4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 4:77–87

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ قِیْلَ لَهُمْ كُفُّوْۤا اَیْدِیَكُمْ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْیَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَةً١ۚ وَ قَالُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ١ۚ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ؕ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ١ۚ وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى١۫ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:77 in the Quran reader

(اے مخاطب ! ) کیا تو نے ان لوگوں نہیں دیکھا جن کو (پہلے) حکم دیا گیا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو پھر جب ان پر جہاد (قتال) فرض کردیا گیا تو ان میں کچھ (لوگ) لوگوں سے اس طرح ڈرنے لگے جیسا اللہ سے ڈرنا چاہیے یا اس سے بھی بڑھ کر ڈرنا اور کہنے لگے اے ہمارے پروردگار ! آپ نے ہم پر جہاد (جلدی) کیوں فرض کردیا ہمیں کچھ عرصہ تک مہلت کیوں نہ دی ؟ آپ فرما دیجئے کہ دنیا کا فائدہ (بہت) تھوڑا ہے اور جو پرہیزگار ہو اس کے لئے آخرت بہت بہتر ہے اور تم پر دھاگے برابر بھی زیادتی نہ کی جائے گی

اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍ١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ١ؕ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ حَدِیْثًا Open ayah 4:78 in the Quran reader

تم جہاں کہیں بھی ہوگے موت تم کو پالے گی خواہ تم (بڑے بڑے) مضبوط قلعوں میں بھی ہو اور اگر ان کو کوئی اچھی حالت پیش آتی ہے تو کہتے ہیں یہ (اتفاقاً ) اللہ کی طرف سے ہے اور اگر ان کو کوئی بری حالت پیش آتی ہے تو کہتے ہیں یہ آپ کی وجہ سے ہے۔ آپ فرما دیجئے کہ سب (رنج و راحت) اللہ ہی کی طرف سے ہے تو ان لوگوں کو کیا ہے کہ بات سمجھنے کے قریب بھی نہیں پہنچتے

مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ١٘ وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ١ؕ وَ اَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا Open ayah 4:79 in the Quran reader

(اے مخاطب ! ) تم کو جو بھلائی پیش آتی ہے تو وہ محض اللہ کی طرف سے ہے اور جو برائی (مصیبت) پیش آتی ہے تو وہ تیری اپنی طرف سے (شامت اعمال) ہے اور ہم نے آپ ﷺ کو تمام لوگوں کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور اللہ گواہ کافی ہے

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ١ۚ وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاؕ Open ayah 4:80 in the Quran reader

جس نے پیغمبر کی اطاعت کی تو یقینا اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جو شخص روگردانی کرے تو ہم نے آپ کو ان پر نگران بنا کر بھیجا

وَ یَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ١٘ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَیَّتَ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَكْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ١ۚ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 4:81 in the Quran reader

اور (زبانی) کہتے ہیں ہم نے فرمانبرداری (اختیار) کی پھر جب آپ کے پاس سے باہر جاتے ہیں تو ان میں سے کچھ لوگ شب کو مشورہ کرتے ہیں جو آپ سے کہہ چکے تھے اس کے برخلاف۔ اور جو مشورہ یہ کرتے ہیں اللہ لکھ لیتے ہیں سو آپ ان کی پرواہ نہ کیجئے اور اللہ پر بھروسہ کیجے اور اللہ کارساز کافی ہیں

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ؕ وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا Open ayah 4:82 in the Quran reader

کیا یہ قرآن میں غور نہیں کرتے اور اگر یہ اللہ کے سوا (کسی اور) کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے

وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ١ؕ وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:83 in the Quran reader

اور جب ان کے پسا امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اسے پھیلا دیتے ہیں اور اگر اسے پیغمبر اور اپنے امراء کے پاس لے جاتے تو ان میں سے جانچنے والے اسے جانچ لیتے اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو تھوڑے لوگوں کے سوا تم سب شیطان کے پیروہ ہوجاتے

فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّ اَشَدُّ تَنْكِیْلًا Open ayah 4:84 in the Quran reader

پس آپ اللہ کی راہ میں قتال کیجئے آپ اپنے سوا کسی کے ذمہ دار نہیں ہیں اور مسلمانوں کو رغبت دلائیے قریب ہے (امید ہے) کہ اللہ کافروں کی جنگ (کے زور) کو روک دیں اور اللہ لڑائی میں سخت ہیں اور سخت سزا دیتے ہیں

مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقِیْتًا Open ayah 4:85 in the Quran reader

جو شخص اچھی سفارش کرے اس کو اس میں سے حصہ ملے گا اور جو بری سفارش کرے اس کو اس (کے عذاب) میں سے حصہ ملے گا اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والے ہیں

وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا Open ayah 4:86 in the Quran reader

اور جب تم کو کوئی (مشروع طور پر) سلام (دعا) کرے تو اس سے اچھے الفاظ میں اسے سلام (دعا) کرو یا وہی (الفاظ) اسے لوٹا دو یقینا اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:87 in the Quran reader

اللہ ہے ، کوئی اس کے سوا عبادت کے لائق نہیں وہ ضرور تم (سب) کو قیامت کے دن جمع کریں گے جس میں کوئی شبہ نہیں اور اللہ سے زیادہ بات میں سچا کون ہوسکتا ہے ؟

