4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsاسرار التنزیل

Ayah 4:34

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ١ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ١ؕ وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیًّا كَبِیْرًا Open ayah 4:34 in the Quran reader

مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس لئے کہ اللہ نے بعض کو بعض سے افضل بنایا ہے اور اس لئے کہ انہوں نے اپنے مال خرچ کیے ہیں سو نیک عورتیں فرمانبردار ہیں اور (مرد کی) عدم موجودگی میں بحفاظت الٰہی نگہداشت کرتی ہیں اور جن عورتوں کی بددماغی سے تمہیں خوف ہو سو ان کو نصیحت کرو اور ان کو ان کے بستروں میں تنہا چھوڑ دو اور ان کو مارو پھر اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو ان پر بہانہ تلاش نہ کرو بیشک اللہ سب سے بلند ، سب سے بڑے ہیں

رکوع نمبر 6 ۔ آیت 34 تا 42 ۔ والمحصنت۔ اسرار و معارف آیت 34: الرجال قوامون علی النساء۔۔۔ ان اللہ کان علیا کبیرا۔ اب خانگی تعلقات اور اندرون خانہ معاملات کی صورت کیا ہوگی چونکہ ہر نظام یا جماعت و حکومت کا کوئی سربراہ ہوتا ہے جسے آپ حاکم کہیں یا کوئی اور نام دیں تو گھر میں مرد حاکم ہوگا اور عورت اس کی شریک سلطنت یا نائب وزیر کہ امور خانہ داری میں اسے مشورہ بھی دے اور اس کی ہدایات پر عمل بھی کرے قوام کا ترجمہ حاکم دیا گیا ہے جس میں کسی حد تک جبر و استبداد کا شبہ پڑتا ہے سو المنجد کا ترجمہ المتکفل بالامر۔ القوی علی القیام بالامر۔ الامیر۔ اس مفہوم کو بہت اچھی طرح واضح کردیتا ہے کہ یہ کوئی جابرانہ تسلط نہیں جو مرد کو بخشا گیا ہے بلکہ وہ امور جو باہمی مشورے اور رضامندی سے طے پائیں جن میں خاندان کی بہتری بچوں کی پرورش و تربیت یا دوسرے جملہ امور خانگی شامل ہیں ان کو نافذ کرنے والی قیادت یا امارت مرد کی ہوگی جس میں عورت کا پورتعاون شامل ہو کر خاندان کی بہتری اور بھلائی کے کام سر انجام دے گا۔ یہ تو ظاہر ہے کہ ہر نظام کو چلانے کے لے کسی ایک ایسے ذمہ دار فرد کی ضرورت ہوتی ہے جو آخری فیصلہ صادر کرسکے اور فیصلوں پر عمل در آمد کر اسکے چناچہ ہر ملک کا سربراہ ہوتا ہے یا بادشاہ مگر اس میں فرق یہ ہے کہ سربراہ یا امیر باہمی مشاورت سے سب کی بہتری کے فیصلے تک پہنچ کر اس کے نفاذ یا اس پر عمل در آمد کراتا ہے اور بادشاہ اپنی ہوس کی تسکین کے لیے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے فیصلے کرتا اور لوگوں سے منواتا ہے یہاں مرد کو امیر کہا گیا ہے بادشاہ نہیں کہ عورتوں کی دل آزاری ہو چناچہ عقلاً بھی یہی بات مناسب و معقول ہے کہ عورتوں اور بچوں کی نسبت مرد ہی گھر کا امیر ہونا چاہیے اب اس کی حکمت بھی ساتھ ارشاد فرما دی کہ بما فضل اللہ بعضہم علی بعض۔ کہ اللہ کریم نے تخلیقی اور وہبی طور پر بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور ہر شے میں دی ہے پھلوں میں اجناس میں زمین کے حصوں میں حیوانات میں اسی طرح جنس میں بھی جیسے خود جسم میں کہ دل تمام اعضاء سے افضل ہے ایسے ہی مرد کو عورت پر تخلیقی طور پر ایک گونہ فضیلت ہے جسم کی ساخت اور کاروبار دنیا میں بھی مرد کی ذمہ داری حفاظت و پرورش کی ہے اور عورت کی ذمہ داری اندرونِ خانہ مال و آبرو اور اولاد کی حفاظت ہے دوسری وجہ یہ ارشاد فرمائی کہ بما انفقوا اموالھم۔ یعنی نان و نفقہ کی جملہ ذمہ داری بھی تو مرد کی ہے کہ اپنا مال اہل خانہ پر خرچ کرتا ہے تو گھر کی قدرت صورت اور بہتر صورت یہ ہے کہ مرد رزق حلال کما کر لائے اور امور خانہ میں امیر کی حیثیت سے نگرانی کرے عورت عزت آبرو اور حلال کی حفاطت کے ساتھ اولاد کی تربیت کرے اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ محض زور اور غلبہ سے حکومت کرنا جائز نہیں بلکہ اس کے لیے کام کی صلاحیت اور اہلیت کا ہونا ضروری ہے نااہل حکمرانوں کو جائز ریقے سے ہٹانا بھی عین دینی ذمہ داری ہے بشرطیکہ خلوص ہو خواہش نفس کی تکمیل کے حیلے نہ ہوں یہ بھی ضروری نہیں کہ تمام مرد تمام خواتین پر حاکم ہوں بلکہ یہ بات بحیثیت مجموعی ارشاد فرمائی گئی ہے جہاں تک افراد کا تعلق ہے تو ہوسکتا ہے کہ کوئی عورت اوصاف حاکمیت میں یا علمی وعملی کمالات میں مرد سے بڑھ جائے تو ایسی صورت میں گھر کیا عورت ملک کی سربراہ بھی ہوسکتی ہے مگر عمومی قاعدہ یہ نہیں ہے کہ عورت مزاجاً کسی حصار ہی میں رہنا چاہتی ہے اور وہ حصار اسے مرد مہیا کرتا ہے اسلامی معاشرے میں بچپن سے شادی تک باپ اور پھر شوہر اس کی جملہ ضروریات کا کفیل ہوتا ہے کہ اس کی جسمانی ساخت اس کے گھریلو فرائض اور ذمہ داریاں پھر اس کا ایک خاص مزاج یہ اجازت نہیں دیتا کہ حصول رزق کے لیے دفتوں ، بازاروں یا کسب معاش کے دوسرے ذرائع کے پیچھے ماری ماری پھرے اس سے زیادہ اس کے ذمہ بقائے نسل انسانی کا بہت بڑا اہم فریضہ ہے جو اس کے مزاج اور جسمانی ساخت سے بھی مطابقت رکھتا ہے نیز مرد اپنی ذمہ داریوں کی وجہ سے بھی اور جسمانی ساخت و مزاج کی وجہ سے بھی یہ کام بحسن خوبی نہیں کرسکتا تو اللہ کریم نے دونوں کی ذمہ داریاں تقسیم فرما دیں اب جو اپنا فرض خلوص و احتیاط سے ادا کرے گا اسی درجہ کا اجر پائیگا کہ مرد عورت کے فرائض جداگانہ ضرورتیں مختلف مگر بحیثیت انسان ایک جیسے مکلف ہیں۔ عورت کی ذمہ داری یہ ہے۔ فالصلحت قانتات حفظت للغیب بما حفظ اللہ۔ صالح عورت یا صالح بیوی یا مثالی بیوی وہ ہے جو مرد کی اطاعت کرے اس کی حاکمیت جو جابرانہ اور ظالمانہ ہرگز نہیں بلکہ عورت اور گھر کے تحفظ کے لیے ضروری ہے اور اسے رب کریم کی طرف سے تفویض ہوئی ہے اسے خلوص دل سے قبول کرے اور غائبانہ بھی یعنی مرد کی غیر حاضری میں بھی اس کی آبرو اور مال کی حفاظت کرے عموماً جو خدمت یا خلوص کا اظہار مرد کے روبرو ہوتا ہے وہ اس کی عدم موجودگی میں بھی ویسا ہی ہو اس قوت کے ساتھ جو رب کریم عورت کو عطا فرما دیتے ہیں بما حفظ اللہ یعنی اگر عورت صدق دل سے ارادہ کرلے تو بچوں کی پرورش اور عزت و ناموس کی حفاظت گھر اور مال کی نگہبانی خاندانی تعلقات اور اس طرح کے بہت ہی سخت کام اللہ کریم اس کے لیے آسان فرما دیتے ہیں اور اس کی مدد فرما دیتے ہیں۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ بعض نادان خواتین یہ ذمہ داری اچھی طرح سے ادا نہ کرسکیں یا تمہیں ان کی طرف سے اس قسم کا اندیشہ ہو تو انہیں نرمی اور محبت سے سمجھاؤ کہ بیوی کا بھی خاوند پر حق ہے کہ اس کی حفاظت بھی کرے سو اس معاملہ میں بھی شوہر کا تعاون ضروری ہے کہ پیار سے نرمی سے نصیحت کرے اگر پھر بھی باز نہ آئے تو اس کا بستر جدا کردے یعنی جب تک اصلاح پذیر نہ ہو مرد اپنے بستر میں سونے کی اجازت نہ دے اس بارہ میں نبی رحمت ﷺ کا ارشاد ہے کہ علیحدہ کمرے میں بھیجا جائے یا سلایا جائے ہاں علیحدہ بستر پہ سلایا جائے کہ شاید خاوند سے یہ وقتی علیحدی اسے ہمیشہ کی علیحدگی سے بچانے کا سبب بن جائے اگر پھر بھی بات بنتی نظر نہ آتی ہو تو انہیں مارو واضربوھن کیا مارو کس قدر مرو اس کے بارے حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ جس سے بدن پر نشان یعنی نیل وغیرہ نہ پڑے نہ زخم لگے اور نہ ہڈی ٹوٹے اور خصوصاً چہرے پر ہرگز نہ مارا جائے سبحان اللہ پھر اس مار کو بھی محض اظہار ناراضگی ہی کہا جاسکتا ہے اس کے باوجود آپ ﷺ نے فرمایا۔ ولن یضرب خیارکم۔ کہ بھلے لوگ یہ بھی نہیں کریں گے یعنی کبھی مارنے کی سزا نہیں دیں گے اگر اسی طرح سے بیوی کی اصلاح ہوجائے تو انہیں بلا وجہ تنگ نہ کرو مہنے طعنے نہ دو خواہ مخواہ کی ناراضگی نہ رکھو بلکہ ازراہ شفقت چشم پوشی اور درگذر سے کام لو کہ اللہ نے تمہیں عورتوں پر بڑائی تو دی ہے مگر فی الحقیقت بڑائی اللہ ہی کو سزاوار ہے اور وہی ذات ہے کہ نہ اس کی بلندیوں کی انتہا ہے اور نہ عظمت ماپی جاسکتی ہے یہ تو امور دنیا چلانے کیلئے رب کریم نے ہر پرزے کو اپنے اپنے کام پر لگا دیا ہے بڑا وہی ہے جس کے در سے سب بڑائیاں تقسیم ہوتی ہیں۔
Ayah 4:35

وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ یُّرِیْدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَیْنَهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا Open ayah 4:35 in the Quran reader

اگر تم کو ان دونوں میں ان بن کا اندیشہ ہو تو ایک منصف مرد کے خاندان سے اور ایک منصف عورت کے خاندان سے مقرر کرو اگر وہ صلح کرا دینا چاہیں گے تو اللہ ان میں موافقت پیدا کردیں گے۔ بیشک اللہ جاننے والے خبر رکھنے والے ہیں

آیت نمبر 35: وان خفتم شقاق بینھما۔۔۔ علیما خبیرا۔ اب دوسری صورت یہ ہے کہ مرد کا قصور ہو یا عورت نافرمان و سرکش اور معاملہ گھر میں سدھرنے کی امید نہ رہے تو ایک دوسرے کو الزام دینے کی بجائے حاکم یا خاندان کے بزرگ مسلمانوں کی مقتدر جماعت دونوں طرف سے ایک ایک حکم مقرر کردیں یعنی دونوں خاندانوں میں سے ایک ایک فرد ایسا چنا جائے جس میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہو حکم کے لفظ میں صلاحیت کا ہونا از خود ثابت ہے کہ قوت فیصلہ ہی نہ ہو تو حکم نہیں کہا جاسکتا اور ظاہر ہے کہ ایسے پرخلوص اور دیانتدار آدمی چنے جائیں جو ذی علم بھی ہوں بات سمجھ سکیں اور آپس میں مشورہ کرکے فیصلہ کرسکیں بنیادی طور پر ان کا تقرر محض صلح کرانے کے لیے ہے اگر وہ بھی صلح نہ کرا سکیں تو معاملہ عدالت میں جائے گا جس میں کئی خرابیاں ہوں گی اخراجات ہوں گے گھر کی بات بازار تک پہنچے گی اور ممکن ہے غصے میں غلط الزامات لگائے جائیں یا غلط گواہیاں دی جائیں جس کے باعث آخرت بھی خراب ہو اور دنیاوی نقصان کے ساتھ بدنامی کا ڈر بھی ہے تو اگر وہ دونوں یعنی حکم خلوص کے ساتھ یہ ارادہ کرلیں گے کہ ان کی صلح ہوجائے اور یہ خاندان ایسے نہ رہے تو ایک دوسرے کو الزام دینے کی بجائے حاکم یا خاندان کے بزرگ مسلمانوں کی مقتدر جماعت دونوں طرف سے ایک ایک حکم مقرر کردیں یعنی دونوں خاندانوں میں سے ایک ایک فرد ایسا چنا جائے جس میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہو حکم کے لفظ میں صلاحیت کا ہونا از خود ثابت ہے کہ قوت فیصلہ ہی نہ ہو تو حکم نہیں کہا جاسکتا اور ظاہر ہے کہ ایسے پرخلوص اور دیانتدار آدمی چنے جائیں جو ذی علم بھی ہوں بات سمجھ سکیں اور آپس میں مشورہ کرکے فیصلہ کرسکیں بنیادی طور پر ان کا تقرر محض صلح کرانے کے لیے ہے اگر وہ بھی صلح نہ کرا سکیں تو معاملہ عدالت میں جائے گا جس میں کئی خرابیاں ہوں گی اخراجات ہوں گے گھر کی بات بازار تک پہنچے گی اور ممکن ہے غصے میں غلط الزامات لگائے جائیں یا غلط گوہیاں دی جائیں جس کے باعث آخرت بھی خراب ہو اور دنیاوی نقصان کے ساتھ بدنامی کا ڈر بھی ہے تو اگر وہ دونوں یعنی حکم خلوص کے ساتھ یہ ارادہ کرلیں گے کہ ان کی صلح ہوجائے اور یہ خاندان ایسے ہی قائم رہے تو اللہ کریم ان کی مدد فرمائے گا کہ میاں بیوی کے دل میں اتفاق و محبت پیدا فرما دے گا اور اس طرح سے نہ صرف ایک خاندان بچ جائیگا بلکہ ان کا مال اور اخلاق و کردار بھی محفوظ رہے گا ہاں اگر فریقین ان دونوں کو اختیار دے دیں تو پھر وہ اس معاملہ کے کلی طور پر مختار بن کر کوئی بھی فیصلہ کرسکتے ہیں طلاق پہ متفق ہوجائیں یا خلع وغیرہ کی کوئی صورت مقرر کردیں تو وہ فیصلہ نافذ ہوجائے گا۔ اس آیہ کریمہ سے فقہا نے یہ بات اخذ کی ہے کہ میاں بیوی کے علاوہ دوسرے جھگڑوں میں بھی حکم مقرر کیے جاسکتے ہیں بلکہ مناسب طریقہ ہی یہ ہے کہ عدالت جانے کی بجائے اس طرح سے فیصلہ کرلیا جائے۔ سیدنا فاروق اعظم ؓ کا فرمان بھی ملتا ہے کہ عدالتی فیصلوں کی جگہ کوشش کی جائے کہ پنچایتی فیصلے ہوں ان سے دلوں میں کدورت پیدا نہیں ہوتی جبکہ عدالتی فیصلے اگرچہ معاملہ طے کردیتے ہیں مگر ان سے دلوں میں کدورت پیدا ہوتی ہے سو اگر حکم خلوص سے کام لیں اور انہیں لینا چاہئے کہ اللہ کریم علیم بھی ہیں اور خبیر بھی جس طرح معاملہ ان کے سامنے ہے اسی طرح حکم کا دل اور عمل بھی تو اللہ کریم کی مدد سے معاملات سلجھ جاتے ہیں۔
Ayahs 4:36–38

وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاۙ Open ayah 4:36 in the Quran reader

اور تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور قرابت داروں اور یتیموں سے اور حاجتمندوں سے بھی اور پاس والے پڑوسی اور دور والے پڑوسی اور ہم مجلس کے ساتھ اور مسافروں کے ساتھ اور جو لوگ تمہارے قبضے میں ہیں (ان سب سے احسان کرو) یقینا اللہ تکبر کرنے والے ، شیخی کرنے والے کو پسند نہیں فرماتے

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًاۚ Open ayah 4:37 in the Quran reader

جو لوگ بخل کرتے ہوں اور دوسروں کو بھی بخل کرنے کا کہتے ہوں اور اللہ نے ان کو جو (مال) اپنے فضل سے دیا ہے اس کو چھپا کر رکھتے ہوں اور ہم نے ایسے ناشکروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کررکھا ہے

وَ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ مَنْ یَّكُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا Open ayah 4:38 in the Quran reader

اور جو لوگ (دوسرے) لوگوں کو دکھانے کے لئے اپنا مال خرچ کرتے ہیں اور اللہ کے ساتھ اور آخرت کے دن کے ساتھ ایمان نہیں رکھتے۔ اور جس کا ساتھی شیطان ہو تو وہ بہت برا ساتھی ہے

