4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 4:135–141

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَ لَوْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ١ۚ اِنْ یَّكُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰى بِهِمَا١۫ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوٰۤى اَنْ تَعْدِلُوْا١ۚ وَ اِنْ تَلْوٗۤا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:135 in the Quran reader

اے ایمان والو ! انصاف کے ساتھ قائم رہو اللہ کے لئے گواہی دینے والے خواہ اپنی ذات پر ہی ہو یا والدین اور رشتہ داروں کے (مقابل) ۔ اگر کوئی امیر ہے یا غریب تو اللہ کو ان سے زیادہ تعلق ہے سو خواہش نفس کی پیروی نہ کرو کہ حق سے ہٹ جاؤ اور اگر تم غلط بیانی کرو یا پہلو تہی کرو تو بلا شبہ اللہ تمہارے سب اعمال کی خبر رکھتے ہیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:136 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ پر اور اس کے پیغمبر پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے پیغمبر پر نازل کی اور جو کتاب پہلے نازل کی تھی ، پر ایمان لاؤ اور جو کوئی اللہ سے کفر کرے اور اس کے فرشتوں سے اور اس کی کتابوں سے اور اس کے پیغمبروں سے اور آخرت کے دن سے تو یقینا وہ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ سَبِیْلًاؕ Open ayah 4:137 in the Quran reader

یقینا جو لوگ ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر ایمان لے آئے پھر کافر ہوگئے پھر کفر میں بڑھتے گئے اور اللہ ایسوں کو ہرگز نہ بخشیں گے اور نہ ان کو سیدھا راستہ دکھائیں گے

بَشِّرِ الْمُنٰفِقِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمَاۙ Open ayah 4:138 in the Quran reader

منافقوں کو اس بات کی خوشخبری دے دیجئے کہ ان کے لئے بڑی دردناک سزا ہے

اِ۟لَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًاؕ Open ayah 4:139 in the Quran reader

جو لوگ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں ، کیا وہ ان سے عزت پانا چاہتے ہیں ؟ تو یقینا ساری (طرح کی) عزت اللہ کے پاس ہے

وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ یُكْفَرُ بِهَا وَ یُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖۤ١ۖ٘ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْكٰفِرِیْنَ فِیْ جَهَنَّمَ جَمِیْعَاۙ Open ayah 4:140 in the Quran reader

اور بیشک اس نے تمہارے لئے (اپنی) کتاب میں یہ (حکم) نازل فرمایا ہے کہ جب تم اللہ کی آیات کے ساتھ کفر ہوتا اور ان کے ساتھ مذاق ہوتا ہوا سنو تو ان لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو یہاں تک کہ وہ اس کے سوا اور طرح کی باتیں کرنے لگیں (ورونہ) یقینا تم بھی ان جیسے ہی ہوجاؤ گے یقینا اللہ منافقوں اور کافروں سب کو دوزخ میں جمع کردیں گے

اِ۟لَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْۤا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ۖ٘ وَ اِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِیْنَ نَصِیْبٌ١ۙ قَالُوْۤا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْكُمْ وَ نَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِیْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:141 in the Quran reader

ایسے لوگ کہ تمہارے حال کا انتظار کرتے ہیں پس اگر اللہ کی طرف سے تمہیں فتح ہو تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے اور اگر کافروں کو (فتح سے) کچھ حصہ ملے تو کہتے ہیں کیا ہم تم پر غالب نہ آنے والے تھے اور تم کو مسلمانوں سے بچا نہ لیا تھا ؟ پس الہل تمہارے درمیان قیامت کے روز فیصلہ کریں گے اور اللہ کافروں کو مسلمانوں پر (اس فیصلہ میں) ہرگز غلبہ نہ دیں گے