اسرار و معارف آیات نمبر 77 تا 78 ۔ اے مخاطب ذرا ان لوگوں کو دیکھ جن کو روکنا مشکل ہورہا تھا اور یہ حکم دیا جاتا تھا کہ نماز روزہ کی پابندی کرو زکوۃ دو یعنی ارکان اسلام پر عمل کرو اسلام کو خود اپنے اوپر نافذ کرو تب یہ جہاد اور قتال کے لیے بیقرار تھے کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے اللہ کا حکم ہو رسول اللہ ﷺ لائے ہوں اور لوگ مانیں نہیں وہ خواہ اہل مکہ ہوں یا کوئی بھی اور ہم ان سے نزور شمشیر منوائیں گے تو ارشاد ہوتا تھا ٹھہرجاؤ ذرا اپنے ہاتھوں کو روک کر رکھو یہ در اصل منافقین کا کردار تھا جب مسلمان ہجرت کرکے آئے تو جو منافقین ان کی صفوں میں شامل ہوگئے یہ ان کی باتیں ہیں جو بعض حضرات نے مومنین کی طرف منسوب کرکے بڑا معذرت خواہانہ سا ترجمہ کیا ہے مگر اکثر مفسرین اس طرف نہیں گئے کہ فوراً بعد منافقین ہی کا تو ذکر آ رہا ہے پھر مومنین کی زندگی بڑی سادہ تھی بات سنی اور تسلیم کرلی ختم یہ مطالبے اور ظاہر داری خود منافقت ہی کا تو اظہار ہے سو فرمایا جب جہاد فرض کردیا گیا تو اب دیکھو ان کا خون خشک ہورہا ہے اور یہ کافروں سے اس طرح خوفزدہ ہیں کہ اتنا تو اللہ سے ڈرنا چاہیے تھا بلکہ اس سے بھی زیادہ اور یہ قانون ہے کہ جو لوگ مخلص ہوتے ہیں اور اپنے وجود پر اپنے ضمیر پر اپنے آپ پر اسلام نافذ کرتے ہیں وہ دوسروں پر بھی کرسکتے ہیں مگر جو خود کو اسلام سے نا آشنا رکھتے ہیں وہ محض منافقت سے اسلام کے نام کو زینہ بنا کر اقتدار تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اور بس صحابہ نے خلوص دل سے دین اپنایا تو وہ اسے روئے زمین پر پھیلانے کا سبب بنے آج کے مدی ایم این اے ہاسٹل میں شرابیں پیتے اور رنڈیوں کے ڈانس دیکھتے ہیں اور نفاذ اسلام پر بحث بھی ہوتی آپ اہل اللہ کی زندگیوں کو دیکھئے کیا ہوتا ہے ان بوریا نشینوں کے پاس صرف خلوص جو لاکھوں دلوں کو گرما جاتا ہے اور حکمرانوں کے پاس اختیارات تو ہوتے ہیں مگر خلوص نہیں اس لیے کچھ کر نہیں پاتے سو اول اپنی اصلاح ضروری ہے ورنہ پھر کافروں سے ڈر آتا ہے اور اتنا شدید کہ خوف خدا سے زیادہ کافروں کا خوف دل پہ چھا جاتا ہے کہ اللہ سے کوئی ڈرتا ہے تو امید رحمت بھی رکھتا ہے مگر وہاں سوائے ایذا کے کسی شے کی امید نہیں ہوتی اب یہ اسی دلی خوف کو چھاپنے کے لیے کہتے ہیں خدایا کچھ تھوڑی سی مہلت دے دی ہوتی ہم ذرا سنبھل جاتے مکہ والوں کو تو تیرہ برس مکہ میں مل گئے جہاد فرض نہیں ۃوا اور یہاں مدینہ میں اتنی جلدی فرمایا میرے حبیب ﷺ ان کو سمجھا تو کتنا کریم ہے رد نہیں فرماتا جھڑک نہیں رہا بلکہ پھر بھی سمجھانے کا حکم دے رہا ہے یا ر کیا کروگے دنیا کو اول تو ساری دنیا کبھی کسی کو ملتی نہیں جو تھوڑی بہت ملتی ہے ساتھ ضرور تکلیفیں بھی لاتی ہے اور پھر سب سے بڑی بات کہ آخر چھوڑ کر جانا ہے اور جو لوگ اللہ سے دوستی کر لتیے ہیں دل کی گہرائیوں سے دوستی ، ان کے لیے آخرت بہت بڑی دولت ہے جسے کبھی زوال نہیں جو کم از کم اتنی ملتی ہے کہ آدمی بس بس کرنے لگتا ہے جس کے ساتھ کوئی دکھ نہیں اور جو کبھی چھینی نہیں جائے گی مگر اللہ سے دل کو جوڑ لو ایسا کہ اس کی نافرمانی پہ تڑپ جائے موت آسان معلوم ہو اور گناہ مشکل دو تو یاد رکھو تمہارا کچھ رائیگاں نہیں جائے گا کوئی چھوٹی سے چھوٹی نیکی ضائع نہیں ہوگی ایک تار برابر زیادتی نہیں کی جائے گی اب رہی بات جینے اور مرنے کی تو بھئی موت کو تو آنا ہے آ کر رہے گی تم کسی مضبوط قلعے میں چھپ جاؤ کسی پوشیدہ ترین جگہ میں چلے جاؤ جب موت کا وقت آجائے گا تو تمہیں مرنا ہوگا اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں لیکن اگر تم جہاد کا حکم خلوص دل سے قبول کرلو تو زیادہ سے زیادہ میدان جنگ میں موت ہی آئیگی مگر نہیں تلوار کی دھار تمہیں وہ زندگی دے گی جو موت کو شکست دے دیگی مگر یہ منافق ایسے بد نصیب ہیں کہ فتح ہو تو کہتے ہیں اللہ نے اتفاقاً دے دی ورنہ یہاں کس کو سمجھ تھی منصوبہ بندی کی اور اگر شکست یا مصیبت آجائے تو آپ ﷺ کو طعنہ دیتے ہیں کہ مصیبتیں تو آپ کی وجہ سے ہمیں دیکھنا پڑیں فرمائیے سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے اور کتنی گئی گذر قوم ہے منافقین کی کہ ان کے پلے ہی کچھ نہیں پڑتا ہدایت کے اسباب میں سے آخری انتہائی موثر سب سے اعلی اللہ کا کلام اور اللہ کا رسول ﷺ ہیں جو ان کے ظہور کے بعد بھی نہیں سمجھتا اس کی جہالت بھی انتہا درجے کی ہے اور انہیں یہ بھی بتا دیجئے کہ نعمت محض اللہ کی طرف سے ملتی ہے ہم اگر عبادت اور نیکی بھی کریں تو جو کچھ پہلے حاصل کرچکے ہیں صرف اس کا شکر ادا نہیں ہوتا وجود شکل عقل اعضاء آنکھیں سوچ شعور اور کیا کچھ نعمتیں جو ہم لے چکے ہیں سو مزید جو کچھ ملتا ہے محض اس کی عطا ہے اور جو دکھ پہنچتا ہے وہ ہمارے اعمال کی وجہ سے ہے کافر پر مصیبت اخروی عذابوں کا ادنے سا نمونہ ہوتی ہے اور دنیا میں بطور سزا جسے از قسم عقوبات کہتے ہیں۔ مومن پر مصیبت اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے اسے تلافی مافات کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں اور بعض اوقات مزید ترقی کا سبب بن جاتی ہے جو خاصان خدا پر آتی ہے اسے ترقی درجات کا نام دیا جاتا ہے۔ رہی آپ کی بات تو آپ تو ہمارے اور ہمارے بندوں کے درمیان سب سے اعلی واسطہ ہیں کہ بندہ بھی اپنی درخواست سنا سکتا ہے اپنا دکھ بتا سکتا ہے اور اللہ کا حکم بھی آپ سے لے سکتا ہے برکات و انوارات سے جھولی بھر سکتا ہے میرے حبیب صرف آپ کی ذات ہی بندوں پہ میرا کتنا بڑا احسان ہے اور آپ کی رسالت کا گواہ تو اللہ خود کافی ہے کسی دوسرے کی ضرورت ہی نہیں جب اللہ نے گواہی دی تو کتنی شاندار دی کہ بچپن معجزہ لڑکپن معجزہ جوانی معجزہ بعثت معجزہ ہجرت معجزہ حیات مدنی معجزہ حیات ابدی معجزہ پھر کسی اور گواہی کی کیا ضرورت ہے آپ کی تو کتاب تک معجزہ ہے ۔ بلکہ جس نے آپ کی غلامی کرلی اس نے اللہ کی غلامی کرلی کہ آپ ﷺ کے لب مبارک جب بھی کسی حکم کے لیے کھلتے ہیں تو وہ اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے اب اس سے بڑھ کر خوش نصیبی کیا ہوگی ہاں ایمان شرط ہے اللہ سے ایمان اس کی عظمت دل میں ہو اس کی بات سننے کو دل تڑپے اس کی بات ماننے کو جی بیقرار ہو تو یہ مسئلہ تو حل ہوگیا کہ جس نے آپ ﷺ سے سنا مجھ ہی سے سنا اور آپ ﷺ کا حکم مانا تو میرا ہی مانا اور جو اس سعادت سے محروم رہا من تولی یعنی اپنی مرضی سے بھاگ گیا ایسے بد نصیب کے لیے آپ ﷺ ذمہ دار نہیں ہیں آپ کا کام ان کی نگہبانی فرمانا نہیں کہ ہر انسان کو پسند کا حق خود میں نے دے دیا ہے خواہ وہ اس حق کو میرے ہی خلاف استعمال کرے زبردستی نہیں روکوں گا ہاں نتیجہ سے خبردار کردیا ہے اور بار بار بتا دیا ہے کہ یہ راستہ تباہی کو جاتا ہے۔ منافقین کا حال تو یہ ہے کہ اطاعت کا اقرار بھی کرتے ہیں اور جب راتوں کو اپنے گھروں میں جمع ہوتے ہیں تو آپ کے خلاف یا آپ کے احکام و فرمودات کے خلاف مشورے کرتے ہیں اور یہ جو کچھ بھی کرتے ہیں جتنا بھی چھپ کر کرتے ہیں الہ کریم لکھتے جاتے ہیں یعنی ان کا نامہ اعمال تو بن رہا ہے۔ سو میرے حبیب ان کی پرواہ مت کیجیے یا ٹھہرئیے میں بھی ترجمے کا حق ادا نہیں کرپایا ترجمہ کچھ یوں بنتا ہے ان سے صرف نظر فرمائیے اس میں دونوں پہلو ہیں ایک تو امور دنیا میں امور سلطنت میں ان کی پرواہ مت کیجئے کہ کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے دوسرے انہیں رسوا مت کیجیے لوگوں میں ان کا بھید کھول کر یا انہیں اپنی تعلیمات کی محافل سے محروم فرما کر بلکہ آپ درگذر فرمائیے اور اللہ ہی پر بھروسہ رکھیے وہی بہترین کار ساز ہے۔ اتنا کرم تو منافق کے ساتھ بھی ہے کہ جھڑک دینے سے تو بالکل محروم ہوجائے گا ساتھ رہنے سے اصلاح کی امید تو ہے ورنہ ایمان سے تو پہلے خالی ہے اور کیا بگڑے گا سو علما کا بھی حق بنتا ہے کہ ایسے لوگوں کو جو عملاً اسلامی تعلیمات اور اعمال سے دور ہیں قریب لائیں اور انہیں نفرت کا نشانہ نہ بنائیں ہوسکے تو محبت دیں کہ مخلوق کی اصلاح مطلوب ہے لوگوں کو سزا دلوانا مقصد نہیں ہے وہ تو کسی کے عمل پر از خود مرتب ہو ہی جائے گی۔ اور یہ بظاہر مسلمان اور دلوں میں شبہات پالنے والے لوگ بھی عجیب ہیں کیا یہ قرآن میں تدبر نہیں کرتے غور نہیں کرتے کبھی نہیں سوچتے کہ نہ صرف پوری کائنات کے مسائل ان کے اسباب ان کا حل بلکہ دونوں جہانوں کی زندگی اور دونوں زندگیوں کی ضرورتیں اور حاجات پھر ان کے اسباب و علل اور پورا کرنے کے طریقے یا محرومی کے اسباب کس حسن ترتیب اور حسن ربط سے ارشاد فرمائے ہیں اب یہ کلام اللہ کے سوا کسی بھی اور کا ہوتا تو پہلی بات تو ہے کہ دنیا کی زندگی کے علاوہ اس سے پہلے کیا کچھ تھا یا بعد میں کیا ہوگا یہ کبھی کسی فلسفی کی نہ سمجھ میں آیا نہ اس پر کسی نے بات کی یعنی بڑا حصہ جو آخرت ہے جو ابدی ہے اس کی تو خبر ہی نہیں رکھتے اور تھوڑے سے حصے کو جو زندگی کا مختصر ترین وقفہ ہے زیر بحث لاتے ہیں پھر اس میں بھی نہ صرف یہ کہ سب کی رائیں متفق نہیں ہوپاتیں خود اپنی باتوں کی تردید کرتے رہتے ہیں کہ پہلے جو بات تجربہ میں آئی وہ غلط تھی اور درست بات یہ ہے تو یہی حال قرآن کا ہوتا اس میں بیشمار اختلافات ہوتے مگر اس کی آرا ایسی ٹھوس کہ جو خبر دی کبھی تبدیل ہوئی نہ ہوگی اور احکامقوموں کے مزاج ، وقت کے تقاضوں اور سب سے بڑی بات کہ لوگوں کی قسمتوں کے مطابق بدلتے رہے مگر ٹھوس اور بغیر کسی ادنی شک کے اب رہی بات قرآن حکیم میں تدبر کی تو اس کی دعوت عام ہے ہر شخص کے لیے مگر یہ یاد رہے کہ جس طرح الفاظ قرآن اللہ کے رسول ﷺ نے بیان فرمائے ہیں اسی طرح ان کے معانی متعین فرمانا یہ منصب نبوت ہے اب اس کے اندر رہتے ہوئے قرآن حکیم اور حدیث پاک کو سمجھنے کے لیے نیز احادیث مبارکہ کو پرکھنے کے لیے جن علوم اور جس معیار کی ضرورت ہے اگر وہ کسی کے پاس ہو تو وہ شوق سے کتاب اللہ میں فکر کرے ، غور کرے ، اجتہاد کرے۔ لفظ اجتہاد میں نے عمداً استعمال کیا ہے کہ آجکل لوگوں کو اجتہاد کا بہت شوق ہورہا ہے تو اس کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ میرے خیال میں تو متقدمین ائمہ کرام نے اس کی ضرورت باقی نہیں چھوڑی ، ہر سوال جو پیدا ہوتا ہے اس کا جواب ان کے ہاں مل جاتا ہے پھر ہر شخص کی فکر کا درجہ اس کے اپنے علم ادراک اور فہم کے مطابق ہوگا مگر کسی کا اجتہادبھی ان حدود کو عبور نہیں کرسکتا جو سنت نبوی سے معین ہوچکی ہیں۔ سو ہمارے جدید مجتہدین کا مقصد پھر بھی حل نہ ہوگا کہ ان کا خیال اجتہاد کے نام پر قرآن کے نئے معنی مقرر کرنا ہے۔ جو بہرحال صرف منصب نبوت ہے کہ قرآن کی تعیین کرے کون کون سے الفاظ کون کون سی ٓیات قرٓن ہیں اور ان کے معانی معین و مقرر فرمائے جس کا رسول اللہ ﷺ نے حق ادا فرما دیا کہ نہ صرف زبانی تفسیر ارشاد فرمائی بلکہ ایسے لوگ معاشرہ ایسی حکوتم اور ایک ایسا ملک بنا سنوار کر دنیا کے روبرو کردیا جس کا ہر کام کتاب الہی کی تفسیر تھا اب اگر کسی کو اجتہاد کرنا ہے تو اس کا اجتہاد یہ ہے کہ اس میں سے اپنے مسئلے کا حل تلاش کرے یا کوئی اس جیسی مثال تلاش کرکے اس پر قیاس کرلے یہی اجتہاد ہے اور یہی قیاس اور یہ کبھی کسی زمانے میں منع نہیں ہے۔ منافقین کی ایک بات اور بھی بڑی تکلیف دہ ہے کہ بات سنتے ہیں وہ بھلائی کی ہو امن کی ہو یا خوف کی ، فتح کی خبر ہو یا کسی جگہ مسلمانوں کی شہادت فوراً پھیلا دیتے ہیں۔ حالانکہ حق یہ تھا کہ جب انہوں نے بات سنی تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت عالیہ میں عرض کرتے یا پھر متعلقہ حاکم کو اطلاع کرتے تاکہ اس خبر کی تحقیق ہو اگر فتح کی خبر تھی تو بھی سچ سچ پہنچ پاتی اگر کہیں دشمن سے نقصان پہنچنے کی اطلاع تھی تو وہ بھی درست ہوتی اور آپ ﷺ یا متعلقہ امیر اس کی تحقیق فرماتے (اولو الامر پہ بات پہلے گذر چکی ہے اگر چاہیں تو ٓیہ اولی الامر منہم میں دیکھ لیں) استنباط ہوتا ہے۔ تحقیق کرکے خبر کی تہ سے حقیقت کو پا لینا اور یہ رسول اللہ ﷺ کو بھی حکم دیا جا رہا ہے اسی کے ساتھ اولی الامر کو بھی یعنی یہ منصب رسالت بھی ہے کہ اخبار کی تحقیق فرمائی جائے اور علما فقہا اور حکام کا فرض بھی ہے کہ دین کے احکام میں تحقیق سے کام لیں اور ہر کس و ناکس کی بات پہ عمل کرے اسی کو تقلید کہتے ہیں۔ حکام کو اللہ نے اختیار دیا ہے وہ عام ٓدمی سے حکماً اور جبراً بات منوا سکتے ہیں اور جو بات حاکم منوانا چاہے اسے قانون کہا جاتا ہے خواہ وہ کتنا ظالمانہ ہو انہیں بھی چاہیے اللہ کا خوف کریں اور اللہ کی مخلوق سے وہ بات منوائیں جو ان کا رب اور اس کا رسول منونا چاہتا ہے مگر یہ تو اسلام ہے بھلا منافق یہ سب کچھ کیوں کریں گے۔ وہ تو الٹی سیدھی باتیں بنا کر یا آج کے دور میں نعرے لگا کر جلسے کرکے لوگوں کو پیچھے لگا لیتے ہیں۔ مگر اس دور میں ایسا نہیں ہوتا تھا کہ اللہ فرماتے ہیں۔ لولا فضل اللہ علیکم ورحمۃ۔ اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم بھی شاید شیطان کی بات مان لیتے یعنی ان منافقوں کی نعرہ بازیوں کا شکار ہوجاتے مگر اللہ کے ساتھ خلوص ، اس کے نبی کے ساتھ خلوص تمہیں ضائع نہیں ہونے دیتا بلکہ تم میں تو پھر بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو کسی حال میں بھی ان شیاطین کے ورغلانے میں نہیں ٓتے کچھ تو ایسے ہیں جن کا اپنا کچھ ہے ہی نہیں ، نہ دل نہ سوچ نہ آرزو سب بک چکا ہے اب ان سے شیطان بھی کیا لے گا۔ خواہ نسبتاً ایسے لوگ تھوڑے سہی مگر تھے ضرور کہ جنہوں نے محبت کی انتہا اور عشق کا آخر بتا دیا کہ کوئی انسان کسی انسان سے محبت کی راہ میں کہاں تک جاسکتا ہے جہاں وہ خود بھی گم ہوجائے۔ اندیشہ سود و زیاں سے بالا تر ہوجائے۔ جب کچھ پاس نہ ہو اور کسی طرح کی طلب ہی نہ رہے تو سود کیسا اور زیاں کسے کہتے ہیں۔ اور صحابہ میں ہی ایسے لوگ بھی تھے جن کا نہ دل بچا تھا کہ آرزو کرتے نہ سر بچا کہ کچھ سوچتے بس سرور عالم ﷺ کی دید ان کی زندگی ، آپ کی اطاعت ان کی دولت اور آپ کی غلامی ان کا سرمایہ حیات تھا۔ سو آپ افواہوں کی پرواہ مت کریں اگرچہ آج بھی اسے جنگ میں بہت موثر تھیار کے طور پر استعمال کرنا ایک جنگی قاعدہ ہے یعنی مخالف کیمپ میں بددلی پھیلانے والی باتیں پھیلا دینا ففتھ کالم ک نام سے یہ جنگ کا حصہ ہے اور مسلمانوں کی نوزائیدہ ریاست جو صرف مدینہ منورہ اور اس کے قرب و جوار پر محیط تھی اس میں ایسی خبریں اڑانا جبکہ دشمن واقعی زور آور اور تربیت یافتہ ہتھیاروں سے لیس اور افرادی قوت میں بھی بہت زیادہ برتری کا حامل ہو تو ایسی حالت میں تو یہ بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتی تھیں۔ جبکہ ارشاد ہوا کہ اے میرے حضبیب ﷺ اللہ کی راہ میں لڑو۔ فرمایا۔ فقاتل۔ یعنی جان توڑ کر لڑو۔ کہ تم اپنی ذات کے لیے جوابدہ ہو دوسرے خود اپنی اپنی ذات کے لیے جواب دیں گے۔ ہاں ایمان والوں کو جنگ کی تاکید ضرور کریں دیکھیں ضرورت جہاد کو فرض کردیتی ہے اور جو جسقدر ذمہ دار ہوتا ہے اسی قدر اس پہ فرض بھی آتا ہے جیسے یہاں ضرورت ہے۔ کفار مکہ للکار کر گئے میدان احد میں کہ زیقعدہ میں بدر میں دوبارہ ملیں گے اب نہ جانا تو ان کا حوصلہ بڑھانے والی بات ہوئی۔ مگر منافقین بری بری خبریں اڑا رہے ہیں کہ در پردہ انہیں کے آدمی تھے۔ ساتھ کبھی کہتے یار ابھی تو احد کے زخمی بھی اچھے نہیں ہوئے کبھی کہتے مکہ والوں نے بہت بڑی تیاری کی ہے تو اللہ نے حکم دیا میرے حبیب آپ پیچھے مت ہٹیے اگر خدانخواستہ کوئی بھی ساتھ نہ دے تو اکیلے اترئیے میدان جنگ میں کہ آپ اپنی جان کے مکل ہیں وہ پیش کردیں یعنی اب سے پہلے پیر صاحب کو جہاد کے لیے جانا چاہیے اور ان کے ساتھ علما کو کوئی جائے نہ جائے مگر انہیں یہ ضرور دیکھنا ہے کہ جانشین کس کے ہیں۔ ہاں آپ مومنین سے ناامید مت ہوئیے۔ انہیں جہاد کی ترغیب بلکہ تاکید فرمائیے چناچہ جب آپ ﷺ ستر صحابہ کو حکم دیا تو وہ تیار ہوگئے اور آپ ﷺ بدر تشریف لے گئے اسے بدر صغری کہتے ہیں۔ اب آگے کیا ہوا فرمایا اللہ قادر ہے چاہے تو کافر کو جنگ ہی سے روک دے کہ کافر اللہ سے تو نہیں لڑ سکتا۔ اللہ بہت زبردست بھی ہے اور بہت سخت سزا دینے والا بھی اگر وہ چاہے تو کافر کو قتل کی سزا دے یا مومن کو شہادت کا انعام اور چاہے تو جنگ ہی روک دے اور یہی ہوا کہ اہل مکہ کے دلوں پہ ہیبت طاری ہوگئی اور وہ نہ آسکے۔ اب جس نے تو بہتر رائے دی اچھی سفارش کی اس کے لیے اس میں ثواب ہے اور جس نے غلط رائے دی یا غلط سفارش کی وہ اس کی سزا میں سے حصہ پا لے گا۔ جیسے منافقین نے لوگوں کو جہاد سے روکنے کی کوشش کی اب وہ رکے یا نہیں یہ الگ بات ہے یہ اپنے کیے کی سزا کے حقدار قرار پائے۔ ایسے ہی مومنین جنہوں نے رائے بھی درست دی اور جن کو حکم ملا تعمیل ارشاد میں چل دئیے اب جنگ ہوئی یا نہ یہ لوگ اپنے اس کام کا ثواب ضرور پائیں گے۔ یہی قانون بن گیا سفارش کے لیے کہ اللہ کریم نے اسے دو حصوں میں بانٹ دیا ایک آدمی مستحق ہے مگر اپنا حق بھی نہیں مانگ سکتا۔ غریب ہے اس کی شنوائی نہیں ہوتی تو آپ اس کے حق کے لیے کہہ سکتے ہیں تو ضرور کہہ دیں۔ یہ شفاعتِ حسنہ ہوگی۔ اب اس کا کام تو متعلقہ حاکم نے کرنا ہے مگر آپ نے بات پہنچا کر حق ادا کردیا۔ اب زبردستی منوانا ضروری نہیں آپ ثوا کے مستحق ہوگئے اور اگر ناحق سفارش کی یا اثر و رسوخ استعمال کرکے کسی کو ایسی چیز دلوا دی جو اس کا حق نہ تھا یا اس کیلئے آپ نے کوشش کرلی اسے مل گئی یا نہ ملی آپ کا حصہ گناہ میں شامل ہوگیا۔ جسے ہم کبھی پیسے کے لیے یا بدلے میں اور کوئی ذاتی فائدہ حاصل کرکے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے کسی ایسے آدمی کا وہ کام کروانے کی سعی کرتے ہیں جو اس کا حق نہیں تو کام ہو یا نہ ہو ہمارا حصہ گناہ میں ضرور ہوجاتا ہے اور آجکل تو سب سے زیادہ ظلم ووٹ اور انتخاب میں ہوتا ہے ۔ ہر اس آدمی کے لیے کوشش کی جاتی ہے جو کسی بھی اس منصب کا اہل نہیں ہوتا۔ اللہ کریم ہمیں معاف فرمائیں اور ہدایت نصیب فرمائیں کہ ہم ہر کام کے لیے اللہ کی عظمت کو پیش نظر کھیں اس لیے کہ وہی ہر چیز پہ قدرت رکھنے والا ہے۔ روزی دینے کا کام ہو ، عہدہ عطا فرمانا ہو ، عزت و آبرو ہو یا عیش و آرام ، دنیا ہو یا آخرت سب کچھ وہی دے سکتا ہے کہ وہ قادر مطلق ہے۔ اور ہاں اگر کوئی چھا کلمہ کہے دعا دے یا کلمہ خیر کہے تو اسے اس کے الفاظ سے بہتر الفاظ میں جواب دیا کرو یا پھر کم از کم اس کے الفاظ تو اسے لوٹا دیا کرو۔ اسلام نے اس دعا کو شروع کردیا کہ دنیا کی تمام مہذب اقوام میں ملتے بچھڑتے وقت کچھ الفاظ دعائیہ یا ایسے جن سے اظہار شکر ہوتا ہو یا اظہار محبت ہوتا ہو ضرور کہتے جاتے ہیں۔ عربوں میں بھی قبل اسلام دعائیہ الفاظ رائج تھے مثلا حیاک اللہ یا انعم صباحا وغیرہ۔ مگر اسلام نے اللہ کریم کے مبارک نام ، سلام کو جو ہر ہر طرح کی سلامتی کو محیط ہے اور ہر جگہ ہر زمانے میں محیط ہے۔ اپنی دعا کا مرکزبنایا اور عند الملاقات یہ حکم رائج فرمایا السلام علیکم۔ یہ ایک جامع دعا بھی ہے نہ صرف زندہ رہنے کی دعا بلکہ دنیا کی ہر تکلیف سے بچنے کی دعا نہ صرف صحتمند رہنے کی دعا بلکہ نیک اور صالح بھی رہنے کی دعا نہ صرف نیک انجام کی دعا بلکہ موت بعد الموت قبر اور حشر تک سلامتی ہی سلامتی تمہیں نصیب ہوتی چلی جائے۔ کتنی عجیب دعا ہے کاش یہ دوسرے کے لیے ہمارے دل سے نکلے پھر اس کا کم از کم اثر یہ ہے جو ہر آفت سے محفوظ رہنے کی دعا دے رہا ہے وہ خود تو اس کے لیے آٖت بننا پسند نہیں کرے گا۔ یعنی یہ ضمانت ہے کہ تمہاری جان و مال ، آبرو مجھ سے محفوظ ہے۔ اسے کوئی خطرہ نہیں اور اللہ فرماتے ہیں جواب بہتر الفاظ میں دو تو زیادہ مناسب ہے۔ سو آپ ﷺ سے کسی نے آ کر السلام علیکم عرض کیا تو فرمایا وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ۔ کسی دوسرے نے آ کر عرض کیا تو اس نے ساتھ رحمت بھی شامل کرلی تو آپ نے وبرکاتہ بڑھا دیا وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ پھر جو حاضر ہوا اس نے یہی پورا سلام عرض کیا تو فرمایا وعلیک۔ اس نے عرض کیا حضور آپ نے سب کو بڑھا کر جواب دیا تھا۔ فرمایا تو نے میرے لیے باقی نہیں رہنے دیا یعنی سب دعائیں جمع کردیں میں نے تجھ پر لوٹا دیں تو محققین فرماتے ہیں کہ تین دعاؤں سے بڑھنا بھی درست نہیں بس یہاں تک ہی سنت سے ثابت ہے۔ حدیث شریف میں سلام کرنے کی شرائط بھی ارشاد ہوئیں۔ مثلا کچھ لوگ بیٹھے ہیں تو گذرنے والے کو چاہئے سلام کرے۔ کچھ لوگ تعداد میں کم ہوں تو جو زیادہ ہیں ان کو سلام کہیں۔ ایسے ہی سوار پیدل کو سلام کرے۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کی قبروں پر گذر ہو تو بھی مسنون سلام ضرور کرے اور سلام کرنا مسنون ہے۔ مگر اس کا جواب دینا واجب ہے۔ ہاں بعض حالتوں میں سلام نہیں دیا جائے گا جیسے کوئی نماز پڑھ رہا ہے یا تلاوت کررہا ہے یا اذکار میں مصروف ہے۔ اگر کوئی دے تو جواب دینے کی ضرورت نہیں اور ایک شخص بار بار ملے تو ہر بار سلام دیا جائے گا۔ بلکہ حدیث شریف میں بہت زیادہ تاکید آئی ہے کہ سلام کو مسلمانوں میں عام کیا جائے کہ اس سے محبت بڑھتی ہے اور مصائب کم ہوتے ہیں۔ اور اللہ کریم ہی ہر چیز کا حساب کرنے والے ہیں کہ کس نے زبان سے کیا کہا اور دل میں کیا سوچا یا ارادہ کیا تھا۔ الہ ہی ایسی ہستی ہے جس کے سوا کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ اس کی عبادت یعنی مکمل اطاعت کی جائے اور اس بات میں بھی رائی برابر شبہ نہیں ہے کہ تمہیں یوم حشر جمع فرمائے گا یہ اتنی سچی بات ہے کہ اللہ کی بات سے بڑھ کر تو کسی سچائی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
Ayahs 4:88–91