آیت نمبر 36 تا 38: واعبدوا اللہ ولا تشرکوا بہ شیئا۔۔۔۔ فساء قرینا جہاں تک ادائے حقوق کا تعلق ہے اس کی اصل یہ ہے کہ سب سے پہلے اور سب سے ضروری اللہ کے حق کی حفاظت ہے کہ اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ نہ اس کی ذات میں اور نہ اس کی صفات میں اسلام نے اصلاح احوال کی بنیاد ایمان کو قرار دیا ہے اور جب تک کسی بھی انسان کے دل میں اللہ کی عظمت جاگزین نہ ہو اور وہ اپنے ہر حال پر اللہ کو حاضر موجود نہ سمجھتا ہو نیز جب تک وہ اپنی ساری امیدیں اللہ ہی سے وابستہ نہ کردے تب تک محض حکومت کے قانون اور رعب دبدبہ اس کی اصلاح نہیں کرسکتے نہ برادری کا شرم یا معاشرے کا دباؤ اسے مجبور کرسکتا ہے کیونکہ وہ ان سب سے فرار کی راہ تلاش کرلیتا ہے یہ صرف اللہ کی ذات ہے جس کے ساتھ ایمان کی بنیاد عیقدہ توحید پر ہے کہ کسی بھی طرح اس کا کوئی شریک نہیں اور اس کے ساتھ ایمان میں پختگی اور ترقی کا سبب اس کی عبادات ہیں سو حکومت ہو یا آپ خود برادری کی سطح پر کسی کا سمجھوتہ کرانا چاہیں یا حکم مقرر کریں تو ایسے ہی لوگوں کا معاملہ سلجھ سکے گا جو حقوق اللہ کا لحاظ رکھتے ہوں یہی وجہ ہے کہ آج کے خدا بیزار معاشرے میں بڑی بڑی حکومتیں بھی قیام امن کا فریضہ انجام دینے سے قاصر ہیں اور ہر طرف ظلم و بربریت کا دور دورہ ہے خواہ وہ یورپ ہو امریکہ ہو یا روس کہیں بھی امن کا نشان نہیں ملتا۔ اور جب تک خوف خدا اور تقوی کی دولت نصیب نہ ہو یہ سب ممکن بھی نہیں حقوق اللہ کے بعد روئے زمین پر سب سے مقدم حق والدین کا ہے کہ اللہ نے والدین کو ہی اولاد کے وجود کا سبب بنایا ہے اور انہیں کے ذریعہ سے انسان کی پر وش اور تربیت کا اہتمام کیا ہے اگر کوئی محروم القسمت اللہ ہی کے حق کی پرواہ نہیں کرتا تو دوسروں کو اس سے کیا امید ہوسکتی ہے لیکن اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایمان نصیب ہے تو پھر والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو یہاں والدین کے حقوق کی بات نہیں فرمائی بلکہ حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔ جس سے مراد ہے کہ ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھا جائے اور خلوص دل سے حسب ہمت خدمت کی جائے اگرچہ انہوں نے اولاد کے حقوق پوری طرح سے ادا نہ بھی کیے ہوں اولاد کو ان کی دلجوئی کے لیے ان کے دوستوں تک کا خیال رکھنا ضروری ہے ہاں اگر اللہ کی نافرمانی کا حکم دیں تو اطاعت نہ کی جائے مگر احترام بدستور کرنا ہوگا اور کوئی ایسی بات منہ سے نکالنا جائز نہیں ہوگا جس سے والدین کی دل آزاری ہو اس پر اجر وثواب بھی بہت زیادہ مذکور ہے مگر اصل بات انسان کے مزاج اور اس کے درجہ کی ہے کہ شرف انسانیت اور کمال انسانیت یہ ہے کہ اللہ کے حقوق پھر والدین اقربا یتامی مساکین پڑوسی ہمسفر اور نوکر غلام تک کے حقوق درجہ بدرجہ پہچانے اور پورے خلوص سے ادا کرنے کی کوشش کرتا رہے۔ بلکہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک نہ کرنے والا شخص دنیا میں بھی پریشانیوں میں مبتلا کردیا جاتا ہے جب والدین کی بات ہوگی تو ظاہر ہے ان کی وساطت سے بہت سے دوسرے رشتے بھی سامنے آئیں گے سو قرابت داروں سے بھی حسن سلوک کا حکم فرمایا گیا ہے کہ حسب استطاعت جان و مال سے ان کی مدد کی جائے اور ان سے میل جول رکھا جائے اکثر خیال یہ ہوتا ہے کہ جب ہم رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہیں تو انہیں اس کے بدلے میں ہمیں اچھا سمجھنا چاہئے یہاں اس خیال کی نفی ہوتی ہے بلکہ ارشاد یہ ہے کہ قرابت داروں سے حسن سلوک اطاعت الہی میں داخل ہے لہذا اجر کی امید بھی اسی سے کی جائے گی ہاں ان پر بھی اللہ کا حکم اسی طرح وارد ہے اگر وہ یا ان میں سے کوئی اس کی پروا نہیں کرتا تو وہ خود اللہ کے حضور جواب دہ ہوگا۔ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ ایک غریب رشتہ دار کی مدد فرمایا کرتے تھے جب سیدہ عائشہ الصدیقہ پر بہتان لگایا گیا تو وہ بھی اس میں ملوث ہوگیا اللہ کریم نے ان کی برات تو اپنے ذاتی کلام میں نزال فرما دی مگر صدیق اکبر نے خفا ہو کر امداد روک دی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ آپ اس کی امداد ناراض ہو کر بند نہ کریں جو کچھ اس نے کیا ہے وہ اللہ سے معاف چاہے مگر یہ اس کا فعل ہے اور آپ کا حق قرابت کی وجہ سے مدد کرنا یہ اللہ کریم کی خوشنودی کے لیے ہے۔ حسنِ سلوک سے ایسے لوگوں کو بھی محروم نہیں رکھا گیا جن کا کوئی قرابت دار نہ ہو یا اگر ہو تو ان کی مدد کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو جن میں یتیم اور مساکین داخل ہیں تو اللہ کریم نے صاحب استطاعت لوگوں کو یہ یاد دلایا ہے کہ ایسے لوگ بھی حسن سلوک کے مستحق ہیں پھر ایسے لوگوں سے بھی حسن سلوک کیا جائے جو قریب بستے ہوں خواہ پڑوسی ہوں یا محلہ دار۔ جار ذی القربی والجار الجنب۔ کی تفسیر میں متعدد روایات ہیں بعض حضرات کے مطابق جار ذی القربی۔ سے مراد ایسا پڑوسی ہے جو متصل رہتا ہو اور جار جنب سے مراد محلہ دار ہے بعض حضرات کے نزدیک اول سے مراد رشتہ دار پڑوسی ہے اور دوم سے وہ جس کا کوئی رشتہ نہ ہو اور بعض حضرات کے خیال کے مطابق اول سے مراد مسلمان پڑوسی ہے اور دوم سے مراد غیر مسلم ہے الفاظ قرآن میں یہ سب معانی سما سکتے ہیں مگر اتفاق اس بات پر ہے کہ پڑوسی مسلم ہو یا غیر مسلم رشتہ دار ہو یا نہ ہو قریبی ہو یا محلہ میں بسنے والا بقدر استعطاعت اس کی خبرگیری اور امداد ضروری ہے البتہ درجہ میں فرق ضرور ہوگا جیسے ابن کثیر میں روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا بعض پڑوسی وہ ہیں جن کا صرف ایک حق ہے بعض کے دو حق اور بعض کے تین حق ہیں ایک حق والا پڑوسی غیر مسلم ہے جس کا حق صرف پڑوسی ہونے کا ہے دو حق مسلمان کے ہیں کہ پڑوسی بھی ہے اور مسلمان بھی اور تین اس پڑوسی کے ہیں جو پڑوسی بھی اور مسلمان بھی اور رشتہ دار بھی۔ اس کے بعد صاحب بالجنب کے بارے ارشاد ہوا یعنی شریک سفر یا ہم مجلس گاری جہاز وگیرہ میں ساتھ بیٹھا ہوا شخصی یا کسی مجلس میں ہم نشیں بلکہ صاحب روح المعانی نے ہم پیشہ یا دفتر وغیرہ میں ساتھ ملازمت کرنے والے حضرات کو بھی اس میں داخل فرمایا ہے کہ ان سب کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے خواہ کتنی بھی کم مدت کے لیے کسی کو بھی آپ کے ساتھ بیٹھنا یا رہنا پڑے رشتہ دار ہو یا نہ ہو مسلم غیر مسلم سب اس میں برابر کے شریک ہیں اور ان کے ساتھ حسن سلوک یہ ہے کہ کسی حرکت یا بات سے ان کی دل آزاریہ نہ کی جائے گفتگو میں بھی یہ خیال رکھا جائے اور حرکات میں بھی مثلاً سگریٹ پھونک پھونک کر ہی ساتھ بیٹھنے والے کی سانس نہ روک دی جائے یا زیادہ جگہ نہ گھیری جائے وغیرہ ذالک۔ کوئی راہ گیر اگر پاس آجائے جس کا کوئی بھی ذاتی واقف نہ ہو تو محض راہ گیر ہونے کی وجہ سے وہ حسن سلوک کا مستحق ہے مومن ہو یا کافر کم از کم کانسانی رشتہ کا لحاظ ضرور رکھا جائے گا اور بقدر ہمت و استطاعت اس کی خبرگیری کرنا اللہ کریم کا حکم ہے اس کے بعد وما ملکت ایمانکم۔ یعنی ملازم ، نوکر غلام باندی وغیرہ بھی حسن سلوک کے مستحق ہیں کہ ان کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے لباس کھانا وغیرہ حسب توفیق دیا جائے ان کی ہمت سے بڑھ کر کام نہ لیا جائے یا تنخواہ وغیرہ اگر طے ہو تو بروقت دی جائے اگرچہ لفظی طور پر تو غلام اور باندی ہی صریح مدلول ہیں مگر اشتراک علت اور ارشادات نبوی کی بنیاد پر یہ آیت نوکروں ملازموں وغیرہ سب کو اس حکم میں شامل فرماتی ہے تو گویا ایک مسلمامجسم خیر اور حسن سلوک کا پی 8 کر ہونا چاہئے کہ نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی اس کے جذبہ خیر سے مستفید ہوں اور مسلم سے انہیں کسی ایذا رسانی کا خطرہ نہ ہو مگر آج کی عملی زندگی میں اس کی اتنی ہی کمی نظر آتی ہے جس قدر اس کی ضرور تھی آخر کیوں ؟ تو ارشاد ہوا کہ اللہ کریم تکبر کرنے والوں اور دوسروں پر اپنی بڑائی جتانے والوں کو کبھی پسند نہیں فرماتے۔ یعنی ان جملہ امور میں کوتاہی والدین اور رشتہ دار یا غریب و بیکس لوگوں کے ساتھ بدسلوکی کرنا یا ایسے لوگوں کے لیے باعث تکلیف ثابت ہونا جن کا واسطہ ہمسفر یا ہمنشیں ہونے کی صورت میں پڑے یا نوکروں اور ملازموں کو تنگ کرنا یہ کام صرف وہ آدمی کرے گا جس میں تکبر ہوگا اور وہ دوسروں کو یہ احساس دلانا چاہ رہا ہوگا تم مجھ سے بہت کمتر درجہ کے لوگ ہو یا درکھیے ایسے لوگ عنداللہ ناپسندیدہ لوگ ہوتے ہیں یہ جب دوسروں کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں تو مال میں بھی بخل کرنے لگتے ہیں یعنی جو مال دوسروں تک پہنچنا چاہیے تھا ان کے حق کی صورت میں یہ اسے روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر کوئی نعمت اللہ نے انہیں دے رکھی ہو تو اسے دوسروں سے چھپاتے ہیں بلکہ اپنے حلقہ اثر میں بھی یہ طریقہ ہی رائج کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ دوسرے لوگ بھی مال پا کر یا علم حاصل کرکے ان کے برابر نہ آجائیں اگرچہ اپنے نزول کے اعتبار سے یہ آیہ کریمہ یہود مدینہ کے بارے میں ہے مگر اس کے عموم میں ہر وہ آدمی داخل ہے جو ایسی حرکات کا مرتکب ہوتا ہے مثلاً یہود مدینہ جہاں انتہائی متکبر تھے وہاں یہ کوشش بھی کرتے تھے کہ غربا کبھی خوشحال نہ ہونے پائیں یہی حال علم کے معاملہ میں تھا کہ الہامی کتاب کے علوم بھی دوسروں سے چھپاتے تھے کہ ہمارے برابر نہ آجائیں اور یہی حال اس حاکم یا سردار و جاگیر دار یا عالم کا ہے جو مال میں کسی کی حق تلفی کرے یا کسی کو علم سے محروم رکھنے کا سبب بنے جیسے عرصہ دراز تک ہمارے ملک کے جاگیر داروں نے اپنے بچوں کو تو آکسفورڈ تک پڑھایا مگر غربا کے بچوں کے لیے کوئی پرائمری سکول بھی قائم نہیں ہونے دیا اس کی بنیادی وجہ تکبر اور خود ستائی کو ارشاد فرمایا گیا ہے اور یہ ایسی خطرناک صفت ہے جو آدمی کو قدم بہ قدم کفر کی طرف لے کر جاتی ہے اور کافروں کے لیے اللہ کریم نے ذلت کے عذاب پیدا فرما دئیے ہیں ایسے لوگوں کی زندگی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جب خرچ کرنے پہ آتے ہیں تو پھر سارا خرچ دکھاوے اور نام و نمود کے لیے کرتے ہیں اور اس میں بھی ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ لوگ مجھے بڑا جانیں دیکھا گیا ہے کہ والدین بیمار اور حاجت مند ہوں تو ان کی خبر گیری نہیں کی جاتی اگر مرجائیں تو خواہ قرض لینا پڑے بہت بڑی دعوتیں کی جاتی ہیں کہ لوگوں کو پتہ چل جائے یہ آدمی بہت کچھ کرسکتا ہے فرمایا جو خالص اللہ کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کے دکھانے کے لیے عمل کرتا ہے یہ وہ شخص ہے جس کا دوست یا مشیر اور ہمنشیں شیطان ہو اور یہ بہت برا مصاحب ہے کہ ہمیشہ ایسے مشورے دیتا ہے جن سے دونوں عالم کی رسوائی اور عذاب الہی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
Ayahs 4:39–42

