تو نہیں لیکن ایک بات یاد رکھو اس ناقہ کو اللہ سے نسبت ہے یعنی یہ ناقۃ اللہ ہے جیسے بیت اللہ یا عیسیٰ (علیہ السلام) روح اللہ اور یہ اس کی قدرت کا ملہ کا مطہر ہے اس کی حفاظت کرتے رہو اگر یہ تم لوگوں میں موجود رہی تو ہدایت نہ نہ بھی پا سکے عذاب سے ضرور محفوظ رہوگے۔
اور تمہاری لیتی بھی کچھ نہیں وسیع جنگل پڑے ہیں اسے چرنے دو اور یاد رکھو اگر تم نے اسے ختم کردیا تو تم پر عذاب آجائے گا۔
اچھا گھر اللہ کریم کی نعمت ہے :
تم کیوں نہیں سوچتے کہ عاد کی تباہی کیسی دردناک تھی مگر اس کریم نے تمہیں پھر سے آباد کردیا اور ان کا جانشین بنا دیا۔ تمہیں کھنڈروں پر محل تعمیر کردئیے بلکہ ایسی قوت بخشی کہ پہاڑوں تک کو تراش کر مکان بنا لیتے ہو تمہیں چاہئے اس پر شکر ادا کرو یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ اچھا مکان بنانا منع نہیں بلکہ اللہ کا احسان ہے اگر اس پر شکر بھی ادا کرتا رہے ہاں صرف مکانوں کی ہوس میں اللہ ہی سے غافل ہوجانا مناسب نہیں حدیث شریف میں جو ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا گیا ہے اس سے مراد یہی ہے کہ مکانوں اور آرام کی طلب اللہ کی یاد سے غافل نہ کردے اسی لیے یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور اس کا شکر بجا لاؤ اور نافرمانی اختیار کرکے زمین پر تباہی کو دعوت نہ دو پہلے گذر چکا ہے کہ گناہ روئے زمین پر فساد پیدا کرتا ہے۔
مگر ایسے متکبرین جن کی سرداریاں ہی لوگوں کی گمراہی کی وجہ سے تھیں اگر حق پرستی اختیار کرتے تو انہیں بھی بندہ بن کر رہنا پڑتا دوسروں پر ان کی برتری ختم ہوجاتی فوراً آڑے آئے اور مومنین کو جو ان کے خیال کے مطابق بےحیثیت لوگ تھے کہنے لگے کیا تمہیں یقین ہے کہ صالح (علیہ السلام) اللہ کریم کے نبی ہیں یعنی کج بحثی کی راہ اپنائی مگر ان اللہ کے بندوں نے خوب جواب دیا کہ سوال یہ نہیں کہ یہ اللہ کریم کے رسول ہیں یا نہیں یہ بات تو سورج سے زیادہ روشن ہے سوال یہ ہے کہ کون ان کی دعوت قبول کرتا ہے لہذا ہم ان کی دعوت پہ لبیک کہتے ہوئے جو کچھ یہ لائے ہیں اس پہ ایمان لاتے ہیں تو انہوں نے کہا تم مانو ہم ہرگز نہ مانیں گے اس کے ساتھ انہیں اس سانڈنی کو ختم کرنے کی سوجھی کہ یہ ہمیں لاجواب کردیتی ہے اس کا وجود ہی نہ رہنا چاہئے مفسرین نے قصے نقل فرمائے ہیں کہ اس کی خوراک اور پانی وغیرہ سے تنگ آگئے تھے کہ ایک روز وہ لوگ پانی لیتے گلوں کو پلاتے اور ایک دن سارا پانی وہ ناقہ پی جاتی مگر ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ اس نے بچہ دیا تھا اور جتنا پانی پیتی اتنا دودھ دیتی تھی حتی کہ سب لوگ اپنے برتن دودھ سے بھر لیتے۔ بات جو انداز بیان سے ظاہر ہے وہ یہی ہے کہ یہ عظمت باری کی وہ دلیل تھی جس کا مطالبہ خود انہوں نے کیا تھا۔ چناچہ انہوں نے مشورہ کرکے اونٹنی کو مار ڈالا ایک بدبخت نے اس کی ٹانگیں کاٹ دیں اور یوں اسے ختم کردیا۔ اور ساتھ یہ بھی کہا کہ آپ کہتے تھے اس کی وجہ سے عذاب آ کیوں نہیں جاتا اگر آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں تو اللہ سے کہیں عذاب بھیج دے مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اللہ سے خبر لے کر انہیں بتایا کہ کل تمہارے چہرے زرد پرسوں سرخ اور اگلے دن سیاہ ہوجائیں گے پھر تمہیں دوسرا دن دیکھنا نصیب نہ ہوگا اس کا اثر ان پر الٹ ہو اور حضرت صالح (علیہ السلام) کے قتل کے درپے ہوگئے اللہ نے قدرت کاملہ سے ان کی حفاظت فرمائی دوسرے روز واقعی سب کے چہرے زرد تھے توبہ کرنے کی نہ سوجھی کہ دل تباہ ہوچکے تھے دشمنی میں مزید بڑھ گئے کہ یہ سب ان کی وجہ سے ہورہا ہے حتی کہ تین روز بعد زلزلے اور گرج کے عذاب میں مبتلا ہو کر تباہ و برباد ہوگئے اور صالح (علیہ السلام) پھر بھی ان پر اظہار افسوس فرما رہے تھے کہ میں نے تو تمہیں اللہ کریم کی باتیں سنائیں اور تمہارے بھلے کے لیے سنائیں مگر تم ہی اس قدر اندھے ہوچکے تھے کہ بھلا چاہنے والے کو بھی پہچان نہ سکے ان کی بستیوں کے آثار تا حال داستان عبرت سناتے ہیں حدیث شریف میں ہے کہ غزوہ تبوک میں آپ ﷺ نے مقام حجر سے گذرتے ہوئے فرمایا تھا کہ عذاب زدہ بستی میں کوئی داخل نہ ہو نہ ان کے کنوئیں سے پانی لیا جائے اس سے ثابت ہے کہ ہر انسان کا کردار اس کے مسکن کو بھی متاثر کرتا ہے لہذا نیک لوگوں کے ساتھ رہنا بھی سعادت کا سبب ہے جب بدکاروں کے ساتھ قیام بھی خطرے خالی نہیں۔
پھر ان کے بعد لوگ آباد ہوئے زمانہ اپنی رفتار سے چلتا رہا اور آخر پھر انسان گمراہ ہو کر بت پرستی میں مبتلا ہوگیا اللہ سے دور ہو کر ہوائے نفس میں گرفتار ہوا پہلے پہل خواہشات کے بت بنتے ہیں جو نظر نہیں آتے مگر انسان مختلف پردوں میں پوجا انہی کی کرنے لگتا ہے اور بالآخر مجسمہ تراش لیتا ہے ایک بےجان معبود جس کی اپنی کوئی مرضی نہیں ہوتی محض تراشنے والوں کی خواہشات کی تکمیل کا سبب بنتاے ہے لیکن اللہ اتنا کریم ہے کہ اس کی رحمت پھر تھامنے کو بڑھتی ہے چناچہ حضرت لوط (علیہ السلام) کو نبوت عطا فرما کر اس قوم کے پاس بھیجا یہ لوگ بھی موجودہ اردون اور بیت المقدس کے درمیان آباد تھے پانچ بہت بڑے بڑے شہر تھے مفسرین نے ان کے نام بھی گنوائے ہیں مرکزی شہر سدوم تھا جو دار الخلافہ تھا قرآن حکیم نے ان کے مجموعہ کو موتفکات کہا ہے۔
لواطت اور اس کی سزا :