رکوع نمبر 20 آیات 135 تا 141: اسرار و معارف یا ایہا الذین آمنوا۔ ۔۔۔ سبیلا۔۔ قیام امن کی تدبیر اور شہادت کی اہمیت : جب بات حقوق کی ہے تو ذاتی طور پر ہو یا خانگی طور پر برادری اور قبیلے کی سطح پر ہو یا قوم و ملک کی سطح پر حقدار تک اس کے حقوق پہنچانے کے لیے امن شرط ہے بدا منی میں یہ سب کام ممکن ہی نہیں اور قیام امن کے لیے انصاف ضروری ٹھہرا۔ اگر انصاف نہیں ہوگا تو مظلوم بھی اپنا غبار کسی نہ کسی راستے نکالیں گے جو یقینا درست راستہ نہ ہوگا جس کے نتیجے میں بدامنی بھی ہوگی اور حقوق بھی مارے جائیں گے اب انصاف کی بنیاد شہادت پر ہے کہ گواہ حق اور کھری بات بیان کردے۔ اور یہ قیام امن اور حقوق کی حفاظت اسلام کا اصل مقصد ہے کہ اللہ کی زمین پہ جو اس قدر خوبصورت آرام دہ اور خدمت گذار بنائی گئی ہے فتنہ و فساد بپا کرکے اللہ کے بندوں کا سکون نہ چھینا جائے بلکہ انسانی حقوق تو اللہ اور اسلام نے کافر سے بھی نہیں چھینے حتے کہ فقہی احکام میں بھی مطلق انسان کا بچا ہوا پانی وغیرہ جو اس نے پی کر بچایا ہو پاک ہے ۔ خواہوہ کافر بھی ہو۔ انسان تو ہے اور قیام امن کی کوشش ہر مسلمان پر فرض ہے جہاں تک اس کا اختیار ہو زبان سے روکے یا ہاتھ سے روک سکے تو روکے یا کم از کم بری مجالس سے علیحدہ ہوجائے لیکن سب سے موثر کوشش وہ شہادت اور گواہی ہے جو ہم کسی امر پہ دیتے ہیں عدالت میں دیں مفتی کے روبرو دیں یا معاشرے میں عوام کے روبرو۔ آئندہ کے فیصلے بہت حد تک اس پہ منحصر ہوتے ہیں۔ اور یہی انصاف کو بنیاد فراہم کرتی ہے۔ بلکہ بعض اوقات عدالت مجبور ہوجاتی ہے کہ شہادتوں کے مطابق جو فیصلہ اسے کرنا پڑتا ہے وہ خود جج کی اپنی مرضی کے مطابق نہیں ہوتا اب اگر شہادت ہی درست نہ ہوگی تو انصاف کی بنیاد گئی انصاف نہیں ہوگا تو حقدار کو اس کا حق نہیں پہنچے گا اور نتیجہ فتنہ و فساد کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا یعنی پورے نظام کو ہلا کر رکھ دے گی سو فرمایا انصاف پر گواہی دو اور اللہ کے لیے دو یعنی صرف اس لیے نہیں کہ تم معاشرے میں اپنا بھرم رکھنے کو سچ بول رہے ہو یا کسی اور غرض سے بلکہ اللہ کے لیے سچ بولو ، اس لیے سچ بولو کہ کل تمہیں ایک عدالت میں پیش ہونا ہے جو خود بھی اس واقعہ کی گواہ ہے تم بھی گواہ ہو ، دیکھو کیا کہہ رہے ہو ؟ یعنی قیام امن کے لیے ایمان شرط ہے ورنہ ایمان کے بغیر جو کوشش کی جاتی ہے سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ ذاتی مفاد سے بالاتر نہیں ہوسکتی ، آدمی کوئی کام بغیر کسی نفع یا لالچ کے کر نہیں سکتا اللہ کے ساتھ ایمان ہے تو اس کی خوشنودی کا لالچ کافی ہے یہی امید سب کام کروا سکتی ہے لیکن اگر ایسا نہیں تو پھر کوئی غرض تو ہونی چاہئے اور ظاہر ہے وہ ذاتی مفاد یا شہرت و اقتدار کے علاوہ کیا ہوسکتا ہے پھر ہر آدمی میں وہ خلوص کہاں سے آئے گا کہ پس دیوار یا زیر زمین بھی قانون کا احترام کرے آج کا مغربی معاشرہ اس بات پہ گواہ ہے کہ وہ اندرون ملک قیامت امن اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے مگر کبھی امن قائم نہیں کرسکتے اس لیے کہ قانون انسان کی آنکھ سے دیکھتا ہے نافذ کرنے والے ادارے کے کان سے سنتا ہے اب وہ زیر زمین یا پس دیوار تو دیکھ نہیں سکتا اس لیے وہاں سب کچھ بلکہ بہت کچھ ہوتا ہے اور قانون کچھ نہیں بگاڑ سکتا امریکہ جیسے ملک کے نیویار شہر میں صرف قتل کی اوسط دو قتل فی منٹ ہے آپ گاڑی سے ذرا غافل ہوئے اور لوگ لے اڑے چند ڈالروں کے لیے آدمی کو گولی کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے باوجود اس کے کہ امریکہ میں قانون کو منوانے کی اور قانون نافذ کرنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے تو وجہ کیا ہے۔ یہی کہ ظاہری کوشش تو ہے اللہ کے ساتھ ایمان نہیں ا سلیے نہ تو ظاہر کوششوں میں خلوص ہوتا ہے نہ دلوں میں خوف خدا ۔ یہ صرف ایمان کا نور ہے اور اللہ کی ذات کا یقین ہے جو پس دیوار بھی ساتھ ہے زیر زمین بھی ساتھ ہے حکومت کا کارندہ رعیت کا آدمی دیکھے نہ دیکھے اللہ تو دیکھ رہا ہے سو اے ایمان والو ! تم سچی اور صاف شہادت دو اور اللہ کے لیے دو اور اس حد تک سچ بولو کہ خواہ وہ شہادت خود تمہارے اپنے خلاف جاتی ہو۔ اپنا ذاتی نقصان ہوتا ہو یا ماں باپ کو نقصان پہنچتا ہو ، یا رشتہ داروں کے خلاف بات بن رہی ہو ایسی کسی بات کو درمیان نہ آنے دو کہ جو نقصان بھی ہوگا اللہ کی ناراضگی سے بہرحال کم ہوگا اور قیام امن اور معاشرے میں حقوق کی حفاظت کا فریضہ اس سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے دیکھو کسی کو امیر سمجھ کر اس سے دب مت جانا یا غریب سمجھ کر اس کے خلاف زیادتی ہرگز نہ کرنا کہ تمہارا تعلق ان لوگوں سے اتنا قریبی نہیں ہے جتنا خود اللہ کا ہے وہ بھی اس کی مخلوق ہیں جب اللہ سچ بولنے اور انصاف قائم کرنے کا حکم دے رہا ہے تو اپنے کسی جرم کی وجہ سے کوئی بھی اس کی زد میں آتا ہو اس سے اور لوگوں سے امیدیں وابستہ نہ کرو کہ وہ بھی اسی اللہ کے محتاج ہیں ، جس کی اطاعت کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے کبھی خواہشات نفس میں پھنس کر انصاف کا خون متہونے دو کہ لالچ یا رعب میں آکر ٹیڑھی میڑھی اور الجھی ہوئی بات کرو یا جاننے کے باوجود شہادت دینے سے اعراض کرو یعنی دامن بچانے کی کوشش کرو۔ ایسا کبھی نہ کرنا کہ ایسا کرنے سے ان بنیادی حقائق کا خون ہوگا جو اسلام کے مقاصد میں داخل ہیں یعنی عدل و انصاف کا قیام جس کے لیے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اور اپنے اپنے دائرہ اختیار میں ہر مسلمان جوابدہ ہے ہاں جہاں بات کسی کو سزا دینے یا قانون کو نافذ کرنے کی آتی ہے تو یہ ذمہ داری حکومت کی ہے ہر آدمی قانون کو ہاتھ میں نہیں لے سکتا مگر یہ بات یاد رکھو ! کہ اللہ کریم تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہیں اور کوئی بات ان کی ذات سے اوجھل اور پنہاں نہیں ہے۔ ارشاد ہوتا ہے : اے ایمان والو ! ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور وہ ایسے کہ جو کتاب اللہ نے اپنے رسول ﷺ پر نازل فرمائی ہے اسے مان کر دنیا کو دکھا دو یعنی اسے اپنے اعمال کی بنیاد بناؤ۔ نفع کیا ہوتا ہے اور نقصان کسے کہتے ہیں ؟ اچھا کون ہے اور کون اچھا نہیں ہے ؟ کون بڑا ہے کون چھوٹا ہے ؟ ان باتوں کو بھول جاؤ ! صرف اور صرف ایک بات یاد رکھو کہ اللہ نے اس کتاب میں جو اپنے رسول ﷺ پہ نازل فرمائی ہے کیا حکم دیا ہے اور وہ مان کر یعنی اس پر عمل کرکے ثابت کرو کہ ہم ماننے والے ہیں اور ان کتابوں پہ بھی ایمان رکھو جو پہلے اللہ کریم کی طرف سے نازل ہوچکی ہیں اور یہ دیکھ لو کہ جسے نہ اللہ پر ایمان نصیب ہوا نہ فرشتوں کا اقرار کیا نہ اللہ کی کتابوں کو مانا نہ اللہ کے رسولوں کی تصدیق کرنا نصیب ہوئی اور نہ ہی آخرت کو مان سکا وہ راہ حق سے کس قدر دور چلا گیا واقعی وہ بہت ہی دور بھٹک گیا اتنا دور کہ شاید واپس بھی آسکے کہ جو لوگ اقرار کرتے ہیں پھر انکار کردیتے ہیں پھر ایمان لائے پھر مرتد ہوئے۔ اور کفر و گمراہی میں بڑھتے ہی چلے گئے کہ عموماً منافقین یہود و نصاری میں سے تھے فرمایا پہلے انبیاء پر ایمان لایا پھر اسلام کے نام پر کفر اختیار کیا اب پھر وہی کرتوت دہرائے جس کے نتیجے میں وہ کفر کی دلدل میں دھنستے چلے گئے ایسے لوگوں کو اللہ کریم بخشش اور ہدایت دونوں سے محروم فرما دیتے ہیں یعنی اس قدر برائی کرتے ہیں کہ دلوں میں توبہ کی توفیق ہی نہیں رہتی اور خاتمہ کفر پہ ہوتا ہے ورنہ تو بڑے سے بڑا کافر بھی اگر خلوص سے توبہ کرلے تو اللہ کی مغفرت کے سامنے اس کے کفر یا گناہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ آپ ان منافقین کو بھی خوشخبری دے دیجئے کہ ان کے لیے دردناک عذاب ہے اور منافقت ایسا درخت ہے جس کا پھل ہی اذیت اور تکلیف دینے والا ہے۔ اس عالم میں بھی اور آخرت میں بھی یہی لوگ جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں سے دوستی کرتے ہیں ان سے تعلقات بڑھاتے ہیں پہلے لکھا جا چکا ہے کہ تعلقات کے لیے حدود ہیں کہ کس کے ساتھ کہاں تک تعلق جائز اور درس ہے اب کافر سے ایسا تعلق جس سے اسلام پر یا مسلمانوں پر حرف آتا ہو ہرگز جائز نہیں اور یہ بھی جائز نہیں کہ ان جیسی شکل بنائی جائے اور لباس پہنا جائے صرف اس لئے کہ اس لباس سے تو عزت ہوگی یعنی کوئی بھی حرکت جو مومنین کو چھوڑ کر یا مومن اور اسلام پر کافر کو ترجیح دینے کا باعث بن رہی ہو اور کوئی اس غرض سے اختیار کرے کہ ایسا کرنے سے میں معزز ہوجاؤ گا تو یہ بھی محض وہم ہے ورنہ ہر طرح کی عزت صرف اللہ کے پاس ہے کہ عزت کا مالک وہی ہے اگر آخرت کی اور ابدی عزت کی بات کرو تو اللہ نے ارشاد فرما دیا کہ یہ اللہ کے لیے ہے اللہ کے رسول ﷺ کے لئے ہے اور اللہ کے مومن بندوں کے لیے ہے اب دنیا کی بات کرو تو دنیا در اصل آخرت ہی کا سایہ ہے جن کے لیے آخرت میں عزت مقدر ہوتی ہے انہیں دنیا میں بھی لوگوں کے دلوں پر حکومت نصیب ہوتی ہے اور لوگ خلوص دل سے ان کی عزت کرتے ہیں اور ان کے علاوہ جو لوگ ہوتے ہیں انہیں عزت نصیب ہی نہیں ہوتی ہاں ان کے ساتھ لوگ عزت کی اداکری کرتے ہیں یعنی بظاہر بڑی عزت کرتے ہیں مگر دل سے کبھی اچھا نہیں جانتے یہ سب اللہ کی طرف سے ہے اور تمہارے پاس تو اللہ کی کتاب نازل ہوچکی تم سا خوش نصیب کون ہوگا ہر ہر بات میں تمہاری راہنمائی فرماتی ہے اس بارہ میں بھی ارشاد موجود ہے کہ جو لوگ حکام الہی کا انکار یا ان کے خلاف بات کر رہے ہوں یا ان کا مذاق اڑا رہے ہوں تو ان کے پاس مت بیٹھا کرو ، مت جاؤ ہاں اگر کوئی مجبوری ہے اور ضرور جانا ہے تو اس وقت جاؤ جب وہ کوئی دوسرا کام کر رہا ہو مثلاً جیسے کسی حاکم کے پاس کام کے سلسلہ میں بیٹھ کر وہ شراب پی رہا ہے یا جوا کھیل رہا ہے یا اسلام کے خلاف باتیں کر رہا ہے اور آپ اس لئے برداشت کریں اور پاس جا کر بیٹھیں کہ یہ میرا کام کردے گا تو یہ نہ صرف بیٹھنا حرام ہے بلکہ آپ بھی اسی کی مثل ہیں یعنی منافق تو وہ ہے ہی اور اگر کلمات کفریہ بک دے تو کافر ہونے میں بھی شبہ نہ ہوگا مگر کام کے لالچ میں پاس بیٹھنے والا بھی انہیں لوگوں میں شمار ہوگا ہاں دوسرے وقت عدالت میں یا دفتر میں کام کے سلسلہ میں جانا ہو تو وہاں وہ بھی تو دوسرا کام کر رہا ہوگا۔ جا کر کام کرلو ! ورنہ کفر پہ راضی ہونا بھی کفر ہے اور ایسی بری مجالس کو مٹانا اور ان کی رونق کم کرنا ہر مسلمان کا فریضہ ہے چلو ! جو شخص کچھ بھی نہیں کرسکتا وہ اگر شامل نہ ہو تو ایک آدمی تو کم ہوگا نیز علماء نے یہاں سے اخذ کیا ہے کہ ایسے لوگ جو منشاء نبوی کے خلاف اور سلف صالحین کے خلاف کتاب اللہ کا معنی کرتے ہیں ان کے پاس بیٹھنا اور ان کی بات سننا بھی حرام ہے کہ یہ بھی تحریف معنوی ہے۔ پھری ایس بری مجالس سے تو تنہائی بدرجہا بہتر ہے ہاں دل سے راضی نہیں مگر برداشت کرتا ہے تو کافر نہ ہوگا مگر سخت گناہگار ہوگا اور اگر کسی دنیوی مجبوری ، ملازمت وغیرہ کی وجہ سے مجبور ہے تو اس پر گناہ نہ ہوگا جیسے فوجی ملازم وغیرہ اور ایسے مجمعوں یا اجتماعات میں تبلیغ کے لیے جانا اور دلائل سے ، کردار سے ، اسلام کی فضیلت ثابت کرنا یا ان تک پہنچانا جہاد ہے اور افضل ترین عبادت ہے ورنہ پاس بیٹھنے والا بھی ویسا ہی شمار ہوگا جیسے وہ خود۔ اللہ کریم ان کفار و منافقین کو جو ہمیشہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی فکر میں رہتے ہیں اور موقع تاڑتے رہتے ہیں جب فتح ہوتی ہے تو کہتے ہیں ہم آپ کے ساتھ نہ تھے ہم نے مشورہ نہ دیا تھا اور جنگ میں تو وقت بدلتا رہتا ہے کبھی بظاہر کفار کا پلڑا بھاری نظر آئے تو کہتے ہیں۔ کیا تمہارے بچانے میں ہم نے بہت بڑا کردار ادا نہیں کیا اور مسلمانوں کو سمجھ ہی نہیں آنے دی اور تم لوگ صاف بچ گئے ، خود انہیں بھی تب پتہ چلے گا جب ان کا حشر ہی کافروں کے ساتھ ہوگا بلکہ ان کے ساتھ دوزخ میں ڈالے جائیں گے تب جانیں گے کہ یہ دھوکا مسلمانوں کو نہیں زندگی بھر اپنے آپ کو دیتے رہے اور قیامت کے دن تو یہ فیصلے ہو کر رہیں گے اور یہ بھی اللہ کا وعدہ ہے کہ منافق بھی زور لگالے اور کفار بھی کبھی کفر کو اسلام پہ اور کافروں کو مسلمانوں پر غلبہ نہ دے گا اب اگر خود مسلمان ہی شرط اسلام پہ پورا نہ اترے تو اس میں قصور کسی دوسرے کا نہیں بلکہ مسلمانوں کی بقاء علی الایمان آج بھی اسی میں ہے کہ سب کے سب جہاں ہیں وہاں اپنی سمت درست کرلیں خلوص کے ساتھ توبہ کرکے نبی رحمت ﷺ کی غلامی اختیار کرلیں۔ یا اللہ ! ایسا ہی ہو !
Ayahs 4:142–152

