7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 7:40–47

اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 7:40 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کرتے رہے ان کے لئے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ بہشت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نکل جائے اور ہم جرم کرنے والوں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں

لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:41 in the Quran reader

ان کے لئے دوزخ سے بچھونا ہے اور اوپر سے اوڑھنا بھی اور اسی طرح ہم ظالموں کو بدلہ دیتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ١٘ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:42 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے ہم کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ کام کا حکم نہیں فرماتے یہی لوگ جنت کے رہنے والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدٰىنَا لِهٰذَا١۫ وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ١ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:43 in the Quran reader

اور ان کے دلوں میں جو غبار تھا ہم اس کو دور کردیں گے ان کے تابع نہریں جاری ہوں گی اور کہیں گے سب خوبیاں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے ہم کو یہاں سکھ پہنچایا اور اگر اللہ ہماری رہنمائی نہ فرماتے تو ہرگز ہماری رسائی نہ ہوتی۔ بیشک ہمارے پروردگار کے پیغمبر حق کے ساتھ تشریف لائے۔ اور ان کو پکار کر کہا جائے گا کہ تمہارے اعمال کے بدلے یہ جنت تم کو عطا کی گئی ہے

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا١ؕ قَالُوْا نَعَمْ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 7:44 in the Quran reader

اور جنت والے دوزخ والوں کو آواز دے کر کہیں گے کہ جو وعدہ ہمارے پروردگار نے ہم سے کیا تھا یقینا ہم نے سچا پایا سو کیا تم نے بھی جو تمہارے پروردگار نے تم سے وعدہ کیا تھا سچا پایا ؟ وہ کہیں گے ہاں۔ تو اس وقت ان کے درمیان ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا کہ ظالموں (غلط کاروں) پر اللہ کی لعنت ہو

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَۘ Open ayah 7:45 in the Quran reader

جو اللہ کی راہ سے روکتے تھے اور اسمیں کجی (کج بحثی) تلاش کرتے تھے اور وہ آخرت سے انکار کرتے تھے

وَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌ١ۚ وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١۫ لَمْ یَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ یَطْمَعُوْنَ Open ayah 7:46 in the Quran reader

اور ان دونوں (جنت اور دوزخ) کے درمیان ایک پردہ (اعراف) ہوگا اعراف پر کچھ لوگ ہوں گے جو سب کو ان کی شکلوں سے پہچان لیں گے اور وہ اہل جنت سے کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو وہ ابھی اس (جنت) میں داخل نہ ہوئے ہوں گے اور وہ اس کی آرزو (امید) رکھتے ہوں گے

وَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۙ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:47 in the Quran reader

اور جب ان کی نگاہیں اہل دوزخ کی طرف پلٹائی جائیں گے تو عرض کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم کو (ان) ظالموں کے ساتھ شامل نہ کیجئے

