Ayahs 4:17–18آیات 17 تا 18: انما التوبۃ۔۔۔ اولئک اعتدنا لھم عذابا الیما۔
توبہ اور اس کی حقیقت :
چونکہ توبہ کا ذکر آگیا تو اللہ کریم نے توبہ کی صورت ارشاد فرما دی کہ اگر کوئی نادانی سے برائی کر بیٹھے اور پھر اس حرکت پر شرمندہ ہو اور فوراً توبہ کرلے تو اللہ کریم ایسے لوگوں کی توبہ قبول فرماتے ہیں۔ یہاں برائی کا تعلق جہالت سے ارشاد ہوا ہے تو مراد یہ نہ ہوگا کہ گناہ سے واقف نہ تھا ورنہ عمداً ایسا نہ کرتا بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ فعل جو اللہ کریم اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے خلاف ہو وہ جہالت ہے خواہ کتنے بڑے دانشور سے صادر ہو حضرت قتادہ ؓ کی روایت ہے اجمع اصحاب رسول اللہ ﷺ علی ان کل معصیۃ جھالۃ عمدا کان اولم یکن وکل من عصی اللہ فھو جاھل۔ کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اس بات پر اجماع ہے کہ ہر گناہ جہالت ہے خواہ ارادے سے کیا جائے یا غیر ارادی طور پر صادر ہو اور ہر وہ شخص جو اللہ کی نافرمانی کرے جاہل ہے پھر جلدی سے توبہ کرے اب اس جلدی کی حد کیا ہوگی تو اس سے اگلی آیہ کریمہ بتا رہی ہے کہ ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی جو عمر بھر برائی پر ہی کاربند رہیں اور جب موت آجائے یعنی فرشتہ وغیرہ یا آخرت نظر آنے لگے تو اس وقت توبہ کا خیال آئے اور نہ ایسے لوگوں کی توبہ قبول ہوتی ہے جن کی موت کفر پر واقع ہو یعنی عمر بھر کفر ہی پہ کاربند رہیں جیسے فرعون کہ وقت غرق پکارا کہ موسیٰ و ہارون کے رب پر ایمان لاتا ہوں تو ارشاد ہوا کہ اب ایمان لائے جب وقت گذر چکا اب کیا فائدہ تو اس سے مراد نزع روح یا جسے غرغرہ وغیرہ کہا جاتا ہے اس کے شروع ہونے سے پہلے کی توبہ شرف قبولیت کو پالے گی بشرطیکہ خلوص دل سے ہو یہاں صاحب مظہری (رح) نے اور لطیف بات نقل فرمائی ہے کہ قریب سے مراد دل کی حالت ہے کہ وہ مکمل طور پر تباہ نہ ہوچکا ہو اور اس پر ظلمت نہ چھا گئی ہو۔
القریب قیل ان یحیط السوء بحسناتہ فحبطھا۔ قریب سے مراد کہ برائیاں نیکیوں پر چھا نہ جائیں اور اعمال ضائع نہ ہوجائیں۔ ورنہ یہ ایک ایسی حالت ہے کہ توبہ کی توفیق ہی نصیب نہیں ہوتی اور دل پر کسی بات کا اثر نہیں ہوتا۔ توبہ کا پہلا رکن یہ ہے کہ گناہ سے ندامت ہو اور دل میں خجالت کو محسوس کرے دوسری بات کہ گناہ کو فوراً چھوڑ دے اور آئندہ نہ کرنے کا عہد کرے اور تیسری چیز یہ ہے کہ جس قدر ممکن ہو تلافی ما فات کرے یعنی اگر نماز روزہ چھوٹا ہے تو قضا کرنا شروع کرے جو بھی یاد ہے کسی کا مال ناجائز طریقے سے لیا ہے تو واپس کرے کسی سے زیادتی ہوئی ہے معافی مانگے یعنی ممکن حد تک تلافی کی کوشش ضروری ہے صرف زبان سے توبہ توبہ کہنا اور عملی طور پر گناہ میں ملوث رہنا توبہ نہیں بلکہ ایک عام سی بات ہے کہ اس دور کا مرد عورت جیسی شکل بنانا فخر کی بات سمجھنے لگا ہے اور عجیب بات ہے کہ عورت لباس وغیرہ میں بھی اور بالوں کی تراش خراش میں بھی مرد کی مشابہت کو بہتر سمجھنے لگی ہے حالانکہ دونوں صورتیں عنداللہ ملعون ہیں اور زبان سے شاید توبہ بھی کہتے ہوں گے توبہ طلب رحمت ہے اور وہ اتنا بڑا رحیم ہے کہ توبہ پر نہ صرف گناہ معاف فرماتا ہے بلکہ خطاؤں کو نیکیوں سے بدل دیتا ہے اور اپنے محبوب بندوں میں داخل فرما لیتا ہے مگر اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ مرد ہو یا عورت کم از کم اپنا حلیہ تو ٹھیک کرے اور ایسے عمل سے رک جائے جس پر لعنت یعنی رحمت سے دوری کی سزا مرتب ہوتی ہے اگر یہ صورت نصیب ہو تو نبی رحمت ﷺ کا ارشاد ہے۔
سچی توبہ کا مقام : التائب حبیب اللہ والتائب من الذنب کمن لا ذنب لہ۔ گناہ سے توبہ کرنے والا اللہ کا محبوب ہے اور توبہ کرنے والا ایسا ہوگیا جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ تھا۔
اور یہ تو اللہ کریم کی صفت ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے خواہشوں اور آرزوؤں تک سے آگاہ ہے۔ اور اگر کسی نے غرغرہ موت تک توبہ نہیں کی تو یہ شیطان کے اوصاف میں سے ہے پھر جب موت سر پر آگئی آخرت ظاہر ہوگئی تو قبولیت توبہ کا وقت نکل گیا امام غزالی فرماتے ہیں کہ کبھی گناہ کا ارتکاب نہ ہونا یا فرشتوں کا مقام ہے اور یا پھر انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کہ معصوم ہوتے ہیں اور مسلسل گناہ کرنا اور کبھی ندامت نہ ہونا یا ترک گناہ کی طرف نہ آنا یہ شیطان کی صفت ہے اور تیسرا درجہ بنی آدم کا ہے کہ گناہ کا ہوجانا اور اس پر فوراً ندامت کا ہونا آئندہ اسے چھوڑنے کا پختہ عزم اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت کا طلب کرنا ہے اگر مسلس برائی میں ہی موت نے آ لیا تو نہ صرف عذاب ہوگا بلکہ ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے جو ان کے لیے خاص طور پر تیار کیا گیا ہے۔ اعاذنا اللہ منہا۔ اور گناہ مسلسل پر احساس ندامت کا نہ ہونا شقاوت قلبی کا پتہ دیتا ہے جو دنیا کی زندگی میں ایک بہت بڑا عذاب ہے اور مفضی الی الکفر ہے کہ ایمان کا سلب ہوجانا آخری سزا ہے پھر کبھی نجات کی امید نہیں ہر تی اور موت کا وقت انسان کے علوم کی رسائی سے باہر ہے اس لیے زندگی میں مسلسل توبہ کی ضرورت ہے کیا خبر کونسی پل آخری پل ثابت ہو۔
Ayahs 4:19–22آیات 19 تا 22: یا ایہا الذین امنوا لا یحل لکم۔۔۔ انہ کان فاحشۃ و مقتا۔ وساء سبیلا۔
معاشرہ میں عورت کا مقام :