حضرت لوط (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے ان کے ساتھ ہجرت کرکے آئے تھے نبوت سے سرفراز ہو کر ان شہروں کے لیے مبعوث ہوئے اور سدوم میں قیام فرمایا یہ قوم جنسی بےراہ روی کی ذلت میں گرفتار ہوئی حتی کہ ہم جنسی کا بدترین فعل ان میں شروع ہوگیا اس سے پہلے تاریخ انسانی میں اس کا پتہ نہیں ملتا اسی لیے انہوں نے اس پر سخت ترین الفاظ میں گرفت فرمائی کہ کفر و شرک اگرچہ بدترین عمل ہے مگر پہلی قومیں اس میں مبتلا ہوتی رہی ہیں اور تباہ و برباد ہو کر نشان عبرت بن گئیں تم نے اس پر عملی بےراہ روی کا وہ راستہ اپنایا ہے جو تم سے پہلے کسی نے اختیار نہیں کیا یہ فعل ایسا قبیح اور گھناؤنا ہے کہ جانور تک ایسا نہیں کرتے اسی لیے فقہا نے اسے زنا سے بدتر قرار دیا ہے اور امام ابوحنیفہ کے مطابق ایسا کرنے والے کو پہاڑ سے نیچے پھینک کر اس پر پتھر برسائے جائیں کہ قوم لوط بھی زمین دھنسا دی گئی تھی اور آسمان سے پتھر برسے تھے۔ چناچہ لوط (علیہ السلام) نے واضح طور پر گرفت فرمائی کہ تم عورتوں کی بجائے مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو کیا تم اس قدر اندھے ہو کہ تمہیں اس سے گھن نہیں آتی انسانی نسل کی بقا کا مدار جنس پر ہے مگر جنسی بےراہ روی کبھی اعلی انسان پیدا نہیں کرتی اس لیے اللہ کریم نے جنسی ملاپ کے ضابطے اور حدود مقرر فرما دی ہیں جن سے صاف ستھرا معاشرہ وجود پاتا ہے ان حدود کے اندر رہا جائے تو اچھے انسان پید اہوتے ہیں اور اگر کوئی مھض شہوت رانی کے لیے حدود الہی کی پرواہ نہیں کرتا تو زنا کا مرتکب ہوتا ہے جس کو فاحشہ کہا گیا ہے کہ بہت سی خرابیوں کا باعث اور بےحیائی کی بنیاد ہے اور اس پر سخت سزا مقرر فرمائی گئی ہے مگر یہ خلاف فطرت بدکاری تو الفاحشہ کہہ کر ذکر ہوئی یعنی سب فواحشات کا مجموعہ ہے اور انتہائی ظلم ہے تم اس کے مرتکب ہو کر تمام حدود سے بڑھ گئے ہو۔
وطی فی الدبر :
جہاں یہ بہت زیادتی کی بات ہے وہاں اہل تشیع نے عورت کے ساتھ وطی فی الدبر کو حلال قرار دے کر قوم لوط کی طرح ایک خبیث ترین برائی کو نہ صرف بنیاد فراہم کی ہے بلکہ اسے عبادت کا درجہ دے دیا ہے اور اس خباثت کے موجد شیعہ ہیں ان سے قبل کسی قوم میں اس کا نشان نہیں جس طرح قوم لوط مردوں کے آپس میں جنسی اختلاط کی موجد تھی۔
سزا از جنس اعمال ہوتی ہے :
لوگوں کے پاس جواب تو نہ تھا اس لیے اس بات پہ آگئے کہ یہ بڑے پاکباز بن رہے ہیں لہذا ان کو شہروں سے نکال دو رحمت باری کی فراوانی دیکھو کہ کس قدر ظلم میں مبتلا تھے مگر محروم نہ رکھا اپنا نبی مبعوث فرمایا مگر دلوں کی دنیا اس قدر اجڑ چکی تھی کہ شور زمین کی طرح اس میں مزید بگاڑ ہی پیدا ہوا چناچہ عذاب الہی کی گرفت میں آگئے اللہ کا نبی اور اس کا دامن تھامنے والے محفوظ رہے باقی سب لوگ تباہی کا شکار ہوئے اور جس طرح خلاف فطرت برائی کا ارتکاب کرتے تھے اسی قسم کا عذاب بھی نازل ہوا کہ آسمانوں سے ان پر پتھر برسے اور اس تختہ زمین کو تہ تک اکھاڑ کر ان لوگوں سمیت الٹ دیا گیا یہ بھی یاد رہے کہ یہاں قلبی رشتوں کا لحاظ ہے دنیا کے رشتے تو محض نظام عالم کے لیے ہیں لہذا لوط (علیہ السلام) کی بیوی جس کا تعلق ان کافروں سے دل اور ایمان کا تھا باوجود ظاہری قرب کے ساتھ نجات نہ پا سکی بلکہ ان لوگوں کے ساتھ اسی انجام سے دوچار ہوئی جن کے ساتھ قلبی یا ایمانی رشتہ تھا اور محض چند لوگ جن کا قلبی تعلق لوط (علیہ السلام) سے تھا انہیں کوئی گزند نہ ہپنچا۔ ہاں اگر قلبی تعلق بھی ہو اور نسبی تعلق بھی ہو۔ تو نور علی نور۔ ہے مگر یہ بات یاد رہے کہ محض نسبی تعلق کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ لہذا دیکھ لو بدکاروں کا انجام کیسا عبرت ناک ہوا آج تک بھی وہ زمین بدبودار پانی سے بھری کھڑی ہے جسے بحیرہ مردار یا Dead Sea کہتے ہیں اس پانی میں کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا۔ نہ مچھلی نہ مینڈک وغیر۔
Ayahs 7:85–87رکوع نمبر 11 ۔ آیات 85 تا 87 ۔
اسرار ومعارف :
پھر اہل مدین آباد ہوئے یہ قوم بڑھی مفسرین کے مطابق مدین بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے تھے ان کی اولاد بھی اور آبادی بھی مدین ہی کہلائی یہ خوب پھولے پھلے تو نفس نے انہیں دولت جمع کرنے کے لالچ میں مبتلا کردیا چناچہ انہوں نے ناپ تول میں کمی اور لوٹ کھسوٹ کو وطیرہ بنا لیا راستوں پر لوگوں کو لوٹ لیتے یا ناجائز ٹیکس لگا کر دولت بڑھانے کی فکر میں رہتے رحمت باری نے ان کی دستگیری فرمائی اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کو مبعوث فرما دیا ان کی بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) سے رشتہ داری تھی اور مدین والوں کے نسبی بھائی تھے چناچہ انہوں نے عبادت الہی کی طرف دعوت دی کہ اپنی امیدوں کو اسی ذات واحد سے وابستہ کرو اس لی کہ حق یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی بھی عبادت کا مستحق نہیں چونکہ وہی تمہارا رب بھی ہے۔
دوسروں کا حق مارنا حرام ہے :
لہذا اس نے میری نبوت کو تمہارے لیے واضح دلیل بنا دیا ہے کہ جو بھی سیدھا راستہ اپنانا چاہے اس کی راہنمائی کے لیے اللہ کا نبی موجود ہے لہذا ناپ تول میں کمی کرنا چھوڑ دو اور لوگوں کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی نہ کرو مفسرین کے مطابق کسی بھی طرح حق مارنا درست نہیں مال میں ہو یا عزت و ناموس میں یا درجہ کے مطابق احترام نہ کرنا یا جس کی اطاعت واجب ہو اس کی اطاعت نہ کرنا یہ سب باتیں حرام ہیں حتی کہ رکوع و سجود میں جلدی کرتے ہوئے شخص کو دیکھ کر فاروق اعظم نے فرمایا قد طففت یعنی تو نے نماز کا حق مارا ہے۔ اور زمین پر فساد پھیلانے کا باعث نہ بنو جبکہ اللہ کریم نے اس میں ہر طرح کے سامان راحت کو جمع فرما دیا ہے یعنی ظاہر میں بھی عدل کو چھوڑنے سے بگاڑ ہی پیدا ہوتا ہے اور تعلق مع اللہ نہ رہے تو باطنی تباہی آتی ہے لہذا میری دعوت پر ایمان لاؤ کہ یہی بہترین راستہ ہے اور اسی میں تمہاری بھلائی ہے۔
ناروا ٹیکس لگانا درست نہیں :
محض دولت سمیٹنے کے لیے راستوں پر ناجائز ٹیکس لگانا چھوڑ دو اور لوٹ مار سے بھی باز آؤ نیز لوگوں کو ایمان قبول کرنے سے مت روکو کہ گناہ اور کفر کی مصیبت یہ بھی ہے کہ وہ دوسروں کو بھی ایمان لاتا ہوا دیکھ کر برداشت نہیں کرتا اگر دل میں کچھ صلاحیت باقی ہو تو برائی پہ ندامت ہوتی ہے لیکن جب حالت بہت بگڑ جائے تو پھر سب لوگوں کو اپنے جیسا دیکھنے کی تمنا کرتا ہے۔
کثرت مال و اولاد اور حکومت اللہ کی نعمت ہے :