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْ١ۚ وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى١ۙ یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ Open ayah 4:142 in the Quran reader

بیشک منافق اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں اور وہ (اللہ) انہیں دھوکے میں ڈالنے والے ہیں اور جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو بہت سست ہو کر کھڑے ہوتے ہیں (صرف) لوگوں کو دکھانے کے لئے اور اللہ کا ذکر نہیں کرتے مگر بہت کم

مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِكَ١ۖۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:143 in the Quran reader

دونوں کے درمیان پریشان (لٹکے ہوئے) ہیں نہ ان کی طرف ہیں اور نہ ان کی طرف اور جس کو اللہ گمراہ کردیں تو تم اس کے لئے ہرگز کوئی راہ نہ پاؤ گے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:144 in the Quran reader

اے ایمان والو ! مسلمانوں کے علاوہ کافروں کو دوست نہ بناؤ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر اللہ کی صریح حجت قام کرلو ؟

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:145 in the Quran reader

بیشک منافق دوزخ کے نچلے درجے میں جائیں گے اور تم ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ پاؤ گے

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ اعْتَصَمُوْا بِاللّٰهِ وَ اَخْلَصُوْا دِیْنَهُمْ لِلّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ وَ سَوْفَ یُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:146 in the Quran reader

مگر جنہوں نے توبہ کی اور اصلاح کرلی اللہ کو مضبوط پکڑا اور خالص کیا اللہ کے لئے اپنے دین کو تو یہ لوگ مومنین کے ساتھ ہوں گے اور عنقریب اللہ مومنین کو بہت بڑا اجر (ثواب) عطا فرمائیں گے

مَا یَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِیْمًا Open ayah 4:147 in the Quran reader

اللہ تم کو عذاب دے کر کیا کریں گے اگر تم شکرگزار بن جاؤ اور ایمان لے آؤ اور اللہ قدر کرنے والے جاننے والے ہیں

لَا یُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا Open ayah 4:148 in the Quran reader

اللہ بری بات زبان پر لانے کو پسند نہیں کرتے سوائے اس کے کہ کسی پر ظلم ہو (سوائے مظلوم کے) اور اللہ سننے والے اور جاننے والے ہیں

اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا Open ayah 4:149 in the Quran reader

اگر تم نیکی کو ظاہر کرو یا اسے چھپاؤ یا کسی برائی کو معاف کردو تو یقینا اللہ بخشنے والے قدرت والے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍ١ۙ وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًۙا Open ayah 4:150 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے پیغمبروں (علیہم السلام) سے کفر کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے پیغمبروں (علیہم السلام) میں فرق کرنا چاہتے ہیں اور وہ کہتے ہیں ہم بعض کو مانتے اور بعض کا انکار کرتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اس (کفر اور اسلام) کے درمیان کوئی راہ اختیار کریں

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا١ۚ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:151 in the Quran reader

ایسے لوگ بلا شبہ کافر ہیں اور کافروں کے لئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کررکھا ہے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ لَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰٓئِكَ سَوْفَ یُؤْتِیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:152 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے پیغمبروں پر اور ان میں سے کسی میں فرق نہیں کرتے ان لوگوں کو وہ (اللہ) جلد ان کا اجر (ثواب) دیں گے اور اللہ بخشنے والے مہربان ہیں