عورت ہی کے حقوق و فرائض کی بحث میں توبہ کی بات تو ضمناً آگئی تھی چناچہ عورت کا مال میں اور وراثت میں حق پھر عورت کا فرض کہ جس خاندان سے وراثت پاتی ہے اس کی آبرو کی حفاظت کرے اب عورت کا مقام بیان ہورہا ہے کہ بیوی بن کر وہ کسی کی غلام نہیں بن جاتی بلکہ اس کے حقوق اور زیادہ محفوظ ہوجاتے ہیں یہاں ان مظالم کا رد فرمایا جو قبل اسلام عورت پر روا رکھے جاتے تھے یا بعض رواج جو ابھی تک غیر مسلم اقوام میں پائے جاتے ہیں مثلاً اگر کوئی عورت بیوہ ہوجاتی تو اس کی کوئی حیثیت نہ رہتی اور شوہر کے وارث اپنی مرضی سے چاہتے تو اس سے نکاح کرلیتے یا کسی بھی دوسرے سے کرا دیتے یا پھر کہیں نکاح کرنے نہ دیتے اور قیدی بنا کر رکھتے جیسے ہندو عورتوں کا اب بھی یہی حال ہے بلکہ ان کو تو مال سمیٹنے کے لیے مرد خاوند کے ساتھ جلا بھی دیا جاتا ہے عہد جہالت میں بھی لوگ کبھی ذریعہ آمدن بنا لیتے یا بعض اوقات مال دار عورتیں اپنے مال سے دستبردار ہو کر جان چھڑا لیتی تھیں اکثر شوہر بھی بیویوں سے ظلم کرتے اور مال کا مطالبہ منوا لیتے پھر طلاق دے دیتے ان سب امور میں عورت کو جو تحفظ اسلام نے عطا فرمایا ہے اس دور میں تو ان کے بارے سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا اور آج بھی تہذیب مغرب نے آزادی اور مساوات کا خوشنما نام دے کر عورت کو ایک خوبصورت دھوکا دیا ہے جس میں اس کی آبرو بھی گئی اور کسی قسم کا کوئی تحفظ بھی حاصل نہ کرسکی۔
بیوی سے حسن سلوک :
یہاں رب کریم نے مومنین کو خطاب فرما کر یہ ظاہر کردیا کہ ایمان کے ساتھ یہ کام زیب ہی نہیں دیتا اور پھر لا یحل فرما کر اس کا سخت ترین گناہ ہونا بیان فرمایا کہ کسی بھی انسان کو یہ حق نہیں کہ دوسرے انسان کو اپنا غلام یا اپنی ملکیت بنا لے سوائے اس کے کہ اللہ کسی کی آزادی سلب فرما کر بطور سزا اسے غلام کردے اور پھر زبردستی کسی کو مملوک بنا لینا جیسا کہ عورتوں کو بنا لیا جاتا تھا حتیٰ کہ مرنے والے کے مال کے ساتھ اس کی بیویاں بھی تقسیم ہوتی تھیں اور دوسری بیوی سے جو لڑکا ہوتا اگر چاہتا تو اپنی بیوی بنا لیتا تھا تو جب عورت کی ذات ہی ملکیت شمار ہوتی تھی تو اس کے مال کی کیا حیثیت رہ جاتی ہوگی چناچہ اللہ کریم نے اس سے سختی سے منع فرما دیا یہاں سے یہ بھی ثابت ہے کہ عاقل و بالغ عورت کا نکاح اس کی رضا اور اجازت کے بغیر درست نہ ہوگا نہ شرعاً منکوحہ بیوی قرار پائے گی اور نہ نسب یا وراثت کے احکام جاری ہوں گے اور نہ انہیں روکو کہ تمہیں اس سے کچھ مال مل جائے یعنی آباد نہ رکھو اور نہ طلاق دو یا مرضی کا نکاح نہ کرنے دو کہ کچھ مال دے کر کریں یا کوئی ایسا طریقہ اپنایا جائے کہ جو مال تم نے انہیں مہر میں دیا ہے وہ واپس کرلو تو اس طرح کے تمام حربے جائز نہیں ہوں گے ہاں اگر شرعی اعتبار سے جرم کریں تو ثبوت جرم پر شرعی سزا کی مستحق ہوں گی ورنہ حق یہ ہے کہ ان سے حسن سلوک کرو بلکہ بعض صورتوں میں اگر بیوی طبعاً پسند نہ بھی ہو تو یہ سمجھ لو کہ ممکن ہے اللہ کریم نے اس میں تمہارے لیے کوئی بہت بڑا فائدہ رکھ دیا ہو اس سے اچھا سلوک کرو ممکن ہے تمہاری اچھی خدمت کرے یا کوئی نیک بخت اولاد حاصل ہوجائے ورنہ کم از کم اخروی اجر کا سبب تو بن ہی جائے گی کہ جب تم اللہ کے لیے اس سے حسن سلوک کروگے تو یہ اجر سے خالی نہ رہے گا اگر تم کسی ضرورت کے تحت کوئی دوسری عورت نکاح میں لانا چاہتے ہو اور پہلی بیوی کو چھوڑ ہی دینا چاہتے ہو کہ شاید تم اس کے حقوق ادا نہ کرسکو تو تم جس قدر بھی مال و دولت اسے دے چکے ہو خواہ وہ بہت زیادہ بھی ہو اس میں کچھ مت لو کہ اسے تنگ کرکے یا طلاق وغیرہ کے عوض مال لیا جائے یہ سب ظلم ہے کہ اس طرح مال حاصل کرنے کے لیے اس پر خواہ مخواہ کوئی بہتان لگا کر ہی بہانہ کرسکوگے یہ دوہرا ظلم ہوگا اور پھر جب اس نے تم سے اللہ کے نام پر عہد لیا تھا اور تم دونوں ایک دوسرے پر بےحجاب بھی ہوچکے تو اب تمہیں مال واپس لینے کا کیا حق رہ جاتا ہے کیا انسان کی ذات اور اس کے احترام سے بھی کوئی چیز قیمتی ہے ہرگز نہیں اور جب خلوت صحیحہ ہوجائے تو مہر عورت کی ملکیت ہوجاتا ہے پھر سب سے بڑی بات احترام آدمیت ہے جس میں اسلام نے عورت کو ایک خاص مقام سے سرفراز فرمایا ہے۔ نیز ان عورتوں سے نکاح مت کرو جن سے تمہارے باپ (دادا ، نانا) نے کبھی نکاح کیا ہو ہاں عہد جاہلیت میں جو گذر چکا سو گذر چکا مگر آئندہ ایسا کبھی نہ ہونے پائے کہ یہ بہت بڑی بےحیائی ہے کہ ایک عرصہ تک جسے ماں کہتے رہے اسے بیوی بنا لیا جائے اور شرعاً بھی بہت بڑا گناہ اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہے۔
Ayah 4:23رکوع نمبر 4 ۔
اسرار و معارف :
آیت 23 ۔ حرمت علیکم امھتکم ۔۔۔ غفورا رحیما۔
محرمات کا بیان :
جب باپ کی وفات پر اس کی زندہ رہ جانے والی بیوی کا ذکر چلا تو رب کریم نے تمام محرمات کی تفصیل ارشاد فرما دی اور یہ اسلام کا عورت پہ ایک عظیم احسان تھا کہ انتہائی بےراہ روی کے دور میں انتہائی مضبوط اخلاقی بنیاد فراہم کی اور عورت کے سب سے محترم مقام یعنی ماں اور اس کی ہر حیثیت یعنی بہن ، بیوی اور بیٹی کی حفاظت کا انتظام فرما دیا جبکہ یورپ نے آج کے بزعم خود مہذب دور میں داماد کو ساس سے اور سسر کو بہو سے شادی رچانے کی اجازت دے کر رشتوں کی حرمت کو تباہ کرنے کا کارنامہ سرانجام دیا ہے اور اس سے بھی بڑھ کر مرد کو مرد سے شادی کرنے کی قانونی اجازت فرہم کی ہے جس پر ایڈز جیسی مہلک بیماری کا عذاب مرتب ہورہا ہے۔ چونکہ زمانہ جاہلیت میں بھی حال ایسا ہی تھا جس طرف یہ تہذیب جدید بڑھ رہی ہے تو رب کریم نے حدود متعین فرما کر امت مسلمہ پر احسان فرمایا سو کچھ محرمات تو ایسی ہیں جن سے کبھی نکاح نہیں ہوسکتا جو محرمات ابدیہ کہلاتی ہیں اور بعض وہ ہیں جن سے خاص حالتوں میں نکاح درست نہیں اگر وہ حال بدل جائے تو جائز ہوجاتا ہے جیسے دوسرے کی منکوحہ کہ اگر اسے طلاق ہوجائے یا شوہر مرجائے تو عدت گذارنے کے بعد نکاح ہوسکتا ہے۔