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 40 تا 47 ۔ اسرار و معارف : دعا پر عدم اعتماد کی وجہ : جو لوگ ہمارے ارشدات کو قبول نہیں کرتے اور اکڑ دکھاتے ہیں ان کا سارا کروفر مھض دکھاوا ہی رہ جاتا ہے کہ ان کے سارے کمالات زیر آسمان ہی رہتے ہیں اور ان پر آسمانوں کے دروازے نہیں کھلتے۔ اور نہ ہی وہ جنت میں داخل ہوسکیں حتی کہ اونٹ سوئی کے ن کے سے گزر جائے یعنی جس طرح یہ امر محال ہے کفار کے لیے دخول جنت بھی محال ہے۔ مفسرین کرام نے آسمانوں کے دروازے نہ کھلنے سے متعدد امور مراد لیے ہیں اول دعا کہ ان کی دعا کو بارگاہ الوہیت تک رسائی کی اجازت نہیں ملتی اور یہ بھی بہت بڑی محرومی ہے غالباً یہ بھی ایک وجہ ہے کہ دعا پر بہت کم لوگ اعتماد رکھتے ہیں یعنی صرف ایسے لوگ اعتماد کرتے ہیں جن کے لیے آسمانوں کے دروازے کھلتے ہیں لوگوں کی اکثریت مادی اسباب ہی پہ پورا بھروسہ رکھتی ہے حالانکہ دعا بھی ایک سبب ہے اور دوسرے تمام اسباب سے زیادہ موثر ہے دوسری بات جو متعدد احادیث کے مضامین سے اخذ کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ موت کے فوراً بعد روح کو آسمانوں سے اوپر لے جا کر بارگاہ الوہیت میں پیش کیا جاتا ہے۔ قبض کرنے والے فرشتے بڑی عزت سے لے کر جاتے ہیں اور ہر آسمان پر اسے عزت دی جاتی ہے تا آنکہ پیش ہو کر بھی مزید عزت سے نوازی جاتی ہے اور اس کے بعد قبر میں حساب و کتاب کا مرحلہ آتا ہے جس کے ک نتیجے میں اس کا رابطہ جنت سے کردیا ہے روشنی خوشبوئیں اور نظارے یہ سب اسے نصیب ہوتا ہے آگے چل کر اپنے مقام پر اس کی تفصیل بھی آئے گی انشاء اللہ مگر کافر ایسا بدبخت ہے کہ موت کے فرشتے بھی ہیبت ناک صورت میں آتے ہیں روح بھی تکلیف دے کر قبض کرتے ہیں اور جب لے کر اوپر جاتے ہیں تو آسمانوں کا دروازہ ہی نہیں کھولا جاتا وہیں رد کردیا جاتا ہے لہذا فرشتے پھینک کر اسے واپس مارتے ہیں اور سوال و جواب کے بعد قبر کا رابطہ جہنم سے کردیا جاتا ہے اور اس کا نامہ اعمال بھی سجین میں رکھا جاتا ہے علیین اور سجین برزخ کے دو حصے ہیں ایک اوپر کو جاتا ہے اور دوسرا زمین سے نیچے کو اوپر والا علیین کہلاتا ہے جو مومنین کا مسکن ہے اور نیچے والا سجین جو کفار یا مبتلائے عذاب لوگوں کا ٹھکانہ ہے اور اپنی اپنی حیثیت کے مطابق نیچے دھنستے چلے جاتے ہیں جہاں نامہ اعمال بھی رکھے جاتے ہیں اور ارواح بھی۔ عدم اطمینان : تیسری حیثیت یہ ہے کہ روح عالم امر سے متعلق ہے جہاں عرش و کرسی اور ہر طرح کی مخلوق کی حد ختم ہوتی ہے وہاں سے عالم امر شروع ہوتا ہے ایمان دل اور روح میں حیات پیدا کرتا ہے پھر عمل صالح اور صحبت صالح اسے عروج بخشتی ہے حتی کہ روح آسمانوں سے اوپر عرش پھر عرش کی منازل سے گذر کر عالم امر سے تعلق قائم کرتی ہے اسی راستے پر چلنے کو سلوک کہا جاتا ہے اور اسی راستے کی منازل سلوک کی منازل کہلاتی ہیں ایمان اور عمل صالح کے ساتھ صحبت صالح کا ذکر اس لیے ضروری ہے کہ از خود روح یہ راستہ طے نہیں کرسکتی صحانہ نے صحبت نبوی سے یہ دولت حاصل کی تابعین نے ان کی صحبت سے اور اسی طرح بعد میں آنے والے پہلوں کی صحبت سے یہ نعمت پاتے رہے مجاہدہ تو طالب خود کرتا ہے مگر راستہ شیخ کے بغیر نہیں پا سکتا اور کفر ایسی مصیبت ہے کہ کافر کی روح پر آسمان کا دروازہ ہی نہیں کھلتا اس لیے عالم بالا کے حقائق پہ کبھی اطلاع پاتا ہے نہ ان سے فیض یاب ہوسکتا ہے اور جب تک روح کو یہ نسبت نصیب نہ ہو نہ دوام ذکر نصیب ہوتا ہے نہ اطمینان قلب اور یہ سب سے بڑی محرومی ہے یہ اتنی سخت سزا انہیں کیوں دی گئی ہے فرمایا یہ ان کے جرم کفر پر مرتب ہونے والا فطری نتیجہ ہے اگر وہ بھی کفر سے توبہ کرلیتے تو تمام مدار ج کو پانے کی استعداد ان میں بھی تھی مگر انہوں نے زیادتی کی اور فطری استعداد کو کھودیا جہنم کا راستہ اختیار کیا جہاں نہ صرف سخت اور دردناک عذاب ہوں گے بلکہ اوڑھنا بچھونا دوزخ ہی دوزخ ہوگا انہیں دوزخ ہی سے ڈھانپ بھی دیا جائے گا کہ یہی ان کے ظلم کا ماحصل ہے اور یہی اس کا بدلہ۔ جنت کا راستہ آسان ترین راستہ ہے : اس کے مقابلے میں ایمان قبول کرکے اللہ کے پسندیدہ اعمال اور طرز حیات کو اختیار کرنے والے لوگ کس قدر آسان زندگی پاتے ہیں کہ انہیں کوئی ایسا کام کرنے کا حکم ہی نہیں دیا جاتا جو ان کے بس نہ ہو اور وہ کر نہ سکتے ہوں اس سے زیادہ آسانی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ جو نہیں کرسکتے چھوڑ دو مگر جو کرسکتے ہو وہ اس طریقے سے کرو جس طرقے سے کرنے کا اللہ کریم اور اس کے رسول ﷺ نے حکم دیا ہے ایسے لوگ تو جنت کے باسی ہیں جہاں ہمیشہ رہیں گے کوئی دکھ کوئی رنج کبھی ان کے پاس بھی نہ بھٹکے گا بلکہ بحیثیت انسان دنیا میں دو اچھے انسانوں میں بھی شکر رنجی ہوسکتی ہے اختلاف رائے کا ہونا بھی پایا جاتا ہے ایک دوسرے سے خفا بھی ہوسکتے ہیں مگر جنت ایسی جگہ ہے جہاں داخلے پر دلوں سے تلخیاں ہٹا دی جائیں گی۔ اور صرف محبت ہی ہوگی وہاں کی شادابیاں بھی ان کی پسند کے تابع ہوگی اور وہ وہاں بھی اللہ کا شکر کریں گے اور کہہ اٹھیں گے کہ اے اللہ یہ تیرے ہی احسانات ہیں کہ ہمیں اس مقام رفیع تک پہنچا دیا اگر تو دستگیری نہ فرماتا تو ہم ان عظمتوں تک پہنچ ہی نہ سکتے تھے واقعی تیرے رسول اور انبیاء حق کے ساتھ مبعوث ہوئے تھے یہ سب تیری رحمت کے کرشمے تھے کہ انبیاء مبعوث فرمائے اور ہمیں توفیق اطاعت بخشی در اصل ہدایت بھی اللہ کی طرف سے ہے اور ایمان لانے سے لے کر عملی زدگی اور پھر ابدی زندگی ہیں۔ ہدایت کے مدارج : ہدایت کے مختلف مدارج ہیں چونکہ قرب الہی میں ترقی پانے کا نام ہدایت ہے اس کی کوئی انتہا نہیں اسی لیے ایک عام مسلمان سے لے کر رسول اللہ ﷺ یہی دعا کرتے ہیں اھدنا الصراط المستقیم یہاں تک کہ جنت کا داخہ بھی ہدایت ہی کا مظہر ہے اور وہاں بھی ہر گھڑ ترقی نصیب ہوتی رہے گی لہذا ہدایت یا مقامات سلوک اور کیفیات قرب الہی کی کوئی انتہا نہیں ہاں انہیں یہ کہہ دیا جائے گا کہ یہ جنت تمہاری ہے اس لیے کہ تم نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے وفا کی اور عملی زندگی میں اطاعت اختیار کی۔ اہل جنت اور اہل نار میں مکالمہ : جب جنتی اپنے مقام پر پہنچیں گے تو دوزخ والوں سے جو اپنے کفر کے سبب ہمیشہ کے لیے دوزخی ٹھہرے بات کریں گے ۔ انسان جب دنیا میں آتا ہے تو بدن مکلف بالذات ہوتا ہے اور روح اس کے تابع موت کے بعد برزخ میں روح مکلف بالذات ہوتی ہے اور بدن اس کے تابع میدان حشر میں اور اس کے بعد روح اور بدن برابر مکلف ہوں گے اور روحانی یا مادی آرام ہو یا رنج برابر برابر محسوس کریں گے رو جس طرح مومن جنت میں رہتے ہوئے مسافت بعید سے دوزخ اور اس کے رہنے والوں کو دیکھ سکے گا اسی طرح کافر بھی باوجود دوزخ میں رہنے کے جنت تک کو دیکھ لے گا بات سن سکے گا کر بھی سکے گا یہ دیکھنا مومن میں جذبہ تشکر پیدا کرے گا اور کافر کے لیے مزید حسرت کا سبب ہوگا۔ دنیا میں بصیرت ایمانی : نور ایمان کا کمال یہ ہے کہ مومن یہ نعمت دار دنیا میں حاصل کرسکتا ہے اور یہی انعام کیفیات قلبی سے نصیب ہوتا ہے جو محض دل سے دل کو منتقل ہوتی ہیں سب سے زیادہ قوت انبیاء علیہم الصلوہ والسلام کے قلوب کو نصیب ہوتی ہے جس کے باعث مکالمہ باری سے سرفرازہوتے ہیں برزخ کا دیکھنا فرشتوں سے کلام اور عالم بالا سے اطلاع پانا ہی دین ہی کی اساس ہے اور سارا دین انہی ذرائع سے انبیاء کو موصول ہوتا ہے ایسے ہی مومن نبی کا اتباع کرکے اور کیفیات قلبی حاصل کرکے قوت مشاہدہ اور کشف سے سرفراز ہوتا ہے اسی کو ولایت خاصہ یا بصیرت ایمانی کہا جاتا ہے۔ نبی کو براہ راست نصیب ہوتی ہے ولی اس کی اطاعت سے پاتا ہے نبی غلطی سے پاک ہوتا ہے اور ولی کا مشاہدہ نبی کے ارشاد کے اندر درست ورنہ اسے سمجھنے میں غلطی لگ سکتی ہے اور یہی مومن کو امتیاز ہے کہ وہ اس کمال کو دنیا میں بھی پا سکتا کافر ہرگز نہیں پا سکتا اور آخرت میں تو چونکہ روح بھی برابر محسوسات رکھتی ہوگی وہاں کافر بھی دیکھ سکے گا دنیا میں یہ صرف نور ایمان مجاہد اور صحبت شیخ سے ممکن ہے۔ اعراف : تو اہل جنت اہل نار سے کہیں گے میاں ہم نے تو اللہ کریم کے وعدوں کو کھرا پایا اگرچہ دنیا میں تم لوگ ہمیں مذاق کرتے تھے اور بیوقوف اور جاہل تک کہنے سے نہ چوکتے تھے مگر ہمیں جس بات کا یقین تھا وہ بات ہو کے رہی تم سناؤ تم پہ کیا گزری کیا وہ باتیں جن سے تمہیں دنیا میں خبردار کیا گیا تھا اور انبیاء نے اطلاع دی تھی سچ ثابت ہوئیں کہیں گے۔ بیشک وہی ہوا جو ہمیں بتایا گیا تھا اور انبیاء نے اطلاع دی تھی سچ ثابت ہوئیں۔ کہ ایک ندا دینے والا پکار کر کہے گا ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو جو زندگی بھر دوسروں کو بھی اللہ کی راہ سے روکنے کی سعی کرتے رہے اور اپنی پسند کے غلط راستے تلاش کرتے رہے اور آخرت کا انکار کرتے تھے یعنی گمراہی کا سبب آخرت پہ یقین میں کمی یا اس کا انکار ہے ان کے درمیان جو دیوار یا حد فاصل ہوگی کچھ لوگ ابھی وہاں رکے ہوئے ہوں گے اس جگہ کو اعراف کہا گیا ہے یعنی حد فاصل یا حصار کا وہ حصہ جو اوپر ہے یہ رہنے کا ٹھکانہ نہیں ہے مگر حدیث شریف کے مطابق کچھ لوگ ایسے ہوں گے کہ نور ایمان کے ساتھ گناہوں کا بوجھ بھی ہوگا اور نیکی اور بدی برابر ہوں گی نہ جنت کچھ لوگ ایسے ہوں گے کہ نور ایمان کے ساتھ گناہوں کا بوجھ بھی ہوگا اور نیکی اور بدی برابر ہوں گی نہ جنت میں داخل ہوسکیں اور نہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے وہ پل صراط سے گزر کر اس جگہ ٹھہرجائیں گے جو جنت اور دوزخ کے درمیان حد فاسل ہے نہ اس پر جنت کی نعمت میسر ہے نہ دوزخ کے عذاب کا اثر۔ حدیث شریف کے مطابق آخر کار اللہ کریم انہیں جنت میں داخل فرما دیں گے۔ یہ لوگ دونوں طرف کے لوگوں کو ان کے چہروں سے ہی پہچان رہے ہوں گے اور اہل جنت کو دیکھ کر خوش ہوں گے اور جنت میں داخلے کی دعاوں میں شدت آجائے گی امیدیں باندھ رہے ہوں گے اور اہل جنت کو سلامتی کا پیغام اور مسنون سلام کہیں گے لیکن آنکھ دوسری طرف اٹھے گی اور دوزخ والوں کو دیکھیں گے تو فوراً پکار اٹھیں گے اے اللہ ہمیں ان ظالموں کے ساتھ شامل نہ فرمانا اگرچہ انہیں بھی خوب پہچان رہے ہوں گے مگر غضب الہی سے لرزاں و ترساں پناہ کے طالب ہوں گے۔ انسان کو چاہئے کہ دنیا میں نیک لوگوں کا ساتھ اختیار کرے ۔
Ayahs 7:48–53

