Ayahs 4:101–104رکوع نمبر 15 آیات 101 تا 104 ۔ اسرار و معارف :
واذا ضربتم ۔۔۔ علیما حکیما۔
اللہ کریم نے جہاں دین میں استقامت اور ہمت و جرات کا حکم فرمایا ہے وہاں رخصتیں بھی دی ہیں۔ رعایتیں بھی برتی ہیں جیسے حدیث معراج میں مشہور واقعہ ہے کہ پچاس نمازوں کا حکم ہوا ایک رات دن میں پڑھی جائیں تو آپ ﷺ کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کمی کی درخواست کرنے کا مشورہ دیا الغرض بار بار جانا آنا ہوا حکم ہوا چالیس کردیتے ہیں پھر تیس ، بیس ، دس ، حتی کہ پانچ تو روایات میں ملتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا یا رسول اللہ پانچ بھی زیادہ ہیں۔ میری امت دو کا حق بھی ادا نہ کرسکی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا اب مزید درخواست کرتے ہوئے شرم آتی ہے کہ پچاس سے پانچ تو کروا لیں۔ اللہ کریم کو یہ ادا بہت پسند آئی اور فرمایا تیرے اس شرم کے صدقے اب پانچ ادا کریں گے۔ مگر اجرپچاس کا دوں گا۔ ثواب اتنا ہی عطا کروں گا جتنا پچاس پہ کرنا تھا۔ لہذا جس طرح عزیمت پر عمل کرنے سے ثواب ہوتا ہے۔ رخصت پہ عمل میں بھی اسی طرح ثواب حاصل ہوتا ہے۔ یہاں ایسے ہی رعایت عطا کی گئی جس کی وجہ تو ہجرت کے سفر اور جہاد کے سفر بنے مگر ہر قسم کے سفر میں اس کا فائدہ عام ہوگیا کہ حالت سفر میں نماز کی رکعات کو کم کرلیا کرو یعنی چار کی جگہ دو رکعت ادا ہوں اگر موقع نصیب ہوسنت ، نوافل ادا کرے تو پورے کرے گا مگر فرض چار کی جگہ دو ۔ صبح کے پہلے ہی دو ہیں اور مغرب کے تین ہی پڑھے جائیں گے۔ علماء کے مطابق سفر تین منزل ہونا چاہئے۔ جبکہ ایک منزل تقریبا سولہ میل شمار ہوتے ہیں اور شہر سے نکلتے ہی نماز قصر شروع ہوجائے گی۔ اسی طرح اگر کسی جگہ پندرہ روز یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کا پروگرام بن گیا تو مقیم یعنی وہاں کا رہنے والا شمار ہوگا اور نماز پوری پڑھے گا۔ ورنہ دو رکعت ہی ادا کرے گا۔ حتی کہ اگر دوران سفر قضا ہوگئی تو بھی قصر ہی کی قضا پڑھی جائے گی۔ غرض فقہی تفصیل دوسری جگہوں پہ دیکھی جاسکتی ہے۔ یہاں یہ عرض کرنا مقصود تھا کہ حالت سفر میں رعایت فرما دی لیکن حاضری سے چھٹی نہیں دی کہ آدمی سے نماز معاف ہوجائے ہرگز نہیں اور دوسری صورت سفر ہجرت میں بھی پیش آسکتی ہے اور جہاد کے سفر میں بھی وہ ہے کافروں سے نقصاں پہنچنے کا اندیشہ کہ مسلمان تو سارے سر بسجود ہوں کفار ٹوٹ پڑیں اور گاجر مولی کی طرح کاٹ کر پھینک دیں کیونکہ کافروں کی دشمنی میں تو کوئی شبہ نہیں نہ ان سے کسی رعایت کی امید رکھی جاسکتی ہے۔ اب دیکھئے یہاں کس قدر خطرناک حد تک حالات نازک ہیں مگر ارشاد ہوتا ہے اے میرے حبیب ﷺ اگر آپ ساتھ ہوں مراد یہ کہ آپ نہ ہوں تو جو امیر و امام ہو نماز شروع کرے مگر ایک جماعت نگہبانی کے لیے اسلحہ سے لیس کھڑی رہے اور ایک جماعت آپ کے ساتھ ایک رکعت ادا کرے یہ لوگ بھی اپنا اسلحہ اپنے پاس رکھیں اور جب ایک رکعت ادا ہوچکے تو یہ لوگ پہرے پہ چلے جائیں۔ اور دوسرے ایک رکعت امام کے ساتھ ادا کرلیں پھر امام تو فارغ ہوجائے گا۔ یہ اپنی دو پوری کریں گے۔ پھر پہلے والے آ کر ایک رکعت مزید ادا کریں گے۔ تو اس طرح کفار کی طرپوری پوری نگاہ بھی رہے گی اور اللہ کی عبادت بھی ہوگی۔ یعنی اسلام نہ عبادت چھوڑنے کی رخصت دیتا ہے نہ عملی زندگی سے فرار کا کوئی راستہ بلکہ اللہ کی یاد کے ساتھ بھرپور عملی زندگی جو اطاعت رسول کا نمونہ وہی اسلام ہے۔ چونکہ کافر کی خواہش ہے اور رہے گی کہ وہ اسلام کا نام تک مٹا دیں اس لیے مسلمان کو ہمیشہ مسلح بھی رہنا چاہئے اور اسلحہ کے استعمال سے آگاہی بھی حاصل کرنا ضروری ہے۔ یہ سب اس لیے ہے کہ اسلام کی حفاظت کی جائے تو اب ضروری ہے کہ اس کی عملی زندگی میں اسلام موجود ہو اگر اسلام ہی نہ ہوگا تو پھر وہ یہ سب کچھ کرے گا کس لیے سو عین حالت جنگ میں گولہ باری بھی جاری رکھو۔ باری باری نماز بھی دوگانہ ادا کرلو کہ سفر کی طرح حالت خوف میں بھی قصر ہی پڑھی جائے گی۔ ورنہ کافر تو چاہتے ہیں کہ تم سب عبادت میں لگ جاؤ تو تم پر یکبارگی ٹوٹ پڑیں بلکہ ان آیات کے شان نزول میں اس طرح کا واقعہ ملتا ہے کہ کافر حالات کا مشاہدہ کرتے رہے اور آخر یہ فیصلہ کیا کہ جب یہ لوگ نماز کے لیے کھڑے ہوں گے ان پر ٹوٹ پڑیں گے۔ مگر اللہ کریم نے آپ ﷺ کو مطلع فرما دیا اور آئندہ یہ احتیاطی طریقہ تعلیم فرما دیا کہ ایک ایک رکعت با جماعت اور ایک ایک اپنی پڑھ لیں۔ چار کی دو پڑھ لیں مگر چھوڑ نہ دیں ، اب ذرا ہمیں ، میری مراد اس دور کے مسلمان سے ہے غور کرنا چاہئے کہ کیا ہمارے کردار میں نماز کی یہی اہمیت ہے ہاں اور رعایت بھی ہے کہ بارش وغیرہ یعنی موسمی خرابی ہتھیار لگانے سے مانع ہے یا کسی بیماری اور مرض کی وجہ سے ہتھیار نہیں لگا سکتے تو کھول کر رکھ لو۔ چونکہ اس دور کے ہتھیار تو بدن پر سجائے جاتے تھے۔ اس لیے اجازت ہے پورے ہتھیار نہ لگاؤ مگر اس قدر ضرور لے لو جس سے کم از کم دفاع تو کرسکو۔ بچاؤ تو کرسکو۔ یہ بات طے ہے کہ ذلت کافر کا مقدر ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ مگر دنیا عالم اسباب ہے تمہیں سبب اختیار کرکے اللہ پر بھروسہ کرنا ہوگا۔ یہی توکل ہے اور آخرت انعام باری ہے۔ دنیا میں اطاعت کرنے کا۔ سو یہ دو کام تم کرو۔ کافروں کا انتظام ہم کریں گے۔ نہ صرف دنیا میں ذلیل ہوں گے بلکہ آخرت میں اس سے بڑھ کر ذلیل ہوں گے۔ اب جو یہ دو کام تمہارے ذمے لگ گئے بھلا یہ کیسے ہوں گے مشکل لگتے ہیں۔ اوقات عبادت میں عبادت ، کام کے وقت کام ، وہاں رسومات سے اجتناب ، یہاں حرام سے پرہیز سوچ اور آرزو تک پر پابندی پھر اس کے ساتھ کفر سے ہمہ وقت مقابلہ جان کا خوف الگ یہ آسان کام نہیں۔ فرمایا اس کا بھی ایک نسخہ ہے کہ نماز تو ادا کی ختم ہوگئی مگر اللہ کا ذکر تو ختم نہیں ہوتا۔ اللہ کا ذکر کرو اس شدت سے اس کثرت سے کہ کھڑے بیٹھے لیٹے کوئی حال اللہ کی یاد اس کے نام ، اس کے ذکر ، سے خالی نہ ہو اس کو اس کے نام کو اس کی تجلیات کو دل میں بسا لو ، سمو لو ، اپنے اندر جذب کرلو۔ پھر دیکھو کس قدر سکون ملتا ہے ، کتنا اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ ذرا پھر نماز پڑھ کے دیکھو کچھ حالت بدل گئی یا نہیں۔ یہاں جو لوگ نماز کو ذکر کا بدل قرار دیتے ہیں انہیں سوچنا چاہئے کہ بیک وقت نہ صرف نماز بلکہ صلوۃ الخوف کا بیان ہو رہا ہے جو حالت جہاد میں ادا کی جاتی ہے۔ پھر بھی حکم ہے نماز ختم ہوگئی ذکر الہی ختم نہیں ہوتا لڑ رہے ہو حملہ کر رہے ہو گر رہے ہو یا لیٹ گئے ہو آرام کرنا بھی مراد ہوسکتا ہے۔ اور یہ بھی کہ زخمی ہو کر گر گئے ہو روح پرواز کے لیے پر تول رہی ہے مگر ذکر الہی جاری رہے پتہ نہیں جو حضرات لوگوں کو ذکر الہی سے روکتے ہیں وہ ان آیات سے کیسے گذر جاتے ہیں۔ پھر جب سکون ہو پوری اور باقاعدہ نماز ادا کرو اور یہ بھی درست ہے کہ ذکر مسلسل سے بھی نماز کی کیفییات میں فرق آئے گا جب اطمینان نصیب ہوگا تو سجدوں میں اور سی لذت ہوگی اور نماز تو اس کے مقررہ اوقات میں ادا کرنا فرض ہے۔ یعنی اپنی شرائط اور اوقات کے ساتھ نماز کی ادائیگی تو اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ہے۔ اور کفار کے تعاقب میں کبھی سستی مت دکھاؤ۔ اگر تمہیں تکالیف ہیں ، تھکاوٹ ہے یا زخمی ہو یا راشن اور کھانے پینے کی اشیاء کی کمی کا سامنا ہے تو یہی شمکلات ان کے لیے بھی تو موجود ہیں کہ آخر وہ بھی تو حالت جنگ میں ہیں۔ اور تمہیں اللہ کریم سے کتنی نوازشوں کی امید ہے۔ کس قدر امیدوارِ کرم ہو حتی کہ دیدار باری کی تمنا لیے بیٹھے ہو انہیں تو ایسی کوئی امید بھی نہیں جو میدان جنگ میں ان کی ڈھارس ہی بندھا سکتی۔ اللہ کریم سب کچھ جانتے بھی ہیں اور بہت بڑے حکمت والے بھی ہیں۔ سو ہر ایک کو اس کے عمل اور اس کی نیت ، اس کے خلوص کا بدلہ دیں گے نیز اتنا ہی کام بھی کرنے کا حکم دیا جاتا ہے جتنی اللہ کی طرف سے قوت کار عطا ہوتی ہے۔
Ayahs 4:105–112رکوع نمبر 16 ۔ آیات 105 تا 112 ۔ اسرار و معارف :
انا انزلنا۔۔۔ اثما مبینا۔
ہم نے آپ پر سچی کتاب نازل فرمائی ہے کہ آپ لوگوں کے درمیان انصاف کریں اور اس کے مطابق کریں جو اللہ نے آپ کو بتا دیا ہے یا دکھا دیا ہے۔ سب سے پہلی بات جو میں عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ نزول قرآن ہے ہی نافذ کرنے کے لیے اور جہاں تک جس کا اختیار ہے وہاں تک اسے قرآن (اسلام) نافذ کرنا چاہئے۔ جیسے کسی کو اپنے وجود پر ہی اختیار ہے تو اپنے وجود پر تو نافذ کرے۔ اسی طرح پیر صاحبان کو مریدین پر مولوی صاحبان کو اپنے ماننے والوں پر ، کسی کو گھر پر تو کسی کو محلہ پر اور کسی کو ملک پر اختیار حاصل ہوتا ہے۔ اپنے اپنے اختیار کے مطابق ہم سب اس بات کے مکلف ہیں کہ اللہ کا قانون نافذ کریں بلکہ اس کے نزول کی ایک بہت بڑی وجہ یہی نفاذ ہے۔ اور لوگوں کے درمیان انصاف اس رائے اور معنی کے مطابق جو اللہ نے نبی رحمت ﷺ کو بتلا دئیے تھے۔ بما اراک اللہ یہ صرف نبی کا منصب ہے۔ اس لیے بعد والوں کو انہیں کے دامانِ ارشادات سے خوشہ چینی کرنا ہوگی اور آپ کبھی بھی خیانت کرنے والوں کی طرفداری مت کریں بلکہ اللہ کریم سے توبہ کریں اور معافی چاہیں۔ ہوا یہ کہ ایک قبیلہ میں جسے بنو ابیرق کہتے تھے ایک آدمی سخت منافق تھا مگر بظاہر تو مسلمان ہی بنا ہوا تھا۔ کبھی کبھی مسلمانوں کے خلاف شعر کہہ کر فرضی ناموں سے یا کسی دوسرے کے نام سے شائع کردیتا تھا۔ ایک بار ایک صحابی کے گھر سے نقب لگا کر کچھ ہتھیار اور آٹا چوری کرلیا کہ گندم کا آٹا بھی وہاں تو شام سے آتا تھا۔ اور لوگ مہمان نوازی کے لیے رکھ چھوڑتے تھے۔ جب کچھ شور ہوا تو ایک صحابی کا نام لگانے کی کوشش کی وہ بڑے خفا ہوئے اور تلوار لے کر آگئے کہ جب تک چور سامنے نہ آئے گا چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ اس نے بات بگڑتی دیکھی تو ایک یہودی کا نام لگا دیا اور پہلے وہ چوری کا اسلحہ وغیرہ اسے دے دیا۔ پھر اس کے گھر سے بر آمد کروا دیا کچھ اور آثار ایسے بنائے کہ ابتداءً آپ ﷺ کو بھی اس پر شبہ ہوا مگر اللہ نے حقیقت حال واضح فرما دی۔ آپ نے یہودی کو چھوڑ دیا۔ بنو ابیرق نے مال پیش کردیا جو آپ ﷺ نے مالک کو لوٹا دیا۔ انہوں نے وہ اسلحہ راہ خدا میں دے دیا اور وہ آدمی مکہ مکرمہ بھاگ گیا مگر وہاں بھی ذلت کی موت مرا ، اور اللہ کی گرفت سے ، نہ تو دنیا میں بھاگ سکا نہ آخرت میں وہاں بھی کسی کو نقب لگائی تو وہ دیوار اوپر گر گئی اور اور دب کر ہلاک ہوا۔ تو اب ارشاد باری ملاحظہ فرمائیے کہ قرآن تو نازل ہی اس لیے ہوا ہے کہ نافذ کیا جائے اور یہ حق ہے سچی کتاب ہے پھر آپ ﷺ کا منصب عالی یہ ہے کہ قرآن کے معانی آپ پر اللہ نے بیان فرما دئیے۔ آپ کو حق حاصل ہے کہ جس معاملہ میں ابھی حکم نازل نہ ہوا ہو آپ اپنی رائے یا اجتہاد سے فیصلہ صادر فرما دیں۔ مگر حفاظتِ الہیہ اس قدر حاصل ہے کہ غلط نہیں ہوسکتا کہ فوراً آپ کو متعلقہ امور سے مطلع فرما دیا جاتا تھا۔ حدیث رسول بھی وحی الہی ہے اگرچہ غیر متلو ہے یعنی جس کے الفاظ نبی کے ہیں معافی اللہ ہی کی طرف سے اور قرآن وحی متلو ہے کہ الفاظ و معافی دونوں اللہ کی طرف سے ہیں۔ سو آپ ﷺ کو بھی حکم ہے کہ اللہ سے بخشش طلب فرمایا کیجیے۔ کہ آپ اس کے بندے تھے رسول تھے۔ اور بد دیانت لوگوں کے ساتھ نرمی کا یا طرفداری کا برتاؤ کبھی نہ کریں۔ اللہ خیانت کرنے والے بدکاروں کو کبھی پسند نہیں فرماتا۔ اگرچہ یہ سب لوگ اس طرح منافق نہ تھے مگر قبیلے کا آدمی تھا۔ اس کی طرفداری میں کوشش تو ضرور کرتے رہے جس پر اللہ نے سب کو ہی خوانا اثیما فرمایا ۔ دغا باز اور بدکار کہ جس کی حمایت کی جائے آدمی اس کا شریک جرم قرار پاتا ہے۔ فرمایا یہ برادری کا بھرم رکھنے کو لوگوں سے تو شرماتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ چور ثابت نہ ہو ورنہ خاندان کی نکٹی ہوگی۔ مگر اللہ سے کیوں نہیں شرماتے کیا اللہ اس بات کا زیادہ حقدار نہیں کہ اس سے شرم کی جائے جو تب بھی ان کے پاس موجود ہوتا ہے جب راتوں کو بیٹھ کر یہ لوگ یہ ناپسندیدہ مشورے کرتے ہیں اور ان کا کوئی عمل اللہ کی گرفت یا اس کی رسائی سے باہر تو نہیں ہے۔ چلو آج دنیا میں اگر کسی نے غلط حمایت کر بھی لی یہ تو رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی تھی ہر حاکم پر تو نزول وحی نہ ہوگا۔ اور ممکن ہے کچھ لوگ چرب زبانی سے کام لے کر حاکم کو دھوکا دے سکیں۔ مگر کل قیامت کو اللہ کے حضور کیا بنے گا وہاں کون کسی کی ناجائز طرداری کرسکے گا یا غلط وکالت کرسکے گا۔ یعنی وکالت ایک جائز پیشہ ہے مگر اس حد تک کہ کوئی شخص اپنا قانونی حق بھی بیان کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا تو اجرت پر کسی کو وکیل بنا لیتا ہے جو عدالت میں یا حاکم کے سامنے اس کی طرف سے بات کرتا ہے مگر یہ بھی تب جائز ہے جب وکیل اس کے قانونی حق کے لیے لڑے اگر جھوٹ بول کر یا جھوٹ پڑھا سکھا کر عدالت کو دھوکا دیا جائے تو یہ نہ صرف حرام ہوگا بلکہ کل ایک بہت بڑی عدالت میں جوابدہی کے لیے تیار رہنا چاہئے۔ کہ وہاں تو جھوٹ کی وکالت بھی نہ چل سکے گی۔ اب جو لوگ یہاں جرم میں ملوث ہوچکے ہیں یا رشتہ داری کی وجہ سے اس کی حمایت کے لیے کوشاں رہے تو گناہگار تو ہوگئے۔ ان کے لیے کیا کوئی صورت کوئی راستہ ہے فرمایا ہاں کسی نے کتنا بڑا گناہ کیا ہو یا اپنے آپ پر بہت بڑا ظلم ڈھایا ہو پھر بھی اللہ سے توبہ کرے تو اللہ کو توبہ قبول کرنے والا اور بخشنے والا پائے گا۔ توبہ کیا ہے گناہ پر ندامت ، گناہ کو اسی وقت چھوڑ دینے کا فیصلہ اور آئندہ کبھی اس میں ملوث نہ ہونے کا پختہ عزم۔ اب توبہ کی قبولیت یہ ہے کہ اللہ کریم نہ صرف گذشتہ گناہ معاف فرما دیتے ہیں آئندہ بچنے کی توفیق بھی ارزاں کردیتے ہیں۔ اور اگر کوئی برائی کا راستہ نہیں چھوڑ سکتا تو نہ چھوڑے اس لیے کہ وہ جو کچھ کررہا ہے اپنی ہی جان پر غضب ڈھا رہا ہے اور اللہ کریم سب کچھ جانتے ہیں۔ یہ بھی اللہ کی حکمت ہے۔ کہ کون سی بات کب ظاہر ہوگی یا کس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ بہرحال جو کوئی بھی برائی کرکے کسی دوسرے بیگناہ کے سر منڈھنا چاہے تو ایک بہت بڑا بہتان بھی ہے اور سخت ترین گناہ بھی ایسے لوگوں کی نہ حمایت کی جائے نہ وکالت جائز ہے۔
Ayahs 4:113–115رکوع نمبر 17 ۔ آیات 113 تا 115 ۔ اسرار و معارف :
ولولا۔۔۔۔۔ وساءت مصیرا۔
اور اے میرے حبیب (ﷺ) اگر آپ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی جو ہر حال میں اور ہر آن آپ کو نصیب ہے تو ان منافقین میں تو ایک ٹولہ یہ سوچ بھی رکھتا ہے کہ معاذ اللہ آپ کو گمراہ کردے اور اللہ کا دین چھڑوا کر رسومات اور بدعات میں مبتلا کردے۔ لیکن آپ تو مجسمہ رحمت ہیں آپ تو نہ صرف اللہ کا فضل و احسان پانے والے ہیں بلکہ بانٹنے والے ہیں اس لیے آپ سے ٹکرا کر اپنی پیشانی کو توڑ لیتے ہیں۔ خود گمراہ ہو رہے ہیں۔ یہاں سے جان لیا جائے کہ شیخ اگر کامل نہ ہوا تو بدعات کا شکار ہوجائیگا۔ اور خوشامدی اپنی لذت کے حصول کے لیے اسے گمراہ کریں گے جس کے نتیجہ میں ایک ثیر مخلوق خدا کے گمراہ ہونے کا خطرہ پیدا ہوجائے گا۔ بلکہ ایسا ہورہا ہے اور ہم اپنے گردوپیش دیکھ رہے ہیں۔ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کہ اللہ نے آپ پر کتاب نازل فرمائی۔ دوسرے آپ کو حکمت یعنی کتاب کے معانی اور تفسیر بتائی اور تیسری بات یہ ہے کہ ایسے علوم بخش دئیے جن سے آپ آگاہ نہ تھے ، کتاب اللہ بہت بڑا راستہ ہے۔ حدیث اس کے نشیب و فراز کی نشاندہی کرتی ہے۔ سلوک کا علم اس کی روشنی ہے۔