فَمَا لَكُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ وَ اللّٰهُ اَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوْا١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:88 in the Quran reader

پس تم کو کیا ہے کہ منافقین کے بارے دو گروہ ہوگئے ہو اور اللہ نے ان کو ان کے اعمال (بد) کی وجہ سے الٹا کردیا ہے کیا تم چاہتے ہو کہ ان کو ہدایت کرو جن کو اللہ نے گمراہی میں ڈال دیا ہے اور جس کو اللہ گمراہی میں ڈال دیں تو تم اس کے لئے ہرگز کوئی سبیل نہ پاؤ گے

وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ اَوْلِیَآءَ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ١۪ وَ لَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:89 in the Quran reader

وہ چاہتے ہیں کہ جیسے وہ کافر ہوئے کاش تم بھی ویسے کافر ہوجاؤ پس تم سب برابر (ایک جیسے) ہوجاؤ سو ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ یہاں تک کہ وہ اللہ کی راہ میں وطن چھوڑ آئیں (ہجرت کریں) پھر اگر وہ اعراض کریں (پھر جائیں) تو ان کو پکڑو اور ان کو قتل کرو جہاں کہیں بھی ان کو پاؤ اور ان میں سے نہ کسی کو دوست بناؤ اور نہ مددگار

اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْ جَآءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُهُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَیْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْ١ۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ وَ اَلْقَوْا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ١ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَیْهِمْ سَبِیْلًا Open ayah 4:90 in the Quran reader

سوائے ان لوگوں کے جو ایسے لوگوں سے جاملتے ہیں جن کے اور تمہارے درمیان عہد (معاہدہ) ہے یا وہ (اس حال میں) تمہارے پاس آئیں کہ ان کے دل تمہارے ساتھ یا اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے تنگ ہوں (منقبض ہوں) اور اگر اللہ چاہتے تو ان کو تم پر مسلط کردیتے تو پھر وہ ضرور تم سے لڑنے لگتے پس اگر وہ تم سے ایک طرف ہوجائیں پھر تم سے نہ لڑیں اور تمہارے ساتھ صلح چاہیں تو اللہ نے ان پر تمہارے لئے کوئی سبیل (راہ) نہیں رکھی

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْكُمْ وَ یَاْمَنُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ كُلَّمَا رُدُّوْۤا اِلَى الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِیْهَا١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْكُمْ وَ یُلْقُوْۤا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ وَ یَكُفُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:91 in the Quran reader

اب تم (ان میں) کچھ لوگوں کو پاؤ گے وہ چاہتے ہیں کہ تم سے (بھی) امن میں رہیں اور اپنی قوم سے (بھی) امن میں رہیں جب کبھی انہیں شرارت کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے تو اس میں جا گرتے ہیں سو اگر یہ لوگ تم سے کنارہ کش نہ ہوں اور نہ تم سے صلح رکھیں اور نہ اپنے ہاتھوں کو روکیں تو تم ان کو پکڑو اور ان کو قتل کرو جہاں کہیں ان کو پاؤ اور ان لوگوں پر ہم نے تم کو صاف حجت دی ہے