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا یَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ قَالُوْا مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 7:48 in the Quran reader

اور اعراف کے رہنے والے ان لوگوں سے پکار کر کہیں گے جن کو ان کے چہروں سے پہچانتے ہوں گے کہ تمہارا اکٹھ تو تمہارے کسی کام نہ آیا اور تم تو بہت اکڑا کرتے تھے

اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ١ؕ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:49 in the Quran reader

کیا یہی لوگ ہیں جن پر تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ اللہ ان پر رحمت نہیں فرمائیں گے (ان کو ارشاد ہوا) جنت میں داخل ہوجاؤ تم کو نہ کوئی ڈر ہوگا اور نہ تمہیں کوئی افسوس ہوگا

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 7:50 in the Quran reader

اور دوزخ کے رہنے والے اہل بہشت کو پکار کر کہیں گے کہ ہم پر تھوڑا پانی ہی ڈال دو یا جو رزق اللہ نے تمہیں عطا فرمایا ہے کچھ اس میں سے (ہمیں بھی دو ) وہ کہیں گے کہ یقینا اللہ نے ان دونوں چیزوں کا کافروں کے لئے منع فرمادیا ہے

الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَهْوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِهِمْ هٰذَا١ۙ وَ مَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 7:51 in the Quran reader

جنہوں نے اپنے دن کو تماشا اور کھیل بنا رکھا تھا اور انہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا جس طرح یہ آج کے دن کے ملنے کو بھولے ہوئے تھے سو اسی طرح آج ہم ان کو بھلا دیں گے اور جیسا یہ ہماری آیات کا (جان بوجھ کر) انکار کیا کرتے تھے

وَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰى عِلْمٍ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:52 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے ان کے پسا کتاب پہنچا دی ہے جس کو ہم نے اپنے علم سے کھول کر بیان فرمادیا ہے اور وہ ذریعہ ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَهٗ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلُهٗ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ۚ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَیَشْفَعُوْا لَنَاۤ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ قَدْ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 7:53 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو اس کے نتیجہ (عذاب) کا انتظار ہے جس روز اس کی حقیقت ظاہر ہوگی اس روز جو لوگ اسے پہلے بھولے ہوئے تھے کہیں گے واقعی ہمارے پروردگار کے پیغمبر سچی باتیں لے کر آئے تھے پس کیا اب کوئی ہمارے سفارشی ہیں کہ وہ ہماری سفارش کریں یا (کیا) ہم واپس جاسکتے ہیں کہ ہم جو کرتے تھے سو اس کے خلاف (نیک) کام کریں ؟ بیشک ان لوگوں نے خود کو خسارے میں ڈال دیا اور جو باتیں یہ تراشا کرتے تھے سب ان سے گم ہوگئیں

رکوع نمبر 6 ۔ آیات 48 ۔ تا۔ 53 اسرار و معارف : جہنم میں پڑے ہوئے بعض لوگوں کو تو ان کی شکلوں تک سے پہچانتے ہوں گے اور دنیا میں ان کے کردار سے واقف ہوں گے جب وہ محض مال و دولت یا اختیار و اقتدار پر نازاں عظمت الہی اور دار آخرت کو بھولے ہوئے تھے نہ صرف یہ بلکہ نیک لوگوں پہ پھبتیاں کہتے تھے کہ انہیں دیکھ ویہ آخرت کے انعامات کی امید میں یہاں عبادات کی مصیبت میں پڑے ہیں اور فقر و فاقہ میں بھی شکر ادا کرتے ہیں دولت و مال مل جائے تو بھی عیش ان کے نصیب میں نہیں بھلا آخرت میں انہیں خاک آرام نصیب ہوگا دنیا والوں کے ساتھ تو یہ چل نہیں سکتے اور چلے ہیں آخرت کو پانے ۔ اہل اعراف ان کی یہ باتیں انہیں یاد دلاتے ہوئے کہیں گے کہ تمہارا مال و زر اور جاہ و اقتدار کا ہوا یہاں تو تمہارے کسی کام نہ آیا بلکہ ناجائز مال اور ناروا اختیارات نے تمہیں تباہ کردیا انہی چیزوں پہ تم اکڑتے تھے اوپر دیکھو کیا یہ وہی لوگ نہیں جن کے بارے تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ ان پر کبھی رحمت الہی متوجہ نہ ہوگی آج تو نہیں رب العزت نے فرما دیا ہے کہ جنت میں داخل ہوجاؤ جو مظہر رضا ہے اور جہاں تمہیں کسی بات کا در نہیں ہوگا کسی نعمت کے زوال کا کوئی اندیشہ نہ ہوگا اور نہ کبھی کوئی غم تمہارے پاس پھٹکے گا۔ رحمت باری کی دلیل : دنیادار محض مال و دولت اور اقتدار کو اللہ کی رضا مندی کی سند بنا لیتا ہے جب کہ یہ دونوں چیزیں ہی اس کے لیے وبال آخرت ثابت ہوتی ہیں اور اسے اطاعت الہی سے بیگانہ کردیتی ہیں ہاں اگر اطاعت الہی کی توفیق نصیب ہوجائے تو یہ رحمت باری کی دلیل ہے اگر اطاعت کے ساتھ رزق حلال اور ایسا اقتدار و اختیار بھی نصیب ہو جس میں احکام الہی پہ نہ صرف خود عمل کرے بلکہ دوسروں سے بھی کروا سکے تو یہ اللہ کا بہت بڑا انعام ہے لیکن محض مال یا اقتدار جو عظمت باری سے بھی بیگانہ کردے غضب الہی کی ایک صورت ہے۔ اہل جہنم بےقرار ہو کر اہل جنت کو پکاریں گے کہ تمہارے قدموں میں تو چشمے جاری ہیں اور باغات رنگارنگ پھلوں سے لائے ہیں چند گھونٹ پانی ہی عطا کردو کہ اندر بارہ آگ ہی آگ ہے شاید کچھ افاقہ نصیب ہو یا کوئی کھانے کی چیز ہی عطا کردو تو وہ کہیں گے یہاں اپنا کچھ نہیں سب اس ما لک کا ہے جس کے خود ہم بھی ہیں اور اس نے یہ چیزیں کافروں سے روک دی ہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ جسمانی رشتے اور محبتیں جنہیں ہم نسبی یا خونی بھی کہتے ہیں محض دنیا میں متاثر کرتے اس لیے کہ ان پر بقائے نسل کا انحصار ہے برزخ کا تعلق بھی ایک طرف دنیا سے اور دوسری طرف آخرت سے ہے وہاں بھی کسی حد تک ان کا اچر رہتا ہے مگر قیام قیامت پہ ان کا اثر ختم ہوجائے گا اور صرف روحانی اور ایمانی روشہ باقی رہے گا ہاں ایمانی رشتے کے بعد اگر دونوں میں جسمانی رشتہ بھی ہوا تو بہت خوب ورنہ کسی کا باپ یا بیٹا بھی جہنم میں ہوا تو اسے اس کا کوئی دکھ نہیں ہوگا ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ قیامت سب رشتے توڑ دے گی سوائے ان دو افراد کے جو محض اللہ کے لیے جمع ہوئے اور اسی کی طلب میں جدا ہوئے۔ مصیبت بدعات کی : اب بات عظمت الہی کی طرف آگئی کہ یہ تو کمزور لوگ تھے معمولی سی دنیا پہ بپھر گئے اللہ کی ذات تو بہت عظیم ہے اس نے اتنی سخت پابندی کیوں لگا دی تو ارشاد ہوتا ہے ان کا جرم صرف یہ نہیں کہ انہوں نے عبادت ترک کردی بلکہ اپنی طرف سے بدعات و رسومات بنا کر انہیں باعث ثواب جانتے تھے اور کھیل تماشے کو دین سمجھ رکھا تھا کھیل اور تماشے سے مراد ایسے کام ہیں جو انسان محض خواہش نفس پر کرتا ہے جیسا کہ گانا بجانا ، دعوتیں اڑانا یا مردوں عورتو کا مل جل کر مذاق وغیرہ کرنا ان سب باتوں کو یہ عبادت کے طور پر اپنائے ہوئے تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ دنیا کی زندگی نے انہیں دھوکے میں ڈال دیا اور انہوں نے کسی بات کی پرواہ ہی نہیں کی بلکہ قیامت کی ملاقات اور بارگاہ الہی کی پیشی تو یہ بھول ہی گئے اگر اس کا خیال ہوتا تو دین نبی سے حاصل کرتے اور اللہ کریم کی اطاعت اختیار کرتے الٹا انہوں نے احکام الہی کا انکار کیا اور جزا چونکہ اعمال کی جنس سے ہوتی ہے لہذا جس طرح یہ ہماری عطمت اور قیامت کی پیشی کو بھول گئے تھے ایسے ہی آج ان کا وجود ہمارے لیے ہے جیسے کوئی بھولی ہوئی چیز جس کی کبھی فکر نہیں کی جاتی۔ ہم نے تو اپنی رحمت ان تک پوری قوت سے پہنچائی اپنا ذاتی کلام نازل فرمایا جو ہر شے اور ہر بات کے بارے حقیقی علم تھا اور پوری پوری رہنمائی بھی کرتا تھا اور سراپا رحمت تھا مگر یہ سب نعمتیں تو ماننے سے تعلق رکھتی تھیں انہوں نے اپنی مرضی اور پسن د سے اس کا انکار کردیا اب یہ جو کچھ بھگت رہے ہیں یہ ان کی اپنی اختیار کردہ راہ کے نتائج ہیں۔ برکات نبوت : یہ جاہل اس انتظار میں رہے کہ دیکھیں جن خطرات سے کتاب الہی نے خبردار کیا ہے کیا وہ سامنے آتے بھی ہیں یا نہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ جب یہ سب کچھ واقع ہوجائے گا تو دار عمل ختم ہوچکا ہوگا بھلا پھر اصلاح کی فرصت کسے نصیب ہوگی نور ایمان کے ساتھ برکات نبوت نصیب ہوں تو یہ یقین حاصل ہوجاتا ہے اور شیخ برکات نبوت کا امین ہوتا ہے لہذا اگر آخرت پہ یقین میں پختگی پیدا ہورہی ہو اور نیک باتوں پہ عمل کی طلب دل میں آجائے تو یہی مقصود ہے اگر یہ نعمت نہ ملے تو محض امور دنیا کے لیے کسی کو پیر بنا لینا اپنے ساتھ دھوکا ہے۔ ربوبیت کا تقاضا : کہ جب سب کچھ سامنے آجائے گا تو آخرت کو بھولنے والے بھی کہہ اٹھیں گے واقعی ہمارے پروردگار کے رسول کی سچائی کے ساتھ مبعوث ہوئے تھے یہاں اللہ کی بجائے رسول کی نسبت صفائی نام رب کی طرف کی گئی ہے کہ انبیاء کی بعثت اس کی شان ربوبیت کا تقاضا ہے جس طرح ابدان کی ضرورت کے لیے بیشمار مادی نعمتیں پیدا فرمائی ہیں ویسے ہی ارواح کی جملہ ضروریات کو انبیاء مبعوث فرما کر پورا کردیا پھر حسرت سے کہیں گے کہ کاش آج کوئی سفارشی ہی کام آجاتا کیونکہ کفر کے لیے شفاعت بھی منع ہوگی یا ہمیں دنیا میں لوٹا دیا جاتا تو جو کچھ کرتے رہے ہیں اس سے توبہ کرلیتے اور اللہ کی اطاعت اختیار کرتے گویا وہ خود بھی اس بات پر گواہ ہوں گے کہ اگر چاہتے تو دنیا میں نیکی بھی کرسکتے تھے مگر انہوں نے بدی کی راہ اختیار کی اور اپنے آپ کو تباہ کرلیا اور جو جھوٹ پسارا مذہب کے نام پہ جوڑا تھا وہ ان کے کسی کام نہ آیا۔ بلکہ الٹا عذاب کا باعث بن گیا۔
Ayahs 7:54–58