جیسے آپ ﷺ کو اللہ کی کتاب عطا ہوئی حکمت یعنی اس کی تعبیر و تفسیر عطا ہوئی اور قوت مشاہدہ عطا ہوئی جس نے وہ ساری حقیقتیں نظر کے سامنے کھول کے رکھ دیں۔ جو کتاب اللہ نے ارشاد فرمائی تھیں۔ یعنی پہلی بات تو عصمت نبوی تھی کہ آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکتے تھے۔ جسے اللہ نے اپنی رحمت اور فضل سے تعبیر فرمایا دوسری بات تعلیم کتاب و حکمت قرآن حکیم اور حدیث شریف اور تیسری بات علمک مالم تکن تعلیم۔ یعنی وہ علوم عطا فرمائے جو بغیر اللہ کی عطا کے آدمی کسی بھی ظاہری طریقے سے حاصل نہیں کرسکتا۔ اور وہ ہیں مشاہدات ان حقائق کا نظر آجانا جن کو کتاب اللہ نے بیان فرمایا ہے اور یہ وہ نعمت ہے جو بغیر اللہ کی عطا کے کسی بھی دنیاوی طریقے سے حاصل نہیں کی جاسکتی جس طرح آپ کے مشاہدات واقعہ معراج شریف میں مذکور ہیں اسی طرح زندگی کے ہر حال میں موجود ہیں۔ اسی طرح صحابہ کرام سے بیشمار واقعات جو بالائے آسمان یا آخرت سے تعلق رکھنے والے ہیں ملتے ہیں ہاں اگر کافر بھی مجاہدہ کرے تو کشف سے بھی دنیا ہی کو دیکھ سکے گا جو دوسرے اسباب سے بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ جیسے آجکل ٹیلی وژن یا ٹیلی فون نہ برزخ میں جھانک سکتا ہے اور نہ بالائے آسمان یہ صرف آپ ﷺ کی شان ہے کہ ایسے علوم عطا ہوئے جو بجز عطائے باری ممکن نہ تھے۔ اور یہی نعمت نسلاً بعد نسل برکات نبوت کی امین ہے کہ قرآن کریم اور حدیث نبوی پر عمل کے ساتھ مجاہدہ نصیب ہو۔ کسی شیخ کامل کی صحبت نصیب ہو تو یہ علوم نصیب ہوں گے جو خود انسان کے حق پر ہونے کی دلیل ہیں ورنہ محض رسمی گدی نشینی سوائے گمراہی کے خطرے کے اور کچھ نہیں دے سکے گی۔ اور اے میرے حبیب (ﷺ) یہ آپ پر اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ آپ کو نہ صرف اس دنیا کی باتیں تعلیم فرمائیں اعمال پر مرتب ہونے والے نتائج سے آگاہ فرمایا بلکہ مشاہدہ بھی عطا فرما دیا اور چونکہ آپ ﷺ ہی کی نبوت باقی ہے۔ وہی کتاب ہے۔ حدیث پاک وہی ہے تو برکات و مشاہدات بھی یقینا وہی ہوں گے اور اس قاعدے کو اگر الٹ کر دیکھا جائے تو علم مشاہدہ گیا تو علوم کتاب بھی گئے صرف باتیں رہ جائیں گی اور پھر عمل بھی ہاتھ سے چلا جائے گا۔ اس لیے یہ نعمت اور اس کا حصول نہ صرف دین کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے بلکہ دین کو قائم رکھنے کے لیے اس کی ضرورت ہے۔ یا اپنے کو دین پر قائم رکھنے کے لیے اس کی ضرورت ہے۔ رہے یہ لوگ تو ان کے اکثر مشورے ہی خیر سے خالی ہوتے ہیں۔ ورنہ مشورہ ہمیشہ بہتری اور خیر کے لیے کیا جاتا ہے۔ کسی نقصان سے یا کسی دشمن کے شر سے بچنے کے لیے یا پھر کوئی نفع حاصل کرنے کی خاطر پہلے کو دفع مضرت اور دوسرے کو جلب منفعت کہتے ہیں یہ دونوں حالتیں خیر ہیں مگر ان کے مشورے دوسروں کو نقصان پہنچانے کے لیے ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کے لیے برا سوچنے کے لیے ہوتے ہیں۔ آپ ﷺ کو ایذا دینے کے لیے ہوتے ہیں۔ ان کی اکثر و بیشتر مشاورت تک ، سوچ تک خیر سے خالی ہے مشاورت کی خیر یہ ہے کہ لوگوں کو ایثار کا سبق دیا جائے۔ امر بصدقۃ سے صرف فرض یعنی زکوۃ یا نفل صدقہ مراد نہ ہوگا۔ بلکہ ایثار کا درس دیا جائے۔ یعنی دوسروں کے حقوق ادا کرے اور اپنے بعض حقوق جو دوست یا رشتہ ادا نہیں کرپاتے معاف کردیا کرے ورنہ تو کبھی اصلاح معاشرہ ممکن ہی نہیں۔ ہمارے ہاں اب کام ہی الٹ ہے ہر آدمی اپنا حق طلب کرنے میں بڑا تیز ہے۔ لیکن فرض ادا کرنے کی فکر کوئی نہیں کرتا۔ حالانکہ وہی امور جو بعض لوگوں کے لیے فرض یا ذمہ داری کا درجہ رکھتے ہیں وہ دوسرے کا حق بن جاتے ہیں اس لیے زیادہ زور ادائے فرائض پہ دیا جانا ضروری ہے۔ جب یہ کام پوری ذمہ داری سے ہوگا تو بیشتر لوگوں کو ان کا حق مل جائے گا لین اس سب کے باوجود بھی اگر کسی ایک کو کمی محسوس ہو تو برداشت بھی چاہئے۔ ایثار بھی کوئی شے ہے لوگوں کو اس پر کیسے آمادہ کیا جائے۔ ایسے مشورے اپنے اندر خیر رکھتے ہیں یا لوگوں کو بدعات و رسومات سے نکال کر سنت پر گامزن کردے ایسا جذبہ پیدا ہو جو غیر حق کو رد کردے قبول ہی نہ کرے۔ یا پھر لوگوں میں صلح قائم رکھنے کے لیے مشاورت کی جائے کہ جہاں لوگ مل کر رہتے ہیں وہاں ضرور اختلافات بھی پیدا ہوتے ہیں سو ان کی اصلاح کا بھی ایک مناسب اور موزوں نظام ہونا ضروری ہے۔ لیکن یہ جس قدر بھلائی ہے یا جتنی نیکی ہے اس کی بنیاد رضائے الہی کی طلب ہو اور کرنے والا اس غرض سے کر رہا ہو کہ اس وجہ سے میرا رب مجھ سے راضی ہوگا ورنہ صورت نیکی کی ضرور ہوگی۔ اس میں اثر نیکی والا نہ ہوگا۔ یعنی اس پر وہ اجر نصیب نہیں ہوگا جو نیکی پہ ہوتا ہے۔ اور منافق کا مرض یہی ہے کہ وہ ہر کام دکھاوے کا کرتا ہے۔ اللہ کی رضا کے لیے کام کرنے کو تو بڑا مضبوط ایمان چاہئے۔ ہاں جو واقعی اللہ کی رضا کے لیے یہ کام کریں گے ہم ان کو بہت بڑا اجر عطا فرمائیں گے۔ اور ان پر انعامات کی بارش ہوگی۔ رہے وہ لوگ جو رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت حال ان پر واضح ہوچکی ہے۔ ہدایت گمراہی پر غالب نظر آ رہی ہے۔ اور حق اور باطل کا فرق سامنے آ چکا۔ آپ ﷺ کی صداقت ثابت ہوچکی مگر اس کے باوجود وہ اپنی الگ رائے رکھتے ہیں اور ایمان والوں سے جدا اپنی راہ بناتے ہیں یعنی سب سے پہلا اجماع آپ ﷺ کی نبوت پر ہے کہ مومنین کے اجماع کو بھی یہاں بطور دلیل لایا گیا ہے۔ کہ دیکھو کیسے کیسے نیک اور قابل رشک لوگ حق ہونے کی شہادت دے رہے ہیں اور آپ ﷺ کے وصال کے بعد سے سے پہلا اجماع خلافت ابوبکر صدیق ؓ پر منعقد ہوا۔ امام شافعی نے بھی اس آیہ کریمہ سے اجماع امت کا دلیل ہونا ثابت کیا ہے اور حدیث پاک سے اجماع امت کا حجت ہونا ویسے ثابت ہے تو اتنے دلائل کے بعد جو راہ سے ہٹے گا ہم اس کو ادھر ہی پھیر دیں گے جدھر اس کی پسند ہے یعنی پھر توفیق ہدایت بھی نصیب نہ ہوگی اگر رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی میں یا اجماع امت سے مخالفت میں کوئی آگے بڑھ گیا تو ممکن ہے غیرت الہی واپس ہی نہ آنے دے کہ اپنی پسند سے گیا ہے اب ادھر رہکر ہی دیکھ لے ، اور اس راہ کی بدولت تو جہنم میں داخل ہوگا وہ اس راستے پر چل نکلا کہ ایسے لوگوں میں شامل ہوجائے گا جنہیں ہم جہنم میں جھونکیں گے اور جہنم بہت تکلیف دہ جگہ ہے۔