محرمات نسبی :
محرمات ابدیہ تین قسم ہیں اول نسبیہ دوم رضاعیہ اور سوم بالمصاہرۃ سو اول تو باپ کی منکوحہ ہے جس میں یہ قید نہیں کہ اس سے خلوت صحیحہ ہوئی یا نہ بلکہ مطلق باپ کے نکاح میں آجانے سے بیٹے کے لیے حرام ہوجائے گی ایسے ہی اگر بیٹے نے کسی عورت سے نکاح کرلیا تو باپ کے لیے حرام ہوجائے گی جیسے علامہ شامی نے لکھا ہے کہ وتحرمہ زوجۃ الاصل والفرع لمجرد العقد دخل بھا اولا۔ باپ یا بیٹے کا صرف نکاح ایک دوسرے کے لیے عورت کو حرام کردیتا ہے وطی ہو یا نہ۔
1 ۔ باپ نے کسی عورت سے زنا کرلیا تو بھی بیٹے کے لیے حرام ہوجائے گی اور امھاتکم میں مائیں ، دادیاں ، نانیاں سب داخل ہیں۔ وبنتکم۔ لڑکی یا اس کی لر کی یا بیٹے کی لڑکی یعنی بیٹی پوتی پڑپوتی یا پڑنواسی وغیرہ ہاں لڑکا لڑکی صلبی نہ ہوں۔ بلکہ گود لے کر پالے ہوں تو ان پر یہ حکم لاگو نہیں ہوگا بشرطیکہ کسی اور طرح سے حرمت نہ آئی ہو ایسے ہی زنا سے پیدا ہوجانے والی اولاد کا حکم بھی ہوگا کہ ان سے نکاح جائز نہیں ہوگا۔ واخواتکم یعنی بہن سے نکاح درست نہ ہوگا سگی ہو یا باپ شریک ہو یا ماں شریک اور۔ عمتکم۔ باپ کی بہن یعنی پھوپھی سے باپ کی سگی بہن ہو یا ماں شریک یا باپ شریک وخلتکم۔ ماں کی سگی بہن یا باپ شریک ہو یا ماں شریک۔ وبنت الاخ۔ بھائی کی لڑکیوں سے سگے بھائی کی ہوں یا ماں شریک یا باپ شریک بھائی کی نکاح جائز نہیں۔ وبنت الاخت۔ اور بھانجیوں سے نکاح جائز نہیں بہن سگی ہو یا علاتی یا اخیافی یہ سب محرمات نسبی اور دائمی ہیں۔
حرمت رضاعت : اب حرمت رضاعت کے بارے ارشاد وامھتکم التی ارضعنکم۔ یعنی جن عورتوں کا دودھ پیا ہے خواہ ایک بار پیا یا زیادہ وہ والدہ کے حکم میں داخل ہے البتہ یہ حرمت تب ثابت ہوگی جب اس زمانے میں دودھ پیا جس میں بچے کی پرورش دودھ پر ہوتی ہے جو علی الاختلاف ائمہ پیدائش سے لے کر دو یا اڑھائی سال کا عرصہ ہے اس کے بعد اگر کسی نے کسی عورت کا دودھ پیا تو حرمت رضاعت ثابت نہ ہوگی واخواتکم من الرضاعۃ۔ یعنی رضاعی بہنوں سے نکاح درست نہیں اور اس کی تفصیل یوں ہے کہ کسی لڑکے یا لڑکی نے ایام رضاعت میں کسی عورت کا دودھ پیا تو وہ اس کی رضاعی ماں بن گئی اس کا شوہر رضاعی باپ اور اس کی اولاد رضاعی بہن بھائی مگر صرف اس کے لیے جس نے دودھ پیا اس کے دوسرے بہن بھائیوں کے لیے نہیں ہاں اس کے حق میں سب وہی حکم نافذ ہوگا جو نسبی رشتے کی وجہ سے ہوتا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہے۔ یحرم من الرضاعۃ ما یحرم من الولادۃ۔ یعنی جو نسب سے حرام ہے وہی حرمت رضاعت سے ثابت ہوگی اور ایک روایت ہے۔ ان اللہ حرم من الرضاعۃ ما حرم من النسب۔ اس باب میں تفصیلی بات تو کتب فقہ سے دیکھی جاسکتی ہے چند مسائل صاحب معارف القرآن نے بھی نقل فرمائے ہیں ضرورت ہو تو دیکھ لیے جائیں۔
تو چھاؤں اور گھنی ہوجاتی :
حرمت مصاہرت :
وامھات نسائکم۔ یعنی بیویوں کی مائیں بھی شوہروں کی نکاح میں نہیں آسکتیں اس میں ان کی نسبی یعنی نانیاں دادیاں اور رضاعی سب داخل ہیں اسی طرح جس عورت سے ہمبستری کی ہو جائز یا ناجائز اس کی ماں بھی حرام ہوگی اور اگر نکاح کیا تو مجرد نکاح کرنے سے حرمت وارد ہوجائے گی ہمبستری ہو یا نہ۔ وربائبکم التی فی حجورکم من نسائکم التی دخلتم بھن۔ جس عورت سے نکاح کی اس کی وہ لڑکی جو دوسرے شوہر سے ہے تب حرام ہوگی جب اس سے ہبستری کی صرف نکاح سے حرام نہ ہوگی اور بعد نکاح خلوت صحیحہ یا شہوت سے چھونا بھی ہمبستری کے حکم میں ہے ایسے اگر کسی عورت سے زنا بھی کیا ہو تو اس کی لڑکی سے نکاح جائز نہیں ہوگا بلکہ اس کی پوتی نواسی سب اسی حکم میں داخل ہوں گی۔ وحلائل ابنائکم۔ بیٹے کی بیوی سے بھی نکاح کبھی جائز نہ ہوگا اس میں رضاعی بیٹا یا پوتا نواسا وغیرہ سب داخل ہیں ہاں لے پالک بیٹا اس میں داخل نہ ہوگا۔ جس کا نسب یا رضاعت کچھ نہ ہو۔ وان تجمعوا بین الاختین۔ اور دو بہنوں کو بیک وقت ایک نکاح میں جمع کرنا حرام ہے خواہ نسب کے اعتبار سے ہوں یا رضاعی ہاں ایک کے بعد دوسری بعد از عدت حلال ہوگی اگر ایک بہن کو طلاق دے دی تو اس کی عدت کے دوران بھی دوسری بہن سے نکاح درست نہیں اسی طرح عورت کی پھوپھی خالہ وغیرہ بھی بلکہ فقہا نے ایک قانون لکھا ہے کہ کوئی عورتیں جن میں اگر ایک کو مرد فرض کیا جائے تو ان کا نکاح آپس میں درست نہیں دو بہنیں بھی بیک وقت ایک نکاح میں جمع نہ ہوں گی ہاں قبل اسلام جو گذر چکا اس کا مواخذہ نہ ہوگا مگر اسلام نے کے بعد ایسی کوئی بھی صورت باقی نہ رکھی جائے گی اور متعدد روایات میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایسی صورتوں میں تفریق کرادی تھی۔
Ayah 4:24آیت نمبر 24: والمحصنت من النساء الا ما ملکت ایمانکم ۔۔۔۔ علیما حکیما۔
اور شوہروں والی عورتیں یعنی جب تک کوئی عورت کسی دوسرے کے نکاح میں ہے کسی کے لیے حلال نہ ہوگی سوائے اس کے کہ جو جنگی اسیر ہو کر تمہاری ملکیت میں آجائیں کہ جو عورت جنگ میں قید ہو کر آتی ہے اگر اس کا شوہر دار الحرب میں رہ گیا ہو تو نکاح خود بخود ٹوٹ جائے گا اگرچہ کتابیہ یا مسلمہ بھی ہو اس صورت میں دار الاسلام کا کوئی بھی مسلمان اس سے نکاح کرسکتا ہے باندیوں یا مملوکہ عورتوں کے معاملہ میں مستشرقین نے بھی بہت اعتراضات کرنے کی کوشش کی ہے اور جدید تہذیب کے شیدائی مسلمانوں نے بھی مستشرقین ذرا اس کی اصل پر نظر ہوجائے تو رائے قائم کرنے میں آسانی رہے گی۔