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١۫ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُهٗ حَثِیْثًا١ۙ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ١ؕ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ١ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:54 in the Quran reader

بیشک تمہارا پروردگار اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا فرمایا اور پھر عرش پر قائم ہوا رات سے دن کو ڈھانپ دیتا ہے کہ وہ اس کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے اور سورج اور چاند اور ستارے سب اسی کے حکم کے تابع ہیں یاد رکھو ! اللہ ہی کے لئے خاص ہے پیدا کرنا اور حکم کرنا (حکومت کرنا) ، برکت والے ہیں اللہ جو تمام جہانوں کے پروردگار ہیں

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ Open ayah 7:55 in the Quran reader

اپنے پروردگار کو عاجزی سے اور چپکے چپکے پکارو بیشک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتے

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:56 in the Quran reader

اور تم ملک میں اس کی اصلاح ہوجانے کے بعد فساد نہ کرو اور اسے ڈرتے ہوئے اور امید رکھتے ہوئے پکارو بیشک اللہ کی رحمت (خلوص سے) نیکی کرنے والوں کے قریب تر ہے

وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:57 in the Quran reader

اور وہی (اللہ) تو ہے جو اپنی رحمت (بارش) سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری دینے والی بنا کر بھیجتا ہے حتیٰ کہ جب وہ بھاری بادل کو اٹھا لیتی ہیں تو ہم ان کو ایک مردہ زمین کی طرف ہانک دیتے ہیں پھر ہم اس سے پانی برساتے ہیں پھر ہم اس سے ہر طرح کے پھل نکالتے ہیں اسی طرح ہم مردوں کو نکالیں گے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو

وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ۚ وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا١ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:58 in the Quran reader

اور جو ستھری زمین ہوتی ہے اس میں سے اس کے پروردگار کے حکم سے اس کی کھیتی (بھی خوب) نکلتی ہے اور جو خراب (اس کی پیداوار) اگر نکلے بھی تو کم نکلتی ہے ہم اسی طرح شکر کرنے والوں کے لئے آیات کو پھیر پھیر کر بیان فرماتے ہیں