فرمایا وہ وقت یاد کرو جب تم کسی گنتی شمار میں نہ تھے نہ افرادی قوت کے اعتبار سے نہ مالی اور سیاسی وسائل کے اعتبار سے پھر اللہ نے تمہیں ترقی دی مال و منال میں بھی بڑھ گئے اولادیں بڑھیں اور حکومت و سطوت بھی بنی ان سب نعمتوں پر اللہ شکر ادا کرو یاد رکھو یہ سب چیزیں اللہ کی نعمت ہیں اگر شکر ادا کرتے رہو ورنہ یہی چیزیں تمہاری تباہی کا سبب بن جائیں گی دیکھ لو تم سے پہلے قوم نوح ، عاد ، ثمود اور قوم لوط کا کیا انجام ہوا اور کیسے کیسے دردناک عذاب ان پر وارد ہوئے۔
کچھ خوش نصیب ایمان کی دولت سے بہرہ ور ہوئے مگر باقی لوگ مبتلائے کفر ہی رہے اور اپنے جرائم پہ کاربند رہے ساتھ انہیں یہ خیال بھی تھا کہ ایمان لانے والوں نے کیا پایا الٹا دولت سمیٹنے میں ہم سے پیچھے ہی رہ گئے اور ہم عیش کرتے ہیں تو حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ جلد بازی نہ کرو اللہ کریم مہلت ضرور دیتے ہیں مگر ظلم کا انجام بہرحال بہت بڑا ہوتا ہے اور دیکھو اللہ کریم ہی ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کردیں گے وہی بہترین فیصلہ کرنے والے ہیں۔
Ayahs 7:88–93رکوع نمبر 11 ۔ آیات 88 تا 93:
اسرار و معارف :
یہاں پھر وہی نتائج سامنے آئے کہ متکبرین کی جماعت جو اپنی خواہشات کو تقدس کا لبادہ اوڑھائے ہوئے تھی برداشت نہ کرسکی اور کہا میاں شعیب سیدھے سیدھے واپس ہمارے مذہب پر آجاؤ ورنہ تمہیں بھی اور تمہارے ساتھ تم پر ایمان لانے والوں کو بھی شہر سے نکال دیا جائے گا انہوں نے فرمایا عجیب بات ہے۔
رسومات کی برائی :
کبھی مذہب بھی مسلط کیا جاسکتا ہے بھئی ہم نے اسے گمراہی سمجھ کر چھوڑا اور اس پر دلائل ہیں پھر اب تو ہمارے دل کی ایک کیفیت بن چکی ہے کہ وہ کفر سے نفرت کرتا ہے بھلا تم زبردستی کیسے کرسکتے ہو حضرت شعیب (علیہ السلام) تو نبی تھے جن سے کبھی کفر کا ارتکاب ہی ممکن نہیں یہ بات ان مومنین کے اعتبار سے ہو رہی ہے جو ان کے ساتھ تھے دوسری بات یہ ہے کہ اگر ہم واپس تمہارے ساتھ شامل ہوں تو اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ہم عماذ اللہ جھوٹ بولتے رہے اللہ نے ہماری رہنمائی نہیں کی تھی اور یہ پھر بہت بڑا ظلم ہے کہ انسانوں سے بڑھ کر کوئی اللہ پر جھوٹ باندھے یاد رہے خود ساختہ رسومات کو دین یا باعث ثواب بتانا ایسی ہی برائی ہے اور اللہ نے ہمیں اس سے نجات بخشی ہے الحمدللہ یہ اسی کا احسان ہے کہ ہم نے دین قبول کیا اور اس پر قائم ہیں۔
دین سے پھرنا اللہ کی ناراضگی کے باعث ہوتا ہے :
لہذا ہم کبھی دین نہیں چھوڑیں گے۔ ہاں اللہ نہ کرے کوئی ایسی غلطی ہوجائے کہ اللہ کریم ناراض ہو کر نور ایمان سلب کرلیں تو اچھا بھلا دیندار آدمی گمراہی کا شکار ہوجاتا ہے اور اللہ کریم کا علم بہت وسیع ہے لہذا وہ دلوں کے بھید جانتا ہے جب تک انسان کے دل میں بگاڑ نہیں آتا وہ اس کے گناہوں پہ بھی توبہ کی توفیق بخشتا ہے مگر جب دل بگڑتا ہے تو حالات بدل جاتے ہیں اور ہم تو اللہ ہی پہ بھروسہ کیے ہوئے ہیں کہ وہی حق پہ استقامت بھی عطا فرماتا رہے گا۔
آخر دعا مانگی کہ بار الہہ اگر یہ ضرور چاہتے ہیں تو ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے اور حق کو ظاہر فرما کہ تو ہی بہتر فیصلہ کرنے ولا ہے اس لیے اب انہوں نے حق کو باطل ثابت کرنے کی مہم شروع کردی تھی اور مومنین کو گمراہ کرنے پہ سارا زور صرف کر رہے تھے کہتے یہ تھے کہ ہمیں دیکھو عیش کر رہے ہیں بھلا ایمان لا کر تم نے کیا پایا الٹا بظاہر تو نقصان ہی میں رہے نہ دولت سمیٹ سکتے ہو نہ عیاشی کا موقع میسر ہے۔
چنانچہ ان پر عذاب آیا مفسرین کے مطابق سخت گرمی پڑی کسی پل چین نہیں پاتے تھے کہ دیکھا جنگل پر بڑا گھنا بادل امنڈ رہا ہے سب بھاگ کر وہاں جمع ہوگئے تو زمین پر زلزلہ طاری ہوا اور بادل سے آگ برسنے لگی چناچہ سب تباہ برباد ہوگئے یہ حال ہوا کہ شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلانے والے گویا کبھی وہاں تھے ہی نہیں اور حق بات واجح ہوگئی کہ کفر کی راہ اپنانے والے ہی خسارے میں تھے۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حسرت سے فرمایا لوگو میں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور تمہیں بہت نصیحت کی مگر تم نہ جانے اب ایسے بدبختوں پر کوئی کہاں تک افسوس کرے چناچہ مومنین کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور پھر وہیں رہے اکثر انبیاء (علیہم السلام) جن کی قومیں تباہ ہوئیں باقی بچنے والوں کو لے کر مکہ مکرمہ آجاتے تھے اگرچہ بیت اللہ شریف کی عمارت نہ تھی مگر یہ جگہ مہبط تجلیات تھی یہیں رہے بسے اور دفن ہوتے رہے اب بھی مطاف کے نیچے متعدد انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام مدفون ہیں جن کے بارے بجز انکشافات قلبی کوئی ذریعہ جاننے کا نہیں۔
چنانچہ ان پر عذاب آیا مفسرین کے مطابق سخت گرمی پڑی کسی پل چین نہیں پاتے تھے کہ دیکھا جنگل پر بڑا گھنا بادل امنڈ رہا ہے سب بھاگ کر وہاں جمع ہوگئے تو زمین پر زلزلہ طاری ہوا اور بادل سے آگ برسنے لگی چناچہ سب تباہ برباد ہوگئے یہ حال ہوا کہ شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلانے والے گویا کبھی وہاں تھے ہی نہیں اور حق بات واجح ہوگئی کہ کفر کی راہ اپنانے والے ہی خسارے میں تھے۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حسرت سے فرمایا لوگو میں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور تمہیں بہت نصیحت کی مگر تم نہ جانے اب ایسے بدبختوں پر کوئی کہاں تک افسوس کرے چناچہ مومنین کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور پھر وہیں رہے اکثر انبیاء (علیہم السلام) جن کی قومیں تباہ ہوئیں باقی بچنے والوں کو لے کر مکہ مکرمہ آجاتے تھے اگرچہ بیت اللہ شریف کی عمارت نہ تھی مگر یہ جگہ مہبط تجلیات تھی یہیں رہے بسے اور دفن ہوتے رہے اب بھی مطاف کے نیچے متعدد انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام مدفون ہیں جن کے بارے بجز انکشافات قلبی کوئی ذریعہ جاننے کا نہیں۔