رکوع نمبر 21 ۔ آیات 142 تا 152 ۔ اسرار و معارف : منافقین درحقیقت اللہ کو دھوکا دینا چاہ رہے ہیں جب مومنین کو یا رسول اللہ ﷺ کو دھوکا دیا تو گویا خود اللہ کو دھوکا دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں کہ اعمالکا اجر تو اللہ کریم کی طرف سے ملے گا ہاں وقتی طور پر اللہ کے بندے دھوکا کھا جائیں گے اور منافق کو مسلمان سمجھ بیٹھیں گے اللہ کریم بھی انہیں اس جرم کی بہت سخت سزا دے گا۔ یہ ایسے بدبخت ہیں کہ نماز کے لیے بھی کھڑے ہوں گے تو نہایت بددلی کے ساتھ ویسے تو کسل سے سستی مراد ہوتی ہے مگر یہاں جسمانی سستی کی نسبت ایمانی سستیپائی جاتی ہے ورنہ بظاہر تو شاید بڑے اہتمام سے کھڑے ہوتے ہوں گے۔ کہ وہ پڑھتے ہی لوگوں کو دکھانے کے لیے ہیں اللہ کی رضا مطلوب نہیں لوگوں میں نیک مشہور ہونا چاہتے ہیں۔ بظاہر بڑے خشوع کا اظہار کرتے ہیں مگر اندر سارا کھوٹ بھرا ہوتا یہاں اگر بوجہ بیماری یا جسمانی کمزوری بظاہر سستی ہوجائے تو وہ زیر بحث نہیں بلکہ منافق کی اندرونی کیفیت کا اظہار مطلوب ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ منافق اللہ کا ذکر نہیں کرتے اللہ اللہ نہیں کرتے اگر کبھی کریں بھی تو بہت کم ، کسی مجلس میں پھنس گئے تو لوگوں کو دکھانے کے لئے کرلی۔ ورنہ اگر مسلسل اللہ اللہ نبھی کرتے رہیں تو ان کے نفاق کا کچھ تو علاج ہو لیکن انہیں تو ذکر الہی تک نصیب نہیں نہ یہ اس طرف کے رہے نہ اس طرف پہنچ پائے۔ بس درمیان میں پریشانی کے عالم میں کھڑے ہیں کبھی کافروں کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں تو کبھی مسلمانوں کی طرف ایک قدم چل لیتے ہیں اصل بات یہ ہے کہ بندے کو اللہ کریم سے بگاڑنی نہیں چاہئے غلطی ہوجائے۔ گناہ ہوجائے تو اس کا اقرار کرے توبہ کرے اور سیدھا سیدھا اس سے بخشش طلب کرتا رہے ورنہ مسلسل گناہ کئے جانے سے اور توبہ نہ کرنے سے بات اللہ کریم سے بگڑ جاتی ہے۔ اور جب کسی کو اس کی طرف سے ہدایت نصیب نہیں ہوتی تو پھر ایسے آدمی کے لیے کوئی بھی راستہ باقی نہیں رہتا کوئی سبب کوئی ذریعہ باقی نہیں رہتا سو ایمان والوں کو اور مسلمانوں کو زیب ہی نہیں دیتا کہ وہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں سے دوستی کریں جو حدود تعلقات کے بارہ میں شریعت مطہرہ نے مقرر فرما دی ہیں ان سے تجاوز کرنا گویا خود اپنے اوپر الزام لینے والی بات ہوئی کہ اگر اللہ کریم سوال کردیں تو کوئی جواب نہ ہوگا۔ نفاق سب سے بڑا جرم ہے : اور منافقین دوزخ کے سب سے نچلے رجے میں ہوں گے جنت میں جس طرح درجات اوپر کو بڑھیں گے اور اعلی مقامات کے حاملین اوپر کے درجات کو بلند کئے جائیں گے اس طرح دوزخ کی سزائیں اور عذاب نیچے کو بڑھیں گے اور نیچے کا ہر درجہ سخت سے سخت تر ہوتا چلاجائے گا۔ منافقین کی سزا یہ ہوگی کہ انہیں سب سے نچلے درجے میں یعنی کفار سے بھی سخت سزا دی جائے گی کہ وہ کھلے کافر تھے اور یہ چھپے ہوئے کافر اور کسی کو ان کی مدد کرنے کی جرات ہوگی نہ کوئی ان کا مددگار ہوگا۔ ہاں ! اور توبہ کھلا ہوا ہے اگر اتنے دور جانے کے باوجود توبہ کرلیں ، اور توبہ کیا ہے ؟ اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرنے کے ساتھ اپنی اصلاح کرلیں یعنی عقائد و اعمال میں آقائے نامدار ﷺ کی غلامی اختیار کرلیں اور اللہ سے تعلق جوڑ لیں جو امیدیں کفار سے تھیں یا اللہ کے سوا کسی سے بھی تھیں اب ساری اس ایک ذات سے جوڑ لیں اور اپنے کردار کو کھرا کرلیں خالص بغیر لگی لپٹی کے تو ہم آج بھی انہیں وہی انعامات عطا کردیں گے جو مومنین کو عطا کرتے ہیں انہیں ایمانداروں کے ساتھ اپنے بندوں کے ساتھ شامل کرلیں گے اور یہ تو ظاہ رہے کہ مومنین کو تو عنقریب انعامات سے نوازا جائے گا۔ نہ صرف ان کی کارکردگی پر بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق عطا فرمائیں گے اور بہت بڑا انعام عطا فرمائیں گے جو انہیں بھی مل سکتا ہے یہ بھی پا سکتے ہیں۔ اگر یہ آج بھی اپنی اصلاح کرکے خلوص کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی غلامی کو اختیار کرلیں تو یہ سب ہوسکتا ہے بھلا سوچو تو سہی کہ اے انسانو ! اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا ؟ تمہاری حیثیت کیا ہے اس کے مقابلے میں ، تم اس کی ایک ادنی سی مخلوق ہی تو ہو تو اگر تم خود راستے سے نہ بھٹکو اور اپنے آپ کو تباہی کی طرف لے کر نہ جاؤ بلکہ سیدھے راستے پر چلو اللہ کا شکر ادا کرو اس پہ ایمان لاؤ۔ اس کی اطاعت کرو تو وہ بڑا قدر دان ہے کام سے بڑھ کر انعام دیتا ہے اور آدمی کی حیثیت سے بڑا مقام عطا کرنا اسی کا کام ہے۔ ہاں سب کچھ جانتا ہے وہاں دھوکہ نہیں چل سکتا۔ سیدھے سیدھے اطاعت سے کام ہوگا ورنہ نہیں۔ برائی کی تشہیر : کوئی بھی ناپسندیدہ بات لوگوں کے سامنے نہ کی اور کہی جائے کہ ناپسندیدہ بات کی تشہیر بھی اللہ کو پسند نہیں۔ ہاں اگر کسی پر ظلم و زیادتی کی گئی ہو تو وہ اس کی شکایت کرنے کا حق رکھتا ہے متعلقہ حکام کے روبرو کرے یا معاشرے میں اس کے مظالم بیان کرے کہ لوگ اس کی مدد کرسکیں یا کم از کم خود کو ظالم سے بچانے کی سبیل کریں اور اللہ تو سننے والا بھی ہے اور جاننے والا بھی چونکہ بات انسانی معاشرے کے سدھار کی درستی کی ہو رہی قیام امن اور عدل و انصاف کی ہو رہی ہے حقوق و فرائض کی ہورہی ہے تو اس کی ساری ممکنہ صورتیں سامنے لائی جا رہی ہیں کہ قاعدہ یہ ہونا چاہئے کہ برائی کی تشہیر نہ کی جائے ورنہ لوگوں میں برائی کرنے کی جرات پیدا ہوگی ہاں بھلائی اور نیکی کی تشہیر کا اہتمام کیا جانا ضروری ہے کہ دوسروں میں بھی نیک جذبات پیدا ہوں جیسے ہمارے ہاں رسالوں اور ماہناموں کو تو چھوڑئیے ان میں سے تو اکثر بکتے ہی فحش نگاری کے بل بوتے پر ہیں پھر اخبار بھی برائی چھاپتا ہے اور کوئی بڑے سے بڑی نیکی کبھی خبر نہیں بن سکتی۔ محض چند سکے کمانے کی خاطر فرمایا یہ معاشرے کی تباہی کا بنیادی سبب ہے اور اللہ کریم کو سخت ناپسند ہے ہاں جس کسی کے ساتھ زیادتی ہوئی وہ ضرور بدلہ لے سکتا ہے مگر صرف اس حد تک جتنی زیادتی اس کے ساتھ ہوئی ہے اگر اس سے بڑھے گا تو یہ ظالم شمار ہوگا۔ علاوہ ازیں عدالت کے فیصلے بدلہ تو دلوا دیں گے مگر دلوں میں دوری کا سبب بنتے ہیں کیا ہی اچھا اگر ایک فریق نے یا ایک شخص نے برائی کی ہے تو دوسرا نیکی کرے اسے معاف کردے تاکہ آئندہ کے لیے دلوں سے کدورت ہی مٹ جائے اگر نیکی تم کسی مجلس میں کرو سب کے سامنے کرو یا چھپ کر کرو بہرحال برائی پہ معافی دے دو تو ممکن ہے تمہارا حسن سلوک اس انسان کی سوچ بدل دے اس کی زندگی کی راہیں بدل کے دیکھو اللہ بھی کتنا معاف کرنے والا اور کس قدر درگذر سے کام لینے والا ہے۔ حالانکہ وہ جو چاہے اور جب چاہے کرسکتا ہے ممکن ہے تم نے کتنی خطائیں کی ہوں جو اللہ کے علم میں یقیناً ہوں گی۔ مگر باوجود طاقت کے عفو و درگذر سے کام لے رہا ہے تم بھی اگر اس کے ایک بندے کو معاف کرسکو تو اس کی طرف سے تمہارا یہ کام انعام سے خالی نہ جائے گا اور اگر بندہ ہی سنبھل گیا تو تم نے بہت ہی بڑا کارنامہ انجام دے لیا کہ انسانی معاشرہ سدھار لیا۔ بعض لوگ اللہ سے اور اس کے رسولوں سے کفر کرتے ہیں ان کا انکار کرتے ہیں وہ اس طرح کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام میں تفریق کرتے ہیں جیسے یہودی کہ ہم موسیٰ (علیہ السلام) کو مانتے ہیں اللہ کو مانتے ہیں کتاب کو مانتے ہیں عیسائی کہ ہم عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور انجیل کو مانتے ہیں۔ فرمایا کہ یہ سب کافر ہیں جب تک تمام انبیاء کی نبوت کا اقرار نہ کریں اگر ایسا کریں گے تو آپ ﷺ کی نبوت کو ماننا پڑے گا۔ جب آپ ﷺ کو نبی مانیں گے تو پھر اتباع بھی آپ کا کرنا ہوگا کہ جس نبی کا زمانہ جس آدمی نے پایا وہ اسی کا اتباع کرنے اور اسی کی بات ماننے کا مکلف ہے تو آپ ﷺ کی بعثت ساری انسانیت کے لیے ہے مگر پہلی کتابوں اور تمام پہلے انبیاء کی تصدیق بھی فرماتے ہیں وہ کتابیں حق تھیں جو ان انبیاء پہ نازل ہوئیں موجودہ صورت میں یہودیوں اور عیسائیوں نے ردوبدل کردیا ہے یہ علیحدہ بحث ہے مگر سب انبیاء کی نبوت کا اقرار کیا جان اضروری ہے ہاں حکم اس نبی کا مانا جائے گا جس کا دور اور عہد ہوگا جس کا زمانہ ہوگا یہاں یہ بات بھی صاف ہوگئی کہ بعض لوگ جو شبہات پیدا کرتے ہیں عیسائی یا یہودی بھی اگر نیکی کرے تو نجات پا سکتا ہے ہرگز نہیں۔ بلکہ ارشاد ہوتا ہے بعض انبیاء کی نبوت کا اقرار اور بعض کا انکار کرکے جو یہ درمیانی راستہ تلاش کرنے والے لوگ ہیں۔ یہی اصلی کافر ہیں اور سخت ترین کافر کہ کفر کو اسلام ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور کافروں کے لیے تو ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے یعنی انہیں صرف عذاب ہی نہیں ساتھ رسوائی کا بھی سامنا کرنا ہوگا اور ایسے کھرے لوگ جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اس کے رسولوں پر لاتے ہیں پھر ان میں تفریق نہیں کرتے کہ بعض کو مان لیں اور بعض کا انکار کردیں ایسے لوگ کامیابی پانے والے لوگ ہیں جنہیں عنقریب ان کے اجر سے نوازا جائے گا اور اگر ان سے کوئی کمی اعمال کے بارہ میں رہ بھی گئی بحیثیت انسان کبھی غلطی بھی سرزد ہوگئی تو اللہ بخشنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے بڑا مہربان ہے۔ یہاں ان لوگوں کے خیال کی تردید بھی ہوگئی۔ جو کہتے ہیں جی اصل بات یہ ہے کہ انسان اچھے کام کرے اور بس باقی باتیں مولویوں کے جھگڑے ہیں نماز روزہ ضروری نہیں اگر روزہ رکھے اور گناہ کرے تو کیا فائدہ تو نیکی اور بدی کی حد کون مقرر کرے گا ؟ یہ کیسے پتہ چلے گا کہ یہ کام نیکی ہے اس کے لیے ایمان باللہ اور ایمان بالرسول ضروری ہے جہاں سے پتہ چلے کہ نیکی کیا ہے اور کیا نیکی نہیں ہے دوسرے اگر عبادت بھی کرتا ہے اور گناہ سرزد ہوتا ہے تو چھوڑ دینے کی چیز گناہ ہے نہ یہ کہ عبادت چھوڑ دے۔ اگر ممکن ہو تو گناہ کو چھوڑنے پہ اور عبادت کو قائم نہ رکھنے پہ اپنا زور صرف کرے۔
Ayahs 4:153–162

یَسْئَلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰۤى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ١ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِكَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا مُوْسٰى سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:153 in the Quran reader

آپ سے اہل کتاب سوال کرتے ہیں کہ آپ ان کے پاس ایک کتاب آسمان سے منگا دیں تو یقینا موسیٰ (علیہ السلام) سے انہوں نے اس سے بڑا سوال کیا تھا (اور) یوں کہا ہمیں اللہ ظاہر (آنکھوں سے) دکھا دیں پس ان کے اس گناہ کی وجہ سے ان کو بجلی کی چمک نے آپکڑا پھر واضح دلائل آجانے کے بعد بچھڑے کو معبود بنا لیا سو ہم نے اس پر (ان کو) معاف کردیا اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو واضح غلبہ عطا فرمایا

وَ رَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّوْرَ بِمِیْثَاقِهِمْ وَ قُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوْا فِی السَّبْتِ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:154 in the Quran reader

اور ان سے وعدہ لینے کے لئے ہم نے ان پر طور (پہاڑ) معلق کردیا اور ہم نے ان سے کہا کہ (شہر کے) دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے (سرنگوں) داخل ہوں اور ہم نے ان سے کہا کہ ہفتے کے دن کے بارے حد سے نہ گزرنا اور ہم نے ان سے بہت پکے قول قرار لئے

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ وَ كُفْرِهِمْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ قَتْلِهِمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّ قَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَیْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا۪ Open ayah 4:155 in the Quran reader

پس بسبب ان کے قول توڑ ڈالنے کے اور اللہ کی آیات کے انکار اور انبیاء کے ناحق قتل کرنے کے اور ان کے یہ کہنے کے سبب کہ ہمارے دلوں پر پردے ہیں بلکہ ان کے فکر کے سبب اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی سو یہ بہت تھوڑے ایمان لاتے ہیں

وَّ بِكُفْرِهِمْ وَ قَوْلِهِمْ عَلٰى مَرْیَمَ بُهْتَانًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:156 in the Quran reader

اور ان کے کفر کی وجہ سے اور (حضرت) مریم (علیہا السلام) پر بہت بڑا الزام لگانے کی وجہ سے (ان کو بہت بڑی سزا دی) ۔

وَّ قَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ١ؕ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ یَقِیْنًۢاۙ Open ayah 4:157 in the Quran reader

اور ان کے یہ کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ (علیہ السلام) مریم (علیہا السلام) کے بیٹے کو جو اللہ کے پیغمبر تھے قتل کردیا اور حالانکہ نہ انہوں نے ان کو قتل کیا اور نہ ان کو صلیب پر چڑھایا بلکہ انہیں شبہ ڈالا گیا اور یقینا جن لوگوں نے اس میں اختلاف کیا وہ ان کے بارے شک میں پڑے ہوئی ہیں سوائے گمان پر چلنے کے ان کے پاس اس کا علم نہیں اور انہوں نے ان کو یقینا قتل نہیں کیا تھا

بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:158 in the Quran reader

بلکہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ غالب ہیں حکمت والے

وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكُوْنُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًاۚ Open ayah 4:159 in the Quran reader

اور کوئی اہل کتاب میں سے نہیں ہوگا مگر ان (حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ) کے مرنے سے پہلے ان پر ضرور ایمان لائے گا اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے

فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَ بِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَثِیْرًاۙ Open ayah 4:160 in the Quran reader

سو یہود کے (بڑے بڑے) گناہوں کی وجہ سے ہم نے ان پر جو پاکیزہ چیزیں حلال کی تھیں حرام کردیں اور بسبب اس کے کہ یہ بہت سے لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے تھے

وَّ اَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُهُوْا عَنْهُ وَ اَكْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:161 in the Quran reader

اور ان کے سود لینے کے سبب اور حالانکہ انہیں اس سے روکا گیا تھا اور ان کے ، لوگوں کے مال ناجائز طریقے سے کھا جانے کے سبب اور ہم نے ان میں سے جو کافر ہیں ان کے لئے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے

لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ الْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوةَ وَ الْمُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَنُؤْتِیْهِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 4:162 in the Quran reader

لیکن ان میں جو لوگ علم میں پختہ ہیں اور جو مومن ہیں جو (کتاب) آپ پر نازل ہوئی اور جو آپ سے پہلے نازل ہوئیں (ان) پر ایمان رکھتے ہیں اور نماز کی پابندی کرنے والے اور زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں اور اللہ کے ساتھ اور آخرت کے دن کے ساتھ ایمان لانے والے ہیں ایسے لوگوں کو ہم عنقریب بہت بڑا اجر دیں گے