اسرار و معارف آیات نمبر 88 تا 91 ۔ فمالکم۔۔۔ مبینا۔ مسلمانوں کو زیب نہیں دیتا کہ منافقین کے بارے نرم رویہ اختیار کریں بلکہ حق کو ضرور حق کہا جائے گا۔ ایسے ہی باطل جب ظاہر ہوگیا تو کسی تاویل کی ضرورت نہیں اسے باطل کہنا ہوگا کچھ افراد ایسے تھے جو بظاہر مسلمان ہو کر ہجرت کرکے مدینہ منورہ آگئے مگر یہاں رہ نہ سکے اور کچھ عرصہ بعد مکہ پلٹ گئے اور مرتد ہوگئے یعنی اسلام لانے کے بعد کافر ہوئے تو مرتد ہوگئے مگر اللہ نے انہیں منافق کہا ہے۔ غالبا اس لیے کہ وہ شروع سے ایمان لائے ہی نہ تھے بلکہ ممکن ہے اہل مکہ کے بھیجے ہوئے ہوں کہ مدینہ کے حالات سے باخبر رکھیں گے مگر وہ یہاں نہ ٹھہر سکے واپس بھاگے اور ان کا کفر ظاہر ہوگیا۔ اب مسلمان تو بہت نرم دل تھے۔ بعض نے کہا بیچارے گھر بار کی قربانی برداشت نہ کرپائے ہوں گے یا بیوی بچوں سے جدائی کا بوجھ نہ سہار سکے ہوں گے اس لیے پلٹ گئے۔ دوسروں نے کہا ہرگز نہیں یہ منافق تھے اور بھاگ گئے۔ اللہ کریم کو دوسروں کی نہ صرف رائے پسند آئی بلکہ تائید بھی فرمائی اور ساتھ وجہ بھی ارشاد فرما دی کہ بھئی ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ہم نے خود انہیں بھگا دیا۔ واللہ ارکسھم بما کسبوا۔ ترجمہ : اللہ نے ان کو الٹ دیا بسبب ان کے اعمال کے۔ تو ایک بہت بڑا قانون واضح ہوگیا کہ نبی رحمت ﷺ کی محبت وہ محبت جو نرا دعوی نہ ہو جو غلامی پر مجبور کردے جو آپ کے قدموں میں جھکا دے جو دنیا تو دنیا ہے آخرت بھی اس شرط پہ قربان کرنا پڑے کہ جنت سے ہاتھ اٹھا لو تب نبی اکرم ﷺ کے رخِ انور کو دیکھ سکوگے تو ہاتھ اٹھا دے۔ یہ محبت ایمان عطا کرتی ہے۔ عزت و وقار عطا کرتی ہے اور اگر رسول اللہ ﷺ سے وفا نہیں تو آدمی سب کچھ بن سکتا ہے ایماندار نہیں رہ سکتا کہ اللہ کریم پردہ چاک فرما دیتے ہیں اور فرماتے ہیں اب جنہیں اللہ نے اس محفل پاک سے بھگا دیا کوئی بھلا اسے واپس لا بھی سکتا ہے ہرگز نہیں۔ بیٹھنے کون دے ہے پھر اس کو جو تیرے آستاں سے اٹھتا ہے۔ اب انکے اس جرم کی سزا کے طور پر اللہ نے ہی ان سے ہدایت چھین لی تو بعض مسلمانوں کی نرم دلی سے بھلا یہ سزا ٹل سکتی ہے اگر وہ خود بےوفائی نہ کرتے تو وہاں کی عطایا کا تو شمار نہیں بلکہ اس بار تو عجب مشاہدہ یا تجربہ ہوا چند روز پہلے ہم بھی وہیں موجود تھے۔ صبح اجازت چاہنے کے لیے اور سلام عرض کرنے کے لیے جالی پاک کے سامنے حاضر ہوئے تو چھوٹا بچہ جو سات سال کا ہے ساتھ تھا وہ ذکر بھی کرتا رہتا ہے۔ کبھی کبھی انوارات وغیرہ کی باتیں بھی۔ مگر کبھی ایسی پرواہ نہیں کی تو میں نے کہا آنکھ بند کرکے سلام عرض کرو اور حضور اکرم ﷺ سامنے تشریف رکھتے ہیں۔ کوشش کرو زیارت کرلو تو کہنے لگا ! تو پنڈلیوں تک پاؤں مبارک نظر آ رہے ہیں مگر اتنے روشن ہیں جیسے روشنی ہی سے بنے ہوں میں نے کہا تمہاری قوت برداشت اس سے آگے تمہارا ساتھ نہ دے سکی مگر وہاں کتنا خیال رکھا جاتا ہے۔ دوبئی میں ایک بیٹی کو روحانی بیعت کرائی تو باقی باتیں تو رہنے دیں وہ مجھ سے آنحضرت ﷺ کی چشم ہائے مبارک کے حسن پہ بات کر رہی تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ یہ بچی امریکہ میں پیدا ہوئی پلی بڑھی ، پڑھا ملازمت کی ، شادی کی ، آج کل میاں بیوی دوبئی ہیں بس اللہ اللہ شروع کردی ۔ پتہ نہیں کس خلوص سے آئی ہے کہ اتنے پیار سے اپنائی گئی ہے تو بھئی ایمان کی بقا اور ہدایت کی بنیاد ہے آپ ﷺ سے خلوص جیسے اس میں کمی آئی آدمی بھگا دیا جاتا ہے۔ اور جس کو اللہ بھگا دے بھلا اس کی واپسی کا کوئی امکان ہے یا پھر کوئی اسے واپس لاسکتا ہے ہرگز نہیں بلکہ تم ان کو واپس لانے کی سوچ رہے ہو اور وہ اس فکر میں ہیں کہ تمہیں بھی ایمان سے ہٹا دیں اور معاذ اللہ واپس کفر میں لے آئیں۔ جیسے وہ خود کافر ہوچکے ہیں اور ایک بات ضرور عرض کرتا چلوں کہ آج پھر خلوص کی کمی نے ہمیں منافقت میں مبتلا کرکے تباہ کردیا ہے۔ تقریریں ، جلسے اور ماہنامے وغیرہ ہا ، سب کچھ ہورہا ہے۔ ہر شہر دینی مدرسوں سے اٹا پڑا ہے۔ درس و تدریس کا کام پہلے سے بہت زیادہ ہورہا ہے مگر عملی زندگی انحطاط پذیر ہے اور دینی اعتبار سے ہم دن بدن پیچھے جا رہے ہیں۔ شاید ہمارے دلوں سے وفا اٹھ گئی ہے اور ہم نبی اکرم ﷺ پہ خلوص نچھاور کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ خدا نخواستہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر جب تک ہمارے قلوب میں خلوص پیدا نہیں ہوجاتا ہدایت نصیب ہونا مشکل ہے۔ نیک عمل نصیب ہونا مشکل ہے ہاں نیکی کی ایکٹنگ سے تو شاید کوئی نہیں روکے گا اور نیک عمل اس لیے مشکل ہے کہ اللہ جن سے توفیق عمل چھین لیتا ہے پھر ان کو عملی راستہ پر لگانے یا چلانے کی کوئی سبیل کوئی راہ باقی نہیں رہتی۔ لہذا جب تک یہ لوگ واقعی اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کریں ان سے دوستی اور میل جول تک مت رکھو ہاں اگر ہجرت کرلیں۔ سب کچھ قربان کرکے آپ ﷺ کی غلامی پہ راضی ہوجائیں تو پھر دوستی کے قابل ہیں ورنہ ہرگز نہیں یاد رہے یہ فتح مکہ سے پہلے کی بات ارشاد ہو رہی ہے۔ اور جب مکہ مکرمہ فتح ہوگیا تو آپ ﷺ نے فرمایا لاہجرۃ بعد الفتح کہ مکہ کی فتح کے بعد اب ہجرت ختم ہوئی۔ مگر یہ تو اسباب ظاہر مال و دولت یا گھر بار سے ہجرت تھی۔ سوچ اور عمل ، آرزو اور کردار سے تو ہجرت ویسے ہی فرض ہے جیسے تب تھی۔ اور اگر کوئی یہ سفر اختیار نہیں کرتا تو اس سے دوستی آج بھی جائز نہیں۔ نہ ایسے لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کی اجازت ہے جو اپنے اختیار سے ہو ورنہ ملازمت میں دفتر میں کسی بھی قسم کے انسان کے ساتھ بیٹھ کر کام کرنا پڑتا ہے۔ بلکہ جو لوگ ہجرت کو قبول نہ کریں ان کے ساتھ قتال کرو۔ ارشاد ہے فخذوھم پکڑو انہیں واقتلوھم اور انہیں قتل کرو جہاں مل جائیں انہیں مت چھوڑو اور ایسے منافقوں سے کوئی معاہدہ بھی نہ کیا جائے نہ ان کی سفارش کی جائے۔ نہ ان سے دوستی رکھو نہ کوئی مدد لینے کی کوشش کرو۔ اور یہ امیر کے لیے ضروری ہے۔ قانون ہر آدمی تو ہاتھ میں نہیں لے سکتا مگر امیر کا حق ہے کہ قبول اسلام کے بعد اگر کوئی ارکان اسلام کی ادائیگی میں کوتاہی کرے تو اسے سزا دے اگر جرم کرے تو اسے سزا دے اور اگر احکام اسلام کا انکار کرے تو اس کے ساتھ جنگ کرے ، قتال کرے ، جیسے امیر المومنین خلیفۃ رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم نے منکرین زکوۃ سے اعلان جنگ فرما دیا تھا۔ ہاں مگر کچھ لوگ جو اگرچہ کافر ہیں مگر مفسد نہیں یعنی ان منافقوں کی طرح فتنہ پروری نہیں کرتے بلکہ جنگ سے بیزار ہیں وہ نہ مسلمانوں سے لڑنا چاہتے ہیں نہ کافروں سے ، ایسے لوگوں کو تنگ نہ کیا جائے۔ سبحان اللہ کیا کرم ہیں۔ ارشاد ہوا اگر اللہ چاہتا تو انہیں کو تم پر مسلط کردیتا اور وہ تم سے ضرور لڑتے۔ اب اگر وہ ایک طرف ہوجائیں نہ صرف یہ کہ تم سے لڑنے سے باز رہیں بلکہ صلح سے رہنا چاہیں تو مسلمانوں کو انہیں گرفتار کرنے یا قتل کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ اللہ نے تمہیں اس کی ہرگز اجازت نہیں دی۔ یعنی ایک قسم کے کافر سہی مگر صلح کرلیتے ہیں۔ شرائط طے ہوجاتی ہیں۔ جب تک وہ معاہدہ کی پاسداری کرتے ہیں انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔ دوسرے وہ کافر جو نہ آپ سے جنگ کرنا چاہتے ہیں نہ کسی معاہدے کی رو سے آپ سے مل کر کسی اور سے یعنی سرے سے جنگ ہی نہیں کرنا چاہتے اور صلح سے رہنا چاہتے ہیں انہیں تنگ کرنے یا ان سے لڑنے کا بھی کوئی جواز نہیں۔ ایک تیسری قسم بھی ہے یہ در اصل وہی پہلی قسم ہے جس کی بحث پہلے سے آ رہی ہے کہ آپ لوگ انہیں اس حال میں پائیں گے کہ آپ لوگوں سے بھی بچ کر رہنا چاہتے ہیں اس لیے اظہار ایمان کرتے ہیں اور اپنی قوم سے بھی لڑنا نہیں چاہتے۔ اس لیے ان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں اور اپنے آپ کو بڑا پر امن شہری ظاہر کرتے ہیں مگر مسلمانوں کے خلاف موقع ہواتھ سے جانے نہیں دیتے۔ جیسے کوئی بہانہ ہاتھ فساد کھڑا کردیتے ہیں۔ اس طرح کے لوگ اگر اپنی حرکات سے باز نہ آئیں۔ صلح اور امن سے نہ رہیں اور اپنے ہاتھوں کو نہ روکیں تو پھر ان کا علاج قتل ہے کہ انہیں قطعاً کوئی رعایت نہ دی جائے۔ ان پر فوج کشی کی جائے اور جو جہاں ملے قتل کردیا جائے ایسے لوگوں کے لیے ان کے کرتوتوں کی وجہ سے اللہ کریم کی طرف سے کھلی اجازت ہے بلکہ انہیں سزا نہ دینا بےانصافی شمار ہوگی۔ اور ایسا امیر کبھی امن قائم نہیں کرسکے گا۔
Ayahs 4:92–96