چنانچہ ان پر عذاب آیا مفسرین کے مطابق سخت گرمی پڑی کسی پل چین نہیں پاتے تھے کہ دیکھا جنگل پر بڑا گھنا بادل امنڈ رہا ہے سب بھاگ کر وہاں جمع ہوگئے تو زمین پر زلزلہ طاری ہوا اور بادل سے آگ برسنے لگی چناچہ سب تباہ برباد ہوگئے یہ حال ہوا کہ شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلانے والے گویا کبھی وہاں تھے ہی نہیں اور حق بات واجح ہوگئی کہ کفر کی راہ اپنانے والے ہی خسارے میں تھے۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حسرت سے فرمایا لوگو میں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور تمہیں بہت نصیحت کی مگر تم نہ جانے اب ایسے بدبختوں پر کوئی کہاں تک افسوس کرے چناچہ مومنین کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور پھر وہیں رہے اکثر انبیاء (علیہم السلام) جن کی قومیں تباہ ہوئیں باقی بچنے والوں کو لے کر مکہ مکرمہ آجاتے تھے اگرچہ بیت اللہ شریف کی عمارت نہ تھی مگر یہ جگہ مہبط تجلیات تھی یہیں رہے بسے اور دفن ہوتے رہے اب بھی مطاف کے نیچے متعدد انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام مدفون ہیں جن کے بارے بجز انکشافات قلبی کوئی ذریعہ جاننے کا نہیں۔
چنانچہ ان پر عذاب آیا مفسرین کے مطابق سخت گرمی پڑی کسی پل چین نہیں پاتے تھے کہ دیکھا جنگل پر بڑا گھنا بادل امنڈ رہا ہے سب بھاگ کر وہاں جمع ہوگئے تو زمین پر زلزلہ طاری ہوا اور بادل سے آگ برسنے لگی چناچہ سب تباہ برباد ہوگئے یہ حال ہوا کہ شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلانے والے گویا کبھی وہاں تھے ہی نہیں اور حق بات واجح ہوگئی کہ کفر کی راہ اپنانے والے ہی خسارے میں تھے۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حسرت سے فرمایا لوگو میں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور تمہیں بہت نصیحت کی مگر تم نہ جانے اب ایسے بدبختوں پر کوئی کہاں تک افسوس کرے چناچہ مومنین کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور پھر وہیں رہے اکثر انبیاء (علیہم السلام) جن کی قومیں تباہ ہوئیں باقی بچنے والوں کو لے کر مکہ مکرمہ آجاتے تھے اگرچہ بیت اللہ شریف کی عمارت نہ تھی مگر یہ جگہ مہبط تجلیات تھی یہیں رہے بسے اور دفن ہوتے رہے اب بھی مطاف کے نیچے متعدد انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام مدفون ہیں جن کے بارے بجز انکشافات قلبی کوئی ذریعہ جاننے کا نہیں۔
چنانچہ ان پر عذاب آیا مفسرین کے مطابق سخت گرمی پڑی کسی پل چین نہیں پاتے تھے کہ دیکھا جنگل پر بڑا گھنا بادل امنڈ رہا ہے سب بھاگ کر وہاں جمع ہوگئے تو زمین پر زلزلہ طاری ہوا اور بادل سے آگ برسنے لگی چناچہ سب تباہ برباد ہوگئے یہ حال ہوا کہ شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلانے والے گویا کبھی وہاں تھے ہی نہیں اور حق بات واجح ہوگئی کہ کفر کی راہ اپنانے والے ہی خسارے میں تھے۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حسرت سے فرمایا لوگو میں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور تمہیں بہت نصیحت کی مگر تم نہ جانے اب ایسے بدبختوں پر کوئی کہاں تک افسوس کرے چناچہ مومنین کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور پھر وہیں رہے اکثر انبیاء (علیہم السلام) جن کی قومیں تباہ ہوئیں باقی بچنے والوں کو لے کر مکہ مکرمہ آجاتے تھے اگرچہ بیت اللہ شریف کی عمارت نہ تھی مگر یہ جگہ مہبط تجلیات تھی یہیں رہے بسے اور دفن ہوتے رہے اب بھی مطاف کے نیچے متعدد انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام مدفون ہیں جن کے بارے بجز انکشافات قلبی کوئی ذریعہ جاننے کا نہیں۔
چنانچہ ان پر عذاب آیا مفسرین کے مطابق سخت گرمی پڑی کسی پل چین نہیں پاتے تھے کہ دیکھا جنگل پر بڑا گھنا بادل امنڈ رہا ہے سب بھاگ کر وہاں جمع ہوگئے تو زمین پر زلزلہ طاری ہوا اور بادل سے آگ برسنے لگی چناچہ سب تباہ برباد ہوگئے یہ حال ہوا کہ شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلانے والے گویا کبھی وہاں تھے ہی نہیں اور حق بات واجح ہوگئی کہ کفر کی راہ اپنانے والے ہی خسارے میں تھے۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حسرت سے فرمایا لوگو میں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور تمہیں بہت نصیحت کی مگر تم نہ جانے اب ایسے بدبختوں پر کوئی کہاں تک افسوس کرے چناچہ مومنین کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور پھر وہیں رہے اکثر انبیاء (علیہم السلام) جن کی قومیں تباہ ہوئیں باقی بچنے والوں کو لے کر مکہ مکرمہ آجاتے تھے اگرچہ بیت اللہ شریف کی عمارت نہ تھی مگر یہ جگہ مہبط تجلیات تھی یہیں رہے بسے اور دفن ہوتے رہے اب بھی مطاف کے نیچے متعدد انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام مدفون ہیں جن کے بارے بجز انکشافات قلبی کوئی ذریعہ جاننے کا نہیں۔
چنانچہ ان پر عذاب آیا مفسرین کے مطابق سخت گرمی پڑی کسی پل چین نہیں پاتے تھے کہ دیکھا جنگل پر بڑا گھنا بادل امنڈ رہا ہے سب بھاگ کر وہاں جمع ہوگئے تو زمین پر زلزلہ طاری ہوا اور بادل سے آگ برسنے لگی چناچہ سب تباہ برباد ہوگئے یہ حال ہوا کہ شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلانے والے گویا کبھی وہاں تھے ہی نہیں اور حق بات واجح ہوگئی کہ کفر کی راہ اپنانے والے ہی خسارے میں تھے۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حسرت سے فرمایا لوگو میں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور تمہیں بہت نصیحت کی مگر تم نہ جانے اب ایسے بدبختوں پر کوئی کہاں تک افسوس کرے چناچہ مومنین کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور پھر وہیں رہے اکثر انبیاء (علیہم السلام) جن کی قومیں تباہ ہوئیں باقی بچنے والوں کو لے کر مکہ مکرمہ آجاتے تھے اگرچہ بیت اللہ شریف کی عمارت نہ تھی مگر یہ جگہ مہبط تجلیات تھی یہیں رہے بسے اور دفن ہوتے رہے اب بھی مطاف کے نیچے متعدد انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام مدفون ہیں جن کے بارے بجز انکشافات قلبی کوئی ذریعہ جاننے کا نہیں۔