رکوع نمبر 22 ۔ آیات 153 تا 162 ۔ بے عملی کے بہانے : کج بحثی کرنا یہود کی پرانی عادت ہے اور اس بدبخت قوم کی تاریخ ہی یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کے دین اور اللہ کے رسولوں کو انہوں نے بہت ایذاء پہنچائی اور ہمیشہ الٹ بات سوچتے اور کہتے بھی ہیں کرتے بھی الٹ ہیں۔ اب آپ ﷺ سے سوال کرتے ہیں آپ آسمان سے لکھی لکھائی کتاب لے کر آئیں پھر ہم ایمان لائیں گے مگر خود موسیٰ (علیہ السلام) سے جو طور پر سے لکھی لکھائی کتاب لے کر آگئے تھے انہوں نے اس سے بھی بہت بڑا سوال کردیا تھا اور وہ تھا کہ ہم کو کھلم کھلا اللہ کی زیارت کرا دیں جب مانیں گے اس زیادتی پر ان پر برق گری اور تباہ ہوگئے مگر موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے پھر زندگی عطاء ہوئی سمندر پھٹ کر راستہ بن گیا فرعون جیسا ظالم و جابر ان کے دیکھتے دیکھتے غرق ہوگیا اس سے پہلے کتنے مقابلے اور معرکے موسیٰ (علیہ السلام) کے فرعون کے ساتھ ہوئے یہ سب کچھ ان لوگوں کا آنکھوں دیکھا تھا۔ پھر بچھڑے کو سجدہ کرنے لگ گئے پھر سزا مسلط ہوئی۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے معافی لے کردی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے رعب و دبدبہ اور شہروں اور قوموں پہ غلبہ عطا فرمایا جس کے طفیل انہیں بغیر مشقت کے شہروں پہ تسلط نصیب ہوتا رہا مگر یہ ایسے بد نصیب ہیں کہ پھر بگڑ گئے اور کہنے لگے۔ ہم سے یہ تورات کے احکام کی پابندی نہیں ہوتی بھلا یہ بھی کوئی بات ہے ہم اپنی مرضی سے رہیں گے جو چاہیں گے کریں گے ہم نے پورا طور پہاڑ اٹھا کر ان کے اوپر لٹکا دیا کہ مانو یا اوپر پہاڑ گرے گا تب مان کردیا۔ ہم نے انہیں بغیر لڑائی کے شہر پہ قبضہ دے دیا اور صرف اتنا حکم دیا کہ جب شہر کے دروازے میں داخل ہوگے تو سر جھکا کر اور عاجزی ظاہر کرتے ہوئے داخل ہونا اور ہفتہ کے روز مچھلی کا شکار نہ کرنا اور ان سے بڑے پکے وعدے لیے انہوں نے اپنے نبی کی وساطت سے بڑے وعدے کئے مگر ہوا کیا ان بدبختوں نے وعدے تور ڈالے اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کیا اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو ناحق قتل کیا یعنی جب ان کو ممالک پہ قبضہ مل گیا ریاستوں اور سلطنتوں کے والی بنے تو یکسر بدل گئے حتی کہ پھر جب نبی بھیجے گئے تو انہوں نے ظلماً شہید کردئیے قتل تو ویسے بھی ناحق ہی تھا۔ یہاں قتل ناحق سے مراد غالبا یہ ہے کہ قاتل بھی جانتا ہے کہ مقتول ظلماً مارا جا رہا ہے اس کا کوئی گناہ یا قصور نہیں ، ان کرتوتوں کے مالک دعوے یہ کرتے تھے کہ ہمارے قلوب تو پردوں میں ہیں ہم کبھی گمراہ ہو ہی نہیں سکتے ان سب مظالم کا قدرتی نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کی طرف سے ان یہودیوں کے دلوں پر مہر کردی گئی ان میں بہت ہی کم خوش نصیب ہوں گے جن کو ایمان نصیب ہو ورنہ یہ کفر ہی پہ مرتے ہیں۔ اور ہمیشہ دین برحق کی مخالفت پر کمر بستہ رہتے ہیں۔ دیکھو ! حضرت مریم پر کیسا ظالمانہ بہتان لگایا اور کتنا بڑا طوفان باندھا کافر تو تھے ہی پھر ایک نئے نبی کے ساتھ بھی صرف کفر ہی نہیں کیا بلکہ ان کے خلاف ان کی نیک اور پارسا والدہ ماجدہ کے خلاف کتنا طوفان کھڑا کردیا پھر یہ ایسے بدکار ہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کے درپے ہوگئے چونکہ علمی اور دلائل کے میدان میں یہ مقابلہ کرنے سے عاجز آ چکے تھے۔ سو بادشاہ کو بھڑکا کر قتل کا حکم صادر کروایا اور پوری کوشش کی مگر قتل نہ کرسکے ان کا یہ کہنا کہ ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو قتل کردیا ہے۔ صریح جھوٹ ہے نہ یہ انہیں قتل کرسکے نہ سولی پ چڑھا سکے ہاں انہیں خود شبہ میں مبتلا کردیا گیا۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ جو آدمی عیسیٰ (علیہ السلام) کی نشاندہی کرنے کے لیے فوجی دستہ لے کر گیا مکان کے اندر داخل ہوا تو عیسیٰ (علیہ السلام) تو موجود نہ تھے اللہ نے آسمانوں پہ اتھا لیا تھا لیکن اس شکل ان جیسی دکھائی دینے لگی۔ واپس باہر آیا کہ وہ وتو اندر نہیں ہیں مگر انہوں نے پکڑ لیا کہ ہم نے پہچان لیا ہے اور سولی پہ چڑھا دیا مگر اپنا آدمی تلاش کرنے اندر گئے تو اندر تو کوئی تھا نہیں باہر آئے تو اپنے آدمی کی لاش کو سولی پہ پاکر پریشان ہوگئے معاملہ چھپانا چاہا چھپا بھی نہ سکے کہ آدمی کہاں ہے ؟ پھر عیسیٰ کی میت دکھاؤ ان سب کا کوئی جواب نہ تھا۔ اسی لیے علمائے یہود میں خود اختلاف رائے موجود ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کی نگاہ میں یہ سارا معاملہ مشکوک ہے اب ان کے پاس کوئی قطعی دلیل تو ہے نہیں سوائے اندازے کے اور گمان کے کہ اٹکل لگاتے رہیں یوں ہوا ہوگا یا پھر یوں ہوا ہوگا۔ اصل معاملہ کیا ہوا یہ واقعات جو مفسرین نے لیے ہیں یہ بھی کوئی زیادہ قابل بھروسہ نظر نہیں آتے کہ تفصیل نہ قرآن میں ہے نہ حدیث میں۔ ہاں کتاب اللہ نے ایک فیصلہ کردیا۔ وما قتلوہ یقینا۔ یہ یقینی اور قطعی بات ہے کہ وہ انہیں قتل نہیں کرسکے بلکہ اللہ کریم نے انہیں اٹھا لیا اور اللہ غالب بھی ہے اور حکمت والا بھی ہے۔ جو چاہے کرے جس تدبیر سے چاہے کرے یہ جو لوگ رفع سے مراد قبض روح لیتے ہیں ان کو یہ ضرور سوچ لینا چاہئے کہ قتل اور سولی کا نتیجہ بھی موت ہی تھا اگر وہ نہ دے سکے اللہ نے دے دی تو یہود کا مدعا تو پورا ہوگیا یہ رفعہ اللہ الیہ کی کیا ضرورت باقی رہی۔ فرق کیا پڑا ؟ غالباً بات پہلے سورة بقرہ میں گذر چکی ہے مگر پھر بھی چند الفاظ ان کی آگاہی کے لیے ضروری ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ آسمانوں پہ انسانی زندگی کا تصور ممکن نہیں ، کھاتے کیا ہوں گے ؟ رفع حاجت کیسے کرتے ہوں گے ؟ تو کیا رحم مادر کے تہہ در تہہ پردوں میں زندگی کا تصور آسان ہے ؟ وہ کہاں سے کھاتا ہے ، رفع حاجت کے لیے بچہ کہاں جاتا ہے جو قادر مطلق یہاں اہتمام کرسکتا ہے وہ وہاں بھی کرسکتا ہے پھر کوئی جس عالم میں بستا ہے ، غذا موسم اوقات وہاں کے ہوتے ہیں یہاں سے گئے تو دوہزار سال ہونے کو ہیں لیکن عنداللہ دنیا کے ہزار سال کا ایک دن ہے تو انہیں ابھی وہاں ٹھہرے ہوئے دو 3 روز بھی پورے نہیں ہوئے لہذا ان سب امور کے لیے پہلے قدرت باری کا اقرار ضروری ہے اللہ کو ہرچیز پہ قادر ماننا ضروری ہے اور وہ ہر شے پہ غالب ہے معترض اپنے اوپر قیاس کرتے ہیں اب ان کی موت کا مسئلہ کیسے حل ہوگا ؟ فرمایا وہ دنیا پہ دوبارہ نازل ہوں گے جس کی تفصیل حدیث شریف میں موجود ہے شادی کریں گے اولاد ہوگی مدینہ منورہ میں روضہ اطہر کے اندر دفن ہوں گے اور چوتھی قبر کی جگہ تاحال موجود بھی ہے سو ان کی موت کا سوال بھی حل ہوجائے گا۔ مولانا تھانوی نے لکھا ہے کہ قبض روح سے قبل برزخ کھول دیا جاتا ہے تو اس وقت ان کو پتہ چل جاتا ہے مگر اس وقت کا ایمان کافر کے لیے مفید نہیں ہوتا کہ کفر سے توبہ کا وقت گذر چکا ہوتا ہے اور انہیں زیادہ تسلی چاہئے تو یہ تھوڑا انتظار اور کرلیں یوم حشر ہم عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کے کرتوتوں پہ گواہ لائیں گے جو ان کے وہ مظالم جو ان کے ساتھ یا ان کے روبرو مسلمانوں کے ساتھ یا اسلام کے ساتھ انہوں نے روا روکھے ان سب کا حساب ہوگا تو ان کی تسلی ہوجائے گی۔ ہم نے ان پر بہت سی ایسی چیزیں حرام کردیں جو پہلے ان پر حلال تھیں اس کی وجہ ان کے مظالم تھے اور ان کے گناہ تھے حرام تو شریعت محمدی اور دینی اسلام نے بھی بعض اشیاء کو کیا ہے مگر وہ سب کی سب انسان کے لیے یا جسمانی طور پر مضر ہیں یا روحانی طور پر نقصان دہ ان پر تو بطور سزا ایسی چیزیں جو انسانوں کے لیے مفید تھیں حرام کردی گئیں کہ ان کے کرتوت ہی ایسے تھے۔ لوگوں کو نیکی اور بھلائی سے اور اللہ کے راستے سے روکنا اللہ کی یاد سے منع کرنا اور سود کھانا جبکہ وہ ان کے لیے حرام تھا اور ناجائز طور پر لوگوں کے مال کھاجانا یہ ایسے کرتوت تھے کہ ان کی وجہ سے یہ کفر میں مبتلا ہو کر اس دردناک عذاب کے سزاوار قرار پائے جو ہم نے کافروں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ہاں ان میں باوجود ان سب برائیوں کے کچھ لوگ ضرور ہیں جو علم دین میں پختہ اور صاحب کردار ہیں یہی وجہ ہے کہ جب آپ نے دعوے نبوت فرمایا تو چونکہ نشانیاں بھی پہلے سے ان کے پاس تھیں وقت کا اندازہ بھی تھا عقائد پہ بھی نظر تھی اور سب سے بڑی بات یہ کہ مخلص اور صاحب کردار تھے اور جو پہلی کتاب ان کے پاس تھی اس پر ایمان رکھتے تھے عمل کرتے تھے سو جب آپ پر نازل ہوئی تو اس پر بھی ایمان لے آئے نمازیں قائم کرتے ہیں یعنی پوری شرائط کے ساتھ ادا بھی کرتے ہیں اور دوسروں کو ادائیگی کی تلقین بھی زکوۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ پر اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں ایسے لوگوں کو ہم بہت بڑا انعام اور اجر عطا فرمائیں گے مگر یہ گنتی کے چند خوش نصیب تھے جیسے استثناء کا قانون تو ہر جگہ ہے ورنہ یہود بےبہبود نے ہمیشہ دین برحق اور دینداروں کو نقصان پہنچایا ظہور اسلام کے بعد اکثر جنگوں میں سازشیں ان کی تھیں پھر انہوں نے سب سے پہلے فرقہ بازی اور گروہ بندی کی بنیاد رکھی یہ ابن سبا یہودی اور اس کے گروہ کا کام تھا۔ جو آج تک اسلام اور مسلمانوں دونوں کو مسلسل نقصان پہ نقصان پہنچاتا چلا جا رہا ہے۔
Ayahs 4:163–171