رکوع نمبر 7 ۔ آیات 54 ۔ تا۔ 58: اسرارو معارف : تمہارا رب تو بہت بڑا رحم کرنے والا اور کریم تھا اس نے تمہاری تخلیق سے پہلے تمہاری خاطر ایک بہت بڑا احسان پیدا فرمایا چھ دنوں میں آسمان زمین اور ان کی تخلیقات کو مکمل فرمایا اگرچہ ایک آن میں سب کچھ کرنے پہ قادر تھا مگر عمل میں تدریج ، غور و فکر اور ایک حسن انتظام کو پسند فرما کر انسان کے لیے اس میں بھی راہنمائی فرما دی کہ جلد بازی میں فیصلے نہ کئے جائیں بلکہ تمام امور نہایت غور و فکر سے طے کیے جائیں تاکہ پچھتانا نہ پڑے لہذا دو دن میں زمین بنائی جیسا کہ ارشاد ہے خلق الارض فی یومین۔ پھر دو دن میں اس کی آبادی کا سامان پہاڑ دریا معاون اور نباتات کہ ارشاد ہے۔ قدر فیھا اقواتھا فی اربعۃ ایام۔ اس طرح چار روز ہوگئے اور دو دن میں آسمان درست فرما دئیے اپنی تمام خوبیوں کے ساتھ جیسا کہ مفسرین کرام نے لکھا ہے کہ یہ چھ دن ہوئے اور ساتویں روز کوئی کام نہ ہوا یعنی سب کچھ مکمل تھا ایک سوال کہ جب چاند سورج نہ تھے تو دنوں کا شمار کیسے ہوا تو اس کا بہت عمدہ جواب جو متقدمین نے دیا ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح جنت میں یہ چاند سورج تو نہ ہوں گے مگر دن رات کا شمار ہوگا اسی طرح ان کی تخلیق سے قبل دن رات اللہ کے اپنے علم کے مطابق ہوں گے یہ شب و روز تو اس دنیا کے ہیں یہاں وہ مراد ہوں گے جو علم الہی میں ہیں۔ ربوبیت کے احسانات : مقرر ہیں جیسے آخرت کا ایک دن یہاں کے پچاس ہزار سالوں کے برابر ہوگا وہاں بھی یہ سورج دن کی دلیل نہ ہوگا در اصل یہاں اس بات کی وضاحت مقصود ہے کہ آج یوم حشر جس رب کو پکا رہے ہو وہ تمہارے لیے کس قدر کریم تھا کہ تم نہ تھے اس نے اتنی وسیع کائنات تخلیق فرمائی زمین اور اس کے عجائبات آسمان اور اس کی برکات اور پھر عرش عظیم کو اپنی تجلیات ذاتی کا مہبط قرار دے کر تمہارے لیے اپنا در وا کردیا۔ اس نے شب و روز کا سلسلہ قائم فرما کر ساری تخلیق میں ایک حسن ترتیب اور تمہاری زندگی میں کام و آرام کے اوقات عطا فرمائے سورج چاند ستارے اور ایک وسیع کائنات جو محض اس کی قدرت کاملہ سے اپنے اپنے فریضے کو باقاعدگی سے ادا کر رہی ہے تمہاری خدمت پہ لگا دی آج تک ہر چیز اپنے وقت پر اپنے حصے کی خدمت بجا لا رہی ہے اور یہ بات کتنی صاف ہے کہ ساری مخلوق اسی کی ہے اور اسی کا سب پر حکم بھی ہے نہ اس کے بنانے میں کوئی اس کا شریک کار اور نہ چلانے میں پھر ارشاد ہوا کہ وہ عرش پر قائم ہوا چم استوای علی العرش۔ اس کے معنی تو عام ہیں مگر کیفیت اور حقیقت کا ادراک عقل انسانی سے بالا تر ہے لہذا ایمان لانا واجب ہے اور کیفیت پہ بحچ بدعت کہ صحابہ کرام ایسے سوال رسول اللہ ﷺ سے نہ کیے گھے عرش سے مراد تخت شاہی ہے اور اس کی نسبت رب کریم کی طرف ایسے ہی ہے جیسے کعبہ شریف کی کہ بیت اللہ ہے ہاں عرش کو دعا کا قبلہ بنا دیا اسی لیے دعا میں ہاتھ اٹھائے جاتے ہیں ورنہ تو اس کی ذات ہاں نہیں اور اگر یہ ترتیب نہ ہو تو لوگ بکھر جائیں۔ لہذا عرش عظیم کو اپنی تجلیات کا مہبط بنا دیا اور اسی کا عالم خلق بھی ہے یعنی جہاں تک اجسام مادیہ ہیں اور عرش سے اوپر مجردات لطیفہ یعنی عالم امر بھی اسی کا ہے صوفیہ کے مطابق اس آیہ کریمہ سے دونون عالم چابت ہیں یعنی زیر عرش بھی سب کچھ اسی کا ہے اور بالائے عرش بھی وہی حاکم مطلق ہے لہذا وہ بہت بڑی ذات ہے جو اپنے وجود اپنی ذات اور چبات میں کسی کی محتاج نہیں اور اس کے علاوہ جو بھی سب اس کی مخلوق ہے اور اس کی محتاج۔ ادعوا ربکم۔ 56 تا 58 لہذا اب جبکہ تم اس عالم میں اس کی بیشمار نعمتوں سے فائدہ حاصل کر رہے ہو اور اس کے انعامات سے لطف اندوز ہو رہے تو اب وقت ہے اب اس کو یاد کرو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے ادب کے ساتھ کہ دعا میں بھی حد سے بڑھنا اسے پسند نہیں مچلا جو چیزیں یا امور شرعاً منع ہیں یا عقلا محال ہیں ان کے لیے دعا کرنا یا اپنی طرف سے طریق دعا ایجاد کرنا وغیرہ۔ دعا : لفظ عا طلب حاجات اور عبادات دونوں کو شامل ہے نیز مطلق یاد کرنا بھی مراد ہے یعنی اسے یاد کرتے رہو اسی سے مانگو اور اسی کی عبادت کرو لہذا دعا مانگنے کا ادب یہ ہے کہ بندے کی بات اپنے رب سے ہو اور محض لوگوں کو سنانے کے لیے موٹے موٹے جملے دہرا کر رسم پوری نہ کی جائے جیسا کہ آجکل رواج ہو رہا ہے اور خفیہ یعنی چپکے چپکے عاجزی اور تذلیل کے ساتھ اور یہی طریق عبادت سب سے بہتر ہے جو عبادت پوشیدہ ہوسکتی ہے اسے ظاہر نہ کیا جائے کہ معاملہ بندے اور رب کے درمیان ہے ورنہ تو ریا بن جائیگی۔ ذکر خفی : اور اس سے مرا ذکر الہی بھی ہے جو عجز کے ساتھ اور خفی کیا جائے صوفیائے کرام میں ذکر جہر بھی ہے اور اس کا جواز بھی سنت سے ابت ہے بشرطیکہ نہ ریا ہو اور نہ بہت زیادتی کی دوسروں کو پریشان کرے مگر ذکر خفی کی فضیلت بہرحال ثابت ہے حدیث شریف میں واد ہے۔ خیر الذکر خفی و خیر الرزق ما یکفی۔ یعنی بہترین ذکر خفی ہے۔ اور بہترین رزق جو انسان کا گزارہ کرسکے۔ جن خاص اوقات میں رسول اللہ ﷺ نے جہر کی وضاحت فرما دی مثلاً اذان اقامت جہری نماز میں تلاوت یا تکبیرات وغیرہ وہاں تو جہر ہی ضروری ہے اس کے علاوہ ذکر خفی اولی بھی ہے اور زیادہ نفع بخش بھی۔ نیز ذکر دعا اور عبادات میں حد سے نہ بڑھے یعنی اپنی طرف سے کچھ ایجاد نہ کرے اور نہ رسومات کو راہ دے بلکہ ہر کام میں اتباع رسالت شرط ہے ورنہ حد سے بڑھنے والوں کو اللہ کریم پسند نہیں فرماتے۔ فساد فی الارض : اللہ کریم نے زمین کی ہر طرح درستی فرما دی چاند سورج ستارے اور پہاڑو دریا رویدگی نباتات و جمادات ایک بہت خوبصورت آرام دہ نظام ساری مخلوق کے لیے بنا دیا پھر اس کی باطنی اصلاح فرمائی اپنے نبی اور کتابیں بھیج کر کہ کسی قسم کا ظلم یا کفر و شرک نہ ہو تو اے لوگو تم نافرمانی کرکے اس میں فساد نہ پھیلاؤ اس اپنے اور دوسروں کے لیے تکلیف دہ نہ بناؤ۔ گناہ کا ایک اثر تو یہ ہے کہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہے جو بجائے خود بہت بڑا جرم ہے دوسرا اثر ماحول اور اشیا عالم پر مرتب ہوتا ہے اور ان میں فساد یعنی خرابی پیدا ہونے لگتی ہے جو چیزیں انسان کے آرام کا باعث تھیں اور اسے تکلیف پہنچانان شروع کردیتی ہیں اور یہی کھانا پینا اور روز مرہ استعمال کی اشیاء آرام کی بجائے دکھ کا باعث بن جاتی ہیں اور طرح طرح کے امراض پیدا ہونے لگتے ہیں جب بات اس حد سے بھی بڑھے تو انسان خود دوسرے انسانوں پر ظلم توڑنے لگتا ہے ایک دوسرے کا گلا کاٹ کر خوش ہوتے ہیں آپس میں لڑائی اور تباہی کے درپے ہوتے ہیں ساتھ ہوا پانی مٹی سب مخلوق نقصان پہ تل جاتی ہے طوفان آتے ہیں زمین پھٹتی ہے سمندر آبادیوں پر چڑھ دوڑتے ہیں اور یہ سب کچھ انسانی کردار کا فوری نتیجہ ہوتا ہے ابدی اور ہمیشہ کے لیے رہنے والے نتائج میدان حشر میں سامنے آئیں گے جو ان تمام امور سے بہت زیادہ بھیانک ہوں گے لہذا گناہ کو محض ایک لغزش ہی نہ سمجھا جائے اس کے اثرات پہ نگاہ رکھنا ضروری ہے کہ اول تو خود انسان کے عمل میں فساد پیدا ہوتا ہے پھر اس کی کیفیات باطنی میں فساد پیدا ہوتا ہے اور تیسرے درجے پر نظام عالم متاثر ہوتا ہے اس سب کی ذمہ داری میں خود اس کی ابدی زندگی غضب الہی کا شکار ہو کر رنج الم کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ اللہ کریم اس سے پناہ دے۔ اور اس کا علاج صرف ایک ہے کہ اللہ کو یاد کرتے رہو اس کی نافرمانی سے ڈرتے ہوئے اور اس کی رحمت پر پوری امید کے ساتھ اصل بات عظمت باری کا احساس ہے جو کچر ذکر اور صحبت کاملین سے نصیب ہوتا ہے جب دل کو اللہ کی یاد نصیب ہوجائے تو اپنے سب کاموں کی تعمیل کو اولیت دیتا ہے اگرچہ بعض اوقات لغزش بھی صادر ہوجائے مگر کوشش اطاعت ہی کے لیے کرے تو توبہ کی توفیق نصیب ہوتی ہے جو رحمت الہی کو پالیتی لہذا اللہ کریم کو پکارتے رہو عجز کے ساتھ خفیہ یعنی دل ہی دل میں اپنی کوتاہیوں کا خوف بھی ہو مگر اس کی رحمت پہ امید کامل بھی اس لیے کہ اس کی رحمت محسنین کے ساتھ رہتی ہے۔ محسنین سے مراد وہی لوگ ہیں جنہیں کوئی ذرہ معرفت باری کا نصیب ہوتا ہے اور خلوص دل سے خود کو اللہ کے روبرو زندہ رکھتے یعنی زندگی گزارتے ہیں۔ اس کی رحمت عامہ تو محتاجوں کو تلاش کرتی ہے وہی ذات ہے جو ہواؤں کو چلاتی ہے اور وہاء یں بادلوں کو اٹھا لاتی ہیں لاکھوں گیلن پانی دھواں بن کر ہوا کے دوش پہ سوار ان جگہوں کو تلاش کرلیتے ہیں جو پیاس اور خشکی سے تباہ ہو رہی ہو اور پھر وہی دھواں دوبارہ پانی بننے لگتا ہے اور یوں ٹوٹ کر برستا ہے کہ جل تھل کردیتا ہے مردہ زمین انگڑائیاں لینے لگتی ہے اس میں روئیدگی کے آثار پیدا ہوتے ہیں اور پھر سبزہ اور پھول اس کا ادامن سجا دیتے ہیں مختلف درختوں پہ طرح طرح کے پھل آتے ہیں اور یوں موج حیات رواں دواں ہوجاتی ہے اسی سے یہ بھی سمجھ لو کہ اللہ قادر ہے موت کی وادی میں گم ہونے والوں کو بھی ویسے ہی دوبارہ زندہ کرکے کھڑا کردے گا اس کے لیے کچھ مشکل نہیں اس کی قدرت کاملہ کو دیکھو پانی کہاں ہوا پر سوار ہوسکتا تھا مگر اس نے کردیا اور ایک مستقل نظام بنا دیا کہ مسلس بھاپ بنتی رہے پھر بادل کی صورت دے کر اسے فضا میں چلا دیتا ہے اس میں پانی کی کوئی خبر نہیں لگتی درمیان سے گذرو تو محض ایک دھواں سا ہے مگر یہ محض اتفاقا نہیں اڑ رہا اسے اڑایا جا رہا ہے اور جہاں اللہ چاہیں پہنچا دیتے ہیں پھر اسے پانی بنا کر بارش کی صورت میں برسا دیا جاتا ہے اس سے بھی حیرت انگیز صورت حال زمین کی ہوتی ہے جو ایک طرح سے مردہ ہوچکی ہو پھل پھول تباہ رویدگی ختم چشمے خشک اور ہر طرف گرد اڑتی ہے مگر بارش نوید حیات لاتی ہے تو قدرت کاملہ ذرا ذرا سے بیج کو فصل گھاس بیل درخت بننے کی توفیق عطا فرماتی ہے اور دنوں میں پھر سے حیات لہلہانے لگتی ہے اسی طرح پیوند زمین ہونے والے انسانوں کو بھی پھر سے زندہ کردے گا اس میں جہاں رحمت باری کی وسعت اور اس سے امید رکھنے کی دعوت ہے وہاں یہ نصیحت بھی موجود ہے کہ دوبارہ زندہ ہونا کوئی عجیب بات بات نہیں بلکہ اللہ کی قدرت سے اس کے مظاہر ہمارے روبرو موجود ہیں۔ زمین دل : اس کے ساتھ یہ بات بھی انسانی مشاہدے میں ہے کہ بارش تو ایک سی برستی ہے نتائج زمین کے اختلاف کے باعث مختلف ہوتے ہیں اچھی زمین پھولوں سے بھر جاتی ہے مگر شور اور ناکارہ زمین پر یا تو کچھ اگتا ہی نہیں اور اگر اگے بھی تو بہت ناقص جس سے حیات انسانی کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا یہی حال انسانی قلوب کا ہے کہ ذکر الہی سے روشن دل ہر بات پہ نصیحت حاصل کرتا ہے اور مسلسل قرب الہی پاتا رہتا ہے مگر زمین دل ہی شور ہوجائے تو اللہ کریم کی آیات بھی اسے متاثر نہیں کرپاتیں اور نفع کے احساس تک سے محروم رہتا ہے ورنہ شکر گزار تو ہر آن عطایات سے لطف اٹھاتے ہیں یعنی جن قلوب میں استعداد ہوا نہیں تو مسلسل راہنمائی نصیب ہوتی رہتی ہے اور یہ نعمت بارش کی طرح برست تو سب پر ہے محروم رہنے والوں کے قلوب فائدہ حاصل کرنے کی قابلیت سے محروم ہوتے ہیں۔
Ayahs 7:59–64