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَئًا١ۚ وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَّ دِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّصَّدَّقُوْا١ؕ فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ١٘ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:92 in the Quran reader

اور کسی مومن کے شایاں نہیں کہ وہ کسی مومن کو قتل کرے سوائے اس کے کہ غلطی سے (ایسا ہو) اور جو کسی مومن کو غلطی سے قتل کرے تو ایک مسلمان گردن (لونڈی یا غلام) کو آزاد کرے اور خوں بہا اس کے خاندان والوں کو ادا کرے سوائے اس کے کہ وہ معاف کردیں پھر اگر وہ (مقتول) تمہارے دشمنوں کی جماعت میں سے ہو اور وہ مسلمان ہو تو ایک مسلمان گردن (لونڈی یا غلام) کو آزاد کرے اور اگر اس قوم سے ہو جس کے اور تمہارے درمیان صلح کا عہد ہے تو اس کے (مقتول کے) خاندان والوں کو خون بہا ادا کرے اور ایک مسلمان گردن (لونڈی یا غلام) کو آزاد کرے پس جس کو یہ میسر نہ ہو تو وہ دو مہینے متواتر روزے رکھے ، یہ اللہ کی طرف سے توبہ کے طور پر ہے اور اللہ بڑے علم والے حکمت والے ہیں

وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا Open ayah 4:93 in the Quran reader

اور جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرڈالے تو اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب ہوگا اور اس کی لعنت (رحمت سے دوری) ہوگی اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤى اِلَیْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا١ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِیْرَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَتَبَیَّنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:94 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم اللہ کی راہ میں باہر نکلو تو تحقیق کرلیا کرو اور جو تمہیں سلام کہے اسے دنیا کے اسباب کی خواہش میں یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے پس اللہ کے پاس بہت غنیمت (کا مال) ہے تم بھی پہلے ایسے ہی تھے پھر اللہ نے تم پر احسان کیا پس تحقیق کرلیا کرو یقینا اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہیں

لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةً١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:95 in the Quran reader

وہ مسلمان جو بلا عذر گھروں میں بیٹھ رہتے ہیں اور جو اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرتے ہیں برابر نہیں ہوتے۔ اللہ نے اپنے مال اور جان سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر درجہ میں فضیلت بخشی ہے اور اللہ نے سب کے ساتھ اچھا (اچھے گھر کا) وعدہ کیا ہے اور جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر بڑے ثواب سے فضیلت دی ہے

دَرَجٰتٍ مِّنْهُ وَ مَغْفِرَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:96 in the Quran reader

اس (اللہ) کی طرف سے درجات ہیں اور بخشش ہے اور مہربانی ہے اور اللہ بخشنے والے مہربان ہیں