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ Open ayah 4:163 in the Quran reader

ہم نے آپ کی طرف وحی بھیجی جس طرح ہم نے نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد کے پیغمبروں کیطرف بھیجی تھی اور وحی کی ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اولاد کی طرف اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلمان (علیہ السلام) کی طرف اور داؤد (علیہ السلام) کو ہم نے زبور دی

وَ رُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَیْكَ١ؕ وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِیْمًاۚ Open ayah 4:164 in the Quran reader

اور ایسے پیغمبر جن کا حال ہم نے پہلے آپ سے بیان فرمایا اور ایسے پیغمبر (بھی ہیں) جن کا حال ہم نے آپ سے بیان نہیں فرمایا اور موسیٰ (علیہ السلام) سے تو اللہ نے باتیں (بھی) کیں

رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:165 in the Quran reader

(ان سب کو) خوشخبری دینے والے اور (انجام بد سے) ڈرانے والے پبغمبر بنا کر بھیجا تاکہ ان پیغمبروں کے (آنے کے) بعد لوگوں کو اللہ پر کوئی الزام نہ رہے اور اللہ غالب ہیں حکمت والے ہیں

لٰكِنِ اللّٰهُ یَشْهَدُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اِلَیْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَشْهَدُوْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 4:166 in the Quran reader

لیکن اللہ شہادت دیتے ہیں کہ جو آپ کی طرف (کتاب کو) نازل کیا اسے اپنے علمی کمال کے ساتھ نازل کیا اور فرشتے گواہی دیتے ہیں اور اللہ گواہ کافی ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:167 in the Quran reader

یقینا جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور اللہ کی راہ سے روکا تو بیشک وہ دور کی گمراہی میں جاپڑے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ طَرِیْقًاۙ Open ayah 4:168 in the Quran reader

بلا شبہ جو لوگ کافر ہوئے اور ظلم کیا (دوسروں کو بھی گمراہ کیا) اللہ ان (لوگوں) کو کبھی نہ بخشیں گے اور نہ ان کو کوئی راہ دکھائیں گے

اِلَّا طَرِیْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:169 in the Quran reader

سوائے جہنم کے راستے کے جس میں یہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ اللہ پر آسان ہے

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:170 in the Quran reader

اے لوگو ! یقینا تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے حق کے ساتھ پیغمبر آئے سو تم ایمان لے آؤ یہ تمہارے لئہ بہت اچھا ہے اور اگر تم کفر کرو گے تو یقینا جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ کا ہے۔ اور اللہ جاننے والے حکمت والے ہیں

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ وَ لَا تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ كَلِمَتُهٗ١ۚ اَلْقٰىهَاۤ اِلٰى مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْهُ١٘ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١۫ۚ وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ١ؕ اِنْتَهُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ سُبْحٰنَهٗۤ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌ١ۘ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا۠ Open ayah 4:171 in the Quran reader

اے اہل کتاب ! اپنے دین (کے بارے) میں حد سے نہ پڑھو اور اللہ کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو یقینا مسیح عیسیٰ (علیہ السلام) مریم (علیہا السلام) کے بیٹے اللہ کے پیغمبر ہیں اور اس کا کلمہ (حکم) ہیں جو اس نے مریم (علیہا السلام) کی طرف بھیجا تھا اور اس (اللہ) کی طرف سے ایک روح ہیں سو اللہ اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لاؤ اور یہ نہ کہو کہ (اللہ) تین ہیں بازآجاؤ (یہ) تمہارے لئے بہتر ہے ۔ سوائے اس کے نہیں کہ اللہ اکیلا عبادت کا مستحق ہے وہ اس سے پاک ہے کہ اس کے اولاد ہو۔ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اس کا ہے ۔ اور اللہ کارساز کافی ہے