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:59 in the Quran reader

بیشک ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا پس انہوں نے فرمایا اے میری قوم ! صرف اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارے لئے کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ بیشک مجھے تمہارے بارے میں ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 7:60 in the Quran reader

(تو) ان کی قوم کے سرداروں نے کہا یقیناً ہم آپ کو صریح غلطی میں مبتلا دیکھتے ہیں

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:61 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا اے میری قوم ! مجھ میں ذرا بھی گمراہی نہیں و لیکن میں جہانوں کے پروردگار کا پیغمبر ہوں

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:62 in the Quran reader

تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:63 in the Quran reader

کیا تم (اس بات پہ) تعجب کرتے ہو کہ تمہاری طرف ایک ایسے بندے کے ذریعے جو تم میں سے ہی ہے تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک نصیحت کی بات آگئی تاکہ وہ تمہیں (انجام بد سے) ڈرائے اور تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ۠ Open ayah 7:64 in the Quran reader

پس ان لوگوں نے ان کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے کو بچا لیا اور جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے ان کو غرق کردیا۔ بیشک وہ اندھے لوگ تھے

رکوع نمبر 8 ۔ آیات 59 ۔ تا۔ 64 ۔ اسرار و معارف : اس تمام بحثت کی علمی صورت جو انسانی زندگی میں پیدا ہوگی ہے وہ بھی انسان کے سامنے ہے جیسے نوح (علیہ السلام) کا قصہ کہ ان کی قوم اللہ کی نافرمانی پہ کاربند ہوگئی مگر اللہ نے انہیں اپنی رحمت سے محروم نہیں فرمایا بلکہ ان میں اپنا رسول مبعوث فرمایا جیسے مردہ زمین پہ ابر رحمت۔ تفسیر مظہری کے مطابق نوح (علیہ السلام) آدم (علیہ السلام) کی آٹھویں پشت میں تھے اور ان سے پہلے زیادہ تر احکام انسانی ضروریات کے متعلق ہی تھے ان کے زمانے تک کفر و شرک بھی پھیل گیا اسی طرح وہ پہلے رسول تھے جنہیں کفر و شرک سے بھی مقابلہ کرنا پڑا۔ حدیث شریف میں واد ہے کہ انہیں چالیس سال کی عمر میں نبوت عطا ہوئی اور طوفان کے بعد ساٹھ برس دنیا میں رہے بعثت سے طوفان بپا ہونے تک ساڑھے نو سو سال تبلیغ فرمائی۔ بعض حضرات نے آپ کا اصلی نام سکن اور بعض نے عبدلاغفار بھی لکھا ہے۔ آپ ہی کے زمانہ میں طوفان نے ساری انسانیت کو غرق کردیا صرف وہ لوگ باقی رہے جو آپ کے ساتھ کشتی میں سوار تھے لہذا بعد کی سب آبادی انہی کی اولاد ہے اس لیے آپ کو آدم ثانی یا آدم اصغر بھی کہا گیا ہے۔ مشرک کی ابتدا : لوگ مال و اولاد کی کثرت پہ نازاں اپنے اپنے خیال کے مطابق زندگی کے مزے لوٹنے لگے اور ساتھ ساتھ کفر و شرک میں مبتلا ہوگئے اس لیے کہ مذہب انسانی مزاج میں ہے جب وہ اللہ کی عظمت سے آنکھیں بند کرلیتا ہے تو کوئی دوسرا کسی بھی نام سے اللہ کی جگہ مقرر کرلیتا ہے یہاں سے شرک کی ابتدا ہوتی ہے مشرک اللہ کے حکم سے تو محروم ہوتا ہے لہذا اپنی خواہشات کے مطابق رسومات کفریہ کو مذہب کا درجہ دے کر اختیار کرتا ہے یہی صورت حال تھی جب نوح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے اور فرمایا لوگو اللہ کے سوا کوئی بھی نہیں جس کی عبادت کی جائے اور غیر اللہ کی عبادت تمہیں تباہی سے دو چار کرے گی تمہارے عقائد و اعمال کے نتیجے میں تو تباہی کا بہت بڑا خطرہ ہے۔ رسومات کا نفع اٹھانے والے : جس قدر رسومات دین کے نام پر قائم کی جاتی ہیں قوم کا ایک خاص طبقہ ان سے ذاتی نفع حاصل کرتا ہے سیادت و قیادت کی صورت میں بھی اور مال و دولت کی شکل میں بھی لہذا وہ طبقہ امیر یا چودھری یا پیشوا اور پیر وغیرہ بن جاتا ہے جب ان رسومات پہ زد پڑتی ہے تو سب سے پہلے ہی لوگ واویلا شروع کرتے ہیں اور کہتے یہ ہیں کہ ان کا رد کرنے والا گمراہ ہوگیا ہے۔ یہی جواب روسائے قوم نے نوح (علیہ السلام) کو دیا کہ آپ گمراہ ہوگئے ہیں اور باپ دادا کی روش کا انکار کر رہے ہیں انہوں نے فرمایا ایسی بات نہیں میں ہرگز گمراہ نہیں ہوں بلکہ مجھے تو رب العلمین نے اپنا رسول اور فرستادہ بنایا ہے۔ رسالت و نبوت تقاضائے ربوبیت ہے : اللہ رب العلمین ہیں اور تمام جہانوں کی تخلیق اور حیات کا حاصل صرف وہ مخلوق ہے جو اللہ کی معرفت پائے اور نعمت عظمی پانے کے لیے نبوت کی ضرورت ہے لہذا اللہ رب العزت نے مجھے یہ بہت ہی اہم فریضہ سونپا ہے میں اپنی بات نہیں منوانا چاہتا اس فکر میں نہ پرو کہ ہماری یا ہمارے باپ دادا کی بات کو رد کرکے اپنی بات کو ہم پر مسلط کرنا چاہتا ہے ہرگز نہیں میں تو بات پہنچانے والا ہوں اور تم تک تمہارے رب کی باتیں پہنچانا میرا فرض منصبی ہے اس لیے کہ جو علم نبی کو براہ راست عطا ہوتا ہے امت اس کو صرف نبی سے حاصل کرسکتی ہے اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں یہ ایسے حقائق اور معرفت کے خزینے ہیں جو مجھے عطا ہوئے ہیں تم کو ان کی ضرورت ہے لہذا میں تمہیں پہنچانا چاہتا ہوں اس میں حیران ہونے کی کوئی وجہ نہیں کہ تم ہی میں سے ایک شخص کو اللہ نے نبی بنا دیا یہ تو اس کی اپنی عطا ہے مگر یہ بھی یاد رکھو کہ جب مبعوث انسانوں کی طرف فرمائے جاتے ہیں تو نبی بنائے بھی انسانوں ہی میں سے جاتے ہیں تاکہ انسان استفادہ کرسکیں اور یہ نبی کا کام ہے کہ خطرات سے ہر وقت مطلع کردے یعنی عقاید و اعمال کے وہ اثرات جو تمہاری نگاہوں سے پوشیدہ ہیں اور وہ بھی جو آخرت کو ظاہر ہوں گے اور یہ سب صرف اس لیے ہوتا ہے کہ لوگ اللہ کی رحمت کو پا لیں اپنے عقائد و اعمال میں ایسا طریقہ اختیار کریں جو اللہ کو پسند ہو اور اللہ کی طرف سے ہو کہ یہی تقوی ہے اور یہی راستہ دائمی مسرتوں سے ہمکنار کرتا ہے ۔ جس طرح مردہ زمین تک آب حیات سے بھرے بادل پہنچاتا ہے ویسے ہی مردہ دلوں تک نور نبوت کی کرنیں بکھیرتا ہے مگر جو زمین فاسد اور شور ہوچکی ہو اسے بارش سے فائدہ نہیں ہوتا ایسے ہی اعمال کی غلاظت بھی ایک حد پر پہنچ کر دل کی زمین کو شور بنا دیتی ہے پھر نور نبوت سے اس میں اجالے نہیں ہوتے لہذا ان لوگوں نے نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کی ساڑھے نو سو سال اللہ کا پیغام پہنچاتے رہے مگر صرف اسی مرد و زن ایمان لائے بالآخر اعمال کی جزا میں گرفتار ہوئے اور غرق کے عذاب نے آ پکڑ صرف ایمان لانے والے بچ سکے جو نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ان کے علاوہ سب غرق ہو کر تباہ ہوگئے اور وہ لوگ واقعی اندھے ہو رہے تھے آنکھیں تھیں مگر حقائق کو دیکھنا نصیب نہ تھا اپنی خواہشات اور نفس کی لذات نے اندھا کردیا تھا یعنی یہ لوگ دل کے اندھے تھے۔
Ayahs 7:65–72

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 7:65 in the Quran reader

اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو بھیجا تو انہوں نے فرمایا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو تمہارے لیے اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق سو کیا تم ڈرتے نہیں ؟

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 7:66 in the Quran reader

(تو) ان کی قوم کے سرداروں نے جو کافر تھے کہا بیشک ہم آپ کو کم عقلی (بیوقوفی) میں دیکھتے ہیں اور بیشک ہم آپ کو جھوٹے لوگوں میں سمجھتے ہیں

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:67 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا اے میری قوم ! مجھ میں کوئی بےوقوفی نہیں و لیکن میں پروردگار عالم کا پیغمبر ہوں

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ Open ayah 7:68 in the Quran reader

میں تمہیں اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں اور میں تمہارا امانتدار خیرخواہ ہوں

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ١ؕ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْۜطَةً١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:69 in the Quran reader

کیا تم (اس بات سے) تعجب کرتے ہو کہ تمہارے پاس تم میں سے ایک بندے کے ذریعے تمہارے پروردگار کی طرف سے نصیحت پہنچی تاکہ وہ تمہیں (انجام بد سے) ڈرائے اور یاد کرو جب اس نے تمہیں قوم نوح کے بعد جانشین بنایا اور ڈیل ڈول میں تمہیں بڑا بنایا سو اللہ کی نعمتیں یاد کرو تاکہ تم فلاں پاؤ

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَ نَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:70 in the Quran reader

کہنے لگے کیا آپ ہمارے پاس اس لئے آئے ہیں کہ ہم صرف اللہ اکیلے ہی کی عبادت کریں اور جن کو ہمارے آباء و اجداد پوجتے تھے ہم (ان کو) چھوڑ دیں اگر آپ سچے ہیں تو ہم کو جس (عذاب) کی دھمکی دیتے ہیں سو وہ ہم پر لے آئیں

قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ١ؕ اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 7:71 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا بیشک تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے عذاب اور غضب (غصہ) آیا ہی چاہتا ہے۔ کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے (خود) رکھ لیے تھے اللہ نے ان کی کوئی سند نازل نہیں فرمائی پس انتظار کرو یقینا میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 7:72 in the Quran reader

پس ہم نے ان کو اور جو لوگ ان کے ساتھ تھے ان کو اپنی رحمت سے نجات بخشی اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ہم نے ان کی جڑ کاٹ دی اور وہ ایمان لانے والے نہ تھے