وَ مَا ذَا عَلَیْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِیْمًا Open ayah 4:39 in the Quran reader

اور ان کو کیا (مصیبت) ہے اگر اللہ کے ساتھ اور آخرت کے دن کے ساتھ ایمان لائیں اور جو مال اللہ نے ان کو دیا ہے اس میں سے (اس کی راہ میں) خرچ کرتے رہا کریں اور اللہ ان کو خوب جانتے ہیں

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ١ۚ وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:40 in the Quran reader

یقینا اللہ ذرہ برابر بھی زیادتی نہیں کرتے اور اگر (کوئی) نیکی ہوگی تو اس کو دو چند کردیں گے اور اپنے پاس سے بہت بڑا اجر (ثواب) عطا فرمائیں گے

فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًا٢ؕؐ Open ayah 4:41 in the Quran reader

پھر کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کو حاضر کریں گے اور آپ کو ان سب پر گواہ لائیں گے

یَوْمَئِذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ عَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰى بِهِمُ الْاَرْضُ١ؕ وَ لَا یَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:42 in the Quran reader

اس دن جن لوگوں نے کفر کیا اور پیغمبر کی نافرمانی کی ، آرزو کریں گے کہ کاش ان پر (ان کو دفن کرکے) مٹی برابر کردی جائے اور وہ اللہ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے

آیت 39 تا 42: وما ذا علیہم لو امنوا۔۔ ولا یکتمون اللہ حدیثا۔ اگر یہ اللہ پر اور آخرت پر ایمان ہی لے آتے تو ان کا کیا بگڑ جاتا اگر اللہ کے دئیے کو اسی کے حکم کے مطابق خرچ کرتے تو انہیں کوئی نقصان اٹھانا نہ پڑتا بلکہ ایمان باللہ ہی وہ نعمت ہے جو زندگی آسان کردیتی ہے اور ایک ایسا سہارا نصیب ہوجاتا ہے جو مزید کسی سہارے کا محتاج نہیں رہنے دیتا ایمان بالآخرت ہی انسانی معاشرے کی اصلاح کا بنیادی پتھر ہے اگر اللہ اور آخرت پر ایمان نہ ہو تو زندگی جہنم کا نمونہ بن جاتی ہے جس پر مغرب کا خدا فراموش معاشرہ پکار پکار کر شہادت دے رہا ہے کہ حکومت اور اس کے وسائل سب کچھ ہے مگر جرائم پہ قابو نہیں پایا جا رہا کہ پس دیوار صرف ایمان کی قوت کام آتی ہے حکومت کی آنکھ نہیں دیکھ سکتی تو اگر لوگوں کو یہ نعمت نصہب ہوتی تو خود ان کے لیے آسانیاں پیدا ہوجاتیں نیز مال و دولت ہو یا علم قوت جسمانی ہو یا عہدہ اور مرتبہ یہ سب اللہ کریم ہی کی عطا ہے اگر انہیں اسی کی رضا کے لیے اور اسی کے حکم کے مطابق استعمال میں لاتے تو تھوڑی محنت سے زیادہ نتائج حاصل کرتے پھر حق بات یہ ہے کہ اللہ کریم سب لوگوں سے ان کی سوچ اور عمل سے خوب واقف بھی ہے یعنی کوئی خیال یا حرکت اس کی ذات سے چھپی ہوئی نہیں ہے اسلام نظریات اور اعمال کے مجموعہ کا نام ہے کہ نظریہ بغیر عمل کے بےکار ہوتا ہے اور عمل بغیر نظریے کے لاحاصل تو گویا ایمان کے بغیر یا اطاعتِ الہی کے باہر کوئی انسانی کوشش مثبت نتائج پیدا نہیں کرسکتی اور اسلام انسانیت کی ضرورت ہے اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ کسی بھی کام کو کرنے کا جو سلیقہ اللہ کریم کی طرف سے بتایا جائے گا وہ صحیح ترین طریقہ ہوگا اور جو طریقہ درست ہوتا ہے وہی آسان ترین ہوتا ہے اس کے علاوہ اگر کوئی راہ اپنائی جائے تو مشکل بھی ہوتی ہے اور اگر کام ہو بھی جائے تو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکتے گویا اسلام ایک بھرپور آرام دہ باعزت زندگی کا نام ہے جو موت اور مابعد الموت کو بھی آسان بنا دے پھر نہ ماننے والے لوگ کتنے ہی بیوقوف اور نادان ہیں کہ وہ اللہ کریم کے روبرو کچھ چھپا بھی نہ سکیں گے اب رہی بات عذاب کی تو اللہ کریم کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ وہ کسی کے ساتھ ناانصافی کرے بات صرف اتنی ہے کہ انسان کو ایسا باشعور پیدا فرمایا کہ وہ بھلے برے میں تمیز کرسکتا ہے پھر اسے بھلا اور برا سمجھا بھی دیا۔ اور جب بھی جہاں بھی ضرورت پیدا ہوئی نبی بھیج کر اس کو پورا کردیا اور انسان کو راہ اپنانے کا اختیار بھی عطا فرمایا اب اگر کوئی گرفتار بلا ہوتا ہے یا عذاب الہی میں خود کو گراتا ہے تو یہ اس کی اپنی رائے اور پسند کا قصور ہے ورنہ اللہ تو ایسا کریم ہے کہ خطا پہ سزا تو بقدر خطا ہوگی مگر اطاعت کے اجر کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے جس کے بارے ارشاد ہے کہ کم از کم دس گنا ثواب عطا فرمتا ہے اور زیادہ کی حد نہیں بعض اعمال پر بیس لاکھ گنا اجر عطا فرمایا جاتا ہے اور بعض کو اس قدر بڑھا دیتا ہے کہ شمار میں نہیں آسکتا۔ کہ یوت من لدنہ اجرا عظیما۔ بہت بڑا جر حدوحساب سے باہر اجر عطا فرماتا ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ محض اپنے ذاتی علم پر ہی سزا نہ دے گا بلکہ ہر امت پر اس کے نبی سے شہادت لی جائے گی جس کی دو صورتیں مذکور ہیں اول یہ کہ ہر امت پر اس کا نبی اس بات کی گواہی دے گا کہ ان تک دعوت الہیہ پہنچی تھی اور کس کس نے قبول کی اور کن لوگوں نے انکار کیا۔ چناچہ کفار وہاں پھر انکار کریں گے جس پر انبیا علیہم الصلوۃ والسلام سے سوال ہوگا کہ آپ کی بات پر کون تصدیق کرتا ہے تو عرض کریں گے بار الہ امت محمد ﷺ سے گواہی لی جائے چناچہ حضور اکرم ﷺ کی امت گواہی دے گی تو کفار کہیں گے کہ انہوں نے ہمارا زمانہ نہیں پایا تو عرض کریں گے کہ اے اللہ ہم نے تیرے نازل کردہ قرآن میں یہ سب حالات پڑھے تھے حضور اکرم ﷺ اپنی امت پر اسی امر کی شہادت دیں گے کہ انہوں نے میری دعوت قبول کرکے میری اطاعت کی تھی اور مجھ سے ہی ان تک آپ کا کلام پہنچا تھا جس میں خود آپ نے انہیں امت وسط اور خیر امت فرمایا تھا چناچہ تمام کفار کا جھوٹ ظاہر ہوجائے گا اس کے بعد کفار خود بھی اقرار کرکے عذر خواہ ہوں گے اور دوسری قسم شہادت کی یہ بھی ہوگی کہ دعوی اسلام کے ساتھ جو عمل ہم کرتے ہیں کیا وہ نبی کے فرمودہ امور ہیں یا لوگوں نے اپنی طرف سے گھڑ لیے ہیں جیسے عیسیٰ (علیہ السلام) سے سوال ہوگا۔ ء انت قلت للناس۔ کیا آپ نے لوگوں کو حکم دیا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو تو وہ عرض کریں گے اے اللہ میں نے تو وہی کچھ کہا جس کا آپ نے حکم دیا تھا یہ تو ان بدنصیبوں کی اپنی ایجادات ہیں ایسے ہی جملہ اعمال جن پر ہمیں ثواب کی امید ہوتی ہے ہر امت کے نبی کی شہادت سے ہی قبول ہوں گے کہ وہ نبی کے حکم کے مطابق تھے اس لیے رسومات کو دین سمجھ لینا سخت نادانی ہے جن پر دنیا میں وقت محنت اور دولت صرف کی اور آخرت میں بجائے ثواب کے الٹا رسوائی کا اور عذاب کا سبب بن جائیں تو کس قدر حسرت ہوگی اس امر پر بھی روایات موجود ہیں کہ آپ ﷺ پر امت کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں جن کی حضور اکرم ﷺ تصدیق یا تردید فرماتے ہیں وہی شہادت میدان حشر میں بھی پیش ہوگی تو کفار اور نافرمان یہ خواہش کریں گے کہ کاش انہیں مٹی میں ملا دیا جائے اور ان کا نام و نشان نہ رہے کہ پوچھ گچھ سے اور عذاب الہی سے بچ سکیں مگر خود ان کا چپنا تو کجا اپنے کسی چھوٹے سے چھوٹے عمل کو بھی نہ چھپا سکیں گے کفر تو بجائے خود بہت بڑی مصیبت ہے مگر ایسے لوگوں کا حال بھی کچھ کم برا نہ ہوگا جو رسومات کو دین سمجھ بیٹھے ہیں اس لیے کسی بھی کام کو کرنے سے پہلے خوب سمجھ لینا چاہئے کہ آیا واقعی یہ حضور ﷺ کا حکم ہے اور سنت خیر الانام کی خلاف ورزی تو نہیں اور ایسے امور جو آپ ﷺ سے ثابت نہ ہو کو ہرگز دین نہ سمجھا جائے۔ یہاں ختم نبوت کی دلیل بھی ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے بعد نہ کوئی نبی نہ کوئی امت کو آخری امت بطور گواہ اور آخری نبی بطور شہادت آپ ﷺ کی امت اور آپ ﷺ ہی کی ذات عالی ہوگی لہذا آپ صلی اللہ عہلیہ وسلم کی بعثت کے بعد کسی بھی نئے نبی کا دعوی باطل ہے۔
Ayah 4:43