رکوع نمبر 23 ۔ آیات 163 تا 171 ۔ اسرار و معارف : آپ ﷺ سے پہلے نبوت و رسالت کا سلسلہ چلا آ رہا ہے اور ہمیشہ انبیاء و رسل پر اللہ کی طرف سے وحی بھیجی جاتی ہے جیسے نوح (علیہم السلام) پر وحی کی گئی اور ان کے بعد آنے والے نبیوں اور رسولوں پر جیسے ابراہیم ، اسمعیل ، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) یا ان حضرات کی اولاد میں سے انبیاء مبعوث ہوتے رہے۔ اور عیسیٰ و ایوب ، یونس و ہارون و سلیمان (علیہما السلام) اور ان میں حضرت داود (علیہم السلام) کو تو ہم نے کتاب بھی دی تھی جس کا نام زبور تھا۔ آپ ﷺ کا نبوت کا دعوے کرنا نئی بات نہیں ہے اور نہ وحی الہی کا آپ پر نازل ہونا عجیب بات ہے۔ بلکہ ایسے رسول بھی ہیں جن کا ذکر آپ ﷺ سے کیا گیا۔ اور ایسے بھی جن کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ موسیٰ (علیہ السلام) جیسی ہستیاں رسولوں میں موجود ہیں جن سے اللہ کریم نے ذاتی طور پر کلام فرمایا تو یہ لوگ ان سب کو مانتے ہیں ان کی نبوت و رسالت کا اقرار کرتے ہیں اور آپ ﷺ پر ایمان لانے سے گریزاں کیوں ہیں ؟ کیا یہ کوئی انہونی یا نئی بات ہے ہرگز نہیں ؟ بلکہ ہر نبی ہر رسول اللہ کی طرف سے نیکی پہ انعام و اکرام اور اللہ کی رضا کی خوشخبری اور نافرمانی پر سزا کا خوف دلاتا ہے یعنی حق کی حمایت ہی نہیں کرتا حق کی طرف دعوت دیتا ہے اور باطل سے لوگوں کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ بلکہ ہر نبی اور ہر رسول اللہ کی طرف سے بندوں پہ دلیل ہوتا ہے۔ کہ لوگ کل یہ نہ کہہ سکیں کہ خدایا اتنی خوبصورت دنیا ہمارے سامنے تھی ہمیں کیا خبری تھی کہ اس کے پیچھے آخرت کا میدان بھی ہے اس اعتراض کا جواب نبی اور رسول ہی ہیں جو اللہ نے مبعوث فرمائے ، بذریعہ وحی انہیں دنیا اور اس کے کاموں کا انجام بتایا اس پر مرتب ہونے والا نتیجہ بتایا۔ تو یہ بات واضح ہوگئی کہ صاحب وحی نبی ہوتا ہے آپ کسی پر نزول وحی کا اقرار کریں تو نام لیں یا نہ لیں آپ نے اسے نبی مان لیا ، جیسے شیعہ حضرات کے ہاں امام کا تصور اور عقیدہ ہے کہ ہر امام پر وحی بھی آتی ہے معصوم بھی ہوتا ہے یہ صریح کفر ہے کہ ختم نبوت بھی جزو ایمان ہے خیر بہرحال لوگوں تک اللہ کی بات اللہ کی پسند پہنچانا یہ نبی کا منصب ہوتا ہے اور اسی دلیل سے دیکھیں تو آپ کس طرح حق واضح فرما کر باطل کی کتنی عالمگیر قوت سے ٹکر لے رہے ہیں ؟ کیا یہ اتنا بڑا کام اللہ کی تائید و حمایت کے بغیر کوئی اکیلا انسان کرسکتا ہے ؟ کہ اللہ ہی غالب اور زبردست بھی ہے اور وہی حکمت والا ہے وہ جانتا ہے کہ کونسی بات کرنے کے لیے کونسا کام کرنے کے لیے کونسا وقت موزوں ہے اور کون انسان مناسب ہے اور آپ ﷺ کا تو سارا وجود پاک آپ ﷺ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ بچپن ، لڑکپن ، جوانی اور عوی نبوت سب کچھ ہی معجزہ ہے ایک بہت بڑا معجزہ ، جس پر کوئی جتنا غور کرتا جائے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے پھر آپ پر جو کتاب نازل فرمائی گئی یہ کتنا بڑا معجزہ ہے جس کا ایک ایکلفظ گواہی دے رہا ہے کہ یہ خلاق عالم کے علم سے ہے مخلوق کی بات ہرگز نہیں پھر اس پر خود اللہ کی گواہی موجود ہے اللہ کے فرشتے تک تیری صداقت کے ، کتاب کے کتاب الہی ہونے کے گواہ ہیں۔ اور جب خود اللہ گواہ ہے تو پھر کسی اور کی ضرورت کیا رہ جاتی ہے۔ دراصل کفر ایسا مرض ہے کہ کافر صرف خود کافر نہیں رہتا دوسروں کے لیے بھی راستے کی دیوار بنتا ہے اور اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکنے کا سبب بنتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ مزید گمراہی میں ڈوبتا اور دھنستا چلا جاتا ہے اور سیدھی راہ سے بھٹک کر بہت پرے چلا جاتا ہے حق بات تو یہ ہے کہ جو لوگ کفر اختیار کرتے ہیں۔ اور پھر حق کو دبانے کے لیے کوشش بھی کرتے ہیں یہ ایک ایسا بھیانک جرم ہے کہ اللہ ایسوں کو بخشنا چاہتا ہی نہیں اور جب بخشش سے مھروم ہوں گے تو بات صاف ہے کہ سیدھے راستے پہ چلنا نصیب نہ ہوگا۔ اب یہ تو ہونے سے رہا کہ کسی کو نیکی کو توفیق بھی ارزاں کریں اور عذاب بھی دیں سو جسے اپنے لطف سے محروم فرمایا اسے توفیق عمل سے ہی محروم کردیا جاتا ہے۔ اور ایسے ظالموں کے لیے تو ایک ہی راستہ کھلا ہے اور وہ ہے جہنم کا راستہ ، جس میں کافروں کو ہمیشہ رہنا ہوگا۔ اور دوزخ اور اہل دوزخ کو ہمیشہ کے لیے مبتلائے عذاب رکھنا ، یا عذاب کو مسلسل بڑھاتے رہنا اللہ کے لیے کچھ مشکل نہیں۔ الابریز۔ سید عبدالعزیز دباغ (رح) کے فرمودات وواقعات اور حالات کا مجموعہ ہے جو ان کے ایک فاضل شاگرد نے جمع فرما دئیے۔ اگرچہ سید صاحب خود پڑھنے لکھنے سے معذور تھے اس کا غالباً آخری واقعہ جو انہوں نے نقل فرمایا وہ یہ ہے ، وہ لکھتے ہیں میں اپنے شیخ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بہت خوش تھا انہیں بھی خوشخبری دی کہ ظالم گورنر کو بادشاہ نے معزول کردیا ہے۔ تو فرمانے لگے یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ ابھی تو جہنم میں جو جگہ اس کے لیے بن رہی ہے اس میں اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے۔ جس کا معنی یہ ہے کہ ابھی وہ مزید ظلم کرے گا۔ پھر بڑی حسرت سے لکھتے ہیں کہ میرے شیخ کا تو وصال ہوگیا۔ اور اس ظالم کو بادشاہ نے پھر سے بحال کردیا دیکھیں اب اس کی ناؤ کب ڈوبتی ہے۔ اے لوگو ! اے اولاد آدم ! تمہارے پاس اللہ کا رسول حق کے ساتھ مبعوث ہوا ہے اب تمہاری بہتری مان لینے اور قبول کرلینے میں ہے۔ تمہارے نہ ماننے سے اللہ کا تو کوئی نقصان نہیں ہوگا کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے اسی کا ہے لیکن تم خیر سے بھلائی سے اور بہتری سے محروم ہوجاؤ گے یہی وجہ ہے کہ کافر کو یا بےیقین مسلمان کو بھی کبھی چین نصیب نہیں ہوتا کہ چین اور قرار خیر میں ہے اور خیر نبی رحمت ﷺ پہ اعتبار اور آپ ﷺ کی غلامی میں ہے جو اللہ کے روبرو کرنا ہے جسے ہر بات کا علم بھی ہے اور جو دانا تر بھی ہے۔ اور اے اہل کتاب ! امور دنیا میں بھی حدود سے تجاوز درست نہیں ہوتا اور دین کے نام پر اگر حد سے گذر جاؤ گے تو بےدین ہوجاؤ گے اس لیے کہ دین میں جو زیادتی کرتا ہے یا کمی کرتا ہے تو اس نے اللہ پر جھوٹ بولا اور اللہ پر حق کے علاوہ کچھ مت کہو ، یہ پکی بات ہے کہ مسیح عیسیٰ (علیہ السلام) جو مریم کے بیٹے ہیں۔ وہ اللہ کے رسول بھی ہیں اور اس کا کلمہ بھی یعنی اس کی قدرت کاملہ کی نشانی بھی اس کی عظمت کی دلیل بھی ، ایک ایسا کلمہ جو حضرت مریم کی طرف القاء کیا گیا یہ القاء کیا ہوتا ہے ؟ مختصراً یہ جان لیں کہ اللہ کریم فرشتے کو پیغام دے کر رانہ کریں تو وہ وحی کہلائے گا جو انبیاء کے ساتھ مخصوص ہے۔ عالم غیب کی اشیاء دل کی آنکھ سے دکھا دے تو اسے کشف کہا جاتا ہے اگر نظر نہ آئے مگر حقیقت دل میں واضح ہوجائے تو وجدان کہلاتا ہے اگر اوپر سے بات دل میں ڈال دیجائے۔ تو اسے الہام یا القاء کہتے ہیں۔ یعنی برکات دینے والا اپنے مقام کو بھی نہیں چھوڑتا اور ہاتھ بڑھا کر عطا کردیتا ہے اوپر سے نیچے یہ القا ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ مرد اور عورت سے نسل چلتی ہے مگر اظہار قدرت کے لیے ہر جگہ استثناء موجود ہے بندہ نے ایک بار بہت سے مستثنیات جمع بھی کئے۔ یہاں بھی اظہار قدرت ہے کہ مرد کا نطفہ شامل ہوتا ہے اور اللہ کی طرف سے اس کا حکم یا کلمہ تو تعمیر بدن انسانی بدن کے اندر شروع ہوجاتی ہے۔ یہاں مرد نہیں نہ نطفے کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ نرا حکم الہی ہے براہ راست اس کا حکم ہے اور پھر جب تعمیر بدن ایک درجہ پر پہنچتی ہے تو اس میں اللہ کی طرف سے روح پھونک دی جاتی ہے یہاں بھی یہی قاعدہ ہے کہ اللہ کی طرف سے روح پھونک دی گئی یہاں علماء نے بہت سی باتیں نقل فرمائی ہیں جن میں مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں جو سب تقریبا ایک ہی جیسی ہیں بندہ نے ذرا سلیس کرکے بات کو عام قاری کے لیے آسان کرنے کی کوشش کی ہے ، اب اس پہ یہ طومار کھڑا کرنا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) خود خدا ہیں یا خدا کے بیٹے ہیں یا تین میں سے ایک ہیں اقنوم ثلاثہ یعنی تین غالب قوتیں خدا ، عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم ، ایک فرقے کے مطابق حضرت مریم کی جگہ جبرائیل امین کو شامل کرلیتے ہیں بہرحال یہ سب جھوٹ اور بہتان ہے ، اللہ پر بھی اور اللہ کے دین پر بھی۔ اور بھلائی اس میں ہے کہ یہ تین تین خداؤں کا تصور چھوڑ کر ذات وحدہ لاشریک پہ ایمان لاؤ اور اس کے تمام رسولوں کو رسول مانو یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی خدا ماننے کی بجائے خدا رسول مانو اور آپ ﷺ کی ذات گرامی پہ بھی ایمان لاؤ اور بیہودگی سے باز آجاؤ اسی میں بہتری ہے اور خوب جان لو کہ اللہ بالکل اکیلا معبود ہے اور وہ ان باتوں سے پاک ہے کہ اس کے کوئی اولاد ہو اس کی ذات ان چیزوں سے بہت وری الوری بہت بلند ہے اور یہ ارض و سماء میں جو کچھ ہے سب اسی کا تو ہے اسی کی مخلوق ہے۔ اور وہی بہترین کارساز ہے اور اس کے بندوں کی نشانی یہی ہے کہ اس کے حکم کے مطابق زندگی بسر کرنے والے ہوں گے اور جو خود کتاب و سنت پر عمل کرنے والے لوگ ہیں ان سے کتاب و سنت کو سیکھو۔ اور سمجھنے کی کوشش کرو۔ محض اٹکل یا رسومات سے اللہ کریم کو راضی نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ اس کام کے لیے اس کے حکم کی تعمیل ضروری ہے اسی لیے پیروں اور مشائخ کے معاملہ میں بھی ادب ضرور کیا جائے مگر غلو سے کام نہ لیا جائے۔ ان سے اللہ اور اللہ کے نبی کی باتیں سیکھی جائیں۔ رسومات اور رواجات میں پڑ کر تباہی کا راستہ اختیار نہ کیا جائے۔