Ayahs 4:116–126رکوع نمبر 18 ۔ آیات 116 تا 126 ۔
اسرار و معارف :
ان اللہ لا یغفر ۔۔۔ محیطا۔
ایک اور بہت بڑی جماعت ان جہلا اور نادانوں کی ہے جنہوں نے اپنے آپ کو شرک جیسی مصیبت میں ڈال رکھا ہے اور وہ اوصاف جو صرف اللہ کو سزا وار ہیں دوسروں کو ان میں حصہ دار مانتے ہیں یا پھر وہ اطاعت جو صرف اللہ کا حصہ ہے اس میں دوسروں کو شریک کرلیتے ہیں یہی تین گروہ تھے علمائے یہود اور یہود و نصاری۔ جو ایمان نہ لائے تھے یا منافقین جو بظاہر ایمان لانے کا اظہار و اقرار کرتے مگر دل سے ایمان دار نہ تھے اور تیسرے مشرکین مکہ و عرب دنیا کی آبادی بلحاظ مذہب و ملت انہی تین گروہوں میں تقسیم کی جاسکتی تھی اور آج بھی ایسا ہی ہے سوائے اس کے ک کہ جدید روشنی کے اندھیروں نے ذات باری کا سرے سے انکار کیا ہے اور ایک گروہ ایسا پیدا ہوچکا ہے جو اللہ کے وجود ہی کا قائل نہیں تو رب جلیل نے جہاں معاشرتی انصاف کا حکم دیا وہاں معاشرے کی حفاظت کا سوال پیدا ہوا تو انتظامی امور پہ روشنی ڈالی اور ساتھ جہاد کا حکم دیا اب کیسے لوگوں کے خلاف جہاد کی جائے گا اس کی حدود کیا ہوں گی اس کا جواب ارشاد فرمایا تو ایسے لوگ سامنے آگئے جو اسلام کا دعوی بھی رکھتے ہوں گے اور جہاد سے بھی بھاگیں گے سو کفار منافقین اور تیسرے گروہ مشرکین کا تذکرہ بھی فرما دیا۔ کہ شرک ایسا جرم ہے کہ جس کا خاتمہ شرک پر ہوگیا وہ کبھی بخشا نہ جائے گا اور اس کے علاوہ کوئی بڑے سے بڑا گناہ کرکے بغیر توبہ کے بھی فوت ہوگیا تو اللہ کی مغفرت کو عاجز نہیں کرسکتا لیکن اگر شرک پر مرا اور بغیر توبہ کے مرا تو کبھی معاف نہیں کیا جائے گا اور ابدی زندگی دوزخ میں گزارے گا چونکہ عقیدہ ابدی اور دائمی چیز ہوتا ہے جو کوئی شرک اور کفر بھی اختیار کرتا ہے اپنی طرف سے بہتر سمجھ کر اور ہمیشہ کے لیے زندگی بھر کا فیصلہ کرلیتا ہے۔ اس لیے سزا بھی ہمیشہ کے لیے کہ جس نے شرک اختیار کیا اس نے بہت ہی غلط راستے کا انتخاب کیا۔ اور حق سے بہت دور جا پڑا۔
شرک کی قسمیں :
شرک کی متعدد قسمیں ہیں : 1 ۔ پہلی قسم تو یہ ہے کہ کوئی اللہ کی ذات میں کسی دوسرے کو شریک کرلے اور دو یا تین یا اس سے زیادہ معبود مقرر کرلے۔ یہ بہت کم ہے سوائے عیسائیوں کے جو تین میں ایک اور ایک میں تین کے قائل ہیں یا شیعہ کا فرقہ حلولیہ جو اللہ کے حلول کے قائل ہیں کہ امام میں داخل ہوجاتا ہے جیسے اسمعیلی بھی حلولیہ کی ایک شاخ ہیں۔ 2 ۔ دوسری قسم شرک کی وہ تصور ہو جو بعض مخلوق کے ساتھ پیدا ہوجاتا ہے کہ یہ خدا تو نہیں لیکن اللہ کی طرف سے اجازت یافتہ ہے جو چاہے کرے اگر یہ خوش ہو کر کوئی بات کہہ دے تو اللہ کبھی نہیں ٹالتا یا اسی کو نظام تفویض کردیا ہے جس کی مثال ہندوؤں کے ہاں دیوی دیوتا اور شیعوں میں فرقہ مفوضہ ہے یہی لوگ کبھی بت اور کبھی تعزئیے وغیرہ بنا کر ان کو راضی کرنے میں بڑی محنت کرتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارا کام کروا دیں گے اور۔ 3 ۔ تیسرا اور سب سے خطرناک شرک یہ ہے کہ انسان اپنی اپنے آپ کی اپنی ذات کی عبادت شروع کردے اور سارا دن ساری رات صرف اپنی خواہشات کی تکمیل میں صرف کردے اگر اللہ کا حکم بھی راستے میں حائل ہو تو اس کی پرواہ نہ کرے حلال و حرام کو نہ سوچے بلکہ ذاتی شہرت اور انا کی خاطر دولت بھی صرف کرے الیکشن بھی لڑے نمازیں بھی پڑھے روزے بھی رکھے نیک کام کرے یا گناہ کا کام مگر مقصد صرف اپنی خواہشات کی تکمیل ہو ایسے ہی لوگوں کو قرآن کریم فرماتا ہے کہ انہوں نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنا لیا ہے اللہ کریم اس سے پناہ دے اس کی سمجھ بھی مشکل سے آتی ہے اور خدانخواستہ اگر خاتمہ شرک پر ہوگیا تو امید نجات بھی نہیں کہ زندگی میں توبہ کرلی تو درست۔ موت کے آثار یا آخرت کا کشف شروع ہوگیا تو کفر اور شرک سے توبہ کا وقت نکل گیا ہاں گناہ سے توبہ کی گنجائش مسلمان کیلئے تب بھی موجود ہے فرمایا ان کی جہالت دیکھو یہ زنانہ بت بنا کر یا زنانہ ناموں کو پوجتے اور ان کی عبادت کرتے ہیں انہیں مدد کے لیے پکارتے ہیں اور مشرکین فرشتوں کو بھی خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے عبادت در اصل کسی کو ذاتی طور پر نفع پہنچانے والا یا نقصان سے بچانے والا یعنی نافع یا دافع ضرر سمجھ کر اس کی بات مان لینے کو کہا جاتا ہے اب اللہ کا بندہ تو کبھی اللہ کے مقابلے میں اپنی حیثیت نہیں منوائے گا وہ تو اللہ اور اس کے رسول کی بات پہنچائے گا تو اس کی اطاعت اللہ کی عبادت ہوگی لیکن کوئی شخص اپنی طرح سے حکم دے اور اللہ کے خلاف دے تو اللہ کا حکم چھوڑ کر اس کا حکم ماننا اسلام سے خارج کردے گا ایسے ہی کسی کو اس مرتبہ و منصب کا سمجھ کر پکارنا اور منت ماننا اس کے آگے رونا گڑگڑانا خواہ وہ واقعی کوئی وجود ہو یا ہمارے تخیل نے تراش رکھا ہو یہ سب شرک و کفر اور غیر اللہ کی عبادت قرار پائے گا۔ اہل مکہ عورت کو انسان تک ماننے کے لیے تیار نہ تھے محض ایک کھلونا سمجھتے تھے اور یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ کوئی عورت بھی گھر کا نظام چلا سکتی ہے اگر چند امیر کبیر خواتین کاروبار کرتی بھی تھیں تو مرد ملازموں سے کام لیتی تھیں اور مرد بزرگوں کی سرپرستی میں اور وہ بھی محض چند ورنہ مرنے والے کی بیویاں ، اس کی اولاد جائداد اور وراثت کی ساتھ تقسیم کرلی جاتی تھیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان کی عقل پہ کیسے پتھر پڑے ہیں کہ عورت کو ایک گھر چلانے کا اہل نہیں مانتے اور ساری کائنات چلانے کی اہلیت مان رہے ہیں اور زنانہ ناموں کے بت بھی بنا رکھے ہیں اور انہیں پوجتے بھی ہیں اور پکارتے بھی در اصل یہ سب شیطان کی کرشمہ سازیاں ہیں اللہ کو چھوڑ کر کسی کو پکارو اور کسی نام سے پکارو سامنے تو صرف شیطان ہی ہوگا یہ بھی اسی سرکش شیطان کو پکارتے ہیں جو اللہ کا نافرمان ہو کر مردود ہوا جس پر لعنت کی گئی تو اس نے کہا تھا کہ اے اللہ جس بندے کی عظمت نہ ماننے پہ مجھے سزا ملی ہے میں اس بندے سے اپنی عظمت منواؤں گا اور ایک قابل ذکر حصہ ضرور لے ڈوبوں گا یعنی نماز کے وقت مصروفیت یاد دلا کر زکوۃ کے وقت فقرا اور تندگدستی کا خوف دلا کر جہاد کے وقت جان کا اندیشہ دل میں ڈال کر پھر دولت شہرت اقتدار کی ہوس پیدا کرکے میں انہیں بہکاؤں گا انہیں جھوٹی امیدیں دلاؤں گا اور یہ بتوں کے نام پر جانوروں کے کان چیرا کریں گے یعنی جانور مختص کردیں گے اور اللہ کی بنائی ہوئی صورتیں بدلیں گے جیسے عورتیں بال کٹا دیں بھنویں کٹا دیتی ہیں یا مردانہ لباس استعمال کرتی ہیں اور مرد داڑھی منڈواتے ہیں یا بالوں کا نمونہ عورتوں کا سا بنا لیتے ہیں یا لباس زنانہ پہن لیتے ہیں۔ یہ سب فسق ہے اور نبی رحمت ﷺ نے ایسا کرنے والوں پہ لعنت فرمائی ہے یاد رہے زینت یعنی بناؤ سنگھار عورت کو منع نہیں مگر شکل کا بدلنا خواہ بال کٹا کر یا لباس سے درست نہیں اور جس نے بھی شیطان سے دوستی کی یعنی امور بالا شیطان کی دوستی کا ثمر ہیں اگر کوئی اور آگے بڑھ گیا یہ اس کی اور بھی بدقسمتی ہوگی تو اس نے اللہ کو چھوڑ دیا کہ بیک وقت دو طرف دوستی ممکن نہیں اور جس نے اللہ کو چھوڑ کر شیطان کی دوستی پر بھروسہ کیا اس نے بہت بڑا نقصان کرلیا۔ ناقابل تلافی نقصان کہ یہ ان سے جھوٹے وعدے کرتا رہے گا اور انہیں امیدیں دلاتا رہے گا حالانکہ اس کے سارے وعدے سوائے فریب کے کوئی حقیقت نہیں رکھتے بالآخر ایسے لوگوں کا ٹھکانا دوزخ ہوگا جہاں سے بھاگنے کا بھی کوئی راستہ نہیں ان کے مقابلے میں جن کو ایمان کی دولت نصیب ہوگی اور ان کے اعمال بھی اس کی شہادت دیں گے ایمان اور عمل صالح کا رشتہ دعوے اور گواہ کا ہے کہ ایمان دعوی ہے اور عمل اس پر گواہ نیز عمل میں صالحیت کا ہونا ہی صحت ایمان کی دلیل بھی ہے کہ عمل وہی صالح ہوگا جو نبی رحمت ﷺ کے حکم کے مطابق ہوگا اور آپ کی اطاعت ہی ایمان کے درست ہونے کی دلیل بھی ہے تو ایسے لوگوں کو ہم ایسے باغوں میں داخل کریں گے یا انہیں ایسے باغات عطا فرمائیں گے جن کی ضرورت کے مطابق نہریں بہتی ہیں دنیا میں تو جہاں پانی کی رسائی ہے اس کے مطابق باغ لگایا جاسکتا ہے مگر آخرت کے باغ اور جنت کے باغ اپنا علیحدہ قانون رکھتے ہیں وہاں باغ کی ضرورت کے مطابق نہر کو وجود میں آنا ہوگا یا پانی کو پہنچنا ہوگا اور پھر وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے جنت میں داخل ہونے والا کوئی فرد ایسا نہیں ہوگا جسے پھر وہاں سے نکالے جانے کا ڈر ہو اور یہ اللہ کریم کا سچا وعدہ ہے شیطان کے سارے وعدے جھوٹے تھے مقابلے میں اللہ کا سچا اور پکا وعدہ ہے اور بھلا اللہ سے بڑھ کر کون سچا ہوسکتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اپنا تعلق محض کسی مذہب سے ظاہر کرلینا نجات کو کافی نہیں جیسا کہ اہل کتاب کو امید ہے کہ وہ اہل کتاب ہونے کی وجہ سے بخشے جائیں گے ہرگز نہیں جو بھی برائی کرے گا اس کی سزا پائے گا اور اس سزا سے بچانے والا یا مدد کرنے والا اللہ کے سوا کوئی نہیں ملے گا نہ کوئی ہوسکتا ہے یہاں ایک حدیث کا مفہوم نقل کرنا ضروری خیال کرتا ہوں کہ صحابہ نے بہت ڈر محسوس کیا حتی کہ ابوبکر صدیق کمر پر ہاتھ رکھ کر چل رہے تھے تو نبی رحمت ﷺ نے پوچھا کیا بات ہے عرض کی یا رسول اللہ اس آیت نے کمر توڑ دی بھلا کون ہے جس سے چھوٹی موٹی خطا سرزد نہ ہو تو کوئی بھی نہیں بچ سکے گا فرمایا نہیں اس سے مراد سب کے لیے جہنم کی سزا نہیں ہے وہ تو کافر کا حصہ ہے مومن بیمار پڑتا ہے یا دنیا میں رنج اٹھاتا ہے حتی کہ اس کے پاؤں میں کانٹا لگ جائے تو بھی گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے اور اس سزا کا بدل قرار پاتا ہے سیدہ عائشہ الصدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ مومن ایک چیز ایک جیب سے تلاش کرتا ہے نہیں ملتی پریشان ہوتا ہے پھر دوسری جیب سے مل جاتی ہے یہ بھی کسی گناہ کا کفارہ ہوجاتا ہے۔
نیکی کیا ہے :