اسلام میں غلامی کی حیثیت :
جنگ انسانی معاشرے کا ایک لازمی عمل ہے اور یہ بات بھی یقینی ہے کہ بغیر اس کے امن قائم نہیں ہوتا مگر اقوام عالم قیام امن کے نام پر بہت تباہی اور بربادی کے سامان کرتی ہیں مقصد در اصل دوسروں کو غلام بنانا اور ان کے حقوق غصب کرنا ہوتا ہے سو جب کوئی قوم کسی دوسری قوم پر فتح پاتی ہے تو تاریخ عالم کے وہ صفحات جن پر یہ داستانیں رقم تھیں آج بھی خونچکاں ہیں مگر اسلام نے سرے سے جنگ کرنے کی اجازت ہی نہیں بلکہ جنگ کو جہاد سے بدل دیا ہے جہاد جہد سے مشتق ہے جس کا معنی کوشش اور محنت کے ہیں یعنی کسی کے حقوق غصب کرنے کے لیے نہیں بلکہ مظلوم کی مدد ظالم کے خلاف یا دنیا کے جھوٹے خدائی کے دعویداروں کا ظلم مٹا کر اللہ تعالیٰ کا قانون جاری کرنے کی کوشش یا کسی ظلم کے بڑھتے ہوئے ظلم کو روکنے کی سعی ، ظاہر ہے جب فلسفہ بدلے گا تو نتائج یقیناً تبدیل ہوں گے جنگ میں مغلوب اور مفتوح کی جان ، مال اور آبرو فاتح کے رحم و کرم پر ہوتی تھی اور ہوتی ہے مگر اسلام نے یہاں انقلابی تبدیلی فرمائی کہ مسلمان فوج کسی ایسے شہری سے تعرض نہ کرے جو مقابلے میں تلوار نہ اٹھائے کسی کھیت کو نہ اجاڑے کوئی درخت نہ کاٹے ، عورت بچہ بوڑھا اور عبادت خانوں میں مصروف عبادت لوگ فوج کی کارروائی سے محفوظ ہوں گے کوئی مسلمان سپاہی کسی مفتوح عورت پر دست درازی نہیں کرے گا خواہ مفتوح کافرہ ہی کیوں نہ ہو اب رہ گئے وہ لوگ جو میدانِ جنگ میں ہیں اور عملی طور پر شریک جنگ ہوتے ہیں جب انہیں شکست ہوگی تو مرد قیدی غلام بنا لیے جائیں گے بجائے اس کے کہ ان پر مظالم ڈھائے جائیں ان کے انسانی حقوق محفوظ ہوں گے وہ اپنی پسند کا مذہب اختیار کرسکیں گے ان سے کوئی ایسا کام نہیں لیا جائے گا جو وہ کر نہ سکیں جو مسلمان خود کھائیں گے انہیں کھلائیں گے ہاں ان کی آزادی سلب کرلی جائے گی اس میں بھی فدیہ لے کر چھوڑے جاسکتے ہیں اور اللہ کی راہ میں آزاد کرنے پر بہت زیادہ ثواب کی امید دلائی گئی پھر گناہوں کی بخشش کے لیے بطور کفارہ بھی اور بطور احسان بھی غلام آزاد کرنے کی ترغیب دی گئی اور صرف آزادی سلب کرنا ان کے جرم کے مقابلہ میں بھی اور اس سلوک کے مقابلے میں بھی جو اقوامِ عالم مفتوح سے کرتی ہیں بہت کم سزا ہے یہی حال ان عورتوں کا ہے جو میدانِ کارزار میں زیر حراست آتی ہیں کہ اگر انہیں آزاد کردیا جائے تو اچھی بات ہے اگر کسی کا خاوند ساتھ قیدی بن کر آئے تو اسی کی بیوی ہوگی ہاں تقسیم میں جس کے حصہ میں آئے اگر وہ ان دونوں میں سے عورت کو بیچ دے تو اس کا نکاح ختم ہوجائے گا یا ایسی عورتیں جن کے خاوند ساتھ قید نہیں ہوئے ان کے نہ صرف نکاح ختم ہوجائیں گے بلکہ مال غنیمت میں تقسیم ہو کر جس کے حصہ میں آئیں گی اس پر بغیر نکاح کے حلال ہوں گی مگر صرف مالک پر یا اگر اس نے کسی دوسرے کو دے دیا بیچ کر یا بخش دیا تو پہلے پر حرام ہوجائے گی یعنی ایک وقت میں ایک آدمی کے لیے حلال ہوں گی اور ان کے بھی تمام انسانی حقوق سوائے آزادی کے بحال رکھے جائیں گے جیسا کہ پہلے ذکر ہوا ہے نیز اس صورت میں بھی فوراً حلال نہ ہوگی بلکہ ایک طہر کے بعد اور اگر حاملہ ہوئی تو وضع حمل کے بعد مالک پر حلال ہوگی کہ نسب کا پورا خیال رکھا گیا ہے پھر اگر مالک سے حاملہ ہوگئی یا صاحب اولاد تو ام ولد کہلائے گی جسے مالک نہ بیچ سکے گا اور نہ کسی کو دے سکے گا اور اس کی موت پر از خود آزاد ہوجائے گی اور اسلام میں حربی عورت پر یہ سب سے بڑی سزا ہے جو اقوام عالم کے ظالمانہ سلوک کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں پھر اس کے آزاد کرکے نکاح میں لانے اور بات بات پر آزاد کرنے میں بیشمار ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے اس کے علاوہ جو ورتوں کی خرید وفروخت ہوتی ہے سب غیر اسلامی حرکات ہیں جو سخت گناہ ہیں بلکہ بالغ عورت کی مرضی کے بغیر اس کا نکاح بھی جائز نہیں چہ جائیکہ اسے بیچ کھایا جائے ، ہمارے جدید مہذب اور دانشور حضرات کو ذرا برابر جھجھکنے کی ضرورت نہیں بلکہ اقوام عالم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ کہنا بالکل درست ہے کہ اسلام نے جنگ میں بھی کسی پر ظلم روا نہیں رکھا نہ کسی کی آبرو لوٹی ہے نہ مال۔ ذرا اقوام عالم اپنے اپنے گریبانوں میں بھی جھانک کر دیکھیں۔ کتب اللہ علیم۔ یہ سب اللہ کے عطا کردہ قانون ہیں جن میں کسی مومن کو سرتابی کی مجال نہیں ہاں علاوہ ازیں سب عورتوں سے نکاح حلال ہے حق مہر کے ساتھ اور حفاظت وعفت و عصمت کے لیے شہوت رانی کے لیے نہیں۔ احل لکم ماوراء ذلکم ان تبتغوا باموالکم محصنین غیر مسافحین۔ احل لکم ما وراء ذالکم ان تبتغوا باموالکم محصنین غیر مسافحین۔ یعنی ایک بات تو یہ ہے کہ نکاح کے لیے مہر ضروری ہے اگر کسی مرد و عورت نے باہمی رضامندی سے نکاح کرلیا تو بھی مہر مثل یعنی جو ان کے خاندان میں پہلے سے ہے واجب ہوجائے گا ہاں یہ الگ بات ہے کہ تھوڑے سے تھوڑا بھی مقرر کیا جاسکتا ہے جسے بعد میں شوہر چاہے تو بڑھا بھی سکتا ہے کم نہیں کرسکتا اور اگر بیوی چاہے تو بخش سکتی ہے یعنی کم کرسکتی ہے۔ بہرحال یہ نکاح کے ساتھ اللہ کریم نے ضروری قرار دیا ہے جس کی ایک اور بڑی حکمت یہ ہے کہ خاندان میں نئی داخل ہونے والی عورت بھی اس خاندان میں اپنی ملکیت رکھتی ہو اور افراد خاندان میں برابری کے رشتہ سے داخل ہو اسے حقیر نہ سمجھا جائے اسی لیے مہر خاندان کے حالات کے مطابق مقرر کیا جانا چاہئے سیدنا فاروق اعظم ؓ نے حضرت علی ؓ سے ام کلثوم بنت علی و فاطمہ ؓ کا رشتہ طلب فرمایا تو انہوں نے فرمایا کہ امیر آپ کی اور اس کی عمر میں فرق بہت ہے تو فرمایا۔ انی سمعت رسول اللہ ﷺ یقول ! ان کل نسب و صھر ینقطع یوم القیمۃ الا نسبی و صھری۔ فلذلک رغبت فی ھذا۔ کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ میرے نسب اور مصاہرت کے سوا تمام نسب اور مصاہرت کے رشتے قیامت کے روز ٹوٹ جائیں گے اس لیے میں چاہتا ہوں کہ یہ رشتے کرلوں تو انہوں نے نکاح کردیا۔ فاصدقھا عمر اربعین الف درھم یعنی حضرت عمر ؓ نے چالیس ہزار درہم مہر دیا حالانکہ خود منع فرمایا کرتے تھے کہ مہر مقرر کرنے میں زیادتی نہ کیا کرو۔ تفسیر کشف الاسرار و عدۃ الابرابر جلد 2 صفحہ 460 زیادتی جس سے منع کیا گیا ہے سے مراد اپنی حیثیت سے بڑھ کر مقرر کرنا ہے۔
نکاح کی غرض :
دوسری شرط نکاح ہے کہ وہ حفاظت نسب اور عفت و پاکیزگی کے لیے ہو محض شہوت رانی کے لیے ہرگز جائز نہ ہوگا محصنین غیر مسافحین یعنی مقصد مل کر انسانی معاشرے کی تعمیر ہو ایک خاندان کی بنیاد رکھی جائے اور پوری محنت سے اسے بنایا جائے نہ یہ کہ چند روز کے لیے محض شہوت کی آگ سرد کرنے کو کسی سے اجرت پہ معاملہ کرلیا جائے جسے اہل تشیع آج بھی حلال کہتے ہیں نہیں بلکہ اعلی درجے کی عبادت قرار دیتے ہیں اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں بلکہ سرے سے جو نکاح محدود وقت کے لیے کیا جائے منعقد ہی نہیں ہوتا یہ قبل اسلام کا رواج تھا کہ عرب تجارتی اغراض سے سفر کرتے تو جہاں کچھ روز قیام ہوتا وہاں اجرت دے کر اتنے عرصے کے لیے نکاح کرلیتے جسے اسلام نے باطل قرار دیا جیسے شراب پینا لوگوں کی عادت تھی اب اس کی حرمت مدینہ منورہ میں نازل ہوئی تو یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ پہلے اسلام میں جائز تھی بلکہ حق بات یہ ہے کہ پہلے عہد جاہلیت کی رسم تھی۔
متعہ جاہلیت کی رسم تھی :
ایسے ہی متعۃ النساء رسم جاہلیت تھی جس کی حرمت یوم خیبر فرمائی گئی ورنہ اس کا اسلام سے کوئی رشتہ نہیں اسلام نے جب لونڈی اور ممل کہ تک میں نسب کو اہمیت دی ہے تو متعہ کی اجازت کب دے گا کہ جس سے کبھی نسب ثابت ہی نہیں ہوسکتا کہ ایک عورت ایک ماہ میں متعدد مردوں سے تھوڑے تھوڑے دنوں یا وقت کا متعہ کرسکتی ہے نہ اس میں میراث ہے نہ عدت یعنی خود شیعہ اس میں میراث عدت اور نسب کے قائل نہیں تو محض اشتراک لفظی سے اس کی حلت ثابت کرنے کی کوشش جہاں جہالت ہے وہاں تحریف قرآن کا بہت بڑا جرم بھی ہے۔ فما استمتعتم بہ منہن فاتوھن اجورھن فریضہ۔ یعنی جن عورتوں سے بعد نکاح استمتاع کرلو ان کے مہر دیدو یہ تم پر فرض کیا گیا ہے اسی لیے اگر نکاح کے بعد رخصتی نہ ہو اور مرد کو استمتاع کا موقع نہ ملے تو مہر آدھا رہ جائے گا یعنی طلاق کی صورت میں پورا مہر ادا نہیں کیا جائے گا بلکہ نصف مہر دیا جائے گا اگر خلوت صحیحہ ہوجائے تو پورا مہر واجب ہوگا۔ ولا جناح علیکم فی ما تراضیتم بہ من بعد الفریضۃ ان اللہ کان علیما حکیما۔ کہ مہر مقرر ہوچکنے کے بعد بھی میاں بیوی باہمی رضامندی سے کمی بیشی کرلیں تو کچھ حرج نہیں کہ اللہ کریم جاننے والے اور حکمت والے ہیں نکاح سے مراد نسل انسانی کی بقا کا شریفانہ مہذب اور ایک شائستہ طریقہ جاری کرنا ہے جس میں بیوی اور میاں کی محبت ایک دوسرے پر اعتماد اور ایک دوسرے کی دلجوئی ہی بنیادی پتھر ہے سو اگر کوئی میاں بیوی آپس میں محبت اور مشورہ سے گھٹا بڑھا لیتے ہیں تو اللہ کریم کی طرف سے اجازت ہے۔
Ayah 4:25ومن لم یستطع منکم۔۔۔ واللہ غفور رحیم۔ جس کو آزاد عورتوں سے نکاح کی قدرت نہ ہو یا اتنی استطاعت نہ رکھتا ہو تو مومن باندی سے نکاح کرلے کہ اس کا مہر وغیرہ اور دیگر اخراجات آزاد عورت کی نسبت کم ہوں گے مگر اس صورت میں مومن مملوکہ سے نکاح کرے کتابیہ وغیرہ سے نہ کرے اس لیے کہ کتابیہ عورت سے جو اولاد ہوگی اگر وہ کتابی نہ ہوگئی تو مسلمان بھی مشکل ہی سے رہ سکے گی اور یہی مصیبت آجکل مسلمانوں کو درپیش ہے کہ یورپی عیسائی اور یہودی لڑکیاں بڑے بڑے گھروں پہ قابض ہیں جو ان کی نسلیں بھی خراب کر رہی ہیں اور راز بھی فروخت کرتی ہیں۔ نیز یہ آجکل کی کتابیہ تو محض برائے نام ہیں حقیقت میں یہ سب ملحدانہ عقائد رکھتی ہیں یورپ میں اب ایمان اپنی کتاب پر بھی بہت کم ہے سو باندی سے نکاح اس کے مالک کی اجازت سے ہوگا کہ ولایت اسی کی ہے بلکہ باندی کی اولاد بھی اس کی غلام ہوگی سو یہ اسی صورت میں ہے کہ کسی کو گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو اور آزاد عورت سے نکاح کی سکت نہ ہو تو باندی سے نکاح کرلے کہ زنا سے بہت بہتر ہے اور اس میں عار نہ جانے کہ آزاد غلام سب آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور عنداللہ کون بہتر ہے یہ اللہ ہی کو علم ہے اس لیے صرف اس وجہ سے کوئی عار محسوس نہ کرے کہ یہ مملوکہ ہے ہاں ان باندیوں کا بھی مہر ادا کرو جو آزاد عورت کی نسبت نصف ہوگا اور سوائے امام مالک کے دوسرے ائمہ کے نزدیک وہ بھی مالک کا حق ہوگا نیز اس حالت میں مومن باندی سے نکاح کرو کہ وہ پاکدامن ہو نہ زنا کرنے والی ہو علانیہ اور نہ خفیہ دوستیاں پالنے والی ہو یعنی پاکیزگی اور بقائے نسل ہر حال میں مقدم ہے اگر متعہ حلال ہوتا تو ضرور اس کی اجازت ہوتی مگر متعہ کرنے والی باندی اگر ہو تو وہ نکاح کے قابل نہیں متعہ ایک بدکاری ہی کا تو نام ہے کہ اجرت لے کر کوئی عورت اپنا نفس کچھ وقت کے لیے کسی مرد کے سپرد کردیتی ہے علانیہ کرے یا خفیہ نہ اس سے وراثت ثابت نہ نسب اور نہ اس پر عدت سو یہ کبھی بھی حلال نہ تھا اور نہ ہے ورنہ تو جنسی تسکین آسان ترین صورت تھی مگر یہاں بھی فرما دیا محصنت غیر مسافحات۔ کہ پاکدامن ہوں اور محض سفاح یعنی شہوت رانی نہ ہو حالانکہ متعہ میں بجز سفاح کے اور کچھ ہے ہی نہیں سو بعد نکاح اگر ان سے زنا صادر ہوجائے تو ان کو آزاد عورتوں کی نسبت آدھی سزا ملے گی یعنی وہ سزا جو آزاد عورت غیر شادی شدہ ہونے کی صورت میں پاتی ہے جو سو کوڑے ہے ورنہ شادی شدہ آزاد عورت تو سنگسار کی جائے گی جس کا نصف ممکن نہیں تو نصف سزا پچاس کوڑے ہوگی فقھا کے نزدیک یہی حکم غلام مرد پر بھی نافذ ہوگا اور یہ باندیوں سے نکاح بھی ایسے لوگ کریں جن کو زنا میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو لیکن اگر قدرت نکاح نہ ہو تو آدمی صبر کرے جو اللہ کریم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ بات ہے اور تمہارے حق میں بھی سب سے بہتر ہے اللہ کریم بخشنے والے اور بہت زیادہ رحم کرنے والے ہیں کہ کس قدر آسانیاں یہاں فرما دی ہیں۔ یاد رہے غلام یا باندی وہی ہوں گے جن کا طریقہ اوپر ذکر کردیا گیا اس کے علاوہ کسی عورت یا بچے کو پکڑ کر بیچ دینا ظلم ہے اور خرید کر کبھی غلام یا کنیز نہیں بنایا جاسکتا یہ قطعاً حرام ہے جو لوگ بچیوں کے رشتہ کے عوض پیسہ لے لیتے ہیں وہ بچیاں بھی اگر رضا مندی کا اظہار نہ کریں تو نکاح منعقد نہیں ہوگا اور اگر شرما شرمی کردیں مگر دل سے راضی نہ ہوں تو اللہ کریم کے نزدیک بہت بڑا ظلم ہے یہ سب جاہلیت کی رسوم ہیں جنہیں اسلام سے دوری کے باعث لوگ پھر سے اپنا رہے ہیں۔
Ayahs 4:26–28رکوع نمبر 5 ۔ آیات 26 تا 33 ۔ والمحصنت۔
اسرار و معارف :
آیات 26 تا 28:
اللہ کریم تم پر کوئی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا بلکہ بہت بڑا احسان فرما کر تمہین سلامتی کی راہ دکھانا چاہتا ہے واضح اور صاف الفاظ میں وہ راہ جو انبیاء اور صالحین کی ہے جس راہ سے گذرنے والے سلامتی کے گھر کو پہنچے بلکہ تم سے پہلی امتیں گمراہ ہو کر ہلاک ہوئیں مگر تمہارے لیے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے یعنی جو محرمات تمہیں بتائی گئی ہیں یہ پہلے بھی حلال نہ تھیں اور دین ابراہیمی میں بھی حرام تھیں اسی طرح حلال و حرام کا حکم بھی صرف تمہارے لیے نہیں ہے بلکہ تمام امتوں پر اسی طرح کے احکام نازل ہوئے جن پر عمل کرکے یہی لوگ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور پہلوں کی نسبت تم پر بہت آسانی فرمائی کہ وہ سب کچھ جاننے والا اور بڑی حکمت والا ہے اللہ کریم کی پسند تو یہ ہے کہ وہ تم پر مہربانی فرمائے اور تمہاری خطائیں معاف کردے اور سیدھا راستہ بیان فرمایا کہ تم اس پر چل کر دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کرسکو مگر جو لوگ اور جو اقوام خواہشات نفس کے ہاتھوں تباہ ہوچکے ہیں وہ نہیں چاہتے بلکہ ان کی خواہش تو یہ ہے کہ تمہیں بھی راہ راست سے بھٹکا کر بہت دور پھینک دیں آج کے دور میں تہذیب مغرب کو دیکھیں کہ کن کن اداؤں سے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے درپے ہے اور مسلمان جو پیدا تو مسلمانوں کے گھروں میں ہوئے مگر دین کا علم حاصل نہ کرسکے وہ اس تہذیب سے کتنے متاثر ہیں کہ ان اسلامی قوانین کو پرانی بات سمجھ کر ماڈرن یعنی نئی تہذیب میں اپنے آپ کو رنگنا چاہتے ہیں مگر اس کے نتائج و اثرات کو یورپ میں جا کر کیوں نہیں دیکھتے جہاں انسانی سکون لٹ چکا ہے خاندانی نظام تباہ ہوچکا ہے عزت و آبرو اور ننگ و ناموس کا جنازہ نکل چکا ہے اور یہ صرف الفاظ نہیں بلکہ کیفیات ہیں جو انسانی زندگی کو ایک توازن ایک ٹھہراؤ عطا کرتی ہیں جس سے دل کو سکون نصیب ہوتا ہے ان میں پاکیزگی اور طہارت ہے ورنہ آزادانہ شہوت رانی تو جانوروں کی صفت ہے تہذیب مغرب کی ترقی یہ ہے کہ انسانوں کو انسانیت کی بلندی سے جانوروں کی پستی میں پٹک دیا یاد رکھو اللہ کریم تمہارے لیے آسانیاں چاہتا ہے اسی لیے نکاح کی نہ صرف اجازت دی بلکہ اس کی ترغیب دی اس کی حدود مقرر فرمائیں اور اولاد کی تربیت پر آخرت کے اجر کا وعدہ فرمایا پھر بیک وقت چار تک شادیوں کی اجازت بخشی صرف اس شرط پر کہ عدل کرو اور کسی بیوی پر ظلم نہ ہو محبت اور نرمی سے برتاؤ کی تاکید فرمائی باندیاں حلال کردیں آزاد عورت سے شادی کی استطاعت نہ ہو تو باندی سے نکاح کی اجازت عطا فرمائی و نیز اس امت پر بہت کم مجاہد کے عوض بہت بھاری انعامات کا وعدہ فرمایا۔ صاحب کشف الاسرار لکھتے ہیں۔ یخفف عنکم مقاساۃ المجاھدات بما یلج لقلوبکم من انوارات المشاھدات۔ یہ اس امت کی خصوصیت ہے کہ مصروف زندگی بھی گزارے اور شیخ کامل کی ایک توجہ سے سینہ منور کرلے بلکہ تجلیات باری کے مشاہدات نصیب ہوں ورنہ قبل ازیں تو ایسے لوگوں کی عمریں تنہایوں میں اور مجاہدات میں کٹ جاتی تھیں۔ وخلق الانسان ضعیفا۔ کہ انسان تو تخلیقی طور پر ہی کمزور ہے اس کی بنا مٹی سے ہے اور وہ اپنے اندر کثافت رکھتی ہے حالانکہ قوت لطافت میں رکھی گئی ہے سو تمہیں ایسا طریقہ تعلیم فرمایا کہ تم نہ صرف روح بلکہ اس کے ساتھ خاکی جسم کو بھی منور کرسکو اور روحانی ترقی اور قوت کے وہ مقامات حاصل کرسکو کہ مشت خاک بھی منور ہو کر فرشتوں جیسے اوصاف حاصل کرلے۔
Ayahs 4:29–31آیت نمبر 29 تا 30:۔ یا ایھا الذین امنوا لاتاکلوا۔۔ ۔ فندخلکم مدخلا کریما۔
مال حرام کا کاروبار :