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیْ سَبِیْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:43 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم نشے میں ہو تو جب تک جو منہ سے کہو اسے سمجھنے (نہ) لگو ، نماز کے قریب مت جاؤ اور جنابت میں بھی ، سوائے حالت سفر کے یہاں تک کہ تم غسل کرلو اور اگر تم بیمار ہو یا حالت سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی بیت الخلاء سے آیا ہو یا تم نے بیبیوں سے قرابت کی ہو پھر تم کو پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے (یعنی اس پر ہاتھ مارکر) تیمم کرلو پس اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں پر ہاتھ پھیر لو یقینا اللہ معاف کرنے والے بخشنے والے ہیں

رکوع نمبر 7 ۔ آیات 43 تا 50 ۔ والمحصنت۔ 5/4 اسرار و معارف آیت نمبر 43 ۔ یا ایھا الذین امنوا لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکاری۔ ۔۔۔ کان عفوا غفورا۔ نزول اسلام میں تدریج ہے ہے اور مسلس تئیس برسوں میں ایک مکمل ضابطہ حیات امت مرحومہ کو عطا فرمایا گیا ہے عرب میں شراب نوشی عام تھی سوائے چند سلیم الفطرت لوگوں کے ہر کوئی نشہ کرتا تھا اور یہ نشہ کرنا بھی اللہ اور رسول کی نافرمانی کا ایک بہت بڑا سبب تھا جس سے اللہ کریم امت کو محفوظ فرمانا چاہتا تھا کہ نشے میں نفع و نقصان کی پرواہ نہیں رہتی تو ابتداء یہ حکم دیا گیا کہ نشے کی حالت میں نماز ادا نہ کی جائے حتی کہ جب حواس درست ہوں اور جو لفظ منہ سے سے نکلے اور اسے سمجھ بھی رہا ہو تب نماز ادا کرے چناچہ اکثر حضرات نے اسی آیت کے نزول پر شراب چھوڑ دی تھی بعد میں سورة مائدہ کی آیت میں اس کی قطعی حرمت کا حکم آ گیا تو شراب وغیرہ نشہ آور اشیا کا استعمال حرام قرار پایا بالکل اسی طرح متعہ بھی عربوں کا عہد جہالت کا رواج تھا جو بعد میں حرام کیا گیا بعض مفسرین نے ایسی نیند کی حالت میں بھی نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے جس میں بہکنے کا خدشہ ہو تو بہتر ہے کہ کچھ دیر نیند کرلے اور پھر بیدار ہو کر نماز ادا کرے اور اسی طرح جنابت کی حالت میں بھی پہلے غسل کرے کہ فرض ہے پھر نماز ادا کرے ہاں اگر حالت سفر میں ہو یا پانی نہ مل سکے تو تیمم کرلو یاوی سے بھی کسی نے رفع حاجت کی اب اسے وضو کی ضرورت ہے یا بیوی سے جماع کیا اور پاک ہونے کے لیے پانی نہیں ملتا یا پانی ہے مگر بیماری ایسی ہے کہ پانی استعمال نہیں کرسکتا یا اگر کرے تو مرض کے بڑھنے کا اندیشہ ہے تو ایسی صورتوں میں تیمم کرلے کہ پاک مٹی پر ہاتھ مار کر چہرے اور ہاتھوں پہ پھیرے تو غسل اور وضو سب کو کافی ہوگا یہ بھی امت مرحومہ کی خصوصیات میں سے ہے کہ ارشاد ہوا تین چیزیں اس امت کی خصوصیات میں سے ہیں اول ساری زمین کو مسجد قرار دیا گیا دوم مٹی سے تیمم کرنے کی اجازت بخشی گئی اور تیسرے اس کی صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنائی گئی ہیں تیمم کے احکام تو عام رسالوں میں مل جاتے ہیں تفصیل ضرور دیکھ لینا چاہئے کہ اکثر لوگوں کو اس کا علم نہیں ہوتا یہ اللہ کریم کا بہت بڑا انعام ہے جو آل ابوبکر کے طفیل پوری امت کو نصیب ہوا حضور اکرم ﷺ کسی سفر میں تھے سیدہ عائشہ الصدیقہ ہمراہ تھیں کہ ان کا ہار گرگیا تو آپ نے رکنے کا حکم دیا اور ہار کی تلاش شروع ہوئی جگہ ایسی تھی جہاں پانی نایاب تھا لوگوں نے سیدنا ابوبکر سے عرض کی کہ نماز کا وقت ہورہا ہے اور پانی ملنا محال ہے وہ بہت غصے کی حالت میں سیدہ عائشہ السدیقہ کے پاس تشریف لائے تو نبی اکرم ﷺ ان کی گود میں سر مبارک رکھے سو رہے تھے آپ بہت ناراض ہوئے کہ بیٹا تم نے حضور اکرم ﷺ کو اور مسلمانوں کو ایسی جگہ ٹھہرا دیا جہاں پانی کی بوند نہیں ملتی حضرت صدیقہ فرماتی ہیں کہ میں خاموش تھی اور حرکت بھی نہ کرتی تھی کہ آپ کی نیند میں خلل نہ آئے۔ صدیق اکبر سرگوشیوں کے انداز میں خفا ہو رہے تھے کہ آپ پر وحی کی حالت وارد ہوگئی آنکھ مبارک کھولی تو تیمم کا حکم اور اجازت نازل ہوچکی تھی جس پر صحابہ نے کہا اے آل ابوبکر یہ تمہاری برکات میں سے ہے کہ پوری امت کو آسانی عطا فرما دی گئی۔
Ayahs 4:44–46