رکوع نمبر 13 آیات 92 تا 96: وما کان لمومن۔۔۔ غفورا رحیما۔ اب رہی آپس کی لڑائی تو غلطی ہوجانا خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ورنہ مومن کو زیب ہی نہی دیتا کہ وہ مومن کو قتل کرے۔ ذاتی انا کے مسئلہ پر یا دنیاوی وراثت کے لالچ میں یا حکومت و اقتدار چیننے کے لیے یا ایک دوسرے سے ملک یا علاقہ ہتھیانے کے لیے یعنی فرد سے لے کر حکومت تک مومن کا قتل مومن کو زیب نہیں دیتا اور مسلمان مسلمان سے نہ لڑ سکتا ہے نہ لڑایا جاسکتا ہے ہاں ذاتی طور پر غلطی سے کسی مسلمان نے دوسرے مسلمان کو قتل کردیا تو اس کے ذمے دو کام ہیں۔ ایک تو کسی مسلمان غلام یا لونڈی کو آزاد کرے کہ یہاں رقبۃ مومنہ ہے۔ یعنی ایماندار کی گردن آزاد کرے۔ مرد ہو یا عورت دوسرے مقرر شدہ خون بہا اس کے ورثا کو دے۔ ہاں اگر وہ معاف کردیں تو اور بات ہے اس دور میں سو اونٹ یا ایک ہزار درہم شرعی خون بہا مقرر تھا۔ پھر فقہا نے قتل عمد و قتل خطا کی اقسام پر بحث فرمائی ہے اور اس اعتبار سے خون بہا بھی بیان فرمائے گئے ہیں جو فقہی بحثوں میں یا بعض دیگر تفاسیر میں بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ یہاں زیادہ بحث کرنا مطلوب نہیں بلکہ عام فہم معنوں میں عرض کرنا مقصود ہے۔ ہاں معاف کرنے میں بھی اگر ورثا میں سے مختلف لوگ اپنا حصہ معاف کرتے ہیں تو اس قدر معاف ہوجائے گا ورنہ سب دینا ہوگا۔ یا سب معاف کردیں تو سب معاف ہوجائے گا۔ اب دوسری صورت یہ ہے کہ مقتول ایسے قبیلے کا آدمی تھا جس کے ساتھ مسلمانوں کا معاہدہ امن ہے تو بھی اس کے ورثا کو خون بہا بھی دینا ہوگا اور ایک مومن غلام یا لونڈی آزاد بھی کرنا ہوگی۔ کہ آپ ﷺ نے مومن یا ذمی یعنی ایسے لوگ جو مسلمانوں کے زیر سایہ بستے ہوں ، کا خون بہا برابر دلوایا ہے۔ اب اگر کوئی یہ بھی نہ کرسکے تو پھر کیا کرے ، دو ماہ مسلسل روزے رکھے ، اللہ کریم سے توبہ کرنے کے لیے اپنے دل سے گناہ کی آلودگی دور کرنے کے لیے برائی کی ظلمت کو مٹانے کے لیے مسلسل دو ماہ روزے رکھے۔ اور ہاں یہ تسلسل چونکہ کتاب اللہ نے مقرر فرما دیا اس لیے ضروری ہے۔ اگر بیمار ہوگیا یا سفر وغیرہ کی وجہ سے ناغہ کردیا تو پر شروع سے گنے گا اور دو ماہ پورے کرے گا۔ ہاں عورت ہو تو جو روزے اس کی ماہواری کی وجہ سے قضا ہوگئے ان سے تسلسل نہیں ٹوٹے گا اور ساتھ ہی یہ بھی عرض کردوں کہ فقہا نے حدیث پاک سے استدلال کرکے اور باقاعدہ بحث و تمحیص کے بعد عورت کا خون بہا نصف بیان فرمایا ہے۔ آجکل اس مسئلہ پر بڑا زور لگایا جا رہا ہے اور جدت پسند یا ترقی پسند علماء اس کے خلاف بولنا اور لکھنا بڑی دانشوری گردانتے ہیں میرے ناقص خیال میں ہمیں یہ اعتراض کرنے کا حق نہیں رہتا جب بات رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہوجائے کہ مطالب و معانی اور احکام قرآن کا نفاذ آپ ﷺ ہی کا منصب ہے ، اس کے بعد تو اعتراض ایسے ہی ہے جیسے کہا جائے کہ عورت کو عورت کیوں پیدا کیا گیا۔ اب اگر کوئی روزے رکھنے کی ہمت بھی نہیں پاتا تو خلوص سے توبہ کرے اور امید رکھے کہ جیسے صحت نصیب ہوگی۔ روزے رکھنا شروع کردوں گا پھر جیسے اس قابل ہو شروع کردے کہ اللہ کریم تو اندر کے بھید جاننے والے حقائق کو جاننے والے اور بڑی حکمت والے ہیں کہ ہر شے کی تخلیق سے اور ہر سکھ کی ہر ادا سے حکمت کی روشنی چھن چھن کر برستی ہے۔ اب تیسری صورت کہ کسی نے مومن کو عمدا ارادۃ قتل کردیا جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے کہ انا کی تسکین کے لیے یا لالچ میں آ کر یا اقتدار کی جنگ میں جو مسلمانوں کو قتل کرتا ہے تو اس کی سزا دوزخ ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دوزخ جہاں سے کبھی نکل نہیں پائے گا نہ صرف یہ بلکہ اس پر اللہ کا غضب ہوگا اور لعنت ہوگی اللہ کی طرف سے اور ایسے لوگوں کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کیا گیا ہے۔ ہاں سوائے اس کے کہ وہ توبہ کرے اللہ کی بارگاہ سے معافی کا خواستگار ہو شرعی حیلے اختیار کرے مگر یہ موجودہ حکمران چند روزہ حکومت کے لالچ میں لاکھوں مسلمانوں بلکہ بیگناہ اور ناواقف مسلمانوں کو جن کو یہ تک پتہ نہیں ہوتا کہ ہمیں کیوں مارا جا رہا ہے کیوں قل کیا جا رہا ہے۔ بس جرم بیگناہی کی سزا میں خدا جانے انہوں نے آخرت کے اس انتہائی مشکل وقت کے لیے کیا جواب تیار کر رکھا ہے اور یہ حکومتیں اور یہ حکمران کیا جواب دیں گے اللہ ہی جانے۔ اب یہ مومن کے قتل عمد پہ دوزخ میں ہمیشہ رہنا تو ایمان کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا کہ مومن اگر جہنم میں چلا بھی گیا تو ہمیشہ تو نہ رہے گا۔ اس پر مفسرین کرام نے بڑی مزیدار اور لمبی بحثیں کی ہیں مگر میری ناقص سمجھ میں جو بات آتی ہے وہ یہ ہے کہ اگر تو توبہ نصیب ہوگئی تو اس نے اللہ کا حق بھی ضائع کیا تھا بندے کا بھی ممکن ہے اللہ کریم اپنا معاف کردے اور بندے کا اس کے سپرد کردے کہ بھئی جاؤ کرلو بات۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اسے انعام و اکرام اور عطایا سے نواز کر اسے معافی دلا دے یا کوئی بھی نجات کی صورت پیدا فرمائے یا اگر عذاب بھی ہوا تو ایمان کے ساتھ ہمیشہ کا دوزخ میں رہنا تو نہیں ہوسکتا۔ پھر یہی خطرہ ہے کہ ایسا آدمی دنیا میں ہی ایمان ضائع کرکے مرے گا اور ارادۃ کسی مسلمان کو قتل کرنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ ہی کفر کے قریب لے جاتا ہے اگر توبہ نصیب نہ ہو تو ایمان پر مرنے کی امید نہیں رہتی۔ اب آخری صورت یہ ہے کہ جب تم اللہ کی راہ میں نکلتے ہو یا جہاد کے لیے جاتے ہو تو تحقیق کرلیا کرو اسلام نے دو چیزوں پہ بہت توجہ دی ہے۔ ایک تنظیم کہ ہر چھوٹے بڑے کام ، سفر ، جہاد میں ایک امیر ہوگا باقی سب اس کی اطاعت کریں گے۔ دوسرے تحقیق کہ محض اندازے سے کوئی کام نہ کیا جائے بلکہ ہر کام کے لیے تحقیق کی جائے اور اس کی اصلیت تلاش کی جائے یا لشکر کے سامنے کوئی اظہار اسلام کرتا ہے تو یہ نہ کہا جائے کہ تو مومن نہیں محض دعوے ایمان سے جان بچانا چاہتا ہے۔ ایسے چند واقعات ہوئے۔ ان آیات کے شان نزول میں بیان کیے جاتے ہیں۔ بلکہ ایسا بھی نہ ہونا چاہیے کہ مال غنیمت یا کسی دنیاوی فائدے کیلئے اس کا مسلمان ہونا قبول نہ کیا جائے کہ تمہارے لیے اللہ کریم نے بیشمار غنیمت کا مال بھی رکھا ہوا ہے۔ بڑی بڑی سلطنتوں کے خزانے اس شہر کی گلیوں میں تقسیم کیے جائیں گے گھبرانے کی کوئی بات نہیں کسی طرح کے طمع میں آنے کی ضرورت نہیں۔ محض اللہ کی خوشنودی کی خاطر لڑنا ہے تو جو اسلام کا اظہار کرے اسے قبول کرلو۔ دیکھو تم خود بھی تو پہلے ایسے ہی تھے یہ تو اللہ کا احسان عظیم ہے کہ نبی محترم ﷺ کو مبعوث فرما کر تمہاری تقدیر بدل ڈالی۔ ورنہ تم کیا تھے تم بھی یہی کچھ تھے سو ضرور تحقیق کرلیا کرو نہ ہر ایک کا دعوائے اسلام رد کیا جائے گا اور نہ سب کا قبول ہوگا بلکہ تحقیق ضروری ہے یہیں سے علما نے اصول لیا ہے کہ اہل قبلہ کی تکفیر جائز نہیں خواہ کتنا گناہگار کیوں نہ ہو۔ لیکن اہل قبلہ اسے کہا جائے گا جو کلمہ اسلام کے ساتھ ان سب ضروری عقائد کو بھی مانے گا جن کے ماننے کا تعلق انسان کے عقیدہ اسلام سے ہے۔ اگر کلمہ پڑھنے کے ساتھ کسی بت کو بھی سجدہ کرتا ہے کافرانہ شعار یعنی زنار وغیرہ یا کڑا پہنتا ہے یا کسی ضروری عقیدے کا مثلاً برزخ کا قیامت کا فرشتوں کا یا جنت و دوزخ کا انکار کرتا ہے تو اہل قبلہ شمار نہ ہوگا۔ سو فرمایا تحقیق ضرور کیا کرو اور جو بھی تم کرتے ہو اللہ کو سب خبر ہے۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ بعض مسلمان بغیر کسی عذر کے جہاد میں شک نہیں ہوتے مگر یاد رکھو گھر بیٹھ رہنے والے جان اور مال خرچ کرنے والوں کے برابر تو نہیں ہوسکتے۔ یہاں تصوف کا مسئلہ بھی حل ہوگیا کہ بعض لوگ محنت کرکے خرچ کرکے دوسروں تک اللہ کا نام پہنچانے میں لگے رہتے ہیں اور بعض گھر میں بھی انتظار ہی کرتے ہیں کہ کوئی لے جائے تو جائے تو ذکر کے لیے چلیں گے۔ فرمایا بیٹھ رہنے والے اور جان ، مال ، وقت قربان کرنے والے کیا ایک سے ہوتے ہیں۔ کبھی نہیں بلکہ ہمیشہ مجاہدین کے درجات بلند ہوتے ہیں ، ان کی نسبت جو محنت نہیں کرپاتے۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ مہربانی ، کرم اور عطا کا وعدہ سب سے ہے۔ ملے گا سب کو یہاں یہ بات جان لی جائے کہ اگر کچھ لوگ جہاد کر رہے ہوں اور مزید کی ضرورت نہ ہو تو جہاد فرض کفایہ ہوگا۔ یعنی ان کرنے والوں کی طرف سے سب کا فرض ادا ہوگیا اور عموماً اجتماعی امور ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے جنازہ۔ دینی تعلیم کا کام۔ تبلیغ کا کام بستی میں سے کچھ احباب نے کردیا۔ سب کی طرف سے ہوگیا لیکن فضیلت بہرحال کام کرنے والوں کے نصیب میں آئے گی کہ اللہ کی راہ میں کام کرنے والے بیٹھ رہنے والوں سے درجات میں بہت ہی زیادہ آگے نکل جائیں گے۔ اگرچہ سب مومنین کو رحمت و بخشش ، جو دوعطا اور اللہ کے انعام ، اللہ کی شان کے مطابق نصیب ہوں گے مگر کام کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پہ بہت زیادہ فضیلت ہوگی اور یہ تب تک جب جہاد فرض کفایہ ہو اگر ان سے بات بڑھ جائے تو جو قریب ہیں ان پر فرض عین ہوجائے گا اگر ان سے بھی بڑھ جائے تو پھر دوسرے قریبی پر اس طرح یہ پوری مسلم دنیا پہ بھی بیک وقت فرض عین ہوسکتا ہے کہ اس کے احکام ضرورت کے مطابق تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ رہیں انسانی کمزوریاں تو انسان کو کام خلوص سے کرنا ضروری ہے۔ پھر اللہ کی رحمت ، اس کی بخشش اور اس کی عطا میں انسانی لغزشوں کو ڈھانپ لیتی ہیں مگر کام حضور قلب سے ، خلوص سے کیا جانا ضروری ہے اس کے بعد اللہ ہی بہت بڑا مہربان اور بخشنے والا ہے۔
Ayahs 4:97–100

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ كُنْتُمْ١ؕ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَا١ؕ فَاُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًاۙ Open ayah 4:97 in the Quran reader

جب فرشتے ان لوگوں کی روح قبض کرتے ہیں جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کررکھا تھا تو کہتے ہیں تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں ہم ملک میں عاجزوناتواں لوگ تھے تو (فرشتے) کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین وسیع نہ تھی تھی پس تم ترک وطن کرکے چلے جاتے سو ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے

اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَةً وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ سَبِیْلًاۙ Open ayah 4:98 in the Quran reader

سوائے ناتواں لوگوں کے مردوں میں سے اور عورتوں میں سے اور بچوں میں سے کہ نہ کوئی تدبیر کرسکتے ہیں اور نہ کوئی راہ پاتے ہیں

فَاُولٰٓئِكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:99 in the Quran reader

سو ایسے لوگوں کے لئے امید ہے کہ اللہ انہیں معاف کردیں اور اللہ معاف کرنے والے بخشنے والے ہیں