چنانچہ ان پر عذاب آیا مفسرین کے مطابق سخت گرمی پڑی کسی پل چین نہیں پاتے تھے کہ دیکھا جنگل پر بڑا گھنا بادل امنڈ رہا ہے سب بھاگ کر وہاں جمع ہوگئے تو زمین پر زلزلہ طاری ہوا اور بادل سے آگ برسنے لگی چناچہ سب تباہ برباد ہوگئے یہ حال ہوا کہ شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلانے والے گویا کبھی وہاں تھے ہی نہیں اور حق بات واجح ہوگئی کہ کفر کی راہ اپنانے والے ہی خسارے میں تھے۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حسرت سے فرمایا لوگو میں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور تمہیں بہت نصیحت کی مگر تم نہ جانے اب ایسے بدبختوں پر کوئی کہاں تک افسوس کرے چناچہ مومنین کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور پھر وہیں رہے اکثر انبیاء (علیہم السلام) جن کی قومیں تباہ ہوئیں باقی بچنے والوں کو لے کر مکہ مکرمہ آجاتے تھے اگرچہ بیت اللہ شریف کی عمارت نہ تھی مگر یہ جگہ مہبط تجلیات تھی یہیں رہے بسے اور دفن ہوتے رہے اب بھی مطاف کے نیچے متعدد انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام مدفون ہیں جن کے بارے بجز انکشافات قلبی کوئی ذریعہ جاننے کا نہیں۔
چنانچہ ان پر عذاب آیا مفسرین کے مطابق سخت گرمی پڑی کسی پل چین نہیں پاتے تھے کہ دیکھا جنگل پر بڑا گھنا بادل امنڈ رہا ہے سب بھاگ کر وہاں جمع ہوگئے تو زمین پر زلزلہ طاری ہوا اور بادل سے آگ برسنے لگی چناچہ سب تباہ برباد ہوگئے یہ حال ہوا کہ شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلانے والے گویا کبھی وہاں تھے ہی نہیں اور حق بات واجح ہوگئی کہ کفر کی راہ اپنانے والے ہی خسارے میں تھے۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حسرت سے فرمایا لوگو میں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور تمہیں بہت نصیحت کی مگر تم نہ جانے اب ایسے بدبختوں پر کوئی کہاں تک افسوس کرے چناچہ مومنین کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور پھر وہیں رہے اکثر انبیاء (علیہم السلام) جن کی قومیں تباہ ہوئیں باقی بچنے والوں کو لے کر مکہ مکرمہ آجاتے تھے اگرچہ بیت اللہ شریف کی عمارت نہ تھی مگر یہ جگہ مہبط تجلیات تھی یہیں رہے بسے اور دفن ہوتے رہے اب بھی مطاف کے نیچے متعدد انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام مدفون ہیں جن کے بارے بجز انکشافات قلبی کوئی ذریعہ جاننے کا نہیں۔
چنانچہ ان پر عذاب آیا مفسرین کے مطابق سخت گرمی پڑی کسی پل چین نہیں پاتے تھے کہ دیکھا جنگل پر بڑا گھنا بادل امنڈ رہا ہے سب بھاگ کر وہاں جمع ہوگئے تو زمین پر زلزلہ طاری ہوا اور بادل سے آگ برسنے لگی چناچہ سب تباہ برباد ہوگئے یہ حال ہوا کہ شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلانے والے گویا کبھی وہاں تھے ہی نہیں اور حق بات واجح ہوگئی کہ کفر کی راہ اپنانے والے ہی خسارے میں تھے۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حسرت سے فرمایا لوگو میں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور تمہیں بہت نصیحت کی مگر تم نہ جانے اب ایسے بدبختوں پر کوئی کہاں تک افسوس کرے چناچہ مومنین کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور پھر وہیں رہے اکثر انبیاء (علیہم السلام) جن کی قومیں تباہ ہوئیں باقی بچنے والوں کو لے کر مکہ مکرمہ آجاتے تھے اگرچہ بیت اللہ شریف کی عمارت نہ تھی مگر یہ جگہ مہبط تجلیات تھی یہیں رہے بسے اور دفن ہوتے رہے اب بھی مطاف کے نیچے متعدد انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام مدفون ہیں جن کے بارے بجز انکشافات قلبی کوئی ذریعہ جاننے کا نہیں۔
چنانچہ ان پر عذاب آیا مفسرین کے مطابق سخت گرمی پڑی کسی پل چین نہیں پاتے تھے کہ دیکھا جنگل پر بڑا گھنا بادل امنڈ رہا ہے سب بھاگ کر وہاں جمع ہوگئے تو زمین پر زلزلہ طاری ہوا اور بادل سے آگ برسنے لگی چناچہ سب تباہ برباد ہوگئے یہ حال ہوا کہ شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلانے والے گویا کبھی وہاں تھے ہی نہیں اور حق بات واجح ہوگئی کہ کفر کی راہ اپنانے والے ہی خسارے میں تھے۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حسرت سے فرمایا لوگو میں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور تمہیں بہت نصیحت کی مگر تم نہ جانے اب ایسے بدبختوں پر کوئی کہاں تک افسوس کرے چناچہ مومنین کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور پھر وہیں رہے اکثر انبیاء (علیہم السلام) جن کی قومیں تباہ ہوئیں باقی بچنے والوں کو لے کر مکہ مکرمہ آجاتے تھے اگرچہ بیت اللہ شریف کی عمارت نہ تھی مگر یہ جگہ مہبط تجلیات تھی یہیں رہے بسے اور دفن ہوتے رہے اب بھی مطاف کے نیچے متعدد انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام مدفون ہیں جن کے بارے بجز انکشافات قلبی کوئی ذریعہ جاننے کا نہیں۔