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یَشْتَرُوْنَ الضَّلٰلَةَ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 4:44 in the Quran reader

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے ایک (بڑا) حصہ ملا ہے وہ گمراہی مول لیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم راہ سے بھٹک جاؤ

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآئِكُمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَلِیًّا١٘ۗ وَّ كَفٰى بِاللّٰهِ نَصِیْرًا Open ayah 4:45 in the Quran reader

اور اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتے ہیں اور اللہ ہی دوست کافی ہیں اور اللہ ہی مدد دینے کو کافی ہیں

مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا وَ اسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وَّ رَاعِنَا لَیًّۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ وَ طَعْنًا فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا وَ اسْمَعْ وَ انْظُرْنَا لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَقْوَمَ١ۙ وَ لٰكِنْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:46 in the Quran reader

یہودیوں میں سے کچھ لوگ کلمات کو ان کے مقام سے بدل دیتے ہیں اور کہتے ہیں ہم نے سنا اور مانا نہیں اور سنئیے ، نہ سنوائے جائیے اور زبان کو مروڑ کر راعنا کہتے ہیں اور دین میں طنز کرتے ہوئے۔ اور اگر یہ لوگ (یوں) کہتے کہ ہم نے سنا اور ہم نے مانا اور سنیئے اور ہم پر نظر کیجئے تو ان کے لئے بہت بہتر ہوتا اور درست بات ہوتی لیکن اللہ نے ان کو ان کے فکر کی وجہ سے اپنی رحمت سے دور کردیا پس ان میں تھوڑے ہی ایمان لاتے ہیں

آیت نمبر 44 تا 46: الم تر الی الذین ۔۔۔ فلا یومنون الا قلیلا۔ اے مخاطب ان لوگوں کا حال دیکھ لیجئے جن کو پہلے کتاب اللہ میں سے حصہ نصیب ہوا یعنی یہود ونصاریٰ تو انہوں نے اس پر عمل کرنے میں کوتاہی کی اپنی خواہشات کے تابع ہوگئے یعنی کتاب کے ساتھ ایمان کا دعوی تو قائم رکھا مگر عملی زندگی میں کتاب سے نہ صرف بیگانہ رہے بلکہ اپنی رائے کو جواز مہیا کرنے کے لیے کتاب اللہ کے کلمات تبدیل کردئیے تو نتیجہ الٹ گیا وہ کتاب جو سراسر ہدایت تھی اس کو بدل کر اور اس کی اطاعت سے نکل کر گمراہ ہوگئے یعنی انہوں نے گمراہی خرید لی کہ ان پر مسلط نہیں کی گئی بلکہ انہوں نے اپنی رائے اور پسند سے اختیار کی تو اب ان کی خواہش یہ ہے کہ دوسرے لوگ بھی ان کے ساتھ مل جائیں یعنی مسلمانوں کو بھی گمراہ کرنے کے درپے ہیں۔ مگر اللہ کریم تمہارے دشمنوں سے آگاہ ہے اور بہترین کارساز اور مدد کرنے والا ہے یہ قاعدہ ارشاد ہوا کہ جو لوگ عملی زندگی میں گمراہی اختیار کرتے ہیں ان کی کوشش تو یہی ہوتی ہے کہ سب کو ساتھ ملا لیں مگر جنہیں اطاعت الہی نصیب ہو اور خلوص دل سے اس کے لیے کوشش کرتے رہیں انہیں حفاظت الہیہ نصیب ہوتی ہے اور برا ماحول یا معاشرہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا بد اعمالی کا اثر بد خود ان لوگوں پہ زیادہ پڑتا ہے جو اسے اختیار کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ کلام الہی میں تحریف کے مرتکب ہوتے ہیں تاکہ اپنی رائے کو جواز مہیا کریں تو اس طرح انہیں اس تفسیر سے ٹکرانا پڑتا ہے جو اللہ کے نبی کی ارشاد کردہ ہو جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خود نبی کی شان میں گستاخی کے مرتکب ہوتے ہیں جیسے یہود کہ حضور اکرم ﷺ کے سامنے ذومعنی الفاظ استعمال کرتے تھے جن سے اچھے اور برے دونوں معنی نکل سکتے تھے چناچہ انہیں اللہ کی رحمت سے محروم کردیا گیا اور ان قلیل افراد کو ایمان نصیب ہوا جو اس گناہ سے بچتے تھے خود ان کے حق میں بہتر تھا کہ ذومعنی الفاظ کی بجائے ایسے الفاظ استعمال کرتے جو صاف معنی پر دلالت کرنے والے تھے اور اطاعت اختیار کرتے یہ سب بد عملی کے نتائج تھے جو انہیں پیش آئے مراد یہ ہے کہ جو ارشادات ورع وتقوی حلال و حرام یا اخلاقیات اور آپس کے تعلقات کے متعلق ارشاد ہوئے ہیں ان کو اپنانا خود انسانی بہتری کے لیے ضروری ہے وگرنہ محض عقیدت اور عملی اعتبار سے بےرخی آخر اس مقام پر لے جائے گی جہاں خود نبی کی ذات بھی تنقید کی زد سے محفوظ نہ رہ سکے گی جیسے آج کل کے بےعمل افراد احکام الہی اور سنت خیر الانام ﷺ کے بارے بغیر جھجھک کے کہہ دیتے ہیں یہ بات جاہلانہ ہے یا پڑھے لکھے لوگوں کا انداز ذرا مختلف ہوتا ہے وہ قدامت پسندی کی اصطلاح استعمال کرتے یا کہتے ہیں کہ آج کل کے زمانے میں ناقابل عمل ہے حالانکہ اسلام کا اعجاز یہی ہے کہ یہ ایک ایسا طرز حیات ہے جو ہر قوم کے لیے ہر ملک اور ہر زمانے میں قابل عمل ہے شرط یہ ہے کہ قرآن حکیم کی وہ تفسیر اختیار کی جائے جو خود نبی اکرم ﷺ نے فرمائی اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس پر عمل کیا جو تشریح ہم اس سے ہٹ کر اور اپنی رائے سے کریں گے یقینا وہ دشوار بھی ہوگی اور ناقابل عمل بھی۔ اگر اسی پر اصرار کیا تو نتیجہ یہ ہوگا کہ ارشادات نبوی پر صحابہ کرام پر تنقید ہوگی جو رحمت الہی سے دور اور سزوار لعنت بنا دے گی ادب نبوی یہ ہے کہ کوئی ایسا لفظ بھی استعمال نہ کیا جائے جس کے اچھے اور برے دونوں معنے لیے جاسکتے ہوں ورنہ ایمان سلب ہونے کا اندیشہ ہے چہ جائیکہ ارشاداتِ عالی پہ تنقید کی جائے۔
Ayah 4:47

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰۤى اَدْبَارِهَاۤ اَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّاۤ اَصْحٰبَ السَّبْتِ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 4:47 in the Quran reader

اے اہل کتاب ! ہماری نازل کی ہوئی کتاب پر ایمان لاؤ جو تمہارے کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے اس سے پہلے کہ ہم چہروں کو مٹا ڈالیں (مسلخ کردیں) تو ان کو ان کی الٹی جانب پھیر دیں یا ان پر ہم ایسی پھٹکار کریں جیسی پھٹکار ہم نے ہفتے کے دن والوں پر کی تھی اور اللہ کا حکم پورا ہو کر ہی رہتا ہے

آیت نمبر 47: یا ایہا الذین اوتوا الکتب ۔ وکان امر اللہ مفعولا۔ اے اہل کتاب تمہیں تو ماننے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہئے کہ نبی کریم ﷺ پر جو کچھ نازل ہوا وہ انہیں عقائد کی تصدیق و تائید فرماتا ہے جن سے تم پہلے آشنا ہو اور جو تم پر نازل ہونے والی کتاب میں موجود ہیں توحید آخرت عذاب وثواب فرشتہ وغیرہ عقائد تو سب وہی ہیں صرف رسالت نئی ہے سو اس کا ذکر بھی تمہاری کتاب میں موجود ہے اب اس کے باوجود روگردانی ایسا جرم ہے کہ اگر اللہ چاہے تو چہرے مسخ کردے یا الٹ دے جس طرح تم نے اپنا رویہ الٹا رکھا ہے یا ایسی لعنت میں گرفتار کرے جس میں ہفتہ کے دن والوں کو کیا تھا انہوں نے بھی اپنی رائے کو جواز مہیا کرنے کے لیے ایک طریقہ ایجاد کیا تھا مگر اللہ کو تو دھوکہ نہ دے سکتے تھے چناچہ گرفتار بلا ہو کر تباہ ہوئے اور آج پھر اگر وہی جرم دہرایا جائے گا تو ایسی ہی سزا بھی مسلط کی جاسکتی ہے کہ اللہ کے حکم کو تو کوئی بھی روک نہیں سکتا جو وہ چاہے ہو کر رہتا ہے اور یہ مردوں کو عورتوں کی شکل اور عورتوں کو مردانہ حلیہ بھی ایک مسخ ہی کی صورت نظر آتی ہے جو ہماری بد اعمالی کے نتائج میں سے ہے کہ آج کا مسلمان بھی اسی گناہ کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے اپنی خواہش کی اصلاح کرنے کی بجائے اسکو جواز مہیا کرنے کی فکر زیادہ کی جا رہی ہے۔ اللہ کریم اس سے پناہ دے۔ آمین۔
Ayahs 4:48–50