اب رہی بات نیکی کی کہ وہ کیا ہے فرمایا پہلی بات تو یہ ہے کہ شریعت پر عمل کرنے میں مرد عورت دونوں برابر کے شریک ہیں اگرچہ بعض احکام بعض وجوہ کی بنا پر مختلف ہیں مگر جواب دہی میں کوئی فرق نہیں جزا اور سزا میں کوئی فرق نہیں جو کمال بعد از نبوت مرد حاصل کرسکتا ہے خاتون بھی کرسکتی ہے کہ سب سے بڑا کمال تو صحابیت ہے جہاں مرد صحابی بنے خواتین بھی صحابیات بن گئیں پھر ولایت کا تو کوئی ایسا درجہ نہیں جو خواتین کے لیے ممنوع ہو ہاں شرط یہ ہے مرد ہو یا عورت عمل نیک کرے یعی وہ عمل رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہو دوسرے اس کا ایمان یعنی عقیدہ درست ہو۔ رسومات اور رواجات کو دین کا درجہ نہ دے بلکہ جو بات رسول اللہ ﷺ سے پہنچی ہو اسی کو درست مانے عقیدے کے ماملے میں بھی اور اسی کے لیے کوشاں ہو میدان عمل میں بھی ایسے لوگ مرد اور عورتیں یقیناً جنت میں داخل ہوں گے اور ان کے کام سے تل بھر بھی ضائ عنہ جائے گا بلکہ کام سے بہت زیادہ ملے گا کم کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
اصل دین یا کمال دین کیا ہے :
اب دین کا حسن کیا ہے کمال دین کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر سر تسلیم کو خم کردے یعنی عملی زندگی میں وہ طریقہ پوری کوشش سے اپنا لے جو اللہ کی اطاعت کے لیے ضروری ہو اور اس پر محنت کرے راستے میں دکھ آئیں برداشت کرے یہ تو بات ہے ظاہر کی۔ اب اندر سے وہ انتہائی مخلص ہو دل خلوص کی دولت سے مالا مال ہو اس کی تعریف آپ نے حدیث احسان میں فرمائی ہے کہ اللہ کی عبادت ایسے کی جائے گویا آپ اللہ کو دیکھ رہے ہیں اور اگر یہ درجہ نصیب نہ ہو تو کم از کم یہ ضرور ہو کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے اور یہی سارے سلوک کی بنیاد ہے جب تک کوئی انسان مرد ہو یا عورت اس کا دل اللہ اللہ نہ کرے اور اسے توجہ اور تجلیات باری نصیب نہ ہوں اس کا اللہ کے روبرو ہونا یا اللہ کو اپنے روبرو خیال کرنا تو دور کی بات ہے دل آدمی کے ساتھ مسجد میں آتا ہی نہیں بازار میں رہ جاتا ہے کاروبار میں رہ جاتا ہے عزیز و اقارب میں رہ جاتا ہے سو فرمایا دین کا حسن یہ ہے کہ عمل صالح ہو ظاہ رہے جب تک آپ ﷺ مبعوث نہیں ہوئے تھے اہل کتاب کا عیسیٰ (علیہ السلام) کی اطاعت کرنا عمل صالح تھا ہاں جو چیزیں انہوں نے از خود ایجاد کرلی تھیں وہ تو اطاعت ہی نہ رہیں تو صالح کیا ہوں گی اور دوسرے صدق دل سے یعنی عمل سنت کے مطابق ہو اور خلوص کے ساتھ ہو یہ کسی بھی آدمی کے دین کے حسن کا معیار ہے اب ہر آدمی خود اندازہ کرسکتا ہے کہ اس کا دین کس قدر حسین ہے یا نہیں۔ دین نام ہے ملت ابراہیمی کا جو بالکل سیدھے چلنے والے تھے ملت ابراہیم (علیہ السلام) کا معنی بھی واضح ہوگیا کہ اس طرح تک سیدھا چلنا جیسے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) چلتے تھے جنہوں نے عمر بھر اطاعت کی کبھی کسی حکم کی وجہ جاننے کی کوئی کوشش بھی نہیں فرمائی سو حسن اسلام عمل میں محنت دل میں خلوص اور ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح سیدھے چلنے کا نام ہے جب ہی تو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا دوست پسند فرمالیا تھا اور اپنا خلیل بنا لیا تھا یوں تو ارض و سما میں جو کچھ ہے سب ہی اللہ کا ہے مگر کسی کو اپنے لیے خاص کرلینا بالکل دوسری بات ہے عبد دیگر عبدہ چیزے دگر۔ اور اللہ تعالیٰ تو ساری کائنات کو اپنے سوا ہر شے کو احاطہ فرمائے ہوئے ہیں یہ زمین آسمان تو کائنات میں ایک چھوٹی سی شے ہے۔
Ayahs 4:127–134رکوع نمبر 19 ۔ آیات 127 تا 134 ۔
ویستفتونک ۔۔۔۔۔ سمیعا بصیرا۔
اسرار و معارف :
پھر بات اپنے اصل موضوع کو پلٹتی ہے کہ قبل اسلام عورت کو انسان سمجھا ہی نہ جاتا تھا۔ اسلام نے اسے میراث میں حقوق دلوا دئیے اور وراثت تک میں حصہ دار بنا دیا کہاں سے اٹھایا کہاں پہنچا دیا ؟ جبکہ اہل عرب تو عورتوں کو خود میراث سمجھ کر بانٹ لیا کرتے تھے۔ سو بعض طبقوں نے ان امور کی تصدیق چاہی کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلام عورت کو مرد کی طرح وراثت میں حصہ قرار دے شاید وقتی طور پر ایسا کیا گیا ہوگا ممکن ہے کچھ خاص لوگوں کے لیے ہو ورنہ وہاں تو یہ سوچنا بھی ممکن نظر نہ آتا تھا سو ارشاد ہوا کہ ابھی تک آپ کی بارگاہ میں عورتوں سے متعلق پوچھا جاتا ہے فرمائیے ! کہ خود رب جلیل اس بارے میں فتوے ارشاد فرماتے ہیں فتوے سے مراد وہ جواب ہوتا ہے جو فیصلہ کن ہو جس میں فیصلہ کردیا گیا ہو کہ اول تو بات وہی ہے جو نازل کی جا چکی ہے اور وعورت بھی انسانیت ہی کی ایک فرد ہے اور جس طرح مرد کی ذمہ داریاں ہیں عورت کی بھی ذمہ داریاں ہیں ویسے ہی مرد کے حقوق ہیں ، تو عورت کے بھی حقوق ہیں اگرچہ ذمہ داریوں اور حقوق کی نوعیت میں کچھ فرق ہے تو بحیثیت جسمانی ساخت کے اور نظام حیات کو چلانے کی صلاحیت کے اعتبار سے دونوں میں کام بانٹ دیا گیا ہے سو حقوق میں اسی قدر فرق ہے اور بس۔
ایک معاشرتی برائی :
پھر خصوصاً لوگ یتیم بچیوں سے نکاح تو کرلیتے تھے مگر ان کے حقوق واجبہ مثلاً حق مہر تک ادا کرنا گوارا نہ تھا یا انہیں کوئی حیثیت دینے کو تیار نہیں ہوتے تھے یا مال کے لالچ میں شادی کرلی صورت پسند نہ آئی تو زندگی بھر پرواہ نہ کی یا صورت پسند آگئی شادی کرلی مگر دوسرے حقوق غصب کرلئے ایسے ہی یتیم رہ جانے والے کمزور بچوں کے امور کہ لوگ یتیم پروری کے نام پر ساتھ تو رکھ لیتے مگر حقیقتاً ان کا مال بھی کھا جاتے اور ان سے خدمت بھی لیا کرتے۔ فرمایا اللہ کریم ان تمام بد رسومات کو رد فرماتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ یتیموں اور کمزوروں سے بھی انصاف پہ قائم رہو اور انصاف کیا کرو اور جو بھلائی بھی تم کرتے ہو اللہ کریم اسے خوب جانتے ہیں۔