رکوع نمبر 9 ۔ آیات 65 ۔ تا۔ 72 اسرار و معارف : توحید : اسی طرح زمین پر آباد ہونے والے لوگ پھلے پھولے اور پھر سے آبادی بڑھی تو نوح (علیہ السلام) کی پانچویں پشت میں عاد جو ان کے بیٹے سام کی اولاد میں سے تھا معروف آدمی گذرا حتی کہ اس کی پوری قوم عاد کہلائی اسی کے دوسرے بھائی کی اولاد ثمود یا عاد ثانی کہلائی مورخین کی مطابق عاد کے دادا کا نام ارم تھا لہذا انہیں عاد ارم بھی کہا گیا ہے جب یہ لوگ خوب آباد ہوگئے اور زمین سونا اگلنے لگی ہر طرح کی فصلیں اور پھل کثرت سے پیدا ہونے لگے پھر یہ تنومند اور بہت قد آور اقوام تھیں غرض ہر طرح کی شان و شوکت نصیب ہوئی تو اللہ کریم سے غافل ہوگئے اور اپنی طاقت اور دولت کے نشے میں بد مست ہو کر کفر و شرک میں مبتلا ہوگئے۔ ان کی باطنی تباہی رحمت ربوبیت کا تقاضا کرتی تھی لہذا اللہ نے ان ہی کے قومی بھائی حضرت ہود (علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز فرمایا حضرت ہود (علیہ السلام) بھی سام کی اولاد میں سے تھے یوں تو نبو تانسانیت ہی کا تاج ہے اور کسی دوسری مخلوق کو یہ نعمت نصیب نہیں ہوئی۔ اس لیے کہ انسان اپنی ہی جنس سے مستفید ہوسکتا ہے مگر یہاں یہ نعمت بھی تھی کہ حضرت ہود (علیہ السلام) قوم عاد ہی سے تھے اور ان کے قومی بھائی بھی تھے لہذا انہوں نے برملا اعلان فرمایا کہ اے میری قوم صرف اللہ کی عبادت کرو اس لیے حقیتاً اس کے علاوہ کوئی بھی تمہارا معبود نہیں توحید باری تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام نے سب سے پہلے بیان فرمائی اور یہ ہر دین کی بنیاد ہے یاد رہے توحید سے مراد مرکز امید کا واحد ہونا ہے ورنہ اقرار محض تو صورت توحید ہی کا ہی ہوگا فرمایا تمہارا تعلق اس قدر بگڑ چکا ہے کہ اب تمہیں اللہ سے حیا نہیں آتی یعنی توحید کا مدار تعلق قلبی پر ہے جسے تقوی کہا گیا ہے اگر یہ ٹوٹ جائے تو انسان کوئی معبود مان لیتا ہے خواہ زبان سے اقرار نہ بھی کرے۔ سرداران قوم ایسے لوگ جنہوں نے مذہب کے نام پر اپنی سرداریاں قائم کر رکھی تھیں تڑپ اٹھے اور کہنے لگے تمہاری باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ تم بیوقوف ہو جن باتوں پہ ہمارے باپ دادا عمل کرتے تھے اور ہماری مشکلات انہی سے حل ہوتی تھیں بیماریاں دور ہوجاتی تھیں سب کام ہو رہے تھے تم نے کہہ دی ا کہ یہ سب غلط ہے یہ تو بہت بڑی جہالت ہے اور اگر ایسا نہیں تو پھر یقیناً تم جھوٹ بول رہے ہو اور محض اپنا کوئی مقصد حاصل کرنا چاہتے ہو۔ آپ نے فرمایا میں ہرگز پاگل نہیں ہوں بھلا جو میں کہتا ہوں کیا یہ بات بجز نبی کسی کے احاطہ علمی میں آسکتی ہے ہرگز نہیں دنیا بھر کے حکما ، فلاسفر اور دانشور مل کر بھی ذات وصفات باری سے آگاہی نہیں پا سکتے ہاں یہ مقام نبوت ہے کہ انبیاء کو اللہ کریم خود تعلیم فرما دیتے ہیں اور میں بھی اللہ کا رسول ہوں اس اللہ کا جو تمام جہانوں کا خالق اور پروردگار ہے میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا صرف وہ باتیں جو اللہ کریم تم سے کرنا چاہتے ہیں مجھے ارشاد فرما دیتے ہیں اور میں تمہیں پہنچا دیتا ہوں نیز صرف بات ہی پہنچانا میرا مقصد نہیں مجھے تم سے پوری ہمدردی بھی ہے میں تمہارے دکھ سکھ کو محسوس بھی کرتا ہوں اور تمہاری بہتری چاہتا ہوں پورے خلوص کے ساتھ کہ میں امین بھی ہوں یعنی انبیاء ہر طرح سے امانتدار ہوتے ہیں بات پہنچانے محنت کرنے اور خلوص دل سے لوگوں کی اصلاح کی تمنا کرنے وغیرہ۔ سب امور میں۔ اب رہی یہ بات کہ تم حیران ہو اللہ کو اگر رسول بنانا تھا تو کسی فرشتے کو بناتا یا ہم ےس کوئی بڑا آدمی ہی بنا دیتا قو م میں سے ایک عام آدمی کو نبوت سے سرفراز کردیا اب وہ ہمیں ہمارے اعمال کے نتائج سے مطلع کر رہا ہے تو اپنے سے پہلے دور کو یاد کرو کیا نوح (علیہ السلام) اسی طرح مبعوث نہ ہوئے تھے کیا ان کی تعلیمات یہی نہ تھیں لوگوں نے انکار کیا تو تباہ ہوگئے او سب کو مٹا کر تمہیں ان کے بعد پھر سے زمین پہ آباد کردیا بلکہ تمہیں جسمانی اعتبار سے ان سے بہت مضبوط اور طاقتور بنا دیا اگر تم سوچنا شروع کرو تو دیکھ تم پر کس قدر انعامات فرمائے ہیں جسمانی طاقت اقتدار مال و دولت اولاد شادابی اور پھلوں کی کثرت اللہ کی ان نعمتوں کو یاد کرو کہ تمہارا بھلا اسی میں ہے تو کہنے لگے آپ کی سب باتوں کا ماحصل یہ ہے کہ ہم ایک اللہ کی بندگی کریں اور جس قدر معبود ہمارے باپ دادوں نے اختیار کیے تھے سب کو چھوڑ دیں یہ نہیں ہوگا اگر اس پہ خفا ہو کر اللہ عذاب نازل کرنا چاہتا ہے اور آپ ہمیں اس عذاب سے ڈرا رہے ہیں تو آپ اسے آنے دیں دیکھا جائے گا مگر ہم کسی عذاب سے ڈر کر رسومات کو ترک نہیں کریں گے۔ اللہ کے غضب کی دلیل : آپ نے فرمایا جب گناہ ایک خاص حد سے بڑھ جاتے ہیں اور اللہ کا غضب نازل ہوتا ہے تو اس کی دلیل یہی ہے کہ توبہ کی توفیق چھن جاتی ہے انسان برائیوں پر شرمندہ ہونے کی بجائے فخر کرنے لگتا ہے یہ نہ صرف غضب ہے بلکہ عذاب کی ایک قسم ہے یعنی یہ صورتحال بجائے خود ایک عذاب ہے جس میں تم لوگ مبتلا ہوچکے ہو۔ کیا یہ عذاب الہی نہیں کہ مفروضہ ناموں کو اپنا حاجت روا ثابت کرنے کے لیے پوری قوت صرف کر رہے ہو نہ کوئی آسمانی کتاب اس کی شہادت دیتی ہے نہ کسی نبی اور رسول نے ایسا کرنے کا حکم دیا محض اپنے اوہام کی بنیاد پر چند دیوی دیوتا یا حاجت روا مقرر کرکے اب تعلیمات نبوت کو بدلنا چاہتے ہو اپنی رسوم کو نہیں بدلتے تو انتظار کرو کیا نتیجہ سامنے آتا ہے میں بھی منتظر ہوں۔ اور پھر وہی ہوا نور نبوت ٹوٹ کے برسا مگر روشنی انہی کو دلوں کو نصیب ہوئی جن میں استعداد باقی تھی جن کی زمین گناہ کے باعث شور ہوچکی تھی وہ تباہ و برباد کردئیے گئے قوم عاد پر ہوا کو ہی بطور عذاب مسلط کردیا گیا جو باعث حیات تھی وہی موت اور تباہی کا سبب بن گئی یہ لوگ بہت بڑے بڑے قد آور اور ان کے مکانات محلات کی صورت میں تھے مگر ہوا نے سب کچھ اکھاڑ پچھاڑ کر تباہ کردیا درخت اکھڑ گئے مکان تباہ ہوگئے اور انسان اور جانور ہوا میں اڑ اڑ کر زمین پر گرتے اور ٹوٹ پھوٹ جاتے تھے ہوا سخت تیز اور چیختی ہوئی تھی مگر جن کے دل روشن تھے حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان کے لیے ایک گھیرا سا بنا دیا اس کے اندر موسم معتدل رہا اور ہوا رحمت باری کی نوید سناتی رہی وہی ہوا جو دائرے سے باہر غضب الہی کا مظہر تھی۔ یہ عذاب ان پر اس وقت آیا جب انہوں نے مسلسل نافرمانی کرکے اپنے قلوب کو ایمان قبول کرنے کی استعداد سے محروم کرلیا اس قدر سیاہی اور تاریکی دلوں پر چھا گئی کہ وہ رحمت باری سے محروم ہو کر غضب کی لپیٹ میں آگئے اسی لیے فرمایا۔ وماکانوا مومنین۔ یعنی وہ ایمان لانے والے تھے ہی نہیں۔