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا Open ayah 4:48 in the Quran reader

بیشک اللہ اس (گناہ) کو نہیں بخشیں گے کہ (کسی کو) اس کے ساتھ شریک بنایا جائے اور اس کے سوا جس کو چاہیں بخش دیں گے اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو اس نے بہت بڑا جرم کیا

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُزَكُّوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ بَلِ اللّٰهُ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:49 in the Quran reader

کیا تم نے ایسے لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے آپ کو پاکیزہ کہتے ہیں بلکہ اللہ ہی جس کو چاہتے ہیں پاکیزہ کرتے ہیں اور ان پر دھاگے کے برابر بھی زیادتی نہ کی جائے گی

اُنْظُرْ كَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖۤ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:50 in the Quran reader

دیکھو ! یہ اللہ پر کیسا جھوٹ باندھتے ہیں اور ان کو یہی صر i ح گناہ کافی ہے

آیت نمبر 48 تا 50: ان اللہ لا یغفر ۔۔۔۔ وکفی بہ اثما مبینا۔ اللہ کریم اپنی ذات وصفات میں کسی کو شریک کرنے والے کو کبھی نہیں بخشتے اس کے لیے سزا پا کر بھی کبھی عذاب ختم نہ ہوگا کہ یہ بہت بڑا ظلم اور انتہائی بڑا جرم ہے علم میں کسی کو اللہ کی طرح غیب دان جاننا یا نفع و نقصان پہنچانے والا گمان کرنا یا اللہ کی طرح کسی اور کی عبادت کرنا یہ ایسے جرائم ہیں کہ اللہ کی بخشش سے ہمیشہ کیلئے محروم کردیتے ہیں بعض اوقات کیا اکثر اوقات ہم اللہ کی اطاعت چھوڑ کر بعض انسانوں کی اطاعت کرتے ہیں اس کے پیچھے یا ان کا خوف ہوتا ہے یا ان سے کسی نفع کی امید یہی شرک کی اصل ہے ہاں انبیاء اور صلحاء کی اطاعت اس لیے شرک نہیں کہ وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے اللہ تعالیٰ ہی کے احکام پہنچاتے ہیں سو وہ اطاعت بھی اللہ ہی کی ہے اگر کسی نے شرک سے توبہ نہ کی اور اسی حال میں موت نے آ لیا تو ہمیشہ کے لیے عذاب میں گرفتار ہوگیا ہاں کسی کو توبہ نصیب ہوگئی ایمان لے آیا تو مشرک نہ رہا اور حیرت ہے ایسے لوگوں پر جو اپنے آپ کو بہت اچھا اور نیک و پاک باز جانتے ہیں اور اس کو بیان بھی کرتے ہیں حالانکہ نیکی کا بنیادی تصور یہ ہے کہ اللہ کریم نے اسے نیکی قرار دیا ہو جس کی بنیاد ہی ایمان ہے اگر کسی کا عقیدہ ہی درست نہیں تو اسے نیکی کی توفیق نصیب نہیں ہوتی بظاہر بعض لوگوں کے کردار میں ہمیں نیکی نظر آتی ہے مگر اس کے پیچھے ان کا جو جذبہ بھی ہوتا ہے وہ کبھی اللہ کی رضا کے لیے نہیں ہوتا بلکہ ان کا کوئی نہ کوئی ذاتی مقصد ضرور ہوتا ہے تو وہ عمل نیکی نہیں بن سکتا۔ بالکل اسی طرح جب دعوی ایمان کے ساتھ ہم عملی زندگی میں اطاعت اختیار نہیں کرتے تو یہ ہمارے دعوے کو کمزور کردیتا ہے اس کے باوجود بھی اپنی بڑائی بیان کرنے سے کبر پیدا ہوتا ہے یا لوگوں کو ایک تقدس کا گمان ہونے لگتا ہے جیسے ہندومت میں دیوتا کا تصور حالانکہ انسان بہر حال انسان ہی ہوتا ہے اور نبی کے علاوہ کوئی بھی انسان معصوم نہیں ہوتا احتمالِ خطا موجود ہے سو اللہ سے مغفرت ہی طلب کرنا چاہئے اور اپنی کمزوریوں پہ نگاہ رکھنا ضروری ہے ہاں بعض اوقات تحدیث نعمت کے طور پر کہ اللہ نے مجھے اس بھلائی کی توفیق بخشی ہے اگر بیان کیا جائے تو یہ خود ستائی نہ ہوگی شاید اس طرح دوسرے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ بھی اس نعمت کو پانے کے لیے سرگرم عمل ہوجائیں۔ ورنہ تکبر اور خود ستائی میں مبتلا ہونا تو بہت بڑی ہلاکت کا پیش خیمہ ہے کہ انسان کو دو عالم میں رسوا کردتیا ہے اور فہم و فراست تک میں کجی آجاتی ہے برائی بھلی لگتی ہے نیکی اور اچھائی طبیعت کو نہیں بھاتی یا باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگتا ہے
Ayahs 4:51–57

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ وَ یَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا Open ayah 4:51 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب میں سے ایک (بڑا) حصہ دیا گیا کہ بتوں اور شیطان کو مانتے ہیں اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ ایمان والوں کی نسبت سیدھے راستے پر ہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یَّلْعَنِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:52 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ لعنت کریں تو تم اس کا کوئی مددگار نہ پاؤ گے

اَمْ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا یُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِیْرًاۙ Open ayah 4:53 in the Quran reader

کیا ان کے پاس بادشاہی کا کچھ حصہ ہے تو ایسی صورت میں لوگوں کو تل برابر بھی نہ دیں گے

اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا Open ayah 4:54 in the Quran reader

یا لوگوں سے اس پر حسد کرتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا پس ہم نے اولاد ابراہیم کو کتاب دی اور دانائی اور ان کو عظیم سلطنت عطا فرمائی

فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْهُ١ؕ وَ كَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِیْرًا Open ayah 4:55 in the Quran reader

پھر ان میں سے کچھ لوگوں نے تو اس کو مانا اور کچھ لوگ اس سے باز رہے اور دوزخ کی جلتی ہوئی آگی کافی ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْهِمْ نَارًا١ؕ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:56 in the Quran reader

یقینا جن لوگوں نے ہماری آیات کے ساتھ کفر کیا عنقریب ہم ان کو آگ میں ڈالیں گے جب ان کی کھالیں گل جائیں گی تو ہم ان کو دوسری کھالوں سے بدل دیں گے تاکہ (ہمیشہ) عذاب (کا مزہ) چکھتے رہیں یقینا اللہ غالب ہی حکمت والے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١٘ وَّ نُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِیْلًا Open ayah 4:57 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے عنقریب ہم ان کو بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے تابع نہریں جاری ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے وہاں ان کے لئے پاک بیبیاں ہوں گی اور ہم ان کو گھنے سائے میں داخل کریں گے