گھریلو زندگی کو خوشگوار بنانے کی تدابیر :
1 ۔ اب اگر کسی عورت کو خاوند کی روز روز لڑائی سے شکایت ہو اس کے خیال میں اسے پوری توجہ نہیں دے رہا جیسے اس کا جی بھر گیا ہو تو دونوں مل کر اگر بعض شرائط پر صلح کرلیں تو کوئی حرج نہیں۔ بلکہ اچھی بات یہ ہے کہ میاں بیوی کی بات آپس میں طے ہونی چاہئے اگر مرد غلطی پر ہے تو اپنی اصلاح کرے یا عورت زیادتی کر رہی ہے تو اپنے آپ کو درست کرلے کچھ حقوق معاف کردے یا معاف کروا لے بہرحال آپس میں مل کر صلح کرلیں تو بہت اچھی بات بات ہے اور صلح میں ہمیشہ بہتری ہوتی ہے جائز حد تک اگر حقوق قربان کرنا پڑیں تو فرد سے لے کر قوم اور ملک تک کی زندگی صلح سے متاثر ہوتی ہے۔ یا جنگ سے تباہ ہوتی ہے ذاتی اور گھریلو جھگڑے بعض اوقات اولاد تک کی زندگیوں میں تلخیاں گھول دیتے ہیں ایسے ہی قبائل اور خاندان جب لڑتے ہیں تو تباہی کیطرف جاتے ہیں۔ ملکوں پہ جنگ کے بادل منڈلانے لگیں تو لاکھوں نیندیں حرام ہوجاتی ہیں اگر اس بڑی مصیبت کو ٹالنے اور اس سے بچنے کے لیے اپنے حقوق میں سے کچھ قربان بھی کرنا پڑے تو بڑی بات نہیں۔ کسی ایک گھر کی زندگی بچا لینا بھی بہت بڑی قربانی ہے اور جب حقوق چھوڑنے کا لالچ دیا جائے تو عموماً انسانی طبائع میں کچھ پا لینے کی تمنا تو حرص کی حد تک ہوتی ہے اور اگر تم نیکی اور پرہیزگاری کو شعار بنا لو تو یہ سارے مسائل حل ہوسکتے ہیں ان سب کا جواب موجود ہے صرف خلوص کی ضرورت ہے۔ للہیت کی ضرورت ہے اور جو کام بھی اللہ کی رضا کے لیے کئے جائیں وہ ضائع تو نہیں جاتے کہ اللہ کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے۔
2 ۔ اب ایک اور بات کی بھی وضاحت ہوجائے کہ کئی شادیوں یا دوسری شادیوں کے لیے فرمایا تھا چار تک کرسکتے ہو ، بیک وقت کرسکتے ہو مگر شرط انصاف ہے اگر تم بیویوں میں انصاف نہ کرسکو تو بہتر ہے دوسری شادی ہی نہ کرو ! ایک ہی بیوی سے گذارہ کرو۔ یہاں اس کی مزید تفصیل ارشاد فرما دی کہ انصاف سے مراد ان امور میں انصاف ہے جو آدمی کے اختیار میں ہیں عزت نفس۔ لباس۔ کھانا پینا۔ گھر۔ رہائش یا میاں بیوی کے تعلقات وغیرہ جہاں تک کیفیات قلبی کا معاملہ ہے تو وہ تم چاہو بھی تو نہیں کرسکتے کہ دل اختیار میں تھوڑا ہی ہوا کرتے ہیں جو سب کو ایک جیسا چاہیں سو یہ تو تمہاری خواہش اور کوشش کے باوجود ممکن نہیں ، ہاں یہ نہ ہو کہ ایک ہی طرف جھک جاؤ اور دوسری کو درمیان میں لٹکتا چھوڑ دو ، نہ وہ خاوند والی ہو کہ اس کے حقوق جو اسے نہ ملے اور نہ بغیر خاوند والی کہ نکاح تو بہرحال ہے لہذا صلح میں بہتری ہے اگرچہ وقتی طور پر کوئی دکھ بھی نظر آتا ہو اور اللہ کریم سے معاملہ درست رکھو کہ وہ بہت بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔
3 ۔ اگر ان سب کوششوں کے باوجود کوئی مل کر گذارہ نہیں کرسکتا یا اکٹھا نہیں رہ سکتا تو عورت بھی آزادی کا مطالبہ کرسکتی ہے جو اسلامی عدالت یا قاضی حالات دیکھ کر اسے دلوا دے اور مرد بھی طلاق دینے کا حق رکھتا ہے لیکن دونوں فریق یہ خیال نہ کریں کہ اس کے بغیر دوسرے کا گذارا نہیں ہوگا۔ اللہ کریم اپنے کرم سے سب کے لیے راستہ پیدا فرما دے گا اور سب کا گذارا ہوتا رہے گا۔ کہ اللہ کے ہاں بڑی وسعت ہے اور وہ بہت بڑا با تدبیر بھی ہے۔
اور آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ بھی ہے جہاں تک علم انسانی پہنچ سکا وہ بھی اور جو ابھی علم انسانی کی دسترس سے باہر ہے وہ بھی سب اللہ کے لیے ہے انسان کا یہاں رہنا بسنا تو اس کی آزمائش ہے اور بس۔ سو اسلام انسانیت کا مذہب ہے۔ ہم نے تم سے پہلوں پہ جو کتابیں نازل فرمائیں انہیں بھی یہی حکم دیا اور تمہیں بھی یہی حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ کے ساتھ معاملہ کھرا رکھو اور خلوص کے سات اطاعت کا رکھو لیکن اگر کوئی نافرمانی بھی کرے تو عظمت باری میں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ارض و سما کی ساری مخلوق تو اسی کی غلام ہے اس کے باوجود اسے کسی غلامی کی احتیاج نہیں یعنی وہ کسی حال میں بھی محتاج نہیں بلکہ غنی ہے اور ہمیشہ تعریفوں اور خوبیوں کا مالک ، اور پھر غور سے سن لو ! کہ یہ زمین و آسمان یا ان میں کی ہر چیز صرف اس کی ملکیت ہی نہیں بلکہ اسی کی تخلیق بھی اور آئندہ بھی وہی ان سب کا کارساز ہے مرکز امید ہے اور ایسا قادر ہے کہ لوگو ! اگر چاہے تمہیں فناء کردے اور تمہاری جگہ انہیں شہروں اور آبادیوں پر دوسروں کو قابض کردے اور وہ ایسا کرسکتا ہے یعنی یہ تاریخ کا حصہ ہے کہ قومیں سلطنتیں اور ممالک بستے اور اجڑتے رہتے ہیں وہ جو چاہتا ہے کرسکتا ہے اگر کوئی محض دنیا کی لذات ہی حاصل کرنا چاہے تو دنیا کی راحتیں بھی اللہ ہی کے پاس ہیں وہی عطاء کرسکتا ہے اور آخرت اسی کے دست قدرت میں ہے جو آخرت کا طالب ہو چاہے تو اسے دنیا بھی عطا کردے اور جو محض دنیا کا طالب ہو وہ بھی بھلا اس کی نافرمانی کرکے کہاں سے پا لے گا کہ اللہ سب کچھ سنتا بھی ہے اور سب حالات دیکھتا بھی ہے اسی لیے طالب آخرت کو دنیا سے کنارہ کشی کی ضرورت نہیں بلکہ دنیا حاصل کرنے کے لیے طریقہ وہ اپنائے جس کی اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے اجازت دی ہو اس پر آخرت بطور انعام مرتب ہوجاتی ہے۔