کمالاتِ روحانی اور تجلیات باری سے اس خاکی وجود کو منور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں حرام کی آمیزش نہ کی جائے جس عمارت پر کیچڑ تھوپ دیا جائے اس میں تو وہ چمک دمک اور خوبصورتی پیدا نہیں ہوسکتی جس کی تم امید رکھتے ہو سو۔ اموالکم۔ فرما کر یہ اشارہ فرمایا کہ سب مسلمانوں کے مال تمہارے اپنے مال ہیں سو اپنے مال کی حفاظت کی جانی چاہئے نہ کہ اسے ضائع کیا جائے پھر حرام کا لقمہ پیٹ میں حل ہو کر اعضاء وجوارح کی قوت بنتا ہے ہاتھ پاؤں آنکھ زبان دماغ اور دل تک سب اس سے متاثر ہوتے ہیں جب یہاں سب حرام جمع ہوجائے گا تو نیکی کرنے کی قوت ہی وجود سے ختم ہوجائے گی حق کا سننا سمجھنا اور اس پر عمل سب دشوار ہوجائے گا اور وہ عالی منازل جو تمہیں حاصل کرنا چاہئیں تھیں تمہاری پہنچ سے بہت دور چلے جائیں گے اس لیے کبھی بھی ناجائز طور پر کوئی لقمہ حاصل نہ کرو کفر شرک یا عقیدے کا کوئی بھی گناہ طاری ہوتا ہے اور توبہ کرنے سے دھل جاتا ہے مگر اکل حرام کا گناہ وجود میں ساری ہوتا ہے خون بن کر رگوں میں دوڑتا ہے اس کی توبہ بھی بہت مشکل ہے کہ جس کا حق کھایا تھا اس کو لوٹا کردے یا معاف کرائے اور اگر وہ شخص مرگیا یا لاپتہ ہے نہیں مل سکتا تو رقم اللہ کے نام پر دے کر اس کو ثواب پہنچائے اور اللہ سے معافی چاہے ورنہ حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ جو حصہ بدن حرام سے بنے گا اس کے لیے آگ ہی سزاوار ہے یعنی ایسے افراد کی اگر بخشش بھی ہوگی تو وہ گوشت دوزخ میں جلا دیا جائے گا اس کے بعد وہاں سے نکل کر جنت میں داخل ہوں گے۔
مال حرام کی مختلف صورتیں :
ہاں مال کی گردش ہی باعث حیات بھی ہے سو تمہیں تجارت کرکے ایک دوسرے سے نفع کمانے کی اجازت ہے اور تجارت اس لین دین کا نام ہے جو باہمی رضامندی سے مال کے بدلے مال یا محنت کے بدلے مال یعنی ملازمت ، مزدوری یا بیع و شرا یا کرایہ وغیرہ سب تجارت میں داخل ہے اور اس میں رضامندی سے مراد یہ ہے کہ نہ کسی کو مجبور کیا جائے جیسے ذخیرہ اندوزی کرکے کیا جاتا ہے کہ مال صرف ایک آدمی کے پاس جمع ہوگیا وہ منہ مانگے داموں فروخت کرتا لوگ آکر خریدتے ہیں بظاہر تو کوئی انہیں پکڑ کر نہیں لاتا مگر یہ رضامند مجبوری کا دوسرا نام ہے اس لیے یہ حرام ہے ایسے ہی جھوٹ بول کر یا وعدہ خلافی کرکے مثلاً جس مال کا وعدہ تھا اس میں ناقص ملا دیا تو درست نہ ہوگا یا پھر سرے سے مال ہی نہ ہو جیسے سٹہ یا جوا کہ جس میں مال ہوتا ہی نہیں محض ذہنی طور پر تصور کرکے سودا طے ہوگیا حرام ہے یعنی ایک طرف مال ہے اور دوسری طرف مال ہی نہیں یہی حال سود کا ہے کہ ادھار کی میعاد کا معاوضہ ہوتا ہے اور میعاد کوئی مال نہیں سو حرام ہے یہ تمام صورتیں جن میں ایک طرف مال موجود ہو اور دوسری طرف مال نہ ہو یا مشکوک ہو تو اسے فقہا نے بیع باطل قرار دیا ہے اور دوسری قسم جہاں دونوں طرف مال ہے مگر کسی ایک طرف رضا مندی کے نام پر مجبوری ہے تو اسے بیع فاسد کہا جائے گا جیسے ذخیرہ اندوزی کی صورت اور یہی حال رشوت کا ہے کہ اگر کوئی رشوت دے کر وہ چیز حاصل کرنا چاہتا ہے جو اس کا حق نہیں تو دینے والا اور لینے والا دونوں جہنمی ہیں لیکن اگر کسی کو اس قدر مجبور کردیا جائے کہ اپنا حق حاصل کرنے کے لیے کوئی دوسرا راستہ تلاش نہ کرسکے اور مجبور ہو کر رشوت دے اور اپنا حق حاصل کرے تو دینے والا گناہگار نہ ہوگا لینے والا ڈاکو شمار ہوگا بشرطیکہ جائز طریقہ تلاش نہ کیا جاسکتا ہو ورنہ محض سستی کی وجہ سے رشوت دینے والا بھی گناہ میں تعاون کرنے والا شمار ہوگا ایسے ہی کسی کی بیوی نے مجبورا معاف کردیا یا بیٹیوں اور بہنوں سے حصہ معاف کرالیا گیا جو اکثر بصورت مجبوری ہی ہوتا ہے تو یہ سب حرام ہے اور تجارت کی تمام صورتیں جو اسی آیہ کریمہ کی تفسیر میں رسول اللہ ﷺ سے منقول ہیں فقہانے کتاب البیوع اور کتاب الاجارہ میں بیان کردی ہیں۔ یہاں مفہوم کتاب عرض کرنا مقصود ہے اور چونکہ عورتوں کے حقوق کا بیان ہورہا ہے اس لیے بنیادی بات یہ ارشاد فرمائی گئی کہ اداء حقوق ہی انسانی عظمت کا تقاضا ہے اور انسانیت کا مقام فرشتوں سے بلند تر ہے مگر عالم بالا کی لطافتیں پانے کے لیے جہاں عبادات ضروری ہیں وہاں معاملات کو بہت زیادہ دخل ہے کہ تعمیر بدن میں حلال ذرائع سے رزق حاصل کرنا ضروری ہے اور فرمایا۔ لاتقتلوا انفسکم۔ یعنی آپس میں خون نہ کرو یا اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو یہ وہ الفاظ ہیں جو مترجمین حضرات نے لکھے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ انداز بیان سے یہ ظاہر ہے کہ ناجائز ذرائع سے روزی حاصل کرنا یا دوسروں کے حقوق دبا لینا گویا اپنے آپ کو قتل کردینا ہے کہ اس وجہ سے انسان روحانی کمالات حاصل کرنے سے محروم ہوجاتا ہے جو ایک طرح سے قتل نفس ہے کہ ایسے لوگ جن کے دل یاد الہی سے غافل ہوں اہل ذوق کے نزدیک مردہ شمار ہوتے ہیں اور ان کے جسم ان کی ارواح کی قربیں ہیں۔ واجسامھم قبل القبور قبور۔ کہ ان کے وجود قبر میں جانے سے پہلے خود ارواح کی قبریں بن گئیں اور قبروں پہ تو حسرت ہی برستی ہے ویرانی ہوتی ہے اسی لیے معاشرے میں ویرانی نظر آتی ہے مفسرین نے خود کشی کو بھی یہاں حرام لکھا ہے اور ناحق قتل بھی مگر ان کے احکام دوسری جگہ پر بھی موجود ہیں یہاں جو براہ راست اشارہ ملتا ہے وہ یہی ہے کہ حقوق العباد کو دبانے والا اپنے آپ کو منازل علیا کے حصول سے محروم کردیتا ہے اور ہر قسم کی نیکی سے محروم ہوجاتا ہے جو گویا قتل نفس ہی کی ایک صورت ہے یہ سب احکام تمہیں تمہاری ہی بھلائی کے لیے دئیے گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑا رحم کرنے والا ہے اور تمہارے حق میں اس کی رحمت بہت وسیع ہے لیکن اگر کوئی جان بوجھ کر اور زیادتی کرتے ہوئے اللہ کریم کے احکام کے خلاف کرے گا تو عنقریب آگ میں داخل کیا جائے گا۔ درحقیقت وہ رحمت باری کا دامن جھٹک کر غضب الہی میں چھلانگ لگانے والا ہوگا اور یاد رکھو عذاب کرنا اللہ کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے ہاں اگر خطاء یا سہو و نسیاں سے کسی سے ایسا ہوجائے تو وہ اس وعید میں داخل نہیں مگر ضروری ہے کہ اس کی تلافی کی کوشش کی جائے اور توبہ کی جائے۔