آیات 51 تا 52 ۔ الم تر الی الذین ۔۔۔۔ نصیرا۔ آپ ایسے لوگوں کو دیکھئے جنہیں کتاب الہی نصیب ہوئی کہ احقاق حق کی سب سے بڑی دلیل ہے اور اتنی بڑی نعمت ہے کہ انسان اس کی عظمت کا انداز تک نہیں کرسکتا جس کی خاطر انبیاء مبعوث کیے جاتے ہیں کہ کوئی غیر نبی کلام الہی کو وصول کرنے کی تاب ہی نہیں رکھتا جس کا کمال یہ ہے کہ وہ شخص جو اللہ تعالیٰ سے حاصل کرتا ہے معصوم عن الخطا ہوتا ہے کہ کلام الہی کے حصول کیلئے یہ تقدس شرط ہے پھر جو کوئی اس پر ایمان لاتا ہے فوراً کفر کی ساری ظلمت دور ہو کر اس کا سینہ منور ہوجاتا ہے اور قدم قدم پر اسے نہ صرف راہنمائی ملتی ہے بلکہ تائید باری بھی برابر حاصل ہوتی ہے مگر انانیت اور خود ستائی اتنا بڑا جرم ہے کہ یہ لوگ بتوں اور شیاطین کو اپنا معبود مان رہے ہیں اور نگاہ کی کجی ملاحظہ ہو کہ کہتے ہیں کفار مسلمانوں کی نسبت حق پر اور راہ راست پر ہیں یہاں مفسرین نے جو واقعہ نقل فرمایا ہے وہ بھی عبرت کا نمونہ ہے کہ فرماتے ہیں حی بن اخطب اور کعب بن اشرف وغیرہ سرداران یہود جنگ احد کے بعد مشرکین مکہ کے پاس آئے اور مسلمانوں کے خلاف آپس میں معاہدہ کرنا چاہا جس پر اہل مکہ نے کہا کہ یہود ایک دھوکہ دینے والی قوم ہے اس لیے اعتبار نہیں کیا جاسکتا ہاں اگر ہمارے بتوں کے سامنے سجدہ کرکے وعدہ کرو تو البتہ قابل غور ہے یہود نے ایسا کر دکھایا پھر کعب بن اشرف نے جو بہت بڑا عالم بھی تھا تجویز پیش کی کہ تیس آدمی تمہارے ہوں اور تیس آدمی ہمارے اور بیت اللہ شریف کے سامنے مل کر عہد کریں کہ ہم مسلمانوں کے خلاف متحد ہو کر لڑیں گے قریش نے تجویز تو پسند کی مگر ابو سفیان نے کہا ایک بات ہے کہ تم کتاب کے عالم ہو اور ہم لوگ دین کے معاملہ میں علم نہیں رکھتے اس لیے پہلے یہ بتاؤ کہ محمد ﷺ حق پر ہیں یا ہم مراد یہ تھی کہ اگر وہ حق پر ہیں تو پھر ان کے خلاف معاہدہ کیسا ہم قبول کریں یا نہ حق کے خلاف لڑنا تو معقول بات نہیں کعب نے پوچھا پنا دین بیان کرو انہوں نے وہ رسومات گنوا دیں جو مشرکین عرب میں دین کے نام پہ رائج تھیں اور حضور اکرم ﷺ کے بارے کہا کہ وہ ان کو چھوڑ چکے اور ایک نیا دین پیش کر رہے ہیں اس پر کعب نے کہا کہ تم حق پر ہو اور محمد ﷺ گمراہ ہوچکے ہیں۔ حالانکہ کعب بہت بڑا عالم اور حضور ﷺ کی بعثت تک کا علم رکھنے والا پھر عقاید میں توحید و شرک ، دین اور رسومات کے فرق سے آگاہ تھا مگر اپنے آپ کو بڑا منوانے کے لیے کس قدر اندھا ہوگیا کہ باطل کو حق اور حق کو باطل قرار دے رہا ہے یہ دل و دماغ کی کجی اس لیے ہے کہ اللہ نے ایسے متکبر لوگوں پر لعنت فرمائی ہے جو رحمت سے دوری اور محرومی ہے لہذا اس کے نتیجہ میں یہ لوگ گمراہ ہوئے جس کی بنیاد یہ تھی کہ اپنے آپ کو بڑا منوانے کی فکر و آرزو رکھتے تھے اور یاد رکھیں جس پر اللہ کی طرف سے لعنت ہو اس کو کوئی بھی مددگار نصیب نہیں ہوتا۔ اور کوئی مدد کرے گا بھی کیسے کہ جب رحمت باری ہی سے محروم ہوا تو مدد نصیب ہونا بھی تو اللہ ہی کی رحمت سے ہے اسباب تو محض پردہ ہوتے ہیں پس پردہ تو مسبب الاسباب ہی کی قدرت کاملہ کار فرما ہوتی ہے اس محرومی کے بھی مختلف درجے ہیں جس کا آخری درجہ تو کفر ہے مگر ابتدا کبائر سے یعنی بڑے بڑے گناہوں سے ہوتی ہے مثلاً ان عورتوں پر لعنت کی گئی جو مردوں کا لباس پہننا یا شکل بنانا شروع کردیتی ہیں ایسے ہی ان مردوں پر بھی جو عورتوں کی طرح نظر آنا چاہتے ہیں۔ بلکہ ایک روایت میں ایک عورت کے مردانہ جوتے پہننے پر بھی لعنت کی وعید ملتی ہے بھویں چننے والی عورتوں پر نظر بد ڈالنے الوں پر اور ایسی عورتوں پر جو لوگوں کی نظروں کی خواہش رکھتی ہوں یعنی بناؤ سنگھار کرکے بےپردہ پھرنے والی ہوں سود لینے اور دینے والے پر قوم لوط کا عمل کرنیوالے پر کتاب اللہ میں زیادتی کرنیوالے پر زبردستی اقتدار حاصل کرکے شرفا کو رسوا کرنے اور بدکاروں کو عزت دینے والے پر یا حرام کو حلال جاننے والے پر غرض حدیث شریف میں اس طرح سے بہت سے اعمال پر لعنت کی وعید ہے مراد ہے رحمت الہی سے محرومی جس سے فہم و نظر میں کجی پیدا ہوتی ہے اور اگر توبہ نصیب نہ ہو تو ایمان سلب ہوجانے کا خطرہ ہے جو ہمیشہ کی رسوائی اور سخت عذاب میں مبتلا ہونے کا سبب بنتا ہے اے اللہ تو ہمیں اس آفت سے محفوظ رکھ ۔ آمین ۔۔ ام لھم نصیب۔ کبر ایک ایسی مصیبت ہے اور اتنی بڑی خرابی ہے اگر اسے تمام برائیوں کی اصل جڑ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا اللہ کریم کی نافرمانی اور اپنی خواہش کی پیروی بھی اسی کا نتیجہ ہے جو کفر و شرک میں مبتلا کرنے کا باعث بنتی ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ آدمی اپنی پارسائی کا راگ الاپنے لگتا ہے دوسروں تک نعمت کو پہنچنے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے حتی کہ اگر ایسوں کے پاس سلطنت بھی ہو تو دوسروں کو ایک تنکا تک دینا گوارا نہیں کرتے جس کی مثال علمائے یہود ہیں کہ اگر ان کا بس چلے تو حضور اکرم ﷺ کو اور مسلمانوں کو پانی کا گھونٹ بھی نہ دیں بلکہ اس سے بڑھ کر ایسا آدمی حسد میں مبتلا ہوجاتا ہے حسد کا معنی کسی زوال نعمت کی تمنا کرنے کا ہے اپنے پاس سے کچھ دینا تو دور کی بات ہے جو انعام اللہ کریم نے عطا فرمائے ہیں دینی ہوں یا دنیوی یہ ان کے بھی زوال کے متمنی ہیں۔ حالانکہ اس سے پہلے بھی اولاد ابراہیم (علیہ السلام) میں دینی برکات کتاب و حکمت اور نبوت و رسالت کی صورت میں رہی ہیں جس پر یہود بھی ایمان لاتے رہے ہیں اور اب بھی ایماندار ہونے کے مدعی ہیں اور حکومت و ریاست کی شکل میں بھی یہ دولت آل ابراہیم میں رہی ہے حتی کہ بعض حضرات نبوت و حکومت دونوں طرح کے انعامات سے نوازے گئے اب اگر یہ دونوں انعامات آپ ﷺ کے پاس جمع ہوگئے ہیں تو انہیں انکار نہ کرنا چاہے مگر یہ کوئی ایسی تعجب انگیز بات بھی نہیں کہ انبیاء سابقہ کے ساتھ ان کے اجداد کا وطیرہ بھی تو یہی رہا ہے کہ کچھ ایمان لاتے تھے اور بعض انکار کردیتے تھے اور اپنے آپ کو دوزخ کا سزاوار بنا لیتے تھے کہ کفر کی سزا دوزخ ہی بس ہے جو سخت جلانے والی ہے زندگی میں بھی اس کی تپش چین حرام کیے رکھتی ہے اور بعد موت تو رہنا ہی اسی میں ہوگا اور آپ ﷺ کی نبوت و رسالت سے ان کا انکار تو محض حسد پر مبنی ہے جس کا کسی صورت میں کوئی جواز نہیں اور حسد بجائے خود ایک عذاب ہے اس کی مثال آگ کی سی ہے جو ہمہ وقت حسد کرنے والے کو جلاتی رہتی ہے اور نبی کریم علیہ التحیۃ والتسلیم پر حسد کرکے تو یہ کفر میں مبتلا ہوئے حسد یوں بھی حرام ہے اور مفضی الی الکفر (یعنی کفر کی طرف لے جانے والا) کہ اللہ جو نعمت چاہے جس کو چاہے عطا کرے ہاں کسی کمال پر رشک کرنا درست ہے یعنی جائز ذرائع سے اس کمال کو پانے کی کوشش بغیر اس خواہش کے کہ دوسرے شخص سے اس کے زوال کی تمنا ہو اور کافر تو عنقریب ایسی آگ میں داخل ہوں گے جو واقعی جسموں کو جلا دے گی مگر جل بھن کر ختم نہ ہوں گے کہ جیسے جیسے جسم جلتا چلا جائے گا قدرت باری سے نیا پیدا ہوتا جائے گا تاکہ مسلسل عذاب میں مبتلا رہیں اور اس کی شدت کو زیادہ سے زیادہ محسوس کرتے رہیں نیا پیدا ہونے والا گوشت یا جلد زیادہ حساس ہوتی ہے اللہ بہت بڑی طاقت والا اور ہر چیز پر غالب ہے یہ اس کی حکمت ہے کہ فرصت عمل دی مگر انسان نادانی کے باعث اللہ کے مقابلے میں اپنی بڑائی ثابت کرنے لگ گیا جس کے یہ سب نتائج بد سامنے آنے والے ہیں اور جو لوگ کبر سے بچے اپنے عجز اور اللہ تعالیٰ کی بڑائی کا اقرار کیا یعنی ایمان لائے اور اللہ کی اطاعت اختیار کی اطاعت ہی ایمان کی سب سے بڑی دلیل ہے اگر عمل ہی دعوے کے خلاف ہو تو اس پر کیا اعتبار۔ ایسے لوگ بہت جلدی ایک اعلی ترین زندگی کو پائیں گے جو انسان کی منزل ہے اور بہترین جگہ بہترین نعمتوں کے ساتھ ہے جس کی بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ وہاں کی نعمتوں کو زوال ہوگا اور نہ داخل ہونے والے انسان کو کبھی وہاں سے نکالے جانے کا خوف جو اس منزل پہ پہنچا وہاں ہمیشہ رہے گا اور ہر طرح کی نعمتیں روحانی ، مالی ، بدنی نصیب ہوں گی سدا بہار رہیں گی خزاں کا نام نہ ہوگا صحت بیماری سے آزاد ہوگی اور حیات کو موت کا کھٹکا نہ ہوگا وہاں عورتیں بھی ہر طرح کے چھوٹے بڑے عیب سے پاک ہوں گی نہ بدنوں میں نجاست ہوگی نہ دلوں میں نفرت اور نہ صورت میں کمی یعنی ہر طرح کی راحت ہوگی فکر نام کی شئے کا وہاں گذر نہیں۔