چنانچہ ان پر عذاب آیا مفسرین کے مطابق سخت گرمی پڑی کسی پل چین نہیں پاتے تھے کہ دیکھا جنگل پر بڑا گھنا بادل امنڈ رہا ہے سب بھاگ کر وہاں جمع ہوگئے تو زمین پر زلزلہ طاری ہوا اور بادل سے آگ برسنے لگی چناچہ سب تباہ برباد ہوگئے یہ حال ہوا کہ شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلانے والے گویا کبھی وہاں تھے ہی نہیں اور حق بات واجح ہوگئی کہ کفر کی راہ اپنانے والے ہی خسارے میں تھے۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حسرت سے فرمایا لوگو میں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور تمہیں بہت نصیحت کی مگر تم نہ جانے اب ایسے بدبختوں پر کوئی کہاں تک افسوس کرے چناچہ مومنین کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور پھر وہیں رہے اکثر انبیاء (علیہم السلام) جن کی قومیں تباہ ہوئیں باقی بچنے والوں کو لے کر مکہ مکرمہ آجاتے تھے اگرچہ بیت اللہ شریف کی عمارت نہ تھی مگر یہ جگہ مہبط تجلیات تھی یہیں رہے بسے اور دفن ہوتے رہے اب بھی مطاف کے نیچے متعدد انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام مدفون ہیں جن کے بارے بجز انکشافات قلبی کوئی ذریعہ جاننے کا نہیں۔
چنانچہ ان پر عذاب آیا مفسرین کے مطابق سخت گرمی پڑی کسی پل چین نہیں پاتے تھے کہ دیکھا جنگل پر بڑا گھنا بادل امنڈ رہا ہے سب بھاگ کر وہاں جمع ہوگئے تو زمین پر زلزلہ طاری ہوا اور بادل سے آگ برسنے لگی چناچہ سب تباہ برباد ہوگئے یہ حال ہوا کہ شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلانے والے گویا کبھی وہاں تھے ہی نہیں اور حق بات واجح ہوگئی کہ کفر کی راہ اپنانے والے ہی خسارے میں تھے۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حسرت سے فرمایا لوگو میں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور تمہیں بہت نصیحت کی مگر تم نہ جانے اب ایسے بدبختوں پر کوئی کہاں تک افسوس کرے چناچہ مومنین کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور پھر وہیں رہے اکثر انبیاء (علیہم السلام) جن کی قومیں تباہ ہوئیں باقی بچنے والوں کو لے کر مکہ مکرمہ آجاتے تھے اگرچہ بیت اللہ شریف کی عمارت نہ تھی مگر یہ جگہ مہبط تجلیات تھی یہیں رہے بسے اور دفن ہوتے رہے اب بھی مطاف کے نیچے متعدد انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام مدفون ہیں جن کے بارے بجز انکشافات قلبی کوئی ذریعہ جاننے کا نہیں۔
چنانچہ ان پر عذاب آیا مفسرین کے مطابق سخت گرمی پڑی کسی پل چین نہیں پاتے تھے کہ دیکھا جنگل پر بڑا گھنا بادل امنڈ رہا ہے سب بھاگ کر وہاں جمع ہوگئے تو زمین پر زلزلہ طاری ہوا اور بادل سے آگ برسنے لگی چناچہ سب تباہ برباد ہوگئے یہ حال ہوا کہ شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلانے والے گویا کبھی وہاں تھے ہی نہیں اور حق بات واجح ہوگئی کہ کفر کی راہ اپنانے والے ہی خسارے میں تھے۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حسرت سے فرمایا لوگو میں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور تمہیں بہت نصیحت کی مگر تم نہ جانے اب ایسے بدبختوں پر کوئی کہاں تک افسوس کرے چناچہ مومنین کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور پھر وہیں رہے اکثر انبیاء (علیہم السلام) جن کی قومیں تباہ ہوئیں باقی بچنے والوں کو لے کر مکہ مکرمہ آجاتے تھے اگرچہ بیت اللہ شریف کی عمارت نہ تھی مگر یہ جگہ مہبط تجلیات تھی یہیں رہے بسے اور دفن ہوتے رہے اب بھی مطاف کے نیچے متعدد انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام مدفون ہیں جن کے بارے بجز انکشافات قلبی کوئی ذریعہ جاننے کا نہیں۔
چنانچہ ان پر عذاب آیا مفسرین کے مطابق سخت گرمی پڑی کسی پل چین نہیں پاتے تھے کہ دیکھا جنگل پر بڑا گھنا بادل امنڈ رہا ہے سب بھاگ کر وہاں جمع ہوگئے تو زمین پر زلزلہ طاری ہوا اور بادل سے آگ برسنے لگی چناچہ سب تباہ برباد ہوگئے یہ حال ہوا کہ شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلانے والے گویا کبھی وہاں تھے ہی نہیں اور حق بات واجح ہوگئی کہ کفر کی راہ اپنانے والے ہی خسارے میں تھے۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حسرت سے فرمایا لوگو میں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور تمہیں بہت نصیحت کی مگر تم نہ جانے اب ایسے بدبختوں پر کوئی کہاں تک افسوس کرے چناچہ مومنین کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور پھر وہیں رہے اکثر انبیاء (علیہم السلام) جن کی قومیں تباہ ہوئیں باقی بچنے والوں کو لے کر مکہ مکرمہ آجاتے تھے اگرچہ بیت اللہ شریف کی عمارت نہ تھی مگر یہ جگہ مہبط تجلیات تھی یہیں رہے بسے اور دفن ہوتے رہے اب بھی مطاف کے نیچے متعدد انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام مدفون ہیں جن کے بارے بجز انکشافات قلبی کوئی ذریعہ جاننے کا نہیں۔
چنانچہ ان پر عذاب آیا مفسرین کے مطابق سخت گرمی پڑی کسی پل چین نہیں پاتے تھے کہ دیکھا جنگل پر بڑا گھنا بادل امنڈ رہا ہے سب بھاگ کر وہاں جمع ہوگئے تو زمین پر زلزلہ طاری ہوا اور بادل سے آگ برسنے لگی چناچہ سب تباہ برباد ہوگئے یہ حال ہوا کہ شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلانے والے گویا کبھی وہاں تھے ہی نہیں اور حق بات واجح ہوگئی کہ کفر کی راہ اپنانے والے ہی خسارے میں تھے۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حسرت سے فرمایا لوگو میں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور تمہیں بہت نصیحت کی مگر تم نہ جانے اب ایسے بدبختوں پر کوئی کہاں تک افسوس کرے چناچہ مومنین کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور پھر وہیں رہے اکثر انبیاء (علیہم السلام) جن کی قومیں تباہ ہوئیں باقی بچنے والوں کو لے کر مکہ مکرمہ آجاتے تھے اگرچہ بیت اللہ شریف کی عمارت نہ تھی مگر یہ جگہ مہبط تجلیات تھی یہیں رہے بسے اور دفن ہوتے رہے اب بھی مطاف کے نیچے متعدد انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام مدفون ہیں جن کے بارے بجز انکشافات قلبی کوئی ذریعہ جاننے کا نہیں۔
