3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 3:156–171

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِی الْاَرْضِ اَوْ كَانُوْا غُزًّى لَّوْ كَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَ مَا قُتِلُوْا١ۚ لِیَجْعَلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ حَسْرَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 3:156 in the Quran reader

اے ایمان والو ! ان کافروں کی طرح نہ ہوجانا جو اپنے (مسلمان) بھائیوں کے لئے جب وہ سر زمین میں سفر پر نکلیں یا غازی بنیں تو کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے (یہ اس لئے کہتے ہیں) کہ اللہ ان کے دلوں میں اس بات کو حسرت بنادیں اور اللہ ہی زندہ کرتے ہیں اور (اللہ ہی) مارتے ہیں اور تم جو کرتے ہو اللہ دیکھ رہے ہیں

وَ لَئِنْ قُتِلْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَحْمَةٌ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 3:157 in the Quran reader

اور تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو اللہ کی بخشش اور رحمت اس (مال) سے بہتر ہے جو وہ (لوگ) جمع کرتے ہیں

وَ لَئِنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ لَاۡاِلَى اللّٰهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 3:158 in the Quran reader

اور اگر تم مرگئے یا مارے گئے تو البتہ اللہ ہی کی طرف جمع کیے جاؤ گے

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ١ۚ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ١۪ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ١ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِیْنَ Open ayah 3:159 in the Quran reader

پس کچھ اللہ ہی کی رحمت سے آپ انے کے لئے بہت نرم مزاج ہیں اور اگر آپ تند خو سخت طبیعت ہوتے تو وہ آپ کے پاس سے بھاگ جاتے پس ان سے درگزر فرمائیں اور ان کے لئے بخشش طلب فرمائیں اور ان سے کاموں میں مشورہ لیا کریں پس جب (کسی کام کا) مصمم ارادہ کرلیں تو اللہ پر بھروسہ کریں بیشک اللہ بھروسہ کرنے والوں کو محبوب رکھتے ہیں

اِنْ یَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:160 in the Quran reader

اگر اللہ تمہاری مدد فرمائیں تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ (اللہ) تمہیں چھوڑ دیں تو پھر کون ہے جو ان کے بعد تمہاری مدد کرے اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ١ؕ وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:161 in the Quran reader

اور نہیں ہوسکتا کہ نبی خیانت کرے اور جو خیانت کرے گا وہ اپنی خیانت کی ہوئی چیز کو قیامت کے دن حاضر کرے گا پھر ہر ایک کو اس کے اعمال کا پورا (بدلہ) دیا جائے گا اور ان کے ساتھ بےانصافی نہیں کی جائے گی

اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّٰهِ كَمَنْۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:162 in the Quran reader

تو کیا جو شخص اللہ کی رضا کے تابع ہے وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو اللہ کی ناخوشی میں مبتلا ہو اور اس کی جگہ دوزخ ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے

هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:163 in the Quran reader

ان (لوگوں) کے اللہ کے ہاں (مختلف) درجات ہیں اور اللہ ان کے اعمال کو دیکھ رہے ہیں

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 3:164 in the Quran reader

یقینا اللہ نے ایمان والوں پر (بہت بڑا) احسان کیا ہے کہ جب ان میں ان ہی میں سے ایک پیغمبر معبوث فرمائے جو ان کو اس کی آیات پڑھ کر سناتے ہیں اور ان کو پاک کرتے ہیں اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں اور اگرچہ وہ اس سے پہلے واضح گمراہی میں تھے

اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْهَا١ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا١ؕ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:165 in the Quran reader

کیا (ایسا نہ ہوا) جب کبھی تم کو مصیبت پہنچی تو بیشک تم بھی ان کو (غزوہ بدر میں) اس سے دو چند مصیبت پہنچا چکے تھے ، تم نے کہا کہ یہ کہاں سے آگئی۔ فرمادیجئے کہ یہ تمہاری اپنی طرف سے یقینا اللہ ہر چیز پہ قادر ہیں

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 3:166 in the Quran reader

اور جو تکلیف تم کو دونوں جماعتوں کے (آپس کے) مقابلہ کے روز پہنچی سو اللہ کے حکم سے تھی اور اس لئے کہ اللہ ایمان والوں کو جان لیں

وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا١ۖۚ وَ قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوِ ادْفَعُوْا١ؕ قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنٰكُمْ١ؕ هُمْ لِلْكُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْاِیْمَانِ١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 3:167 in the Quran reader

اور منافقین کو بھی دیکھ لیں اور ان سے کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راہ میں لڑو یا دفع کرو (دشمن کو) تو کہنے لگے اگر ہم کو لڑنا آتاتو ہم ضرور تمہارے ساتھ رہتے اس دن وہ ایمان کی نسبت کفر کے زیادہ قریب تھے وہ اپنے منہ سے وہ کچھ کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہے اور جو وہ پوشیدہ رکھتے ہیں اللہ اس کو خوب جانتے ہیں

اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا١ؕ قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:168 in the Quran reader

جو لوگ خود بیٹھے رہے (شامل نہ ہوئے) اپنے بھائیوں کے بارے (جنہوں نے جانیں قربان کیں) کہتے ہیں کہ اگر وہ ہماری بات مانتے تو قتل نہ ہوتے فرمائیے اگر تم سچے ہو تو اپنے آپ سے موت کو ٹال دو

وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ Open ayah 3:169 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ان کو تم مردہ گمان نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے پروردگار کے پاس ان کو رزق دیا جاتا ہے

فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۙ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ١ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ Open ayah 3:170 in the Quran reader

جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے بخشا ہے اس سے خوش ہیں اور جو لوگ (شہیدہوکر) ان سے نہیں ملے ان کے پیچھے رہ گئے ان کے لئے بھی خوشیاں منا رہے ہیں یہ کہ (روز قیامت) انہیں کوئی ڈر نہ ہوگا اور نہ ان کو افسوس ہوگا

یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ٤ۚۛ۠ Open ayah 3:171 in the Quran reader

اللہ کے انعام اور فضل سے وہ خوش ہیں اور یہ کہ اللہ ایمان والوں کا اجر ضائع نہیں فرماتے