وَ مَنْ یُّهَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِیْرًا وَّسَعَةً١ؕ وَ مَنْ یَّخْرُجْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ یُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَ قَعَ اَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:100 in the Quran reader

اور جو اللہ کی راہ میں وطن چھوڑ دے وہ زمین میں بہت جگہ اور بہت وسعت پائے گا اور جو کوئی اپنے گھر کو چھوڑ کر اللہ اور اس کے پیغمبر کی طرف نکلے پھر اس کو موت آجائے تو یقینا اس کا ثواب اللہ کے ذمے ہے اور اللہ بخشنے والے مہربان ہیں

رکوع نمبر 14 ۔ آیات 97 تا 100 ۔ ان الذین۔۔۔ غفورا رحیما۔ اور جو لوگ ہجرت نہیں کرپاتے فتح مکہ تک تو مکہ مکرمہ سے دین کی خاطر نکل جانا ہجرت تھا۔ لوگ حبشہ بھی گئے اور مدینہ منورہ بھی اور مدینہ منورہ سے اسلامی ریاست کی بنیاد شروع ہوئی۔ اور یہ دار الہجرۃ قرار پایا پھر فتح مکہ کے بعد آپ ﷺ نے فرما دیا اب کوئی ہجرت نہیں مگر یہ ارشاد مکہ مکرمہ کے بارے تھا۔ ورنہ اسلام تو ہمیشہ کے لیے ہے اور ساری دنیا کے لیے ہے۔ جب بھی جہاں بھی کوئی دین پر عمل کرنے سے مانع ہو اس معاشرے کو یا اس شہر کو اس غرض سے چھوڑ دینا کہ کسی اسی جگہ چل کر رہا جائے جہاں دین پر عمل کیا جاسکے ہجرت ہوگی۔ اور بدکار معاشرہ کسی کو زبردستی بھی نکال دے تو بھی مہاجر شمار ہوگا مگر نیت صرف اللہ کے لیے اور حصول دین کے لی دین پر عمل کے لیے ہو اگر ہجرت کسی دنیاوی منافع کے لیے ملازمت مل جانے کی امید پر یا کسی عورت پر فدا ہو کر کی ہو تو اجر کی امید نہ رکھے۔ اب پھر بات وہیں سے شروع کرتے ہیں کہ جو لوگ ہجرت نہیں کرپاتے ، شہر سے ، ملک سے یا کردار سے تو جب ان کی موت آتی ہے۔ اور موت کے فرشتے آتے ہیں جس کی حدیث پاک میں بہت تفصیل ہے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ مومن کے لیے جنت سے خوشبو ، لباس اور پھول وغیرہ لاتے ہیں۔ بڑے پیار سے جان قبض کرتے ہیں اور ان لباسوں میں لے کر جاتے ہیں ، عزت کرتے ہیں ، پیار کرتے ہیں مگر کافر یا بدکار یا دوزخی کو لینے جو موت کے فرشتے آتے ہیں ان کے پاس لباس وغیرہ دوزخ کا ہوتا ہے۔ سخت گرم بھی ، بدبودار بھی ، دوزخ کی چھڑیاں ہوتی ہیں۔ چہرے ڈراؤنے اور بات غضبناک ہو کر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بھئی تم کس حال میں تھے۔ تم اصل میں کیا تھے کہ دعوے اسلام کا کرتوت کفر کے ، اعمال کافرانہ تو یہ تم کیا کرتے رہے۔ وہ بڑی بےکسی سے جواب دیتے ہیں بھائی ہم غریب لوگ تھے۔ جدھر بڑے لوگوں کا رخ ہوا ہمیں خواہ نخواہ چلنا ہی پڑتا تھا۔ تو فرشتے بہت مزے کی بات کہتے ہیں کہ اب بھی تو ساری دنیا چھوڑ کر جا رہے ہو اگر اس سے پہلے یا بروقت اللہ کی اطاعت کے لیے یہ شہر یا یہ ملک چھوڑ دیتے تو کون سا غضب ہوجانا تھا۔ نیک ملک میں نیک لوگوں میں جا کر سکونت اختیار کرلیتے آج عزت و احترام اور خوشی کے ساتھ آخرت کو جاتے۔ تم نے اس وقت دنیا اور اس کی لذت کو نہ چھوڑا اب تمہاری سزا جہنم ہے جو بہت بری جگہ ہے۔ یہ کلام روح قبض کرنے سے قبل اس وقت ہو رہی ہے جب فرشتے روح قبض کرنے آتے ہیں اور خالی واپس نہیں جاتے۔ یعنی عند الموت کافر کو بھی موت کا ، فرشتوں کا عذاب وغیرہ کا کشفا نظر آجانا نہ ثابت ہوا اب مومن کی فضیلت یہی ہے کہ یہ دولت عام زندگی میں عملی زندگی اور موت سے پہلے کی زندگی میں نصیب ہوجائے اگر دل زندہ ہوجائے ، بیدار ہوجائے۔ نور صحبت رسول اللہ ﷺ سے مستفید ہوجائے تو یہ سب کچھ حاصل ہوسکتا ہے۔ حتی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ سے خود اللہ کا کلام کرنا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ سے جبرائیل امین کا کلام کرنا دم کرنا کتاب اللہ میں موجود ہے جبکہ دونوں ہستیاں ولیہ تھیں۔ نبیہ نہ تھیں سو جو لوگ دار الکفر میں گرین کارڈ کے لیے مرے جا رہے ہیں خواہ جنازہ بھی نصیب نہ ہو کھانے میں سور جزواعظم ہے۔ ادویات تک میں اور یورپ میں تو پینے میں شراب یا بیئر وغیرہ کے علاوہ پانی پینے کا تصور نہیں پایا جاتا ان کے لیے ذرا غور کرنے کا مقام ہے۔ ہاں ایسے لوگ جو وہاں رہ کر بھی دین پر نہ صرف قائم رہیں بلکہ دین کے لیے کام کرسکیں ان کا جانا تو جہاد ہوا اگر نیت دین کی خدمت کرنے کی ہو اور ایسے لوگ یورپ وغیرہ میں بحمداللہ ملتے ہیں جو وہاں بھی دین کا کام کر رہے ہیں۔ ہاں ایسے لوگ جو واقعی مجبوری کی وجہ سے دار الکفر سے ہجرت نہ کرسکے یا برے لوگوں سے علیحدہ نہ ہوسکے۔ عورتیں اور بےبس بچے جو راہ تک سے واقف نہ تھے اگر ایسے لوگ برے معاشرے میں پھنسے تو رہیں مگر عملی زندگی ان کی اختیار نہ کریں صرف یہ رعایت ہے کہ علاقہ یا شہر چھوڑ نہیں سکتے تو امید کرسکتے ہیں کہ اللہ کریم انہیں معاف کردے۔ مگر یہ ہر مومن کے لیے ضروری ہے کہ بری مجالس کو چھوڑ کر نیک مجالس کو اختیار کرے۔ بری عادات کو چھوڑ کر نیک اطوار کو اپنائے اور اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کرے۔ پھر مزے کی بات یہ ہے کہ جو بھی اللہ کی راہ میں ترک وطن کرتا ہے وہ ہمیشہ اپنے لیے زمین کا دامن وسیع پاتا ہے۔ اور یہ ایک تاریخی حقیقت بھی ہے کہ تقریبا جس قدر اولو العزم رسولوں کے حالات ملتے ہیں وہ موسیٰ (علیہ السلام) ہوں یا ابراہیم (علیہ السلام) تو سب نے ہجرتیں بھی کیں اور دنیاوی غلبہ بھی نصیب ہوا۔ ایسے آقائے نامدار ﷺ نے ہجرت فرمائی اور غلبہ پایا سو اللہ کریم نے قانون بنا دیا کہ جو اللہ کے لیے ترک وطن کرے گا اپنے لیے زمین کا دامن وسیع پائے گا اور نعمتوں سے نوازا جائے گا۔ مگر دنیا میں الہ کا قانون ہے کہ ہر چیز اپنے اسباب کے نتیجہ میں ظہور پذیر ہوتی ہے۔ اگر کچھ وقت مشکل بھی آجائے تو تجعب کی بات نہ ہوگی۔ انجام کار وہ بہت آسودہ حال اور خوش بخت ثابت ہوگا۔ دنیوی خوشحالی بی نصیب ہوگی۔ یہی قانون عقیدے یا عمل کی ہجرت پر بھی ہے یہ جو ہمیں وہم ہے کہ سچ بولیں گے تو بھوکے مر جایں گے۔ اگر بازار میں بیٹھنا ہے تو ضرور جھوٹ بولنا ہوگا یہ شیطان کا ڈالا ہوا وہم ہے اور اللہ کری کا وعدہ یہ ہے کہ جو میری رضا اور خوشنودی کے لیے اپنا کردار درست کرلے گا وہ دنیا اور اس کی دولت ، عزت و شہرت کا بھی اپنا منتظر پائے گا۔ پھر سب سے بڑا انعام یہ ہے کہ جو بھی گھر سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی راہ میں ہجرت کرکے نکلا دار الکفر میں تھا دار الاسلام کو روانہ ہوا۔ بری مجلس میں تھا نیک مجلس کی طرف چلا کردار برا تھا چھوڑ کر نیکی اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا اور ساتھ ہی موت نے آلیا نہ وہ منزل پہ پہنچ سکا نہ یہ مجلس میں اور نہ یہ کردار بدلنے کی فرصت پا سکا فرمایا تو اس کا انعام اس کا ثواب ، اس کا اجر اللہ کریم کے ذمہ ہے۔ تی کہ ایک حدیث شریف کا مضمون ہے کہ ایک بالشت چلا اور فوت ہوگیا۔ پہلے سارے گناہوں کی معافی کے ساتھ ہجرت کے ثواب کا مستحق قرار پایا یہی حال اخلاق و کردار کی تبدیلی کا ہے۔ کہ ایک حدیث کا مضمون ہے۔ مجاہد کامل وہ ہے جو اپنے نفس سے لڑ سکے یعنی اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پہ قائم رکھ سکے۔