چنانچہ ان پر عذاب آیا مفسرین کے مطابق سخت گرمی پڑی کسی پل چین نہیں پاتے تھے کہ دیکھا جنگل پر بڑا گھنا بادل امنڈ رہا ہے سب بھاگ کر وہاں جمع ہوگئے تو زمین پر زلزلہ طاری ہوا اور بادل سے آگ برسنے لگی چناچہ سب تباہ برباد ہوگئے یہ حال ہوا کہ شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلانے والے گویا کبھی وہاں تھے ہی نہیں اور حق بات واجح ہوگئی کہ کفر کی راہ اپنانے والے ہی خسارے میں تھے۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حسرت سے فرمایا لوگو میں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور تمہیں بہت نصیحت کی مگر تم نہ جانے اب ایسے بدبختوں پر کوئی کہاں تک افسوس کرے چناچہ مومنین کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور پھر وہیں رہے اکثر انبیاء (علیہم السلام) جن کی قومیں تباہ ہوئیں باقی بچنے والوں کو لے کر مکہ مکرمہ آجاتے تھے اگرچہ بیت اللہ شریف کی عمارت نہ تھی مگر یہ جگہ مہبط تجلیات تھی یہیں رہے بسے اور دفن ہوتے رہے اب بھی مطاف کے نیچے متعدد انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام مدفون ہیں جن کے بارے بجز انکشافات قلبی کوئی ذریعہ جاننے کا نہیں۔
چنانچہ ان پر عذاب آیا مفسرین کے مطابق سخت گرمی پڑی کسی پل چین نہیں پاتے تھے کہ دیکھا جنگل پر بڑا گھنا بادل امنڈ رہا ہے سب بھاگ کر وہاں جمع ہوگئے تو زمین پر زلزلہ طاری ہوا اور بادل سے آگ برسنے لگی چناچہ سب تباہ برباد ہوگئے یہ حال ہوا کہ شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلانے والے گویا کبھی وہاں تھے ہی نہیں اور حق بات واجح ہوگئی کہ کفر کی راہ اپنانے والے ہی خسارے میں تھے۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حسرت سے فرمایا لوگو میں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور تمہیں بہت نصیحت کی مگر تم نہ جانے اب ایسے بدبختوں پر کوئی کہاں تک افسوس کرے چناچہ مومنین کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور پھر وہیں رہے اکثر انبیاء (علیہم السلام) جن کی قومیں تباہ ہوئیں باقی بچنے والوں کو لے کر مکہ مکرمہ آجاتے تھے اگرچہ بیت اللہ شریف کی عمارت نہ تھی مگر یہ جگہ مہبط تجلیات تھی یہیں رہے بسے اور دفن ہوتے رہے اب بھی مطاف کے نیچے متعدد انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام مدفون ہیں جن کے بارے بجز انکشافات قلبی کوئی ذریعہ جاننے کا نہیں۔
چنانچہ ان پر عذاب آیا مفسرین کے مطابق سخت گرمی پڑی کسی پل چین نہیں پاتے تھے کہ دیکھا جنگل پر بڑا گھنا بادل امنڈ رہا ہے سب بھاگ کر وہاں جمع ہوگئے تو زمین پر زلزلہ طاری ہوا اور بادل سے آگ برسنے لگی چناچہ سب تباہ برباد ہوگئے یہ حال ہوا کہ شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلانے والے گویا کبھی وہاں تھے ہی نہیں اور حق بات واجح ہوگئی کہ کفر کی راہ اپنانے والے ہی خسارے میں تھے۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حسرت سے فرمایا لوگو میں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور تمہیں بہت نصیحت کی مگر تم نہ جانے اب ایسے بدبختوں پر کوئی کہاں تک افسوس کرے چناچہ مومنین کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور پھر وہیں رہے اکثر انبیاء (علیہم السلام) جن کی قومیں تباہ ہوئیں باقی بچنے والوں کو لے کر مکہ مکرمہ آجاتے تھے اگرچہ بیت اللہ شریف کی عمارت نہ تھی مگر یہ جگہ مہبط تجلیات تھی یہیں رہے بسے اور دفن ہوتے رہے اب بھی مطاف کے نیچے متعدد انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام مدفون ہیں جن کے بارے بجز انکشافات قلبی کوئی ذریعہ جاننے کا نہیں۔
چنانچہ ان پر عذاب آیا مفسرین کے مطابق سخت گرمی پڑی کسی پل چین نہیں پاتے تھے کہ دیکھا جنگل پر بڑا گھنا بادل امنڈ رہا ہے سب بھاگ کر وہاں جمع ہوگئے تو زمین پر زلزلہ طاری ہوا اور بادل سے آگ برسنے لگی چناچہ سب تباہ برباد ہوگئے یہ حال ہوا کہ شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلانے والے گویا کبھی وہاں تھے ہی نہیں اور حق بات واجح ہوگئی کہ کفر کی راہ اپنانے والے ہی خسارے میں تھے۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حسرت سے فرمایا لوگو میں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور تمہیں بہت نصیحت کی مگر تم نہ جانے اب ایسے بدبختوں پر کوئی کہاں تک افسوس کرے چناچہ مومنین کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور پھر وہیں رہے اکثر انبیاء (علیہم السلام) جن کی قومیں تباہ ہوئیں باقی بچنے والوں کو لے کر مکہ مکرمہ آجاتے تھے اگرچہ بیت اللہ شریف کی عمارت نہ تھی مگر یہ جگہ مہبط تجلیات تھی یہیں رہے بسے اور دفن ہوتے رہے اب بھی مطاف کے نیچے متعدد انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام مدفون ہیں جن کے بارے بجز انکشافات قلبی کوئی ذریعہ جاننے کا نہیں۔
چنانچہ ان پر عذاب آیا مفسرین کے مطابق سخت گرمی پڑی کسی پل چین نہیں پاتے تھے کہ دیکھا جنگل پر بڑا گھنا بادل امنڈ رہا ہے سب بھاگ کر وہاں جمع ہوگئے تو زمین پر زلزلہ طاری ہوا اور بادل سے آگ برسنے لگی چناچہ سب تباہ برباد ہوگئے یہ حال ہوا کہ شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلانے والے گویا کبھی وہاں تھے ہی نہیں اور حق بات واجح ہوگئی کہ کفر کی راہ اپنانے والے ہی خسارے میں تھے۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حسرت سے فرمایا لوگو میں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور تمہیں بہت نصیحت کی مگر تم نہ جانے اب ایسے بدبختوں پر کوئی کہاں تک افسوس کرے چناچہ مومنین کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور پھر وہیں رہے اکثر انبیاء (علیہم السلام) جن کی قومیں تباہ ہوئیں باقی بچنے والوں کو لے کر مکہ مکرمہ آجاتے تھے اگرچہ بیت اللہ شریف کی عمارت نہ تھی مگر یہ جگہ مہبط تجلیات تھی یہیں رہے بسے اور دفن ہوتے رہے اب بھی مطاف کے نیچے متعدد انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام مدفون ہیں جن کے بارے بجز انکشافات قلبی کوئی ذریعہ جاننے کا نہیں۔