آیات 156- 171 اسرارو معارف یایھا الذین امنوا………………اوقتلتم لا لی اللہ تحشرون۔ اسی بات ک وآگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مومنین کو زیب نہیں دیتا کہ کفار کی سی حرکت کرے یا ان کی طرح سوچے اور بات کرے کیونکہ کافر کے اقوال وافعال بھی اس کے لئے اپنے اندر سزا کی کیفیت رکھتے ہیں جس طرح منافقین کا قول ہے کہ اگر ہمارے پاس ہمارے یہ بھائی رہتے اور اطاعت رسول ﷺ میں سفر اختیار نہ کرتے ، نہ جہاد میں حصہ لیتے تو ہرگز قتل نہ ہوتے اور نہ ان کی یوں موت آتی۔ یہ سوچ ، ایک کرب ہے ، ایک حسرت ہے جو دل کو جلارہی ہے ایک چبھن ہے جس سے دل بےقرار ہے اور یہ صرف کافر کا حصہ ہے ورنہ موت اور زندگی اللہ کے دست قدرت میں ہے۔ جسے چاہے موت دے دے اور جسے چاہے زندہ رکھے۔ وہ قادر ہے پھر حسرت کس بات کی ، اور پریشانی کیسی ؟ یہ دولت ایمان سے نصیب ہوتی ہے اور اللہ تمہارے تمام اعمال کو دیکھ رہا ہے یعنی جو شخص بھی جس راہ کو اپنالے گا اس کے نتائج اس پر وارد ہوں گے اور پھر موت تو ہر حال وارد ہو کر رہے گی۔ اس سے سفر نہیں ، اور ہر مرنے والا یا اللہ کی راہ میں موت سے ہمکنار ہوتا ہے اور یا شیطان کے رستہ پر موت سے دوچار ۔ پہلی راہ سعادت کی ہے کہ راہ خدا میں قتل ہو یا یاد خدا میں موت آئے تو یہ بڑی نعمت ہے کہ ا س پر اللہ کی مغفرت اور اس کی رحمت مرتب ہوگی جس کا ایک شمہ ، تمام دنیا کی دولت سے بہت زیادہ بھاری ہے اور یہ موت ایک تحفہ ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے تحفہ المومن الموت۔ یہ ایک انعام ہے اور عطا ہے۔ ورنہ تو ہر ایک کو مرنا ہے اگر ویسے مارے گئے یا مرگئے ، تو بھی اللہ کی بارگاہ میں جمع ہونا ہے۔ اس کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ اب سوچو کہ جو شیطان کی راہ میں مرگئے یا مارے گئے وہاں ان کی حالت کیا ہوگی تب اندازہ ہوسکے گا کہ اللہ کی راہ میں نصیب ہونے والی موت اس حیات مستعار سے قیمتی اور پر لطف ہے۔ فبمارحمۃ من اللہ لنت لھم……………ان اللہ یحب المتوکلین۔ اللہ کی رحمت کس قدر عام ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ بھی اسی کی رحمت سے سب کے ساتھ بہت نرمی اور محبت کا سلوک فرماتے ہیں۔ آپ ﷺ کی شفقت اور رافت ان کی ڈھال ہے اور آپ کا عفو و درگزر ان کی جائے پناہ۔ آپ یہ عظمت شان اور آپ کا علم کے ساتھ جودوسخا سب رحمت باری ہی کے کرشمے ہیں۔ نیز اگر یہ اوصاف حمیدہ اور اخلاق جلیلہ آپ کے ہاں نہ ہوتے تو لوگ آپ ﷺ کے گردجمع نہ ہوپاتے اور اصلاح خلائق کا فریضہ حسب منشا انجام نہ پا سکتا۔ اور لوگ محروم رہتے ، اپنی اصلاح اور تزکیہ اخلاق کے لئے انہیں کوئی دروازہ نصیب نہ ہو پاتا۔ مگر اللہ کی رحمت نے یہ گوارا نہ کیا اور آپ ﷺ جیسے کریم اور رئوف ورحیم پیمبرکو مبعوث فرما کر عفوعام کا اذن فرمایا۔ اب بھی اگر کوئی محروم ہے یہ کمزوری یا نقص اس شخص کی اپنی ذات میں ہے جس کے بارے اسے دنیا میں محرومی کا اور آخرت میں وہاں کے مواخذہ کا سامنا کرنا ہوگا۔ آپ ﷺ مومنین کے ساتھ درگزر کا معاملہ ہی فرمائیے کہ نادانی میں یا بحیثیت ایک انسان کے ان سے جو لغزشیں سرزد ہوسکتی ہیں وہ آپ ﷺ کے قلب اطہر کو مکدر نہ کرسکیں۔ تکدر قلبی : تکدر قلبی منافی رافت ہے اور فیوضات کو منقطع کردیتا ہے یہی وجہ ہے کہ شیخ کے دل میں کدورت آجائے تو طالب کے فیوضات اور مقامات برباد ہوجاتے ہیں۔ آپ ﷺ ان کے لئے اللہ سے بخش مانگا کریں کہ آپ ﷺ کی دعا ان کے لئے باعث برکات اور موجب تسلی ہوگی۔ نیز ایسے امور میں جو وحی سے متعین نہیں فرمادیئے جاتے مومنین سے مشورہ فرمایا کریں کہ انہیں آپ کا لطف خاص حاصل رہے۔ سبحان اللہ ! کیا انداز ہے اپنے نبی ﷺ کی عظمت کے اظہار کا بھی اور خودذات باری صحابہ ؓ کی سفارشی بھی ہے اور ان کے طفیل قیامت تک پیدا ہونے والا وہ انسان جسے ان کا اتباع نصیب ہو ، اسی کرم کا امیدوار بھی ہے۔ صاحب معارف القرآن مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے یہاں مشورہ کی شرعی حیثیت اور طریق کار نیز شوریٰ اور اسلامی حکومت وغیرہ جملہ امور پر خوب داد تحقیق دی ہے ، اللہ ان کی قبر کو منور فرمائے۔ آمین۔ اگر دیکھنا چاہیں تو دوسری جلد کے صفحہ نمبر 215 سے صفحہ نمبر 224 ملاحظہ فرمائیں۔ مشورہ اور شوریٰ : لیکن مشورہ کی حیثیت بہرحال اپنی ہوگی کہ بعد مشورہ بھی آپ ﷺ جو فیصلہ فرمالیں خواہ مشورہ کے مطابق ہو یا آپ ﷺ اس کے خلاف پسند فرمالیں۔ تو پھر اللہ پر بھروسہ کریں کہ تمام امور اسی کے دست قدرت میں ہیں۔ مغربی جمہوریت تو کثرت رائے کو چاہتی ہے کہ دو اندھے اگر دن کو رات کہہ دیں تو ایک آنکھوں والا قبول کرنے پر مجبور ہے مگر اسلامی طرز زندگی میں امیر یا حاکم یا شیخ یعنی ہر طرح کا سربراہ وہی بن سکتا ہے جو ان لوگوں میں سب سے بہتر علمی وعملی اعتبار سے ورع وتقویٰ کے لحاظ سے ہو ، ایسے انسان کی رائے بفضل اللہ سب سے بہتر ہوگی۔ اسے چاہیے کہ سب سے مشورہ کرے۔ ممکن ہے اکثریت کی رائے ہی اس کے اطمینان کا سبب بن جائے یا خود اس کی رائے سے مطابقت رکھتی ہو لیکن اگر نہ بھی ہو تو وہ پابند نہیں بلکہ اپنی صوابدید کے مطابق ان سب لوگوں کی بہتری کی خاطر اللہ کو حاضر جانتے ہوئے خود فیصلہ کرلے اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اس پر عمل کرے کہ اللہ توکل کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔ صاحب کشف الاسرار فرماتے ہیں۔ کہ بوعلی وفاق کا ارشاد ہے کہ تو کل کے تین درجے ہیں ، اول توکل ، دوم تسلیم اور سوم تفویض ۔ پھر فرماتے ہیں ، صاحب توکل وعدہ حق پر امید رکھتا ہے۔ صاحب تسلیم علم باری پر مطمئن ہے اور صاحب تفویض راضی برضا ہے۔ صاحب توکل طالب عطا ہے۔ صاحب تسلیم منتظر لقا اور صاحب تفویض آسودہ رضا ہوتا ہے۔ ان ینصرکم اللہ……………واللہ بصیر بما یعملون۔ چونکہ آپ ﷺ کی رائے اطاعت باری کے لئے ہی تو ہوگی یا جو شخص آپ ﷺ کے بعد بھی شرعی قاعدہ کے مطابق امیر ہوگا اس کی اطاعت نصرت الٰہی کا سبب بنے گی اور جب اللہ مدد فرمائے گا تو اے مسلمانو ! تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ یہی حال شیخ کا ہوتا ہے کہ اس کی محنت و کاوش یا رائے اور مشورہ مفادات ذاتی سے بالاتر ہوتا ہے اسی لئے اسے اللہ کی طرف سے نصرت حاصل ہوتی ہے اور مسلمانوں کی ترقی کا بنیادی سبب یہی چیز ہے لیکن خدانخواستہ کوئی ایسی صورت بن جائے کہ نااہل کسی منصب پر قابض ہوجائیں اور مفادات ذاتی کی خاطر فیصلے کریں تو پھر نہ صرف خود ذلیل ہوں گے بلکہ امت کی رسوائی کا سبب بنیں گے کیونکہ جب للہیت اٹھ گئی تو نہ صرف نصرت الٰہی ہاتھ سے گئی بلکہ خذلان اور ذلت حصے میں آئی اور جن لوگوں کو اللہ رسوا کردے کوئی ان کی مدد نہیں کرسکتا۔ اسی طرح اگر شیخ کی مسند پر قابض ہوں گے تو لوگوں کا دین برباد کرنے کا باعث بنیں گے اور محبت کی جگہ دلوں میں نفرت اور منافقت آجائے گی۔ اعاذنا اللہ منہا۔ نیز مومن تو اللہ پر ہی بھروسہ رکھتا ہے ، ظاہر ہے کہ توکل بھی تو جائز امور میں ہی کرے گا۔ یعنی ایمان کے ساتھ نیکی اور خلوص ہی زیب دیتا ہے۔ نیز خیانت کی امید نبی سے رکھنا فضول ہے کہ یہ ایسا مذموم فعل ہے کہ ہر خائن اپنی خیانت کردہ چیزسمیت میدان حشر میں حاضر ہوگا ۔ جس طرح آیات و احکام نازل ہوتے ہیں اللہ کا رسول ﷺ اسی طرح پہنچائیں گے۔ منافقین یا کفار یہ امید نہ رکھیں کہ ان کے عقائد کی جو خرابی آیات میں بیان کی جاتی ہے وہ آپ ﷺ ارشاد نہ فرمایا کریں یا کوئی بھی شخص اجرائے احکام میں یا تقسیم غنائم میں آپ ﷺ سے کسی ناروا رورعایت کی ہرگز امید نہ رکھے کہ یہ فعل نبی کو تو زیب ہی نہیں دیتا۔ غیر نبی بھی جو اس کا مرتکب ہوگا یہ اس کے لئے باعث رسوائی بنے گی۔ یہاں کفار کے اس شبہ کا رد بھی ہے کہ معاذ اللہ آپ ﷺ نے فلاں کو زیادہ مال عطا فرمایا اور فلاں کو کم۔ اور اس کے ساتھ یہ اصول بھی ارشاد ہوا کہ غلول نہایت رسواکن فعل ہے اور یہ ہر طرح کی خیانت کو محیط ہے جیسے خانقا ہوں ، مساجد اور مدارس وغیرہ کے اموال یا خزانہ سرکار یعنی بیت المال کی اشیاء رقوم خواہ ان میں چوری کرے۔ لاپرواہی سے ضائع کرے تو اس بارہ حدیث شریف میں وعید آئی ہے آپ ﷺ کی شفاعت سے لوگ محروم رہیں گے۔ اور دوسرے درجہ میں ہر گناہ کو خیانت کرکے غضب الٰہی کو دعوت دینے والے تو کبھی بھی ایک جیسے نہیں ہوسکتے کہ مظہر عضب تو جہنم ہے اور وہی ایسے لوگوں کا ٹھکانہ ہوگا جو بہت ہی تکلیف دہ جگہ ہے اور یاد رہے کہ عنداللہ لوگوں کے مدارج مختلف ہیں۔ نہ سب جنتی ایک درجے کے ہیں اور نہ سب دوزخی ایک جیسے جنت میں درجات بلندی کی طرف ہیں کہ دنیا میں جس قدر اطاعت خلوص کے ساتھ کرکے درجات پالئے یا پھر عدم اطاعت کے وبال میں گرفتار جتنا کوئی نیچے گرتا چلا گیا اور اللہ کریم سب کے اعمال دیکھتے ہیں اور جہنم کے درجات نیچے کو چلتے ہیں۔ لقد من اللہ……………لفی ضلل مبین۔ مومنین پر تو اللہ کا خاص احسان ہے کہ انہی میں سے ایک عظیم الشان رسول مبعوث فرمایا۔ آپ ﷺ رحمۃ للعالمین ہیں اور دنیا کی ساری رونقیں آپ ﷺ ہی کے طفیل ہیں جن سے ہر نوع تخلیق متمتع ہورہی ہے۔ مگر مسلمانوں پر تو یہ احسان عظیم ہے کہ یہ لوگ آپ ﷺ کی برکات سے ابدی طور پر مالا مال ہو رہے ہیں اور باقی لوگ صرف دنیا میں وہ بھی مادی چیزوں سے۔ انسان کی اصل روح ہے اور بدن اس کا آلہ۔ اس لئے حقیقی نعمتیں بھی لذت روحانی اور نعمائے روحانی ہیں جن سے مومنین مستفید ہو رہے ہیں۔ پھر آپ ﷺ اگر کسی اور جنس سے ہوتے یعنی فرشتے یا جن ، تو انسان پوری طرح استفادہ نہ کرسکتا۔ یہ بہت بڑا احسان ہے کہ آپ کی بعثت سے بشریت کو وہ شرف نصیب ہوا کہ ساری مخلوق سے اس کی شان زیادہ ہے۔ یاد رہے کہ آپ ﷺ کی بشریت کا انکار کفر ہے صاحب روح المعانی اسی آیہ کریمہ کے تحت لکھتے ہیں کہ شیخ ولی الدین عراقی (رح) سے پوچھا گیا کہ آپ ﷺ کو بشر اور عرب جاننا کیا صحت ایمانی کی شرط ہے۔ فرمایا ، ” بیشک ! “ پھر فرمایا ” اگر کوئی آپ ﷺ کی رسالت کا اقرار تو کرے مگر یہ کہے کہ میں نہیں جانتا کہ آپ بشر ہیں یا فرشتے یا جن اور پھر عرب یا عجم کے رہنے والے تو اس کے کفر میں کوئی شک نہیں “۔ یہ آپ ﷺ کی ہی برکات ہیں کہ اللہ کی آیات تلاوت فرماتے ہیں یعنی ، کردیا ہم سخن بندوں کو اللہ سے تو نے اس مشت خاک کو وہ عزم اور وہ طلب بخشی کہ اب ذات باری سے ہمکلام ہے اور اپنے تمام امور میں اللہ سے رہنمائی حاصل کرتا ہے اسی کی خاطر مومنین کا تزکیہ فرماتے ہیں۔ تزکیہ : تزکیہ کیا ہے ؟ ایک قلبی اور روحانی کیفیت کا نام ہے جس کے طفیل دل میں خلوص اور اطاعت الٰہی کی محبت پیدا ہوجاتی ہے اور گناہ اور معصیت سے نفرت ہونے لگتی ہے۔ اس کا ثبوت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مقدس زندگیاں ہیں کہ آپ ﷺ کی بعثت کے وقت دنیا کی اخلاقی حالت عموماً اور اہل عرب کی خصوصاً تباہی کے آخری کنارہ پر پہنچ چکی تھی کہ آپ ﷺ کی بعثت نے انسانیت کو حیات نوبخشی اور ان ہی لوگوں کو وہ اخلاقی عظمت اور خلوص وللہیت عطا فرمائی کہ تاریخ انسانی اس کی مثال پیش نہیں کرسکتی۔ آپ ﷺ کی تعلیمات ، ارشادات اور اس کے ساتھ فیض صحبت تزکیہ کی اصل ہے صرف تعلیمات تو کافر بھی سنتا اور جانتا ہے مگر ایمان نہ ہونے کی وجہ سے فیض صحبت سے محروم ہو کر تزکیہ سے محروم رہتا ہے اور مومن ایمان لاکر ان کیفیات کو حاصل کرتا ہے جو آپ ﷺ کی صحبت میں بٹتی ہیں چناچہ ایک نگاہ پانے والا صحابیت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوا اور یہ نعمت عظمیٰ بٹتی رہی۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی صحبت میں آنے والے تابعین کہلائے اور ان سے تبع تابعین مستفید ہوئے پھر اہل اللہ نے اس نعمت کو ان کے مقدس سینوں سے حاصل کیا اور خلق خدا کے دلوں کو روشن کرتے رہے اور کرتے رہیں گے انشاء اللہ۔ کہ اسی کی برکت سے کتاب و حکمت یا کتاب وسنت کی تعلیم حاصل کی جاسکتی ہے یہ تزکیہ یا فیض صحبت ہی حصول تعلیم کی اساس ہے۔ کتاب و حکمت کی وہ تعلیم جو انسان کے لئے راہ عمل کو آسان کردے جو اس کی عملی زندگی بن جائے ورنہ پھر محض حروف کی شناخت رہ جائے گی اسے تعلیم کہنا درست نہ ہوگا۔ یہ بھی وضاحت فرمادی کہ کتاب کے ساتھ مفہوم کتاب یا حکمت بھی ہے یعنی حدیث مبارک اور کتاب اللہ کی وہ شرح جو آپ ﷺ نے فرمائی۔ ورنہ قبل ازیں تو لوگ ایسی گمراہی میں مبتلا تھے جسے وہ خود بھی جانتے تھے یعنی اپنے گمراہ ہونے کا خود انہیں بھی علم تھا۔ اور غالباً آ ج کے دور کی مصیبت بھی یہی ہے کہ کیفیات باطنی دنیا میں بہت کم نصیب ہوتی ہیں۔ ایسے لوگ جن کے نہ صرف دل روشن ہوں بلکہ دوسرے دلوں کو روشن کرنے کی ہمت بھی رکھتے ہوں دنیا میں نظر نہیں آتے اور جب یہ نعمت نصیب نہیں ہوتی تو قوت عمل نصیب نہیں ہوتی۔ لوگ کتاب اللہ پڑھتے بھی ہیں پڑھاتے بھی ہیں مگر عمل بہت ہی کم نصیب ہوتا ہے اللہ کریم دلوں کی روشنی نصیب فرمائے۔ آمین۔ اور اس کے لئے ضروری ہے کہ ایسے لوگوں کو تلاش کیا جائے جو ایک روشن دل رکھتے ہوں اور آپ ﷺ کی عطا کردہ کیفیات کے نہ صرف امین ہوں بلکہ انہیں تقسیم بھی کرسکیں اور دوسروں کے دلوں میں بھی وہ روشنی منتقل کریں جس کے وہ امین ہوں۔ چنیں مردے کہ یابی خاک اوشو اسیر حلقہ فتراک او شو ایسے ہی مردوں کی غلامی حیات آفریں ہوا کرتی ہے اور حقیقی علم سے آشنائی نصیب کرتی ہے یہی ترتیب قرآنی سے بھی مترشح ہوتا ہے کہ تلاوت آیات ، پھر تزکیہ اور اس کے بعد تعلیم کتاب و حکمت۔ یہ سب کچھ حاصل ہوجانے کے بعد بھی انسان تکالیف ومصائب میں گھر سکتا ہے کہ کبھی تو بحیثیت انسان اس سے کوئی لغزش ہو ہی جاتی ہے۔ تو یہ مصیبت تلافی مافات کا کام دیتی ہے اور کبھی ترقی درجات کا سبب بن جاتی ہے۔ نیز مومن ومنافق کی پہچان بھی ہوجاتی ہے۔ اولما اصابتکم مصیبۃ…………ان کنتم صادقین۔ کہ یوم احد جو نقصان تمہیں پہنچایا جتنا نقصان لشکر اسلامی کا ہو اس سے دو چند تو یوم بدر کا کفار کا ہوچکا ہے یعنی اے مسلمانو ! تم انہیں اس سے دو چند صدمہ پہنچا چکے ہو پھر اس بات پہ پریشانی کیسی ؟ دوسری اور اصل بات یہ ہے کہ آپ حضرات نے غیرارادی طور پر سہی ، درہ خالی کرکے نبی رحمت ﷺ کے ارشاد کی تعمیل میں کوتاہی کی ہے اس کا نتیجہ بھی ضرور سامنے آنا تھا۔ اور تیسری وجہ یہ بھی کہ اس مصیبت میں ڈال کر اللہ بعض مومنین کو تو شہادت سے سرفراز کرنا چاہتا تھا اور باقیوں کو بھی دنیا کی نگاہ میں سرفراز کرنا مقصود تھا۔ نیز منافقین کی شناخت کا باعث بھی یہی بات بنی کہ جب انہیں جنگ یا دشمن کی مدافعت کے لئے کہا گیا تو کہتے ہیں کہ اگر یہ جنگ ہوتی تو ہم ضرور ساتھ دیتے مگر یہ تو صریحا ً خود کشی ہے۔ ارشادات رسول ﷺ کے ساتھ یہ سلوک انہیں ایمان کی نسبت کفر کے زیادہ قریب لے گیا۔ حالانکہ یہ صرف زبانی بات تھی۔ ان کے دل میں تو اس سے کہیں زیادہ کدورت بھری ہوئی تھی اور اللہ تو ان کی پوشیدہ باتوں کو بہت اچھی طرح جانتا ہے۔ یہ بدبخت خود تو جنگ سے علیحدہ ہو ہی گئے تھے دوسروں کو بھی کہتے تھے کہ اے کاش ! ہمارا کہا مان لیتے تو یوں تہ تیع نہ کئے جاتے۔ تو ان سے کہیے کہ تم اپنے آپ سے تو موت کو منع کرکے دیکھو۔ جب تم اپنی ذات سے موت کو نہیں روک سکتے تو دوسروں سے موت کو منع کرنے کی طاقت کیسے رکھتے ہو ؟ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ عین اس روز بھی متعدد منافقین موت کا شکار ہوئے تھے۔ ولا تحسبن الذین قتلوا……………وان اللہ لا یضیع اجرالمومنین۔ شہید کی حیات : جنہیں تم مقتول سمجھتے ہو وہ شہید ہیں اور شہید کو کبھی مردہ گمان نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں۔ یہ ارشاد ان لوگوں کے بارے ہے جو لوگوں کے سامنے قتل ہوئے اور جنہیں قبروں میں دفن بھی کیا گیا۔ اس کے باوجود حکم یہ ہے کہ انہیں مردہ نہ سمجھا جائے بلکہ یہ زندہ ہیں۔ اگر یہاں یہ کہا جائے کہ حیات روحانی مراد ہے تو وہ ہر مرنے والے کو حاصل ہے مومن ہو یا کافر ، روح دونوں کی زندہ رہتی ہے اور سوال و جواب قبر کے بعد نیک لوگوں کے لئے راحت اور کفار وفجار کے لئے عذاب ، قرآن وسنت سے ثابت ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ حیات سے مراد وہ حیات ہے جو آخرت میں نصیب ہوگی تو صاحب تفسیر کبیر فرماتے ہیں کہ یہ قول معتزلہ کا ہے اور باطل ہے پھر اس کی وجوہات بیان فرماتے ہیں تو پھر یقینا ایسی زندگی ہے جس میں روح کا تعلق بدن سے بھی بہت مضبوط طور پر قائم ہے۔ اس قدر تعلق تو ہر روح کو بدن سے ہوتا ہے کہ جو ثواب یا عذاب روح کو پہنچے بدن کے ذرات بھی اس سے متاثر ہوں اور اپنے حصے کی راحت یارنج جھیلتے ہیں۔ مگر شہید کی روح کا تعلق اس سے بہت قوی ہوتا ہے کہ ارشاد ہوتا ہے انہیں رزق ملتا ہے کھاتے پیتے ہیں۔ یہاں کوئی کہے کہ شہید کی قبر میں مادی رزق تو نظر نہیں آتا ، تو آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ ابیت عند ربی یطعمنی ویقینی۔ موجود ہے کہ کئی کئی روز حضور ﷺ کچھ کھاتے پیتے نہ تھے۔ اللہ کی طرف سے کھلائے پلائے جاتے تھے اور وہ رزق نہ مادی ہوتا تھا نہ کسی کو نظر آتا تھا۔ اس کے باوجود وجود اقدس کو بھی غذا کی کمی محسوس نہ ہوتی تھی نہ کوئی ایسا اثر مرتب ہوتا تھا ، ایسا ہی رزق شہید بھی پاتا ہے پھر لذت والم کا احساس وادارک رکھتا ہے جس کے لئے بھی حیات شرط ہے اور نہ صرف اپنی ذات سے بلکہ اپنے پسماندگان کے حالات سے بھی خوشی اور سرور حاصل کرتا ہے کہ وہ بھی اطاعت الٰہی کے راستے پر گامزن ہیں اور یہ تو انہوں نے دیکھ ہی لیا کہ اللہ مومنین کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ اس بات پہ خوش ہوتے ہیں کہ ہمارے پسماندگان بھی آکر انعامات پائیں گے۔ تو اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ شہید زندہ ہوتا ہے اور روح کا تعلق بدن سے اس قدر قوی ہوتا ہے بدن نہ گلتا سڑتا ہے اور نہ خراب ہوتا ہے ، رزق دیا جاتا ہے ، خوشی اور الم کو محسوس کرتا ہے اس کا علم پہلے سے بھی وسیع ہوجاتا ہے کہ دنیا میں رہ جانے والوں کے حالات حاصل ہوتی ہے کہ عالم برزخ میں رہتا ہے۔ کھانا پینا ، سونا جاگنا راحت والم اور جملہ امور کا تعلق عالم برزخ سے ہے اگر شہید زندہ ہے تو یہ نبی کی برکات میں سے حصہ پاکر شہادت سے سرفراز ہو تو خود نبی کی حیات اس سے بھی اقویٰ ہوگی جس کی مثل غیر نبی کو نہیں ہوسکتی۔
Ayahs 3:172–180

اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَصَابَهُمُ الْقَرْحُ١ۛؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْهُمْ وَ اتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌۚ Open ayah 3:172 in the Quran reader

جن لوگوں نے زخم کھانے کے بعد اللہ اور رسول کے حکم کو قبول کیا ان میں ان لوگوں کے لئے جو نیکی اور پرہیز گاری اختیار کرتے ہیں بہت بڑا ثواب ہے

اَلَّذِیْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِیْمَانًا١ۖۗ وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ Open ayah 3:173 in the Quran reader

وہ لوگ کہ جن کو لوگوں (کافروں) نے کہا کہ بیشک لوگوں نے تمہارے مقابلہ کے لئے سامان جمع کررکھا ہے سو ان سے ڈرو تو ان کا ایمان اور زیادہ (تازہ) ہوگیا اور انہوں نے کہا کہ ہمیں اللہ کافی ہیں اور وہی بہتر کارساز ہیں

فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوْٓءٌ١ۙ وَّ اتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ Open ayah 3:174 in the Quran reader

پھر وہ اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ (سلامت) واپس آئے انہیں کوئی ناگواری پیش نہ آئی اور وہ اللہ کی رضامندی کے تابع رہے اور اللہ بڑے فضل کے مالک ہیں

اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآءَهٗ١۪ فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:175 in the Quran reader

یقینا یہ شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے خوفزدہ کرتا ہے پس تم ان سے مت ڈرو اور اگر تم ایمان والے ہو تو صرف مجھ سے ڈرو

وَ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ١ۚ اِنَّهُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَلَّا یَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:176 in the Quran reader

اور جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں (زیادتی کرنے میں) ان کی وجہ سے آپ غمگین نہ ہوں یقینا وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اللہ چاہتے ہیں کہ ان کو آخرت میں کوئی حصہ نہ دیں اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:177 in the Quran reader

یقینا جن لوگوں نے ایمان کے بدلے کفر خریدا وہ ہرگز اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ خَیْرٌ لِّاَنْفُسِهِمْ١ؕ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ لِیَزْدَادُوْۤا اِثْمًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 3:178 in the Quran reader

اور کافر لوگ یہ گمان نہ کریں کہ ہم ان کو جو مہلت دیتے ہیں وہ ان کے لئے اچھی ہے بیشک ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ وہ اور گناہ کرلیں اور ان کے لئے ذلت والا عذاب ہے

مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ حَتّٰى یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:179 in the Quran reader

اللہ کو سزاوار نہیں کہ مومنوں کو اس حال پر چھوڑ دیں جس پر تم ہو یہاں تک کہ ناپاک کو پاک سے الگ کردیں اور اللہ کو زیب نہیں دیتا کہ تم کو غیب پر اطلاع دیں و لیکن اللہ اپنے پیغمبروں میں سے جسے چاہیں منتخب فرما لیتے ہیں پس اللہ اور اس کے پیغمبروں کے ساتھ ایمان لاؤ اور اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیز گاری اختیار کرو تو تمہارے لئے بڑا اجر ہے

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ١ؕ سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 3:180 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ کے دیئے گئے مال میں بخل کرتے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ ان کے حق میں اچھا ہے بلکہ وہ ان کے لئے بہت برا ہے جس چیز کے ساتھ انہوں نے بخل کیا قیامت کے روز انہیں اس کے طوق پہنائے جائیں گے اور آسمانوں اور زمین کے وارث اللہ ہیں اور اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہیں

آیات 172- 180 اسرارو معارف الذین استجابوا للہ والرسول………………ان کنتم مومنین۔ یہ جملہ فضائل ان لوگوں کو حاصل ہیں جنہوں نے لاکھوں مشکلات کے باوجود اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت سے منہ نہ موڑا۔ یہی لوگ نیک بھی ہیں اور پرہیزگار بھی۔ ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے۔ قرآن حکیم ساری انسانیت کے لئے اور ہمیشہ کے لئے اللہ کی آخری کتاب ہے۔ اس لئے اصولی باتیں بیان فرماتا ہے کہ مصائب دنیا بھی دراصل ترقی درجات کا سبب بن جاتے ہیں کہ جس قدر مشکلات میں اطاعت کرے گا اسی قدر اجر میں زیادتی ہوگی۔ چونکہ مثالی اور معیاری مومن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں اس لئے ذکر ان کا کیا جاتا ہے ، جیسے یہاں ارشاد ہے۔ صاحب تفسیر کبیر فرماتے ہیں کہ احد کے دوسرے روز حضور اکرم ﷺ نے تعاقب کا حکم دیا تو جاں نثاران رسول ﷺ زخموں سے چور تھے ۔ ستر شہید ہوچکے تھے اور زخموں کا یہ حال تھا کہ دو دو مل کر چلے۔ تھوڑی دور ایک دوسرے پر بوجھ ڈال کے چلتا تو پھر کچھ دور اس کو سنبھالتا اور وہ اس پر بوجھ ڈال کر چلتا۔ مگر تعاقب سے باز نہ آئے اور حمرالاسد تک پہنچے۔ جو مدینہ منورہ سے تقریباً تین میل کا فاصلہ تھا۔ نہ صرف مرد بلکہ بیبیوں کا یہ حال تھا کہ بقول امام رازی (رح) ایک عورت کا باپ ، شوہر ، بھائی اور بیٹا میدان میں شہید ہو کر پڑے تھے مگر وہ آپ ﷺ کو تلاش کررہی تھی۔ جب رخ انور کو دیکھا تو پکار اٹھی کل مصیبۃ بعدک ھدرۃ ۔ حضرت صفیہ ؓ تشریف لائیں تو حضور ﷺ نے حضرت زبیر ؓ سے فرمایا کہ انہیں روکیں ، کہیں بھائی کی لاش کے بکھرے ہوئے اعضاء کو دیکھ کر واویلا نہ کریں۔ تو انہوں نے فرمایا ، میں جانتی ہوں کہ حمزہ ؓ کا مثلہ کیا گیا ہے۔ تشریف لائیں اور دیکھ کر فرمایا ، اس قیمت پر بھی اطاعت نصیب ہو تو یہ سودا مہنگا ہرگز نہیں۔ یہاں جملہ مفسرین کرام نے ” من “ بیانیہ لکھا ہے۔ کہ جملہ صحابہ ؓ ان اوصاف عالیہ سے متصف تھے کہ احسنوا ھنھم واتقوا سے پہلے للذین استجابوا ارشاد ہوا ہے اور یہ استجابت بغیر احسان وتقویٰ کے ممکن ہی نہیں۔ اس من کا محاصل ہوگا کہ وہ سب لوگ جنہیں شرف استجابت نصیب ہوا۔ احسان وتقویٰ سے متصف تھے اور اجر عظیم کو پانے والے ۔ نیز اطاعت کے لئے خلوص درکار ہے کہ کوئی بھی کام بظاہر کتنا ہی اعلیٰ ہو اگر خلوص قلب سے نہ کیا جائے تو عنداللہ مقبول نہ ہوگا کہ محض بہادری سے لڑنا تو کفار سے بھی ثابت ہے۔ یہاں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بہادری ، مکمل اطاعت اور اس کے ساتھ احسان وتقویٰ یعنی کمال خلوص بھی بیان ہورہا ہے۔ احسان کا مفہوم تو حدیث جبرئیل (علیہ السلام) سے یوں ارشاد ہوا کہ اللہ کی عبادت کرو گویا تو اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ گویا مراد حضوری ہے اور تقویٰ اعمال میں اسی حضوری کے باعث حد درجہ احتیاط کا نام ہے اور یہ اطاعت رسول اللہ ﷺ کی ہے کہ تعاقب کا حکم آپ ﷺ نے دیا تھا۔ اس کے لئے نئی وحی نازل ہوئی مگر یہاں آپ ﷺ کے ارشاد کو اللہ کا حکم قرار دیا گیا ہے جس سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی صوابدید پر جو حکم دیں و ہ بھی وہی درجہ رکھتا ہے جو اللہ کے نازل کردہ احکام کا ہے منکرین حدیث کو غور کرنا چاہیے۔ دوسرا کمال یہ ارشاد ہوا کہ لوگوں نے یعنی منافقین ومشرکین نے خوفزدہ کرنا چاہا اور کہا کہ اہل مکہ پلٹ رہے ہیں ان سے بچنے کی تدبیر کرو ، مگر صحابہ ؓ کا ایمان اور مضبوط ہوا کہ ان کا ایمان تو اول روز لے کامل تھا۔ یہ بھی خوب جانتے تھے کہ جس راہ کو انہوں نے اختیار کیا اس میں کس قدر مصائب اور تکالیف آئیں گی۔ آنے والی ہر مصیبت ان کے جوش ایمان کو اور بڑھا دیتی تھی۔ نیز اعمال بھی تو ایمان ہی کا حصہ ہیں کہ ایمان ایک دعویٰ ہے جس کی گواہی اعمال ہی مہیا کرسکتے ہیں۔ ہر طاعت زیادتی ایمان کا باعث ہے۔ اور ہر گناہ اس میں کمی کا سبب ، حتیٰ کہ مسلسل گناہ کرنے والے لوگ ایمان ضائع کردیتے ہیں اور اسلام کے نام پر کسی کفر کا نوالہ بن جاتے ہیں۔ مگر یہاں یہ حال ہے کہ فرماتے ہیں کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے۔ سبحان اللہ ! کس قدر تقیہ کی نفی ہورہی ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ ، بھی موجود تھے مگر کسی نے تقیہ کا سہارا نہ لیا اور خدا نے اس عمل کو ایمان کی زیادتی قرار دیا اور ساری انسانیت کے سامنے بطور نمونہ پیش کیا پھر اس پر اجر ملاحظہ ہو کہ وہ اللہ کی نعمت اور اس کے ساتھ لوٹے اور انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچی۔ مشرکین مکہ خوفزدہ ہو کر بھاگ گئے۔ صحابہ ؓ نے حمر الاسد کے بازار میں خریدوفروخت کرکے منافع بھی حاصل کیا۔ اور اطاعت کا حق بھی ادا کردیا پھر سب سے بڑھ کر رضائے الٰہی حاصل ہوئی جو سب سے بڑی نعمت ہے اور اللہ تو ہے ہی بڑے فضل والا۔ یہاں تو کل علی اللہ کا بہت اعلیٰ مقام ارشاد ہوا ہے ۔ مگر اس کے ساتھ یہ دیکھ لیا جائے کہ حضور اکرم ﷺ نے جس قدر اسباب ظاہری ممکن تھے اختیار فرمائے۔ اسلحہ ساتھ لیا۔ احباب اگرچہ زخمی تھے مگر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ نہ رہے بلکہ تعاقب میں روانہ ہوئے اور کہا حسبنا اللہ ونعم الوکیل۔ توکل یہ ہے کہ جائز اسباب اختیار کرے اور بغیر کسی خوف وخطر کے اطاعت پر ثابت قدم رہے کہ غیر اللہ سے ڈرنا مومن کو زیبا ہی نہیں ، یہ تو شیاطین کا کام ہے کہ وہ اپنے دوستوں کو مختلف حیلوں بہانوں سے خوفزدہ کرکے برائی پر آمادہ کرتا رہتا ہے شیطان جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے اس کا بڑا ہتھیار یہ ہے کہ غیر اللہ کا خوف دل میں ڈال دیتا ہے اور خوفزدہ انسان صرف اس کی گرفت سے بچنے کے لئے ہاتھ پائوں مارتا رہتا ہے لیکن مومن کو ارشاد ہے کہ تم کسی سے ہرگز مت ڈرو۔ کمال ایمان یہ ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ ارشاد ہے کہ وخافون یعنی مجھ سے ڈرو ، میری نافرمانی سے ڈرو ! اس خطاب میں کس قدر حضوری ہے کہ گویا ذات باری روبرو ہے اور ارشاد ہورہا ہے تم تو میرے بندے ہو میری رضا کو اپنا مقصد بنائو اور میری نارضامندی سے ڈرتے رہو۔ جب تم میری بارگاہ میں حاضر ہو تو پھر کسی سے کیا اندیشہ ؟ اور تقیہ کرکے یعنی جھوٹ بول کر زندگی کی بھیک مانگنا ، چہ معنی دارد ؟ یہ بات بھی واضح ہوئی کہ شیطان کی اطاعت کرکے کبھی سکون نصیب نہیں ہوسکتا کہ اس کا قرب بھی انسان کو خوفزدہ ہی رکھتا ہے۔ ہاں ! اس سے دوری مختلف خطرات سے بےنیاز کردیتی ہے اور سکون صرف اتباع سنت میں نصیب ہوتا ہے۔ دور حاضرہ کے لوگ شیطانی ہتھکنڈوں سے مال یا اقتدار حاصل کرکے آسودہ حالی کو تلاش کرتے ہیں مگر ایسی دلدل میں پھنس جاتے ہیں جہاں سے واپسی کا راستہ بھی نہیں پاتے۔ سو ارشاد ہوا خافون ان کنتم مومنین کہ شان ایمان یہ ہے کہ صرف اور صرف اللہ کی ناراضگی سے ڈرتا رہے جس سے مراد محض آنسو پونچھنا نہیں بلکہ ان امور کو چھوڑ دینا ہے جن پر اللہ کریم ناراض ہوتے ہیں۔ ولا یحزنک الذین یسارعون فی الکفر……………ولھم عذا ب مھین۔ آپ ﷺ ایسے لوگوں کے لئے متفکر نہ ہوا کریں جو بات بےبات کفر میں جا پڑتے ہیں ، کفار کی طاقت کو بڑھانے کا سبب بنتے ہیں۔ یہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ نہ ان کی حرکات بداللہ کے دین کو کوئی ضرر پہنچا سکتی ہیں اور نہ ہی یہ اندیشہ کریں کہ یہ بیچارے کیوں جہنم کی طرف رواں ہیں۔ بات دراصل یہ ہے کہ ان کی بری حرکتوں کی وجہ سے اللہ نے ارادہ فرمالیا ہے کہ آخرت کی نعمتوں سے انہیں یکسر محروم رکھا جائے اور مزید یہ کہ اس محرومی کے ساتھ ان کو بہت بڑا عذاب بھی ہوگا کہ ان کا جرم بہت بڑا ہے کہ ایمان کو چھوڑ کر کفر کو اپنا رکھا ہے جس کی دردناک سزا ان کی منتظر ہے یہ اللہ کے دین کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ اور انہیں یہ خیال بھی نہ رہے کہ دنیا میں انہیں جو مہلت نصیب ہے وہ ان کے حق میں بہتر ہے۔ ایسا بھی ہرگز نہیں کہ مال اولاد یا اقتدار و حکومت دے کر ان پر مہربانی کی جارہی ہے دراصل یہ بھی ان کے لئے عذاب ہی کی ایک صورت ہے کہ ان متذکرہ بالا تمام نعمتوں کے باوجود نہ انہیں دنیا میں سکون قلب نصیب ہے اور نہ اخروی آرام کی امید ، بلکہ یہ مال وزر یا اقتدار واختیار انہیں مزید گناہوں میں گرفتار کرتا جارہا ہے اور اللہ کی نافرمانی میں بڑھتے جا رہے ہیں۔ جس کا نتیجہ ایک رسوا کن عذاب ہوگا۔ گناہ دراصل ایک زہر ہے جو ہضم ہوجائے تو موت کا سبب ہے اور اگر قے وغیرہ شروع ہوجائے تو وقتی تکلیف کے بعد جان بچ جاتی ہے۔ ایسے ہی گناہ پہ اگر تھوڑی بہت تنبیہہ ہوتی رہے تو اجتناب معاصی کا باعث بنتی ہے لیکن اگر ڈھیل مل جائے تو تباہ کردیتی ہے اس ڈھیل پہ خوش ہونا نادانی ہے۔ ماکان اللہ لیذرا المومنین………………فلکم اجر عظیم۔ رہی یہ بات کہ مسلمانوں پہ یہ تکالیف کیوں آتی ہیں جیسا کہ حالیہ واقعہ احد میں پیش آئیں تو یہ مشیت باری ہے مومن ومنافق میں امتیاز ہوجائے ظاہر میں تو سب ایک جیسے نظر آتے ہیں مگر مصیبت یا تکلیف میں صرف مومن ثابت قدم رہتا ہے منافق کے لئے ایسا ممکن نہیں کہ وہ تو دعویٰ اسلام ہی دنیا کے لالچ میں کئے بیٹھا ہے ۔ جب دنیا جاتی دیکھی یا جان ہی کی بازی لگانا پڑی تو بھاگ کھڑا ہوا ، جیسے احد میں منافق بھاگ گئے تھے۔ نیز آئندہ کا وعدہ بھی مذکور ہے کہ منافقین ذلیل ہوں گے اور اسلام ومومنین کو غلبہ اور عزت نصیب ہوگی۔ بعد کے حالات نے کتاب اللہ کی پیشگوئی کے ساتھ خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین اور صحابہ کبار ؓ کے کمال ایمان کی تصدیق بھی کردی کہ ان مقدس وجودوں کو اللہ نے غلبہ اسلام کا سبب بنایا۔ یعنی مصائب وشدائد ایک طرف مومنین کی ترقی کا باعث بنے تو دوسری طرف منافقین کا نفاق کھل کر سامنے آگیا اور قرآن پاک کی اصطلاح میں طیب کو خبیث سے جدا کردیا گیا۔ سبحان اللہ ! یہ کام تو اللہ کے بتائے سے بھی ہوسکتا تھا کہ منافقین ومومنین کے نام گنوادیئے جاتے۔ تو ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ ہر کسی کو غیب پر مطلع نہیں فرماتا۔ اگر ایسا ہو تو پھر نبی اور غیر نبی میں امتیازی کیا رہا نیز منافق یہ بھی تو کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں خواہ مخواہ منافق قرار دیا گیا ہے ہم تو پکے مسلمان ہیں مگر اب وہ کس منہ سے کہیں جب کہ ان کے کردار نے ان کا نفاق کھول دیا۔ نیز مومنین کو ان سے قطع روابط بھی آسان ہوگیا اور امور غیبیہ پر اللہ کریم ہر ایک کو اطلاع بھی نہیں دیتے بلکہ اپنے انبیاء (علیہ السلام) کا انتخاب کرکے بذریعہ وحی اطلاع دیتے ہیں اور ان ہی کی شریعت لوگوں کے امستحان کا سبب بنتی ہے کہ کھرا اور کھوٹا جدا ہوجاتا ہے۔ یہاں یہ گمان نہ کیا جائے کہ پھر تو انبیاء (علیہم السلام) عالم الغیب ہوگئے کہ یہ علم غیب نہیں بلکہ امور غیبیہ پر اطلاع دینا ہے اور جو علم اللہ کا ہے اس میں دو اوصاف ہیں ایک ، وہ ذاتی ہے کہ کسی اطلاع پر اس کا مدار نہیں۔ دوسرے محیط ہے کہ ماضی اور مستقبل سب کو شامل ہے اور اس سے کسی ادنیٰ شے کا علم بھی مخفی نہیں ہے ان اوصاف میں کسی کو بھی شریک ماننا شرک ہے۔ ہاں ! جن امور غیبیہ پر چاہے انبیائ (علیہ السلام) کو مطلع فرمادیتا ہے اور یہ اطلاع علی الغیب ہے علم غیب نہیں۔ دوسرے یہ بھی واضح ہوگیا کہ منافقین کو حضور ﷺ پر بذریعہ وحی واضح اور ظاہر کردیا تھا۔ یہ عام مسلمانوں کے سامنے ابتلاء میں ظاہر ہوئے تو پھر جن حضرات کو آپ ﷺ نے خود اپنی جگہ امت کا امام مقرر فرمایا ہو۔ ان پر کسی طرح سے معمولی شبہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ العیاذ باللہ ! تم لو گ اللہ پر یقین رکھو اور تمام انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ ایمان لائو ! یعنی آپ ﷺ کی نبوت پر ایمان تمام انبیاء پہ ایمان لانا ہے کہ سب انبیاء (علیہ السلام) نے اپنی امتوں کو اس کا حکم دیا تھا۔ یہ معمولی کام نہیں کہ توفیق ایمان نصیب ہوجائے اور اس پر عمل کرنا بھی نصیب ہوجائے تقویٰ یہی تو چیز ہے اور یہی بہت بڑے اجر کامل ہے۔ ولاتحسبن الذین………………واللہ بما تعملون خبیر۔ اور اس فتنہ کی اصل تو یہودونصاریٰ کے وہ علماء ہیں جو آپ ﷺ کے اوصاف کو ظاہر نہیں کرتے حالانکہ کتب سابقہ میں مفصل مذکور ہیں۔ لیکن انہوں نے بات چھپا کر سخت بخل کیا ہے اور لوگوں کو اضطرابی کیفیت میں مبتلا کرنے کا سبب بن گئے ہیں انہیں اس بات پر مطمئن نہ ہوجانا چاہیے کہ اس سب کے باوجود ان کے مال و دولت یا اولاد و ریاست وغیرہ ہے تو شاید یہ اللہ کی رضامندی کی دلیل ہے ہرگز نہیں ! دنیا کی دولت واقتدار ان لوگوں کے لئے نعمت ہے جنہیں اس کے ساتھ دین بھی نصیب ہو ورنہ تو یہ مال ومنال بھی سخت مصیبت اور ذلت کا باعث ہے۔ چہ در دنیا وجہ در آخرت۔ بخل سے مراد واجبات سے اعرض کرنا ہے جیسے زکوٰۃ نہ دے یا علم کو چھپائے ، یا جہاد میں باوجود قدرت ہونے کے شامل نہ ہو۔ غرض کوئی بھی شے جس کا دینا یا اظہار واجب تھا مگر اس نے ایسا نہ کیا تو بخل ہوگا جو حرام ہے اور اس پر جہنم کی وعید ہے ، ہاں ! تطوع اس میں داخل نہیں یعنی جس کام کا کرنا یا جس شے کا دینا مستحب ہو یا محض افضل ہو اس کے ترک پر نہ وعید ہے اور نہ وہ بخل ہے۔ جان اور مال کے چھپانے سے حق کا چھپانا بہت ہی برا فعل ہے اور ایسے لوگوں کی گردنوں میں یوم حشر طوق ڈالے ہوئے ہوں گے۔ اگر مال میں بخل کیا تو سانپ بن کر گلے کا طوق بنا ہوا ہوگا اور ساتھ لے کر دوزخ میں جائے گا یا آگ کے طوق ہوں گے جن کے بارے ارشاد ہوتا ہے کہ سب لوگ ان سے پناہ مانگیں گے مگر بخیل کے گلے میں ہوں گے اور اسے جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔ نیز ارض وسماء کی تمام املاک بھی تو اللہ کی ملکیت ہیں۔ اگر وقتی طور کسی کے قبضہ میں کوئی دولت ہو بھی تو کیا ، بالآخر تمام لوگوں کو چھوڑ کر جانا ہے حقیقی ملک تو اللہ کریم ہی کی ہے اور وہ ہر شخص کے جملہ اعمال سے باخبر ہے۔
Ayahs 3:181–189

لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُ١ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَ قَتْلَهُمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ نَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 3:181 in the Quran reader

بیشک اللہ نے ان لوگوں کی بات سن لی ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ مفلس ہیں اور ہم مالدار ہیں ہم ان کی بات کو لکھ رکھیں گے اور ان کے انبیاء کو ناحق قتل کرنے کو بھی اور ہم کہیں گے کہ آگ کا عذاب چکھو

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۚ Open ayah 3:182 in the Quran reader

یہ (سزا) ان (اعمال) کی وجہ سے ہے جو تم نے اپنے ہاتھوں آگے بھیجے اور یہ کہ اللہ بندوں پر زیادتی نہیں کرتے

اَلَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَیْنَاۤ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰى یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْكُلُهُ النَّارُ١ؕ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِیْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالَّذِیْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْهُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:183 in the Quran reader

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ بیشک اللہ نے ہم کو حکم فرمایا کہ ہم کسی پیغمبر پر ایمان نہ لائیں جب تک وہ ہمارے پاس ایسی قربانی لے کر نہ آئے جسے آگ کھا جائے فرما دیجئے کہ یقینا مجھ سے پہلے پیغمبر تمہارے پاس واضح دلائل لے کر آئے اور جو تم کہتے ہو اس (معجزے) کے ساتھ بھی۔ اگر تم سچے ہو تو تم نے ان کو کیوں قتل کیا

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ جَآءُوْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ وَ الْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 3:184 in the Quran reader

پھر اگر یہ آپ کو سچا نہ مانیں تو یقینا آپ سے پہلے بہت سے پیغمبروں کو بھی سچا نہیں مانا گیا جو (ان کے پاس) دلائل اور صحیفے اور روشن کتاب لے کر آئے

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 3:185 in the Quran reader

ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور یقینا تم کو قیامت کے روز (تمہارے اعمال کا) پورا بدلہ دیا جائے گا پس جو آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا تو یقینا وہ مراد کو پہنچا اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے

لَتُبْلَوُنَّ فِیْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١۫ وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِیْرًا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ Open ayah 3:186 in the Quran reader

البتہ تم اپنے مالوں اور اپنی جانوں میں ضرور آزمائے جاؤ گے اور تم ضرور ان لوگوں سے جن (اہل کتاب) کہ تم سے پہلے کتاب دی گئی اور مشرکوں سے بہت سی ایذا کی باتیں سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور پرہیزگاری اختیار کرو تو یقینا یہ بہت ہمت کے کام ہیں

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَكْتُمُوْنَهٗ١٘ فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ وَ اشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوْنَ Open ayah 3:187 in the Quran reader

اور جب اللہ نے اہل کتاب سے عہد لیا کہ تم (اس میں جو لکھا ہے) اس کو ضرور لوگوں میں بیان کرو گے اور اسے نہ چھپاؤ گے پس انہوں نے اسے پس پشت ڈال دیا اور اس کے بدلے بہت تھوڑی قیمت (مال وزر) وصول کرلی پس وہ جو کچھ حاصل کرتے ہیں بہت برا ہے

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّ یُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:188 in the Quran reader

تم یہ خیال نہ کرو کہ جو لو گ اپنے (برے) کاموں سے خوش ہوتے ہیں اور جو کام انہوں نے نہیں کیا اس کی بناء پہ اپنی (جھوٹی) تعریف چاہتے ہیں پس تم یہ نہ سمجھو کہ وہ عذاب سے چھوٹ جائیں گے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 3:189 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ کے لئے ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہیں

آیات 181- 189 اسرارو معارف لقد سمع اللہ……………وان اللہ لیس بظلام للعبید۔ اللہ ان کی بات بھی سن رہے ہیں جو صدقات وزکوٰۃ کے احکام کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم تو مالدار ہیں اور اللہ فقیر اور مفلس ہے کہ اپنے لئے خرچ کرنے کا حکم دے رہا ہے۔ حالانکہ یہ خرچ کرنا بھی مخلوق ہی کو فائدہ پہنچانا ہے اور خود یہود کا بھی ممکن ہے ایسا عقیدہ تو نہ ہو صرف آپ ﷺ کی مخالفت میں ایسی لغوبات کہہ دی جو بداہتہً باطل ہے اور کسی طرح قابل جواب بھی نہیں۔ ارشاد ہوا کہ یہ جملہ کلمات لکھے جا رہے ہیں۔ یہ محض بات نہیں جو کہہ دی اور ختم ہوگئی۔ بلکہ نامہ اعمال کا حصہ ہے جو بالآخر سامنے آجائے گا۔ آپ ﷺ ان کی خرافات کی پرواہ نہ کریں کہ ان کا نامہ اعمال تو اس سے بھی بڑے جرائم سے پر ہے ۔ یہ تو انبیاء کے قتل سے بھی نہیں چوکے۔ حالانکہ خود ان کے نزدیک بھی یہ قتل ناحق تھے۔ گناہ میں شرکت : یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ برائی پہ رضامندی بھی برائی میں شرکت کے برابر ہے۔ جیسا کہ ارشاد نبوی ﷺ کہ کسی کے سامنے جرم ہو مگر وہ اس سے منع کرے اور اس پر راضی نہ ہو تو ایسا ہے گویا وہ تھا ہی نہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص وہاں موجود نہ بھی ہو مگر اس جرم پہ راضی ہو تو ویسا ہے جیسے واقعی اس میں شریک تھا ، جیسے یہ یہود کو اپنے آبائو اجداد کے قتل انبیاء پہ راضی ہونے کی وجہ سے شریک جرم ٹھہرے۔ امام فخرالدین رازی (رح) نے لکھا ہے کہ کسی نے امام شبلی (رح) کے سامنے حضرت عثمان غنی ؓ کے قتل کی تعریف کی۔ آپ نے فرمایا ، ” مسرت شریکا دمہ “ یعنی تو بھی ان کے قتل میں شریک ہوگیا۔ اس کے بدلے انہیں جہنم میں داخل کیا جائے گا کہ آگ کے عذاب کی لذت چکھو ، یہ سب تمہارا اپنا کیا دھرا ہے کہ اللہ کبھی بھی بندوں پر زیادتی نہیں کرتا۔ یہ سب عذاب ان گناہوں کی عملی شکل ہیں جو تم نے دنیا میں کئے تھے۔ الذین قالوا………………والکتب المنیر۔ پھر یہ کہتے ہیں کہ کہ اللہ نے تو انبیاء کو یا موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ معجزہ دیا کو جو مال اللہ کی راہ میں پیش کیا جاتا اسے آگ آسمانوں سے آکر جلادیتی اور ہمیں ان کے ماننے کا حکم دیا تھا۔ اب آپ ﷺ یہ مال لے کر دین کی ترویج پر اور غرباء کی امداد پر خرچ کرنا چاہتے ہیں۔ تو گویا آپ ﷺ معاذ اللہ نبی نہیں ہیں۔ ارشاد ہوا ، انہیں فرمادیجئے ! کہ کس قدر انبیاء مجھ سے پہلے تمہارے پاس بہت سے معجزات لائے جن میں یہ باتیں بھی شامل تھیں جن کا تم مطالبہ کرتے ہو۔ مگر تم نے یعنی تمہارے پیشروں نے انہیں قتل کردیا۔ جب تمہیں ان پر ایمان لانا نصیب نہ ہو تو آج اگر یہ چیز بھی ظاہر بھی ہوجائے تو تم کب مانوگے کہ اگر تم اپنی بات میں سچے ہوتے تو ان پر ایمان لے آتے اور چونکہ ہر نبی نے آپ ﷺ پر ایمان لانے کا حکم دیا تھا۔ تمہیں یہ سعادت بھی نصیب ہوتی ، مگر ایسا نہیں ہوا یعنی نہ صرف یہ کہ تم نے نبوت محمدیہ ﷺ کا انکار کیا بلکہ اس انکار کے ذریعے سے تو تم نبوت موسوی کے بھی منکر ٹھہرے۔ پھر آپ ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ ﷺ ان کی حرکات سے دل گرفتہ نہ ہوا کریں کہ یہ عادی مجرم ہیں اور پہلے بھی بہت سے انبیاء (علیہ السلام) کا انکار کرچکے ہیں۔ جو صیحفے اور روشن کتابیں لے کر ان کے پاس تشریف لائے۔ کل نفس ذائقۃ الموت………………ذالک من عزم الامور۔ دنیوی مال و دولت کے لئے حق سے منہ موڑنے کا کچھ بھی فائدہ نہیں کہ بالاخر ہر متنفس کو مرنا ہے اور اس آیہ کریمہ کا شان نزول بھی یہی ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کو اس یہودی کو مارنے سے منع فرمایا جس سے گستاخی کرتے ہوئے کہا کہ معاذ اللہ ! خدا تو فقیر ہے اور ہم غنی۔ جو ہمیں صدقہ دینے کا حکم دے رہا ہے اس پر سیدنا صدیق اکبر ؓ نے تلوار پر ہاتھ رکھا کہ آپ ﷺ نے منع فرمایا تو یہ آیات نازل ہوئیں۔ غرض یہ کہ صدیق اکبر ؓ کی طرح جان ومال پر ، اعزہ و اقارب پر بھی اور کفار کی بدزبانی پر بھی صبر کیا جائے اور اللہ کے لئے انتقام سے ہاتھ اٹھا لیا جائے کہ بدکار تو برائی کرتا ہی ہے۔ اگر نیک بھی وہی روش اپنالیں گے تو دنیا میں نیکی یا شرافت کا وجود کیسے باقی رہے گا ؟ نیز صبر کے ساتھ تقویٰ کا حکم ہے کہ ایسا رویہ اپنایا جائے جو دوعالم کو خوبصورت بنادے۔ یعنی دنیا میں برائی کم ہو اور آخرت میں نعمتیں بڑھتی رہیں اور یہ بڑی جرات کا کام ہے۔ ہاں ! جہاد بقائے حق اور احیائے دین کے لئے تو ضروری ہے مگر محض اپنی ذات کے لئے جھگڑا کفر کرنا جہاد نہیں اور دین کی حفاظت اور نفاذ کے لئے نیز برائی کو روکنے اور ظلم وجور کو ختم کرنے کے لئے جہاد فرض ہے۔ اس میں بھی ذات اور ذاتی خواہشات پر تو صبر ہی کرنا پڑتا ہے۔ واذاخذ اللہ………………واللہ علی کل شیء قدیر۔ انہوں نے تو آپ اور آپ کے متبعین کو ایذا دینے کے لئے اللہ کے احکام کو بھی پس پشت ڈال دیا ہے کہ اللہ نے اہل کتاب سے تو ان کی کتاب اور نبی کے ذریعے سے یہ عہد لے رکھا ہے کہ آپ ﷺ کے جملہ محاسن جو تورات وانجیل میں بیان ہوئے ہیں وہ لوگوں پر بیان کریں۔ خود ایمان لائیں اور دوسروں کے ایمان لانے کا سبب بنیں مگر انہوں نے اس عہد کی پاسداری نہیں کی اسے پس پشت ڈال دیا اور لوگوں سے دنیا کا مفاد حاصل کرنے کی خاطر آپ ﷺ کی تکذیب کی اور آپ ﷺ کے اوصاف جو ان کی کتابوں میں مذکور تھے ان کو چھپا لیا۔ انہوں نے یہ بہت گھاٹے کا سودا کیا کہ اگر دنیا کی سب نعمتیں بھی حاصل کرلیتے تو بھی فنا ان کے انتظار میں ہے اور آخرت ابدی اور لازوال نعمتوں کی جگہ ہے وہ بھی چھوٹ گئیں اور وہاں کے دائمی عذاب کا شکار ہوئے یہاں سے ظاہر ہے کہ علم اظہار ضروری ہے ۔ جاننے والا شخص اگر خاموش رہا اور لوگ گمراہ ہوتے رہے تو حدیث پاک کے مطابق میدان حشر میں اسے آگ کا لگام دیا جائے گا۔ ایسے ہی اپنے ذاتی مفاد کی خاطر احکام الٰہی ترجمہ قرآن مجید یا دین کے لئے مصائب اٹھانے پہ گھبرانا نہ چاہیے کہ تمام غم وحزن بھی موت آنے پہ ختم ہوجائیں گے اور مرنا تو سب کو ہے اس سب میں بظاہر تو خیال پیدا ہوتا ہے کہ جملہ نفوس پہ موت آئے خواہ وہ جنتی ہوں یا دوزخی کہ سب نفوس ہیں نیز ذات باری کو بھی نفس کہا گیا ہے تو پھر عموم میں وہ بھی داخل ہوا ایسے ہی جمادات وغیرہ۔ صاحب تفسیر کبیر فرماتے ہیں کہ ایسا نہیں ، بلکہ مراد وہ مکلف افراد ہیں جو دار تکلیف میں موجود ہیں کہ اس کے بعد ارشاد ہے کہ فمن زخرح عن النار وادخل الجنۃ فقد فاز۔ کہ جو جہنم سے بچ گیا اور جنت میں داخل ہوا کامیاب ٹھہرا۔ نیز نفس بدن کے علاوہ ہے اور یہی آیت اس کی زندگی اور بقاء پر دلیل ہے کہ وہ تو ذائق ہے ، چکھنے والا ہے اور ظاہر ہے کہ چکھنے والا تو نہ صرف باقی ہوگا بلکہ اسے وہ اوصاف بھی حاصل ہوں گے کہ وہ ذائقہ چکھے گا۔ موت کیا ہے ؟ ظاہر ہوا کہ موت ، حیات جسمانیہ کا خاصہ ہے ارواح مجردہ کا نہیں ، حیات دنیا کا انجام موت ہے اور اس کے بعد حصول اجر کی باری ہے وہ اجر دنیا کی نسبت بہت شدید بھی ہوگا اور نہ ختم ہونے والے عرصے کے لئے ہوگا۔ تو عقلمندی کی بات یہ ہے کہ اس روز کی فکر کی جائے کہ یہی فکر دنیا کے سارے دکھوں کا علاج ہے نگاہ آخرت پر ہو تو دین کی راہ میں پیش آنے والی مصیبتیں بھی پیاری لگتی ہیں کہ آخرت میں بہت بڑے انعام کا سبب بننے والی ہوتی ہیں اور وہاں جو آگ سے بچ گیا عذاب سے چھٹکارا پاکر جنت میں داخل ہوگیا اس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کرلی اور یہ نعمت صرف مسلمانوں کو حاصل ہوگی۔ خواہ شروع سے نجات نصیب ہو یا چندے سزا بھگت کر ، مگر یہ بات یقینی ہے کہ ایمان لے کر مرنے والے تمام لوگ ضرور جنت میں داخل ہوں گے اور ابدی نعمتیں پائیں گے۔ اس کے برعکس کافر کو ہمیشہ دوزخ میں رہنا ہے اور اگر اسی چند روزہ زندگی میں مال و دولت بھی مل گیا تو کیا حاصل کہ دنیا کی لذتیں بھی اس کے لئے ابدی کلفت کا سبب ہوں گی کہ دنیا اور اس کی زندگی تو محض ایک دھوکہ دینے والا سرمایہ ہے ۔ نیز اسلام نام ہی امتحان وآزمائش کا ہے کہ جان ومال نثار کرنا پڑے یا باطل فرقوں کی زبانوں سے زخم سہنے پڑیں۔ بلکہ ارشاد ہوا کہ تم اہل کتاب اور مشرکین سے بہت بدگوئی سنو گے۔ یعنی نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بد گوئی یا توہین مشرکین اور یہود کا شیوہ ہے اور یہی امتحان عملاً نیک لوگوں کے پیش آتے ہیں کہ بدکار اپنی زبانوں سے انہیں ایذا پہنچاتے ہیں اور یہ جان ومال نذر کرنے سے زیادہ مشکل کام ہے اور راہ سلوک مشکل ترین گھاٹی ہے لیکن ارشاد ہے کہ تم صبر کرو اور پرہیزگاری اختیار کرو تو یہ بہت بڑی ہمت کا کام ہے۔ اس حدیث پاک میں تبدیلی کرکے یا کوئی حصہ چھپا کر بیان کرنا انتہائی ظلم ہے اور ابدی خسر ان کا باعث ہے۔ نیز ایسے لوگوں کو یہ خوشی راس نہیں آئے گی کہ باوجود اس قبیحہ جرم کے لوگ تو انہیں نیک اور دیندار ہی سمجھتے ہیں اور ان کی تعریف کرتے ہیں کہ انہوں نے دین بیان کیا ہے حالانکہ انہوں نے ایسا نہیں کیا ہوتا بلکہ اپنی خواہش کی تکمیل کے لئے دین کے نام پر اپنی بات کی ہوتی ہے۔ انہیں لوگوں کی تعریف اللہ کی گرفت سے بچا نہیں سکے گی۔ بلکہ ایسے دھوکا بازوں کو تو بڑا درد ناک عذاب ہوگا۔ یہ وصف بنیادی طور پر تو یہود و نصاریٰ کے ان علماء کا ہے جنہوں نے ذاتی مفاد کی خاطر حق کو چھپایا مگر جو بھی اور جب کبھی بھی اپنے مفاد کے لئے لوگوں کو دھوکا دے گا۔ یعنی دین کے نام پر ایسی بات کہے گا جو دین نہیں تو وہ انہی لوگوں میں شمار ہوگا۔ اسی طرح بیشمار لوگ جنہوں نے تصوف و سلوک کے نام پر بیشمار بدعات جمع کررکھی ہیں ، اور جب کوئی پوچھے کہ حضرت ! یہ بات شرعاً جائز نہیں تو بڑی دیدہ دلیری سے کہہ دیتے ہیں کہ شریعت اور شے ہے اور طریقت اور ہے۔ حالانکہ ان کا مقصد صرف دنیا جمع کرنا ہوتا ہے ورنہ شریعت پر عمل کرنے کے لئے اور اس عمل میں خشوع و خضوع پیدا کرنے کے لئے جو محنت اور مجاہدہ کیا جاتا ہے اسی کا نام تصوف ہے تو پھر یہ اور کیسے ہوسکتا ہے ؟ ایسے ہی وہ علماء جو محض حصول دنیا کے لئے خلاف اصل فتویٰ دیتے ہیں یا فروخت کرتے ہیں۔ غرض دنیا کے حصول کا سبب دین کو بنانا یعنی دین کو بیچ کردینا خریدنا انتہائی برافعل ہے اور اس پر بڑا درد ناک عذاب ہوگا ، اعاذنا اللہ منہا۔ پھر اگر کسی نے دنیا جمع بھی کرلی تو وہ اس کا مالک تو نہیں۔ آخر چھوڑ کر چل دے گا کہ ارض وسماء کی ریاست تو اللہ ہی کے لئے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اس کا حکم ہمہ وقت نافذ ہے یعنی چاہے تو دین فروش کی رائی بھر فائدہ دنیا کا بھی حاصل نہ کرنے دے یا اسی دولت کو اس کے لئے مصیبت بنادے۔ نیز بالآخر تو سب کو چھوڑ ہی کر ہی جانا ہے۔