گناہ کے درجات :
اور اگر تم ان کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے یہاں گناہوں کی دو قسمیں ارشاد فرمائی ہیں کبیرہ اور صغیرہ۔ علما نے بڑی لمبی اور بعض اوقات چھوٹی فہرستیں ، ارشاد فرمائی ہیں جن میں کبھی سات یا تین یا کچھ زیادہ کبیرہ گناہ ارشاد فرمائے ہیں ان میں کوئی اختلاف اس لیے نہیں کہ جن لوگوں نے تفصیل جمع کی ان کی فہرست لمبی ہوگئی مگر قرآن حکیم نے ایک اصول دیا ہے کہ کبیرہ وہ ہیں جن سے تمہیں منع کیا گیا۔ ما تنھون عنہ۔ علما کے مطابق جن گناہوں پر دوزخ کی وعید آئی ہے وہ کبیرہ ہیں اور اس کے علاوہ صغیرہ ہیں یہ یاد رہے کہ ہر گناہ بنیادی طور پر گناہ ہے صغیرہ صرف اس لیے کہا گیا کہ دوسرے گناہ کی نسبت چھوٹا ہے ورنہ گناہ تو ہے اور صغیرہ عبادات سے معاف ہوتے رہتے ہیں ہیں اس صورت میں کہ آدمی کبائر سے بچنے کی کوشش کرے جیسے حدیث شریف میں وارد ہے کہ وضو کرنے سے اعضاء سے گناہ جھڑ جاتے ہیں لیکن اگر کوئی کبائر میں مبتلا ہو تو پھر اسے یہ نعمت بھی نصیب نہیں ہوتی بلکہ ہر گناہ کفر کا قاصد ہوتا ہے اور ہر گناہ سے دل پر سیاہ نقطہ بنتا جاتا ہے اگر سارا دل سیاہ ہوجائے تو ایمان سلب ہوجاتا ہے جو بہت بڑی سزا ہے اور آج کے معاشرے میں یہ مصیبت عام نظروں کے سامنے ہے عموماً ترک فرائض و عبادات ، کسی مخلوق میں وہ اوصاف یا کوئی ایک صفت ماننا جو ذات باری سے مختص ہیں یا افلاس کے ڈر سے قتل اولاد اس میں وہ اسقاطِ حمل بھی شامل ہے جو روح پڑنے کے بعد بغیر عذر شرعی کیا جائے۔ زنا۔ شراب خوری ، قتلِ ناحق ، یتیم کا مال کھانا ماں باپ کو گالی دینا یا کسی کو گالی دینا کہ جواب میں ماں باپ کو گالیاں پڑیں سود کی آمدنی رشوت میدانِ جہاد سے فرار پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانا ضرورت زندگی کی اشیا کو روکنا بےخوف ہو کر گناہ کیے جانا تکبر کرنا بادشاہ یا بااختیار ہونے کے باوجود جھوٹ بولنا جنات و شیاطین کے ذریعے خبریں حاصل کرنا یا لوگوں کو بتانا یا حصول دنیا کے لیے کسی امام کی بیعت کرنا یا قطع رحمی کا مرتکب ہونا غرض اس طرح کی فہرست فقہ کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے آخر میں عرض ہے کہ بیت اللہ شریف کی بےحرمتی اکبر الکبائر میں داخل ہے اور کسی مسلمان سے اس کی امید نہیں رکھی جاسکتی سو فرمایا کہ اگر تم کبائر سے بچنے کی کوشش کرتے رہو تو تمہارے چھوٹے چھوٹے گناہ یا بھول چوک جو انسانی مزاج کا خاصہ ہے معاف کردئیے جائیں گے اور تمہیں عزت کے مقام میں داخل کیا جائے گا یعنی تم عظمت انسانی کے ساتھ ابدی راحت کو پا لو گے۔
Ayahs 4:32–33آیت نمبر 32 تا 33: ولا تتمنوا ما فضل اللہ بہ۔۔۔ ان اللہ کان علی کل شیء شہیدا۔
حسد ، قناعت اور رشک :
اور جس چیز میں اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اس کی خواہش ہی نہ کرو یعنی ان امور میں جن میں انسان کو اختیار نہیں خواہ مخواہ دخل نہ دو مثلاً عورت مرد بننے کی خواہش لے بیٹھے جسے مساوات کے نام پر اچھالا جا رہا ہے یا کسی کا اعلی خاندان میں ہونا یا حسین ہونا وگیرہ اگر ایسی کوشش کی گئی تو سوائے حسد کے کچھ حاصل نہ ہوگا ، دنیا کا آرام تو گیا ہی تھا ساتھ آخرت بھی ضائع ہوگی اس لیے مردوں کو اپنے کیے کا اجر ملے گا جو فرائض بحیثیت مرد ان کے ذمے تھے انہوں نے کس درجے میں ادا کیے اور عورتوں کو اپنے اعمال کی جزا ملے گی حساب دونوں کا اللہ ہی کے رو برو ہوگا تو مساوات اسلامی یہ ہے کہ ہر حق دار کو وہ حق جو اللہ نے دیا ہے بغیر کسی رکاوٹ کے پہنچے اور ہر شخص بلاتمیز مرد و زن اپنا فرض حسن و خوبی سے ادا کرے یہ ان لوگوں کے لیے وجہ جواز نہیں جو کاہلی کی وجہ سے کچھ کر نہیں پاتے اور الزام تقدیر پہ دھرتے ہیں جیسے حصول علم محنت و مشقت کاروبار وغیرہ میں ترقی یعنی امور اختیاریہ مسابقت ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش مستحسن ہے مگر اس صورت میں کہ محنت کرکے آدمی اس جیسا یا اس سے بھی اچھا بن جائے نہ یہ کہ دوسرے کی نعمت کے زوال کی کوشش کرے یہ تو ظلم ہوگا ہاں اللہ نے جس حیثیت میں یعنی مرد یا عورت یا معاشرتی حیثیت میں پیدا فرمایا ہے اس میں فرائض ادا کرکے سبقت حاصل کرے ان امور میں جو انسان کے بس میں نہیں مداخلت کی کوشش خود اپنی اور اپنے ساتھ معاشرے کی خرابی کا سبب بنے گی اس لیے اپنی حدود کے اندر رہ کر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم مانگتے رہو۔ اور جو والدین یا دوسرے چھوڑ کر مریں انہیں حقداروں میں تقسیم کردو بالکل اسی طرح جس اللہ نے سب کے حصے مقرر کردئیے ہیں یہ سب اللہ کریم کی طرف سے ہے جو تمہاری بہتری کو تم سے زیادہ جانتا بھی ہے اور تم پر بہت زیادہ مہربان بھی ہے خود انسان کو اپنے اعمال اور ان کے نتائج کی کیا خبر سو اللہ نے ازراہ کرم تمہارے حقوق و فرائض اس حسن و خوبی سے مقرر فرمادئیے ہیں کہ مرد ہو یا عورت ان احکام پر عمل کرکے عظمت انسانی سے بہرہ ور ہوسکتا ہے جو مقصد حیات ہے۔