Ayahs 7:94–99رکوع نمبر 12 ۔ آیات 94 تا 99 ۔
اسرار و معارف :
اللہ رب العزت بہت ہی زیادہ کریم ہیں اس قدر کہ انسانی علوم اندازہ کرنے سے قاصر ہیں یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ جب بھی اور جہاں بھی کوئی نبی مبعوث فرمایا وہاں انسانی ضروریات میں ایک خاص شدت بھی پیدا کردی لوگوں میں اعراض اور بیماریاں پیدا کردیں یا مالی نقصان سے دوچار کردیا کہ پریشان ہو کر اس کے حل کی تلاش میں نکلیں یا کسی ایسی ہستی کو تلاش کریں جو ان مصائب سے نجات دلا دے تو نبی کی دعوت سنیں اور کم از کم ذاتی غرض کے لیے ہی سہی میرے دروازے پہ تو آئیں یعنی ہدایت و گمراہی میں ایک راستہ اختیار کرنے ک امجاز تو انسان کو بنا دیا پھر بھی اس کی رحمت ایسے اسباب پیدا فرماتی رہتی ہے کہ انسان اپنے عجز سے اگاہ ہو کر اللہ کی بارگاہ کی طرف متوجہ ہو اور جیسے کوئی اس طرف متوجہ ہوتا ہے اس کی دستگیری فرمائی جاتی ہے۔ ان کا کرم پھر ان کا کرم ہے ان کے کرم کی بات نہ پوچھو۔
شانِ کریمی :
لیکن اگر کوئی ! اس کے باوجود بھی متوجہ الی اللہ نہیں ہوتا تو پھر مصیبت ختم کردی جاتی ہے اور دکھ راحت سے بدل دیا جاتا ہے حتی کہ مہلت پا کر انسان خوب ترقی کرتا ہے مال و دولت میں یا اختیار واقتدار میں اور عظمت الہی یکسر بھول جاتا ہے کہتا ہے یہ تو زمانے کی عادت ہے صحت و بیماری یا غربت و امارت ہر زمانے میں ساتھ ساتھ رہی ہیں بھلا اس میں یک بد ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے پہلے زمانے کے لوگ بھی تو انہیں حالات سے دو چار تھے یا پھر یہ سوچتا ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد کے پاس یہ قابلیت نہ تھی جو ہمارے پاس ہے لہذا وہ مفلسی اور امراض کا شکار رہے اب ہم ترقی کرکے ایسی منزل پر پہنچ گئے ہیں کہ بیماری کا فوری علاج اور آرام کے بیشمار ذرائع۔
اسی ادھیڑ بن میں مصروف ہوتے ہیں کہ اچانک اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوجاتے ہیں کبھی بصورت موت یا اور کبھی فسادات کی لپیٹ میں آ کر کبھی بارشوں سے سیلاب آجاتے ہیں تو کبھی خشک سالی تباہی کا باعث بننے لگتی ہے اور یوں اللہ کی عطمت سے نا آشنا دار آخرت کو سدھارتے ہیں۔
تقوی باعث نزول برکات ہے : اگر یہ لوگ ایمان قبول کرتے اور تقوی اختیار کرتے تو ہم ارض و سما سے ان پر نعمتوں کے دروازے کھول دیتے۔ تقوی کیا ہے غالباً پہلے بھی لکھا جا چکا ہے کہ تقوی دل کی ایک حالت اور کیفیت کا نام ہے جو فیضان نبوت سے نصیب ہوتی ہے اسی لیے تقوی سے پہلے ایمانکا ذکر ہے ایمان کی حقیقت نبی پر اعتماد اور اسی یقین و اعتماد کے طفیل قلب نبوت سے جو کیفیات سالک کے دل پر وارد ہوتی ہیں وہ اسے ایسی حالت عطا کردیتی ہیں کہ وہ ذات باری کو اپنے روبرو پاتا ہے اور نافرمانی کی جرات نہیں کرسکتا اگر یہ نعمت نصیب ہوجائے تو ارض و سما سے برکات کے دروازے کھل جاتے ہیں۔
برکت سے کیا مراد ہے :
برکت کیا ہوتی ہے اس سے مراد ایسی فراوانی جس میں آرام و راحت بھی ہو۔ یہ مال اور جان میں بھی ہوتی ہے اور کام اور وقت میں بھی اور اس کی متعدد صورتیں ہوتی ہیں کبھی تو اصل چیز بڑھ جاتی ہے جیسے آپ ﷺ نے ایک برتن میں انگلیاں ڈبو دیں تو اس سے پورا قافلہ سیراب ہوگیا اونٹ اور گھوڑے تک حتی کہ پانی ذخیرہ کرنے والے مشکیزے بھی بھر لیے گئے یہ کبھی چیز تو اتنی ہی رہتی ہے مگر کام اتنا کرجاتی ہے جتنا اس سے چار گنا شے کرسکتی تھی کبھی ایک لقمہ پوری قوت عطا کردیتا ہے اور کبھی معمولی دوا بہت بڑی بیماری سے شفا کا باعث بن جاتی ہے یا تھوڑے سے وقت میں بہت زیادہ کام ہوسکتا ہے اور یہ سب باتیں اہل اللہ کی زندگیوں میں مشاہدہ کی جاسکتی ہیں۔ نیز زمینی اور آسمانی حالات کی موافقت بھی مراد ہے مثلاً ضرورت کے وقت پر اور ضرورت کے مطابق بارشوں کا ہونا فصلوں اور پھلوں کا صحیح اور مناسب ہونا موسمی حالات کا سازگار رہنا نیز اطمینان و سکون نصیب ہونا وغیرہ سب تقوی کے ثمرات ہیں اور اسی دلی کیفیت کو انبیا تقسیم فرماتے ہیں۔ پھر صحابہ اور پھر بعد میں آنے والے افراد میں ایسے ہی لوگ پہنچاتے ہیں جو پہلوں کی صحبت میں بیٹھ کر یہ نعمت حاصل کرتے ہیں۔
دولت مندی انعام بھی ہے اور سزا بھی :
لیکن لوگوں نے انکار کی روش اپنائی تو اپنے اعمال کے نتائج میں گرفتار ہوگئے یعنی وقت کا دامن ہی تنگ ہوگیا بارشیں بےوقت اور باعث تکلیف بن گئیں باوجود مال و دولت کے اچھا کھانا نصیب ہی نہ رہا یا بیشمار دویات کھا کر بھی صحت نصیب نہ ہوئی۔ اسی طرح انصاف سے مھرومی اور مظالم کا شکار ہونا جہلا کا پیشوا اور حاکم کے طور پر مسلط ہوجانا یہ سب اور اس طرح کی موجودہ تکالیف کفار پر بوجہ انکار اور مسلمانوں پر نافرمانی کے سبب مسلط ہورہی ہیں یعنی یہ قانون قدرت ہے کہ تقوی پر آرام و راحت اور گناہ پر بےاطمینانی اور دکھ مرتب ہوتا ہے رہا یہ سوال کہ بدکاروں کو بھی دولت و اقتدار مل جاتا ہے اور نیکی پر بھی ارض و سما سے برکات کا ظہور ہوتا ہے تو کیسے پتہ چلے گا کہ یہ دولت مندی انعام ہے یا سز اعلمائے حق نے بڑی آسان سی پہچان بتائی ہے کہ ہر وہ صورت جس کے ساتھ اللہ کی یاد اور اطاعت نصیب ہو انعام ہے دولت مندی ہو یا افلاس اور ہر وہ حالت جس میں گناہ اور نافرمانی میں گرفتار ہو سزا ہے خواہ حکومت و سلطنت ہی مل جائے نیز انعام کے ساتھ سکون قلبی نصیب ہوتا ہے اور سزا سے دل ویران ہوتا ہے۔
حیرت ہے انسان کس قدر غفلت کا شکار ہے۔ اپنے سے پہلے لوگوں کے حالات جاننے کے باوجود نہیں سوچتے کہ نافرمانی تو تباہی کو دعوت دینا ہے اور ممکن ہے یہ رات کو سو رہے ہوں کہ عذاب الہی کی لپیٹ میں آجائیں یاں دن کے کاروبار اور دوڑ دھوپ میں مصروف ہوں کہ تباہ ہوجائیں کیا ان نتائج سے بےفکر ہوچکے ہیں جو اللہ نے اعمال کے ساتھ مقرر فرم ادئیے ہیں کہ اطاعت باعث برکت ہے اور نافرمانی باعث ہلاکت۔ یاد رکھو ان نتائج سے بےفکر ہونے والے سخت نقصان میں رہتے ہیں۔